13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 13:17

اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِیَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَدًا رَّابِیًا١ؕ وَ مِمَّا یُوْقِدُوْنَ عَلَیْهِ فِی النَّارِ ابْتِغَآءَ حِلْیَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَ الْبَاطِلَ١ؕ۬ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْهَبُ جُفَآءً١ۚ وَ اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْكُثُ فِی الْاَرْضِ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَؕ Open ayah 13:17 in the Quran reader

اللہ نے آسمان سے پانی برسایا اور ہر ندی نالہ اپنے ظرف کے مطابق اسے لے کر چل نکلا۔ پھر جب سیلاب اٹھا تو سطح پر جھاگ بھی آگئے۔ اور ایسے ہی جھاگ ان دھاتوں پر بھی اٹھتے ہیں جنہیں زیور اور برتن وغیرہ بنانے کے لئے لوگ پگھلایا کرتے ہیں۔ اسی مثال سے اللہ حق اور باطل کے معاملے کو واضح کرتا ہے۔ جو جھاگ ہے وہ اڑجایا کرتا ہے اور جو چیز انسانوں کے لئے نافع ہے وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہے۔ اس طرح اللہ مثالوں سے اپنی بات سمجھاتا ہے “۔

آیت نمبر 17 پانی کا نزول اور ندی نالوں کا اس کے ساتھ بہہ نکلنا ایک ایسا مفہوم ہے جو برق اور رعد اور بادلوں کے ساتھ ہم معنی و ہم جنس ہے۔ سابق منظر میں رعد و برق اور سحاب ثقال کا ذکر تھا۔ دونوں اس کائنات کے عام مناظر فطرت کا حصہ ہیں۔ اس سورة کا پیشتر موضوع اور مضمون انہی کے گرد گھومتا ہے۔ اور ان مناظر سے اللہ واحد اور قہار کی قدرت ، غلبے اور گرفت کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ ندی نالے اپنی مقدار کے مطابق بہہ نکلتے ہیں ، ہر ایک اپنے ظرف کے مطابق ۔ اس سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ اللہ نے ہر چیز کے لئے ایک مقدار مقرر کر رکھی ہے ۔ ہر نالے اور ندی کے لیے بھی پانی کی مقدار مقرر ہے ۔ یہ اللہ کی شان مدبرانہ ہے ، جو اس سورة کا موضوع خاص ہے۔ تمثیل کا یہ دائرہ اور موضوع اور منظر وہی ہے جو پیش پا افتادہ ہے اور جس کو رات اور دن لوگ دیکھتے رہتے ہیں یہ منظر ان کی نظروں کے سامنے سے گزرتا ہے لیکن یہ اندھوں کی طرح اس پر کوئی غور نہیں کرتے اور نہ یہ مناظر ان کے دامن کش ہوتے ہیں۔ ہماری نظروں کے سامنے پانی برستا رہتا ہے ، ندی اور نالے بہتے رہتے ہیں اور اس دنیا کے خس و خاشاک کو ساتھ بہا کرلے جاتے رہتے ہیں۔ ان ندی نالوں پر جھاگ بھی اٹھتی رہتی ہے ، اس قدر کہ بعض اوقات پانی چھپ جاتا ہے۔ اور جھاگ کے پہاڑ کھڑے ہوجاتے ہیں۔ لیکن اس جھاگ کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی ، اس کا کوئی وزن نہیں ہوتا۔ اور پانی جو جھاگ کے نیچے قائم رہتا ہے اپنی رفتار سے چلتا رہتا ہے ۔ نہایت سکون کے ساتھ لگا بندھا ۔ پھر یہ پانی اپنے اندر ایک افادیت رکھتا ہے۔ خیر ہی خیر اور زندگی اور شادابی۔ یہی صورت ان دھاتوں اور خزانوں کی ہوتی ہے جنہیں پگھلایا جاتا ہے۔ اس سے مصنوعات بنتی ہے ، آلات بنتے ہیں اور انسانوں کی حیات کے لئے ممد ثابت ہوتے ہیں مثلاً لوہا ، تانبا اور سیسہ وغیرہ ۔ ان پر بھی جھاگ اٹھتی ہے جو بیکار ہوتی ہے اور جسے پھینک دیا جاتا ہے اور جو صافی چیز ہوتی ہے وہ نیچے رہ جاتی ہے۔ جب جھاگ اٹھ جاتی ہے تو اصل چیز نیچے سے نمودار ہوتی ہے۔ دنیا کی زندگی میں حق و باطل کی یہ مثال ہے۔ باطل کا یہ مظہر اور منظر بسا اوقات سامنے آتا ہے وہ بلند ہوتا ہے ، پھولتا ہے ، دوڑتا بھاگتا ہے۔ اس کا بہت فلو نظر آتا ہے۔ لیکن یہ باطل جھاگ کی طرح ہوتا ہے یا گندے اور خبیث مادے کی طرح ہوتا اور فضلے کی طرح پھینک دیا جاتا ہے یا ختم ہوجاتا ہے اور اس کی نہ ٹھوس حقیقت ہوتی ہے اور نہ اس کے اندر ٹھہراؤ اور جماؤ ہوتا ہے جبکہ حق ہمیشہ پروقار ، ٹھہرا ہوا اور جما ہوا ہوتا ہے۔ بعض اوقات اس پر شبہ ہوتا ہے کہ یہ جم گیا ہے ، اس میں جمود ہے ، بلکہ یہ ختم ہوگیا ہے۔ اس کا سکون موت کی علامت ہے۔ لیکن حق ہمیشہ دنیا میں باقی رہتا ہے جس طرح پانی باقی رہتا ہے اور جھاگ ختم ہوجاتی ہے اور جس طرح پگھلا ہوا مواد اپنی اصل حالت میں باقی رہتا ہے اور لوگوں کو نفع دیتا ہے اور اس کی جھاگ یا فضلہ ختم ہوجاتا ہے اسی طرح حق قائم رہتا ہے۔ کذلک یضرب اللہ الامثال (13 : 17) “ اسی طرح اللہ مثالیں دیتا ہے ”۔ اسی طرح اللہ ہر دعوت اور ہر تحریک کا انجام مقرر کرتا ہے ، ہر نظریہ اور اس کے احیاء کی جدو جہد کا یہی انجام ہوتا ہے۔ اللہ لوگوں کے اعمال و اقوال کے ساتھ یہی سلوک کرتا ہے۔ وہ مدبر کائنات ہے۔ واحد حاکم اور قہار ہے۔ وہ حق و باطل کی کشمکش کا بھی مدبر ہے اور اس نے یہ قانون قدرت وضع کیا ہے کہ آخر کار باطل نے زائل ہونا ہے اور حق نے غالب آنا ہے۔ لہٰذا یہ بات پلے باندھ رکھو کہ جن لوگوں نے حق پر لبیک کہا ان کا انجام اچھا ہوگا۔ اور جن لوگوں نے دعوت حق کا انکار کردیا وہ ایک نہایت ہی خوفناک اور ہولناک انجام سے دوچار ہونے والے ہیں۔ ان کی حالت یہ ہوگی کہ اگر ان میں سے کوئی پوری زمین اور آسمانوں کا مالک ہو تو وہ اس دن کے عذاب سے اپنے آپ کو چھڑانے کے لئے بالکل تیار ہوگا ، لیکن اس کے پاس زمین و آسمان کہاں ہوں گے کہ وہ دے سکے۔ ان کا حساب تو رسوا کن ہوگا اور ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا اور کیا ہی برا ٹھکانا ہوگا۔
Ayah 13:18

لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰى١ؔؕ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ١ۙ۬ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ۠ Open ayah 13:18 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنے رب کی دعوت قبول کرلی ان کے لئے بھلائی ہے ، اور جنہوں نے اسے قبول نہ کیا وہ اگر زمین کی ساری دولت کے بھی مالک ہوں اور اتنی ہی اور فراہم کرلیں تو وہ خدا کی پکڑ سے بچنے کے لئے اس سب کو فدیہ میں دے ڈالنے پر تیار ہوجائیں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن سے بری طرح حساب لیا جائے گا اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے ، بہت ہی برا ٹھکانا ”۔

آیت نمبر 18 یہاں دعوت حق کو قبول کرنے والوں کے مقابلے ہیں وہ لوگ ہیں جو قبول نہیں کرتے اور حسنہ کے مقابلے میں سوء الحساب ہے۔ اور جنت کے مقابلے میں بئس المھاد ہے۔ اور یہ تقابلی انداز کلام اس پورہ سورة میں ملحوظ رکھا گیا ہے۔
Ayah 13:19

اَفَمَنْ یَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِۙ Open ayah 13:19 in the Quran reader

بھلا یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ شخص جو تمہارے رب کی اس کتاب کو جو اس نے تم پر نازل کی ہے حق جانتا ہے اور وہ شخص جو اس حقیقت کی طرف سے اندھا ہے ، دونوں یکساں ہوجائیں ؟ نصیحت تو دانشمند لوگ ہی قبول کیا کرتے ہیں ”۔

