38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 38:26

یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِیْفَةً فِی الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَیُضِلَّكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِ۠ Open ayah 38:26 in the Quran reader

: (ہم نے اس سے کہا) ” اے داؤد ' ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے ، لہٰذا تو لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ حکومت کر اور خواہش نفس کی پیروی نہ کر کہ وہ تجھے اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی۔ جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹکتے ہیں یقیناً ان کے لیے سخت سزا ہے کہ وہ یوم الحساب کو بھول گئے “۔

اس قصے پر جو تبصرہ آیا ہے ، وہ صاف صاف بتاتا ہے کہ حضرت داؤد کی آزمائش کی نوعیت کیا تھی۔ اللہ نے حضرت داؤد کو حکومت دی تھی تاکہ وہ لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلے کریں ، اس لیے متعین ہوگیا کہ اس آزمائش و امتحان کا تعلق جو ڈیشل پر وسیڈنگز سے تھا۔ چناچہ کہا گیا : آیت نمبر 26 حضرت داؤد (علیہ السلام) کو یہ کہا گیا کہ آپ کو زمین کا اقتدار اعلیٰ دیا گیا ہے تاکہ آپ لوگوں کے درمیان حق پر مبنی فیصلے کریں اور ان فیصلوں میں اپنی ذاتی چاہت کا خیال نہ رکھیں ۔ جہاں تک نبی کا تعلق ہے وہ تو خواہشات نفس کی پیروی سے محفوظ ہوتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ ابتدائی میلان پر ہی فیصلہ نہ کردیا کریں۔ یہ نہ ہو کہ بغیر سوچے سمجھے اور بغیر تحقیقات کیے ہی فیصلہ نہ کردیا کریں۔ کیونکہ اس طرح جلدی میں بغیر تحقیق کے فیصلے غلط ہوتے ہیں۔ آیت کے آخر میں حکم عام ہے۔ ان تمام لوگوں کیلیے جو اللہ کے راستے سے گمراہ ہوتے ہیں۔ جو اللہ کو بھول جاتے ہیں ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ قیامت کے دن شدید عذاب سے دوچار ہوں گے۔ خلافت ارضی میں سچائی پر چلنے کے اصول کے طے ہونے کے بعد اور لوگوں کے درمیان سچائی اور حق پر مبنی فیصلے کے احکام کے بعد اور قصہ داؤد (علیہ السلام) کے ختم ہونے سے پہلے اس سچائی کو اس عالم گیر سچائی کے ساتھ ملا دیا جاتا ہے جس کے اوپر زمین و آسمان قائم ہیں اور آسمان اور زمینوں کے درمیان پوری کائنات قائم ہے۔ یہ سچائی اس کائنات کے اندر بہت گہری ہے اور صرف خلاف فی الارض کی سچائی اور لوگوں کے درمیان عدل کی سچائی سے بہت عام ہے۔ یہ سچائی اس زمین سے بھی وسیع تر ہے جبکہ یہ صرف اس دنیا کی زندگی سے بھی آگے عالم آخرت تک پھیلی ہوئی ہے ۔ جس طرح یہ کائنات اس کی لپیٹ میں ہے اسی طرح عالم آخرت بھی اس کی لپیٹ میں ہے ۔ اس عالم گیر سچائی پر یہ آخری رسالت مبنی ہے اور اللہ کی یہ آخری کتاب اسی ہمہ گیر اور والم گیر سچائی کی مظہر اور مفسر ہے۔
Ayahs 38:27–29

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا بَاطِلًا١ؕ ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنَ النَّارِؕ Open ayah 38:27 in the Quran reader

ہم نے اس آسمان اور زمین کو اور اس دنیا کو جو ان کے درمیان ہے ' فضول پیدا نہیں کردیا یہ تو ان لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے کفر کیا ہے ، اور ایسے کافروں کے لیے بربادی ہے جہنم کی آگ سے

اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ كَالْفُجَّارِ Open ayah 38:28 in the Quran reader

کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لاتے اور نیک عمل کرتے ہیں اور انکو جو زمین میں فساد کرنے والے ہیں ، یکساں کردیں ؟ کیا متقیوں کو ہم فاجروں جیسا کردیں ؟

كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 38:29 in the Quran reader

یہ ایک بڑی برکت والی کتاب ہے جو (اے نبی ﷺ ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ یہ لوگ اسکی آیات پر غور کریں اور عقل و فکر رکھنے والے اس سے سبق لیں “

