40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsتفسیر بیان القرآن

Ayah 40:41

وَ یٰقَوْمِ مَا لِیْۤ اَدْعُوْكُمْ اِلَى النَّجٰوةِ وَ تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَى النَّارِؕ Open ayah 40:41 in the Quran reader

اور اے میری قوم کے لوگو ! مجھے کیا ہے کہ میں تمہیں پکار رہا ہوں نجات کی طرف اور تم مجھے دعوت دے رہے ہو آگ کی !

آیت 41 { وَیٰــقَوْمِ مَا لِیْٓ اَدْعُوْکُمْ اِلَی النَّجٰوۃِ وَتَدْعُوْنَنِیْٓ اِلَی النَّارِ } ”اور اے میری قوم کے لوگو ! مجھے کیا ہے کہ میں تمہیں پکار رہا ہوں نجات کی طرف اور تم مجھے دعوت دے رہے ہو آگ کی !“ تم اللہ کے رسول علیہ السلام کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہو اور مجھ سے چاہتے ہو کہ میں بھی اس گناہ میں تمہارے ساتھ شریک ہو کر جہنم کا مستحق بن جائوں ‘ جبکہ میں چاہتا ہوں کہ تم سب میرے ساتھ آئو ‘ میرا راستہ اپنائو ‘ اللہ کے حضور توبہ کرو اور جہنم سے نجات پا کر جنت میں چلے جائو۔
Ayah 40:42

تَدْعُوْنَنِیْ لِاَكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ اُشْرِكَ بِهٖ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١٘ وَّ اَنَا اَدْعُوْكُمْ اِلَى الْعَزِیْزِ الْغَفَّارِ Open ayah 40:42 in the Quran reader

تم مجھے دعوت دے رہے ہو اس بات کی کہ میں اللہ کا کفر کروں اور شریک ٹھہرائوں اس کے ساتھ جس کا مجھے کوئی علم نہیں اور میں تمہیں بلا رہا ہوں اس ذات کی طرف جو زبردست ہے بخشش کرنے والا ہے

آیت 42 { تَدْعُوْنَنِیْ لِاَکْفُرَ بِاللّٰہِ وَاُشْرِکَ بِہٖ مَا لَیْسَ لِیْ بِہٖ عِلْمٌ} ”تم مجھے دعوت دے رہے ہو اس بات کی کہ میں اللہ کا کفر کروں اور شریک ٹھہرائوں اس کے ساتھ جس کا مجھے کوئی علم نہیں“ { وَّاَنَا اَدْعُوْکُمْ اِلَی الْعَزِیْزِ الْغَفَّارِ } ”اور میں تمہیں بلا رہا ہوں اس ذات کی طرف جو زبردست ہے ‘ بخشش کرنے والا ہے۔“
Ayah 40:43

لَا جَرَمَ اَنَّمَا تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ لَیْسَ لَهٗ دَعْوَةٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَا فِی الْاٰخِرَةِ وَ اَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَنَّ الْمُسْرِفِیْنَ هُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ Open ayah 40:43 in the Quran reader

بلاشبہ جن (معبودوں) کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو ان کے لیے کوئی دعوت نہ دنیا میں ہے اور نہ آخرت میں اور یہ کہ ہم سب کو لوٹنا تو اللہ ہی کی طرف ہے اور جو حد سے گزرنے والے ہیں وہی جہنمی ہیں۔

آیت 43 { لَا جَرَمَ اَنَّمَا تَدْعُوْنَنِیْْٓ اِلَیْہِ لَیْسَ لَہٗ دَعْوَۃٌ فِی الدُّنْیَا وَلَا فِی الْاٰخِرَۃِ } ”بلاشبہ جن معبودوں کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو ‘ ان کے لیے کوئی دعوت نہ دنیا میں ہے اور نہ آخرت میں“ یہ سب تمہارے خود ساختہ معبود ہیں۔ نہ تو دنیا میں کہیں ان کی رسائی ہے اور نہ ہی آخرت میں انہیں کوئی اختیار ہے۔ { وَاَنَّ مَرَدَّنَآ اِلَی اللّٰہِ } ”اور یہ کہ ہم سب کو لوٹنا تو اللہ ہی کی طرف ہے“ یاد رکھو ! خواہی نخواہی ہمیں ایک دن حاضر تو اللہ ہی کے حضور ہونا ہے۔ { وَاَنَّ الْمُسْرِفِیْنَ ہُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ } ”اور جو حد سے گزرنے والے ہیں وہی جہنمی ہیں۔“
Ayah 40:44

