9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsتفسیر بیان القرآن

Ayah 9:32

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ یَاْبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَهٗ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 9:32 in the Quran reader

یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو بجھا دیں اپنے منہ (کی پھونکوں) سے اور اللہ کو ہرگز منظور نہیں ہے مگر یہ کہ وہ اپنے نور کا اتمام فرما کر رہے چاہے یہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار گزرے

آیت 32 یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِءُوْا نُوْرَ اللّٰہِ بِاَفْوَاہِہِمْ وَیَاْبَی اللّٰہُ اِلَّآاَنْ یُّتِمَّ نُوْرَہٗ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ اس اسلوب میں یہودیوں پر ایک طرح کا طنز ہے کہ وہ خفیہ سازشوں کے ذریعے سے اس دین کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں اور کبھی علی الاعلان میدان میں آکر مقابلہ کرنے کی جرأت نہیں کرتے۔ اس آیت کی ترجمانی مولانا ظفر علی خان نے اپنے ایک شعر میں اس طرح کی ہے : ؂ نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا !
Ayah 9:33

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ١ۙ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ Open ayah 9:33 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے بھیجا ہے اپنے رسول ﷺ کو الہدیٰ اور دین حق دے کرتا کہ غالب کردے اسے کل کے کل دین (نظام زندگی) پر خواہ یہ مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار گزرے

آیت 33 ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖلا وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ یہ آیت بہت واضح انداز میں محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت کی امتیازی یا تکمیلی شان کا مظہر ہے۔ جیسے کہ پہلے بھی ذکر ہوچکا ہے ‘ حضور ﷺ کی رسالت کا بنیادی مقصد تو دوسرے انبیاء ورسل کی طرح تبشیر ‘ انذار ‘ تذکیر ‘ دعوت اور تبلیغ ہے ‘ جس کا تذکرہ سورة النساء آیت 165 میں بایں الفاظ موجود ہے : رُسُلاً مُّبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ لِءَلاَّ یَکُوْنَ للنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌم بَعْدَ الرُّسُلِ ط لیکن اس کے علاوہ حضور ﷺ کی بعثت کا ایک امتیازی اور خصوصی مقصد بھی ہے اور وہ ہے تکمیل رسالت ‘ یعنی دین کو بالفعل قائم اور غالب کرنا۔ اِن دو آیات میں آپ ﷺ کی رسالت کی اسی تکمیلی شان کا ذکر ہے۔ آیات کا یہ جوڑا بالکل اسی ترتیب سے سورة الصف آیت 8 اور 9 میں بھی آیا ہے۔ ان میں سے پہلی آیت سورة الصف میں تھوڑے سے فرق کے ساتھ آئی ہے : یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِءُوْا نُوْرَ اللّٰہِ بِاَفْوَاہِہِمْ وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ جبکہ دوسری آیت جوں کی توں ہے ‘ اس میں اور سورة التوبہ کی اس آیت میں بالکل کوئی فرق نہیں ہے۔ میں نے اس آیت پر چو بیس صفحات پر مشتمل ایک مقالہ لکھا تھا جو نبی اکرم ﷺ کا مقصد بعثت کے عنوان سے شائع ہوتا ہے۔ اس کتاب میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ حضور ﷺ کی بعثت کے خصوصی یا امتیازی مقصد کی کلی انداز میں تکمیل یعنی دنیا میں دین کو قائم اور غالب کرنے کی جدوجہد ہم سب پر حضور ﷺ کے امتی ہونے کی حیثیت سے فرض ہے۔ اگرچہ بہت سے لوگوں نے اس فرض سے جان چھڑانے کے لیے بھی دلائل دیے ہیں کہ دین کو ہم انسانوں نے نہیں بلکہ اللہ نے غالب کرنا ہے ‘ لیکن اس کتاب کے مطالعے سے آپ پر واضح ہوگا کہ اس فرض سے فرار کا کوئی راستہ نہیں ہے۔
Ayahs 9:34–35

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَ الرُّهْبَانِ لَیَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 9:34 in the Quran reader

اے اہل ایمان یقیناً بہت سے علماء اور درویش ہڑپ کرتے ہیں لوگوں کے مال باطل طریقے سے اور روکتے ہیں لوگوں کو اللہ کے راستے سے اور وہ لوگ جو جمع کرتے ہیں اپنے پاس سونا اور چاندی اور خرچ نہیں کرتے اس کو اللہ کی راہ میں تو ان کو بشارت دے دیجیے درد ناک عذاب کی

یَّوْمَ یُحْمٰى عَلَیْهَا فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَ جُنُوْبُهُمْ وَ ظُهُوْرُهُمْ١ؕ هٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ Open ayah 9:35 in the Quran reader

جس دن ان (سونے اور چاندی) کو تپایا جائے گا جہنم کی آگ میں اور پھر داغا جائے گا ان سے ان کی پیشانیوں ان کے پہلوؤں اور ان کی پیٹھوں کو (اور ساتھ کہا جائے گا) یہ ہے جو تم نے اپنے لیے اکٹھا کیا تھا تو اب چکھو مزا اس کا جو کچھ تم جمع کرتے تھے

آیت 34 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَالرُّہْبَانِ لَیَاْکُلُوْنَ اَمْوَال النَّاس بالْبَاطِلِ مختلف مسلمان امتوں میں مذہبی پیشواؤں کے لیے مختلف نام اور القاب رائج رہے ہیں۔ بنی اسرائیل کے ہاں انہیں احبار اور رہبان کہا جاتا تھا۔ آیت زیر نظر کے مطابق اس طبقے میں اکثریت ایسے لوگوں کی رہی ہے جو باطل اور ناجائز ذرائع سے مال و دولت جمع کرنے اور جائیداد بنانے کے مکروہ دھندے میں ملوث رہے ہیں۔ ایک عام دنیا دار آدمی جائز طریقے سے مال و دولت کماتا ہے یا جائیداد بناتا ہے تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔ مگر ایک ایسا شخص جو دین کی خدمت میں مصروف ہے اور اسی حقیقت سے جانا پہچانا جاتا ہے ‘ اگر وہ بھی مال و دولت جمع کرنے اور جائیداد بنانے میں مشغول ہوجائے ‘ اور مزید یہ کہ دین کو استعمال کرتے ہوئے اور اپنی دینی حیثیت کو نیلام کرتے ہوئے لوگوں کے مال ہڑپ کرنے لگے اور مال و دولت جمع کرنیہی کو اپنا مقصد زندگی بنا لے ‘ تو ایسا انسان آسمان کی چھت کے نیچے بد ترین انسان ہوگا۔ اپنی امت کے علماء کے بارے میں حضور ﷺ کی ایک بہت عبرت انگیز حدیث ہے : عَنْ عَلِیٍّ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : یُوْشِکُ اَنْ یَأْتِیَ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ لَا یَبْقٰی مِنَ الْاِسْلَام الاَّ اسْمُہٗ ‘ وَلَا یَبْقٰی مِنَ الْقُرْآن الاَّ رَسْمُہٗ ‘ مَسَاجِدُھُمْ عَامِرَۃٌ وَھِیَ خَرَابٌ مِنَ الْھُدٰی ‘ عُلَمَاؤُھُمْ شَرٌّ مَنْ تَحْتَ اَدِیْمِ السَّمَاءِ ‘ مِنْ عِنْدِھِمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَۃُ وَفِیْھِمْ تَعُوْدُ 1 حضرت علی رض روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھے اندیشہ ہے کہ لوگوں پر ایک وقت ایسا آئے گا جب اسلام میں سے اس کے نام کے سوا کچھ نہیں بچے گا اور قرآن میں سے اس کے رسم الخط کے سوا کچھ باقی نہیں رہے گا۔ ان کی مسجدیں بہت آباد اور شاندار ہوں گی مگر وہ ہدایت سے خالی ہوں گی۔ ان کے علماء آسمان کی چھت کے نیچے بد ترین مخلوق ہوں گے ‘ فتنہ انہی میں سے برآمد ہوگا اور ان ہی میں لوٹ جائے گا وَیَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط جب کوئی دینی تحریک اٹھتی ہے ‘ کوئی اللہ کا مخلص بندہ لوگوں کو دین کی طرف بلاتا ہے ‘ تو ان مذہبی پیشواؤں کو اپنی مسندیں خطرے میں نظر آتی ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ ان کے عقیدت مند انہیں چھوڑ کر کسی دوسری دعوت کی طرف متوجہ ہوں ‘ کیونکہ انہی عقیدت مندوں کے نذرانوں ہی سے تو ان کے دولت کے انباروں میں اضافہ ہو رہا ہوتا ہے اور ان کی جائیدادیں بن رہی ہوتی ہیں۔ وہ آخر کیونکر چاہیں گے کہ ان کے نام لیوا کسی دوسری دعوت پر لبیک کہیں۔ وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلاَ یُنْفِقُوْنَہَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِلا فَبَشِّرْہُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ اس آیت کے حوالے سے حضرت ابوذر غفاری رض کی ذاتی رائے یہ تھی کہ سونا اور چاندی اپنے پاس رکھنا مطلقاً حرام ہے۔ مگر دوسرے صحابہ کرام رض ‘ حضرت ابوذر غفاری رض کی اس رائے سے متفق نہیں تھے۔ چناچہ دین کا عام قانون اس سلسلے میں یہی ہے کہ اگر کسی نے کوئی مال جائز طریقے سے کمایا ہو اور وہ اس میں سے زکوٰۃ بھی ادا کرتا ہو تو اس مال کو وہ اپنے پاس رکھا سکتا ہے ‘ چاہے اس کی مقدار کتنی ہی زیادہ ہو اور چاہے وہ سونے یا چاندی ہی کی شکل میں ہو۔ ایسا مال ایک شخص کی موت کے بعد اس کے ورثاء کو جائز مال کے طور پر قانون وراثت کے مطابق منتقل بھی ہوگا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ قانون وراثت خود اس بات پر دلیل ہے کہ مال و دولت کو اپنی ملکیت میں رکھنا ناجائز نہیں ہے ‘ کیونکہ اگر مال جمع نہیں ہوگا تو وراثت کس چیز کی ہوگی اور قانون وراثت کا عملاً کیا مقصد رہ جائے گا ؟ اس لحاظ سے قرآن کے وہ احکام روحانی اور اخلاقی تعلیم کے زمرے میں آتے ہیں جن میں بار بار مال خرچ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے اور اس سلسلے میں قُلِ الْعَفْوَ ط البقرۃ : 219 کے الفاظ بھی موجود ہیں۔ یعنی جو بھی زائد از ضرورت ہو اسے اللہ کی راہ میں خرچ کردیا جائے۔ چناچہ حضرت عثمان رض کے دورخلافت میں حضرت ابوذر غفاری رض کی مخالفت کے باوجود قانونی نقطہ نظر سے یہی فیصلہ ہوا تھا کہ سونا ‘ چاندی اپنے پاس رکھنا مطلقاً حرام نہیں ہے ‘ مگر حضرت ابوذر غفاری رض اپنی رائے میں کسی قسم کی لچک پیدا کرنے پر آمادہ نہ ہوئے۔ چونکہ آپ رض کے اختلاف کی شدت کے باعث مدینہ کے ماحول میں ایک اضطرابی کیفیت پیدا ہو رہی تھی ‘ اس لیے حضرت عثمان رض نے آپ رض کو حکم دیا کہ وہ مدینہ سے باہر چلے جائیں۔ اس پر آپ رض مدینہ سے نکل گئے اور صحرا میں ایک چھونپڑی بنا کر اس میں رہنے لگے۔ میرے نزدیک اس آیت کا حکم احبار اور رہبان یعنی مذہبی پیشواؤں کے ساتھ مخصوص ہے۔ اس میں وہ سب لوگ شامل ہیں جنہوں نے اپنا وقت اور اپنی صلاحیتیں دین کی خدمت کے لیے وقف کر رکھی ہیں اور ان کا اپنا کوئی ذریعہ آمدنی نہیں ہے۔ ایسے مذہبی پیشواؤں کو لوگ ہدیے دیتے ہیں اور ان کی مالی معاونت کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی ضروریات زندگی کو پورا کرسکیں۔ جیسے حضور ﷺ خود بیت المال سے اپنی ضروریات پوری کرتے تھے ‘ ازواج مطہرات رض کو نان نفقہ بھی دیتے تھے اور اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ حسن سلوک بھی کرتے تھے ‘ مگر بیت المال سے کچھ میسر نہ ہونے کی صورت میں فاقے بھی کرتے تھے۔ اسی طرح خلفائے راشدین رض کی مثال بھی ہے۔ چناچہ ایسے مذہبی پیشواؤں پر بھی لازم ہے کہ وہ دوسروں کے ہدیے اور وظائف صرف معروف انداز میں اپنی اور اپنے زیر کفالت افراد کی ضروریات زندگی پوری کرنے کے لیے استعمال میں لائیں۔ لیکن اگر یہ لوگ اپنی مذکورہ حیثیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دولت اکٹھی کرنا اور جائیدادیں بنانا شروع کردیں ‘ اور پھر یہ جائیدادیں قانون وراثت کے تحت ان کے ورثاء کو منتقل ہوں تو ایسی صورت میں ان لوگوں پر اس آیت کے احکام کا حرف بہ حرف انطباق ہوگا۔ چناچہ آج بھی اگر آپ علمائے حق اور علمائے سو کے بارے میں معلوم کرنا چاہیں تو میرے نزدیک یہ آیت اس کے لیے ایک طرح کا لٹمس ٹیسٹ litmus test ہے۔ اگر کوئی مذہبی پیشوا یا عالم اپنے دینی کیرئیر کے نتیجے میں جائیدادبنا کر اور اپنے پیچھے دولت چھوڑ کرمرا ہو تو وہ بلاشک و شبہ علمائے سو میں سے ہے۔
Ayah 9:36

اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙ۬ فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِكِیْنَ كَآفَّةً كَمَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ كَآفَّةً١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:36 in the Quran reader

) بیشک اللہ کے ہاں مہینوں کی تعداد بارہ ہے اللہ کے قانون میں جس دن سے اس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ان میں سے چار مہینے محترم ہیں یہی ہے سیدھا دین تو ان کے معاملے میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو اور مشرکین سے سب مل کر جنگ کرو جیسے وہ سب اکٹھے ہو کر تم سے جنگ کرتے ہیں اور جان لو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے

آیت 36 اِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُوْرِ عِنْدَ اللّٰہِ اثْنَا عَشَرَ شَہْرًا فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ اللہ کے قائم کردہ تکوینی نظام اور تشریعی قانون کے تحت مہینوں کی تعداد بارہ مقرر کی گئی ہے۔ مِنْہَآ اَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ ط ان چار مہینوں ذو القعدہ ‘ ذو الحجہ ‘ محرم اور رجب کو اشہر حرم کہتے ہیں اور ان میں جنگ وغیرہ جائز نہیں۔ ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُج فَلاَ تَظْلِمُوْا فِیْہِنَّ اَنْفُسَکُمْ قانون خداوندی کے مطابق یہ چار مہینے شروع سے محترم ہیں ‘ لہٰذا تم لوگ ان مہینوں کے بارے میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو۔ اس میں قریش کے اس رواج کی طرف اشارہ ہے جس کے تحت وہ محترم مہینوں کو اپنی مرضی سے بدلتے رہتے تھے۔ کسی مہم یا لڑائی کے دوران میں اگر کوئی ماہ حرام آجاتا تو اس مہینے کے احترام میں جنگ وجدال بند کرنے کے بجائے وہ اعلان کردیتے کہ اس سال اس مہینے کے بجائے فلاں مہینہ ماہ حرام کے طور پر منایا جائے گا۔ اس طرح انہوں نے پورا کیلنڈر گڈ مڈ کر رکھا تھا۔ لیکن مہینوں کے ادل بدل اور الٹ پھیر سے گزرتے ہوئے قدرت خداوندی سے 10 ہجری میں کیلنڈر واپس اپنی اصلی حالت پر پہنچ گیا تھا۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے اپنے خطبۂ حجۃ الوداع میں فرمایا تھا : اِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ کَھَیْءَتِہٖ یَوْمَ خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ۔۔ 1 یعنی زمانے کی یہ تقویم کیلنڈر پورا چکر لگا کر ساری غلطیوں اور ترامیم میں سے گزرتے ہوئے اب ٹھیک اسی جگہ پر پہنچ گئی ہے جس پر اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تھا۔
Ayah 9:37

اِنَّمَا النَّسِیْٓءُ زِیَادَةٌ فِی الْكُفْرِ یُضَلُّ بِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُحِلُّوْنَهٗ عَامًا وَّ یُحَرِّمُوْنَهٗ عَامًا لِّیُوَاطِئُوْا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ فَیُحِلُّوْا مَا حَرَّمَ اللّٰهُ١ؕ زُیِّنَ لَهُمْ سُوْٓءُ اَعْمَالِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 9:37 in the Quran reader

یہ مہینوں کو ہٹا کر آگے پیچھے کرلینا تو کفر میں ایک اضافہ ہے جس کے ذریعے سے گمراہی میں مبتلا کیے جاتے ہیں وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ایک سال حلال کرلیتے ہیں اس (مہینے) کو اور ایک سال اسے حرام قرار دیتے ہیں تاکہ تعداد پوری کرلیں اس کی جو اللہ نے حرام ٹھہرائے ہیں اور (اس طرح) حلال کرلیتے وہ (مہینہ) جو اللہ نے حرام کیا ہے (اسی طرح) ان کے لیے مزین کردیے گئے ان کے برے اعمال۔ اور اللہ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا

آیت 37 اِنَّمَا النَّسِیْٓءُ زِیَادَۃٌ فِی الْْکُفْرِ یُضَلُّ بِہِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یعنی امن کے مہینوں کو اپنی جگہ سے ہٹا کر آگے پیچھے کردینا کفر میں مزید ایک کافرانہ حرکت ہے۔ یُحِلُّوْنَہٗ عَامًا وَّیُحَرِّمُوْنَہٗ عَامًا لِّیُوَاطِءُوْا عِدَّۃَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ فَیُحِلُّوْا مَا حَرَّمَ اللّٰہُ ط یعنی اس طرح الٹ پھیر کر کے وہ ان مہینوں کو حلال کرلیتے جو اصل میں اللہ نے حرام ٹھہرائے ہیں۔ مشرکین عرب بھی بارہ مہینوں میں سے چار مہینوں کو محترم مانتے تھے مگر اپنی مرضی سے ان مہینوں کو آگے پیچھے کرتے رہتے اور سال کے آخر تک ان کی تعداد پوری کردیتے۔ زُیِّنَ لَہُمْ سُوْٓءُ اَعْمَالِہِمْ ط وَاللّٰہُ لاَ یَہْدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِیْنَ یہاں وہ پانچ رکوع ختم ہوئے جن کا تعلق نبی اکرم ﷺ کی بعثت خصوصی سے ہے۔ ان آیات میں اس سلسلے میں تکمیلی اور آخری احکام دے دیے گئے ہیں۔ اب چھٹے رکوع سے غزوۂ تبوک کے موضوع کا آغاز ہو رہا ہے۔ اس کے پس منظر کے ضمن میں چند باتیں پھر سے ذہن میں تازہ کرلیں۔ سن 6 ہجری میں صلح حدیبیہ کے فوراً بعد رسول اللہ ﷺ نے عرب سے باہر مختلف فرمانرواؤں کی طرف اپنے خطوط اور ایلچی بھیجنے شروع کیے۔ اس سلسلے میں آپ ﷺ کا نامۂ مبارک بصرٰی شام کے رئیس شرحبیل بن عمرو کی طرف بھی بھیجا گیا۔ یہ شخص رومن ایمپائر کا باج گزار تھا۔ اس کے پاس حضور ﷺ کا نامۂ مبارک حضرت حارث بن عمیر ازدی رض لے کر گئے تھے۔ شرحبیل نے تمام اخلاقی و سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے حضرت حارث رض کو شہید کرادیا۔ لہٰذا سفیر کے قتل کو اعلان جنگ سمجھتے ہوئے حضور ﷺ نے تین ہزار صحابہ رض پر مشتمل ایک لشکر تیار کر کے حضرت زید بن حارثہ رض کی زیر قیادت شام کی طرف بھیجا۔ جب یہ لشکر موتہ پہنچا تو انہوں نے ایک لاکھ رومیوں کا لشکر اپنے خلاف صف آرا پایا۔ مخالف لشکر کی تعداد کا اندازہ کرنے کے بعد مسلمانوں میں مقابلہ کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں مشورہ ہوا۔ چناچہ شوق شہادت میں انہوں نے مقابلے کا فیصلہ کیا۔ شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مؤمن نہ مال غنیمت ‘ نہ کشور کشائی ! اقبالؔ جمادی الاولیٰ 8 ہجری کو ان دونوں لشکروں کے درمیان موتہ کے مقام پر جنگ ہوئی۔ مسلمان لشکر کے لیے رسول اللہ ﷺ نے حضرت زید رض بن حارثہ کے علاوہ خصوصی طور پر دو مزید کمانڈر بھی مقررفرمائے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ اگر زید رض شہید ہوجائیں تو جعفر رض بن ابی طالب جعفر طیار رض کمان سنبھالیں گے ‘ اور اگر وہ بھی شہید ہوجائیں تو عبداللہ بن رواحہ انصاری رض لشکر کے امیر ہوں گے۔ چناچہ آپ ﷺ کے مقرر کردہ تینوں کمانڈر اسی ترتیب سے یکے بعد دیگرے شہید ہوگئے۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ رض کی شہادت کے بعد حضرت خالدبن ولید رض نے از خود لشکر کی کمان سنبھالی ‘ اور کامیاب حکمت عملی کے تحت اپنے لشکر کو رومیوں کے نرغے سے نکالنے میں کامیاب ہوگئے۔ جنگ موتہ سے پیدا ہونے والی صورت حال میں حضور ﷺ نے اعلان عام فرمایا کہ رومیوں کے مقابلے کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لاتے ہوئے ایک بڑا لشکر تبوک کے لیے روانہ کیا جائے۔ اس مرتبہ آپ ﷺ نے خود لشکر کے ساتھ جانے کا فیصلہ فرمایا۔ تبوک مدینہ سے شمال کی جانب تقریباً ساڑھے تین سو میل کی مسافت پر حجاز کا آخری شہر ہے۔ یہ وہ علاقہ تھا جہاں سے آگے اس زمانے میں رومن ایمپائر کی سرحد شروع ہوتی تھی۔ غزوۂ تبوک میں شرکت کے لیے آپ ﷺ نے اعلان عام فرمایا تھا۔ یعنی جنگ کے قابل ہر صاحب ایمان شخص کے لیے فرض تھا کہ وہ اس مہم میں شریک ہو۔ یہ اہل ایمان کے لیے سخت امتحان اور آزمائش کا وقت تھا۔ قحط کا زمانہ ‘ شدید گرمی کا موسم ‘ طویل صحرائی سفر ‘ وقت کی سپر پاور سے مقابلہ اور سب پر مستزاد یہ کہ فصل سنبھالنے کا موسم سر پر کھڑا تھا۔ گویا ایک سے بڑھ کر ایک مسئلہ تھا اور ایک سے بڑھ کر ایک امتحان ! مدینہ کے بیشتر لوگوں کی سال بھر کی معیشت کا دارومدار کھجور کی فصل پر تھا ‘ جو اس وقت پک کر تیار کھڑی تھی۔ مہم پر نکلنے کا مطلب یہ تھا کہ پکی ہوئی کھجوروں کو درختوں پر ہی چھوڑ کر جانا ہوگا۔ عورتیں چونکہ کھجوروں کو درختوں سے اتارنے کا مشکل کام نہیں کرسکتی تھیں ‘ اس لیے پکی پکائی فصل ضائع جاتی صاف نظر آرہی تھی۔ دوسری طرف اس مہم کا اعلان منافقین پر بہت بھاری ثابت ہوا اور ان کی ساری خباثتیں اس کی وجہ سے طشت ازبام ہوگئیں۔ چناچہ آئندہ گیارہ رکوعوں کی آیات اپنے اندر اس سلسلے کے چھوٹے بڑے بہت سے موضوعات سمیٹے ہوئے ہیں ‘ مگر دوسرے مضامین کے درمیان میں ایک مضمون جو مسلسل چل رہا ہے وہ منافقین کا تذکرہ ہے۔ گویا یہ مضمون ایک دھاگہ ہے جس میں دوسرے مضامین موتیوں کی طرح پروئے ہوئے ہیں۔ اگرچہ اس سے پہلے سورة النساء میں منافقین کا ذکر بڑی تفصیل سے آچکا ہے ‘ لیکن آئندہ گیارہ رکوع اس موضوع پر قرآن کے ذروۂ سنام کا درجہ رکھتے ہیں۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ تیس ہزار کا لشکر لے کر تبوک تشریف لے گئے۔ مقابل میں اگرچہ ہرقل قیصرروم بنفس نفیس موجود تھا ‘ لیکن شایدوہ پہچان چکا تھا کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں ‘ چناچہ وہ مقابلے میں آنے کی جرأت نہ کرسکا۔ حضور ﷺ نے کچھ عرصہ تبوک میں قیام فرمایا۔ اس دوران میں ارد گرد کے بہت سے قبائل نے آکر آپ ﷺ سے معاہدے کیے۔ اس مہم میں اگرچہ جنگ کی نوبت نہ آئی مگر مسلمان لشکر کا مدینہ سے تبوک جا کر رومن ایمپائر کی سرحدوں پر دستک دینا اور ہرقل کا مقابلہ کرنے کی بجائے کنی کترا جانا ‘ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔ چناچہ نہ صرف اس علاقے میں مسلمانوں کی دھاک بیٹھ گئی بلکہ اسلامی ریاست کی سرحدیں عملی طور پر تبوک تک وسیع ہوگئیں۔ دوسری طرف جنگ موتہ کی وجہ سے مسلمانوں کی ساکھ کو جو نقصان پہنچا تھا اس کی بھر پور انداز میں تلافی ہوگئی۔ سلطنت روم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا یہ سلسلہ جو غزوۂ تبوک کی صورت میں شروع ہوا ‘ اس میں مزید پیش رفت دورصدیقی رض میں ہوئی۔ حضور ﷺ کے وصال کے فوراً بعد مدینہ سے لشکر اسامہ رض کی روانگی بھی اس سلسلے کی ایک اہم کڑی تھی۔
Ayah 9:38

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَا لَكُمْ اِذَا قِیْلَ لَكُمُ انْفِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَى الْاَرْضِ١ؕ اَرَضِیْتُمْ بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا مِنَ الْاٰخِرَةِ١ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 9:38 in the Quran reader

اے ایمان کے دعوے دارو ! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ نکلو اللہ کی راہ میں تو تم دھنسے جاتے ہو زمین کی طرف (سوچو !) کیا تم نے آخرت کی بجائے دنیا کی زندگی کو قبول کرلیا ہے ؟ تو (جان لو کہ) دنیا کی زندگی کا سازو سامان آخرت کے مقابلے میں بہت قلیل ہے

آیت 38 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَا لَکُمْ اِذَا قِیْلَ لَکُمُ انْفِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَی الْاَرْضِ ط اگرچہ یہ وضاحت سورة النساء میں بھی ہوچکی ہے مگر اس نکتے کو دوبارہ ذہن نشین کرلیں کہ قرآن حکیم میں منافقین سے خطاب یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے صیغے میں ہی ہوتا ہے ‘ کیونکہ ایمان کا دعویٰ تو وہ بھی کرتے تھے اور قانونی اور ظاہری طور پر وہ بھی مسلمان تھے۔ اَرَضِیْتُمْ بالْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا مِنَ الْاٰخِرَۃِ ج یہ بھی ایک متجسسانہ سوال searching question ہے۔ یعنی تم دعویدار تو ہو ایمان بالآخرت کے ‘ لیکن اگر تم اللہ کی راہ میں جنگ کے لیے نکلنے کو تیار نہیں ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم آخرت ہاتھ سے دے کر دنیا کے خریدار بننے جا رہے ہو۔ تم آخرت کی نعمتوں کو چھوڑ کر دنیا کی زندگی پر خوش ہو بیٹھے ہو۔
Ayah 9:39

اِلَّا تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ۬ وَّ یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ وَ لَا تَضُرُّوْهُ شَیْئًا١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 9:39 in the Quran reader

اگر تم نہیں نکلو گے (اللہ کی راہ میں تو) وہ تمہیں عذاب دے گا دردناک عذاب اور تمہیں ہٹا کر کسی اور قوم کو لے آئے گا اور تم اس کا کچھ بھی نقصان نہیں کرسکو گے اور اللہ ہرچیز پر قادر ہے

آیت 39 اِلاَّ تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا اَلِیْمًالا وَّیَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَکُمْ وَلاَ تَضُرُّوْہُ شَیْءًا ط اللہ کو تو اپنے دین کا جھنڈا اٹھوانا ہے ‘ اگر تم نہیں اٹھاؤ گے تو تمہیں ہٹا کر اس مقصد کے لیے کسی اور قوم کو آگے لے آئے گا۔
Ayah 9:40

اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا١ۚ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلَیْهِ وَ اَیَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَ جَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِیْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى١ؕ وَ كَلِمَةُ اللّٰهِ هِیَ الْعُلْیَا١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:40 in the Quran reader

اگر تم ان (رسول اللہ ﷺ کی مدد نہیں کرو گے تو (کچھ پروا نہیں) اللہ نے تو اس وقت ان ﷺ کی مدد کی تھی جب کافروں نے ان ﷺ کو (مکہ سے) نکال دیا تھا (اس حال میں کہ) آپ ﷺ دو میں کے دوسرے تھے جب کہ وہ دونوں غار میں تھے جبکہ وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے تو اللہ نے اپنی سکینت نازل فرمائی ان ﷺ پر اور ان ﷺ کی مدد فرمائی ان لشکروں سے جنہیں تم نہیں دیکھتے اور کافروں کی بات کو پست کردیا اور اللہ ہی کا کلمہ سب سے اونچا ہے اور اللہ زبردست ہے حکمت والا ہے