آیت نمبر 27 تا 29 یہ ہے اصل بات ، ان تین آیات میں وہ عظیم حقیقت بیان کردی گئی ہے ، جس کی قرآن میں بہت اہمیت ہے۔ یہ نہایت ہی گہری ، عمومی اور عظیم الشان حقیقت ہے۔ اس کی جڑیں اور شاخیں اس پوری کائنات کے اندر گہری ہیں اور دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی مخلوق کوئی کھیل تماشا نہیں ہے۔ یہ باطل نہ تھی ، نہ ہے اور نہ ہوگی ۔ بلکہ یہ حق ہے۔ یہ کائنات حقائق پر قائم ہے۔ اس ہمہ گیر سچائی سے تمام سچائیاں پھولتی ہیں اور یہ سچائی دراصل اس کائنات اور پھر اس زمین کی حقیقت وماہیت ہے۔ اس دنیا پر انسان کی حکمرانی میں سچائی ، لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کے قیام میں سچائی ، لوگوں کے شعور کی سچائی اور ان کے اعمال میں سچائی کا قیام اس عظیم حق اور سچائی کی شاخیں ہیں۔ لہٰذا جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور شعور کی سچائی رکھتے ہیں اور جو لوگ نیک عمل کرتے ہیں اور ان کا طرز عمل درست ہے وہ مفسدین کی طرح نہیں ہوسکتے ۔ لہذا اس کرۂارض پر وزن اور فساق وفجار کا وزن برابر نہیں ہوسکتا ۔ جس عظیم سچائی کو یہ کتاب لے کر آئی ہے تاکہ لوگ اس کی آیات پر تدبر کریں اور ان میں سے جو عقلمند ہیں وہ اس سے نصیحت حاصل کریں۔ وہ عظیم سچائی ہے۔ اور لوگوں کو چاہئے کہ وہ اس عظیم حقیقت کا وافر حصہ پالیں اور اس پر تدبر کریں۔ کافر درحقیقت اس عظیم سچائی کا تصور بھی نہیں رکھتے ۔ کیونکہ ان کی فطرت ، ان کا شعور اس عظیم سچائی سے محروم ہے جس کے اوپر یہ کائنات قائم ہے۔ اور جس کا حامل قرآن ہے۔ کافر تو رب تعالیٰ کے بارے سوئے ظن رکھتے ہیں۔ اور وہ اس عظیم سچائی کے ادراک سے محروم ہوتے ہیں۔ ذٰلک ظن۔۔۔۔۔ من لنار (38: 27) ” یہ تو ان لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے کفر کیا اور ایسے کافروں کے لیے بربادی ہے ، جہنم کی آگ سے “۔ اسلامی شریعت دراصل اللہ کے اس عظیم حق کی تشریح کررہی ہے۔ جس پر یہ پوری کائنات قائم ہے۔ اللہ تعالیٰ اس دنیا میں حکام اور خلفاء سے جس سچائی اور عدل کا مطالبہ فرمایا ہے وہ اس کلی حق اور سچائی کا ایک حصہ ہے۔ اس حق کا تقاضا یہ ہے کہ جس طرح وہ کائنات میں قائم ہے اسی طرح انسانوں کے نظام اور معاشرے میں بھی قائم ہوتا کہ یہ عظیم سچائی ادھوری نہ ہو۔ اس کے تمام اطراف قائم ہوجائیں ۔ اس لیے جو لوگ شریعت سے انحراف کرتے ہیں ، عدالت سے انحراف کرتے ہیں۔ وہ دراصل اس سچائی سے انحراف کرتے ہیں جس کے اوپر یہ پوری کائنات قائم ہے۔ اس طرح وہ اس کائنات میں ایک عظیم شروفساد پیدا کردیتے ہیں۔ یوں کائناتی قوتوں کے درمیان تصادم پیدا ہوجاتا ہے۔ لہٰذا اس صورت میں ان کائناتی قوتوں کے درمیان بھی تصادم کا خطرہ ہوتا ہے اور انسانی قوتوں کے درمیان بھی۔ یوں کائنات اور انسانی معاشرے دونوں میں ٹوٹ پھوٹ کا خطرہوتا ہے۔ کیونکہ ایک ظالم ، باغی اور ناموس الہٰی اور شریعت الہہ سے متصادم ہونے والا شخص سالم اور صراط مستقیم پر قائم نہیں رہ سکتا ۔ اور یہ ضعیف اور ناتواں انسان اگر بغاوت بھی کرے تو اللہ کی عظیم قوتوں کا وہ کیا بگاڑ سکتا ہے۔ وہ اگر کوئی فساد برپا کرے گا اور نقصان کرے گا تو اپنا کرے گا۔ اللہ کی جبار وقہار قوتوں کے مقابلے میں تو وہ بےبس ہوجائے گا۔ یہ وہ عظیم حقیقت ہے جس کے اوپر تمام اہل دانش کو غور کرنا چاہئے اور اصحاب دانش اور عقل کو چاہئے کہ وہ اس سے نصیحت حاصل کریں۔ اس قصے کے درمیان یہ سبق آموز واقعہ بیان ہوا اور اس پر تبصرہ ہوا تاکہ اس اہم بات کی وضاحت کردی جائے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) پر اللہ کے مزید انعامات گنائے جاتے ہیں کہ اللہ نے اپنے فضل وکرم سے ان کی اولاد میں حضرت سلیمان جیسے باکمال شخص پیدا کیے جن پر اللہ کا بہت بڑا کرم ہوا۔ بلکہ کئی قسم کی کرم نوازیاں ہوئیں۔ حضرت سلیمان کی آزمائش ، ان پر اللہ کے کرم کے واقعات کے بعد اللہ کی رحمتوں کی بارش کے واقعات کا ذکر ہوتا ہے۔
Ayahs 38:30–35

وَ وَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَ١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌؕ Open ayah 38:30 in the Quran reader

اور داؤد کو ہم نے سلیمان (جیسا بیٹا) عطا کیا ، بہترین بندہ ، کثرت سے اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا

اِذْ عُرِضَ عَلَیْهِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُۙ Open ayah 38:31 in the Quran reader

قابل ذکر ہے وہ موقع جب شام کے وقت اس کے سامنے خوب سدھے ہوئے گھوڑے پیش کیے گئے

فَقَالَ اِنِّیْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّیْ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِٙ Open ayah 38:32 in the Quran reader

تو اس نے کہا ” میں نے اس مال کی محبت اپنے رب کی یاد سے اختیار کی ہے یہاں تک کہ جب وہ گھوڑے نگاہ سے اوجھل ہوگئے

رُدُّوْهَا عَلَیَّ١ؕ فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِالسُّوْقِ وَ الْاَعْنَاقِ Open ayah 38:33 in the Quran reader

تو (اس نے حکم دیا کہ) انہیں میرے پاس واپس لاؤ، پھر لگا ان کی پنڈلیوں اور گردن پر ہاتھ پھیرنے

وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَ اَلْقَیْنَا عَلٰى كُرْسِیِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ Open ayah 38:34 in the Quran reader

اور (دیکھو کہ) سلیمان کو بھی ہم نے آزمائش میں ڈالا اور اس کی کرسی پر ایک جسد لاکر ڈال دیا۔ پھر اس نے رجوع کیا

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَهَبْ لِیْ مُلْكًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ Open ayah 38:35 in the Quran reader

اور کہا کہ ” اے میرے رب ' مجھے معاف کردے اور مجھے وہ بادشاہی دے جو میرے بعد کسی کے لیے سزاوار نہ ہو ' بیشک تو ہی اصل داتا ہے

