43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 43:41–42

فَاِمَّا نَذْهَبَنَّ بِكَ فَاِنَّا مِنْهُمْ مُّنْتَقِمُوْنَۙ Open ayah 43:41 in the Quran reader

اگر ہم تم کو (وفات دے کر) اٹھا لیں تو ان لوگوں سے تو ہم انتقام لے کر رہیں گے

اَوْ نُرِیَنَّكَ الَّذِیْ وَعَدْنٰهُمْ فَاِنَّا عَلَیْهِمْ مُّقْتَدِرُوْنَ Open ayah 43:42 in the Quran reader

یا (تمہاری زندگی ہی میں) تمہیں وہ (عذاب) دکھا دیں گے جن کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے ہم ان پر قابو رکھتے ہیں

(41۔ 42) سو اگر ہم آپ کو اٹھا لیں تو ہم ان سے بذریعہ عذاب بدلہ لینے والے ہیں یا بدر کے دن جو ان سے بدلہ لینے کا وعدہ کر رکھا ہے وہ آپ کو دکھائیں غرض کہ ہم آپ کے وصال سے پہلے یا بعد ہر طرح ان پر عذاب نازل کرنے میں قادر ہیں۔
Ayahs 43:43–44

فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِیْۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ١ۚ اِنَّكَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 43:43 in the Quran reader

پس تمہاری طرف جو وحی کی گئی ہے اس کو مضبوط پکڑے رہو بیشک تم سیدھے راستے پر ہو

وَ اِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَ لِقَوْمِكَ١ۚ وَ سَوْفَ تُسْئَلُوْنَ Open ayah 43:44 in the Quran reader

اور یہ (قرآن) تمہارے لئے اور تمہاری قوم کے لئے نصیحت ہے اور (لوگو !) تم سے عنقریب پرسش ہوگی

(43۔ 44) آپ قرآن حکیم کے ہر حکم کی تعمیل کیجیے بیشک آپ پسندیدہ طریقہ پر ہیں اور یہ قران حکیم آپ کے لیے اور آپ کی قوم کے لیے بڑی عزت کی بات ہے کیونکہ ان کی زبان میں نازل ہوا ہے۔
Ayah 43:45

وَ سْئَلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً یُّعْبَدُوْنَ۠ Open ayah 43:45 in the Quran reader

اور (اے محمد ﷺ جو اپنے پیغمبر ہم نے تم سے پہلے بھیجے ہیں ان سے دریافت کرلو کیا ہم نے (خدائے) رحمن کے سوا اور معبود بنائے تھے کہ ان کہ عبادت کی جائے

اور تم سب سے اس برتری کے شکریہ کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی۔ اور محمد آپ ان سب پیغمبروں سے پوچھ لیجیے جن کو ہم نے آپ سے پہلے بھیجا ہے جیسا کہ حضرت ابراہیم، حضرت موسی، اور حضرت عیسیٰ اور یہ گفتگو معراج کی رات میں پیش آئی جبکہ آپ نے ستر انبیاء کرام (علیہم السلام) کو نماز پڑھائی اس وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ آپ ان سے پوچھ لیجیے کہ کیا ہم نے اللہ مہربان کے سوا کبھی بھی دوسرے معبود ٹھہرائے تھے یا ان دوسرے معبودوں کی پرستش کا حکم دیا تھا۔ یا یہ مطلب ہے کہ آپ ان اہل کتاب سے پوچھ لیجیے جن کی طرف ہم نے آپ سے پہلے رسول بھیجے ہیں کہ انبیاء کرام (علیہم السلام) توحید کے علاوہ اور کیا پیغام لے کر آئے مگر رسول اکرم نے ان سے دریافت نہیں کیا کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ وہ توحید کے علاوہ اور کوئی پیام لے کر نہیں آئے اور اللہ تعالیٰ نے اور معبود نہیں ٹھہرائے۔
Ayahs 43:46–47

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَقَالَ اِنِّیْ رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 43:46 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف بھیجا تو انہوں نے کہا میں اپنے پروردگار عالم کا بھیجا ہوا ہوں

فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِاٰیٰتِنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَضْحَكُوْنَ Open ayah 43:47 in the Quran reader

