41. Surah Fussilat

فصلتExplained in detail · 54 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 41:24

فَاِنْ یَّصْبِرُوْا فَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّسْتَعْتِبُوْا فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَبِیْنَ Open ayah 41:24 in the Quran reader

اس حالت میں وہ صبر کریں (یا نہ کریں) آگ ہی ان کا ٹھکانا ہوگی ، اور اگر رجوع کا موقع چاہیں گے تو کوئی موقع نہیں نہ دیا جائے گا

فان یصبروا فالنار مثوی لھم (41 : 24) ” اس حالت میں اگر وہ صبر کریں تو آگ ہی ان کا ٹھکانا ہے “۔ کیا سنجیدہ مزاح ہے۔ صبر اب آگ جہنم پر ہے۔ یہ وہ صبر نہیں ہے جس کے نتیجے میں انسان کو خوشی ، اور حسن جزاء نصیب ہوتی ہے۔ یہ وہ چیز ہے جس پر جزاء نار جہنم ہے کیونکہ اب تو قرار دیا جا چکا ہے کہ یہی ان کا ٹھکانا ہے۔ وان یستعتبوا فماھم من المعتبین (41 : 24) ” اگر رجوع کا موقعہ چاہیں گے تو کوئی موقعہ انہیں نہ دیا جائے گا “ ۔ نہ وہاں رضا مندی ہے اور نہ وہاں توبہ کی گنجائش ہے۔ کیونکہ جو شخص معافی مانگتا ہے تو معافی تب ہوتی ہے جب ظلم و زیادتی کو زائل کر کے معافی طلب کی جائے۔ آج تو معافی اور ازالے کا دروازہ ہی بند ہوچکا ہے۔ اور اس لئے ان کے پاس کوئی موقعہ نہیں ہے۔
Ayah 41:25

وَ قَیَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ فَزَیَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۚ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ۠ Open ayah 41:25 in the Quran reader

ہم نے ان پر ایسے ساتھ مسلط کر دئیے تھے جو انہیں آگے اور پیچھے ہر چیز خوشنما بنا کر دکھاتے تھے ، آخر کار ان پر بھی وہی فیصلہ عذاب چسپاں ہو کر رہا جو ان سے پہلے گزرے ہوئے جنوں اور انسانوں کے گروہوں پر چسپاں ہوچکا تھا ، یقیناً وہ خسارے میں رہ جانے والے تھے

اب اگلی آیت میں بتایا جاتا ہے کہ اللہ کا اقتدار تو تمہارے دلوں پر بھی قائم ہے۔ جب تم زمین میں تھے اس وقت بھی تمہارے دل اللہ کے قبضہ قدرت میں تھے۔ جب تم اللہ کی نافرمانی کرتے تھے۔ جب اللہ کو تمہارے دلوں کا میلان فساد معلوم ہوا تو اللہ نے تمہارے دلوں پر ایسے ساتھی مسلط کر دئیے جو جنوں میں سے بھی تھے اور انسانوں میں سے بھی ۔ یہ برائی کو تمہارے دل و دماغ کے لئے مزین کرتے تھے۔ یہ ساتھی ان کو اس قافلے میں ملا دیتے تھے جس کا انجام گھاٹے کا لکھا گیا تھا۔ یوں ان پر کلمہ عذاب اور فیصلہ عذاب صادق ہوا : ذرا دیکھیں تو سہی کہ وہ کس حد تک اللہ کے قبضے میں ہیں ، جس کی بندگی کرنے سے وہ اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہیں۔ اور ان کے دل جو ان کے پہلوؤں میں ہیں ، وہ ان کو عذاب اور برے انجام کی طرف لے جارہے ہیں۔ جس کو اللہ گمراہ کرنا چاہے اس پر وہ ایسے ساتھ مسلط کردیتا ہے جو اس کے دل میں وسوسہ اندازی کا کام کرتے ہیں اور اس کے ماحول میں جو بری چیز ہوتی ہے اس کو اس کے لئے مزین کرتے ہیں اور اس کے جو اعمال ہوتے ہیں اس کی نظروں میں اچھے بناتے ہیں ، ان کو ان میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی اور انسان کے لئے سب سے بڑی بیماری یہ ہوتی ہے کہ اس کے برے افعال اور اس کی گمراہی کے بارے میں اس کا احساس ختم ہوجائے۔ اپنی ذات کے ہر پہلو کے بارے میں وہ یہ دیکھنے لگے کہ وہ اچھا ہے ۔ اس مقام پر جب انسان پہنچ جائے تو پھر وہ ہلاکت کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ اس وجہ سے یہ لوگ اس گلے میں شامل ہوگئے جس نے ہلاکت کی طرف جانا تھا۔ یعنی ان گروہوں میں جن پر اللہ کا فیصلہ طے ہوچکا تھا ، جنوں سے بھی اور انسانوں میں سے بھی کہ : انھم کانوا خسرین (41 : 25) ” کہ یقیناً وہ خسارہ میں رہ جائیں گے “۔ ان لوگوں کے جو ساتھی تھے ان کو گمراہ کرنے کے لئے ، انہوں نے ان کو آمادہ کیا کہ قرآن کا مقابلہ اس طرح کرو کہ اسے نہ سنو ، نہ سننے دو کیونکہ انہوں نے معلوم کرلیا تھا کہ اس کے اندر غضب کی تاثیر ہے۔
Ayah 41:26

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ الْغَوْا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ Open ayah 41:26 in the Quran reader

یہ منکرین حق کہتے ہیں ” اس قرآن کو ہرگز نہ سنو اور جب یہ سنایا جائے تو اس میں خلل ڈالو ، شاید کہ اسی طرح تم غالب آجاؤ

یہ وہ بات ہے جو قریش کے کبراء اپنے آپ کو اور جمہور عوام کو کہتے تھے۔ یہ لوگ قرآن کریم کی حیرت انگیز اثر آفرینی سے عاجز آگئے تھے۔ یہ اثر ان پر بھی تھا اور عوام پر بھی تھا۔ لا تسمعوا لھذا القران (41 : 26) ” اس قرآن کو ہرگز نہ سنو “۔ کیونکہ جس طرح وہ کہتے تھے یہ ان پر جادو کرتا ہے۔ ان کی سوچ پر غالب آجاتا ہے اور ان کی زندگی کو خراب کر رہا ہے۔ باپ اور بیٹے کے درمیان تفرقہ کردیتا ہے ، خاوند اور بیوی کے درمیان جدائی کردیتا ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ قرآن ایسی جدائیاں کردیتا تھا لیکن اس لیے کہ خود اللہ نے ایمان اور کفر کے درمیان جدائی کردی ہے ، ہدایت اور ضلالت کے درمیان جدائی کردی ہے ، جو اسے مانتا تھا وہ خلوص سے مانتا تھا۔ اس لیے اس کے بعد وہ کسی اور تعلق کو خاطر میں نہ لاتا تھا۔ چناچہ اس طرح جدائیاں ہوجاتی تھیں۔ والغوا فیہ لعلکم تغلبون (41 : 26) ” اور اسی میں خلل ڈالو ، شاید کہ اس طرح تم غالب آجاؤ “۔ یہ پاگلوں کی باتیں ہیں۔ لیکن وہ اس کے سوا کہہ کیا سکتے ہیں وہ تو عاجز آچکے ہیں ، وہ دلیل وبرہان سے بات نہیں کرسکتے کہ انہیں کوئی دلیل و حجت دستیاب ہی نہیں ہے۔ اس لیے پاگل پنے پر اتر آئے ہیں اور جو شخص ایمان لانے پر آمادہ نہیں ہوتا وہ پھر اس پاگل پنے پر اتر آتا ہے۔ چناچہ انہوں نے رستم و اسفند یار کے قصوں کے ذریعہ قرآن میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔ ابن نصر خصوصاً یہ کام کرتا تھا۔ اس طرح شورو شغب اور سیٹیاں بجانے کے ذریعے قرآن میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔ ابن نصر خصوصاً یہ کام کرتا تھا۔ اس طرح شورو شغب اور سیٹیاں بجانے کے ذریعے بھی وہ یہ کام کرتے تھے اور اپنے سجع اور رجز کے اشعار کے ذریعے بھی کرتے تھے لیکن یہ سب تدبیریں ہوا ہوگئیں اور قرآن غالب رہا۔ کیونکہ اس کے اندر غلبے کا راز تھا۔ وہ حق پر مشتمل تھا۔ اور سچائی ہمیشہ غالب ہوا کرتی ہے۔ اگرچہ اہل باطل لاکھ جتن کریں ان کی اس مکروہ بات کی تردید میں ان کو سخت ڈراوا دیا جاتا ہے۔
Ayahs 41:27–28

فَلَنُذِیْقَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:27 in the Quran reader

ان کافروں کو ہم سخت عذاب کا مزہ چکھا کر رہیں گے اور جو بدترین حرکات یہ کرتے رہے ہیں ،

ذٰلِكَ جَزَآءُ اَعْدَآءِ اللّٰهِ النَّارُ١ۚ لَهُمْ فِیْهَا دَارُ الْخُلْدِ١ؕ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:28 in the Quran reader

ان کا پورا پورا بدلہ انہیں دیں گے۔ وہ دوزخ ہے جو اللہ کے دشمنوں کو بدلے میں ملے گی۔ اسی میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ان کا گھر ہوگا۔ یہ ہے سزا اس جرم کی کہ وہ ہماری آیات کا انکار کرتے رہے

آگے اب بہت جلد ہم انہیں آگ میں دیکھتے ہیں اور اب ان دو ساتھیوں پر ان لوگوں کی نفرت کی بوچھاڑ ہوتی ہے جنہوں نے ان کو دھوکہ دیا تھا ، اور ان کے لئے ان کے ماحول کو مزین کردیا تھا اور دھوکہ دے کر اس مقام تک انہیں لے آئے تھے۔
Ayah 41:29

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَیْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ اَقْدَامِنَا لِیَكُوْنَا مِنَ الْاَسْفَلِیْنَ Open ayah 41:29 in the Quran reader

وہاں یہ کافر کہیں گے کہ ” اے ہمارے رب ، ذرا ہمیں دکھادے ان جنوں اور انسانوں کو جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا ، ہم انہیں پاؤں تلے روند ڈالیں گے تا کہ وہ خوب ذلیل و خوار ہوں