آیت نمبر 30 تا 40 یہاں دو اشارات ہیں۔ ایک الصافنات المجیاد ہے یعنی اچھے سدھے ہوئے قیمتی گھوڑے ۔ اور دوسرا اشارہ یہ کہ حضرت سلیمان کی کرسی پر ایک حسد ڈال دیا۔ ہمارے تفسیری ذخیرے میں قدد روایات یا تاویلات وارد ہیں۔ ان میں سے ان اشارات کی تفسیر میں کسی ایک تفسیر اور روایت پر میرا دل مطمئن نہیں ہے۔ جہاں تک روایات کا تعلق ہے ، ان میں سے بہت تو اسرائیلیلت سے متعلق ہیں اور تفاسیر جو بھی کی گئی ہیں وہ ایسی تاویلات ہیں جن کے اوپر کوئی سند نہیں ہے۔ یہ دو واقعات اصل میں کیا ہیں ؟ ان کے بارے میں کوئی اطمینان بخش چیز سامنے نہیں آئی تاکہ اس پر غور کرکے میں یہاں نقل کردوں ۔ ماسوائے ایک حدیث کے اور کوئی صحیح حدیث بھی منقول نہیں ہے جس پر اعتماد کیا جائے۔ ایک صحیح حدیث ہے لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس کا تعلق ان واقعات کے ساتھ ہے ۔ یہ حدیث حضرت ابوہریرہ کی حدیث ہے۔ امام بخاری نے یہ حدیث مرفوعاً نقل کی ہے۔ ” حضرت سلیمان نے کہا میں آج رات اپنی ستر بیویوں کے پاس جاؤں گا۔ ہر ایک سے ایک جوان پیدا ہوگا۔ جو کہاد فی سبیل اللہ کرے گا۔ لیکن انہوں نے انشاء اللہ نہ کہا ۔ وہ ان بیویوں کے پاس گئے ۔ ان میں سے صرف ایک کا حمل ٹھہرا اور جب بچہ پیدا ہوا تو ناتمام تھا۔ خدا کی قسم اگر حضرت سلیمان انشاء اللہ کہتے تو یقیناً یہ سب اللہ کی راہ میں جہاد کرتے “۔ یہ ہوسکتا ہے کہ ان آیات میں جس فتنے کا ذکر کیا گیا ہے ، وہ یہی ہو اور ان کی کرسی پر یہی جسد ناتمام پھینکا گیا ہو۔ لیکن یہ بھی احتمال درجے میں ہے۔ گھوڑوں کا قصہ یہ بیان کیا گیا ہے شام کے وقت ان کے سامنے گھوڑے پیش کیے گئے اور غروب سے قبل وہ جو عبادت کرتے تھے وہ قضا ہوگئی تو حضرت نے کہا ان سب گھوڑوں کو واپس کرو ' چناچہ انہوں نے ان کی گردنوں اور پنڈلیوں کو تلوار سے کاٹنا شروع کیا۔ کیونکہ ان کی وجہ سے ان کی نماز قضا ہوئی اور وہ ذکر رب سے غافل ہوگئے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ آپ ان کے پاؤں اور گردنوں پر ہاتھ پھیر کر ان کو تھپکی دیتے تھے اور ان کی عزت کرتے تھے۔ کہ یہ اللہ کی راہ میں لڑنے والے گھوڑے ہیں۔ دونوں روایتوں پر کوئی دلیل نہیں ہے۔ اور اس کے بارے میں کوئی فرضی بات نہیں کرسکتے ۔ لہٰذا کوئی محقق ان دونوں واقعات کے بارے میں کوئی یقینی بات نہیں کرسکتا۔ جو بات کہی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو بھی آزمایا گیا۔ اور یہ آزمائش امور مملکت کے بارے میں تھی اور اسی نوعیت کی تھی جس طرح تمام انبیاء کو راہ حق دکھانے کے لیے آزمایا جاتا ہے۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس راہ میں ان سے کوئی لغزش سرزدنہ ہوجائے۔ اس آزمائش کے بعد حضرت سلیمان نے اپنے رب کی طرف انابت اور رجوع کرلیا اور مغفرت طلب کی۔ اور اللہ کی طرف مڑکر دست بدعا ہوئے : قال رب۔۔۔۔ انت الوھاب (38: 35) ” کہا ' اے میرے رب مجھے معاف کر اور مجھے بادشاہی دے جو میرے بعد کسی کے لیے سزاوار نہ ہو ' بیشک تو ہی اصل داتا ہے “۔ حضرت سلیمان کی مذکورہ بالا دعا کا مطلب جو سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ ایک ایسی خصوصیات چاہتے تھے جو معجزانہ ہو۔ یعنی ان کو حکومتی اقتدار چلانے کے لیے معجزانہ قوتیں دی جائیں اور تمام دوسرے ذی اقتدار لوگوں سے یہ اعجاز مختلف ہو۔ اس کی متعین شکل ہو ، جس کی مثال انسانی تاریخ میں نہ ہو۔ یعنی عوام الناس کے ہاں جس طرح کی حکومتیں متعارف ہیں۔ رب تعالیٰ نے بھی ان کی دعا قبول کرنے میں دیر نہیں فرمائی ۔ چناچہ جیسی حکومت انہوں نے چاہی تھی وہ ان کو دے دی ۔ ایسی حکومت جو آئندہ کسی کو نہ دی جائے گی۔
Ayahs 38:36–38

فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖ رُخَآءً حَیْثُ اَصَابَۙ Open ayah 38:36 in the Quran reader

تب ہم نے اس کے لیے ہوا کو مسخر کردیا جو اس کے حکم سے نرمی کے ساتھ چلتی جدھر وہ چاہتا تھا ۔

وَ الشَّیٰطِیْنَ كُلَّ بَنَّآءٍ وَّ غَوَّاصٍۙ Open ayah 38:37 in the Quran reader

، اور شیاطین کو مسخر کردیا ، ہر طرح کے معمار اور غوطہ خور

وَّ اٰخَرِیْنَ مُقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِ Open ayah 38:38 in the Quran reader