جب ان کے پاس ہماری نشانیاں لے کر آئے تو وہ نشانیوں سے ہنسی کرنے لگے

(46۔ 47) چناچہ ہم نے موسیٰ کو عصا اور ید بیضا کا معجزہ دے کر فرعون اور اس کی قبطی قوم کی طرف بھیجا، چناچہ انہوں نے کہا میں تمہاری طرف اللہ کی جانب سے بھیجا گیا رسول ہوں مگر وہ ہماری ان نشانیوں پر تعجب کرنے لگے اور مذاق اڑانے لگے اور ایمان نہیں لائے۔
Ayah 43:48

وَ مَا نُرِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ اِلَّا هِیَ اَكْبَرُ مِنْ اُخْتِهَا١٘ وَ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 43:48 in the Quran reader

اور جو نشانی ہم ان کو دکھاتے تھے وہ دوسری سے بڑی ہوتی تھی اور ہم نے ان کو عذاب میں پکڑ لیا تاکہ باز آئیں

اور ہم ان کو جو نشانی دکھاتے تھے وہ دوسری نشانی سے بڑھ کر ہوتی تھی مگر اس کے باوجود بھی وہ ایمان نہ لائے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے ان کو طوفان، جراد، قمل، ضفادع، دم سنین کے عذابوں میں پکڑا تاکہ وہ اپنے کفر سے باز آجائیں۔
Ayahs 43:49–50

وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَ السّٰحِرُ ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ اِنَّنَا لَمُهْتَدُوْنَ Open ayah 43:49 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ اے جادوگر ! اس عہد کے مطابق جو تیرے پروردگار نے تجھ سے کر رکھا ہے اس سے دعا کر بیشک ہم ہدایت یاب ہوں گے

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ Open ayah 43:50 in the Quran reader

سو جب ہم نے ان سے عذاب دور کردیا تو وہ عہد شکنی کرنے لگے

(49۔ 50) انہوں نے کہا اے جادوگر یعنی عالم کیونکہ ان کے یہاں جادوگر کا درجہ بڑا تھا اس لیے یہ لفظ خودبخود نکل جاتا تھا۔ ہمارے لیے اپنے پروردگار سے دعا کردیجیے جس کا اس نے آپ سے عہد کر رکھا ہے اور موسیٰ سے اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر یہ لوگ ایمان لے آئے تو ان سے ع ذاب کو دور کردیا جائے گا، اسی لیے اس عہد کو یاد دلا کر کہا کہ ہم ضرور آپ پر اور جس چیز کو آپ لے کر آئے ہیں اس پر ایمان لے آئیں گے، چناچہ جب ہم نے ان سے اس عذاب کو ہٹا دیا تو انہوں نے اپنا عہد توڑ دیا اور ایمان نہیں لائے۔
Ayah 43:51

وَ نَادٰى فِرْعَوْنُ فِیْ قَوْمِهٖ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَیْسَ لِیْ مُلْكُ مِصْرَ وَ هٰذِهِ الْاَنْهٰرُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْ١ۚ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَؕ Open ayah 43:51 in the Quran reader

اور فرعون نے اپنی قوم کو پکار کر کہا کہ اے قوم کیا مصر کی حکومت میرے ہاتھ میں نہیں ہے ؟ اور یہ نہریں جو میرے (محلوں کے) نیچے بہہ رہی ہیں (میری نہیں ہیں ؟) کیا تم نہیں دیکھتے

اور فرعون نے اپنی قبطی قوم میں اعلان کرایا کہ اے میری قوم کیا مصر کے چالیس فرسخ علاقہ میں حکومت میری نہیں اور یہ نہریں جو میرے چاروں طرف یا یہ کہ جو میرے محل کے نیچے بہہ رہی ہیں کیا میری نہیں کیا تم غور نہیں کرتے۔
Ayah 43:52

اَمْ اَنَا خَیْرٌ مِّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ مَهِیْنٌ١ۙ۬ وَّ لَا یَكَادُ یُبِیْنُ Open ayah 43:52 in the Quran reader

بیشک میں اس شخص سے جو کچھ عزت نہیں رکھتا اور صاف گفتگو بھی نہیں کرسکتا کہیں بہتر ہوں

کہ میں بہتر ہوں اس شخص سے جو کہ کمزور ہے اور بات کرنے کی طاقت بھی نہیں رکھتا۔
Ayah 43:53