درس نمبر 113 ایک نظر میں اس سورة کے حصہ اول میں موضوع تھا اس کائنات کے آفاق اور عالم غیب کی گہرائیاں اور نفس انسانی کے عجائبات اور گہری انسانی نفسیات اور ان پر غور۔ اس دوسرے حصے میں انسانی وجدان کے محسوسات ، انسانی عقل کے اخذ کردہ نتائج اور نہایت ہی لطیف اور گہری سوچ ، خصوصاً رسالت ، منصب رسالت اور وحی الٰہی کے بارے میں حقائق ، عقیدۂ توحید اور رد شرک ، لوگوں کی نادانی اور معجزات کا مطالبہ اور وقوع قیامت میں جلدی۔ مسائل وہی ہیں جو پہلے حصے میں تھے ، البتہ سفر ایک دوسری وادی میں ہے یعنی وادی عقل وخرد میں۔ اس حصے میں سفر کا آغاز وادی کفرو ایمان میں ہوتا ہے۔ کفر کی وادی میں اندھیری رات جیسی تاریکی ہے جبکہ وادی ایمان میں روز روشن کی طرح روشنی ہے۔ ایک میں علم ہے اور دوسری میں تاریکی اور جہالت ہے۔ اس کے بعد روئے سخن کافرین کی خصوصیات و علامات اور مومنین کی صفات اور مزاج کی طرف پھرجاتا ہے اور پھر مشاہد قیامت میں سے ایک منظر سامنے آتا ہے جس میں اہل جنت کے انعامات اور اہل جہنم کے عذاب کا ذکر ہے۔ درمیان میں رزق کی کشادگی اور رزق کی تنگی کے موضوع پر بھی بات ہوتی ہے اور دونوں حالات کسی کو اللہ کی مشیت کے مطابق پیش آتے ہیں۔ ایک محفل ان لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے جن کے دل ذکر الٰہی کے ساتھ مطمئن ہیں۔ پھر قرآن کریم کے اوصاف اور اس کی قوت کا ذکر ، قریب ہے کہ اس سے متاثر ہو کر پہاڑ چل پڑیں ، قریب ہے کہ زمین مارے خوف کے پھٹ پڑے اور قریب ہے کہ مردے بھی بات کرنے لگیں۔ پھر وہ عذاب اور مصائب جو کفار کو درپیش ہوتے ہیں یا ان کے علاقوں کے قریب ہی دوسری اقوام پر نازل ہوتے ہیں لیکن یہ لوگ عبرت نہیں لیتے۔ پھر مزاحیہ انداز کلام ان کے الہوں کے بارے میں ، پھر قدرے ان اقوام کی وادی میں سیر جن کو ہلاک کیا گیا اور جن کے مقامات اور مصارع ان کے پاس ہی ہیں۔ آخر میں ان کو اس انجام سے ڈرایا جاتا ہے جو ان کے لئے بےچینی سے انتظار کر رہا ہے کیونکہ وہ رسول برحق کی تکذیب کر رہے ہیں۔ اچھا چلو اس انجام معلوم کی طرف اگر نہیں مانتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حصہ اول میں عقل وخرد کو جھنجھوڑنے کے لئے جو ضربات لگائی گئی تھیں ، گویا اس دوسرے حصے میں اس کا خاطر خواہ اثر ہوا اور اب عقل نے سوچنا شروع کردیا ہے۔ انسانی عقل کے دروازے قدرے کھل گئے ہیں اور انسان نے دعوت اسلامی کے بارے میں سوچنا شروع کردیا۔ لہٰذا سورة کے ان دونوں حصوں میں باہم ربط ہے۔ یعنی اس سورة کے دونوں حصے انسانی عقل و کرد کی تاروں کو چھیڑ رہے ہیں تا کہ انسانی احساس اور عقل کام کریں ۔ اس حصے میں پہلا مسئلہ ، مسئلہ وحی الٰہی ہے۔ اس سورة کے آغاز میں بھی اسے چھیڑا گیا تھا۔ یہاں دوبارہ اس پر غور کیا جاتا ہے ، نہایت ہی جدید انداز میں۔ آیت نمبر 19 یہاں ایک طرف وہ لوگ ہیں جو اس بات پر یقین کرتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ اللہ کی طرف سے جو کچھ نازل ہوتا ہے وہ حق ہے اور ان کے مقابلے میں وہ لوگ ہیں جو یقین نہیں کرتے جو جانتے نہیں بلکہ ان کے بالمقابل جو لوگ ہیں وہ اندھے ہیں۔ قرآن کریم کا یہ نہایت ہی پیارا ، موثر اور دل میں بیٹھ جانے والا انداز ہے کہ وہ کسی شخص یا کردار یا رویے کو مجسم شکل میں پیش کرتا ہے اور یہ حجیم اور تمثیل بجائے خود حقیقت ، سچی اور بلا مبالغہ بھی ہوتی ہے مثلاً یہاں مخالفین کو اندھا کہا گیا ہے اور حقیقت بھی یہ ہے کہ اس واضح اور ظاہر و باطن حقیقت کو جو شخص نہیں دیکھتا وہ اندھا ہی ہو سکتا ہے۔ اس حقیقت کے سامنے اس کے حوالے سے لوگوں کی دو اقسام ہیں ۔ ایک گروہ دیکھنے والا ہے تو وہ سمجھتا ہے۔ دوسرا اندھوں کا گروہ ہے اور وہ جاہل ہے۔ بعض اندھے پن سے مراد آنکھوں کا اندھا نہیں ہے بلکہ دل کا اندھا ہے۔ مطلب اس شخص سے ہے جس کی قوائے مدرکہ بجھ گئی ہوں ، جن کے دلوں پر تالے پڑگئے ہوں اور جن کی روح آتش معرفت سے محروم ہوگئی ہو اور ان کے دلوں میں معرفت الٰہی کی آخری چنگاری بھی بجھ گئی ہو۔ انما یتذکر اولوا الالباب (13 : 19) “ نصیحت تو دانشمند لوگ ہی قبول کیا کرتے ہیں ”۔ وہ لوگ جن کے دل و دماغ میں قوت ادراک ہو اور جن کو سچائی کی یاد دہانی کرائی جائے تو وہ اس یاد دہانی اور نصیحت کو قبول کریں اور اگر ان کے سامنے حق کے دلائل پیش کئے جائیں تو وہ ان پر غوروفکر کرتے ہوں۔ اولوا لالباب کی اعلیٰ اور اہم صفات یہ ہیں :
Ayah 13:20

الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَۙ Open ayah 13:20 in the Quran reader

“ اور ان کا طرز عمل یہ ہوتا ہے کہ اللہ کے ساتھ اپنے عہد کو پورا کرتے ہیں ، اسے مضبوط باندھنے کے بعد توڑ نہیں ڈالتے ”۔

آیت نمبر 20 اللہ کا عہد مطلق ہے ، اس سے وہ تمام عہد مراد ہیں جو اللہ کے ہیں اور میثاق بھی مطلق ہے اور اس سے مراد بھی وہ تمام میثاق ہیں جو اللہ کے ساتھ کئے گئے۔ سب سے بڑا عہد ، عہد ایمانی ہے کیونکہ دوسرے تمام عہد اس کا نتیجہ اور اس کے تقاضے ہیں۔ سب سے بڑا میثاق یہ کہ ہم ایمان کے تقاضے پورے کریں گے۔ عہد ایمان قدیم بھی ہے اور جدید بھی ہے۔ قدیم عہد وہ ہے جو فطرت انسانی کے ساتھ مربوط ہے اور اس کا تعلق ناموس کائنات سے ہے ، جس کے مطابق یہ پوری کائنات چلتی ہے اور فطرت انسانی براہ راست اس واحد ارادے کا ادراک کرلیتی ہے جس سے یہ کائنات پیدا ہوئی اور اس بات کا یقین کرتی ہے کہ اس کائنات کا خالق ایک ہے اور وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی بندگی کی جائے۔ یہ فطری میثاق وہ ہے جو تمام انسانوں سے لیا گیا ہے جبکہ وہ آدم کی پشت میں تھے ، اپنے محل پر ہم نے عہد الست کی یہی تفسیر پسند کی ہے۔ پھر اس عہد کی تجدید رسول اللہ ﷺ کے دور میں ہوتی ہے جن کو اللہ نے امتوں کے لئے بھیجا اس لیے نہیں کہ وہ کوئی جدید عہد لیں بلکہ اس لیے کہ وہ یاددہانی کرائیں اسی عہد الست کی اور اس کی تفسیر اور تشریح لوگوں کے سامنے کریں ۔ وہ لوگوں کو بتائیں کہ اس عہد کا تقاضا یہ ہے کہ لوگ صرف اللہ کی بندگی کریں اور اللہ کے سوا تمام دوسروں کی بندگی کا جوا اپنی گردن سے اتار پھینکیں اور علم صالح اور راہ راست پر چلنے کا مضبوط رویہ اختیار کریں۔ ہر معاملے میں اللہ وحدہ کی طرف رجوع کریں جس کے ساتھ انسانوں نے اصل عہد کیا ہوا ہے۔ اس عطیم عہد الٰہی کے حکم ہی میں بعد میں آنے والے عہد ہیں ، خواہ وہ عہد و میثاق انسانوں کے ساتھ ہو۔ رسولوں کے ساتھ ہو ، عوام الناس کے ساتھ ہو ، قریب کے رشتہ داروں کے ساتھ ہو ، امراء کے ساتھ ہو یا جماعتوں کے ساتھ ہو۔ چناچہ جو شخص عہد اول اور میثاق اول کی فکر کرے گا وہ تمام دوسرے مواثیق کی رعایت کرے گا کیونکہ تمام عہودو مواثیق پر عمل کرنا ایک فریضہ ہے۔ جو شخص عہد اول کا پاس رکھتا ہے وہ دوسرے عہود کا بھی پاس رکھے گا کیونکہ یہ تمام عہد اسی کے ذیل میں آتے ہیں۔
Ayahs 13:21–22

