80. Surah Abasa

عبسHe frowned · 42 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 80:31

وَّ فَاكِهَةً وَّ اَبًّاۙ Open ayah 80:31 in the Quran reader

اور طرح طرح کے پھل

فاکھة وہ میوہ جو باغات اسے حاصل ہو۔ ابا (31:80) کا مفہوم غالباً وہ جسے انسان چارے کے لئے کاشت ونگہداشت کریں۔ اس کے مفہوم کے بارے میں حضرت عمر ؓ سے پوچھا گیا۔ انہوں نے اس کے بارے میں اپنے آپ کو ملامت کیا تھا جیسا کہ سورة نازعات میں گزر گیا ہے۔ یہ تو تھا انسان کے طعام کا قصہ ، اور انسانی طعام کی تمام ضروریات صرف اللہ فراہم کرتا ہے اور اس میں انسان کا کوئی دخل نہیں ہے۔ اس میں انسان کا کوئی دخل نہیں بلکہ انسان دخیل ہونے کا مدعی ہی نہیں ہے کہ وہ اس کے مختلف مراحل میں سے کسی مرحلے میں دخیل ہے۔ یہاں تک کہ زمین کے اندر وہ جو بیج بوتا ہے اس کی نشوونما میں بھی وہ دخیل نہیں ہے۔ نہ انسان نے بیج پیدا کیا اور نہ ایجاد کیا ہے ۔ ابتدائی طور پر یہ حیوانات کس طرح ایجاد ہوئے ، یہ ایک معجزہ ہے۔ اور انسان تصور اور ادراک سے وراء ہے۔ یہ مٹی انسان کے سامنے ہے اور ایک ہے ، اور ہر دانہ ایک ہی زمین میں اور باہم متصل قطعات میں اپنے اپنے پھل اور پھول لاتا ہے جبکہ ایک ہی پانی اور دوسرے عناصر اسے غذا دیتے ہیں لیکن یہ درست قدرت ہی کا کام ہے کہ پودے اور پھل مختلف ہوتے ہیں۔ اور ان پودوں اور پھلوں سے آگے جو بیج پیدا ہوتے ہیں ان میں ” ماں بیج “ کے تمام خصائص موجود ہوتے ہیں۔ یہ باتیں اور یہ ٹیکنالوجی انسان سے مخفی ہے۔ اس کا راز کوئی نہیں جانتا ، نہ اس میں کوئی فیصلہ کرسکتا ہے ، اور نہ اس سے کوئی مشورہ لیا جاتا ہے۔ بہرحال دست قدرت نے جو کچھ کیا وہ یہ ہے اور
Ayah 80:32

مَّتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ Open ayah 80:32 in the Quran reader

اور چارے تمہارے لئے اور تمہارے مویشیوں کے لئے سامان زیست کے طور پر “۔

متاعا ................ مکم (32:80) ” تمہارے لئے اور تمہارے مویشیوں کے لئے سامان زیست کے طور پر “۔ ایک مقررہ وقت تک ۔ اور جب یہ دنیا ختم ہوگی تو یہ سامان زیست بھی ختم ہوگا کیونکہ اللہ نے اسے متاع حیات کے طور پر بنایا ہے۔ اس کے بعد پھر ایک دوسرا عظیم واقعہ ہوگا۔ وہ کیا ہوگا ؟ انسان کو چاہئے کہ اس کے واقع ہونے سے قبل ہی اس کے بارے میں غور کرے۔
Ayah 80:33

فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ٘ Open ayah 80:33 in the Quran reader

آخر کار جب وہ کان بہرے کردینے والی آواز بلندہوگی ....