اور دوسرے جو پابند سلاسل تھے “۔

فسخرناله۔۔۔ الصفاد (38: 36 تا 38) ” تب ہم نے اس کے لیے ہوا کو مسخر کردیا جو اس کے حکم سے نرمی کے ساتھ چلتی تھی ، جدھر وہ چاہتا تھا اور شیاطین کو مسخر کردیا ۔ ہر طرح کے معمار اور غوطہ خور اور دوسرے جو پابند سلاسل تھے “۔ ہوا کو اللہ کے حکم سے اس کے بندوں میں سے کسی کے لیے مسخر کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اللہ کے ارادے سے باہر آگئی ۔ انسانوں کی تسخیر کے باوجود ہوا بدستور ارادہ الہٰی کے تحت چلتی ہے۔ اللہ کے حکم سے اس کے نوا میں فطرت کے مطابق ہی چلتی ہے۔ جب اللہ اپنے کسی بندے کے لیے یہ بات سہل بنادے کہ اس کا فعل ارادۂ الہٰی کی تعبیر ہو اور بندے کا حکم الہٰی کے موافق ہوجائے تو ایسے میں کائناتی قوتیں اللہ کے امر کے ساتھ ساتھ بندے کے امر کے ساتھ چلتی نظر آتی ہیں۔ پھر یہ ہوائیں نہایت ہی نرمی کے ساتھ جہاں وہ بندہ چاہتا ہے ادھر چلتی ہیں۔ یہ ایک ایسا فعل ہے جس کا صدور اللہ سے مستبد نہیں ہوتا ہے۔ یہ فعل کی صورتوں میں سرزد ہوتا ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کو خطاب کرکے فرماتا ہے۔ لئن لم۔۔۔ الاقلیلا (33: 60) ” اگر منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں خرابی ہے ، اور وہ مدینہ میں ہیجان انگیز افواہیں پھیلاتے ہیں ایسی حرکتوں سے باز نہ آئے تو ہم ان کے خلاف کاروائی کرنے کے لیے اٹھا کھڑا کریں گے۔ پھر وہ اس شہر میں مشکل ہی سے تمہارے ساتھ رہ سکیں گے “۔ اس کا مفہوم کیا ہے ؟ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ باز نہ آئے تو اللہ اپنا ارادہ حضرت محمد ﷺ کے ارادے کی صورت میں حرکت میں لائے گا اور آپ کو ان کے خلاف اٹھا کر یوں ان کو مدینہ سے نکال دے گا۔ اللہ کے ارادے کے نتیجے میں محمد ﷺ ان کے خلاف قتال شروع کردیں گے۔ یوں اللہ کے ارادے اور نبی کے ارادے میں توافق پیدا ہوجائے گا۔ دونوں کے ارادے باہم مل جائیں گے اور اللہ کا ارادہ رسول اللہ ﷺ کے اقدامات کی شکل میں نظر آئے گا ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ہوا کو اسی معنی میں مسخر کردیا تھا جس طرح حضرت سلیمان چاہتے۔ اسی طرح اللہ ہواؤں کو مسخر فرما دیتا ۔ یا جس طرح اللہ چاہتا اسی طرف حضرت سلیمان کا ارادہ ہوجاتا۔ اسی طرح آپ کیلیے شاطین کو بھی مسخر کردیا گیا اور آپ ان سے تعمیرات کا کام لیتے تھے۔ سمندر میں اور خشکی میں یہ لوگ آپ کیلیے غوطہ لگاتے تھے اور جو اشیاء حضرت سلیمان چاہتے تھے وہ نکال لاتے تھے اور مخالفین اور مفسدین کو سزا دینے کی پوری پوری قدرت اللہ نے آپ کیلیے ودیعت کردی تھی۔ مجرموں کو گرفتار کرنے ، قید کرنے اور پکڑنے کی پوری قدرت آپ کو دے دی تھی ۔ آپ کی حکومت میں امن وامان کا کوئی مسئلہ نہ تھا۔ یعنی مجرم اکیلے اور اجتماعی شکل میں گرفتار ہوکر پایہ زنجیر کردیئے جاتے۔ زمین میں دولت کی تقسیم کے پورے اختیارات آپ کو دے دیئے تھے۔ جسے چاہتے ' جسے چاہتے نہ دیتے۔ یا جسے جس قدر چاہتے ' دے دیتے۔
Ayah 38:39

هٰذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 38:39 in the Quran reader

(ہم نے اس سے کہا) ” یہ ہماری بخشش ہے ، تجھے اختیار ہے جسے چاہے دے اور جس سے چاہے روک لے ، کوئی حساب نہیں

ھذا۔۔۔ حساب (38: 39) ” یہ ہماری بخشش ہے تجھے اختیار ہے ، جسے چاہے دے اور جس سے چاہئے روک لے کوئی حساب نہیں ہے “۔ یہ اس لیے کہ آپ کو اللہ بہت بڑا اعزاز دینا چاہتا تھا کہ حکومت پر کوئی مالی قدغن عائد نہیں ہے۔ مزید اس پر یہ اضافہ فرمایا کہ حضرت سلیمان ہمارے نزدیک بہت ہی مقرب اور برگزیدہ بندے تھے۔ اور ان کا انجام بہتر ہوگا۔
Ayah 38:40

وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ۠ Open ayah 38:40 in the Quran reader

یقیناً اس کے لیے ہمارے ہاں تقریب کا مقام اور بہتر انجام ہے “۔

وان له عندنا لزلفٰی وحسن ماٰب (38: 40) ” یقیناً اس کے لیے ہمارے ہاں تقریب کا مقام اور بہتر انجام ہے “۔ یہ ایک نہایت ہی عظیم مقام و مرتبہ ہے جو حضرت سلیمان کو دیا گیا۔ نہایت ہی فضل وکرم اور رضامندی اور بخشش اور مہربانیاں۔ حضرت سلیمان کے بعد اب حضرت ایوب (علیہ السلام) کا قصہ ابتلا آتا ہے اور اس کے بعد ان پر اللہ کا فضل وکرم حضور ﷺ اور مسلمانوں کے لیے امید پیدا کی جاتی ہے۔
Ayah 38:41

وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ Open ayah 38:41 in the Quran reader

اور ہمارے بندے ایوب کا ذکر کرو ، جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھے تکلیف اور عذاب میں ڈال دیا ہے۔