آیت 40 اِلاَّ تَنْصُرُوْہُ فَقَدْ نَصَرَہُ اللّٰہُ اِذْ اَخْرَجَہُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ ہُمَا فِی الْْغَارِ یعنی وہ صرف دو اشخاص تھے ‘ محمد رسول اللہ ﷺ خود اور ابوبکر صدیق رض۔ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ لاَ تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا ج جب حضرت ابوبکر رض نے کہا تھا کہ حضور ﷺ یہ لوگ تو غار کے دہانے تک پہنچ گئے ہیں ‘ اگر کسی نے ذرا بھی نیچے جھانک کر دیکھ لیا تو ہم نظر آجائیں گے ‘ تو حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ غم اور فکر مت کریں ‘ اللہ ہمارے ساتھ ہے ! فَاَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہٗ عَلَیْہِ وَاَیَّدَہٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْہَا وَجَعَلَ کَلِمَۃَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا السُّفْلٰی ط اس واقعے کا نتیجہ یہ نکلا کہ بالآخر کافر زیر ہوگئے اور پورے جزیرہ نمائے عرب کے اندر اللہ کا دین غالب ہوگیا۔
Ayah 9:41

اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا وَّ جَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 9:41 in the Quran reader

نکلو خواہ ہلکے ہو یا بوجھل اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے اموال سے اور اپنی جانوں سے۔ یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو

آیت 41 اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّثِقَالاً یہ جو ہلکے اور بوجھل کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اس سے ان لوگوں کی کیفیت مراد ہے ‘ اور اس کیفیت کے دو پہلو ہوسکتے ہیں۔ ایک پہلو تو داخلی ہے ‘ یعنی بوجھل دل کے ساتھ نکلو یا آمادگی کے ساتھ ‘ اب نکلنا تو پڑے گا ‘ کیونکہ اب بات صرف تحریض و ترغیب تک نہیں رہی ‘ بلکہ جہاد کے لیے نفیر عام ہوچکی ہے ‘ لہٰذا اب اللہ کے رستے میں نکلنا فرض عین ہوچکا ہے۔ اس کا دوسرا پہلو خارجی ہے اور اس پہلو سے مفہوم یہ ہوگا کہ چاہے تمہارے پاس سازو سامان اور اسلحہ وغیرہ کافی ہے تب بھی نکلو اور اگر سازو سامان کم ہے تب بھی۔
Ayah 9:42

لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِیْبًا وَّ سَفَرًا قَاصِدًا لَّاتَّبَعُوْكَ وَ لٰكِنْۢ بَعُدَتْ عَلَیْهِمُ الشُّقَّةُ١ؕ وَ سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ١ۚ یُهْلِكُوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ۠ Open ayah 9:42 in the Quran reader

اگر مال غنیمت قریب ہوتا اور سفر بھی چھوٹا ہوتا تو (اے نبی ﷺ یہ آپ کی پیروی کرتے لیکن ان کو تو بڑی بھاری پڑ رہی ہے دور کی مسافت اور عنقریب یہ لوگ قسمیں کھائیں گے اللہ کی کہ اگر ہمارے اندر استطاعت ہوتی تو ہم ضرور نکلتے تم لوگوں کے ساتھ یہ لوگ اپنے آپ کو ہلاک کر رہے ہیں اور اللہ کو معلوم ہے کہ یہبالکل جھوٹے ہیں

آیت 42 لَوْ کَانَ عَرَضًا قَرِیْبًا وَّسَفَرًا قَاصِدًا لاَّتَّبَعُوْکَ وَلٰکِنْم بَعُدَتْ عَلَیْہِمُ الشُّقَّۃُ ط اگر ان منافقین کو توقع ہوتی کہ مال غنیمت آسانی سے مل جائے گا اور ہدف بھی کہیں قریب ہوتا تو یہ لوگ ضرور آپ ﷺ کا ساتھ دیتے ‘ مگر اب تو حالت یہ ہے کہ تبوک کی مسافت کا سن کر ان کے دل بیٹھے جا رہے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ آپ ﷺ کسی بھی مہم کے ہدف وغیرہ کو ہمیشہ صیغہ راز میں رکھتے تھے۔ جنگ یا مہم کے لیے نکلنا ہوتا تو تیاری کا حکم دے دیا جاتا ‘ مگر یہ نہ بتایا جاتا کہ کہاں جانا ہے اور منصوبہ کیا ہے۔ اسی طرح فتح مکہ کے منصوبہ کو بھی آخر وقت تک خفیہ رکھا گیا تھا۔ مگر غزوۂ تبوک کی تیاری کے حکم کے ساتھ ہی آپ ﷺ نے تمام تفصیلات بھی علی الاعلان سب کو بتادی تھیں کہ لشکر کی منزل مقصود تبوک ہے اور ہمارا ٹکراؤ سلطنت روما سے ہے ‘ تاکہ ہر شخص ہر لحاظ سے اپنا جائزہ لے لے اور داخلی و خارجی دونوں پہلوؤں سے تیاری کرلے۔ سازو سامان بھی مہیا کرلے اور اپنے حوصلے کی بھی جانچ پرکھ کرلے۔ وَسَیَحْلِفُوْنَ باللّٰہِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَکُمْ ج یعنی قسمیں کھا کھا کر بہانے بنائیں گے اور اپنی فرضی مجبوریوں کا رونا روئیں گے۔
Ayah 9:43

عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ١ۚ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ تَعْلَمَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 9:43 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ !) اللہ آپ کو معاف فرمائے (یا اللہ نے آپ کو معاف فرمادیا) آپ نے انہیں کیوں اجازت دے دی ؟ یہاں تک کہ آپ ﷺ کے لیے واضح ہوجاتا کہ کون لوگ سچے ہیں اور آپ ﷺ (یہ بھی) جان لیتے کہ کون جھوٹے ہیں

آیت 43 عَفَا اللّٰہُ عَنْکَ ج لِمَ اَذِنْتَ لَہُمْ یعنی آپ ﷺ کے پاس کوئی منافق آیا اور اپنی کسی مجبوری کا بہانہ بنا کر جہاد سے رخصت چاہی تو آپ ﷺ نے اپنی نرم مزاجی کی وجہ سے اسے اجازت دے دی۔ اب اس شخص کو تو گویا سند مل گئی کہ میں نے حضور ﷺ سے رخصت لی ہے۔ جہاد کے لیے نکلنے کا ارادہ تو اس کا تھا ہی نہیں ‘ مگر اجازت مل جانے سے اس کی منافقت کا پردہ چاک نہیں ہوا۔ اجازت نہ ملتی تو واضح طور پر معلوم ہوجاتا کہ اس نے حضور ﷺ کے حکم کی نافرمانی کی ہے۔ اس طرح کئی منافقین آئے اور اپنی مجبوریوں کا بہانہ بنا کر آپ ﷺ سے رخصت لے گئے۔
Ayah 9:44

لَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:44 in the Quran reader

وہ لوگ جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ آپ ﷺ سے اجازت کے طالب ہو ہی نہیں سکتے کہ وہ جہاد نہ کریں اپنے اموال اور اپنی جانوں کے ساتھ اور اللہ متقی بندوں سے خوب واقف ہے

آیت 44 لاَ یَسْتَاْذِنُکَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ یُّجَاہِدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ ط سچے مؤمن ایسی صورت حال میں ایسا کبھی نہیں کرسکتے کہ وہ جہاد سے معافی کے لیے درخواست کریں ‘ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جہاد فی سبیل اللہ ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ قبل ازیں بیان ہوچکا ہے کہ سورة الحجرات کی آیت 15 میں ایمان کی جو تعریف definition کی گئی ہے اس میں تصدیق قلبی اور جہاد فی سبیل اللہ کو ایمان کے ارکان قرار دیا گیا ہے۔ اس آیت کا ذکر سورة الانفال کی آیت 2 اور آیت 74 کے ضمن میں بھی گزر چکا ہے۔ اس میں جہاد فی سبیل اللہ کو واضح طور پر ایمان کی لازمی شرط قرار دیا گیا ہے۔
Ayah 9:45

اِنَّمَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ ارْتَابَتْ قُلُوْبُهُمْ فَهُمْ فِیْ رَیْبِهِمْ یَتَرَدَّدُوْنَ Open ayah 9:45 in the Quran reader

آپ ﷺ سے رخصت تو وہی مانگ رہے ہیں جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور ان کے دل شکوک میں پڑگئے ہیں اور وہ اپنے اسی شک و شبہ کے اندر متردد ہیں

آیت 45 اِنَّمَا یَسْتَاْذِنُکَ الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَارْتَابَتْ قُلُوْبُہُمْ یہاں سورة الحجرات کی مذکورہ آیت کے الفاظ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا ذہن میں دوبارہ تازہ کرلیجئے کہ مؤمن تو وہی ہیں جو ایمان لانے کے بعد شک میں نہ پڑیں ‘ اور یہاں وارْتَابَتْ قُلُوْبُہُمْ کے الفاظ سے واضح فرما دیا کہ ان منافقین کے دلوں کے اندر تو شکوک و شبہات مستقل طور پر ڈیرے ڈال چکے ہیں۔ فَہُمْ فِیْ رَیْبِہِمْ یَتَرَدَّدُوْنَ اپنے ایمان کے اندر پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کی وجہ سے وہ تذبذب میں پڑے ہوئے ہیں اور جہاد کے لیے نکلنے کے بارے میں فیصلہ نہیں کر پا رہے۔ کبھی ان کو مسلمانوں کے ساتھ چلنے میں مصلحت نظر آتی کہ نہ جانے سے ایمان کا ظاہری بھرم بھی جاتا رہے گا ‘ مگر پھر فوراً ہی مسافت کی مشقت کے تصور سے دل بیٹھ جاتا ‘ دنیوی مفادات کا تصور پاؤں کی بیڑی بن جاتا اور پھر سے جھوٹے بہانے بننے شروع ہوجاتے۔
Ayah 9:46

وَ لَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَهٗ عُدَّةً وَّ لٰكِنْ كَرِهَ اللّٰهُ انْۢبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَ قِیْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِیْنَ Open ayah 9:46 in the Quran reader

