87. Surah Al-A'laa

الأعلىThe Most High · 19 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 87:14–15

قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰىۙ Open ayah 87:14 in the Quran reader

فلاح پا گیا وہ جس نے پاکیزگی اختیار کی

وَ ذَكَرَ اسْمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰىؕ Open ayah 87:15 in the Quran reader

” اور اپنے رب کا نام یاد کیا ، پھر نماز پڑھی “۔

قد افلح ................................ فصلی (15:87) ” فلاح پا گیا وہ جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی “۔ تزکی کے معنی ہیں ہر گندگی اور ہر گناہ سے پاکیزگی اختیار کی۔ اس آیت میں اللہ فیصلہ فرماتا ہے کہ جو پاکیزگی اختیار کرے اور اپنے دل میں رب کا جلال بسائے اور پھر نماز پڑھے یا اللہ سے ڈرے اور اطاعت کرے۔ دونوں معنوں سے اللہ کی یاد تازہ ہوتی ہے اور جلال دل میں بیٹھتا ہے اور ضمیر میں اللہ کی ہیبت پیدا ہوتی ہے۔ تو فیصلہ یہ ہے کہ وہ شخص فلاح پائے گا۔ دنیا میں بھی وہ فلاح پائے گا کہ اس کا دل اللہ سے جڑا ہوا ہوگا ، زندہ ہوگا ، اللہ کے ذکر میں وہ مٹھاس محسوس کرے گا اور اس کو باری تعالیٰ سے انس ہوگا اور آخرت میں بھی فلاح پائے گا۔ وہاں بڑی آگ سے بچے گا اور جنتوں میں نعیم مقیم میں ہوگا۔ دونوں کا انجام دے دیا گیا اور دونوں کے انجام میں بعد المشرقین ہے۔ اس خوفناک منظر میں ، جس میں نار کبریٰ دکھائی گئی ہے اور اس کے بالمقابل نجات کا منظر دکھایا گیا ہے ان لوگوں کے لئے جو پاکیزگی اختیار کرتے ہیں۔ ان مناظر کے بعد بتایا جاتا ہے لوگ بدبختی کے چنگل میں کیوں پھنس جاتے ہیں اور ان کی غفلت کا اصل سبب کیا ہے اور عبرت آموزی ، تطہیر اور فلاح ونجات سے ان کو کیا چیز روکتی ہے۔ اور وہ کیا چیز ہے جو انہیں جہنم رسید کرتی ہے اور بدبخت بنادیتی ہے۔
Ayahs 87:16–17

بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا٘ۖ Open ayah 87:16 in the Quran reader

مگر تم لوگ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو ،

وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰىؕ Open ayah 87:17 in the Quran reader

” حالانکہ آخرت سے بہتر ہے اور باقی رہنے والی ہے “۔

بل توثرون ............................ وابقی حقیقت یہ ہے کہ دنیا پرستی ہی ہر مصیبت کی جڑ ہے۔ اسی وجہ سے انسان نصیحت سے منہ موڑتا ہے کیونکہ آخرت کا مطالبہ یہ ہوتا ہے اس کی فکر کرو اور آخرت کو ترجیح دو ۔ اور لوگ ہیں کہ دنیا کے طالب ہیں اور اس کو اولیت دیتے ہیں۔ اور اس دنیا کو دنیا ویسے نہیں کہا گیا ، بلکہ یہ دنیائے دنی ہے ، قریبی ہے اور جلد مٹنے والی ہے اور اس کے مقابلے میں آخرت اچھی اور بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔ والاخرة ........................ وابقی (17:87) ” یہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے باقی رہنے والی اور اچھی اور ابدالا باد تک مسلسل ہونے والی ہے۔ لہٰذا جو لوگ آخرت پر دنیا کو ترجیح دیتے ہیں وہ بڑی حماقت کا ارتکاب کررہے ہیں اور ان کا انداز غلط ہے۔ کسی عاقل اور بصیر کا یہ کام نہیں ہے۔ آخر میں یہ بتایا جاتا ہے کہ دعوت اسلامی کوئی نئی دعوت نہیں ہے ، اس کی طویل تاریخ ہے۔ آغاز کائنات سے اور وجود انسانیت سے یہ دعوت چل رہی ہے اور اس کے اصول زمان ومکان کے قیود سے ماوراء ہیں۔
Ayahs 87:18–19

اِنَّ هٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰىۙ Open ayah 87:18 in the Quran reader

” یہی بات پہلے آئے ہوئے صحیفوں میں بھی کہی گئی تھی

صُحُفِ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى۠ Open ayah 87:19 in the Quran reader

، ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں “۔

ان ھذا ............................ موسیٰ اس سورت میں جو مضامین آئے ہیں وہ اس عظیم عقیدہ کے بنیادی اصول ہیں اور یہ وہی بنیادی اصول دعوت ہیں اور اصول دین ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی کتابوں اور صحیفوں میں مذکور ہوئے تھے۔ یہ کہ سچائی ایک ہے ، عقیدہ ایک ہے ، اصول دین ایک ہے یہ اس بات کی شہادت ہے کہ یہ سب ادیان ایک اللہ کی طرف سے ہیں۔ وہ ایک ہی ارادہ اور مشیت ہے جس نے ابراہیم اور مولیٰ (علیہما السلام) کو اور پھر حضرت محمد ﷺ کی بعثت کا ارادہ کیا ہے۔ سچائی ایک ہے ، تو اس کا سرچشمہ بھی ایک ہے۔ ہاں ادیان میں فروعی اختلاف ہیں لیکن وہ اس لئے کہ شریعت و قانون میں اللہ نے وقت کے حالات اور تقاضوں کے مطابق تبدیلی فرمائی۔ البتہ تمام شرائع کی اصل ایک ہے اور ایک ہی سرچشمہ سے تمام شریعتیں نکلیں یعنی اسی رب اعلیٰ کی طرف سے آئیں جس نے انسان کو پیدا کیا اور اسے متناسب بنایا اور جس نے ہر چیز کو مقدر کیا ، تقدیر بنائی اور ہر چیز کو ہدایت دی۔