یہ دنیا کے سازو سامان کا خاتمہ ہے۔ یہ اللہ کی طویل اسکیم ، اور ایک کلی اور جامع تدبیر کے ساتھ موافق ہے ، جس کے مطابق اللہ نے انسان کو مرحلہ وار پیدا کیا اور اس اسکیم کے مطابق آگے بڑھایا اور یوں آغاز کے عین مطابق اس کا خاتمہ ہوا۔ یہ آخری منظر ابتدائی منظر کے ساتھ ہم آہنگ ہے جس میں ایک شخص دوڑتا ہوا آیا ، اس کا پیمانہ خوف خدا سے لبریز تھا اور اس کے مقابلے میں ایک شخص تھا جو لاپرواہ اور ہدایت سے منہ موڑنے والا تھا۔ یہ دونوں کردار اللہ کے پیمانوں میں جو مقام رکھتے تھے اور یہ دونوں کا انجام ہے سورت کا آخر میں : الصاخة ایک ایسا لفظ ہے جو معنی کے ساتھ ساتھ آواز بھی سخت وکرخت رکھتا ہے۔ قریب ہے کہ کان کے پردے ہی پھٹ جائیں ۔ یہ لفظ اپنے زور تلفظ سے ہوا کو پھاڑتا ہے۔ اور کانوں میں آکر پیوست ہوجاتا ہے۔ یہ لفظ اپنے اس کرخت تلفظ کے ذریعہ اگلے منظر کی راہ ہموار کرتا ہے ، اگلا منظر کیا ہے۔ یہ منظر ایسا ہے جس میں انسان اپنے عزیز ترین تعلق داروں کو چھوڑ کر بھاگتے نظر آتے ہیں۔
Ayahs 80:34–36

یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ Open ayah 80:34 in the Quran reader

اس روز آدمی اپنے بھائی

وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ Open ayah 80:35 in the Quran reader

اور اپنی ماں اور اپنے باپ

وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ Open ayah 80:36 in the Quran reader

اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے بھاگے گا۔

یوم یفر ........................ وبنیہ (34:80 تا 36) اس روز آدمی اپنے بھائی اور اپنی ماں اور اپنے باپ اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے بھاگے گا “۔ یہی لوگ تھے کہ دنیا میں ان کے یہ روابط کسی حال میں بھی نہ ٹوٹتے تھے لیکن پس ایک سخت وکرخت چیخ ہوگی اور یہ تمام روابط ٹوٹ پھوٹ جائیں گے اور یہ تمام تعلقات کٹ جائیں گے۔ اس منظر میں خوف محض نفسیاتی خوف ہے۔ نفس انسانی پر جزع فزع کی حالت طاری ہوگی اور یہ انسان اپنے مقام اور ماحول سے جدا ہوجائے گا۔ بس وہ اپنی ہی سوچے گا۔ اس کے سامنے پریشانیوں اور خود اپنے مسائل کا انبار ہوگا۔ وہ اپنے سوا کسی کے لئے کچھ کرنے کے اہل نہ ہوگا نہ وقت اور قوت ہوگی۔
Ayah 80:37

لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَئِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ Open ayah 80:37 in the Quran reader

ان میں سے ہر شخص پر اس دن ایسا وقت آپڑے گا کہ اسے اپنے سوا کسی کا ہوش نہ ہوگا۔

لکل .................... یغنیہ (37:80) ” ان میں سے ہر شخص پر اس دن ایسا وقت آپڑے گا کہ اسے اپنے سوا کسی کا ہوش نہ ہوگا “۔ ان عبارات وکلمات کی تہہ میں غم واندوہ کے گہرے سائے ہیں۔ پریشانیوں کی اس سے زیادہ بہتر تعبیر ممکن ہی نہیں ہے۔ احساس وضمیر دونوں کے بوجھ کو یہ عبارت کیا خوب ظاہر کرتی ہے۔ لکل ........................ یغنیہ (37:80) ” ان میں سے ہر شخص پر اس دن ایسا وقت آپڑے گا کہ اسے اپنے سوا کسی کا ہوش نہ ہوگا “۔ (اقتباسات ازماھی القیامتہ) یہ ہوگی حالت اس دن تمام لوگوں کی جب یہ آواز برپا ہوگی اور یہ ایسی سخت اور کرخت آواز ہوگی کہ کان بہرے ہوجائیں گے ۔ اس روزمومنین کا کیا حال ہوگا اور کافروں کا کیا حال ہوگا ؟ اس روز تو سب کو اللہ کے پیمانوں سے ناپا جائے گا اور اللہ کے ترازو سے تولا جائے گا۔
Ayahs 80:38–39