فَلَوْ لَاۤ اُلْقِیَ عَلَیْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَآءَ مَعَهُ الْمَلٰٓئِكَةُ مُقْتَرِنِیْنَ Open ayah 43:53 in the Quran reader

تو اس پر سونے کے کنگن کیوں نہ اتارے گئے ؟ یا (یہ ہوتا کہ) فرشتے جمع ہو کر اس کے ساتھ آتے

سو اس کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے اور فرشتے اس کے مددگار اور اس کی رسالت کے تصدیق کرنے والے بن کر اس کے ساتھ کیوں نہ آئے۔
Ayah 43:54

فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ فَاَطَاعُوْهُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 43:54 in the Quran reader

غرض اس نے اپنی قوم کی عقل مار دی اور انہوں نے اس کی بات مان لی بیشک وہ نافرمان لوگ تھے

غرض اس نے اپنی قوم کو بہکا دیا وہ اس کے کہنے میں آگئی اور وہ سب کافر ہی تھے۔
Ayahs 43:55–56

فَلَمَّاۤ اٰسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 43:55 in the Quran reader

جب انہوں نے ہم کو خفا کیا تو ہم نے ان سے انتقام لے کر اور سب کو ڈبو کر چھوڑا

فَجَعَلْنٰهُمْ سَلَفًا وَّ مَثَلًا لِّلْاٰخِرِیْنَ۠ Open ayah 43:56 in the Quran reader

ان کو گئے گزرے کردیا اور پچھلوں کے لئے عبرت بنادیا

(55۔ 56) غرض کہ جب انہوں نے ہمارے نبی حضرت موسیٰ کو غصہ دلایا اور ہمیں بھی غصہ دلایا تو ہم نے بذریعہ عذاب ان سے بدلہ لیا، ہم نے سب کو دریا میں غرق کردیا اور ان کے بعد میں آنے والوں کے لیے عذاب کے ذریعے ہلاکت کا نمونہ بنا دیا۔
Ayah 43:57

وَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ یَصِدُّوْنَ Open ayah 43:57 in the Quran reader

اور جب مریم کے بیٹے (عیسیٰ) کا حال بیان کیا گیا تو تمہاری قوم کے لوگ اس سے چلا اٹھے

شان نزول : وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ (الخ) امام احمد نے سند صحیح کے ساتھ اور امام طبرانی نے ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم نے قریش سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ جس کی عبادت کی جائے اس میں کوئی بھلائی نہیں اس پر ان لوگوں نے کہا کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ نبی اور نیک بندے تھے حالانکہ ان کی بھی اللہ کے علاوہ عبادت کی گئی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی۔
Ayah 43:58

وَ قَالُوْۤا ءَاٰلِهَتُنَا خَیْرٌ اَمْ هُوَ١ؕ مَا ضَرَبُوْهُ لَكَ اِلَّا جَدَلًا١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ Open ayah 43:58 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ بھلا ہمارے معبود اچھے ہیں یا وہ عیسیٰ میرے سامنے انہوں نے عیسیٰ کی جو مثال بیان کی ہے تو صرف جھگڑنے کو حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو

اس نے کہا کہ بتایے عیسیٰ بن مریم بہترین ہیں یا ہمارے یہ معبود اگر وہ عیسائی کے ساتھ دوزخ میں جاسکتے ہیں تو ہم بھی اپنے معبودوں کے ساتھ دوزخ میں چلے جائیں گے ان لوگوں نے حضرت عیسیٰ کے متعلق آپ سے یہ بات محض جھگڑے کی وجہ سے بیان کی ہے بلکہ یہ لوگ ہیں ہی باطل پر جھگڑنے والے۔
Ayah 43:59

اِنْ هُوَ اِلَّا عَبْدٌ اَنْعَمْنَا عَلَیْهِ وَ جَعَلْنٰهُ مَثَلًا لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 43:59 in the Quran reader

وہ تو ہمارے ایسے بندے تھے جن پر ہم نے فضل کیا اور بنی اسرائیل کے لئے ان کو (اپنی قدرت کا) نمونہ بنادیا

عیسیٰ بن مریم تو محض ہمارے ایک بندے ہیں ہم نے ان پر رسالت کے ذریعے سے فضل کیا ہے وہ نعوذ باللہ ان کے بتوں کی طرح نہیں ہیں اور بنی اسرائیل کے لیے ہم نے ان کو ایک نمونہ بنایا ہے۔
Ayah 43:60

