70. Surah Al-Ma'aarij

المعارجThe Ascending Stairways · 44 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 70:38–41

اَیَطْمَعُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ اَنْ یُّدْخَلَ جَنَّةَ نَعِیْمٍۙ Open ayah 70:38 in the Quran reader

کیا ان میں سے ہر شخص یہ توقع رکھتا ہے کہ نعمت کے باغ میں داخل کیا جائے گا

كَلَّا١ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّمَّا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 70:39 in the Quran reader

ہرگز نہیں ہم نے انکو اس چیز سے پیدا کیا ہے جسے وہ جانتے ہیں

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَ الْمَغٰرِبِ اِنَّا لَقٰدِرُوْنَۙ Open ayah 70:40 in the Quran reader

ہمیں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی قسم کہ ہم طاقت رکھتے ہیں

عَلٰۤى اَنْ نُّبَدِّلَ خَیْرًا مِّنْهُمْ١ۙ وَ مَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَ Open ayah 70:41 in the Quran reader

(یعنی) اس بات پر (قادر ہیں) کہ ان سے بہتر لوگ بدل لائیں اور ہم عاجز نہیں ہیں

(38۔ 41) ان لوگوں کو ہرگز جنت میں داخل نہیں کیا جائے گا ہم نے ان کفار مکہ کو نطفہ سے پیدا کیا ہے، میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے رب کی کہ ہم اس پر قادر ہیں کہ ان کو ہلاک کرکے ان کی جگہ ان سے زائد اطاعت گزاروں کو پیدا کردیں اور ہم اس سے عاجز نہیں ہیں۔
Ayah 70:42

فَذَرْهُمْ یَخُوْضُوْا وَ یَلْعَبُوْا حَتّٰى یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 70:42 in the Quran reader

تو (اے پیغمبر ﷺ ان کو باطل میں پڑے رہنے اور کھیل لینے دو یہاں تک کہ جس دن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ انکے سامنے آموجود ہو

سو محمد آپ ان کو اسی باطل غوطہ زن اور ان کے کفر میں استہزاء کرتا ہوا رہنے دیجیے، یہاں تک کہ ان کو اس دن سے واسطہ پڑے جس میں ان سے عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے یعنی قیامت کا دن۔
Ayah 70:43

یَوْمَ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا كَاَنَّهُمْ اِلٰى نُصُبٍ یُّوْفِضُوْنَۙ Open ayah 70:43 in the Quran reader

اس دن یہ قبر سے نکل کر (اس طرح) دوڑیں گے جیسے (شکاری) شکار کے جال کی طرف دوڑتے ہیں

اب اللہ تعالیٰ اس عذاب کے وقت کو بیان فرماتے ہیں کہ جس دن ان کا اس تیزی کے ساتھ قبروں سے نکل کر صور کی آواز کی طرف دوڑنا ہوگا جیسا کہ کسی نشان اور جھنڈے کی طرف دوڑے جاتے ہیں۔
Ayah 70:44

خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ ذٰلِكَ الْیَوْمُ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ۠ Open ayah 70:44 in the Quran reader

ان کی آنکھیں جھک رہی ہوں گی اور ذلت ان پر چھا رہی ہوگی یہی وہ دن ہے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا

ان کی آنکھیں جھکی ہوں گی اور ان کی صورت پر پھٹکار اور ذلت پڑے ہوگی یہ ان کا وہ دن جس میں ان سے عذاب کا وعدہ کیا جاتا تھا جیسا کہ حضرت نوح کا وعدہ کرنا اور قیامت کے دن سے ڈرانا۔