اور اگر انہوں نے نکلنے کا ارادہ کیا ہوتا تو اس کے لیے سازو سامان فراہم کرتے لیکن (حقیقت یہ ہے کہ) اللہ نے پسند ہی نہیں کیا ان کا اٹھنا (اور نکلنا) تو ان کو روک دیا اور کہہ دیا گیا کہ بیٹھے رہو تم بھی بیٹھے رہنے والوں کے ساتھ

آیت 46 وَلَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَہٗ عُدَّۃً ایسے طویل اور کٹھن سفر کے لیے بھر پور تیاری کی ضرورت تھی ‘ بہت سا سازوسامان درکار تھا ‘ مگر اس کے لیے ان کا کچھ بھی تیاری نہ کرنا اور ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنا خود ہی ثابت کرتا ہے کہ انہوں نے جانے کا ارادہ تک نہیں کیا۔ وَّلٰکِنْ کَرِہَ اللّٰہُ انْبِعَاثَہُمْ فَثَبَّطَہُمْ وَقِیْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِیْنَ اس فرمان میں جو حکمت تھی اس کی تفصیل اس طرح بیان فرمائی گئی :
Ayah 9:47

لَوْ خَرَجُوْا فِیْكُمْ مَّا زَادُوْكُمْ اِلَّا خَبَالًا وَّ لَاۡاَوْضَعُوْا خِلٰلَكُمْ یَبْغُوْنَكُمُ الْفِتْنَةَ١ۚ وَ فِیْكُمْ سَمّٰعُوْنَ لَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:47 in the Quran reader

اگر یہ نکلتے (اے مسلمانو !) تمہارے ساتھ تو ہرگز اضافہ نہ کرتے تمہارے لیے مگر خرابی ہی کا اور گھوڑے دوڑاتے تمہارے مابین فتنہ پیدا کرنے کے لیے اور تمہارے اندر ان کے جاسوس بھی ہیں۔ اور اللہ ظالموں سے خوب واقف ہے

آیت 47 لَوْ خَرَجُوْا فِیْکُمْ مَّا زَادُوْکُمْ الاَّ خَبَالاً ان کے دلوں میں چونکہ روگ تھا ‘ اس لیے لشکر کے ساتھ جا کر بھی یہ لوگ فتنے ہی اٹھاتے ‘ لڑائی جھگڑا کرانے کی کوشش کرتے اور سازشیں کرتے۔ لہٰذا ان کے بیٹھے رہنے اور سفر میں آپ لوگوں کے ساتھ نہ جا نے میں بھی بہتری پوشیدہ تھی۔ گویا بندۂ مؤمن کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر طرح خیر ہی خیر ہے ‘ جبکہ منافق کے لیے ہر حالت میں شر ہی شر ہے۔ وَّلَا اَوْضَعُوْا خِلٰلَکُمْ یَبْغُوْنَکُمُ الْفِتْنَۃَ ج وَفِیْکُمْ سَمّٰعُوْنَ لَہُمْط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌم بالظّٰلِمِیْنَ اس کا دوسرا ترجمہ یہ ہے کہ تمہارے درمیان ان کی باتیں سننے والے بھی ہیں۔ یعنی تمہارے درمیان ایسے نیک دل اور سادہ لوح مسلمان بھی ہیں جو ان منافقین کے بارے میں حسن ظن رکھتے ہیں۔ ایسے مسلمانوں کے ان منافقین کے ساتھ دوستانہ مراسم بھی ہیں اور وہ ان کی باتوں کو بڑی توجہ سے سنتے ہیں۔ چناچہ اگر یہ منافقین تمہارے ساتھ لشکر میں موجود ہوتے اور کوئی فتنہ اٹھاتے تو عین ممکن تھا کہ تمہارے وہ ساتھی اپنی سادہ لوحی کے باعث ان کے اٹھائے ہوئے فتنے کا شکار ہوجاتے۔
Ayah 9:48

لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ وَ قَلَّبُوْا لَكَ الْاُمُوْرَ حَتّٰى جَآءَ الْحَقُّ وَ ظَهَرَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ Open ayah 9:48 in the Quran reader

یہ پہلے بھی فتنہ اٹھاتے رہے ہیں اور (اے نبی ﷺ !) آپ کے لیے معاملات کو الٹ پلٹ کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں یہاں تک کہ حق آگیا اور اللہ کا امر غالب ہوگیا اور انہیں یہ پسند نہیں تھا

آیت 48 لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَۃَ مِنْ قَبْلُ یاد رہے کہ یہی لفظ فتنہ اس حدیث میں بھی آیا ہے جس کا ذکر علمائے سو کے کردار کے سلسلے میں قبل ازیں آیت 34 کے ضمن میں ہوچکا ہے : عُلَمَاءُ ھُمْ شَرٌّ مَنْ تَحْتَ اَدِیْمِ السَّمَاءِ مِنْ عِنْدِھِمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَہُ وَفِیْھِمْ تَعُوْدُ یعنی ان کے علماء آسمان کے نیچے بدترین لوگ ہوں گے ‘ فتنہ ان ہی میں سے برآمد ہوگا اور ان ہی میں پلٹ جائے گا۔ یعنی وہ آپس میں لڑائی جھگڑوں ‘ فتویٰ پردازیوں اور تفرقہ بازیوں میں مصروف ہوں گے۔ وَقَلَّبُوْا لَکَ الْاُمُوْرَ یہ لوگ اپنی امکانی حدتک کوشش کرتے رہے ہیں کہ آپ ﷺ کے معاملات کو تلپٹ کردیں۔ حَتّٰی جَآءَ الْحَقُّ وَظَہَرَ اَمْرُ اللّٰہِ وَہُمْ کٰرِہُوْنَ یعنی جزیرہ نمائے عرب کی حد تک ان لوگوں کی خواہشوں اور کوششوں کے علی الرغم اللہ کا دین غالب ہوگیا۔
Ayah 9:49

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ ائْذَنْ لِّیْ وَ لَا تَفْتِنِّیْ١ؕ اَلَا فِی الْفِتْنَةِ سَقَطُوْا١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:49 in the Quran reader

اور ان میں سے وہ بھی ہے جو کہتا ہے کہ مجھے رخصت دے دیجیے اور مجھے فتنے میں نہ ڈالیے آگاہ ہوجاؤ فتنے میں تو یہ لوگ پڑچکے اور یقیناً جہنم ان کافروں کا احاطہ کیے ہوئے ہے

آیت 49 وَمِنْہُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ اءْذَنْ لِّیْ وَلاَ تَفْتِنِّیْ ط یہ منافق اور مردود شخص جد بن قیس تھا لعنۃ اللہ علیہ۔ جب رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ تبوک کے لیے تیاری کا اعلان فرمایا تو یہ شخص آپ ﷺ کے پاس حاضر ہوا اور عجیب استہزائیہ انداز میں آپ ﷺ سے رخصت چاہی کہ حضور مجھے تو رہنے ہی دیں ‘ کیونکہ میں حسن پرست قسم کا انسان ہوں اور لشکر جا رہا ہے شام کے علاقے کی طرف ‘ جہاں کی عورتیں بہت حسین ہوتی ہیں۔ میں وہاں کی خوبصورت عورتوں کو دیکھ کر خود پر قابو نہیں رکھ سکوں گا اور فتنہ میں مبتلا ہوجاؤں گا ‘ لہٰذا آپ مجھے اس فتنے میں مت ڈالیں اور مجھے پیچھے ہی رہنے دیں۔ اَلاَ فِی الْْفِتْنَۃِ سَقَطُوْا ط یعنی یہ شخص اور اس کے دوسرے ساتھی تو پہلے ہی بد ترین فتنے کا شکار ہوچکے ہیں جو اس طرح کے بہانے تراشنے کی جسارت کر رہے ہیں۔ ان کا یہ رویہ جس سوچ کی غمازی کر رہا ہے اس سے مزید بڑا فتنہ اور کون سا ہوگا !
Ayah 9:50

اِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْكَ مُصِیْبَةٌ یَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَاۤ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَ یَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 9:50 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ اگر آپ کو کوئی اچھی بات پہنچتی ہے تو انہیں وہ بری لگتی ہے اور اگر آپ ﷺ کو کوئی تکلیف آجاتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم نے تو اپنا معاملہ پہلے ہی درست کرلیا تھا اور وہ لوٹ جاتے ہیں خوشیاں مناتے ہوئے

آیت 50 اِنْ تُصِبْکَ حَسَنَۃٌ تَسُؤْہُمْ ج اگر آپ ﷺ کو کہیں سے کوئی کامیابی ملتی ہے ‘ کوئی اچھی خبر آپ ﷺ کے لیے آتی ہے تو انہیں یہ سب کچھ ناگوار لگتا ہے۔ وَاِنْ تُصِبْکَ مُصِیْبَۃٌ یَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَآ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ کہ ہم کوئی ان لوگوں کی طرح بیوقوف تھوڑے ہیں ‘ ہم نے تو پہلے ہی ان برے حالات سے اپنی حفاظت کا بندوبست کرلیا تھا۔ وَیَتَوَلَّوْا وَّہُمْ فَرِحُوْنَ وہ اس صورت حال میں بڑے شاداں وفرحاں پھرتے ہیں کہ مسلمانوں پر مصیبت آگئی اور ہم بچ گئے۔ اگلی دو آیات معرکہ حق و باطل میں ایک بندۂ مؤمن کے لیے بہت بڑا ہتھیار ہیں۔ اس لیے ہر مسلمان کو یہ دونوں آیات زبانی یاد کر لینی چاہئیں۔
Ayah 9:51

قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَاۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا١ۚ هُوَ مَوْلٰىنَا١ۚ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 9:51 in the Quran reader

آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ ہم پر کوئی مصیبت نہیں آسکتی سوائے اس کے جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دی ہو۔ وہی ہمارا مولا ہے اور اللہ پر ہی توکل کرنا چاہیے اہل ایمان کو