آیت نمبر 41 تا 44 حضرت ایوب کے صبر کا قصہ تو ایک مثال بن گیا ہے۔ اور بہت ہی معروف ومشہور ہے۔ صبر ایوبی ایک محاورہ ہے۔ لیکن اس قصے کے اوپر اسرائیلی روایات کی تہہ جم گئی ہے۔ اور حقیقت خرافات میں کھوگئی ہے۔ اصل حقیقت وہ ہے جس طرح قرآن کریم تصریح کرتا ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) بندۂ صالح اور اللہ کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔ اللہ کی آزمائش ان پر آئی اور اس میں انہوں نے خوب صبر فرمایا۔ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان کی آزمائش اس طرح تھی کہ مال چلا گیا ، صحت چلی گئی اور بیوی بھی ساتھ چھوڑ گئی۔ لیکن ان تمام جان لیوا تکالیف میں انہوں نے رب تعالیٰ کا دامن تھامے رکھا۔ اللہ پر ان کا بھروسہ رہا اور وہ راضی برضائے الہٰی رہے۔ شیطان ان لوگوں کے دل میں وسوسے ڈالتا رہا جو تعداد میں تھوڑے تھے مگر ان کے ساتھ وابستہ رہے ۔ ان میں سے ان کی بیوی بھی تھی۔ شیطان ان کے دلوں میں یہ وسوسے ڈالتا کہ اگر ایوب اللہ کا برگزیدہ بندہ ہوتا تو اللہ ہرگز ان کو اس آزمائش میں نہ ڈالتا۔ جب یہ لوگ حضرت ایوب کو یہ باتیں بتاتے تو مالی جسمانی مصیبت سے بھی زیادہ اذیت ان کو ان شیطانی وسوسہ اندازیوں سے ہوتی ۔ جب ان کی بیوی نے ان کے سامنے ایسی باتیں کیں تو آپ نے حلف اٹھایا کہ اگر اللہ نے اس مصیبت سے نجات دی اور وہ تندرست ہوگئے تو بیوی کو کوڑے ماریں گے۔ بعض نے سو کوڑے کہا ہے۔ انہی آزمائشوں پر جب شیطان کی جانب سے ایذارسانی بھی شروع ہوگئ اور اس کا اثر ان کے مخلصین پر بھی ہوتا شروع ہوگیا اور خود ان کے دل پر اثر ہوگیا تو وہ درست بدعا ہوئے۔ انی مسنی ۔۔۔ و عذاب (38: 41) ” کہ شیطان نے مجھے تکالیف اور عذاب میں ڈال دیا ہے “۔
Ayah 38:42

اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ١ۚ هٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ Open ayah 38:42 in the Quran reader

(ہم نے اسے حکم دیا) اپنا پاؤں زمین پر مارا ، یہ ہے ٹھنڈا پانی نہانے کیلیے اور پینے کیلیے۔

جب یہ بات ظاہر ہوگئی کہ وہ سچے اور صابر ہیں اور وہ شیطانی وسوسہ اندازیوں سے بھی نفرت کرتے ہیں اور اس سے انکی اذیت میں اضافہ ہورہا ہے۔ تو اب اللہ کی رحمت انکو ڈھانپ لیتی ہے۔ آزمائش کے دن بیت جاتے ہیں ۔ انکی صحت لوٹ آتی ہے۔ رب تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ اپنے قدموں کو زمین پر ماریں۔ ٹھنڈا پانی نکل آئے گا اس سے وہ پئیں اور غسل کریں صحت لوٹ آئے گی ارکض برجلک ھٰذا مغتسل بادو شراب (38: 43) ” اپنا پاؤں زمین پر مار ' یہ ہے ٹھنڈا پانی نہانے اور پینے کے لیے “۔ مزید رحمتیں یوں آتی ہیں۔
Ayah 38:43

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 38:43 in the Quran reader

ہم نے اسے اس کے اہل و عیال واپس دیئے اور انکے ساتھ اتنے ہی اور ' اپنی طرف سے رحمت کے طور پر ، اور عقل و فکر رکھنے والوں کیلیے درس کے طور پر۔

ووھبنا۔۔۔ الالباب (38: 43) ” اور ہم نے اسے اہل و عیال واپس کردیئے اور اپنی طرف سے رحمت کے طور پر ان کے ساتھ اتنے ہی اور دیئے اور عقل وفکر رکھنے والوں کے لئے درس کے طور پر “۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اللہ نے ان کے وہ بچے زندہ کردیئے جو فوت ہوگئے تھے اور اسی تعداد میں اور اولاد بھی دے دی۔ قرآن کریم اس بات کی صراحت نہیں کرتا کہ مردوں کو زندہ کیا گیا۔ مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جو لوگ ان کو چھوڑ کر غایب ہوگئے تھے ، وہ اور ان کے اہل خانہ واپس کردیئے گئے اور پھر مزید اولاد دی گئی۔ مزید انعام اور رحمت و رعایت کے طور پر۔ اور یہ انعامات اس لیے کیے گئے کہ اہل عقل و دانش اس سے عبرت لیں۔ ان تمام قصص سے مقصود یہ ہے کہ اللہ کے جو بندے اور آزمائشوں میں صبر کریں ان پر کرم نوازی کرتا ہے اور آخر کار ان پر کرم ہوتا ہے۔ یہ کہ ان کی قسم کا نتیجہ کیا ہوا تو اللہ کی رحمت نے ان کو اور ان کی بیوی کو ڈھانپ لیا۔ کیونکہ ان کی بیوی نے اس طویل آزمائش میں حضرت ایوب کی بہت خدمت کی تھی۔ اور اس نے بھی بہت ہی مصابرت سے کام لیا تھا۔ اللہ نے حکم دیا تھا کہ انہوں نے جتنے کوڑے مارنے کی قسم اٹھائی ہے اتنی ہی شاخیں لیں اور ان تمام شاخوں سے ایک ہی وار اس پر کرلیں۔ اس طرح ان کی قسم پوری ہوجائے گی اور وہ حانث نہ ہوں گے۔
Ayah 38:44

وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْ١ؕ اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:44 in the Quran reader

(اور ہم نے اس سے کہا) تنکوں کا ایک مٹھالے اور اس سے مار دے ، اپنی قسم نہ توڑ۔ ہم نے اسے صابر پایا ، اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا۔