وَ الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَ یَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِؕ Open ayah 13:21 in the Quran reader

ان کی روش یہ ہوتی ہے کہ اللہ نے جن جن روابط کو برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے انہیں برقرار رکھتے ہیں ، اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور اس بات کا خوف رکھتے ہیں کہ کہیں ان سے بری طرح حساب نہ لیا جائے۔

وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً وَّ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِۙ Open ayah 13:22 in the Quran reader

ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ اپنے رب کی رضا کے لئے صبر سے کام لیتے ہیں ، نماز قائم کرتے ہیں ، ہمارے دئیے ہوئے رزق میں سے علانیہ اور پوشیدہ خرچ کرتے ہیں ، اور برائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں۔ آخرت کا گھر انہی لوگوں کے لئے ہے ”۔

یہ ایک عظیم اصول ہے جس کے اوپر پوری زندگی کی عمارت استوار ہوتی ہے۔ اس اصول کو قرآن کریم چند کلمات کے اندر ضبط فرماتا ہے : آیت نمبر 21 تا 22 یہ اجمالی اور کلی قاعدہ ہے ، یعنی اللہ نے جن روابط کے جوڑنے کا حکم دیا ہے اسے جوڑتے ہیں یعنی وہ مکمل اطاعت کرتے اور پوری طرح وفادار اور استوار ہوتے ہیں۔ سنت الٰہیہ کے مطابق سیدھے چلتے ہیں اور ان کی رفتار میں کوئی کجی نہیں ہوتی۔ اس لیے یہاں ایک کلی قاعدہ بیان کردیا اور جس کے اندر اللہ کے وہ تمام مفرد احکام آگئے جن کا اللہ نے حکم دیا ہے کیونکہ تمام احکام کو یہاں ایک ایک کر کے بیان کرنا بہت ہی مشکل تھا اور یہاں مقصود بھی نہ تھا بلکہ یہاں مقصود یہ تھا کہ انسان تقاضاہائے فطرت پر سیدھا چلے اور تمام معاملات میں اطاعت شعار ہو۔ اطاعت کا رشتہ ٹوٹنے نہ پائے اور آیت کے آخر میں یہ اشارہ بھی کردیا گیا کہ وہ لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں اور اطاعت کاملہ کے بارے میں بہت حساس ہیں۔ ویخشون ۔۔۔۔۔ الحساب (13 : 21) “ اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور اس بات کا خوف رکھتے ہیں کہ کہیں ان سے بری طرح حساب نہ لیا جائے ”۔ اللہ کی مشیت اور قیامت کے برے حساب سے وہ ڈرتے ہیں کیونکہ وہ عقلمند ہیں اور عقلمند آدمی حساب و کتاب سے قبل ہی اپنا حساب تیار کرتے ہیں۔ والذین صبروا ابتغاء وجہ ربھم (13 : 22) “ ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ اپنے رب کی رضا کے لئے صبر سے کام لیتے ہیں ”۔ صبر کی کئی انواع و اقسام ہیں اور صبر کے کچھ تقاضے ہیں ۔ ایک صبر یہ ہے کہ انسان اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہد کی راہ میں مشکلات پر صبر کرے۔ مثلاً اعمال ، جہاد اور دعوت اسلامی کی راہ میں مشکلات ۔ نیز نعمتوں پر صبر اور مشکلات حیات میں صبر۔ ایسے لوگ کم ہوتے ہیں جو خوشحالی میں صبر کریں اور کبرو غرور اور ناشکری نہ کریں۔ لوگوں کی حماقتوں اور جہالتوں پر صبر ، جبکہ ان کی وجہ سے بسا اوقات انسان کا پیمانہ لبریز ہوجاتا ہے ۔ اسی طرح دوسرے معاملات اور اجتماعی زندگی کے روابط میں صبر۔ یہ سب صبر اللہ کی رضا مندی کے لئے ہیں ، اس لیے نہیں کہ لوگ یہ کہیں کہ یہ شخص باہمت ہے یا یہ کہ لوگ کہیں یہ شخص فریاد کررہا ہے۔ نہ محض اپنے آپ کو شریف ثابت کرنے کے لئے یا محض اس لیے کہ جزع و فزع سے مزید نقصان ہوگا۔ غرض اللہ کی رضا مندی کے سوا کسی بھی مقصد کے لئے کیا جانے والا صبر مقبول نہیں ہے۔ نعمت اور آزمائش میں صبر یوں ہے کہ انسان اللہ کے فیصلے پر شاکر اور قانع رہے۔ واقاموا الصلوٰۃ (13 : 22) “ اور نماز قائم کرتے ہیں ”۔ اقامت صلوٰۃ بھی اللہ کے میثاق اور عہد میں شامل ہے لیکن یہاں اس کا ذکر علیحدہ اس لیے کردیا گیا کہ وفائے میثاق کی یہ پہلی علامت اور رکن رکین ہے۔ نیز اللہ کی طرف توجہ کامل کا یہ اہم اور تم مظہر ہے اور بندے اور رب کے درمیان جسمانی رابطہ ہے۔ نماز خالص اللہ کے لیے ہے ، اس کی ہر حرکت اور اس کا ہر کلمہ اللہ اور صرف اللہ کے لئے ہے۔ وانفقوا ۔۔۔۔۔ وعلانیۃ (13 : 22) “ اور ہمارے دئیے ہوئے رزق سے علانیہ اور پوشیدہ خرچ کرتے ہیں ”۔ یہ حکم بھی اس آیت میں شامل ہے کہ اللہ نے جو روابط جوڑنے کا حکم دیا ہے انہیں جوڑتے ہیں اور میثاق الٰہی کی ذمہ داریاں اور تقاضے پورے کرتے ہیں۔ لیکن اس کو بھی یہاں خصوصیت کے ساتھ لایا گیا کیونکہ یہ اللہ کے بندوں کے درمیان اجتماعی روابط کا مظہر ہے۔ انفاق فی سبیل اللہ سے خدائی اور اسلامی زندگی کے روابط مستحکم ہوتے ہیں۔ دینے والے کا دل بخل کی بیماری سے پاک ہوتا ہے اور لینے والے کا دل کینہ سے پاک ہوتا ہے۔ ایک اسلامی سوسائٹی کی اجتماعی زندگی باہم محبت اور تعاون پر مبنی ہوجاتی ہے۔ پوشیدہ خرچ ان مقامات میں ہوتا ہے جہاں لینے کی عزت نفس کو بچانا ہوتا ہے۔ ۔۔۔ اعلانیہ ایسے مقامات پر ہوتا ہے جہاں دوسروں کے لئے نمونہ بننے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جہاں شریعت کا نفاذ مقصود ہو یا قانون کی اطاعت مقصود ہو یا دوسرا کوئی اجتماعی فائدہ ہو۔ و یدرءون بالحسنۃ السیئۃ (13 : 22) “ اور برائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں ”۔ یہاں مقصود یہ ہے کہ روز مرہ کے معاملات میں وہ برائی کو بھلائی کے ذریعے دفع کرتے ہیں۔ اس سے مراد دینی معاملات میں نہیں ہیں کہ دینی معاملات میں اگر کوئی برا کرے تو تم اس کے ساتھ اچھا کردو۔ لیکن یہاں قرآن کریم کی تعبیر تمہید سے آگے بڑھ کر نتیجے کا ذکر کرتی ہے۔ برائی کا جواب نیکی سے دینے سے ایک سرکش شخص کی سرکشی میں کمی آجاتی ہے اور ایک انسان پھر برائی کے بدلے میں بھلائی پر مائل ہوجاتا ہے۔ اور شر کی آگ سے بجھ جاتی ہے اور شیطان کے وسوسے ختم ہوجاتے ہیں۔ یوں برائی کا دفعیہ ہوجاتا ہے اور وہ ختم ہوجاتی ہے۔ چناچہ آیت میں حسنہ کا ذکر پہلے کیا گیا۔ پھر اس میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ بدی کا جواب نیکی سے صرف اس وقت دیا جائے گا جب یہ امید ہو کہ اس طرح شر کا دفعیہ ہوگا اور برائی ختم ہوگی لیکن اگر کوئی شخص اس سے مزید اکڑتا ہے اور اسے جراءت ہوتی ہے تو ایسا رویہ اچھا نہ ہوگا۔ بلکہ ایسے حالات میں اس بات کی ضرورت ہوگی کہ برائی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے اور جہاں بھی مدافعت کی ضرورت ہو شر کا دفاع کیا جائے گا تا کہ شر کی قوتیں بھول نہ جائیں اور ان کو مزید سرکشی اختیار کرنے کی جراءت نہ ہو۔ برائی کا جواب نیکی سے اس وقت دیا جاتا ہے کہ دو افراد کے درمیان معاملہ ہو اور وہ دونوں مساوی حیثیت کے مالک ہوں۔ رہے وہ معاملات جن کا تعلق دین اسلام سے ہے تو اس میں یہ رویہ اختیار کرنا جائز نہیں ہے کیونک دین کے معاملات میں کسی جسارت کرنے والے شخص کے سامنے ننگی تلوار ہی صحیح کاٹ کرتی ہے۔ نیز جن لوگوں کا وطیرہ یہ ہو کہ وہ زمین میں فساد کرتے پھریں ان کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا جانا چاہئے لیکن کسی معاملے میں کیا رویہ اختیار کیا جائے قرآن نے ایسی ہدایات کو ایک فرد کی صوابدید پر چھوڑ دیا ہے کہ وہ عقل کو کام میں لا کر ایسا رویہ اختیار کرے جن میں خیر ہو اور بہتری ہو۔
Ayahs 13:23–24