آیت 51 قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَآ اِلاَّ مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَنَاج ہُوَ مَوْلٰٹنَا ج ہم پر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ اللہ ہی کی مرضی اور اجازت سے آتی ہے۔ اس کے اذن کے بغیر کائنات میں ایک پتابھی نہیں ہل سکتا۔ وہ ہمارا کارساز اور پروردگار ہے۔ اگر اس کی مشیت ہو کہ ہمیں کوئی تکلیف آئے تو سر آنکھوں پر ع سر تسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آئے۔ جو اس کی رضا ہو ہم بھی اسی پر راضی ہیں۔ اگر اس کی طرف سے کوئی تکلیف آجائے تو اس میں بھی ہمارے لیے خیر ہے ع ہرچہ ساقئما ریخت عین الطاف است ہمارا ساقی ہمارے پیالے میں جو بھی ڈال دے اس کا لطف وکرم ہی ہے۔ محبوب کی شمشیر سے ذبح ہونا یقیناً بہت بڑے اعزاز کی بات ہے اور یہ اعزاز کسی غیر کے نصیب میں کیوں ہو ‘ جبکہ ہماری گردنیں ہر وقت اس سعادت کے لیے حاضر ہیں : ؂ نہ شود نصیب دشمن کہ شود ہلاک تیغت سردوستاں سلامت کہ تو خنجر آزمائی !
Ayah 9:52

قُلْ هَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحْدَى الْحُسْنَیَیْنِ١ؕ وَ نَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ اَنْ یُّصِیْبَكُمُ اللّٰهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِهٖۤ اَوْ بِاَیْدِیْنَا١ۖ٘ فَتَرَبَّصُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَ Open ayah 9:52 in the Quran reader

(ان سے) کہیے کہ تم ہمارے بارے میں کس شے کا انتظار کرسکتے ہو سوائے دو نہایت عمدہ چیزوں میں سے کسی ایک کے ! اور (اے منافقو !) ہم منتظر ہیں تمہارے بارے میں کہ اللہ تمہیں پہنچائے کوئی عذاب اپنے پاس سے یا ہمارے ہاتھوں تو تم بھی انتظار کرو ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کر رہے ہیں

آیت 52 قُلْ ہَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَآ اِلآَّ اِحْدَی الْحُسْنَیَیْنِ ط الْحُسْنَیَیْنِ ‘ الحُسْنٰیکی تثنیہ ہے ‘ جو اَحْسَن کی مؤنث ہے۔ یہ افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ چناچہ الْحُسْنَیَیْنِ کے معنی ہیں دو نہایت احسن صورتیں۔ جب کوئی بندۂ مؤمن اللہ کے راستے میں کسی مہم پر نکلتا ہے تو اس کے لیے تو دونوں امکانی صورتیں ہی احسن ہیں ‘ اللہ کی راہ میں شہیدہو جائیں تو وہ بھی احسن :r ؂ شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مؤمن نہ مال غنیمت ‘ نہ کشور کشائی ! اقبالؔ اور اگر کامیاب ہو کر آجائیں تو بھی احسن۔ دونوں صورتوں میں کامیابی ہی کامیابی ہے۔ تیسری کوئی صورت تو ہے ہی نہیں۔ لہٰذا ایک بندۂ مؤمن کو خوف کا ہے کا ؟ ؂ جو حق کی خاطر جیتے ہیں مرنے سے کہیں ڈرتے ہیں جگر ؔ جب وقت شہادت آتا ہے دل سینوں میں رقصاں ہوتے ہیں ! وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِکُمْ اَنْ یُّصِیْبَکُمُ اللّٰہُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِہٖٓ اَوْ بِاَیْدِیْنَاز ہمیں بھی تمہارے بارے میں انتظار ہے کہ تمہارے کرتوتوں کے سبب اللہ تعالیٰ تم پر خود کوئی عذاب نازل کر دے یا عین ممکن ہے کہ کبھی ہمیں اجازت دے دی جائے اور ہم تمہاری گردنیں اڑائیں۔
Ayah 9:53

قُلْ اَنْفِقُوْا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا لَّنْ یُّتَقَبَّلَ مِنْكُمْ١ؕ اِنَّكُمْ كُنْتُمْ قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 9:53 in the Quran reader

کہہ دیجئے کہ چاہے خوشی سے خرچ کرو یا مجبوری سے تم سے قبول نہیں کیا جائے گا۔ اس لیے کہ تم نافرمان لوگ ہو

آیت 53 قُلْ اَنْفِقُوْا طَوْعًا اَوْ کَرْہًا لَّنْ یُّتَقَبَّلَ مِنْکُمْ ط اِنَّکُمْ کُنْتُمْ قَوْمًا فٰسِقِیْنَ یہاں منافقین کے ایک دوسرے حربے کا ذکر ہے کہ کچھ مال اسباب چندے کے طور پر لے آئے اور بہانہ بنایا کہ مجھے فلاں فلاں مجبوری ہے ‘ میں خود تو جانے سے معذور ہوں ‘ مجھے رخصت دے دیں اور یہ سازو سامان قبول کرلیں۔ ایسی صورت حال کے جواب میں فرمایا جا رہا ہے کہ اب جبکہ جہاد کے لیے بنفس نفیس نکلنا فرض عین ہے ‘ اس صورت حال میں روپیہ پیسہ اور سازو سامان اس کا بدل نہیں ہوسکتا۔
Ayah 9:54

وَ مَا مَنَعَهُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقٰتُهُمْ اِلَّاۤ اَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ بِرَسُوْلِهٖ وَ لَا یَاْتُوْنَ الصَّلٰوةَ اِلَّا وَ هُمْ كُسَالٰى وَ لَا یُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ Open ayah 9:54 in the Quran reader

اور نہیں مانع ہوئی کوئی چیز کہ ان سے ان کے نفقات (اموال کا خرچ کرنا) کو قبول کیا جاتا مگر یہ کہ انہوں نے کفر کیا ہے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ اور وہ نماز کے لیے نہیں آتے مگر بہت ہی کسل مندی سے اور خرچ نہیں کرتے مگر کراہت کے ساتھ

آیت 54 وَمَا مَنَعَہُمْْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْہُمْ نَفَقٰتُہُمْ الآَّ اَنَّہُمْ کَفَرُوْا باللّٰہِ وَبِرَسُوْلِہٖ وَلاَ یَاْتُوْنَ الصَّلٰوۃَ الاَّ وَہُمْ کُسَالٰی وَلاَ یُنْفِقُوْنَ الاَّ وَہُمْ کٰرِہُوْنَ یعنی اب جو چندہ یہ لوگ پیش کر رہے ہیں وہ تو جان بچانے کے لیے دے رہے ہیں کہ ہم سے سازو سامان لے لیا جائے اور ہمیں اس مہم پر جانے سے معاف رکھا جائے۔
Ayah 9:55

فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:55 in the Quran reader

تو (اے نبی ﷺ !) آپ کو ان کے اموال اور ان کی اولاد سے تعجب نہ ہو اللہ تو چاہتا ہے کہ انہی چیزوں کے ذریعے سے انہیں دنیوی زندگی میں عذاب دے اور ان کی جانیں نکلیں اسی کفر کی حالت میں

آیت 55 فَلاَ تُعْجِبْکَ اَمْوَالُہُمْ وَلآَ اَوْلاَدُہُمْ ط ان کو دیکھ کر آپ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ مال و دولت اور اولاد کی کثرت ان کے لیے اللہ کی بڑی نعمتیں ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں ہے ‘ بلکہ ایسے لوگوں کو تو اللہ ایسی نعمتیں اس لیے دیتا ہے کہ ان کا حساب اسی دنیا میں بےباق ہوجائے اور آخرت میں ان کے لیے کچھ نہ بچے۔ اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض اوقات دنیا کی انہی نعمتوں کو اللہ تعالیٰ انسان کے لیے باعث عذاب بنا دیتا ہے۔ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَہُمْ بِہَا فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے حالات بھی پیدا ہوسکتے ہیں کہ یہی اولاد جس کو انسان بڑے لاڈ پیار اور ارمانوں سے پال پوس کر بڑا کرتا ہے اس کے لیے سوہان روح بن جائے اور یہی مال و دولت جسے وہ جان جوکھوں میں ڈال کر جمع کرتا ہے اس کی جان کا وبال ثابت ہو۔ وَتَزْہَقَ اَنْفُسُہُمْ وَہُمْ کٰفِرُوْنَ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ یہ لوگ دنیا کی زندگی میں اپنی دولت ہی سے لپٹے رہیں اور اپنی اولاد کی محبت میں اس قدر مگن رہیں کہ جیتے جی انہیں آنکھ کھول کر حق کو دیکھنے اور پہچاننے کی فرصت ہی نصیب نہ ہو ‘ اور اسی حالت میں یہ لوگ آخری عذاب کے مستحق بن جائیں۔
Ayah 9:56

وَ یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لٰكِنَّهُمْ قَوْمٌ یَّفْرَقُوْنَ Open ayah 9:56 in the Quran reader

اور وہ قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم بھی آپ لوگوں کے ساتھ ہیں لیکن (اے مسلمانو ! حقیقت میں) یہ لوگ تم میں سے نہیں ہیں بلکہ اصل میں یہ ڈرے ہوئے لوگ ہیں

آیت 56 وَیَحْلِفُوْنَ باللّٰہِ اِنَّہُمْ لَمِنْکُمْ ط ہم بھی مسلمان ہیں ‘ آپ لوگوں کے ساتھی ہیں ‘ ہماری بات کا اعتبار کیجیے۔ وَمَا ہُمْ مِّنْکُمْ وَلٰکِنَّہُمْ قَوْمٌ یَّفْرَقُوْنَ اصل میں یہ لوگ اسلام کے غلبے کے تصور سے خوفزدہ ہیں اور خوف کے مارے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر رہے ہیں۔
Ayah 9:57

لَوْ یَجِدُوْنَ مَلْجَاً اَوْ مَغٰرٰتٍ اَوْ مُدَّخَلًا لَّوَلَّوْا اِلَیْهِ وَ هُمْ یَجْمَحُوْنَ Open ayah 9:57 in the Quran reader

اگر یہ پالیں کہیں کوئی پناہ گاہ یا کوئی غار یا کوئی سر چھپانے کی جگہ تو یہ اس کی طرف بھاگ جائیں اپنی رسیاں تڑاتے ہوئے