وخذبیدک ضغثا فاضرب به ولا تحنث (38: 44) ” تنکوں کا ایک مٹھالے اور اس سے ماردے ، اپنی قسم بہ توڑ “۔ یہ سہولت ان کو اس لیے دی گئی کہ اس عظیم امتحان میں انہوں نے اللہ کی منشاء کے مطابق صبر کیا اور اطاعت شعار بندے کے طور پر رہے اور آخر میں اللہ ہی سے التجا کی۔ انا وجدنه۔۔۔ اواب (38: 44) ” ہم نے اسے صابر پایا۔ بہترین بندہ اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا “۔ یہ تین قصص تو قدرے تفصیل سے ذکر ہوئے۔ مقصد یہ بتانا تھا کہ حضرت محمد ﷺ اور آپ کے ساتھی موجود مشکلات پر صبر کریں۔ اب رسولوں کے ایک گروہ کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ انکے قصص میں بھی آزمائشیں اور صبر کے واقعات ہیں اور ان پر بھی اللہ کے انعامات اور فضل وکرم ہوتے رہے ہیں جس طرح حضرت داؤد حضرت سلیمان اور ایوب (علیہم السلام) کے قصص میں آزمائشیں اور فضل وکرم ہوتے ہیں ۔ ان میں سے بعض انبیاء تو انسے پہلے گزرے ہیں اور معروف ہیں اور بعض ایسے ہیں جن کے زمانے کا تعین نہیں ہے۔ کیونکہ قرآن اور ہمارے ہاں حقیقی تاریخی مصارد کے اندر ان کے زمانے کا تعین نہیں کیا گیا۔
Ayah 38:45

وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ Open ayah 38:45 in the Quran reader

اور ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کا ذکر کرو۔ بڑی قوت عمل رکھنے والے اور دیدہ ور لوگ تھے ۔

آیت نمبر 45 تا 48 یقیناً ہمارے ہاں ان کا شمار چنے ہوئے نیک اشخاص اور حضرت سلیمان سے قبل تھے لیکن حضرت ایوب کے دور کے بارے میں ہمیں یقینی معلومات نہیں ہیں۔ ذوالکفل کے بارے میں بھی صحیح معلومات نہیں ہیں۔ ان کے بارے قرآن کریم میں صرف اشارات ہی پر اکتفاء کیا گیا ہے۔ نبی اسرائیل کے نبیوں میں سے ایک نبی کا نام عبرانی میں الشیع آتا ہے۔ یہی عربی میں السیع ہیں۔ اسی لئے ہم بھی ترجیح دیتے ہیں۔ رہے ذوالکفل تو ان کے بارے میں زیادہ تاریخی معلومات نہیں ہیں۔ اولی الایدی والابصار (38: 45) ” بڑی قوت رکھنے والے اور دیدہ ور لوگ تھے “۔ مطلب یہ ہے کہ وہ ہاتھ پاؤں سے عمل صالح کرنے والے اور نظریاتی اعتبار سے فکر مستقیم کے مالک تھے۔ گویا جو عمل صالح نہیں کرتا وہ کمزور ہوتا ہے اور جو شخص فکر سلیم نہیں رکھتا وہ آنکھوں کے باوجود اندھا ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں ان پیغمبروں کے اعزاز کی صفت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اللہ کے خالص بندے تھے۔ اور ان کی دوسری خاص صفت یہ تھی وہ دار آخرت کو ہر وقت یاد کرنے والے اور اس کا لحاظ کرنے والے تھے۔ وہ صرف رضائے الہٰی اور فلاح کے لیے کام کرتے تھے۔
Ayah 38:46

اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ Open ayah 38:46 in the Quran reader

ہم نے ان کو ایک خالص صفت کی بنا پر برگزیدہ کیا تھا ، اور وہ دار آخرت کی یاد تھی

انا۔۔۔ الدار (38: 46) ” ان کو ایک خاص صفت کی نبا پر برگزیدہ کیا تھا اور وہ دار آخرت کی یاد تھی “۔ یہ انکا مرتبہ اور ان کی بلندی نے ان کو برگزیدہ بنادیا تھا۔
Ayahs 38:47–48

وَ اِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:47 in the Quran reader

اور یقیناً ہمارے ہاں ان کا شمار چنے ہوئے نیک اشخاص میں سے ہے

وَ اذْكُرْ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ وَ كُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:48 in the Quran reader

اور یاد کرو حضرت اسماعیل ، حضرت ذوالکفل اور حضرت السیع (علیہم السلام) اس کے برگزیدہ بندوں میں سے ہیں

وانھم۔۔۔ الاخیار (38: 47) ” اور یقیناً ہمارے ہاں ان کا شمار چنے ہوئے نیک اشخاص میں سے ہے “۔ نیز اللہ تعالیٰ تصریح فرماتا ہے اور حضرت محمد ﷺ کو حکم فرماتا ہے کہ تم لوگ ان کی روحانی صحبت میں رہو۔ ان کے صبر ومصابرت کو یاد کرو ، اور آخر کار ان پر جو فضل وکرم ہوا ، اس کی امید رکھو۔ اور تمہاری قوم کی طرف سے جو تکذیب ہو رہی ہے اور اس پر تمہیں جو اذیت ہورہی ہے اس کو برداشت کرو۔ کیونکہ تمام رسولان کرام کا طریقہ صبر اور مصابرت کا ہے۔ اور رسولوں کے بعد بھی تمام دعوتوں کا طریقہ بھی صبر کا ہے اور ہمیشہ یوں ہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے صبر کرنے والے بندوں پر رحم وکرم کرتا ہے۔ ان کو قوت اور اقتدار عطا کرتا ہے اور ان پر رحمتیں اور برکتیں نازل کرتا ہے۔ اللہ کے ہاں اپنے بندوں کے لیے جو اجر اور انجام ہوتا ہے وہ بہرحال بہتر ہوتا ہے۔ اور اللہ کی رحمتوں ، اللہ کی برکتوں کے مقابلے میں سازشیوں کی شازشوں اور مکاروں کی مکاریوں کی کوئی وقعت نہیں ہوتی۔ اللہ اپنے بندوں کا ہر وقت نگہبان ہوتا ہے۔
Ayahs 38:49–55

هٰذَا ذِكْرٌ١ؕ وَ اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍۙ Open ayah 38:49 in the Quran reader

یہ ایک ذکر تھا (اب سنو کہ) متقی لوگوں کے لیے یقیناً بہترین ٹھکانا ہے

جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُۚ Open ayah 38:50 in the Quran reader

، ہمیشہ رہنے والی جنتیں جن کے دروازے ان کے لیے کھلے ہوں گے

مُتَّكِئِیْنَ فِیْهَا یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍ وَّ شَرَابٍ Open ayah 38:51 in the Quran reader

۔ ان میں وہ تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے ، خوب خوب فواکہ اور مشروبات طلب کررہے ہوں گے

وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ Open ayah 38:52 in the Quran reader

اور ان کے پاس شرمیلی ہم سن بیویاں ہوں گی

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِیَوْمِ الْحِسَابِ Open ayah 38:53 in the Quran reader

یہ وہ چیزیں ہیں جنہیں حساب کے دن عطا کرنے کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے۔

اِنَّ هٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهٗ مِنْ نَّفَادٍۚۖ Open ayah 38:54 in the Quran reader

یہ ہمارا رزق ہے جو کھبی ختم ہونے والا نہیں۔ یہ تو ہے متقیوں کا انجام

هٰذَا١ؕ وَ اِنَّ لِلطّٰغِیْنَ لَشَرَّ مَاٰبٍۙ Open ayah 38:55 in the Quran reader

اور سرکشوں کے لیے بدترین ٹھکانا ہے ،

درس نمبر 213 تشریح آیات آیت نمبر 49 تا 64 درس ماضی میں ہم اللہ کے مختار بندوں کے ہم محفل تھے۔ ان لوگوں کی زندگی کی آزمائش اور پھر ان کی جانب سے مشکلات پر صبر کا پہلو نمایاں طور پت موضوع سخن تھا۔ آزمائش کے بعد ان سب بندوں کی رحمت اور اس کے فضل و کرم نے ڈھانپ لیا۔ اس محفل ذکر میں ہمیں یہ بتانا مقصود تھا کہ اس کراۂ ارض پر یہ اعلیٰ ترین زندگی ہے اور اس عارضی زندگی کو اس طرح گزرانا چاہئے۔ اب یہاں اس سبق میں یہ بتایا جاتا ہے عالم آخرت میں اللہ کے متقی بندوں کا کیا حال ہوگا اور سرکشوں اور جھٹلانے والوں کے روز شب کیا ہوں گے۔ گویا سابقہ سبق میں حیات فانی موضوع سخن تھا اور اس میں حیات باقیہ کے شب وروز زیر بحث ہیں ۔ یہ زندگی یہاں مناظر کی شکل میں دکھائی گئی جیسا کہ قرآن کریم کا انداز ہے۔ یہاں مناسب ہے کہ میں اپنی کتاب ” مشاہد قیامت “ کے کچھ اقتباسات دے دوں۔ ان مناظر کا آغاز یوں ہوتا ہے کہ دو مناظر ہیں اور دوانجام ہیں اور ایک دوسرے کے بالکل بالمقابل ہیں۔ مجموعی طور پر بھی ایک دوسرے کے بالمقابل ہیں اور اجزاء کے اعتبار سے بھی یہ دونوں باہم متقابل ہیں۔ ہئیت وشکل اور مفہوم اور خواص کے اعتبار بھی دونوں ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہیں۔ مصبین ایک اچھے انجام تک پہنچ چکے ہیں (حسن مآب) ۔ جبکہ مفسدین برے انجام تک پہنچ چکے (شرمآب) ۔ اگر متقین کے لیے ایسے باغات ہیں جن کے دروازے ان کے لیے ہر وقت کھلے ہیں۔ جنت عدن مفتحة لھم الابواب (38: 50) اور وہ اس میں بالمقابل تکیے لگائے بیٹھے ہیں اور اچھا کھانا اور اچھا پینا ان کو میسر ہے۔ اور ان کو نوجوان حوریں میسر ہیں اور جوانی کے باوجود وہ شرمیلی بھی ہیں۔ نہ وہ کسی طرف نظر اٹھا کر دیکھتی ہیں اور نہ اٹھا کر چلتی ہیں اور جوانی کے ساتھ ہم عمر بھی ہیں۔ پھر یہ تمام سہولیات دائمی ہیں اور اللہ کی طرف سے ہیں اور ماله من نفاد ” ختم ہونے والی نہیں ہیں “۔ تو مکذبین بھی ایک جائے قرار میں نظر آتے ہیں۔ یہ بہت ہی بری جائے قرار ہے۔
Ayahs 38:56–60

جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 38:56 in the Quran reader

جہنم جس میں وہ جھلسے جائیں گے بہت ہی بری قیام گاہ

هٰذَا١ۙ فَلْیَذُوْقُوْهُ حَمِیْمٌ وَّ غَسَّاقٌۙ Open ayah 38:57 in the Quran reader

۔ یہ ہے ان کے لیے ، پس وہ مزا چکھیں کھولتے ہوئے پانی اور پیپ ، لہو

وَّ اٰخَرُ مِنْ شَكْلِهٖۤ اَزْوَاجٌؕ Open ayah 38:58 in the Quran reader

اور اسی قسم کی دوسری تلخیوں کا

هٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ١ۚ لَا مَرْحَبًۢا بِهِمْ١ؕ اِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ Open ayah 38:59 in the Quran reader

۔ (وہ جہنم کی طرف اپنے پیرو وں کو آتے دیکھ کر آپس میں کہیں گے) ” یہ ایک لشکر تمہارے پاس گھسا چلا آرہا ہے کوئی خوش آمدید ان کے لیے نہیں ہے ، یہ آگ میں جھلسنے والے ہیں

قَالُوْا بَلْ اَنْتُمْ١۫ لَا مَرْحَبًۢا بِكُمْ١ؕ اَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوْهُ لَنَا١ۚ فَبِئْسَ الْقَرَارُ Open ayah 38:60 in the Quran reader

وہ ان کو جواب دیں گے ” نہیں بلکہ تم ہی جھلسے جارہے ہو ، کوئی خیر مقدم تمہارے لیے نہیں ہے۔ تم ہی تو یہ انجام ہمارے آگے لائے ہو ، کیسی بری ہے یہ جائے قرار