یہ بہت سخت غصہ ہے۔ یہ لوگ اب انتقام کی آگ میں جل رہے ہیں اور ان کے دلوں میں یہ خواہش ہے کہ ۔ نجعلھما تحت اقدامنا (41 : 29) ” ہم انہیں پاؤن تلے روند ڈالیں “۔ لیکونا من الاسفلین (41 : 29) ” تا کہ وہ خوب ذلیل و خوار ہوں “۔ لیکن پہلے تو تم دوست تھے ، گہرے یار تھے ، ان کے وسوسوں اور ان کی تزئین پر تم یقین کرتے تھے۔ یہ تو انجام تھا وسوسوں کا اور عوام کو گمراہ کرنے کا۔ لیکن لوگوں کی اصلاح کے لئے جدو جہد کرنے والوں کا بھی ایک انجام اور اجر ہے۔ یہ مومن ہیں ، جنہوں نے اخلاص کے ساتھ کہہ دیا کہ بس اللہ ہمارا رب ہے ، پھر اپنی راہ پر استقامت اختیار کی یعنی ایمان لائے اور عمل صالح کیا۔ ایسے لوگوں پر اللہ پھر برے ساتھی مسلط نہیں کرتا۔ ان کے ساتھ ملائکہ ہوتے ہیں جو ہر وقت ان کے دلوں پر امن و اطمینان وحی کرتے رہتے ہیں اور ان کو جنت کی خوشخبری دیتے رہتے ہیں اور یہ فرشتے ان کے ساتھ دنیا اور آخرت دونوں میں محبت کرتے ہیں۔
Ayahs 41:30–32

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 41:30 in the Quran reader

جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے ، اور پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے ، یقیناً ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ ” نہ ڈرو ، نہ غم کرو ، اور خوش ہوجاؤ اس جنت کی بشارت سے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔

نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَدَّعُوْنَؕ Open ayah 41:31 in the Quran reader

ہم اس دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے ساتھ ہیں اور آخرت میں بھی۔ وہاں جو کچھ تم چاہو گے تمہیں ملے گا اور ہر چیز جس کی تم تمنا کرو گے وہ تمہاری ہوگی ،

نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ۠ Open ayah 41:32 in the Quran reader

یہ ہے سامان ضیافت اس ہستی کی طرف سے جو غفور اور رحیم ہے

یعنی اللہ کو اپنا رب کہہ کر ، استقامت کے یہ معنی ہیں کہ اس اقرار کے تقاضے پورے کئے جائیں جس طرح ان کا حق ہے۔ ضمیر میں شعور طور پر یہ عقیدہ بیٹھا ہوا ہو ، زندگی اور عمل میں اس پر گامزن ہو ، اس راہ میں اگر تکالیف آئیں تو ان کو برداشت کرے۔ اس معنے میں یہ دراصل بہت بڑا حکم ہے اور بھاری ذمہ داری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے ہاں پھر اس کا بہت بڑا اجر ہے کہ ملائکہ ان پر نازل ہوں گے اور ان کے ہمدم ہوں گے۔ ان کے دوست ہوں گے اور وہ جو باتیں کریں گے اللہ نے ان فرشتوں کی زبانی ان کو نقل کیا ہے۔ الا تخافوا (41 : 30) ” نہ ڈرو “ ولا تحزنوا (41 : 30) ” نہ غم کرو “۔ اور اس جنت کے لیے خوش ہوجاؤ۔ بشارت ہے تم کو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا ۔ ہم اس دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے ساتھ ہیں اور آخرت میں بھی۔ اس کے بعد یہ فرشتے پھر ان کے سامنے اس جنت کی تصویر کھینچتے ہیں جو انہیں ملنے والی ہے کہ ” وہاں جو کچھ تم چاہو گے تمہیں ملے گا اور ہر چیز جس کی تم تمنا کرو گے ، تمہاری ہوگی “۔۔۔۔ پھر وہ مزید حسن و جمال اور عزت و استقبال کا ذکر کرتے ہیں : ” یہ ہے سامان ضیافت اس ہستی کی طرف سے جو غفور و رحیم ہے “ ۔ یعنی یہ اللہ نے تمہاری ضیافت اور مہمانی کے لئے تیار کیا ہے۔ اب ان نعمتوں کے بعد اور کیا رہ جاتا ہے۔
Ayah 41:33

وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 41:33 in the Quran reader

اور اس شخص کی بات سے اچھی بات اور کس کی ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں مسلمان ہوں۔

اس سبق کا خاتمہ ایک داعی کے خدو خال اور حوصلہ افزائی پر ہوتا ہے۔ اس کی روح ، اس کے الفاظ ، اس کے آداب اور اس کی میٹھی میٹھی باتوں کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔ ان باتوں کی طرف رسول اللہ ﷺ اور آپ کی امت کے تمام داعیوں کو متوجہ کیا جاتا ہے۔ سورت کا آغاز اس مضمون سے ہوا تھا کہ پیغمبروں اور داعیوں کے ساتھ عوام الناس کا رویہ کس قدر ظالمانہ ہوتا ہے۔ اور وہ کس قدر گستاخی اور تکبر کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس لیے یہاں داعی کو بتایا جاتا ہے کہ آپ لوگوں کا منہاج دعوت یہ ہے۔ دعوت اسلامی کا کام ایک بہت بڑا اور کٹھن کام ہے ، داعی کو مخاطب کی پیچیدہ نفسیات کا ، اس کی جہالت کا ، اس کی عزت نفس ، اس کے استکبار کا ، اس کی خواہشات کا ، اس کے مفادات کا اور اس کے مرتبہ و مقام کا سامنا ہوتا ہے۔ صرف اللہ وحدہ کی حاکمیت کی طرف دعوت دینا ، ان میں سے بیشتر چیزوں کو خطرے میں ڈال دیتا ہے ۔ پھر یہ دعوت دینا اور ایک طبقاتی معاشرے میں دینا کہ سب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ برابر ہیں ، ایسے حالات میں دعوت کی ذمہ داری اٹھانا حقیقت ہے کہ ایک بہت ہی مشکل کام ہے۔ لیکن مشکل ہونے کے ساتھ ساتھ یہ ایک عظیم کام بھی تو ہے۔ ومن احسن قولا ۔۔۔۔۔۔ من المسلمین (33) ” اور اس شخص کی بات سے اور اچھی بات کس کی ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا میں مسلمان ہوں “۔ جو لوگ دعوت اسلامی کا کام لے کر اٹھے ہیں ان کی دعوت اس عالم میں سب سے برگذیدہ دعوت ہے ، ان کے کلمے آسمانوں کی طرف پاکیزہ کلمات کی صورت میں بلند ہوتے ہیں ، لیکن داعی کی دعوت کے ساتھ اس کا عمل بھی ایسا ہی ہونا چاہئے ۔ وہ اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کرنے والا ہو۔ اس کی ذات اس دعوت میں گم ہوجائے اور اس کے سب کام دعوت ہوجائیں اور اس کی تمام سرگرمیوں میں اس کا اپنا کچھ نہ ہو۔ اس کے بعد پھر داعی کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی ہے کہ اس کی دعوت کا رد عمل کیا ہوتا ہے۔ کوئی انکار کرتا ہے ، کوئی گستاخی کرتا ہے ، کوئی تکبر کرتا ہے ، بہرحال داعی ایک اچھا انداز لے کر ہی چلتا ہے۔ وہ تو بلند مقام پر ہوتا ہے۔ اس کا مخالف برائی لے کر آتا ہے۔ اس کا مخالف تو نہایت ہی گرے ہوئے مقام پر ہوتا ہے۔
Ayah 41:34

وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُ١ؕ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ Open ayah 41:34 in the Quran reader

اور اے نبی ﷺ نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں۔ تم بدی کو اس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو۔ تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی ، وہ جگری دوست بن گیا ہے۔

ولا تستوی الحسنۃ ولا السیئۃ (41 : 34) ” اے نبی ، نیکی اور بدی یکساں نہیں “۔ اس کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ برائی کا جواب برائی سے دے۔ نیکی اور بدی کا اثر یکساں نہیں ہوتا۔ نہ دونوں کی قدرو قیمت یکساں ہے۔ داعی کو چاہئے کہ شر کا مقابلہ شر سے کرنے کی دلی رغبت کو ترک کر دے اور برائی کو صبر ، معافی اور سنجیدگی کے ساتھ رد کرے۔ کرخت نفوس کو اعتماد اور نرمی پر آمادہ کرے۔ چناچہ دشمن دوستی سے بدل جائے اور سختی نرمی میں بدل جائے۔ ادفع بالتی ھی ۔۔۔۔۔ ولی حمیم (41 : 34) ” تم بدی کو نیکی سے دفع کرو ، جو بہترین ہو ، تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے “۔ اسلام کا یہ اصول بسا اوقات نہایت ہی اچھے نتائج دیتا ہے۔ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ سخت دشمنی دوستی میں بدل جاتی ہے اور غضب اور کینہ ٹھنڈا ہوجاتا ہے۔ تکبر ، شرم و حیاء میں بدل جاتا ہے ، بشرطیکہ کوئی اچھی بات کرنا جانتا ہو ، اور سنجیدگی سے بات کرسکتا ہو ، اور ایک نہایت ہی ہیجانی کیفیت کے سامنے مسکراہٹ سے بات کرسکتا ہو۔ ایک ایسے شخص کے سامنے نہایت ہی ٹھنڈے مزاج کا مظاہرہ کرسکتا ہو ، جو آپے سے باہر ہوگیا ہو۔ اگر کسی ایسے شخص کا مقابلہ ایسے ہی انداز میں کیا گیا جس طرح اس کا ہے تو پھر کیا ہوگا۔ وہ مزید آپے سے باہر ہوگا ، کبر کرے گا اور سرکشی پر آمادہ ہوگا ، حیا و شرم کا جامہ اتار پھینکے گا اور آپے سے باہر ہو کر آمادۂ جنگ ہوگا۔ لیکن اس میں ایک شرط ہے ، وہ یہ کہ اس طرح کی شرافت کا مظاہرہ کرنے والا ایک بڑے دل اور بڑے مقام کا مالک ہو ، وہ اس پوزیشن میں ہو کہ اگر اینٹ کا جواب پتھر سے دینا چاہے تو دے سکے۔ برائی کا جواب دینے کی اگر قدرت ہو تو پھر شرافت کا اثر ہوگا۔ ورنہ ” گداگر تواضع گند خوئے اوست “۔ یہ نہ ہو کہ اچھا رویہ اختیار کرنے کو کمزوری سمجھا جائے ۔ اگر مخالف نے یہ سمجھ لیا کہ یہ کمزور ہے تو پھر وہ ہرگز احترام نہ کرے گا اور پھر اچھائی کا کوئی اثر نہ ہوگا۔ پھر یہ بات بھی نوٹ کرلینا چاہئے کہ اس شرافت کا مظاہرہ شخصی دست درازی کے مواقع پر ہونا چاہئے۔ اگر کوئی اسلام اور اللہ کے اصولوں پر دست درازی کرتا ہے ، یا کوئی اہل ایمان پر مظالم ڈھاتا ہے۔ لوگوں کو دین سے روکتا ہے ، تو اس صورت میں ہر قسم کے ہتھیاروں سے مقابلہ ضروری ہے یا پھر اگر مقابلے کی صورت نہ ہو تو صبر کیا جاسکتا ہے۔ یہ نہ ہو کہ ایک تو اسلام کی بیخ کنی کر رہا ہو اور دوسرا برائی کا بدلہ نیکی سے دے رہا ہو۔ یہ مقام ، کہ برائی کو نیکی کے ساتھ دفع کرنا ، اور غیض و غضب کے مقام پر رواداری اور برداشت کرنا اور یہ فیصلہ کر سکنا کہ کہاں رواداری اور برداشت کرنا ہے اور کہاں برائی کو نیکی کے ساتھ دفع کرنا ہے۔ یہ ایک عظیم مرتبہ ہے۔ یہ مرتبہ و مقام ہر انسان کو نہیں مل سکتا۔ اس مقام پر وہی شخص فائز ہوسکتا ہے جسے صبر کی بڑی مقدار دی گئی ہو۔ یہ وہ مقام ہے جس پر اللہ کے خاص بندے اور صبر کرنے والے ہی فائز ہو سکتے ہیں۔
Ayah 41:35

وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا١ۚ وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 41:35 in the Quran reader

یہ صفت نصیب نہیں ہوتی مگر ان لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں اور یہ مقام حاصل نہیں ہوتا ، مگر ان لوگوں کو جو بڑے نصیبے والے ہیں

وما یلقھا الا الذین صبروا وما یلقھا الا ذو حظ عظیم (41 : 35) ” اور یہ صفت نصیب نہیں ہوتی مگر ان لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں اور یہ مقام حاصل نہیں ہوتا مگر ان لوگوں کو جو بڑے نصیبے والے ہوتے ہیں “ ۔ یہ اس حد تک بلند درجہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ جو ذاتی معاملات میں بھی کبھی غصے میں نہیں آتے تھے اور اگر غصے میں آتے تھے تو ان کے مقابلے میں کوئی کھڑا نہیں ہو سکتا تھا ، آپ ﷺ کو اور آپ ﷺ کے ذریعہ ہر داعی کو یہ کہا جاتا ہے :
Ayah 41:36

وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 41:36 in the Quran reader

اور اگر تم شیطان کی طرف سے کوئی اکساہٹ محسوس کرو تو اللہ کی پناہ مانگ لو ، وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے

واما ینزغنک ۔۔۔۔۔ السمیع العلیم (41 : 36) ” اور اگر شیطان کی طرف سے کوئی اکساہٹ محسوس کرو تو اللہ کی پناہ مانگ لو ، وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے “۔ غصے میں کبھی اکساہٹ ہوتی ہے انتقام کی ، برائی کی وجہ سے بعض اوقات انسان صبر کی کمی محسوس کرتا ہے یا شرافت میں تنگ دلی محسوس کرتا ہے۔ ایسے حالات میں اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم پڑھنا چاہئے۔ اس سے وہ سوراخ بند ہوجائے گا جو شیطان کرنا چاہتا تھا۔ اللہ انسانی دل کا خالق ہے ، وہ اس کے نشیب و فراز سے اچھی طرح واقف ہے۔ وہ اس کی طاقت اور حد برداشت کو بھی جانتا ہے۔ اس کو معلوم ہے کہ شیطان کس سوراخ سے حملہ آور ہوتا ہے ۔ یہ داعی کے قلب کو گھیرتا ہے اور اکساتا ہے ۔ یہ اللہ ہی ہے جو بچانے والا ہے۔ کیونکہ یہ راستہ کٹھن ہے۔ یہ راہ بڑی دشوار گزار ہے ، نفس انسانی کے نشیب و فراز میں اور نفس انسانی کی پیچیدہ وادیوں میں داعی کو سفر کرنا ہوتا ہے تا کہ داعی گہرے نفسیاتی میلانات میں ہدایت اور قیادت کا حق ادا کرسکے۔
Ayah 41:37

وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الَّیْلُ وَ النَّهَارُ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ١ؕ لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَ لَا لِلْقَمَرِ وَ اسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَهُنَّ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 41:37 in the Quran reader

اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں یہ رات اور دن اور سورج اور چاند۔ سورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو بلکہ اس خدا کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا ہے۔ اگر فی الواقع تم اسی کی عبادت کرنے والے ہو

درس نمبر 228 ایک نظر میں اس سبق کا تعلق بھی اسلامی دعوت کے ساتھ ہے۔ یہ کائناتی نشانیوں سے شروع ہوتا ہے۔ اور گردش لیل ونہار کو ہمارے غور کے لئے پیش کرتا ہے اور شمس وقمر کو اس لیے پیش کرتا ہے کہ مشرکین میں بعض لوگ ایسے بھی تھے جو شمس و قمر کے پجاری تھے۔ حالانکہ یہ دونوں خدا کی مخلوقات میں سے ہیں۔ ان آیات کے باوجود یہ لوگ اللہ کی آیات سے انکار کرتے ہیں اور اس کی بندگی نہیں کرتے لیکن اللہ کے ہاں ایسی مخلوق ہے جو ہر وقت اس کی بندگی میں لگی ہوئی ہے۔ پھر یہ پوری زمین بھی اللہ کی بندگی میں لگی ہوئی ہے ، یہ مردہ ہوجاتی اور پھر اللہ سے فیض حیات لیتی ہے جیسا کہ انسان کو بھی زندگی اللہ نے دی ہے ، لیکن انسان ہے کہ نافرمانی کرتا ہے۔ اللہ کی آیات کو الٹے معنی پہناتا ہے۔ قرآن کی آیات کے معنی بگاڑتا ہے ، حالانکہ قرآن مجید صاف عربی میں ہے۔ اس کے بعد قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر سامنے آتا ہے ۔ پھر خود اس کی زندگی کو پیش کر کے یہ بتایا جاتا ہے کہ انسان ایک ضعیف مخلوق ہے۔ مال کا لالچی ہے اور جب کوئی مشکل پڑتی ہے تو جزع فزع کرتا ہے۔ اور سورت کے آخر میں انفس و آفاق کے دلائل و نشانات کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے تا کہ لوگوں پر حق واضھ ہوجائے اور ان کے دلوں کے شبہات دور ہوجائیں۔ یہ نشانیاں جن کی طرف ان آیات میں اشارہ کیا گیا ہے ، آنکھوں کے سامنے پھیلی ہوئی ہیں ، عالم بھی انہیں دیکھ سکتا ہے اور جاہل بھی ، انسانی دل پر ان کے براہ راست گہرے اثرات بھی ہیں۔ اگرچہ انسان ان کی سائنسی حقیقت بالکل نہ جانتا ہو ، کیونکہ انسان اور اس کائنات کے درمیان ، سائنسی علم سے بھی زیادہ گہرا تعلق پایا جاتا ہے۔ دونوں کو اللہ نے پیدا کیا ہے۔ فطرت دونوں کی ایک ہے ، ساخت ایک ہے ، انسان اس کائنات کا حصہ ہے اور یہ کائنات انسان ہی کا حصہ ہے۔ دونوں کا مادۂ وجود ایک ہے ، فطرت ایک ہے اور جس قانون قدرت کے مطابق انسان چلتا ہے ، اس کے مطابق یہ کائنات بھی چلتی ہے ۔ دونوں کا الٰہ ایک ہے۔ اس لیے انسان اس زمین و آسمان کے بارے میں ایک گہرا احساس اور گہرا فطری ادراک رکھتا ہے۔ اور یہ ادراک اسے گہری فطری منطق کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم صرف اس پر اکتفا کرتا ہے کہ انسان کو اس کی طرف متوجہ کر دے اور اسے غفلت سے جگا دے اور یہ غفلت انسانوں پر اس لیے طاری ہوجاتی ہے کہ انہوں نے گردش لیل ونہار اور شمس و قمر کو دیکھتے دیکھتے اب ان کی کوئی اہمیت ان کے ہاں نہیں رہی ہے۔ ان کے دل و دماغ پر پردے آگئے ہیں ، اس لیے قرآن انسان کو جگاتا ہے ، ان کی سوچ کو صیقل کرتا ہے کہ ذرا ان معجزات پر غور کرو ، یہ تمہاری دوست کائنات کا حصہ ہیں ، تم لیل و نہار اور شمس قمر کے ساتھ رہتے ہو۔ شمس و قمر کے حوالے سے ایک گمراہی اور فکری انحراف کی طرف بھی متوجہ کردیا۔ بعض لوگ شمس و قمر کی پوجا کرتے تھے تا کہ اس طرح وہ اللہ کا تقرب حاصل کرلیں ، کیونکہ اللہ کی بہترین مخلوق کے سامنے سجدہ کرنا اللہ کے سامنے سجدہ کرنا ہے۔ قرآن نے یہاں حتمی طور پر اس انحراف کی تصحیح بھی کردی اور عقائد کی آلودگی کو صاف بھی کردیا۔ اگر تم فی الحقیقت اللہ ہی کی عبادت کرتے ہو تو پھر شمس و قمر کی عبادت نہ کرو ، واسجدوا للہ الذی خلقھن (41 : 37) ” بلکہ اس خدا کی بندگی کرو ، جس نے ان کو پیدا کیا ہے “۔ مخلوق کو صرف خالق کی طرف متوجہ ہونا چاہئے ، اور شمس وقمر بھی تمہاری طرح اللہ ہی کے پیرو کار ہیں۔ اللہ نے ان دو شمس و قمر کو پیدا کیا ہے اور ان دو کے لئے یہاں جمع مونث کی ضمیر استعمال کی ہے ۔ کیونکہ یہاں جنس ستاروں اور سیاروں کی طرف اشارہ ہے۔ صرف یہ دو مراد نہیں اور پھر جمع مونث عاقل کی خبر ان کی طرف اس لیے راجع کی گئی ہے کہ یہ بھی تمہاری طرح اشخاص ہیں اور اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ ان آیات و نشانات اور اس تبلیغ وبیان کے بعد بھی اگر وہ تکبر کرتے ہیں ، تو اس سے اللہ کی بادشاہت میں کوئی کمی بیشی اور کوئی تقدیم و تاخیر واقع نہیں ہوتی ، اللہ کے ہاں بیشمار مخلوقات اس کی عبادت میں لگی ہوئی ہیں۔
Ayah 41:38

فَاِنِ اسْتَكْبَرُوْا فَالَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ یُسَبِّحُوْنَ لَهٗ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ هُمْ لَا یَسْئَمُوْنَ۩ Open ayah 41:38 in the Quran reader

لیکن اگر یہ لوگ غرور میں آکر اپنی ہی بات پر اڑے رہیں تو پرواہ نہیں ، جو فرشتے تیرے رب کے مقرب ہیں وہ شب و روز اس کی تسبیح کر رہے ہیں ، اور کبھی نہیں تھکتے