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍۚ Open ayah 13:23 in the Quran reader

“ یعنی ایسے باغ جو ان کی ابدی قیام گاہ ہوں گے وہ خود بھی ان میں داخل ہوں گے اور ان کے آباؤ اجداد اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے جو جو صالح ہیں وہ بھی ان کے ساتھ وہاں جائیں گے۔ ملائکہ ہر طرف سے ان کے استقبال کے لئے آئیں گے اور ان سے کہیں گے

سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ Open ayah 13:24 in the Quran reader

“ تم پر سلامتی ہے ، تم نے دنیا میں جس طرح صبر سے کام لیا اس کی بدولت آج تم اس کے مستحق ہوئے ہو ، پس کیا ہی خوب ہے یہ آخرت کا گھر ! ”

آیت نمبر 23 تا 24 ان ہی لوگوں کے لئے آخرت کا گھر ہے۔ یہ آخرت میں عالی مقام ہوں گے۔ ایسے باغات ہوں گے جو ان کے قیام کے لئے ابدی اور دائمی ہوں گے۔ ایسے ہی باغات میں ان کے اقارب و رشتہ دار ، آباء و اولاد ان کے ساتھ ہوں گے ، یعنی ان میں سے وہ جو صالح ہوں گے اور یہ لوگ ان باغات میں اپنی نیکی اور صلاح کی بنیاد پر داخل ہوں لیکن ان کے ساتھ ان کے اکرام کے طور پر ان کے رشتہ دار بھی داخل ہوں گے۔ دوست اور یار بھی وہاں ہوں گے۔ دوست و احباب اور آباء واولاد کا اجتماع ایک محبوب اور لذیذ چیز ہے جس سے جنت کے مزے دو چند ہوں گے۔ اس اجتماع میں جہاں دوست و احباب ہوں گے اور جہاں اعزہ و اقارب ہوں گے ملائکہ کی طرف سے اھلاً و سھلاً اور مبارکباد کے پیغامات ہوں گے اور بیشمار لوگ وہاں آجا رہے ہوں گے۔ یدخلون علیھم من کل باب (13 : 23) ” ہر طرف سے ان پر داخل ہوں گے “ یہاں آکر انداز گفتگو اس طرح ہوجاتا کہ گویا ہم اس منظر کو دیکھ رہے ہیں کہ ہر طرف سے ملائکہ گروہ در گروہ آ رہے ہیں اور مبارک و سلامت ہو رہی ہے۔ سلم علیکم۔۔۔۔۔ الدار (13 : 24) ” تم پر سلامتی ہے ، تم نے دنیا میں جس طرح صبر سے کام لیا اس کی بدولت آج تم اس کے مستحق ہوئے ہو “۔ گویا ایک محفل مسرت ہوگی اور ہر طرف سے خوشیاں ہی خوشیاں ہوں گی اور سلامت و مبارک اور جشن مسرت کی ہلچل برپا ہوگی۔ اور دوسری طرف وہ لوگ ہوں گے جن کی عقل کام نہ کر رہی تھی اس لیے وہ نصیحت نہ پکڑ سکے ، نہ ان میں بصیرت تھی کہ وہ مشکلات راہ حق پر صبر کرتے۔ ان لوگوں کی حالت ہر لحاظ سے عقلمند اور دانشور لوگوں کے برخلاف اور علی العکس ہوگی۔
Ayah 13:25

وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ۙ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 13:25 in the Quran reader

رہے وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو مضبوط باندھ لینے کے بعد توڑ ڈالتے ہیں ، جو ان رابطوں کو کاٹتے ہیں جنہیں اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے ، اور جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ، وہ لعنت کے مستحق ہوں گے اور ان کے لئے آخرت میں بہت برا ٹھکانہ ہے “۔

آیت نمبر 25 یہ اس عہد الست کو توڑتے ہیں جو فطرت انسانی نے ناموس ازلی کی صورت میں اللہ کے ساتھ کیا ہوا ہے اور وہ اس کے بعد تمام وعدوں اور معاہدوں کو توڑتے ہیں۔ اگر ایک انسان عہد الست کو توڑ دے تو گویا وہ ان تمام وعدوں اور عہدوں کا ناقض ہوگا جو اس عہد الست پر قائم ہیں۔ جس شخص کے دل میں خوف خدا نہیں ہے وہ کسی شخص ، کسی عہد اور کسی میثاق کا پاس کیسے کرسکتا ہے ۔ یعنی ایسے شخص بالعموم ان روابط کو توڑتے ہیں جن کے جوڑنے کا حکم اللہ نے دیا ہے۔ اہل عقل و دانش تو صبر کرتے تھے ، نماز قائم کرتے تھے اور اعلانیہ اور پوشیدہ راہ خدا میں انفاق کرتے تھے اور پھر ان کا عمومی رویہ یہ تھا کہ وہ برائی کا جواب نیکی سے دیتے تھے۔ لیکن یہ لوگ فساد فی الارض برپا کرتے ہیں۔ اہل دانش کی جن چیزوں کا اوپر ذکر ہوا ان میں سے کسی ایک کو چھوڑنے سے فساد فی الارض نمودار ہوتا ہے۔ ” وہ لوگ “ وہ جو اللہ سے دور ہیں اور راندۂ درگاہ ہیں ان کے لئے لعنت ہے۔ تکریم و استقبال کے مقابلے میں راندگی ہے اور نعم الدار کے مقابلے میں سوء الدار ہے۔ یہ لوگ اس لیے راندۂ درگاہ ہوئے کہ وہ متاع حیات دنیا میں ہی غرق رہے اور ان کی نظریں آخرت کی دائمی نعمتوں کی طرف نہ اٹھ سکیں۔ حالانکہ رزق کا تعین صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے ، وہی اس میں توسیع بھی کرتا ہے ، وہی رزق میں تنگی بھی کرتا ہے ، یہ سب کام اللہ کے اختیار میں تھا اور کوئی شخص اپنے لیے خود فراخی رزق کا انتظام نہیں کرسکتا تھا کہ اس پر اتراتا۔ اگر یہ لوگ آخرت کے طلبگار ہوتے تو یہ ضروری نہ تھا کہ اللہ ان سے دنیا کی خوشحالی چھین لیتا کیونکہ وہی داتا تھا۔
Ayah 13:26

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ وَ فَرِحُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ۠ Open ayah 13:26 in the Quran reader

” اللہ جس کو چاہتا ہے رزق کی فراخی بخشتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا رزق دیتا ہے۔ یہ لوگ دنیوی زندگی میں مگن ہیں ، حالانکہ دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں ایک متاع قلیل کے سوا کچھ بھی نہیں۔

آیت نمبر 26 اس سے قبل اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا تھا۔ ایک شخص اس حقیقت کو جانتا ہے اور مانتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر جو سچائی نازل ہو رہی ہے ، وہ حق ہے ، وہی دانشمند اور عقلمند ہے اور جو نہیں جانتا وہ اعمیٰ ہے۔ اب یہاں اہل کفر کی کم عقلی اور اندھے پن کی کچھ مثالیں دی جاتی ہیں کہ یہ لوگ اس کائنات میں اللہ کی آیات و نشانات کو نہیں دیکھ پا رہے۔ دانشوروں کے لئے یہ تو قرآن ہی کافی معجزہ ہے لیکن عقل کے یہ کورے قرآن سے بھی بڑا کوئی معجزہ طلب کرتے ہیں۔ سورة کے پہلے حصے میں ان کے مطالبات کا ذکر ہوچکا ہے اور وہاں یہ جواب بھی دے دیا گیا تھا کہ رسول تو صرف ڈرانے والا ہے اور معجزات کا صدور اللہ کے اختیار میں ہے۔ یہاں ایسے ہی مطالبات کو پھر دہرا کر بتایا جاتا ہے کہ ضلالت و ہدایت کے اسباب کیا ہوتے ہیں ۔ پھر ان دلوں کا ذکر کیا جاتا ہے جو اللہ کے ذکر ہی سے مطمئن ہوجاتے ہیں اور وہ اس قرآن اور ذکر الٰہی سے آگے مزید خوارق عادت معجزات کا مطالبہ نہیں کرتے۔ یہ قرآن اپنی جگہ گہری اثر آفرینی کا حامل ہے یہاں تک کہ اسے سن کر قریب ہے کہ پہاڑ چل پڑیں اور قریب ہے کہ زمین پھٹ پڑے اور قریب ہے کہ مردے بھی اس کی حقانیت کے نعرے لگانے لگ جائیں کیونکہ اس قرآن میں بےپناہ قوت ، مادہ حیات اور انقلابی اسپرٹ ہے۔ آخر میں مومنین کو یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ ان لوگوں سے مایوس ہوجائیں جو معجزات طلب کرتے ہیں اور انسانی تاریخ میں ان لوگوں کے رویہ کا مطالعہ کریں جنہوں نے اچھی مثالیں چھوڑی ہیں اور پھر ان لوگوں کی حالت کو بھی دیکھیں جو ان جیسے تھے اور جو اللہ کے عذاب میں گرفتار ہوئے۔
Ayahs 13:27–32