فبئس المھاد (38: 56) وہاں ان کے پینے کے لیے گرم پانی ہے اور قابل نفرت اور قے لانے والا کھانا وہ کھا رہے ہوں گے ۔ یعنی ان کے زخموں کا دھون اور پیپ۔ اس قسم کے کئی دوسرے عذاب ان کے لیے ہوں گے۔ اور ان عذابوں کو ازواج سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی ان مذکورہ تلخیوں کے علاوہ دوسری بھی تلخیاں ہوں گی۔ ان دو مناظر کے بعد اب تیسرا دیکھئے جس کے کردار ایک دوسرے سے ہمکلام بھی ہیں۔ اہل جہنم سرکشوں کا ایک گروہ دنیا میں ایک دوسرے کا جگری دوست تھا۔ اب یہ لوگ یہاں ایک دوسرے کے لیے اجنبی اور نفرت کرنے والے ہیں۔ دنیا میں یہ گمراہی کے ہم سفر تھے۔ یہ مومنین سے اپنے آپ کو برتر سمجھتے تھے۔ مومنین کی دعوت اور ان کے منشور کے ساتھ یہ لوگ مذاق کرتے تھے۔ خصوصاً ان کے اس عقیدے کے ساتھ کہ وہ جنتوں میں ہوں گے جیسا کہ قریش کہتے تھے۔ ء انزل علیه الذکر من بیننا ” کیا ہم میں سے ذکر اسی پر اتر گیا ! “ ذرا ان کے منظر کو دیکھئے کہ یہ فوج در فوج جہنم میں گھسے جارہے ہیں ' یا دھکیلے جارہے ہیں اور ایک دوسرے سے وہ یوں ہمکلام ہیں۔ ھذا فوج مفتحم معکم (38: 59) ” یہ لشکر تمہارے پاس گھسا چلا آرہا ہے “۔ جواب کیا ہے ؟ نہایت ہی تنگ مزاجی سے جواب آتا ہے۔ لامرحبابھم انھم صالوا النار (38: 59) ” کوئی خوش آمدید ان کے لیے نہیں ہے۔ یہ تو آگ میں جھلسنے والے ہیں “۔ جس فوج پر یہ تبصرہ کیا جارہا ہے ، وہ بھی سن کع جل بھن جاتی ہے اور ان کا جواب یہ ہے ، قالوابل۔۔۔ القرار (38: 60) ” وہ کہیں بلکہ تمہارے لیے کوئی خوش آمدید نہیں ہے ، تم ہی تو یہ انجام ہمارے آگے لائے ہو۔ کیسی بری ہے یہ جائے قرار “۔ تم ہی تو اس مصیبت کا باعث بنے ہو۔ اب یہ لوگ نہایت دل تنگی ، گھٹن اور انتقام کے جذبات سے مغلوب ہوکر یہ دوخواست کرتے ہیں۔
Ayah 38:61

قَالُوْا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِی النَّارِ Open ayah 38:61 in the Quran reader

پھر وہ کہیں گے ” اے ہمارے رب ، جس نے ہمیں اس انجام کو پہنچانے کا بندوبست کیا ، اس کو دوزخ کا دوہرا عذاب دے “۔

قالوا۔۔۔۔ فی النار (38: 61) ” پھر وہ کہیں گے اے ہمارے رب ، جس نے ہمیں اس انجام کو پہنچایا اس کو دوزخ کا دوہرا عذاب دے “۔ اب یہ لوگ جہنم میں مومنین کو تلاش کریں گے۔ ان کا کوئی اتہ پتہ جہنم میں نہ ہوگا۔ حالانکہ یہ لوگ اپنے آپ کو ان کے مقابلے میں اونچے لوگ سمجھتے تھے ، اور یہ سمجھتے تھے کہ یہ تو چند شریر لوگ ہیں۔ اور ان کے دستور اور منشور کے ساتھ بھی مذاق کرتے تھے۔ اور جن اعلیٰ مقاصد اور رضائے الہٰی کے لیے وہ کام کرتے تھے ، اس کو حماقت سمجھتے تھے۔ یہ لوگ ان جہنم میں گھسنے والوں میں نہیں ہیں۔ یہ لوگ پوچھتے ہیں کہ کہاں چلے گئے وہ لوگ ۔ یہاں وہ موجود نہیں یا نظر نہیں آتے۔
Ayahs 38:62–63

وَ قَالُوْا مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الْاَشْرَارِؕ Open ayah 38:62 in the Quran reader

اور وہ آپس میں کہیں گے ” کیا بات ہے ' ہم ان لوگوں کو کہیں ، نہیں دیکھتے جنہیں وہ دنیا میں برا سمجھتے تھے ؟

اَتَّخَذْنٰهُمْ سِخْرِیًّا اَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْاَبْصَارُ Open ayah 38:63 in the Quran reader

ہم نے یونہی ان کا مذاق بنالیا یا وہ کہیں نظروں سے اوجھل ہیں ؟

وقالوا۔۔۔ الابصار (38: 62 تا 63) ” وہ آپس میں کہیں گے ” کیا بات ہے ، ہم ان لوگوں کو کہیں نہیں دیکھتے جنہیں ہم دنیا میں برا سمجھتے تھے اور ہم نے یونہی ان کا مذاق بنالیا تھا ، یا وہ کہیں نظروں سے اوجھل ہیں ؟ “ یہ لوگ ان کے بارے میں جہنم میں اتہ پتہ دریافت کررہے ہیں حالانکہ وہ لوگ جنتوں کے مزوں میں ہیں۔ یہ منظر اس بات پر ختم ہوتا ہے کہ اہل دوزخ میں یہ جھگڑے یونہی چلتے رہیں گے۔
Ayah 38:64

اِنَّ ذٰلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ اَهْلِ النَّارِ۠ Open ayah 38:64 in the Quran reader

“ بیشک یہ بات سچی ہے ، اہل دوذخ میں یہی کچھ جھگڑے ہونے والے ہیں

ان ذلک لحق تخاصم اھل النار (38: 64) ” بیشک یہ بات سچی ہے کہ اہل دوزخ میں یہی کچھ جھگڑے ہونے والے ہیں “ ذرا دیکھئے کہ ان کا انجام اہل ایمان کے انجام سے کس قدر مختلف اور اپنے طور پر کس قدر بھیانک ہے۔ دنیا میں تو اہل جہنم متقین کا مذاق اڑاتے تھے ۔ اور یہ سمجھتے تھے کہ اللہ نے ان پر جو کلام الہٰی نازل کیا ہے۔ یہ اس کے اہل ہی نہیں۔ اور یہی وہ نقشہ عذاب ہے جس کے لیے وہ بچوں کی شتابی مچا رہے تھے۔ اور کہتے تھے۔ وقالو۔۔۔ الحساب (38: 16) ” اے ہمارے رب ' ہمارا حصہ ہمیں یوم الحساب سے بھی پہلے دے دے “۔