اس کا قریب الفہم مفہوم تو یہی ہے کہ اللہ کے پاس کی مخلوق سے مراد ملائکہ ہیں۔ لیکن اللہ کے مقرب بندوں پر مشتمل کوئی اور مخلوق بھی اس سے مراد ہو سکتی ہے۔ اللہ کی مخلوقات کے بارے میں تو ہم بہت کم جانتے ہیں۔ وہ لوگ جو رب کے ہاں ہیں وہ ارفع و اعلیٰ مخلوق ہیں ، وہ زیادہ مکرم اور مثالی لوگ ہیں۔ یہ اللہ کے مقابلے میں اس طرح کبر نہیں کرتے جس طرح زمین کی یہ کمزور مخلوق انسان کرتا ہے ، نہ وہ اس طرے میں مبتلا ہوتے ہیں کہ ہم اللہ کے مقربین ہیں اور نہ وہ رات اور دن کے کسی بھی وقت اللہ کی تسبیح کرنے سے رکتے یا تھکتے ہیں۔ وھم لا یسئمون (41 : 38) ” کبھی نہیں تھکتے “۔ لہٰذا اگر اہل امین سب کے سب ہی اللہ کی بندگی چھوڑ دیں تو اللہ کی پرستش میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ذرا اس زمین کو تو دیکھیں جس میں وہ رہتے ہیں ، جس سے وہ پیدا ہوتے ہیں۔ اور جس کی طرف لوٹا کر دفنائے جائیں گے۔ یہ زمین جس کے اوپر یہ چیونٹیوں جیسے پھرتے ہیں ان کے کھانے پینے کا کوئی سامان بھی اس زمین کے سوا کہیں نہیں ہے۔ یہ زمین بھی نہایت خشوع میں اللہ کے سامنے سہمی ہوتی ہے۔ مردہ ہوجاتی ہے تو اللہ ہی اسے زندہ اور سرسبز و شاداب کردیتا ہے۔
Ayah 41:39

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْۤ اَحْیَاهَا لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 41:39 in the Quran reader

اور اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ تم دیکھتے ہو زمین سونی پڑی ہوئی ہے ، پھر جونہی کہ ہم نے اس پر پانی برسایا ، یکایک وہ پھبک اٹھتی ہے اور پھول جاتی ہے۔ یقیناً جو خدا اس مری ہوئی زمین کو جلا اٹھاتا ہے وہ مردوں کو بھی زندگی بخشنے والا ہے۔ یقیناً وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

ہر مقام پر قرآن کا انداز تعبیر قابل ملاحظہ ہے۔ زمین کا ” خشوع “ کی حالت میں ہونا سے مراد یہ ہے کہ بارش سے پہلے وہ سوئی ہوئی اور مردہ حالت میں تھی۔ جب بارش برسی تو وہ پھبک اٹھی ، سر سبز و شاداب ہوگئی ، گویا اس نے شکر ادا کیا اور سجدے میں گر گئی کہ اسے زندگی مل گئی۔ جس سیاق میں یہ مثال آرہی ہے وہاں عبادت خشوع و خضوع اور حمد و ثنا اور تسبیح کا مضمون چل رہا ہے۔ چناچہ زمین کی بھی ایسی کیفیت دکھائی گئی ، گویا وہ بھی زندہ ہے اور اللہ کے حوالے سے وہ بھی شعور رکھتی ہے۔ مناسب ہے کہ میں اپنی ہی کتاب التصویر الفنی فی القرآن سے ایک صفحہ یہاں نقل کر دوں : ” قرآن نے بارش ہونے سے قبل زمین کی حالت کو بعض جگہ خاشعہ ( سوئی ہوئی ، مردہ اور سہمی ہوئی ) اور بعض جگہ ھامدہ (سوکھی ، بجھی ہوئی ، مردہ) کہا ہے۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ محض طرز تعبیر کا تنوع ہے ، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ دونوں لفظ کس سیاق میں کس طرح استعمال ہوئے ہیں ، یہ الفاظ قرآن نے دو مختلف سیاق وسباق میں استعمال کئے ہیں : لفظ ھامدہ سورة حج میں آیا ہے۔ یایھا الناس ۔۔۔۔۔ زوج بھیج (22 : 5) ” لوگو ، اگر تمہیں زندگی بعد موت کے بارے میں کچھ شک ہے تو تمہیں معلوم ہو کہ ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ہے ، پھر نطفے سے ، پھر خون کے لوتھڑے سے ، پھر گوشت کی بوٹی سے ، جو شکل والی بھی ہوتی ہے اور بےشکل بھی تا کہ تم پر حقیقت واضح کریں ۔ ہم جس کو چاہتے ہیں ایک وقت خاص تک رحموں میں ٹھہرائے رکھتے ہیں ، پھر تم کو ایک بچے کی صورت میں نکال لاتے ہیں تا کہ تم اپنی جوانی کو پہنچو۔ اور تم میں سے کوئی پہلے بلا لیا جاتا ہے اور کوئی بدترین عمر کو پھیر دیا جاتا ہے تا کہ سب کچھ جاننے کے بعد پھر کچھ نہ جانے اور تم دیکھتے ہو کہ زمین سوکھی پڑی ہے ، پھر جہاں ہم نے اس پر مینہ برسایا کہ یکایک وہ پھبک اٹھی اور پھول گئی اور اس نے ہر قسم کی خوش منظر نباتا اگلنی شروع کردی “۔ اور لفظ خاشعہ اس سیاق وسباق میں آیا ہے : ومن ایتہ الیل والنھار ۔۔۔۔۔ ایاہ تعبدون (41 : 37) فان استکبروا ۔۔۔۔۔ لا یسئمون (41 : 38) ومن ایتہ ۔۔۔۔۔۔ کل شیء قدیر (41 : 39) ” اور اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں یہ رات اور دن اور سورج اور چاند۔ سورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو بلکہ اس خدا کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا ہے ، اگر فی الواقعہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو ، لیکن اگر یہ لوگ غرور میں آکر اپنی ہی بات پر اڑے رہیں تو پرواہ نہیں ، جو فرشتے ترے رب کے مقرب ہیں وہ شب و روز اس کی تسبیح کر رہے ہیں اور کبھی نہیں تھکتے اور اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ دیکھتے ہو زمین سونی پڑی ہوئی ہے ! پھر جونہی کہ ہم نے اس پر پانی برسایا ، یکایک وہ پھبک اٹھتی ہے اور پھول جاتی ہے “۔ ان دونوں سیاق وسباق پر ایک سر سری نظر ڈالنے ہی سے ھامدہ اور خاشعہ کا ربط ظاہر ہوجاتا ہے۔ پہلے سیاق وسباق میں فضا اٹھانے ، زندہ کرنے اور نکالنے کی ہے۔ تو اس کے ساتھ زمین کی حالت مردہ (ھامدہ) زیادہ مناسب ہے۔ مردنی کے بعد وہ حرکت میں آتی ہے ، پھولتی ہے ، اور ہر قسم کے کوش منظر نباتات کے جوڑے پیدا کرتی ہے (میں کہوں گا کہ لفظ زوج بھی یہاں نہایت معنی خیز ہے ) دوسرے سیاق وسباق میں مضمون عبادت ، خضوع وخشوع کا ہے ، لہٰذا اس کے ساتھ زمین کی تصویر خامشہ اور سہمی ہوئی زیادہ مناسب ہے۔ اور جب بارش ہوتی ہے تو وہ پھول اٹھتی ہے۔ یہاں اس دوسرے سیاق میں زمین کے پھبک اٹھنے اور پھول جانے کے بعد نباتات کے اگنے کا ذکر نہیں جبکہ پہلے سیاق میں ذکر ہے ، کیونکہ یہاں عبادت کا موضوع ہے اور عبادت کے ساتھ نباتات کے اگنے کی کوئی مناسبت نہیں ہے کیونکہ اھتزت وربت (41 : 39) کے لفظ کے بھی دونوں جگہ دو الگ مقاصد ہیں ، یہاں دوسرے سیاق میں مطلب یہ ہے کہ زمین حرکت میں آئی جس طرح اس منظر میں تمام متحرک چیزیں عبادت کے لئے حرکت میں آتی ہے۔ لہٰذا زمین کو بھی خشوع اور مردنی کی حالت میں نہ چھوڑا جائے۔ اس لیے یہاں وہ حرکت میں آئی کہ وہ دوسرے عبادت گزاروں کے ساتھ عبادت میں شریک ہو ، اور منظر کے تمام اجزاء اس میں شریک ہوجائیں۔ یوں انداز بیان کی نہایت ہی باریک جزئیات کے تناسق کو بھی پیش نظر رکھتا ہے جبکہ پہلے سیاق میں اھتذت وربت (41 : 39) پیدائشی عمل کی حرکت کے لئے ہے “۔ اب ہم پھر سیاق کلام کی طرف آتے ہیں ، اسی زمین کے احیاء کے استدلال سے یہ نتیجہ کہ اسی طرح اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مردوں کو نکال لائے گا۔ ان الذی احیاھا لمحی الموتی انہ علی کل شیء قدیر (41 : 39) ” یقیناً جو خدا اس مری ہوئی زمین کو جلا اٹھاتا ہے وہ مردوں کو بھی زندگی بخشنے والا ہے۔ یقیناً وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے “۔ اس قسم کے مناظر سے قران میں بار بار یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ قیامت کے دن اللہ اسی طرح مردوں کو اٹھا لے گا اور اس سے اللہ کی بےپناہ قدرت پر بھی استدلال قرآن کریم میں بارہا کیا جاتا ہے۔ زمین کے اندر نباتاتی اور دوسری زندگیوں کے مناظر کو انسان بڑے قریب سے مشاہدہ کرتا ہے۔ عقل سے بھی پہلے یہ بو قلمونیاں دل کو متاثر کرتی ہیں۔ جب موت سے زندگی نمودار ہوتی ہے تو انسان اس قدرت کے کرشمے کو بڑی حیرت سے دیکھتا ہے اور انسان کے شعور میں اس کے اثرات بیٹھتے ہیں اور قرآن کا انداز یہ ہے کہ وہ عقل کی بجائے فطری شعور سے مخاطب ہوتا ہے۔
Ayah 41:40

اِنَّ الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا لَا یَخْفَوْنَ عَلَیْنَا١ؕ اَفَمَنْ یُّلْقٰى فِی النَّارِ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ یَّاْتِیْۤ اٰمِنًا یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ١ۙ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 41:40 in the Quran reader

جو لوگ ہماری آیات کو الٹے معنی پہناتے ہیں وہ ہم سے کچھ چھپے ہوئے نہیں ہیں۔ خود ہی سوچ لو کہ آیا وہ شخص بہتر ہے جو آگ میں جھونکا جانے والا ہے یا وہ جو قیامت کے روز امن کی حالت میں حاضر ہوگا ؟ کرتے رہو جو کچھ تم چاہو ، تمہاری ساری حرکتوں کو اللہ دیکھ رہا ہے