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ اَنَابَۖۚ Open ayah 13:27 in the Quran reader

” یہ لوگ جنہوں نے (رسالت محمدی ﷺ کو ماننے سے ) انکار کردیا ہے ، کہتے ہیں : ” اس شخص پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتری “۔۔۔ کہواللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اسی کو دکھاتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرے۔

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَئِنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُؕ Open ayah 13:28 in the Quran reader

ایسے ہی لوگ ہیں جنہوں نے (اس نبی ﷺ کی دعوت کو) مان لیا ہے اور ان کے دلوں کو اللہ کی یاد سے اطمینان نصیب ہوتا ہے۔

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰى لَهُمْ وَ حُسْنُ مَاٰبٍ Open ayah 13:29 in the Quran reader

خبردار رہو ! اللہ کی یاد ہی وہ چیز ہے جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوا کرتا ہے۔ پھر جن لوگوں نے دعوت حق کو مانا اور نیک عمل کئے وہ خوش نصیب ہیں اور ان کے لئے اچھا انجام ہے۔ “

كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِیْۤ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَاۤ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَاۡ عَلَیْهِمُ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ هُمْ یَكْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِ١ؕ قُلْ هُوَ رَبِّیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ مَتَابِ Open ayah 13:30 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ، اسی شان سے ہم نے تم کو رسول بنا کر بھیجا ہے ایک ایسی قوم میں جس سے پہلے بہت سی قومیں گزر چکی ہیں ، تا کہ تم ان لوگوں کو وہ پیغام سناؤ جو ہم نے تم پر نازل کیا ہے۔ اس حال میں کہ یہ اپنے نہایت مہربان خدا کے کافر بنے ہوئے ہیں۔ ان سے کہو کہ وہی میرا رب ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہی میرا طحاو ماویٰ ہے۔

وَ لَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰى١ؕ بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِیْعًا١ؕ اَفَلَمْ یَایْئَسِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا تُصِیْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِیْبًا مِّنْ دَارِهِمْ حَتّٰى یَاْتِیَ وَعْدُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 13:31 in the Quran reader

اور کیا ہوجاتا اگر کوئی ایسا قرآن اتار دیا جاتا جس کے زور سے پہاڑ چلنے لگتے یا زمین شق ہوجاتی ، یا مردے قبروں سے نکل کر بولنے لگتے ؟ (اس طرح کی نشانیاں دکھا دینا کچھ مشکل نہیں ہے ) بلکہ سارا اختیار ہی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ پھر کیا اہل ایمان (ابھی تک کفار کی طلب کے جواب میں کسی نشانی کے ظہور کی آس لگائے بیٹھے ہیں اور وہ یہ جان کر ) مایوس نہیں ہوگئے کہ اگر اللہ چاہتا تو سارے انسانوں کو ہدایت دے دیتا ؟ جن لوگوں نے خدا کے ساتھ کفر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے ان پر ان کے کرتوتوں کی وجہ سے کوئی نہ کوئی آفت آتی ہی رہتی ہے ، یا ان کے گھر کے قریب کہیں نازل ہوتی ہے۔ یہ سلسلہ چلتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آن پورا ہو۔ یقیناً اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَمْلَیْتُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 13:32 in the Quran reader

تم سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کا مذاق اڑایا جا چکا ہے ، مگر میں نے ہمیشہ منکرین کو ڈھیل دی اور آخر کار ان کو پکڑ لیا ، پھر دیکھ لو کہ میری سزا کیسی سخت تھی “۔

