Ayah 8:73آیت 73 وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ ط۔
عرب کے قبائلی معاشرے میں باہمی معاہدوں اور ولایت کا معاملہ بہت اہم ہوتا تھا۔ ایسے معاہدوں کی تمام ذمہ داریوں کو بڑی سنجیدگی سے نبھایا جاتا تھا۔ مثلاً اگر کسی شخص پر کسی قسم کا تاوان پڑجاتا تھا تو اس کے ولی اور حلیف اس کے تاوان کی رقم پوری کرنے کے لیے پوری ذمہ داری سے اپنا اپنا حصہ ڈالتے تھے۔ ولایت کی اہمیت کے پیش نظر اس کی شرائط اور حدود واضح طور پر بتادی گئیں کہ کفار باہم ایک دوسرے کے حلیف ہیں ‘ جب کہ اہل ایمان کا رشتۂ ولایت آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ہے۔ لیکن وہ مسلمان جنہوں نے ہجرت نہیں کی ‘ ان کا اہل ایمان کے ساتھ ولایت کا کوئی رشتہ نہیں۔ البتہ اگر ایسے مسلمان مدد کے طلب گار ہوں تو اہل ایمان ضرور ان کی مدد کریں ‘ بشرطیکہ یہ مدد کسی ایسے قبیلے کے خلاف نہ ہو جن کا مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ ہوچکا ہے۔
اِلاَّ تَفْعَلُوْہُ تَکُنْ فِتْنَۃٌ فِی الْاَرْضِ وَفَسَادٌ کَبِیْرٌ ۔
تم لوگوں کا ہر کام قواعد و ضوابط کے مطابق ہونا چاہیے۔ فرض کریں کہ مکہ میں ایک مسلمان ہے ‘ وہ مدینہ کے مسلمانوں کو خط لکھتا ہے کہ مجھے یہاں سخت اذیت پہنچائی جا رہی ہے ‘ آپ لوگ میری مدد کریں۔ دوسری طرف اس کے قبیلے کا مسلمانوں کے ساتھ صلح اور امن کا معاہدہ ہے۔ اب یہ نہیں ہوسکتا کہ مسلمان اپنے اس بھائی کی مدد کے لیے اس کے قبیلے پر چڑھ دوڑیں ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی بھی قسم کی وعدہ خلافی اور ناانصافی کو پسند نہیں کرتا۔ اس مسلمان کو دوسرے تمام مسلمان کی طرح ہجرت کرکے دارالاسلام پہنچنا چاہیے اور اگر وہ ہجرت نہیں کرسکتا تو پھر وہاں جیسے بھی حالات ہوں اسے چاہیے کہ انہیں برداشت کرے۔ چناچہ واضح انداز میں فرمایا دیا گیا کہ اگر تم ان معاملات میں قوانین و ضوابط کی پاسداری نہیں کرو گے تو زمین میں فتنہ و فساد برپا ہوجائے گا۔ اب وہ آیت آرہی ہے جس کا ذکر سورة کے آغاز میں پرکار compass کی تشبیہہ کے حوالے سے ہوا تھا۔
Ayah 8:74آیت 74 وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَہَاجَرُوْا وَجٰہَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوْٓا اُولٰٓءِکَ ہُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّاط لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّرِزْقٌ کَرِیْمٌ
یہاں پر مہاجرین اور انصار کے ان دونوں گروہوں کا اکٹھے ذکر کر کے ان مؤمنین صادقین کی خصوصیات کے حوالے سے ایک حقیقی مؤمن کی تعریف definition کے دوسرے رخ کی جھلک دکھائی گئی ہے ‘ جبکہ اس کے پہلے حصے یا رخ کے بارے میں ہم اسی سورت کی آیت 2 اور 3 میں پڑھ آئے ہیں۔ لہٰذا آگے بڑھنے سے پہلے مذکورہ آیات کے مضمون کو ایک دفعہ پھر ذہن میں تازہ کرلیجئے۔
اس تفصیل کا خلاصہ یہ ہے کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے بُنِیَ الْاِسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ۔۔ ‘ یعنی کلمۂ شہادت ‘ نماز ‘ روزہ ‘ حج اور زکوٰۃ۔ یہ پانچ ارکان مسلمان ہونے کے لیے ضروری ہیں ‘ لیکن حقیقی مؤمن ہونے کے لیے ان میں دو چیزوں کا مزید اضافہ ہوگا ‘ جن کا ذکر ہمیں سورة الحجرات کی آیت 15 میں ملتا ہے : یقین قلبی اور جہاد فی سبیل اللہ۔ یعنی ایمان میں زبان کی شہادت کے ساتھ یقین قلبیکا اضافہ ہوگا اور اعمال میں نماز ‘ روزہ ‘ حج اور زکوٰۃ کے ساتھ جہاد فی سبیل اللہ کا۔ گویا یہ سات چیزیں یا سات شرطیں پوری ہوں گی تو ایک شخص بندۂ مؤمن کہلائے گا۔ اس بندۂ مؤمن کی شخصیت کا جو نقشہ اس سورت کی آیت 2 اور 3 میں دیا گیا ہے اس کے مطابق اس کے دل میں یقین والا ایمان ہے ‘ اللہ کی یاد سے اس کا دل لرز اٹھتا ہے ‘ آیات قرآنی پڑھتا ہے یا سنتا ہے تو دل میں ایمان بڑھ جاتا ہے۔ وہ ہر معاملے میں اللہ کی ذات پر پورا بھروسہ رکھتا ہے ‘ نماز قائم کرتا ہے ‘ زکوٰۃ ادا کرتا ہے اور اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔ اِن خصوصیات کے ساتھ اُولٰٓءِکَ ہُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا ط کی مہر لگا دی گئی اور اس مہر کے ساتھ وہاں پر آیت 4 مؤمن کی شخصیت کا ایک رخ یا ایک صفحہ مکمل ہوگیا۔