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌۙ Open ayah 80:38 in the Quran reader

کچھ چہرے اس روز دمک رہے ہوں گے ،

ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌۚ Open ayah 80:39 in the Quran reader

ہشاش بشاش اور خوش وخرم ہوں گے

وجوہ ................................ مستبشرة (39) ” کچھ چہرے اس روز دمک رہے ہوں گے ، ہشاش بشاش اور خوش وخرم ہوں گے “۔ یہ چہرے روشن چہرے ہوں گے ، ان سے نور برس رہا ہوگا ، خوش ہوں گے ، ہنس رہے ہوں گے ، اپنے رب سے امیدیں وابستہ کیے ہوں گے ، وہ مطمئن ہوں گے کہ ان کا رب ان سے راضی ہے ، یہ اس سخت ہولناک آواز کے خوف سے نجات پاچکے ہوں گے۔ یہ آواز تو ایسی ہوگی کہ سنتے ہی سب خوشیاں کافور ہوجائیں گی لیکن ان کو چونکہ ان کا انجام بتا دیا جائے گا اس لئے وہ ان ہولناکیوں کے باوجود خوش وخرم اور مطمئن ہوں گے۔
Ayahs 80:40–41

وَ وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ عَلَیْهَا غَبَرَةٌۙ Open ayah 80:40 in the Quran reader

اور کچھ چہروں پر اس روز خاک اڑارہی ہوگی

تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌؕ Open ayah 80:41 in the Quran reader

اور کلونس چھائی ہوئی ہوگی۔

ووجوہ ........................ الفجرة (40:80 تا 42) ” اور کچھ چہروں پر اس روز خاک اڑارہی ہوگی اور کلونس چھائی ہوئی ہوگی۔ یہی کافروفاجر لوگ ہوں گے “۔ یہ غبار حزن وملال کا غبار ہوگا ، اور حسرت ویاس کا غبار ہوگا۔ اور ذلت اور پریشانی کی وجہ سے چہروں پر سیاہی ہوگی۔ ان کو معلوم ہوجائے گا کہ انہوں نے کیا کمایا ہے ، لہٰذا ان کو یقین ہوجائے گا کہ ان کا انجام کیا ہے۔
Ayah 80:42

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ۠ Open ayah 80:42 in the Quran reader

یہی کافروفاجر لوگ ہوں گے “۔

اولئک ............................ الفجرة (42:80) ” یہ کافر اور فاجر لوگ ہوں گے “۔ جو اللہ اور اس کی رسالتوں پر ایمان نہیں لائے۔ جنہوں نے اللہ کی حدود کو توڑا۔ یہ دو قسم کے چہرے ہوں گے اور دونوں چہروں کے اندر دو قسم کے لوگوں کا انجام اس طرح دکھایا گیا ہے جس طرح کوئی شیشے میں اپنا چہرہ دیکھتا ہے ۔ چہروں کے خدوخال الفاظ وعبارات میں اس طرح قلم بند کیے گئے ہیں کہ گویا ریل پر چلتے ہوئے چہرے صاف صاف نظر آتے ہیں۔ یہ ہے قرآن کا زور دار انداز بیان اور ادبی ٹچ۔ اس انجام سے سورت کا آغاز اور انجام بھی باہم ہم آہنگ ہوجاتے ہیں۔ آغاز میں اسلامی قدروں کا ذکر تھا ، اور انجام میں اسلامی پیمانوں اور اسلامی ترازو کے مطابق لوگوں کا انجام بتایا گیا ہے۔ چناچہ اس نہایت ہی مختصر سی سورت میں عظیم حقائق لائے گئے ہیں۔ بہترین مناظر پیش کیے گئے اور بہترین ہدایات واشارات دئیے گئے ہیں اور یہ سورت اپنے خوبصورت انداز بیان کے ساتھ ، اپنے مقاصد کو نہایت خوبصورتی سے ادا کرتی ہے۔