اب اس قدر تفصیلات کے بعد اور کائناتی شواہد و دلائل کے بعد اگر لوگ ان نشانیوں کو الٹے معنی پہناتا ہے یا قرآن کی آیات میں الحاد کرتے ہیں تو وہ تیار ہوجائیں اپنے انجام کے لئے۔ یہ لوگ اللہ کی واضح آیات کا انکار کرتے ہیں اور ان میں مغالطے ڈالتے ہیں۔ یہ تہدید اگرچہ بالواسطہ اور مجمل ہے لیکن نہایت ہی خطرناک ہے۔ لا یخفون علینا (41 : 40) ” وہ ہم سے چھپے ہوئے نہیں “۔ اللہ کے علم میں وہ بالکل سامنے ہیں۔ لہٰذا وہ جو الحاد کرتے ہیں ، قرآن کے معنوں کو الٹے معنی پہناتے ہیں۔ اس پر ان کو سزا ہوگی۔ اگرچہ وہ مغالطے اور تاویلات کریں۔ اگرچہ وہ سمجھیں کہ ہم اللہ کے ہاتھوں چھوٹ جائیں گے۔ جس طرح وہ قرآن کے معانی میں مغالطے اور تاویلات کریں۔ اگرچہ وہ سمجھیں کہ ہم اللہ کے ہاتھوں چھوٹ جائیں گے۔ جس طرح وہ قرآن کے معانی میں مغالطہ ڈال کر اپنے آپ کو ذمہ داریوں سے آزاد کرتے ہیں ۔ یا لوگون کے سامنے بہانہ بنا لیتے ہیں۔ اس اجمالی ڈراوے کے بعد قدرے تصریح افمن یلقی ۔۔۔۔۔ یوم القیمۃ (41 : 40) ” خود ہی سوچ لو کہ آیا وہ شخص بہتر ہے جو آگ میں جھونکا جانے والا ہے یا وہ قیامت کے دن امن کی حالت میں حاضر ہوگا “۔ یہ دھمکی کی تصریح ہے کہ آگ میں پھینکا جانا اور جزع فزع تمہارے انتظار میں ہے جبکہ مومن نہایت امن و اطمینان کے ساتھ آئیں گے۔ اس آیت میں ایک دوسری دھمکی بھی ہے۔ اعملوا ما شئتم انہ بما تعلمون بصیر (41 : 40) ” کرتے رہو جو تم چاہو ، تمہاری ساری حرکتوں کو اللہ دیکھ رہا ہے “۔ کس قدر بد بخت ہے وہ شخص جسے ہر کچھ کرنے کے لئے چھوڑ دیا جائے۔ وہ جس طرح چاہے اللہ کی آیات میں مغالطے ڈالے اور اللہ اس کے تمام کرتوتوں کو نوٹ کر رہا ہو۔
Ayah 41:41

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالذِّكْرِ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَكِتٰبٌ عَزِیْزٌۙ Open ayah 41:41 in the Quran reader

وہ لوگ جن کے سامنے کلام نصیحت آیا تو انہوں نے اسے ماننے سے انکار کردیا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ایک زبردست کتاب ہے۔

اب سیاق کلام انہی لوگوں کے بارے میں آگے بڑھتا ہے جو قرآن مجید کا انکار کرتے ہیں ، جبکہ وہ ایک طاقتور اور غالب ہونے والی کتاب ہے ، نہایت ہی محفوظ ہے۔ اس کے قریب بھی باطل نہیں پھٹک سکتا۔ آیت میں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جو ذکر ربی کا انکار کرتے ہیں جبکہ وہ ان کے پاس آگیا ہے۔ لیکن یہ لوگ کون ہیں اور ان کا انجام کیا ہوگا ، اس کا ذکر نہیں ہے۔ مبتداء ہے اور خیر نہیں ہے۔ گویا ان کا فعل اس قدر گھناؤنا ہے کہ اس پر منطبق کرنے کے لئے الفاظ نہیں ہیں۔ بہت ہی بری حرکت یہ کر رہے ہیں۔۔۔ ان لوگوں کے بارے میں کوئی خبر دینے کی بجائے یہ تفصیلات دے دی جاتی ہیں کہ وہ ذکر و نصیحت کیسی ہے جس کا وہ انکار کر رہے ہیں تا کہ ان کے اس فعل کی کراہت اور زیادہ سمجھی جائے۔ انہ لکتب عزیز (41 : 41) لا یاتیہ الباطل ۔۔۔۔۔۔ حکیم حمید (41 : 42) “ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک زبردست کتاب ہے۔ باطل نہ سامنے سے اس پر آسکتا ہے نہ پیچھے سے ، یہ ایک حکیم وحمید کی نازل کردہ چیز ہے ”۔ باطل اس کتاب میں کس طرح داخل ہو سکتا ہے۔ یہ تو اللہ برحق کی طرف سے نازل شدہ ہے جو حق بیان کرتا ہے ، اور یہ کتاب اس سچائی سے مربوط ہے جس کے اوپر آسمان و زمین ۔۔۔ ہیں۔ یہ کتاب ، کتاب عزیز ہے اور یہ محفوظ ہے اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ نے لی ہے۔ انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون (15 : 9) “ بیشک ہم نے ہی اس ذکر کو نازل کیا ہے اور بیشک ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ”۔ جو شخص بھی قرآن پر تدبر کرتا ہے وہ اس سچائی کو پالیتا ہے جس کو لے کر یہ نازل ہوئی ہے۔ اور جو نازل ہی اس لیے ہوئی ہے کہ اسے پڑھا جائے اور جو شخص بھی اسے پڑھے گا وہ یہ سچائی ایک طرف اپنی روح میں پائے گا اور دوسری طرف اس کے نصوص میں پائے گا۔ بڑی سادگی اور آسانی کے ساتھ قرآن سے ہر شخص سچائی حاصل کرسکتا ہے۔ یہ سچائی نہایت فطری ، اطمینان بخش اور انسانی فطرت کے اندر موجود ہے۔ ہر قاری پر اس کتاب کا نہایت ہی گہرا اور عجیب اثر ہوتا ہے۔
Ayah 41:42

لَّا یَاْتِیْهِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ لَا مِنْ خَلْفِهٖ١ؕ تَنْزِیْلٌ مِّنْ حَكِیْمٍ حَمِیْدٍ Open ayah 41:42 in the Quran reader

باطل نہ سامنے سے اس پر آسکتا ہے نہ پیچھے سے ، یہ ایک حکیم وحمید کی نازل کردہ چیز ہے ۔

اور پھر یہ کتاب۔ تنزیل من حکیم حمید (41 : 42) “ یہ حمید و حکیم کی نازل کردہ ہے ”۔ اس کی تعمیر ہی میں حکمت پنہان ہے۔ اس کے طریق نزول اور اس کی ہدایات سے حکمت عیاں ہے۔ لہٰذا جس رب تعالیٰ نے اسے نازل کیا ہے ، وہ حمد کثیر کا مستحق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں بار بار حمد و ثنا کے لئے ابھارا گیا ہے۔ اب قرآن کو کتب سابقہ کے ساتھ مربوط کیا جاتا ہے ۔ رسول اللہ اور تمام انبیائے سابقہ کے درمیان ایسا تعلق قائم کیا جاتا ہے کہ یہ ایک ہی محفل ہے ، ایک خاندان ہے ، ان کی بات بھی ایک ہے ، ان کی روح اور قلب بھی ایک ہیں۔ طریقہ دعوت بھی ایک ہے۔ یوں ہر ایک مسلمان یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ ایک ایسے درخت کا پتہ ہے جس کے اندر بیشمار پتے ہیں اور جس کی جڑیں گہری ہیں اور یہ کہ وہ ایک ایسی محفل کا ممبر ہے جو آدم (علیہ السلام) سے شروع ہوتی ہے :
Ayah 41:43

مَا یُقَالُ لَكَ اِلَّا مَا قَدْ قِیْلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ وَّ ذُوْ عِقَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 41:43 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ، تم کو جو کچھ کہا جا رہا ہے ، اس میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جو تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں کو نہ کہی جا چکی ہو۔ بیشک تمہارے رب بڑا درگزر کرنے والا ہے ، اور اس کے ساتھ بڑی دردناک سزا دینے والا بھی ہے۔

ما یقال لک ۔۔۔۔۔ وذوا عقاب الیم (41 : 43) “ اے نبی ﷺ ، تم کو جو کچھ کہا جا رہا ہے ، اس میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جو تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں کو نہ کہی جا چکی ہو۔ بیشک تمہارا رب بڑا درگزر کرنے والا ہے ، اور اس کے ساتھ بڑی درد ناک سزا دینے والا بھی ہے ”۔ ایک ہی وحی ، ایک ہی رسالت ، ایک ہی عقیدہ اور پوری تاریخ میں انسانوں کا اس کے مقابلے میں ایک ہی رد عمل رہا ہے۔ سب لوگوں نے تکذیب کی ، سب نے ایک جیسا اعتراض کیا۔ لہٰذا تمام انبیاء کے درمیان ایک ہی پختہ رشتہ ہے ، ایک شجرۂ نسب ہے ، ایک ہی خاندان ہے ، دکھ اور درد بھی ایک ہے۔ تجربات بھی ایک ہی طرح کے ہیں اور مقاصد بھی ایک ہی جیسے اور راستہ بھی ایک اور طریقہ کار بھی ایک۔ انس و محبت کا کیا گہرا شعور ہے یہ ! قوت ، صبر اور گہری پختگی کا شعور ۔ داعی کو یہ اشارہ دیا جا رہا ہے کہ آپ ایک ایسے راستے پر رواں ہیں جس پر آپ سے قبل نوح ، ابراہیم ، موسیٰ ، عیسیٰ اور حضرت محمد ﷺ رواں دواں رہے ہیں ۔۔۔ کس قدر اعزاز اور بلندی کا شعور دیا جا رہا ہے کہ اس راہ کے مصائب ، اس کی ٹھوکریں ، اس کے کانٹے اور مشکلات کو برداشت کرو کہ یہ راہ تو بہت بڑے لوگوں کی ہے۔ یہ تو انبیاء و صالحین کی راہ ہے اور اس شعور کے ساتھ داعی کی قوت برداشت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اور یہ حقیقت ہے۔ ما یقال لک الا ما قد قیل للرسل من قبلک (41 : 43) “ تم کو جو کچھ کہا جا رہا ہے اس میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے ، جو تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں کو نہ کہی جا چکی ہو “۔ کہنے کو تو یہ ایک معمولی بات ہے لیکن اس حقیقت کو مومنین کے دل و دماغ میں بٹھانے کے کس قدر عظیم اثرات ہیں۔ اس سے اندازہ نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ کام قرآن ہی کرسکتا ہے۔ وہ اس عظیم حقیقت کے بیج دلوں میں کاشت کرتا ہے اور رسولوں اور حضرت محمد ﷺ کو خدا کی طرف سے یہ بھی کہا گیا : ان ربک لذو ومغفرۃ وذو عقاب الیم (41 : 43) “ بیشک تمہارا رب بڑا درگزر کرنے والا ہے اور اس کے ساتھ بڑی درد ناک سزا دینے والا بھی ”۔ مغفرت کے ساتھ سزا بھی ہے تا کہ توازن قائم ہوجائے ۔ انسان اگر کسی مغفرت کا امیداوار بھی ہوگا اور اس کے عقاب الیم سے ڈرنے والا بھی ۔ نہ مایوس ہو اور نہ بےباک ہو حقیقت یہ ہے کہ توازن اسلامی تعلیمات کا بنیادی اصول ہے۔ اس کے بعد کہا جاتا ہے کہ اللہ کی یہ مہربانی ہے کہ اس نے عربی مبین میں ، تمہاری زبان میں قرآن اتارا لیکن تمہاری ہت دھرمی ، تمہارے مغالطے ، تمہارے مجادلے اور پھر اس کتاب میں تحریفات قابل تعجب ہیں۔
Ayah 41:44

وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِیًّا لَّقَالُوْا لَوْ لَا فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ١ؕ ءَؔاَعْجَمِیٌّ وَّ عَرَبِیٌّ١ؕ قُلْ هُوَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّ شِفَآءٌ١ؕ وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرٌ وَّ هُوَ عَلَیْهِمْ عَمًى١ؕ اُولٰٓئِكَ یُنَادَوْنَ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ۠ Open ayah 41:44 in the Quran reader

اگر ہم اس کو عجمی قرآن بنا کر بھیجتے تو یہ لوگ کہتے : “ کیوں نہ اس کی آیات کھول کر بیان کی گئیں ؟ کیا ہی عجیب بات ہے کہ کلام عجمی ہے اور مخاطب عربی ”۔ ان سے کہو ، یہ قرآن ایمان لانے والوں کے لئے تو ہدایت اور شفا ہے ، مگر جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کے لئے یہ کانوں کی ڈاٹ اور آنکھوں کی پٹی ہے۔ ان کا حال تو ایسا ہے جیسے ان کو دور سے پکارا جا رہا ہو

ولو جعلنہ ۔۔۔۔۔ وعربی (41 : 44) “ اگر ہم اس کو عجمی قرآن بنا کر بھیجتے تو یہ لوگ کہتے ، کیوں نہ اس کی آیات کھول کر بیان کی گئیں۔ کیا ہی عجیب بات ہے کہ کلام عجمی ہے اور مخاطب عربی ”۔ یہ لوگ ایک عربی قرآن کی طرف کان نہیں لگاتے ، کیونکہ یہ اس کی بےپناہ تاثیر سے ڈرتے ہیں۔ یہ عربی کلام ہے اور عربوں کی فطرت سے مخاطب ہوتا ہے ، ان کی اپنی زبان میں ہے اور وہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو نہ سنو اور اس میں خلل ڈالو۔ جب پڑھا جائے تو شور کرو ، اسی طرح تم غالب ہوگے۔ تو اگر یہ عجمی ہوتا تو پھر بھی یہ اس پر اعتراض کرتے کہ کیوں نہ قرآن عربی میں نازل ہوا ، کیوں نہ مفصل اور فصیح زبان میں آیا اور اگر اس کا بعض حصہ عربی ہوتا اور بعض عجمی ہوتا تو پھر کہتے تو پھر کہتے کہ عربی و عجمی ، غرض ان کا مقصد ہر صورت میں اعتراض کرنا ہے۔ اور اس بحث وجدال سے جو حقیقت سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ جھگڑا صرف الفاظ اور زبان کے بارے میں ہے۔ اور قرآن کی تعلیمات کے بارے میں نہیں ہے۔ تعلیمات کے لحاظ سے یہ مومنین کے لئے ہدایت اور شفا ہے۔ مومنین کے دل ہی اس کی حقیقت کو سمجھتے ہیں۔ اس لیے وہ اس سے رہنمائی اور شفا پاتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو ایمان ہی نہیں لاتے ان کے دل اندھے ہیں ، ان تک قرآن کی روشنی ہی نہیں پہنچتی۔ ان کے کانوں میں ڈاٹ لگی ہوئی ہے۔ وہ دلوں کے اندھے ہیں ، لہٰذا ان کو اس کتاب میں سے کچھ بھی نہیں ملتا۔ کیوں ؟ یہ لوگ اس کتاب کے مزاج ہی سے بہت دور ہیں ، اس کی آواز ہی کو نہیں سمجھتے۔ قل ھو للذین امنوا ۔۔۔۔۔۔ من مکان بعید (41 : 44) “ ان سے کہو ، یہ قرآن ایمان لانے والوں کے لئے تو ہدایت اور شفا ہے ، مگر جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کے لئے یہ کانوں کی ڈاٹ اور آنکھوں کی پٹی ہے۔ ان کا حال تو ایسا ہے جیسے ان کو دور سے پکارا جا رہا ہو ”۔ اس آیت کا اطلاق جن لوگوں پر ہوتا ہے وہ ہر زمان ومکان اور ہر معاشرے میں پائے جاتے ہیں۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ یہ قرآن ان کے نفوس میں اثر کرتا ہے اور ان کو کیا سے کیا بنا دیتا ہے۔ مردوں کو زندہ کردیتا ہے۔ وہ اپنی ذات اور اپنے ماحول میں عظیم لوگ بن جاتے ہیں۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے دل و دماغ پر یہ قرآن بہت بھاری لگتا ہے۔ اور ان کو سنایا جائے تو یہ ان کو اور اندھا اور بہرا کردیتا ہے ۔ قرآن تو وہی ہے ، دلوں کا فرق ہے۔ ٭٭٭٭ قرآن کے حوالے سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی کتاب اور اس کے بارے میں ان کی قوم کے اختلافات کو بھی بیان کردیا جاتا ہے۔ یہاں بطور نمونہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کیا جاتا ہے کیونکہ اس سے پہلے تمام رسولوں کا ذکر مجموعی طور پر ہوا۔ یہاں کتاب موسیٰ (علیہ السلام) کے اختلافات کو بھی مجمل چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس سے قبل کہہ دیا گیا ہے کہ ان کا فیصلہ یوم عظیم یعنی قیامت کے دن ہوگا۔
Ayah 41:45

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 41:45 in the Quran reader

اس سے پہلے ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی اور اس کے معاملے میں بھی یہی اختلاف ہوا تھا۔ اگر تیرے رب نے پہلے ایک بات طے نہ کردی ہوتی تو ان اختلاف کرنے والوں کے درمیان فیصلہ چکا دیا جاتا اور حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اس کی طرف سے سخت اضطراب انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں

اور یہی فیصلہ نبی ﷺ کی رسالت کے بارے میں کیا گیا۔ قیامت میں اس کے بارے میں بھی فیصلہ ہوجائے گا ، لوگ جس طرح چاہیں عمل کریں ، قیامت میں جزاء وسزا ہوگی ان کے اعمال پر۔
Ayah 41:46

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ Open ayah 41:46 in the Quran reader

جو کوئی نیک عمل کرے گا اپنے ہی لیے اچھا کرے گا ، جو بدی کرے گا اس کا وبال اسی پر ہوگا ، اور تیرا رب اپنے بندوں کے حق میں ظالم نہیں ہے

رسالت محمدی ﷺ نے اعلان کردیا کہ انسانیت اب بالغ ہوچکی ہے اور اس کے کاندھوں پر آزادی کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ اور ہر شخص کو اپنی کئے کا ذاتی طور پر ذمہ دار قرار دے دیا گیا ہے۔ اب جو شخص جو راستہ چاہے اختیار کرے۔ وما ربک بظلام للعبید (41 : 46) “ اور تیرا رب اپنے بندوں کے حق میں ظالم نہیں ہے ”۔
Ayah 41:47

اِلَیْهِ یُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ١ؕ وَ مَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٰتٍ مِّنْ اَكْمَامِهَا وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ١ؕ وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ اَیْنَ شُرَكَآءِیْ١ۙ قَالُوْۤا اٰذَنّٰكَ١ۙ مَا مِنَّا مِنْ شَهِیْدٍۚ Open ayah 41:47 in the Quran reader

اس ساعت کا علم اللہ ہی کی طرف راجع ہوتا ہے ، وہی ان سارے پھلوں کو جانتا ہے جو اپنے شگوفوں میں سے نکلتے ہیں ، اسی کو معلوم ہے کہ کون سی مادہ حاملہ ہوئی ہے اور کس نے بچہ جنا ہے ۔ پھر جس روزہ وہ ان لوگوں کو پکارنے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک ؟ یہ کہیں گے “ ہم عرض کرچکے ہیں ، آج ہم میں سے کوئی اس کی گواہی دینے والا نہیں ہے

آیات گزشتہ میں قیامت کی طرف اشارہ کیا گیا تھا اس میں اللہ کی جانب سے سب کے ساتھ انصاف کرنے کی طرف بھی اشارہ تھا کہ کوئی ظلم نہ ہوگا۔ اس لیے یہاں یہ بھی کہہ دیا گیا کہ قیامت کی گھڑی کا علم صرف اللہ وحدہ کو ہے۔ اس ضمن میں اللہ کے علم کی تصویر کشی بھی کردی جاتی ہے کہ وہ ہر معاملے میں کتنی گہرائیاں اور تفصیلات رکھتا ہے۔ بعض مثالیں بھی دی جاتی ہیں۔ اس کے بعد قیامت کا ایک منظر بھی پیش کیا جاتا ہے جس میں مشرکوں سے سوال و جواب ہوتے ہیں : قیام قیامت ایک ایسا غیب ہے جو مجہول اور مستقبل کے ضمیر میں گہرا پوشیدہ ہے۔ اسی طرح شگوفوں میں سے جو پھل مستقبل میں برآمد ہوتے ہیں ان کو بھی صرف اللہ جانتا ہے۔ اسی طرح رحم میں حمل بھی غیب ہے ، جو چھپا ہوا ہے۔ یہ سب اللہ کے علم میں ہیں۔ انسانی سوچ ان پھلوں کے پیچھے دوڑ رہی ہے جو پھولوں اور کلیوں سے نکلتے ہیں ، ان بچوں کے پیچھے جو ماؤں کے رحم میں ہیں ، ہماری سوچ اس وسیع زمین کے نشیب و فراز میں دوڑ رہی ہے اور لاتعداد پھولوں اور شگوفوں کے بارے میں سوچتی ہے ۔ پھر ہر مادہ کے رحم میں موجود بچے جن کی تعداد متعین کرنا انسان کے دائرہ قدرت میں نہیں ہے ، تمام انسانوں ، حیوانوں کی عادیاں ، چرندوں پرندوں اور حشرات کی مادیاں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کا را ہوار خیال تھک کر گر گر پڑتا ہے۔ اللہ کے علم کے حدود کا تصور بھی ممکن نہیں کہ وہ لامحدود ہے۔ انسانوں میں سے گمراہوں کا ایک چھوٹا سا ریوڑ ، ایک دن اس علم کا سامنا کرے گا اور اس علم کے دائرے سے تو کوئی چیز باہر نہ ہوگی۔ ویوم ینادیھم این شرکاءی (41 : 47) “ پھر جس روز وہ ان کو پکارے گا کہ کہاں ہیں میرے شریک ؟ ” اس وقت بھی کوئی جھگڑا ، مجادلہ اور مغالطہ کام نہ دے گا ، نہ زبان کی تحریف و تاویل چل سکے گی تو وہ پھر کیا کہہ سکیں گے اس کے سوا : قالوا اذنک ما منا من شھید (41 : 47) “ یہ کہیں گے ہم عرج کرچکے ہیں ، آج ہم میں سے کوئی اس کی گواہی دینے والا نہیں ہے ”۔ اے اللہ ہم نے تو تجھے اطلاع کردی ہے کہ آج تو ہم میں سے کوئی بھی اس بات کا گواہ نہیں ہے۔
Ayah 41:48

وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَدْعُوْنَ مِنْ قَبْلُ وَ ظَنُّوْا مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 41:48 in the Quran reader

اس وقت وہ سارے معبود ان سے گم ہوجائیں گے جنہیں یہ اس سے پہلے پکارتے تھے ، اور یہ لوگ سمجھ لیں گے کہ ان کے لئے اب کوئی جائے پناہ نہیں ہے

وضل عنھم ما ۔۔۔۔۔ من محیص (41 : 48) “ اس وقت وہ سارے معبودان سے گم ہوجائیں گے جنہیں یہ اس سے پہلے پکارتے تھے اور یہ لوگ سمجھ لیں گے کہ ان کے لئے اب کوئی جائے پناہ نہیں ہے ”۔ کیونکہ اب ان کو اپنے سابقہ دعویٰ کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہ ہوگا کہ اس کی تصدیق کرسکیں۔ ان کے نفوس میں یہ بات گہرے طور پر بیٹھ گئی ہوگی کہ اب تو کوئی جائے فرار نہیں ہے۔ یہ ہوگی ان کی کربناک اور مدہوش کردینے والی حالت اس دن۔ جب ایسی حالت آتی ہے تو انسان اپنا تمام ماضی بھول جاتا ہے ، پھر اسے وہی حالات یاد ہوتے ہیں جو درپیش ہوتے ہیں۔
Ayah 41:49

لَا یَسْئَمُ الْاِنْسَانُ مِنْ دُعَآءِ الْخَیْرِ١٘ وَ اِنْ مَّسَّهُ الشَّرُّ فَیَئُوْسٌ قَنُوْطٌ Open ayah 41:49 in the Quran reader

انسان کبھی بھلائی کی دعا مانگتے نہیں تھکتا ، اور جب کوئی آفت اس پر آجاتی ہے تو مایوس و دل شکستہ ہوجاتا ہے ،

یہ کس قدر خوفناک دن ہے لیکن انسان اس کے بارے میں بالکل محتاط نہیں ہے۔ انسان ہر قسم کی بھلائی کے لئے بہت ہی حریص ہے۔ لیکن قیامت کی بھلائی کی وہ ذرا بھی فکر نہیں کرتا۔ انسان معمولی مصیبت پر جزع فزع کرنے لگتا ہے۔ لیکن قیامت کے ہولناک جزع فزع کا اسے خیال نہیں ہے۔ یہاں انسان کے نفس کی اندرونی تصویر کھینچی جاتی ہے۔ تمام لباس اور پردے اتار دئیے جاتے ہیں اور ہر قسم کی ملمع کاری کو ہٹا کر نقش انسانی کا اصل رنگ دکھایا جاتا ہے۔ نفس انسانی کی یہ نہایت ہی سچی تصویر ہے۔ نہایت ہی باریک خدو خال کو بھی اس میں نمایاں کیا گیا ہے۔ وہ لوگ جو اللہ کی ہدایات پر ایمان نہیں رکھتے ، جو لوگ ایمان رکھتے ہیں ، وہ تو بالکل سیدھی راہ پر گامزن ہوتے ہیں ، ان کا ایک ہی رنگ ڈھنگ ہوتا ہے۔ لیکن گمراہ لوگوں کی نفسیات کیا ہیں ، یکدم بدلنے والے ، ضعیف الارادہ ، دکھاوے کے شیدائی ، مال کے لالچی ، ناشکرے ، خوشحالی میں مغرور اور بدحالی میں آہ وفغان کرنے والے ، غرض یہ نہایت ہی تفصیل تصویر ہے ان لوگوں کی اور عجیب تصویر ہے۔ انسان بھلائی کی دعا مانگتے نہی تھکتا۔ وہ بڑے اصرار اور گڑگڑا کر دعائے خیر کرتا ہے۔ اور دعا کرتے ہوئے نہیں تھکتا لیکن شر اگر محض اس کو چھو کر بھی گزر جائے تو وہ تمام امیدیں کھو دیتا ہے ، مکمل طور پر مایوس ہوجاتا ہے۔ یہ خیال کرتا ہے کہ اس شر سے تو اب نکلنے اور بچنے کی کوئی امید نہیں ہے۔ یوں وہ سمجھ لیتا ہے کہ سب اسباب و وسائل ختم ہوگئے۔ اس کا سینہ تنگ ہوجاتا ہے ، مغموم و متفکر ہوجاتا ہے۔ اللہ کی رحمتوں اور مہربانیوں سے مایوس ہوجاتا ہے۔ یہ اس لیے کہ اس کا اپنے رب پر بھروسہ نہیں ہوتا اور رب سے اس کا تعلق کمزور ہوتا ہے۔ لیکن یہی انسان ، جب اللہ اس پر اپنی رحمتیں اور مہربانیاں کرتا ہے ، یہ مصیبت جاتی رہتی ہے ، تو اللہ کی نعمتیں اسے ۔۔۔ اور متکبر کردیتی ہیں۔ یہ شکر نہیں بجا لاتا۔ اب خوشحال اسے آسمانوں پر چڑھا دیتی ہے۔ وہ کہتا ہے یہ تو میرا فرض ہے۔ میں اپنی صلاحیت پر اس کا مستحق ہوا ہوں اور یہ حق داعی ہے۔ یہ شخص آخرت کو بھول جاتا ہے اور اسے بعید از امکان سمجھتا ہے۔ کہتا ہے۔
Ayahs 41:50–51

وَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ رَحْمَةً مِّنَّا مِنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ هٰذَا لِیْ١ۙ وَ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّجِعْتُ اِلٰى رَبِّیْۤ اِنَّ لِیْ عِنْدَهٗ لَلْحُسْنٰى١ۚ فَلَنُنَبِّئَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِمَا عَمِلُوْا١٘ وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 41:50 in the Quran reader

مگر جونہی کہ سخت وقت گزر جانے کے بعد ہم اسے اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں ، یہ کہتا ہے کہ “ میں اسی کا مستحق ہوں ، اور میں نہیں سمجھتا کہ قیامت کب آئے گی ، لیکن اگر واقعی میں اپنے رب کی طرف پلٹایا گیا تو وہاں بھی مزے کروں گا ”۔ حالانکہ کفر کرنے والوں کو لازماً ہم بتا کر رہیں گے کہ وہ کیا کر کے آئے ہیں اور انہیں ہم بڑے گندے عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔

وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ١ۚ وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُوْ دُعَآءٍ عَرِیْضٍ Open ayah 41:51 in the Quran reader

انسان کو جب ہم نعمت دیتے ہیں تو وہ منہ پھیرتا ہے اور اکڑ جاتا ہے اور جب اسے کوئی آفت چھو جاتی ہے تو لمبی چوڑی دعائیں کرنے لگتا ہے

وما اظن الساعۃ قائمۃ (41 : 50) “ میں نہیں سمجھتا کہ قیامت کبھی آئے گی ”۔ اب یہ اپنے آپ میں مست ہے۔ اللہ پر احسان جتلاتا ہے۔ اور یہ خیال کرتا ہے کہ اللہ کے ہاں بھی میرا یہی مقام ہوگا حالانکہ اس کا کوئی مقام نہ ہوگا۔ یہ تو آخرت کا منکر اور کافر ہے۔ اس کے باوجود یہ سمجھتا ہے کہ اگر اللہ کے ہاں چلا گیا تو وہاں بھی باعزت لوگوں میں شمار ہوگا۔ ولئن رجعت الی ربی ان لی عندہ للحسنی (41 : 50) “ لیکن اگر واقعی میں اپنے رب کی پلٹایا گیا تو وہاں بھی مزے کروں گا ”۔ یہ ہے بےجا غرور ، اب نہایت ہی برمحل تنبیہہ آتی ہے۔ فلننبئن الذین ۔۔۔۔ عذاب غلیظ (41 : 50) “ حالانکہ کفر کرنے والوں کو لازماً ہم بتا کر رہیں گے کہ وہ کیا کر کے آئے ہیں اور انہیں ہم بڑے گندے عذاب کا مزہ چکھائیں گے ”۔ یہ ہے انسان کہ جب اللہ اسے خوشحال بناتا ہے۔ تو یہ سرکشی اختیار کرتا ہے۔ منہ موڑتا ہے اور غرور کرتا ہے۔ لیکن اگر اسے تکلیف پہنچتی ہے تو پھر گرجاتا ہے۔ اپنے آپ کو ذلیل و خوار سمجھتا ہے۔ حقیر و لاچار ہوتا ہے۔ اور گڑ گڑانے اور بلبلانے لگتا ہے ، لمبی لمبی دعائیں کرتا ہے۔ ذرا دیکھئے تو سہی ، قرآن کریم نے انسانی نفسیات کے چھوٹے بڑے عمل اور رد عمل کو کس باریکی سے ریکارڈ کیا ہے۔ یہ اللہ کا کلام ہے جو خالق انسان ہے اور خود خالق بتا رہا ہے کہ یہ ہے حضرت انسان۔ کیونکہ خالق اپنی مخلوق کے کل پرزوں کو اچھی طرح جانتا ہے ، اللہ جانتا ہے کہ یہ ان نشیب و فراز میں پھرتا رہتا ہے ، الا یہ کہ اسے صراط مستقیم کی طرف پکڑ کرلے جایا جائے۔ تب وہ راہ راست پر چلتا ہے۔ نفس انسانی کی اس نہایت ہی ننگی تصویر کے بعد اللہ ان سے پوچھتا ہے کہ تم اس وقت کیا کرو گے کہ جس کتاب کی تم تکذیب کرتے ہو۔ اگر یہ اللہ کی جانب ہی سے ہو اور تم اس عذاب کے مستحق ہوجاؤ جس سے تمہیں ڈرایا جارہا ہے اور اس وقت تم تکذیب اور دشمنی کے عواقب و نتائج کا اپنے آپ کو مستحق کرلو۔
Ayah 41:52