آیت نمبر 27 تا 32 ان لوگوں کی تردید کا خلاصہ یہ ہے کہ دلوں کے اندر ایمان پیدا ہونے کا حقیقی سبب وقوع معجزات نہیں ہے۔ ایمان کے داعی اور اسباب خود کسی انسان کے نفس کے اندر موجود ہوتے ہیں اور انسان خود اپنی نفسیاتی کیفیات اور داخلی فطری دواعی کی وجہ سے ایمان لاتا ہے۔ قل ان اللہ۔۔۔۔۔ اناب (13 : 27) ” کہو اللہ جسے چاہتا ہے ، گمراہ کردیتا ہے اور وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اسی کو دکھاتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرے “۔ لہٰذا اللہ صرف ان لوگوں کو ہدایت دیتا ہے جو اس کی طرف میلان رکھتے ہوں اور ان کا یہ میلان اور انابت الی اللہ کا جذبہ ہی ہے جس نے ان کو اہل ایمان بنایا۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ ہوا کہ جو لوگ اللہ کی طرف میلان اور انابت نہیں رکھتے وہی گمراہ ہوتے ہیں ، لہٰذا اللہ بھی ان کو گمراہ کردیتا ہے۔ لہٰذا دلوں کے اندر ہدایت کی استعداد اور پھر طلب ہدایت اور اس راہ میں سعی کرنے سے ہدایت ملتی ہے۔ لیکن جو دل اللہ کی ہدایت کی استعداد ہی سے محروم ہوتے ہیں اور جو اس سمت میں حرکت ہی نہیں کرتے وہ اللہ سے اور ہدایت سے دور ہوجاتے ہیں۔ اس کے بعد مومن دلوں کی ایک نہایت ہی شفاف تصویر کشی کی جاتی ہے۔ یہ تصویر کشی نہایت ہی اطمینان وقرار ، انس و محبت اور مسرت اور بشاشت کے رنگوں میں رنگی ہوئی ہے۔ الذین امنوا وتطمئن قلوبھم بذکر اللہ (13 : 28) ” وہ جنہوں نے نبی کی دعوت کو مان لیا ان کے دلوں کو اللہ کی یاد سے اطمینان نصیب ہوتا ہے “۔ ان کو یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنے رب سے متعلق ہیں۔ وہ اللہ کے جوار رحمت میں ہیں اور اللہ کے ہاں مامون اور محفوظ ہیں۔ وہ تنہائی کی مشکلات سے بھی مطمئن ہوتے ہیں ، راہ حق کی پریشانیوں میں بھی مطمئن ہوتے ہیں۔ اور وہ تخلیق کائنات ، اس کے آغاز اور انجام کے بارے میں بھی شفاف سوچ رکھتے ہیں اس لیے مطمئن ہوتے ہیں ، وہ ہر ظلم ، ہر شر اور ہر زیادتی سے اپنے آپ کو اللہ کی پناہ میں سمجھتے ہیں اس لیے مطمئن ہوتے ہیں الایہ کہ اللہ کی مشیت سے کوئی مصیبت آجائے تو وہ اس پر بھی راضی ہوتے ہیں اور اسے ابتلا سمجھ کر اس پر صبر کرتے ہیں۔ ہدایت ، رزق ، دنیا و آخرت کی پردہ پوشی کے بارے میں بھی ان کو اللہ پر پورا بھروسہ ہوتا ہے اس لیے وہ مطمئن ہوتے ہیں۔ الا بذکر اللہ تطمئن القلوب (13 : 28) ” بیشک اللہ کی یاد ہی وہ چیز ہے جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوا کرتا ہے “۔ اہل ایمان کے دلوں میں اللہ کے ذکر سے جو اطمینان پیدا ہوتا ہے اس کا صحیح علم صرف ان لوگوں کو ہوتا ہے جن کے دلوں میں ایمان کی بشاشت اور مٹھاس پیدا ہوجائے اور ان کو اللہ کا فضل حاصل ہوجاتا ہے ۔ ایسے لوگ اس ایمانی بشاشت اور طمانیت کو محسوس کرتے ہیں لیکن اس کی کیفیات ایسی ہوتی ہیں جن کو الفاظ کے ذریعہ دوسرے لوگوں تک منتقل نہیں کیا جاسکتا۔ خصوصاً ایسے لوگوں تک جن کو یہ معرفت حاصل نہ ہو کیونکہ یہ حقائق الفاظ کی گرفت سے باہر ہوتے ہیں۔ یہ اطمینان دلوں میں سرایت کرتا ہے۔ ان کو سکون اور فرحت دیتا ہے ، ہمت دیتا ہے۔ وہ امن و سلامتی کا شعور پاتے ہیں۔ ایسے اہل معرفت محسوس کرتے ہیں کہ وہ تنہا نہیں ہیں ، ان کو ایک پورا ماحول اپنا دوست اور یار نظر آتا ہے ۔ کیونکہ ان کے اردگرد اللہ کی صنعت کاریاں ہوتی ہیں جبکہ خود صاحب معرفت اللہ ہی کی حمایت میں ہوتا ہے۔ ان لوگوں سے بڑا بد بخت اس روئے زمین پر کوئی نہیں ہے جو تعلق باللہ کی وجہ سے اور ذکر الٰہی کی وجہ سے پیدا ہونے والے انس و محبت سے بیخبر ہوں۔ اس سے بڑا بد بخت کوئی نہیں ہے کہ وہ اس کرۂ ارض کے اوپر چلے پھرے اور اسے اپنے کائناتی ماحول سے کوئی انس و محبت نہ ہو۔ اس سے بڑا کوئی بدبخت نہ ہوگا جو اس دنیا میں چلے پھرے اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس کا مقصد وجود کیا ہے ؟ وہ کیوں آیا ہے اور کدھر جا رہا ہے ؟ اور اس کے اوپر زندگی کا یہ بوجھ کیوں ڈالا گیا ہے ؟ اور اس سے بدبخت اور کون ہوگا جو اس کرۂ ارض پر چلتا پھرتا ہو اور وہ اپنے ماحول کی ہر چیز سے اس لیے بدکتا ہو۔ اسے معلوم ہو کہ اس کے اور ہر چیز کے درمیان ایک نہایت ہی لطیف تعلق ہے ؟ اس سے بدبخت اور کون ہوگا جو سفر حیات طے کر رہا ہے لیکن اکیلا ہے ، راندہ ہے ، گم کردہ راہ ہے اور پہاڑوں اور صحراؤں میں اکیلا پھر رہا ہے اور زندگی کا یہ کٹھن سفر وہ اکیلا بغیر گائیڈ کے ، بغیر انیس سفر کے اور بغیر ہادی و مددگار کے طے کر رہا ہے۔ اور اسے نشان منزل تک معلوم نہیں۔ یاد رکھو ! زندگی کے اس کٹھن سفر میں بعض لمحات ایسے بھی آتے ہیں ، نہایت ہی تاریک گھڑیاں جن کا مقابلہ صرف وہ شخص کرسکتا ہے جو اللہ کا ہوگیا ہو ، جسے اللہ کی حمایت کا بھروسہ ہو ، ورنہ خواہ کوئی کس قدر طاقتور ، بہادر اور مستقل مزاج کیوں نہ ہو زندگی میں بعض ایسی تاریک گھڑیاں آتی ہیں کہ انسان کی تمام قوتیں جواب دے جاتی ہیں۔ آخری سہارا صرف تعلق باللہ کی قوت اور ذکر الٰہی سے حاصل ہوتا ہے۔ الا بذکر اللہ تطمئن القلوب (13 : 28) ” خبردار ! ذکر الٰہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے “۔ یہ لوگ جو اللہ کی طرف جھکنے والے ہیں اور اللہ کے ذکر کی وجہ سے مطمئن ہیں ، اللہ کے ہاں ان کا انجام بہت ہی اچھا ہوگا کیونکہ انہوں نے اچھا طرز عمل اختیار کیا اور وہ اللہ کے مطیع فرمان رہے۔ الذین امنوا۔۔۔۔۔۔ ماب (13 : 29) ” جن لوگوں نے دعوت حق کو قبول کیا اور نیک عمل کئے وہ خوش نصیب ہیں اور ان کے لئے اچھا انجام ہے۔ طوبیٰ طاب یطیب سے ہے بوزن کبریٰ ۔ یہ صیغہ تفخیم اور تعظیم کے لئے آتا ہے یعنی ان کے لئے بہت بڑی خوشخبری ہے۔ ان کا اچھا انجام اس خدا کے ہاں ہوگا جس کے وہ اپنی زندگی میں مطیع فرمان رہے۔ وہ لوگ جو معجزات طلب کرتے ہیں ، ایسے لوگوں کو ایمان اطمینان کا شعور حاصل نہیں ہوتا۔ وہ ذہنی خلجان میں مبتلا ہوتے ہیں اور اپنی اس ذہنی پریشانی کو دور کرنے کے لئے معجزات کا مطالبہ کرتے ہیں اور اے پیغمبر آپ کسی قوم میں آنے والے پہلے رسول نہیں ہیں کہ ان لوگوں کے لئے یہ معاملہ ناقابل فہم ہوگیا ہے۔ اس سے قبل بھی کئی اقوام گزری ہیں اور کئی رسول گزرے ہیں۔ اگر یہ لوگ کفر پر تل گئے ہیں تو آپ اپنے منہاج پر کام کرتے رہیں اور اللہ پر بھروسہ کریں۔ کذلک ارسلنک ۔۔۔۔۔۔ والیہ متاب (13 : 30) ” اے نبی اسی شان سے ہم نے تم رسول بنا کر بھیجا۔ ایک ایسی قوم میں جس سے پہلے بہت سی قومیں گذر چکی ہیں تا کہ تم ان لوگوں کو وہ پیغام سناؤ جو ہم نے تم پر نازل کیا ہے۔ اس حال میں کہ یہ اپنے نہایت ہی مہربان خدا کے کافر بنے ہوئے ہیں۔ ان سے کہو کہ وہی میرا رب ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہی میرا طجا وماویٰ ہے “۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ رحمٰن کا کفر کرتے ہیں جس کی رحمت بہت ہی بڑی ہے۔ جس کے ذکر سے دل مطمئن ہوجاتے ہیں اور اس کی عظیم رحمت کا شعور ان میں پیدا ہوجاتا ہے۔ اے پیغمبر آپ کی ڈیوٹی تو صرف یہ ہے کہ جو وحی آپ کی طرف آتی ہے آپ ان لوگوں کو پڑھ کر سنا دیں۔ آپ کے بھیجنے کا مقصد ہی یہ ہے ۔ اگر وہ کفر کے ارتکاب پر تل گئے ہیں تو اعلان کردیں کہ میرا بھروسہ تو صرف اللہ وحدہ پر ہے اور یہ کہ میں اسی کی طرف لوٹنے والا ہوں اور کسی اور کی طرف پناہ لینے کے لئے مجھے رجوع نہیں کرنا ہے۔ ہم نے آپ کو صرف یہ ڈیوٹی دی ہے کہ آپ قرآن کی دعوت لوگوں تک پہنچا دیں۔ یہ قرآن پڑھیں ، بذاب خود یہ کتاب اور یہ کلام بہت ہی عجائب اپنے اندر رکھتا ہے۔ اگر کسی قرآن کے ذریعہ پہاڑ چلائے جاتے ، یا زمین کے ٹکڑے کر دئیے جاتے ، یا اس کے ذریعہ مردے باتیں کرنے لگتے تو یہ باتین اس قرآن میں بھی ہوتیں اور اس کے ذریعے یہ مذکور معجزات ظہور پذیر ہوتے لیکن قرآن (ہر کتاب الٰہی) تو اس لیے نازل کیا جاتا ہے کہ عوام کو ان کی ڈیوٹیاں اور ان کے فرائض سے آگاہ کیا جائے ۔ اگر یہ مخاطبین اب کفر کرنے پر تل گئے ہیں اور ہرگز مان کر نہیں دیتے تو وقت آگیا ہے کہ مومنین ان سے مایوس ہوجائیں اور ان کو چھوڑ دیں کہ مکذبین کے ساتھ اللہ کا جو سلوک ہوتا ہے وہ آجائے۔ ولو ان قراناً ۔۔۔۔۔۔ یخلف المیعاد (13 : 31) ” اور کیا ہوجاتا اگر کوئی ایسا قرآن اتار دیا جاتا جس کے زور سے پہاڑ چلنے لگتے یا زمین شق ہوجاتی ، یا مردے قبروں سے نکل کر بولنے لگتے ؟ (اس طرح کی نشانیاں دکھا دینا کچھ مشکل نہیں ہے ) بلکہ سارا اختیار ہی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ پھر کیا اہل ایمان (ابھی تک کفار کی طلب کے جواب میں کسی نشانی کے ظہور کی آس لگائے بیٹھے ہیں اور وہ یہ جان کر ) مایوس نہیں ہوگئے کہ اگر اللہ چاہتا تو سارے انسانوں کو ہدایت دے دیتا ؟ جن لوگوں نے خدا کے ساتھ کفر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے ان پر ان کے کرتوتوں کی وجہ سے کوئی نہ کوئی آفت آتی ہی رہتی ہے ، یا ان کے گھر کے قریب کہیں نازل ہوتی ہے۔ یہ سلسلہ چلتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آن پورا ہو۔ یقیناً اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا “۔ حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے قرآن مجید کو قبول کیا اور اس کی کیفیات میں ڈوب گئے اس نے ان کے اندر اس قدر انقلاب برپا کردیا کہ پہاڑوں کے چلائے جانے ، زمین کے شق ہونے اور مردوں کے زندہ ہونے سے وہ بڑا معجزہ تھا۔ ان مذکور معجزات سے بھی ان لوگوں کی زندگیوں میں دور رس تبدیلی ہوئی اور بڑے معجزات رونما ہوئے۔ ان کی زندگی کی قدریں بدل دی گئیں بلکہ اسلام اور مسلمانوں نے خود اس زمین کے چہرے کو بھی بدل کر رکھ دیا اور اسلام اور مسلمانوں نے اس کرۂ ارض کی تاریخ کو بدل کر رکھ دیا۔ اس قرآن کی اثر آفرینی ، اس کی ذات اور طرز ادا میں ، اس کی دعوت اور فلسفے میں اس کے موضوعات کلام اور طرز کلام میں بذات خود ایک بڑا معجزہ ہے۔ اس کے اندر کسی بڑے سے بڑے معجزے کے مقابلے میں بہت بڑی تاثیر ہے۔ اور اس کی اس معجزانہ شان سے وہی شخص واقف ہے جو ان معالی اور فلسفوں اور انداز تعبیر اور اسالیب کلام سے واقف ہو۔ اور ان کو ان چیزوں کے سمجھنے کی ذہنی قوت مدرکہ حاصل ہو۔ جن لوگوں نے اسے سمجھا ، اس پر عمل کیا اور اس کی کیفیات اور اس کے انوار میں ڈوبے انہوں نے پہاڑوں کے چلانے سے بھی بڑے معجزے کر دکھائے۔ قرآن مجید کے اثرات کے نتیجے میں تو اقوام اور نسلوں کے حالات اور سوچ کے دھارے بدل گئے۔ انہوں نے ان چیزوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا جو زمین کے مقابلے میں زیادہ سخت تھیں۔ فکری جمود اور رسم و رواج کا وہ جمود جو قرآن اور مسلمانوں نے توڑا وہ زمین اور پتھروں سے کہیں زیادہ سخت تھا۔ انہوں نے ایسی اقوام کو زندہ کیا جو مردوں سے زیادہ مردہ تھیں۔ زندہ ہو کر بھی مردہ تھیں ، وہ اقوام جن کی روح کو وہم اور گمان نے قتل کردیا تھا۔ وہ بتان وہم و گمان کے پجاری تھے۔ عربوں کے اندر جو انقلاب رونما ہوا ، ان کی زندگی کے اندر جو تبدیلی نمودار ہوئی اور اس میں شک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں یہ کہ انقلاب صرف اور صرف قرآن کی وجہ سے آیا جس نے ان کی زندگی کا منہاج ہی بدل کر رکھ دیا تو کیا یہ انقلاب پہاڑوں کے چلنے ، زمین کے ٹکڑے ہونے اور مردوں کے گویا ہونے سے کوئی کم انقلاب تھا۔ بل للہ الامر جمیعاً (13 : 31) ” بلکہ سارا اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے “۔ وہی ہے ، جو تحریک کی نوعیت کو اختیار کرتا ہے اور وہی ہے جو تحریک کے لئے وسائل اور ذرائع اختیار کرتا ہے۔ اگر اس قرآن کو سن کر بھی کسی قوم کے دلوں میں حرکت اور ولولہ پیدا نہیں ہوتا تو اہل ایمان جو ابھی ایسے دلوں کو حرکت میں لانے کی سعی کر رہے ہیں ان کے لئے مناسب یہی ہے کہ وہ ایسے لوگوں سے مایوس ہوجائیں ۔ ان کے معاملے کو اللہ پر چھوڑ دیں۔ اگر اللہ چاہتا تو تمام لوگوں کے اندر ہدایت کی استعداد پیدا کردیتا۔ اور انسانوں کو بھی اسی طرح ہدایت کی جبلت پر تخلیق کردیتا جس طرح فرشتوں کو اس نے ہدایت پر پیدا کیا ہے۔ یا لوگوں کو مجبور کر کے ہدایت کی راہ پر چلا دیتا لیکن اللہ نے انسانوں کے بارے میں نہ خیر کی اسکیم تیار کی اور نہ فرشتوں جیسی جبلت ان کو دی ۔ کیونکہ اللہ نے انسان کو ایک خاص مقصد کے لئے پیدا کیا ہے اور اللہ کو معلوم تھا کہ انسان اس مقصد کے تقاضے کس طرح پورے کرسکتا ہے۔ لہٰذا چاہئے کہ لوگوں کو اب اللہ کے فیصلوں پر چھوڑ دیا جائے۔ اگر اللہ نے یہ فیصلہ کر رکھا ہے کہ ان اقوام عرب کو اس طرح نیست و نابود نہ کرے گا جس طرح بعض اقوام کو ہلاک کیا گیا تھا تو ان پر کوئی نہ کوئی مصیبت آتی ہی رہتی ہے۔ یا ان کے گھروں کے قریب آتی رہتی ہے ۔ اور یہ لوگ وقتاً فوقتاً اللہ کے عذابوں کا شکار ہوتے رہتے ہیں اور ان میں سے بعض ان مصائب میں ہلاک بھی ہوجاتے ہیں۔ او تحل قریباً من دارھم (13 : 31) ” یا ان کے گھروں کے قریب نازل ہوتی ہے “۔ جس سے وہ خوفزدہ ہوجاتے ہیں اور پھر وہ نہایت ہی قلق اور خوف سے انتظار کرتے ہیں کہ کہیں اس جیسی مصیبت دوبارہ نہ آجائے۔ بعض لوگ نرم بھی ہوجاتے ہیں ، ان میں ایک تحریک پیدا ہوتی ہے اور ان کو حقیقی زندگی مل جاتی ہے۔ حتی یاتیی وعداللہ (13 : 31) ” یقیناً اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا “۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ قیامت آنے والی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے اور ہر شخص اس دن اس انجام سے دوچار ہونے والا ہے جس کا وعدہ اللہ نے کیا ہے۔ اس بات کی مثالیں انسانی تاریخ میں موجود ہیں کہ اللہ مہلت دیتا ہے لیکن مہلت اور انتظار کے بعد اللہ کی پکڑ بھی آجاتی ہے۔ ولقد استھزیء۔۔۔۔۔۔ عقاب (13 : 32) ” اور تم سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کا مذاق اڑایا جا چکا ہے ، مگر میں نے ہمیشہ منکرین کو ڈھیل دی اور آخر کار ان کو پکڑ لیا ، پھر دیکھ لو کہ میری سزا کیسی سخت تھی “ ۔ یہ ایک سوال ہے جس کے جواب کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ وہ عذاب ایسا رہا ہے کہ نسلیں اس کا چرچا کرتی رہیں۔ دوسرا مسئلہ شرکاء کا ہے۔ سورة کے حصہ اول میں بھی اسے چھیڑا گیا تھا۔ یہاں بھی ان بیچارون کا ذکر نہایت ہی حقارت آمیز انداز میں کیا جاتا ہے۔ یہاں اللہ کے ساتھ ان کا تقابل یوں کیا جاتا ہے کہ اللہ تو ہر تنفس پر قائم ہے ۔ وہ ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دنیا میں بھی دیتا ہے اور جو لوگ اللہ پر یہ افتراء باندھتے ہیں کہ اس کے شریک ہیں ان کو اس دنیا میں بھی سزا دی جاتی ہے اور آخرت میں بھی سزا دی جاتی ہے اور آخرت تو بہت ہی شدید ہے۔ جبکہ اہل تقویٰ کے لئے امن و سلامتی انتظار کر رہی ہے۔
Ayahs 13:33–36

