5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفسیر بیان القرآن

Ayah 5:106

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا شَهَادَةُ بَیْنِكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِیْنَ الْوَصِیَّةِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَیْرِكُمْ اِنْ اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَاَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةُ الْمَوْتِ١ؕ تَحْبِسُوْنَهُمَا مِنْۢ بَعْدِ الصَّلٰوةِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ اِنِ ارْتَبْتُمْ لَا نَشْتَرِیْ بِهٖ ثَمَنًا وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ۙ وَ لَا نَكْتُمُ شَهَادَةَ١ۙ اللّٰهِ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الْاٰثِمِیْنَ Open ayah 5:106 in the Quran reader

اے اہل ایمان تمہارے درمیان شہادت (کا نصاب) ہے جبکہ تم میں سے کسی کو موت آجائے اور وہ وصیّت کر رہا ہو تو تم میں سے دو معتبر اشخاص (بطور گواہ) موجود ہوں تم ان دونوں گواہوں کو نماز کے بعد (مسجد میں) روک لو پھر وہ دونوں اللہ کی قسم کھائیں اگر تمہیں شک ہو اور نہ ہم چھپائیں گے اللہ کی گواہی کو اگر ہم ایسا کریں تو یقیناً ہم گنہگاروں میں شمار ہوں گے

آیت 106 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا شَہَادَۃُ بَیْنِکُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ حِیْنَ الْوَصِیَّۃِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْکُمْ یعنی موت سے قبل وصیت کے وقت اپنے لوگوں میں سے دو گواہ مرد مقرر کرلو۔ واضح رہے کہ وصیت کل ترکے کے ایک تہائی حصے سے زیادہ کی نہیں ہوسکتی۔ اگر جائیداد زیادہ ہے تو اس کا ایک تہائی حصہ بھی خاصا زیادہ ہوسکتا ہے۔ ُ اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَیْرِکُمْ اِنْ اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَاَصَابَتْکُمْ مُّصِیْبَۃُ الْمَوْتِ ط یا دوسرے دو آدمی تمہارے غیروں میں سے اگر تم زمین میں سفر پر نکلے ہوئے ہو اور حالت سفر میں تمہیں موت کی مصیبت پیش آجائے۔ یعنی حالت سفر میں اگر کسی کی موت کا وقت آپہنچے اور وہ وصیت کرنا چاہتا ہو تو ایسی صورت میں گواہان غیر قوم ‘ کسی دوسری بستی ‘ کسی دوسری برادری اور دوسرے قبیلے سے بھی مقرر کیے جاسکتے ہیں ‘ مگر عام حالات میں اپنی بستی ‘ اپنے خاندان میں رہتے ہوئے کوئی شخص انتقال کر رہا ہے تو اسے وصیّت کے وقت اپنے لوگوں ‘ رشتہ داروں اور قرابت داروں میں سے ہی دو معتبر آدمیوں کو گواہ بنانا چاہیے۔ تَحْبِسُوْنَہُمَا مِنْم بَعْدِ الصَّلٰوۃِ یعنی جب وصیت کے بارے میں متعلقہ لوگ پوچھیں اور اس میں کچھ شک کا احتمال ہو تو نماز کے بعد ان دونوں گواہوں کو مسجد میں روک لیا جائے۔ فَیُقْسِمٰنِ باللّٰہِ اِنِ ارْتَبْتُمْ اگر تمہیں ان کے بارے میں کوئی شک ہو کہ کہیں یہ وصیّت کو بدل نہ دیں ‘ کہیں ان سے غلطی نہ ہوجائے تو تم ان سے قسم اٹھوا لو۔ وہ نماز کے بعد مسجد میں حلف کی بنیاد پر شہادت دیں ‘ اور اس طرح کہیں : لاَ نَشْتَرِیْ بِہٖ ثَمَنًا وَّلَوْ کَانَ ذَا قُرْبٰی ہم اس کی کوئی قیمت وصول نہیں کریں گے ‘ اگرچہ کوئی قرابت دار ہی کیوں نہ ہو یعنی ہم اس شہادت سے نہ تو خود کوئی ناجائز فائدہ اٹھائیں گے ‘ نہ کسی کے حق میں کوئی ناانصافی کریں گے اور نہ ہی کسی رشتہ دار عزیز کو کوئی ناجائز فائدہ پہنچائیں گے۔ وَلاَ نَکْتُمُ شَہَادَۃَ اللّٰہِ غور کریں گواہی اتنی عظیم شے ہے کہ اسے شَھَادَۃَ اللّٰہِ ‘ کہا گیا ہے ‘ یعنی اللہ کی گواہی ‘ اللہ کی طرف سے ‘ امانت۔
Ayah 5:107