اب بندۂ مؤمن کی شخصیت کا دوسرا صفحہ یا رخ آیت زیر نظر میں یوں بیان ہوا ہے کہ جہاد فی سبیل اللہ لازمی شرط کے طور پر اس میں شامل کردیا گیا اور پھر اس پر بھی وہی مہر ثبت کی گئی ہے : اُولٰٓءِکَ ہُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا ط چناچہ یہ دونوں رخ مل کر بندۂ مؤمن کی تصویر مکمل ہوگئی۔ ایک شخصیت کی تصویر کے یہ دو رخ ایسے ہیں جن کو الگ الگ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ دو صفحے ہیں جن سے مل کر ایک ورق بنتا ہے۔ صحابہ کرام رض کی شخصیتوں کے اندر یہ دونوں رخ ایک ساتھ پائے جاتے تھے ‘ مگر جیسے جیسے امت زوال پذیر ہوئی ‘ بندۂ مؤمن کی شخصیت کی خصوصیات کے بھی حصے بخرے کردیے گئے۔ بقول علامہ اقبالؔ :
اڑائے کچھ ورق لالے نے ‘ کچھ نرگس نے ‘ کچھ گل نے
چمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میری
آج مسلمانوں کی مجموعی حالت یہ ہے کہ اگر کچھ حلقے ذکر کے لیے مخصوص ہیں تو ان کو جہاد اور فلسفۂ جہاد سے کوئی سروکار نہیں۔ دوسری طرف جہادی تحریکیں ہیں تو ان کو روحانی کیفیات سے شناسائی نہیں۔ لہٰذا آج امت کے دکھوں کے مداوا کرنے کے لیے ایسے اہل ایمان کی ضرورت ہے جن کی شخصیات میں یہ دونوں رنگ اکٹھے ایک ساتھ جلوہ گر ہوں۔ جب تک مؤمنین صادقین کی ایسی شخصیات وجود میں نہیں آئیں گی ‘ جن میں صحابہ کرام رض کی طرح دونوں پہلوؤں میں توازن ہو ‘ اس وقت تک مسلمان امت کی بگڑی تقدیر نہیں سنور سکتی۔ اگرچہ صحابہ کرام رض جیسی کیفیات کا پیدا ہونا تو آج نا ممکنات میں سے ہے ‘ لیکن کسی نہ کسی حد تک ان ہستیوں کا عکس اپنی شخصیات میں پیدا کرنے اور ایک ہی شخصیت کے اندر ان دونوں خصوصیات کا کچھ نہ کچھ توازن پیدا کرنے کی کوشش تو کی جاسکتی ہے۔ مثلاً ان میں سے ایک کیفیت ایک شخصیت کے اندر 25 فیصد ہو اور دوسری کیفیت بھی 25 فیصد کے لگ بھگ ہو تو قابل قبول ہے۔ اور اگر ایسا ہو کہ روحانی کیفیت تو 70 فیصد ہو مگر جہاد فی سبیل اللہ کا جذبہ صفر ہے یا جہاد کا جذبہ تو 80 فیصد ہے مگر روحانیت کہیں ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی تو ایسی شخصیت نظریاتی لحاظ سے غیر متوازن ہوگی۔ بہر حال ایک بندۂ مؤمن کی شخصیت کی تکمیل کے لیے یہ دونوں رخ ناگزیر ہیں۔ ان کو اکٹھا کرنے اور ایک شخصیت میں توازن کے ساتھ جمع کرنے کی آج کے دور میں سخت ضرورت ہے۔
Ayah 8:75آیت 75 وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْم بَعْدُ وَہَاجَرُوْا وَجٰہَدُوْا مَعَکُمْ فَاُولٰٓءِکَ مِنْکُمْ ط۔
وہ تمہاری جماعت ‘ اسی امت اور حزب اللہ کا حصہ ہیں۔
وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُہُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ ط
یعنی شریعت کے قوانین میں خون کے رشتے مقدم رکھے گئے ہیں۔ مثلاً وراثت کا قانون خون کے رشتوں کو بنیاد بنا کر ترتیب دیا گیا ہے۔ اسی طرح شریعت کے تمام قواعد و ضوابط میں رحمی رشتوں کی اپنی ایک ترجیحی حیثیت ہے۔ خونی رشتوں کی ان قانونی ترجیحات کو بھائی چارے اور ولایت کے تعلقات کے ساتھ گڈ مڈ نہ کیا جائے۔
اِنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ ۔
بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ‘ ونفعنی وایاکم بالآیات والذکر الحکیم۔