اَفَمَنْ هُوَ قَآئِمٌ عَلٰى كُلِّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ۚ وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ قُلْ سَمُّوْهُمْ١ؕ اَمْ تُنَبِّئُوْنَهٗ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی الْاَرْضِ اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ١ؕ بَلْ زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مَكْرُهُمْ وَ صُدُّوْا عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 13:33 in the Quran reader

” پھر کیا وہ جو ایک ایک متنفس کی کمائی پر نظر رکھتا ہے (اس کے مقابلے میں یہ جسارتیں کی جا رہی ہیں کہ ) لوگوں نے اس کے کچھ شریک ٹھہرا رکھے ہیں ؟ اے نبی ؐ ۔۔۔ ان سے کہو (اگر واقعی وہ خدا کے اپنے بنائے ہوئے شریک ہیں تو ) ذرا ان کے نام لو کہ وہ کون ہیں ؟ ۔۔۔ کیا تم اللہ کو ایک نئی بات کی خبر دے رہے ہو ، جسے وہ اپنی زمین میں نہیں جانتا ؟ یا تم لوگ بس یونہی جو منہ میں آتا ہے کہہ ڈالتے ہو ؟ حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے دعوت حق کو ماننے سے انکار کیا ہے ان کے لئے ان کی مکاریاں خوشنما بنا دی گئی ہیں اور وہ راہ راست سے روک دئیے گئے ہیں ، پھر جس کو اللہ گمراہی میں پھینک دے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں ہے ۔

لَهُمْ عَذَابٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَقُّ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 13:34 in the Quran reader

ایسے لوگوں کے لئے دنیا کی زندگی ہی میں عذاب ہے ، اور آخرت کا عذاب اس سے بھی زیادہ سخت ہے۔ کوئی ایسا نہیں جو انہیں خدا سے بچانے والا ہو۔

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اُكُلُهَا دَآئِمٌ وَّ ظِلُّهَا١ؕ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ۖۗ وَّ عُقْبَى الْكٰفِرِیْنَ النَّارُ Open ayah 13:35 in the Quran reader

خدا ترس انسانوں کے لئے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی شان یہ ہے کہ اس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ، اس کے پھل دائمی ہیں اور اس کا سایہ لازوال۔ یہ انجام ہے متقی لوگوں کا۔ اور منکرین حق کا انجام یہ ہے کہ ان کے لئے دوزخ کی آگ ہے “۔

وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ یُّنْكِرُ بَعْضَهٗ١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ وَ لَاۤ اُشْرِكَ بِهٖ١ؕ اِلَیْهِ اَدْعُوْا وَ اِلَیْهِ مَاٰبِ Open ayah 13:36 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ! جن لوگوں کو ہم نے پہلے کتاب دی تھی ، وہ اس کتاب سے جو ہم نے تم پر نازل کی ہے ، خوش ہیں اور مختلف گروہوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کی بعض باتوں کو نہیں مانتے۔ تم صاف کہہ دو کہ ” مجھے تو صرف اللہ کی بندگی کا حکم دیا گیا ہے اور اس سے منع کیا گیا ہے کہ کسی کو اس کے ساتھ شریک ٹھہراؤں ، لہٰذا میں اسی کی طرف دعوت دیتا ہوں اور اسی کی طرف میرا رجوع ہے “۔