فَاِنْ عُثِرَ عَلٰۤى اَنَّهُمَا اسْتَحَقَّاۤ اِثْمًا فَاٰخَرٰنِ یَقُوْمٰنِ مَقَامَهُمَا مِنَ الَّذِیْنَ اسْتَحَقَّ عَلَیْهِمُ الْاَوْلَیٰنِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ لَشَهَادَتُنَاۤ اَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَ مَا اعْتَدَیْنَاۤ١ۖ٘ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 5:107 in the Quran reader

پھر اگر معلوم ہوجائے کہ ان دونوں نے (جھوٹ بول کر) گناہ کمایا ہے تو اب دو اور لوگ ان کی جگہ پر کھڑے ہوں ان لوگوں میں سے جن کی حق تلفی کی ہے ان پہلے دو لوگوں نے پس وہ دونوں اللہ کی قسم کھائیں کہ ہماری گواہی زیادہ برحق ہے ان دونوں کی گواہی سے اور ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی ہے اگر ایسا ہو تو یقیناً ہم ظالموں میں سے ہوں گے

آیت 107 فَاِنْ عُثِرَ عَلآی اَنَّہُمَا اسْتَحَقَّآ اِثْمًا حلفیہ بیان بھی غلط دیا ہے اور وصیّت میں ترمیم کی ہے ‘ اس کے باوجود کہ نماز کے بعد مسجد کے اندر حلف اٹھا کر بات کر رہے ہیں۔ آخر انسان ہیں اور ہر معاشرے میں ہر طرح کے انسان ہر وقت موجود رہتے ہیں۔ فَاٰخَرٰنِ یَقُوْمٰنِ مَقَامَہُمَا مِنَ الَّذِیْنَ اسْتَحَقَّ عَلَیْہِمُ الْاَوْلَیٰنِ اب وہ کھڑے ہو کر کہیں گے کہ یہ لوگ ہمارا حق تلف کر رہے ہیں ‘ انہوں نے وصیت کے اندر خیانت کی ‘ ہے۔
Ayah 5:108

ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِالشَّهَادَةِ عَلٰى وَجْهِهَاۤ اَوْ یَخَافُوْۤا اَنْ تُرَدَّ اَیْمَانٌۢ بَعْدَ اَیْمَانِهِمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اسْمَعُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 5:108 in the Quran reader

یہ طریقہ کار قریب تر ہے کہ اس سے لوگ ٹھیک ٹھیک شہادت پیش کریں یا (کم از کم) انہیں خوف رہے کہ ہماری قسمیں ان کی قسموں کے بعد ردّ کردی جائیں گی اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور سن رکھو اللہ ایسے نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیتا

آیت 108 ذٰلِکَ اَدْنآی اَنْ یَّاْتُوْا بالشَّہَادَۃِ عَلٰی وَجْہِہَآ اَوْ یَخَافُوْٓا اَنْ تُرَدَّ اَیْمَانٌم بَعْدَ اَیْمَانِہِمْ ط کیونکہ انہیں معلوم ہوگا کہ اگر ہم نے جھوٹی قسم کھا بھی لی ‘ اور پھر اگر دوسرا فریق بھی قسم کھا گیا ‘ تو ہمارا منصوبہ کامیاب نہیں ہوگا۔ لہٰذا وہ اس کی ہمت نہیں کریں گے۔ وَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاسْمَعُوْا ط وَاللّٰہُ لاَ یَہْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ اسی طرح کا معاملہ سورة النور آیات 6 تا 9 میں بھی مذکور ہوا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو بدکاری کرتے ہوئے دیکھے اور اس کے پاس کوئی اور گواہ نہ ہو تو وہ چار مرتبہ قسم کھا کر کہے کہ میں جو کہہ رہا ہوں سچ کہہ رہا ہوں۔ تو اس ایک شخص کی گواہی چار گواہوں کے برابر ہوجائے گی۔ لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب بھی بتایا ہے ‘ کہ اگر بیوی بھی چار مرتبہ قسم کھا کر کہہ دے کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے ‘ مجھ پر تہمت لگا رہا ہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ مجھ پر اللہ کا غضب ٹوٹے اگر اس کا الزام درست ہو ‘ تو شوہر کی گواہی ساقط ہوجائے گی۔ اس طرح دونوں طرف سے اللہ تعالیٰ نے معاملے کو متوازن کیا ہے۔ اب آخری دو رکوع اس لحاظ سے اہم ہیں کہ ان میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ حضرت مسیح علیہ السلام کے مکالمے کا نقشہ کھینچا گیا ہے ‘ جو قیامت کے دن ہوگا۔ اور اس کے پس منظر میں گویا ایک پوری داستان ہے ‘ جو ایک نئی شان سے سامنے آئی ہے۔
Ayah 5:109

یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اُجِبْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 5:109 in the Quran reader

(اس دن کا تصور کرو) جس دن اللہ تعالیٰ تمام رسولوں کو جمع کرے گا اور پوچھے گا آپ لوگوں کو کیا جواب ملا تھا ؟ وہ کہیں گے کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں تو ہی بہتر جاننے والا ہے غیب کی باتوں کا۔

آیت 109 یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰہُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ ط آپ لوگوں کی دعوت کے جواب میں آپ کی قوموں نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ کیا تھا ؟ قَالُوْا لاَ عِلْمَ لَنَاط اِنَّکَ اَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوْبِ وہ اللہ تعالیٰ کے جناب میں زبان کھولنے سے گریز کریں گے اور کہیں گے کہ تو تمام پوشیدہ باتوں کو جاننے والا ہے ‘ ہر حقیقت تجھ پر منکشف ہے۔
Ayah 5:110

اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِیْ عَلَیْكَ وَ عَلٰى وَ الِدَتِكَ١ۘ اِذْ اَیَّدْتُّكَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١۫ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا١ۚ وَ اِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ١ۚ وَ اِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّیْنِ كَهَیْئَةِ الطَّیْرِ بِاِذْنِیْ فَتَنْفُخُ فِیْهَا فَتَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِیْ وَ تُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ بِاِذْنِیْ١ۚ وَ اِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتٰى بِاِذْنِیْ١ۚ وَ اِذْ كَفَفْتُ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَنْكَ اِذْ جِئْتَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 5:110 in the Quran reader

جب کہے گا اللہ تعالیٰ اے عیسیٰ ؑ ابن مریم ذرا میرے ان انعامات کو یاد کرو جو تم پر اور تمہاری والدہ پر ہوئے جبکہ میں نے تمہاری مدد کی روح القدس سے تم گفتگو کرتے تھے لوگوں کے ساتھ پنگھوڑے میں بھی اور بڑی عمر کو پہنچ کر بھی اور (یاد کرو میرے اس احسان کو) جب کہ میں نے تمہیں سکھائی کتاب اور حکمت یعنی تورات اور انجیل اور (یاد کرو) جب تم بناتے تھے گارے سے پرندے کی ایک شکل میرے حکم سے پھر تم اس میں پھونک مارتے تھے تو وہ ایک اڑنے والا پرندہ بن جاتا تھا میرے حکم سے اور تم اچھا کردیتے تھے مادر زاد اندھے کو اور کوڑھی کو میرے حکم سے اور جب تم مردوں کو نکال کھڑا کرتے تھے میرے حکم سے اور (یاد کرو میرے اس احسان کو بھی) جب میں نے بنی اسرائیل کے ہاتھ روک دیے تم سے جب کہ تم آئے ان کے پاس کھلے معجزات کے ساتھ تو کہا ان لوگوں نے جو ان میں سے کافر تھے کہ یہ تو صریح جادو کے سوا کچھ نہیں ہے