آیت 57 لَوْ یَجِدُوْنَ مَلْجَاً اَوْ مَغٰرٰتٍ اَوْ مُدَّخَلاً لَّوَلَّوْا اِلَیْہِ وَہُمْ یَجْمَحُوْنَ جیسے کوئی جانور خوف کے مارے اپنی رسی تڑا کر بھاگتا ہے ‘ اسی طرح کی کیفیت ان پر بھی طاری ہے۔ اس اضطراری کیفیت میں اگر جزیرہ نمائے عرب میں انہیں کہیں بھی کوئی پناہ گاہ مل جاتی یا کسی بھی طرح کا کوئی ٹھکانہ جان بچانے کے لیے نظر آجاتا تو وہ خوف کے مارے یہاں سے بھاگ گئے ہوتے۔
Ayah 9:58

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّلْمِزُكَ فِی الصَّدَقٰتِ١ۚ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْهَا رَضُوْا وَ اِنْ لَّمْ یُعْطَوْا مِنْهَاۤ اِذَا هُمْ یَسْخَطُوْنَ Open ayah 9:58 in the Quran reader

اور (اے نبی ﷺ ان میں سے وہ بھی ہیں جو آپ پر الزام لگاتے ہیں صدقات کے بارے میں تو اگر اس میں سے انہیں (خاطر خواہ) دے دیا جائے تو یہ راضی رہتے ہیں اور اگر اس میں سے انہیں (اس قدر) نہ دیا جائے تو فوراً ناراض ہوجاتے ہیں

آیت 58 وَمِنْہُمْ مَّنْ یَّلْمِزُکَ فِی الصَّدَقٰتِ ج زکوٰۃ و صدقات کا مال رسول اللہ ﷺ خود تقسیم فرماتے تھے۔ ایک دفعہ یوں ہوا کہ مال کی تقسیم کے دوران ایک منافق نے آپ ﷺ کو ٹوک دیا : یَا مُحَمَّدُ اعْدِل اے محمد ﷺ انصاف کے ساتھ تقسیم کیجیے ! اس کی مراد یہ تھی کہ آپ ناانصافی کر رہے ہیں۔ اس پر حضور ﷺ کو غصہ آیا اور آپ ﷺ نے فرمایا : وَیْلَکَ وَمَنْ یَعْدِلُ اِذَا لَمْ اَکُنْ اَعْدِلُ۔۔ 1 تم برباد ہوجاؤ ‘ اگر میں عدل نہیں کروں گا تو اور کون کرے گا ؟
Ayah 9:59

وَ لَوْ اَنَّهُمْ رَضُوْا مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١ۙ وَ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَ رَسُوْلُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِلَى اللّٰهِ رٰغِبُوْنَ۠ Open ayah 9:59 in the Quran reader

اور اگر وہ راضی رہتے اس پر جو کچھ دیا انہیں اللہ نے اور اس کے رسول ﷺ نے اور وہ کہتے کہ اللہ ہمارے لیے کافی ہے عنقریب اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہمیں (پھر بھی) اپنے فضل سے نوازتے رہیں گے یقیناً ہم اللہ کی طرف رغبت کرنے والے ہیں (تو ان کے حق میں بہتر ہوتا)

آیت 59 وَلَوْ اَنَّہُمْ رَضُوْا مَآ اٰتٰٹہُمُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗلا وَقَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰہُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ وَرَسُوْلُہٗٓلا اِنَّآ اِلَی اللّٰہِ رٰغِبُوْنَ اگر ان لوگوں کی سوچ مثبت ہوتی اور وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے بارے میں اچھا گمان رکھتے تو ان کے لیے بہترہوتا۔ اب وہ مشہور آیت آرہی ہے جس میں زکوٰۃ کے مصارف بیان ہوئے ہیں۔
Ayah 9:60

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْعٰمِلِیْنَ عَلَیْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَ فِی الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِیْنَ وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:60 in the Quran reader

صدقات تو بس مفلسوں اور محتاجوں اور عاملین صدقات کے لیے ہیں اور ان کے لیے جن کی تالیف قلوب مطلوب ہو اور گردنوں کے چھڑانے میں اور جن پر تاوان پڑا ہو (ان کے لیے) اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں (کی امداد) میں۔ یہ اللہ کی طرف سے معین ہوگیا ہے۔ اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے

آیت 60 اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَالْمَسٰکِیْنِ وَالْعٰمِلِیْنَ عَلَیْہَا صدقات سے مراد یہاں زکوٰۃ ہے۔ وَالْعٰمِلِیْنَ عَلَیْہَامیں محکمہ زکوٰۃ کے چھوٹے بڑے تمام ملازمین شامل ہیں جو زکوٰۃ اکٹھی کرنے ‘ اس کا حساب رکھنے اور اسے مستحقین میں تقسیم کرنے یا اس محکمہ میں کسی بھی حیثیت میں مامور ہیں ‘ ان سب ملازمین کی تنخواہیں اسی زکوٰۃ میں سے دی جائیں گی۔ وَالْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوْبُہُمْ جب دین کی تحریک اور دعوت چل رہی ہو تو معاشرے کے بعض صاحب حیثیت افراد کی تالیف قلوب کے لیے زکوٰۃ کی رقم استعمال کی جاسکتی ہے تاکہ ایسے لوگوں کو کچھ دے دلا کر ان کی مخالفت کا زور کم کیا جاسکے۔ فقہاء کے نزدیک دین کے غالب ہوجانے کے بعد یہ مد ختم ہوگئی ہے ‘ لیکن اگر پھر کبھی اس قسم کی صورتحال درپیش ہو تو یہ مد پھر سے بحال ہوجائے گی۔ وَفِی الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِیْنَ ایسا مقروض جو قرض کے بوجھ سے نکلنے کی مقدرت نہ رکھتا ہو یا ایسا شخص جس پر کوئی تاوان پڑگیا ہو ‘ ایسے لوگوں کی گلو خلاصی کے لیے زکوٰۃ کی رقم سے مدد کی جاسکتی ہے۔ وَفِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ یعنی اللہ کی راہ میں جہاد میں اور دعوت و اقامت دین کی جدوجہد میں بھی یہ رقم خرچ ہوسکتی ہے۔ لیکن زکوٰۃ اور صدقات کے سلسلے میں یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ پہلی ترجیح کے طور پر اولین مستحقین وہ غرباء ‘ یتامیٰ ‘ مساکین اور بیوائیں ہیں جو واقعی محتاج ہوں۔ البتہ اگر زکوٰۃ کی کچھ رقم ایسے لوگوں کی مدد کے بعد بچ جائے تو وہ دین کے دوسرے کاموں میں صرف کی جاسکتی ہے۔ وَابْنِ السَّبِیْلِط فَرِیْضَۃً مِّنَ اللّٰہِط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ فَرِیْضَۃً مِّنَ اللّٰہِ ط کے الفاظ احکام وراثت کے سلسلے میں سورة النساء کی آیت 11 میں بھی آئے ہیں۔
Ayah 9:61

وَ مِنْهُمُ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ النَّبِیَّ وَ یَقُوْلُوْنَ هُوَ اُذُنٌ١ؕ قُلْ اُذُنُ خَیْرٍ لَّكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ یُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:61 in the Quran reader

اور ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو نبی ﷺ کو ایذا پہنچاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ تو نرے کان ہیں آپ ﷺ کہیے کہ یہ کان تمہاری بہتری کے لیے ہیں وہ یقین رکھتے ہیں اللہ پر اور بات مان لیتے ہیں اہل ایمان کی اور جو تم میں سے واقعی مؤمن ہیں ان کے حق میں رحمت ہیں اور جو ایذا پہنچاتے ہیں اللہ کے رسول ﷺ کو ان کے لیے بڑا درد ناک عذاب ہے

آیت 61 وَمِنْہُمُ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ النَّبِیَّ وَیَقُوْلُوْنَ ہُوَ اُذُنٌ ط یہ تو نرے کان ہی کان ہیں۔ مراد یہ ہے کہ ہر ایک کی بات سن لیتے ہیں اور ہم جو بھی جھوٹا سچا بہانہ بناتے ہیں اسے مان لیتے ہیں ‘ گویا بالکل ہی بےبصیرت ہیں معاذ اللہ ! وہ ایسی باتیں کر کے رسول اللہ ﷺ کی توہین کرتے تھے اور آپ ﷺ کو اذیت پہنچاتے تھے۔ قُلْ اُذُنُ خَیْرٍ لَّکُمْ یُؤْمِنُ باللّٰہِ وَیُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ یہاں پر یُؤْمِنُ کے ساتھ ب اور ل کے استعمال سے معنی کا واضح فرق ملاحظہ ہو۔ آمَنَ ‘ یُؤْمِنُ ’ ب ‘ کے ساتھ ایمان لانے اور ’ ل ‘ کے ساتھ بات ماننے اور یقین کرلینے کے معنی میں آتا ہے۔ یعنی ہمارے رسول ﷺ جانتے ہیں کہ تم جھوٹ بول رہے ہو مگر یہ آپ ﷺ کی شرافت ‘ نجابت اور مروت ہے کہ تمہاری جھوٹی باتیں سن کر بھی تمہیں یہ نہیں کہتے کہ تم جھوٹ بول رہے ہو ‘ اور سب کچھ جانتے ہوئے بھی تمہارا پول نہیں کھولتے۔ یہ تمہاری حماقت کی انتہا ہے کہ تم اپنے زعم میں رسول اللہ ﷺ کو دھوکہ دے رہے ہو۔ تم لوگوں کو اللہ کے رسول ﷺ کی بصیرت کا کچھ بھی اندازہ نہیں ہے۔ آپ ﷺ تو اللہ کے رسول ﷺ ہیں ‘ جبکہ ایک بندۂ مؤمن کی بصیرت کی بھی کیفیت یہ ہے کہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے ‘ ازروئے حدیث نبوی ﷺ : اِتَّقُوْ ا فِرَاسَۃَ الْمُؤْمِنِ فَاِنَّہٗ یَنْظُرُ بِنُوْرِ اللّٰہِ 1
Ayahs 9:62–63

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ لِیُرْضُوْكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْهُ اِنْ كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:62 in the Quran reader

(اے مسلمانو !) یہ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تمہیں راضی کریں اللہ اور اس کا رسول ﷺ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ وہ انہیں راضی کریں اگر وہ واقعتا مؤمن ہیں