آیت نمبر 33 تا 35 اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہر نفس پر نگراں ہے۔ ہر حال میں ہر متنفس اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ کون کیا کر رہا ہے ، ظاہر میں بھی اور چھپے ہوئے بھی۔ لیکن قرآن کا انداز بیان ایسا ہے کہ وہ اس نگرانی اور قبضے کو نہایت ہی مشخص انداز میں پیش کرتا ہے اور یہ قرآن مجید کا انداز کلام ہے کہ وہ معانی اور تصورات کو مشخص انداز میں پیش کرتا ہے۔ یوں کہ سننے والا متاثر ہو کر کانپنے لگتا ہے۔ افمن ھو قائم علی کل نفس بما کسبت (13 : 33) ” پھر کیا وہ جو ایک ایک متنفس کی کمائی کو کھڑے دیکھ رہا ہے “۔ ہر انسان کو ذرا یہ تصور کرلینا چاہئے کہ اس کے اوپر ایک نگران کھڑا ہے ، اسے دیکھ رہا ہے اور اس کا حساب کر رہا ہے ۔ کون ؟ اللہ۔ اب کون ہے جو مارے خوف کے کانپ نہیں اٹھتا جبکہ یہ تصور ہو بھی حقیقت نفس الامری۔ قرآن انسان قوائے مدرکہ کے سامنے اس معنوی مفہوم کو نہایت ہی حسی انداز میں پیش کرتا ہے ، کیونکہ انسان مجرد مفہومات کے مقابلے میں محسوس مناظر سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ جب صورت حالات یہ ہو تو پھر بھی یہ لوگ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں ؟ ان لوگوں کی یہ حرکت اس منظر کی روشنی میں نہایت ہی مکروہ اور گھناؤنی نظر آتی ہے۔ اس منظر کو دیکھنے والا ہر شخص ایسے لوگوں کے رویے پر تعجب کرنے لگتا ہے۔ وجعلوا للہ شرکاء (13 : 33) ” لوگوں نے اللہ کے کچھ شریک بنا رکھے ہیں “۔ حالانکہ اللہ ہر نفس پر نگراں ہے۔ ہر شخص کی کمائی اس کی نظروں میں ہے ، کوئی چیز اللہ سے چھوٹ نہیں سکتی۔ قل سموھم (13 : 33) ” کہو ، ذرا نام لو ان کے “۔ کیونکہ ان شریکوں کے جو نام بولے جاتے ہیں وہ نکرے ہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ بعض بتوں اور شریکوں کے نام بھی ہوں لیکن انداز بیان محض تحکم اور حقارت کے انداز میں ان کو مجہول شخصیات تصور کر کے پوچھتا ہے کہ ذرا ان کے اصل نام تو لو۔ ام تنبئونہ بما لا یعلم فی الارض (13 : 33) ” کیا تم اللہ کو ایک نئی خبر دیتے ہو جسے وہ اپنی زمین میں نہیں جانتا “۔ یہ ان کے ساتھ ایک مذاق ہے یعنی تم انسان ہو کر بھی ایک ایسی خبر رکھتے ہو جس کا علم اللہ کو اپنی مملکت میں نہیں۔ عجیب سوچ ہے یہ تمہاری۔ تم تو جانتے ہو کہ اللہ کے سوا اور الٰہ بھی ہیں اور اللہ کو اس کا پتہ نہیں ؟ جبکہ اس قسم کے دعویٰ کرنے کی جسارت یہ کفار بھی نہ کرتے تھے لیکن لسان الحال سے ان کا دعویٰ یہی تھا کہ اللہ تو پکار پکار کر کہہ رہا تھا کہ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے اور یہ لوگ کہتے تھے کہ فلاں فلاں بھی الٰہ ہیں۔ ام بظاھر من القوم (13 : 33) ” یا تم لوگ بس یونہی جو منہ میں آتا ہے ، کہہ ڈالتے ہو “۔ تم لوگ دوسرے الہوں کے وجود کے قول محض سطحی بات کے طور پر کردیتے ہو اور اس بات کا کوئی مفہوم اور معنی نہیں ہوتا جبکہ مسئلہ الوہیت کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ اس کا فیصلہ محض سطحی باتوں سے ہوجائے اگر گپ شپ میں الوہیت اور توحید و شرک کے مسائل حل ہوجائیں۔ یہاں تک تو مذاقیہ جواب تھا۔ اب سنجیدگی سے اس مسئلہ پر بات کی جاتی ہے۔ بل زین للذین۔۔۔۔۔ من ھاد (13 : 33) ” حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے دعوت حق کو ماننے سے انکار کیا ہے ان کے لئے ان کی مکاریاں خوشنما بنا دی گئی ہیں اور وہ راہ راست سے روک دئیے گئے ہیں ، پھر جس کو اللہ گمراہی میں پھینک دے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں ہے “۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے کفر کیا۔ اپنے آپ سے دلائل ایمان کو چھپایا ، اپنے دل و دماغ کو دلائل ایمان و ہدایت سے مستور رکھا۔ اس لیے ان پر سنت الٰہیہ کا اطلاق برحق ہوگیا۔ ان کے نفوس نے ان کو اس بات پر آمادہ کرلیا کہ وہ حق پر ہیں۔ اور یہ باور کرایا کہ ان کی مکاریاں اور حق کے خلاف ان کی تدابیر بہت اچھی اور کامیاب ہیں۔ اس طرح ان کے اس طرز عمل نے انہیں راہ حق سے روک دیا۔ جس شخص کو اللہ کے سنن ہدایت و ضلالت کے تحت گمراہ قرار دے دیا جائے تو اس کے لئے پھر کوئی بھی ہادی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ جب کوئی فرد یا قوم سنن الٰہیہ کے اسباب فراہم کر دے تو پھر اللہ کی سنت اٹل ہوجاتی ہے۔ اور ایسے لوگوں کا انجام کیا ہوتا ہے ؟ لھم عذاب فی الحیوۃ الدنیا (13 : 34) ” ایسے لوگوں کے لئے دنیا کی زندگی ہی میں عذاب ہے “۔ اگر ان کو کوئی مصیبت آلے یا ان کے گھروں کے قریب ہی کوئی مصیبت نازل ہوجائے تو بھی ان کے لئے عذاب ہے کہ یہ لوگ ہر وقت اس خوف اور قلق میں رہیں گے کہ ابھی یہی مصیبت ہم پر ٹوٹنے والی ہے۔ نیز اگر کسی کا دل ایمان کے لئے خشک ہوجائے اور پتھر بن جائے تو یہ کیا تھوڑا عذاب ہے جبکہ ایسے بےایمان دل ہر وقت حیرت ، پریشانی اور بےچینی کا شکار رہتے ہیں۔ ان کو حادثات پیش آتے رہتے ہیں لیکن وہ نہیں سمجھتے کہ ان پر یہ عذاب کیوں آگیا۔ ولعذاب الاخرۃ اشق (13 : 34) ” اور آخرت کا عذاب اس سے بھی زیادہ سخت ہے “۔ یہاں آخرت کے عذاب کی سختیوں کی تفصیلات نہیں دی جاتیں تا کہ انسان خود اس کے بارے میں سوچ لے۔ وما لھم من اللہ من واق (13 : 34) ” کوئی ایسا نہیں جو انہیں خدا سے بچانے والا ہو۔ اللہ کی پکڑ سے چھڑا سکے اور اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔ ان پر جو عذاب بھی آئے گا وہ اسے جھیلتے رہیں گے۔ دوسری جانب اہل تقویٰ اور اہل ایمان ہیں۔ یہ کفار تو ایسے ہوں گے کہ اللہ کے عذاب سے ان کو بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ متقین وہ ہوں گے جنہوں نے ایمان ، صلاح کے ہتھیار سے اپنے نفوس کو بچایا۔ یہ لوگ عذاب سے مامون اور محفوظ ہوں گے ۔ بلکہ امن و سلامتی کے علاوہ ان کو رہائش کے لئے باغات ملیں گے۔ مثل الجنۃ۔۔۔۔۔ وظلھا (13 : 35) ” خدا ترس انسانوں کے لئے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی شان یہ ہے کہ اس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ، اس کے پھل دائمی ہیں اور اس کا سایہ لازوال “۔ یہ ہے سازو سامان ان کے لئے اور یہ ہے ان کی تفریح اور خوشی۔ یہ منظر کہ گھنی چھاؤں ہے اور باغات ہیں اور ان میں دائمی پھل ہیں ایک نہایت ہی فرحت بخش منظر ہے جبکہ دوسری جانب جہنم کی مشقتیں ہیں۔ یہ عذاب اور یہ حیثیتیں ان لوگوں اور ان لوگوں کا قدرتی انجام ہیں۔ تلک عقبی الذین اتقوا وعقبی الکفرین النار (13 : 35) ” یہ انجام ہے متقی لوگوں کا اور منکرین حق کا انجام یہ ہے کہ ان کے لئے دوزخ کی آگ ہے “۔