آیت 110 اِذْ قَال اللّٰہُ یٰعِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ اب روز قیامت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خاص پیشی کا منظر ہے۔ دنیا میں ان کی پرستش کی گئی ‘ ان کو اللہ کا بیٹا بنایا گیا ‘ ثالث ثلاثۃ قرار دیا گیا۔ لہٰذا اب آنجناب علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کے سامنے جو شرمندگی اٹھانا پڑے گی ‘ اس کا نقشہ کھینچا جا رہا ہے جب اللہ ان کو مخاطب کر کے فرمائے گا کہ اے عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم : اذْکُرْ نِعْمَتِیْ عَلَیْکَ وَعَلٰی وَالِدَتِکَ 7 اِذْ اَیَّدْتُّکَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے سے تمہاری تائید کی تُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الْْمَہْدِ وَکَہْلاً ج۔ تم شیر خوارگی کی عمر میں بھی لوگوں سے گفتگو کرتے تھے اور ادھیڑ عمر کو پہنچ کر بھی۔ آگے وہی سورة آل عمران آیت 48 والے الفاظ دہرائے جا رہے ہیں۔ وَاِذْ عَلَّمْتُکَ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَالتَّوْرٰٹۃَ وَالْاِنْجِیْلَ ج درمیان کا واؤتفسیریہ ہے ‘ لہٰذا یعنی کے مفہوم میں آئے گا۔ وَاِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّیْنِ کَہَیْءَۃِ الطَّیْرِ بِاِذْنِیْ فَتَنْفُخُ فِیْہَا فَتَکُوْنُ طَیْرًام بِاِذْنِیْ وَتُبْرِئُ الْاَکْمَہَ وَالْاَبْرَصَ بِاِذْنِیْ ج ان کے ہاتھ تم تک نہیں پہنچنے دیے اور تمہیں ان کے شر سے محفوظ رکھا۔ یہ اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام گرفتار نہیں ہوئے ‘ اور عین اس وقت جب پولیس والے آپ علیہ السلام کو گرفتار کرنے کے لیے باغ میں داخل ہوئے تو چار فرشتے اترے ‘ جو آپ علیہ السلام کو لے کر آسمان پر چلے گئے۔
Ayah 5:111

وَ اِذْ اَوْحَیْتُ اِلَى الْحَوَارِیّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِیْ وَ بِرَسُوْلِیْ١ۚ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ اشْهَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 5:111 in the Quran reader

اور (یاد کرو میرے احسان کو) جب میں نے اشارہ کیا حواریوں کو کہ ایمان لاؤ مجھ پر اور میرے رسول پر تو انہوں نے کہا ہم ایمان لائے اور (اے عیسیٰ ؑ آپ بھی) گواہ رہیے کہ ہم اللہ کے فرماں بردار ہیں

آیت 111 وَاِذْ اَوْحَیْتُ اِلَی الْحَوَارِیّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِیْ وَبِرَسُوْلِیْ ج ان کے دل میں ڈال دیا ‘ الہام کردیا ‘ ان کی طرف وحی کردی۔ یہ وحئ خفی ہے۔ ظاہر ہے حواریوں کی طرف وحی جلی تو نہیں آسکتی تھی جو خاصۂ نبوت ہے۔ لیکن جیسا کہ شہد کی مکھی کے لیے وحی کا لفظ آیا ہے النحل : 68 یا جیسے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو وحی کی فصلت : 12 یہ وحئ خفی کی مثالیں ہیں۔
Ayah 5:112

اِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ هَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّكَ اَنْ یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:112 in the Quran reader

اور (ذرایاد کرو اس واقعے کو) جب حواریوں نے کہا کہ اے عیسیٰ ابن مریم کیا آپ کے رب کو یہ قدرت حاصل ہے کہ ہم پر آسمان سے ایک دستر خوان اتارے ؟ (جواب میں عیسیٰ ؑ نے) کہا اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اگر تم ایمان رکھتے ہو

قَالَ اتَّقُوا اللّٰہَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ مؤمنین کو ایسی دعائیں نہیں کرنی چاہئیں۔ ایسے مطالبات آپ لوگوں کو زیب نہیں دیتے۔
Ayah 5:113

قَالُوْا نُرِیْدُ اَنْ نَّاْكُلَ مِنْهَا وَ تَطْمَئِنَّ قُلُوْبُنَا وَ نَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَ نَكُوْنَ عَلَیْهَا مِنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 5:113 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہم اس (خوان) میں سے کھائیں اور ہمارے دل بالکل مطمئن ہوجائیں اور ہمیں معلوم ہوجائے کہ آپ ؑ نے جو کچھ ہم سے کہا وہ سچ ہے اور ہم اس پر گواہ بن جائیں