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ثُمَّ كَفَرْتُمْ بِهٖ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ هُوَ فِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 41:52 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ، ان سے کہو ، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر واقعی یہ قرآن خدا ہی کی طرف سے ہوا اور تم اس کا انکار کرتے رہے تو اس شخص سے بڑھ کر بھٹکا ہوا اور کون ہوگا جو اس کی مخالفت میں دور تک نکل گیا ہو ؟

قرآن ان کے سامنے ایک احتمال پیش کرتا ہے کہ اس قدر احتیاط تو کرو ، لیکن انہوں نے کوئی احتیاط بھی نہ کی۔
Ayah 41:53

سَنُرِیْهِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفِ بِرَبِّكَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 41:53 in the Quran reader

عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے ، اور ان کے اپنے نفس میں بھی یہاں تک کہ ان پر یہ بات کھل جائے گی کہ یہ قرآن واقعی برحق ہے۔ کیا یہ بات کافی نہیں ہے کہ تیرا رب ہر چیز پر گواہ ہے ؟

اس کے بعد اب قرآن کریم ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے کہ سوچیں۔ اور پھر اس وسیع کائنات کی طرف متوجہ ہوتا ہے کہ دیکھو اللہ نے اس میں کچھ نشانات اور تقدیرات طے کر رکھی ہیں ، جن کا ظہور مستقبل میں ہوگا۔ یہ آخر ضرب ہے اور آخری تبصرہ ہے۔ ۔۔۔ اللہ اپنے بندوں کے ساتھ وعدہ فرماتا ہے کہ عنقریب تمہیں اس کائنات کے کچھ رازوں سے آگاہ کیا جائے گا ، اسی طرح خود تمہارے نفس اور ذات کے اندر جو راز ہیں ان کے بارے میں تم پر انکشافات ہوں گے یعنی انفس و آفاق کے نشانات تمہیں دکھائے جائیں گے۔ اور یہ راز ہائے ۔۔۔ جب کھلیں گے تو معلوم ہوگا کہ یہ کتاب ، کتاب برحق ہے۔ یہ کتاب اور یہ منہاج اور نظام زندگی ، اور یہ قول جو تمہیں بتایا جارہا ہے ، یہ سب سچے ہیں۔ فی الواقع اللہ کا وعدہ سچا تھا۔ گزشتہ چودہ سو سال سے اللہ نے انفس و آفاق کے کئی نشانات انسانوں پر ظاہر فرمائے ہیں۔ اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ انسان کی ذات کے بارے میں بھی عجیب و غریب انکشافات ہوئے ہیں۔ اور کائنات کے بارے میں بھی۔ پھر انسان بھی لگا ہوا ہے ، اس نے نزول قرآن کے وقت سے آج تک بہت سارے انکشافات کئے ہیں۔ اس کائنات کی وسعتیں بھی دور تک انسان نے دیکھ لیں اور اس کے لئے کھل گئیں اور نفس انسانی کے وسائل بھی اس پر واضح ہوگئے اور یہ سلسلہ چلتا ہی رہے گا۔ انسان نے بہت کچھ سیکھ لیا ہے ، اور دیکھ لیا ہے ، اگر انسان یہ بات معلوم کرے کہ کس طرح اس نے ان چیزوں کا ادراک کیا اور اللہ کا شکر ادا کرے تو یہ اس کے لئے بہتر ہوگا۔ مثلاً انسان نے معلوم کرلیا کہ وہ جس زمین کو کائنات کو مرکز سمجھتا تھا۔ یہ تو ایک حقیر سا ذرہ ہے جو سورج کے تابع ہے۔ اور انہوں نے معلوم کرلیا کہ یہ سورج اس کائنات کا ایک چھوٹا سا کرہ ہے۔ اور اس جیسے کئی سو ملین سورج ہیں۔ انہوں نے شمس و قمر اور ارح و سما کی حقیقت معلوم کرلی اور انہوں نے اپنے وجود کی اور نفس کی حقیقت بھی معلوم کرلی ہے۔ پھر انسان نے اس کائنات کے مادے میں سے بھی اکثر چیزوں کو معلوم کرلیا ہے کہ اس مادے کے اندر کیا عناصر ہیں۔ اگر یہ بات صحیح ہو کہ کوئی مادہ ہے۔ پھر انسان نے یہ دیکھ لیا کہ اس کائنات کا اصل مادہ ذرہ ہے۔ اس نے یہ بھی معلوم کرلیا کہ یہ ذرہ شعاع کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ چناچہ اس نے یہ دیکھ لیا کہ دراصل تو یہ پوری کائنات روشنی ہے۔ مختلف انداز کی روشنی جس سے مختلف انداز کی روشنی جس سے مختلف شکل و صورت کی چیزیں بنتی ہیں۔ افسانوں نے اس چھوٹے سے کرے اور زمین کے بارے میں تو بہت کچھ جان لیا ہے کہ یہ گیند ہے اور گیند کی طرح ہے۔ یہ بھی معلوم کرلیا ہے کہ یہ اپنے گرد بھی گھومتا ہے اور سورج کے گرد بھی گھومتا ہے۔ انہوں نے اس کے براعظموں ، اس کے سمندروں اور اس کے دریاؤں کو معلوم کرلیا ۔ اس کے اندرون تک گھس گئے اور اس کے پیٹ میں جو کچھ چھپا تھا اس کو بھی انہوں نے دیکھ لیا ہے کہ کیا کیا قوتیں اس کے اندر ودیعت کردہ ہیں۔ پھر اس قوتوں میں سے فضا میں کون کون سی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی معلوم کرلیا ہے کہ ان کی اس زمین کو اس پوری کائنات کے ساتھ جس قانون قدرت نے مربوط کردیا ہے وہ ایک ہی قانون ہے۔ اس کائنات میں تصرفات ہوتے ہیں ، ان میں سے بیشتر کو انسان نے دریافت کرلیا ہے۔ اب انسانوں میں سے کچھ اہل علم ایسے ہیں کہ انہوں نے ان قوانین سے معلوم کرلیا ہے کہ کوئی ۔۔۔ اور خالق ہے اور بعض ایسے ہیں کہ ان کے لئے ان کا یہ عالم ہی وبال بن گیا۔ یہ ان ظاہری انکشافات کے اندر ہی گم ہوگئے۔ آگے نہ بڑھ سکے۔ لیکن آیات الٰہیہ کے اس عظیم انکشاف کے بعد انسانیت نے اب اللہ کی طرف رجوع کرنا شروع کردیا ہے اور تسلیم کرنا شروع کردیا ہے کہ یہ حق ہے۔ انسان کی ذات اور اس کے نفس کے اندر علم کی فتوحات اس کائنات سے کم نہیں ہیں انسانوں نے انسانی جسم ، اس کی ترکیب ، اس کے خصائص اور اس کے اسر اور موز کے بارے میں بہت کچھ معلوم کرلیا ہے۔ اس کی بناوٹ ، اس کے اعضاء ان کے فرائض ، اس کے امراض ، اس کی غذا کے بارے میں وافر علوم جمع کرلیے ہیں ، انسانی اعمال اور حرکات کے بارے میں بھی بہت کچھ معلوم کرلیا ہے۔ یہ تمام انکشافات دراصل آیات الٰہیہ کے بارے میں ہیں۔ ان چیزوں کا خالق اس کے سوا کوئی نہیں ہے۔ انسانی نفسیات کے بارے میں بھی انسان نے بہت کچھ جان لیا ہے۔ یہ اگرچہ اس حد تک نہیں ہے جو نشانات جسم کے بارے میں انسان نے دریافت کرلیے ہیں۔ کیونکہ انسان کی جدو جہد زیادہ تر انسانی جسم اور اس کی آلاتی حیثیت پر مرکوز ہے۔ انسان کی عقل ، اس کی روح کی طرف ابھی زیادہ توجہ نہیں ہوئی۔ لیکن نفس انسانی کے میدان میں بعض چیزوں کا انکشاف ہوا ، وہ بتاتا ہے کہ اس میدان میں بھی مستقبل میں بڑی فتوحات ہوں گی اور انسان مزید نشانات دیکھیں گے۔ ابھی تو انسان راستے ہی میں ہے۔ اللہ کا وعدہ قائم ہے۔ سنریھم ایتینا فی الافاق ۔۔۔۔۔ انہ الحق (41 : 53) “ عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے ، اور ان کے اپنے نفس میں بھی یہاں تک کہ ان پر یہ بات کھل جائے گی کہ یہ قرآن واقعی برحق ہے ”۔ اور اس وعدے کا آخری حصہ کہ قرآن کتاب برھق ہے ، بیسویں صدی میں اس کے آثار ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ ایمان کے قافلے مختلف راستوں سے جمع ہو رہے ہیں۔ یہاں تک کہ خالص مادی علوم کے راستے سے بھی لوگ اسلام کی حقانیت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ہر طرف سے اسلامی افواج کا اجتماع ہو رہا ہے۔ اگرچہ ماضی میں اس کرۂ ارضی پر مادیت و الحاد کی جو لہریں اٹھیں وہ بڑی سرکش تھیں۔ لیکن یہ طوفان ختم ہو رہا ہے۔ اگرچہ باد مخالف بڑی تند تھی۔ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ صدی جس سے ہم گزر رہے ہیں ، ابھی ختم نہ ہوگی کہ مادیت و الحاد کے یہ طوفان ختم ہوں گے اور اللہ کا کلمہ حق ہو کر رہے گا۔ (سید قطب ! آپ کی روح کو اللہ اطلاع کرے کہ اشتراکی روس ختم ہوگیا ہے ، جس کے ایک کتے نے آپ کو شہادت کے منصب پر فائز کیا۔ اور یہ تو تھی مادیت اور امریکہ الحاد کے خلاف بھی خدائی فوجیں لڑ رہی ہیں ، امید ہے کہ بہت جلد وہ بھی ختم ہوگا۔ مترجم ) اولم یکف بربک انہ علی کل شییء شھید (41 : 53) “ کیا یہ بات کافی نہیں ہے کہ تیرا رب ہر چیز کا شاہد ہے ”۔ اللہ نے یہ وعدہ علم و یقین کے ساتھ کیا ہے۔ وہ دیکھ رہا ہے اور شاید عادل ہے ، اس لیے یہ سچا ہے۔