وَ لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ مَّلٰٓئِكَةً فِی الْاَرْضِ یَخْلُفُوْنَ Open ayah 43:60 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو تم میں سے فرشتے بنا دیتے جو تمہاری جگہ زمین میں رہتے

اور اگر ہم چاہتے تو تمہاری جگہ یا تم میں سے فرشتوں کو پیدا کردیتے کہ وہ تمہاری جگہ زمین میں خلیفہ ہوتے یا یہ کہ تمہارے بجائے زمین پر چلتے پھرتے۔
Ayah 43:61

وَ اِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَ اتَّبِعُوْنِ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 43:61 in the Quran reader

اور وہ قیامت کی نشانی ہیں تو (کہہ دو کہ لوگو !) اس میں شک نہ کرو اور میرے پیچھے چلو یہی سیدھا راستہ ہے

اور دوسری وجہ یہ ہے کہ نزول عیسیٰ قیام قیامت کے یقین کا ذریعہ ہے یا یہ کہ قیامت کے قائم ہونے کی علامت ہے تو تم لوگ اس کے ذریعے قیامت کے قائم ہونے میں شک مت کرو اور توحید میں میری پیروی کرو توحید سیدھا رستہ ہے یعنی یہ پسندیدہ دین اسلام کا راستہ ہے۔
Ayah 43:62

وَ لَا یَصُدَّنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 43:62 in the Quran reader

اور (کہیں) شیطان تم کو (اس سے) روک نہ دے وہ تو تمہارا علانیہ دشمن ہے

اور تمہیں دین اسلام اور قیام قیامت کے یقین سے شیطان روکنے نہ پائے وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
Ayah 43:63

وَ لَمَّا جَآءَ عِیْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُمْ بِالْحِكْمَةِ وَ لِاُبَیِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ تَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ Open ayah 43:63 in the Quran reader

اور جب عیسیٰ نشانیاں لے کر آئے تو کہنے لگے کہ میں تمہارے پاس دانائی (کی کتاب) لے کر آیا ہوں نیز اس لئے کہ بعض باتیں جن میں تم اختلاف کر رہے ہو تم کو سمجھا دوں تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو

اور جب حضرت عیسیٰ اوامرو نواہی اور معجزات لے کر آئے تو فرمایا میں تمہارے پاس امر و نہی اور نبوت لے کر آیا ہوں اور دین کے جن امور میں تم اختلاف کر رہے ہو وہ تم سے بیان کردوں سو جن چیزوں کا میں تمہیں حکم دے رہا ہوں ان میں اللہ سے ڈرو اور قول و فعل میں میری پیروی کرو۔
Ayah 43:64

اِنَّ اللّٰهَ هُوَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 43:64 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ خدا ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے پس اسی کی عبادت کرو یہی سیدھا راستہ ہے

اللہ میرا بھی خالق ہے اور تمہارا بھی خالق ہے اسی کی توحید کے قائل ہوجاؤ یہی توحید پسندیدہ دین ہے۔
Ayah 43:65

فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ عَذَابِ یَوْمٍ اَلِیْمٍ Open ayah 43:65 in the Quran reader

پھر کتنے فرقے ان میں سے پھٹ گئے سو جو لوگ ظالم ہیں ان کی درد دینے والے دن کے عذاب سے خرابی ہے

سو جن لوگوں نے حضرت عیسیٰ کے بارے میں مختلف گروہ بنائے ان کے لیے درد دینے والا سخت ترین عذاب ہے۔
Ayah 43:66

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 43:66 in the Quran reader

یہ صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ قیامت ان پر ناگہاں آموجود ہو اور ان کو خبر تک نہ ہو

یہ لوگ جب اپنی باتوں سے توبہ نہیں کرتے تو صرف قیامت ہی کے منتظر ہیں کہ ان پر اچانک آپڑے اور اس کے عذاب کی ان کو خبر بھی نہ ہو۔
Ayah 43:67

اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَئِذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَؕ۠ Open ayah 43:67 in the Quran reader

(جو آپس میں) دوست (ہیں) اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے مگر پرہیزگار

تمام شرکیہ دوست جیسا کہ عقبہ بن ابی معیط اور ابی بن خلف قیامت میں ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے۔
Ayahs 43:68–69

یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَۚ Open ayah 43:68 in the Quran reader

(کہ باہم دوست ہی رہیں گے) میرے بندو ! آج تمہیں نہ تو کچھ خوف ہے اور نہ تم غمناک ہو گے

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَۚ Open ayah 43:69 in the Quran reader

جو لوگ ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور فرماں بردار ہوگئے

(68۔ 69) سوائے ان حضرات کے جو کہ کفر و شرک اور ہر قسم کی برائیوں سے ڈرنے اور بچنے والے ہیں۔ جیسا کہ خلفائے راشدین اور دیگر صحابہ کرام وہ اس طرح پر نہ ہوں گے جس وقت ان کے علاوہ اور لوگوں کو خوف و غم نہ ہوگا تو اللہ کی جانب سے ان کو پکارا جائے گا کہ اے میرے بندو آج کوئی خوف نہیں اور نہ تم غمگین ہوگے۔
Ayahs 43:70–71

اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ اَنْتُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ تُحْبَرُوْنَ Open ayah 43:70 in the Quran reader

(ان سے کہا جائے گا) کہ تم اور تمہاری بیویاں عزت (و احترام) کے ساتھ بہشت میں داخل ہوجاؤ

یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِصِحَافٍ مِّنْ ذَهَبٍ وَّ اَكْوَابٍ١ۚ وَ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْهِ الْاَنْفُسُ وَ تَلَذُّ الْاَعْیُنُ١ۚ وَ اَنْتُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 43:71 in the Quran reader

ان پر سونے کی پرچوں اور پیالیوں کا دور چلے گا اور وہاں جو جی چاہے اور جو آنکھوں کو اچھا لگے (موجود ہوگا) اور (اے اہل جنت) تم اس میں ہمیشہ رہو گے

(70۔ 71) یعنی وہ بندے جو کہ رسول اکرم اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور توحید و عبادت میں مخلص تھے تم اور تمہاری بیویاں جنت میں خوشی کے ساتھ داخل ہوجاؤ کہ تحائف کے ساتھ وہاں تمہیں عزت دی جائے گی اور تم جنت کی نعمتوں سے فائدہ حاصل کرو گے۔ اور ان کے پاس سونے کی پلیٹیں جو کھانے کی چیزوں سے بھری ہوں گی اور گول بغیر کنارے کے گلاس لائے جائیں گے جو مشروبات سے بھرے ہوں گے اور جنت میں وہ چیزیں ملیں گی جن کو جی چاہے گا اور جن کو دیکھنے سے آنکھوں کو فرحت و سرور حاصل ہوگا اور تم جنت میں ہمیشہ ہمیشہ رہو گے نہ وہاں موت آئے گی اور نہ وہاں سے نکالے جاؤ گے۔
Ayahs 43:72–73

وَ تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْۤ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 43:72 in the Quran reader

اور یہ جنت جس کے تم مالک کر دئیے گئے ہو تمہارے اعمال کا صلہ ہے

لَكُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ كَثِیْرَةٌ مِّنْهَا تَاْكُلُوْنَ Open ayah 43:73 in the Quran reader

وہاں تمہارے لئے بہت سے میوے ہیں جن کو تم کھاؤ گے

(72۔ 73) اور یہ وہ جنت ہے کہ جس کے تم مالک بنا دیے گئے ہو اپنے اعمال صالحہ اور نیک باتوں کے صلے میں اور تمہارے لیے جنت میں قسم قسم کے بہت سے میوے ہیں۔
Ayah 43:74

اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ عَذَابِ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚۖ Open ayah 43:74 in the Quran reader

(اور کفار) گنہگار ہمیشہ دوزخ کے عذاب میں رہیں گے

اور نافرمان لوگ جیسا کہ ابو جہل اور اس کے ساتھی وہ دوزخ کے عذاب میں ہمیشہ رہیں گے نہ وہاں موت آئے گی اور نہ وہاں سے نکالے جائیں گے۔
Ayahs 43:75–76

لَا یُفَتَّرُ عَنْهُمْ وَ هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَۚ Open ayah 43:75 in the Quran reader

جو ان سے ہلکا نہ کیا جائے گا اور وہ اس میں ناامید ہو کر پڑے رہیں گے

وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْا هُمُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 43:76 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہی ّ (اپنے آپ) پر ظلم کرتے تھے