آیت 113 قَالُوْا نُرِیْدُ اَنْ نَّاْکُلَ مِنْہَا وَتَطْمَءِنَّ قُلُوْبُنَا یہ اس طرح کی بات ہے جیسی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہی تھی : رَبِّ اَرِنِیْ کَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰی ط البقرہ : 260۔ اسی طرح کا مشاہدہ وہ بھی طلب کر رہے تھے۔ وَنَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَنَکُوْنَ عَلَیْہَا مِنَ الشّٰہِدِیْنَ تا کہ ہمیں آپ علیہ السلام کی کسی بات میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہ رہے اور ایسایقین کامل ہوجائے کہ پھر ہم جب آپ علیہ السلام کی جانب سے لوگوں کو تبلیغ کریں تو ہمارے اپنے دلوں میں کہیں شک وشبہ کا کوئی کانٹا چبھا ہو انہ رہ جائے
Ayah 5:114

قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَةً مِّنْكَ١ۚ وَ ارْزُقْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 5:114 in the Quran reader

اس پر عیسیٰ ؑ ابن مریم نے دعا کی : اے اللہ اے ہمارے رب اتاردے ہم پر ایک دسترخوان آسمان سے جو عید بن جائے ہمارے لیے اور ہمارے اگلوں اور پچھلوں کے لیے اور ایک نشانی ہو تیری طرف سے اور ہمیں رزق عطافرما اور یقیناً تو بہترین رزق دینے والا ہے

آیت 114 قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ اللّٰہُمَّ رَبَّنَآ اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآءِدَۃً مِّنَ السَّمَآءِ تَکُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰیَۃً مِّنْکَ ج آسمان سے ‘ خاص تیرے ہاں سے کھانے سے بھرے ہوئے دستر خوان کا نازل ہونا یقیناً ہمارے لیے جشن کا موقع ہوگا ‘ ہمارے اگلوں پچھلوں کے لیے ایک یادگار واقعہ اور تیری طرف سے ایک خاص نشانی ہوگا۔
Ayah 5:115

قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مُنَزِّلُهَا عَلَیْكُمْ١ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَاِنِّیْۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 5:115 in the Quran reader

اللہ نے ارشاد فرمایا (ٹھیک ہے) میں نازل کر دوں گا اس کو تم پر لیکن پھر اس کے بعد تم میں سے جو کوئی کفر کی روش اختیار کرے گا تو پھر اس کو میں عذاب بھی وہ دوں گا جو تمام جہانوں میں سے کسی اور کو نہیں دوں گا