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّهٗ مَنْ یُّحَادِدِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاَنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْخِزْیُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:63 in the Quran reader

کیا وہ جانتے نہیں کہ جو کوئی بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا مقابلہ کرے گا تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہے گا۔ یہ بہت بڑی رسوائی ہے

آیت 62 یَحْلِفُوْنَ باللّٰہِ لَکُمْ لِیُرْضُوْکُمْ ج اس مہم کی تیاری کے دوران منافقین کا طریقہ کار یہ تھا کہ وہ جھوٹے بہانے بنا کر رسول اللہ ﷺ سے رخصت لے لیتے ‘ اور پھر قسمیں کھا کھا کر مسلمانوں کو بھی یقین دلانے کی کوشش کرتے کہ ہم آپ کے مخلص ساتھی ہیں ‘ آپ لوگ ہم پر شک نہ کریں۔
Ayah 9:64

یَحْذَرُ الْمُنٰفِقُوْنَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَیْهِمْ سُوْرَةٌ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلِ اسْتَهْزِءُوْا١ۚ اِنَّ اللّٰهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُوْنَ Open ayah 9:64 in the Quran reader

یہ منافق ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں مسلمانوں پر کوئی ایسی سورت نازل نہ ہوجائے جو ان کو ہمارے دلوں کی حالت بتادے آپ ﷺ کہیے کہ ابھی تم استہزاء کرتے رہو یقیناً (ایک وقت آئے گا کہ) اللہ ظاہر کر کے رہے گا جس سے تم ڈر رہے ہو

آیت 64 یَحْذَرُ الْمُنٰفِقُوْنَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَیْہِمْ سُوْرَۃٌ تُنَبِّءُہُمْ بِمَا فِیْ قُلُوْبِہِمْ ط ان کے دلوں میں چونکہ چور ہے اس لیے انہیں ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کہیں وحی کے ذریعے ان کے جھوٹ کا پردہ چاک نہ کردیا جائے۔
Ayah 9:65

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُ١ؕ قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ وَ رَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 9:65 in the Quran reader

اور اگر آپ ﷺ ان سے پوچھیں گے تو کہیں گے کہ ہم تو یونہی بات چیت اور دل لگی کر رہے تھے آپ ﷺ کہیے کیا تم اللہ اس کی آیات اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ استہزاء کر رہے تھے ؟

آیت 65 وَلَءِنْ سَاَلْتَہُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا کُنَّا نَخُوْضُ وَنَلْعَبُ ط رسول اللہ ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ یہ منافقین جو آئے دن آپ ﷺ اور مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے رہتے ہیں ‘ اگر آپ ﷺ اس کے بارے میں ان سے باز پرس کریں تو فوراً کہیں گے کہ ہماری گفتگو سنجیدہ نوعیت کی نہیں تھی ‘ ہم تو ویسے ہی ہنسی مذاق اور دل لگی کر رہے تھے۔ قُلْ اَبِاللّٰہِ وَاٰیٰتِہٖ وَرَسُوْلِہٖ کُنْتُمْ تَسْتَہْزِءُ ‘ وْنَ تو کیا اب ع بازی بازی با ریش با با ہم بازی ! کے مصداق اللہ ‘ اس کی آیات اور اس کا رسول ﷺ بھی تمہارے استہزاء اور تمسخر کا تختۂ مشق بنیں گے ؟
Ayah 9:66

لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ١ؕ اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآئِفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَآئِفَةًۢ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 9:66 in the Quran reader

اب بہانے مت بناؤ تم کفر کرچکے ہو اپنے ایمان کے بعد اگر ہم تمہاری ایک جماعت سے درگزر بھی کرلیں گے تو کسی دوسری جماعت کو عذاب بھی دیں گے اس لیے کہ وہ مجرم ہیں

آیت 66 لاَ تَعْتَذِرُوْا قَدْ کَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ ط اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآءِفَۃٍ مِّنْکُمْ نُعَذِّبْ طَآءِفَۃًم بِاَنَّہُمْ کَانُوْا مُجْرِمِیْنَ یعنی اب وہ وقت آرہا ہے کہ تمہیں تمہارے ان کرتوتوں کے سبب سزائیں بھی ملیں گی۔
Ayah 9:67

اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُهُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْكَرِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ وَ یَقْبِضُوْنَ اَیْدِیَهُمْ١ؕ نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِیَهُمْ١ؕ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 9:67 in the Quran reader

منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک دوسرے میں سے ہیں یہ بدی کا حکم دیتے ہیں اور نیکی سے روکتے ہیں اور اپنے ہاتھوں کو بند رکھتے ہیں انہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے (بھی) انہیں نظر انداز کردیا۔ یقیناً یہ منافق ہی نافرمان ہیں

آیت 67 اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَالْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُہُمْ مِّنْم بَعْضٍ 7 ان سب منافقین کا آپس میں گٹھ جوڑ ہے ‘ اندر سے یہ سب ایک ہیں۔ یَاْمُرُوْنَ بالْمُنْکَرِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ یعنی اللہ کے احکام کے خلاف یہ لوگ امر با لمنکر اور نہی عن المعروف کی پالیسی پر عمل کر رہے ہیں۔ دوسروں سے ہمدردی جتا کر انہیں نیکی سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں کہ دیکھو اپنے خون پسینے کی کمائی کواِدھر ادھر مت ضائع کرو ‘ بلکہ اسے اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے سنبھال کر رکھو۔ وَیَقْبِضُوْنَ اَیْدِیَہُمْ ط یعنی اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے۔
Ayah 9:68

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ هِیَ حَسْبُهُمْ١ۚ وَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:68 in the Quran reader

اللہ نے وعدہ کیا ہے ان منافق مردوں منافق عورتوں اور تمام کفار سے جہنم کی آگ کا جس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے بس وہی ان کے لیے کفایت کرے گی۔ اور اللہ نے ان پر لعنت فرما دی ہے اور ان کے لیے عذاب ہے قائم رہنے والا

آیت 68 وَعَدَ اللّٰہُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَالْمُنٰفِقٰتِ وَالْکُفَّارَ نَارَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْہَاط ہِیَ حَسْبُہُمْج وَلَعَنَہُمُ اللّٰہُج وَلَہُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ ایسا عذاب جو ان کو مسلسل دیا جائے گا اور اس کی شدت کبھی کم نہ ہوگی۔
Ayah 9:69

كَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْكُمْ قُوَّةً وَّ اَكْثَرَ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ؕ فَاسْتَمْتَعُوْا بِخَلَاقِهِمْ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِخَلَاقِكُمْ كَمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِخَلَاقِهِمْ وَ خُضْتُمْ كَالَّذِیْ خَاضُوْا١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 9:69 in the Quran reader

(تم منافق لوگ) ان لوگوں کی مانند ہو جو تم سے پہلے تھے وہ تم سے کہیں بڑھ کر تھے طاقت میں اور کہیں زیادہ تھے مال اور اولاد میں تو انہوں نے اپنے حصے سے فائدہ اٹھا لیا اور اب تم نے بھی اپنے حصے سے فائدہ اٹھا لیا ہے جیسے کہ ان لوگوں نے اپنے حصے کا فائدہ اٹھایا تھا جو تم سے پہلے تھے اور ویسی ہی بحثوں میں تم بھی پڑے جیسی بحثوں میں وہ پڑے تھے یہ وہ لوگ ہیں جن کے تمام اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہوگئے۔ اور یہی لوگ ہیں خسارے میں رہنے والے

آیت 69 کَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ کَانُوْٓا اَشَدَّ مِنْکُمْ قُوَّۃً وَّاَکْثَرَ اَمْوَالاً وَّاَوْلاَدًا ط تم سے پہلے جو کافر قومیں گزری ہیں ‘ مثلا قوم عاد ‘ قوم ثمودوغیرہ وہ طاقت ‘ مال و دولت اور تعداد کے لحاظ سے تم سے بہت بڑھ کر تھیں۔ فَاسْتَمْتَعُوْا بِخَلَاقِہِمْ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِخَلاَقِکُمْ یعنی تمہاری مدت مہلت ختم ہونے کو ہے ‘ اب تم لوگ بہت جلد اپنے انجام کو پہنچنے والے ہو۔ کَمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ بِخَلاَقِہِمْ وَخُضْتُمْ کَالَّذِیْ خَاضُوْا ط تم نے بھی اسی طرح کی روش اختیار کی جیسی انہوں نے اختیار کی تھی۔
Ayahs 9:70–71

اَلَمْ یَاْتِهِمْ نَبَاُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۙ۬ وَ قَوْمِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اَصْحٰبِ مَدْیَنَ وَ الْمُؤْتَفِكٰتِ١ؕ اَتَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 9:70 in the Quran reader

کیا ان کے پاس ان لوگوں کی خبریں نہیں آچکی ہیں جو ان سے پہلے تھے ؟ قوم نوح ؑ عاد ثمود اور قوم ابراہیم ؑ اور مدین کے لوگوں اور ان بستیوں کی (خبریں) جو الٹ دی گئیں ان کے پاس آئے ان کے رسول واضح نشانیاں (یا احکام) لے کر۔ پس اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہیں تھا بلکہ وہ اپنے اوپر خود ہی ظلم ڈھاتے رہے

وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ یُطِیْعُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَیَرْحَمُهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:71 in the Quran reader

اور ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں یہ سب ایک دوسرے کے ساتھی ہیں وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں بدی سے روکتے ہیں نماز قائم کرتے ہیں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ رحمت فرمائے گا۔ یقیناً اللہ زبردست حکمت والا ہے

آیت 70 اَلَمْ یَاْتِہِمْ نَبَاُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوْدَلا وَقَوْمِ اِبْرٰہِیْمَ یہ قرآن مجید کا واحد مقام ہے جہاں قوم ابراہیم علیہ السلام کا تذکرہ اس انداز میں آیا ہے کہ شاید آپ علیہ السلام کی قوم پر بھی عذاب آیا ہو ‘ لیکن واضح طور پر ایسے کسی عذاب کا ذکر پورے قرآن میں کہیں نہیں ہے۔