(75۔ 76) اور نہ وہ عذاب ان سے ہلکا کیا جائے گا اور نہ ہی دور کیا جائے گا اور وہ اسی عذاب میں اس کے ختم ہونے اور ہر قسم کی بھلائی سے مایوس پڑے رہیں گے اور ہم نے ان کو ہلاک کر کے اور عذاب نازل کر کے ان پر ظلم نہیں کیا مگر خود انہوں نے کفر و شرک کر کے خود ظلم کرلیا۔
Ayah 43:77

وَ نَادَوْا یٰمٰلِكُ لِیَقْضِ عَلَیْنَا رَبُّكَ١ؕ قَالَ اِنَّكُمْ مّٰكِثُوْنَ Open ayah 43:77 in the Quran reader

اور پکاریں گے کہ اے مالک تمہارا پروردگار ہمیں موت دے دے وہ کہے گا کہ تم ہمیشہ (اسی حالت میں) رہو گے

جب اس عذاب پر صبر قابو سے باہر ہوجائے گا تو دوزخ کے داروغہ مالک کو پکاریں گے کہ تم ہی دعا کرو کہ تمہارا پروردگار ہمیں موت دے کر ہمارا خاتمہ کردے تو مالک فرشتہ چالیس سال بعد ان کو جواب دے گا کہ تم ہمیشہ اسی میں رہو گے نہ نکلو گے نہ مرو گے۔
Ayah 43:78

لَقَدْ جِئْنٰكُمْ بِالْحَقِّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَكُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ Open ayah 43:78 in the Quran reader

ہم تمہارے پاس حق لے کر پہنچے لیکن تم اکثر حق سے ناخوش ہوتے رہے

جبریل امین ہماری طرف سے تمہارے نبی حضرت محمد ﷺ کے پاس قرآن حکیم لے کر آئے مگر تم میں سے اکثر رسول اکرم اور قرآن کریم کا انکار کرتے ہیں۔
Ayah 43:79

اَمْ اَبْرَمُوْۤا اَمْرًا فَاِنَّا مُبْرِمُوْنَۚ Open ayah 43:79 in the Quran reader

کیا انہوں نے کوئی بات ٹھہرا رکھی ہے تو ہم بھی کچھ ٹھہرانے والے ہیں

کیا انہوں نے رسول اکرم کی شان کے بارے میں اپنا کوئی انتظام درست کیا ہے سو ہم نے بھی ان کی ہلاکت کے بارے میں ایک انتظام درست کیا ہے۔
Ayah 43:80

اَمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ١ؕ بَلٰى وَ رُسُلُنَا لَدَیْهِمْ یَكْتُبُوْنَ Open ayah 43:80 in the Quran reader

کیا یہ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کی پوشیدہ باتوں اور سرگوشیوں کو سنتے نہیں ہاں ہاں (سب سنتے ہیں) اور ہمارے فرشتے ان کے پاس (ان کی) سب باتیں لکھ لیتے ہیں

کیا صفوان بن امیہ اور اس کے ساتھیوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ہم ان کی آہستہ آہستہ باتوں کو اور کچھ ارد گرد ان کے خفیہ مشوروں کو نہیں سنتے ضرور سنتے ہیں اور ہمارے فرشتے خود ان کے پاس ہیں وہ ان کی ہر قسم کی باتوں اور خفیہ مشوروں کو لکھتے رہتے ہیں۔ شان نزول : اَمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ (الخ) اور ابن جریر نے محمد بن کعب قرظی سے روایت نقل کی ہے بیان کرتے ہیں کہ کعبہ مکرمہ اور اس کے غلاف کے درمیان تین شخص تھے جن میں دو قریشی اور ایک ثقفی یا ایک قریشی اور دو ثقفی ان میں سے ایک کہنے لگا کہ تمہاری کیا رائے ہے اللہ تعالیٰ ہماری باتوں کو سنتا ہے ؟ تو دوسرا کہنے لگا کہ جس وقت تم زور سے کہتے ہو تو سنتا ہے اور جب آہستہ بات کرتے ہو تو نہیں سنتا اس پر یہ آیت نازل ہوئی یعنی کیا ان لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ہم ان کی چپکے چپکے کی جانے والی باتوں کو اور ان کے مشوروں کو نہیں سنتے۔