آیت 115 قَال اللّٰہُ اِنِّیْ مُنَزِّلُہَا عَلَیْکُمْ ج فَمَنْ یَّکْفُرْ بَعْدُ مِنْکُمْ فَاِنِّیْٓ اُعَذِّبُہٗ عَذَابًا لَّآ اُعَذِّبُہٗٓ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ یعنی جب اس طرح کی کوئی خرق عادت چیز دکھا دی جائے گی ‘ کھلا معجزہ سامنے آجائے گا تو پھر رعایت نہیں ہوگی۔ گزشتہ قوموں کے ساتھ ایسے ہی ہوا تھا۔ قوم ثمود نے حضرت صالح علیہ السلام سے مطالبہ کیا کہ ابھی اس چٹان میں سے ایک حاملہ اونٹنی برآمد ہوجانی چاہیے۔ وہ اونٹنی برآمد ہوگئی ‘ لیکن ساتھ ہی رعایت بھی ختم ہوگئی۔ ان سے واضح طور پر کہہ دیا گیا کہ اب تمہارے لیے مہلت کے صرف چند دن ہیں ‘ اگر ان دنوں میں ایمان نہیں لاؤ گے تو نیست و نابود کردیے جاؤ گے۔ یہ بات سورة الشُّعراء میں بہت تفصیل سے آئے گی کہ اے نبی ﷺ یہ لوگ اب جو نشانیاں مانگ رہے ہیں تو ہم یہ ان کی خیر خواہی میں انہیں نہیں دکھا رہے ہیں۔ اگر ان کے کہنے پر ایسی نشانیاں ہم دکھا دیں تو پھر ان کو مزید رعایت نہیں دی جائے گی اور ان کی مہلت ابھی ختم ہوجائے گی۔ اس قسم کے معجزے دیکھ کر نہ کوئی پہلے ایمان لایا ‘ نہ اب یہ لوگ لائیں گے۔ ان کے اندر جو نیتّ کا فساد ہے وہ کہاں انہیں ماننے دے گا ؟ جیسے قوم صالح علیہ السلام نے نہیں مانا ‘ حالانکہ اپنی نگاہوں کے سامنے انہوں نے ایسا کھلامعجزہ دیکھ لیا تھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزوں کو یہودیوں نے نہیں مانا ‘ الٹا انہیں جادُو قرار دے دیا۔ تو اس قدر واضح معجزات دیکھ کر بھی لوگ ایمان نہیں لائے۔ سوائے ان جادُوگروں کے جن کا فرعون کے دربار میں حضرت موسیٰ علیہ السلام سے مقابلہ ہو اتھا۔ نہ تو خود فرعون ایمان لایا تھا نہ فرعون کے درباری اور نہ ہی عوام الناس۔ چناچہ معجزے کا ظہور در اصل متعلقہ قوم کے خلاف جاتا ہے۔ معجزے کے ظہور سے پہلے تو امید ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ شاید اس قوم کو کچھ ڈھیل دے دے ‘ شاید کچھ اور لوگوں کو ایمان کی توفیق مل جائے ‘ لیکن معجزے کے ظہور سے مہلت کا وہ سلسلہ ختم ہوجاتا ہے۔
Ayah 5:116

وَ اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَ اُمِّیَ اِلٰهَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ سُبْحٰنَكَ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَیْسَ لِیْ١ۗ بِحَقٍّ١ؐؕ اِنْ كُنْتُ قُلْتُهٗ فَقَدْ عَلِمْتَهٗ١ؕ تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَ لَاۤ اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِكَ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 5:116 in the Quran reader

اور جب اللہ کہے گا کہ اے مریم کے بیٹے عیسیٰ ! کیا تم نے کہا تھا لوگوں سے کہ مجھے اور میری ماں دونوں کو معبود بنا لینا اللہ کے سوا ؟ وہ (جواب میں) عرض کریں گے (اے اللہ) تو پاک ہے میرے لیے کیسے روا تھا کہ میں وہ بات کہتا جس کے کہنے کا مجھے کوئی حق نہیں اگر میں نے وہ بات کہی ہوتی تو وہ تیرے علم میں ہوتی تو تو جانتا ہے جو کچھ میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے جی میں ہے۔ یقیناً تمام پوشیدہ حقیقتوں کا جاننے والا تو بس تو ہی ہے

اب یہ اس پیشی کا آخری منظر ہے اور اس کا انداز بہت سخت ہے۔
Ayah 5:117

مَا قُلْتُ لَهُمْ اِلَّا مَاۤ اَمَرْتَنِیْ بِهٖۤ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبَّكُمْ١ۚ وَ كُنْتُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْهِمْ١ۚ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ اَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 5:117 in the Quran reader

میں نے ان سے کچھ نہیں کہا مگر وہی کچھ جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا (اور وہ یہی بات تھی) کہ بندگی کرو اللہ کی جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے اور میں ان پر نگران رہا جب تک ان میں موجودرہا پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو (اس کے بعد) تو ہی نگران تھا ان پر اور یقیناً تو ہرچیز پر گواہ ہے

آیت 117 مَا قُلْتُ لَہُمْ الاَّ مَآ اَمَرْتَنِیْ بِہٖٓ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیْ وَرَبَّکُمْ ج وَکُنْتُ عَلَیْہِمْ شَہِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْہِمْ ج ان کی دیکھ بھال کرتا رہا ‘ نگرانی کرتا رہا۔ یہاں لفظ شہید نگران کے معنوں میں آیا ہے۔ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْہِمْ ط واضح رہے کہ یہاں بھی تَوَفَّیْتَنِیْ موت کے معنوں میں نہیں ہے۔ اس سلسلے میں سورة آل عمران آیت 55 اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ کی تشریح مدنظر رہے۔ وَاَنْتَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ شَہِیْدٌ تو ہرچیز پر نگران ہے ‘ ہرچیز سے باخبر ہے۔
Ayah 5:118

اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ١ۚ وَ اِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 5:118 in the Quran reader

اب اگر تو انہیں عذاب دے تو یہ تیرے ہی بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو تو زبردست ہے حکمت والا ہے

آیت 118 اِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَاِنَّہُمْ عِبَادُکَ ج۔ تجھے ان پر پورا اختیار حاصل ہے ‘ تیری مخلوق ہیں۔ وَاِنْ تَغْفِرْ لَہُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ یہ بہترین انداز ہے۔ معافی کی درخواست بھی ہے ‘ جس میں بہت خوبصورت انداز میں شفقت و رأفت کا اظہار ہے ‘ جو نوع انسانی کے لیے انبیاء کی شخصیت کا خاصہّ ہے۔ لیکن اس سے آگے بڑھ کر کچھ نہیں کہہ سکتے کہ مقام عبدیت یہی ہے۔ تو اے اللہ ! تیرا ہی اختیار ہے اور تو عزیز بھی ہے اور حکیم بھی۔ اگر تو انہیں معاف فرمانا چاہے تو تجھ سے کوئی باز پرس نہیں کرسکتا ‘ کوئی جواب طلبی نہیں کرسکتا کہ تو نے کیسے معاف کردیا ! اب آ رہا ہے کہ اس پوری پیشی کا ڈراپ سین اور آخری نقشہ کیا ہوگا۔
Ayah 5:119

قَالَ اللّٰهُ هٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ صِدْقُهُمْ١ؕ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 5:119 in the Quran reader

اللہ فرمائے گا یہ آج کا دن وہ ہے جس دن سچوں کو ان کی سچائی فائدہ پہنچائے گی ان کے لیے باغات ہیں جن کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے۔ یہی ہے بڑی کامیابی

رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُط ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ یہ ہے باہمی رضا مندی کا آخری مقام ‘ اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی۔
Ayah 5:120

لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا فِیْهِنَّ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 5:120 in the Quran reader

اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کی بادشاہی اور وہ ہرچیز پر قادر ہے۔

آیت 120 لِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا فِیْہِنَّ ط وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ یہاں پر اللہ تعالیٰ کے فضل سے سورة المائدۃ کے اختتام کے ساتھ ہی مکی اور مدنی سورتوں کے گروپس groups میں سے پہلا گروپ ختم ہوگیا ہے ‘ جس میں ایک مکیّ سورة یعنی سورة الفاتحہ اور چارمدنی سورتیں ہیں۔ سورة الفاتحہ اگرچہ حجم میں بہت چھوٹی ہے لیکن یہ اپنی معنوی عظمت کے لحاظ سے پورے قرآن کے ہم وزن ہے۔ سورة الحجر کی آیت : وَلَقَدْ اٰتَیْنٰکَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَالْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ مفسرین کی رائے کے مطابق سورة الفاتحہ ہی کے بارے میں ہے۔ اس گروپ کی چار مدنی سورتیں البقرۃ ‘ آل عمران ‘ النساء اور المائدۃ دو دو کے جوڑوں کی شکل میں ہیں۔ ان تمام سورتوں کے مضامین کا عمود ایک دفعہ پھر ذہن میں تازہ کرلیں۔ مکمل شریعت آسمانی ‘ اہل کتاب سے خطاب اور ردّوقدح ‘ ان پر الزامات کا تذکرہ ‘ ان کے غلط عقائد کی نفی ‘ انہیں ایمان کی دعوت ‘ ان کی تاریخ کے اہم واقعات کی تفصیلات ‘ ان کا امت مسلمہ کے منصب سے معزول کیا جانا ‘ جس پر وہ دو ہزار برس سے فائز تھے اور امت محمد ﷺ کا اس منصب پر فائز کیا جانا۔ یہ موضوعات آخری درجے میں اس گروپ کی سورتوں میں مکمل ہوگئے ہیں۔ بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ‘ ونفعنی وایاکم بالآیات والذکر الحکیم۔