فَسَتَذْكُرُوْنَ مَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ١ؕ وَ اُفَوِّضُ اَمْرِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ Open ayah 40:44 in the Quran reader

تو عنقریب تم یاد کرو گے (یہ باتیں) جو میں تم سے کہہ رہا ہوں اور میں تو اپنا معاملہ اللہ کے حوالے کرتا ہوں اللہ یقینا اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے

آیت 44 { فَسَتَذْکُرُوْنَ مَآ اَقُوْلُ لَکُمْ } ”تو عنقریب تم یاد کرو گے یہ باتیں جو میں تم سے کہہ رہا ہوں۔“ میں جانتا ہوں کہ تم میری ان باتوں کو نہیں مانو گے۔ مجھے یہ بھی یقین ہے کہ تم موسیٰ علیہ السلام ٰ اور اس کی قوم کے خلاف اپنی ساری چالیں چل کر رہو گے۔ مگر یاد رکھو ! اگر تم نے ایسا کیا تو یقینا تم اپنی تباہی اور بربادی کو دعوت دو گے۔ بہر حال میری یہ باتیں تمہیں اس وقت ضرور یاد آئیں گی جب تمہارا بھیانک انجام تمہارے سامنے آن کھڑا ہوگا۔ { وَاُفَوِّضُ اَمْرِیْٓ اِلَی اللّٰہِ } ”اور میں تو اپنا معاملہ اللہ کے حوالے کرتا ہوں۔“ یہ مرد مومن کی تقریر کے اختتامی الفاظ ہیں۔ اس جملے کو پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ فرعون کے دربار میں کلمہ حق بلند کرنے کے بعد مرد مومن ذہنی طور پر کسی بھی سزا کا سامنا کرنے کے لیے تیار تھے۔ انہیں اندازہ تھا کہ اس ”گستاخی“ کے بعد انہیں قتل کردیا جائے گا۔ چناچہ انہوں نے اپنی تقریر کا اختتام اس خوبصورت جملے پر کیا۔ سورة یٰسٓ میں بھی ایک مرد مومن کی ”حق گوئی و بےباکی“ کا ذکر ہوا ہے ‘ جس نے اپنی قوم کو رسولوں کی پیروی کرنے کا مشورہ دیا تھا اور اپنے ایمان کا ڈنکے کی چوٹ اعلان کیا تھا۔ اس ”اعلانِ بغاوت“ کے نتیجے میں اس کو اسی لمحے شہید کردیا گیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اسی وقت اسے جنت میں داخل فرما دیا تھا۔ قرآن حکیم میں اس کے یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں : { قَالَ یٰـلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَ۔ بِمَا غَفَرَ لِیْ رَبِّیْ وَجَعَلَنِیْ مِنَ الْمُکْرَمِیْنَ۔ } یٰسٓ ”اس نے کہا کاش ! میری قوم کو معلوم ہوجاتا میرے رب نے جس طرح میری مغفرت فرمائی ہے اور جس طرح مجھے باعزت لوگوں میں شامل کرلیا ہے !“ مومن ِآلِ فرعون نے بھی اپنی شہادت کے امکان کو دیکھتے ہوئے کمال اطمینان سے اپنا معاملہ اللہ کو سونپ دیا۔ { اِنَّ اللّٰہَ بَصِیْرٌم بِالْعِبَادِ } ”اللہ یقینا اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے۔“ اسے یقین تھا کہ اللہ اپنے بندوں کے حالات سے خوب واقف ہے ‘ وہ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ ہے۔ وہ جسے چاہے ظلم و زیادتی کا شکار ہونے سے بچا سکتا ہے۔
Ayah 40:45

فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِ مَا مَكَرُوْا وَ حَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْٓءُ الْعَذَابِۚ Open ayah 40:45 in the Quran reader

و بچالیا اللہ نے اس کو ان کی چالوں کی برائیوں سے اور گھیر لیا آلِ فرعون کو بدترین عذاب نے

آیت 45 { فَوَقٰــٹـہُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِ مَا مَکَرُوْا } ”تو بچالیا اللہ نے اس کو ان کی چالوں کی برائیوں سے“ یہاں پر ہُ کی ضمیر کا مرجع مومن ِآلِ فرعون بھی ہوسکتا ہے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اس سے مراد مومن آلِ فرعون ہے کہ اللہ نے اسے فرعون کے انتقام کا نشانہ بننے سے بچالیا ‘ لیکن اکثر حضرات کی رائے یہ ہے کہ اس سے حضرت موسیٰ علیہ السلام ٰ مراد ہیں۔ چونکہ اس بات کا آغاز فرعون کی اس قرارداد سے ہوا تھا جو اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام ٰ کو قتل کرنے کی اجازت کے لیے اپنے درباریوں کے سامنے پیش کی تھی۔ اس لیے زیادہ قرین ِقیاس یہی ہے کہ اس پوری تفصیل کے اختتام پر آیت زیر مطالعہ میں فرعون کے مذکورہ منصوبے کی ناکامی پر تبصرہ کیا گیا ہے کہ مومن ِآلِ فرعون کی اس تقریر کے بعد دربار کا ماحول ایسا نہ رہا کہ اس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام ٰ کے قتل کی قرارداد پاس ہوسکتی۔ چناچہ فرعون اور اس کے درباری اس بارے میں کوئی فیصلہ نہ کرسکے اور یوں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان کے شر سے محفوظ رکھا۔ { وَحَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْٓئُ الْعَذَابِ } ”اور گھیر لیا آلِ فرعون کو بدترین عذاب نے۔“
Ayah 40:46

اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا غُدُوًّا وَّ عَشِیًّا١ۚ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ١۫ اَدْخِلُوْۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ Open ayah 40:46 in the Quran reader

آگ ہے جس پر وہ پیش کیے جاتے ہیں صبح وشام۔ اور جس دن قیامت قائم ہوگی (اُس دن کہہ دیا جائے گا کہ) داخل کر دو فرعون کی قوم کو شدید ترین عذاب میں

آیت 46{ اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْہَا غُدُوًّا وَّعَشِیًّا } ”آگ ہے جس پر وہ پیش کیے جاتے ہیں صبح وشام۔“ یہ قرآن مجید کی دوسری آیت ہے جس سے عذاب قبر سے متعلق دلیل ملتی ہے نیز ملاحظہ ہو : سورة الفرقان کی آیت 69 کی تشریح۔ { وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُقف اَدْخِلُوْٓا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ } ”اور جس دن قیامت قائم ہوگی اُس دن کہہ دیا جائے گا کہ داخل کر دو فرعون کی قوم کو شدید ترین عذاب میں۔“ اس آیت کے مفہوم کے مطابق آلِ فرعون کو شدید ترین عذاب میں تو قیام قیامت کے بعد داخل کیا جائے گا ‘ لیکن اس سے پہلے قبر کی زندگی کے دوران صبح وشام انہیں آگ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ -۔ عذابِ قبر کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کے فرمودات بہت واضح ہیں۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے : اِنَّمَا الْقَبْرُ رَوْضَۃٌ مِنْ رِیَاضِ الْجَنَّۃِ اَوْ حُفْرَۃٌ مِنْ حُفَرِ النَّارِ 1 ”قبریا تو جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا“۔ منکرین حدیث البتہ عذاب قبر کی نفی کرتے ہیں۔ در اصل قبر کا معاملہ ایک دوسرے جہان کا معاملہ ہے جو عالم غیب ہے۔ اس ضمن میں یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ قبر سے مراد وہ مخصوص گڑھا نہیں جہاں میت کو دفن کیا جاتا ہے ‘ بلکہ اس سے مراد عالم برزخ ہے۔ سورة المُطفِّفِین میں عالم برزخ کی دو کیفیات عِلِّیِیْناور سِجِّیْنکا ذکر ملتا ہے۔ اس عالم میں انسان نیم شعوری کی کیفیت میں ہوتا ہے۔ اگر کوئی خوش قسمت ”عِلِّیِیْن“ میں ہے تو وہاں جنت کی کھڑکی کھلی ہوتی ہے اور وہ جنت کی ٹھنڈی ہوائوں کے مزے لے رہا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس ”سِجِّیْن“ میں جہنم کی کھڑکی میں سے آگ کی لپٹ آرہی ہوتی ہے۔
Ayah 40:47

وَ اِذْ یَتَحَآجُّوْنَ فِی النَّارِ فَیَقُوْلُ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا نَصِیْبًا مِّنَ النَّارِ Open ayah 40:47 in the Quran reader

اور جب وہ آگ میں ایک دوسرے سے جھگڑیں گے تو کمزور لوگ بڑے بننے والوں سے کہیں گے ہم تو تمہاری پیروی کرتے تھے تو کیا تم لوگ ہم سے آگ کے عذاب کا کوئی حصہ کم کروا سکتے ہو ؟

آیت 47 { وَاِذْ یَتَحَآجُّوْنَ فِی النَّارِ فَیَقُوْلُ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْٓا } ”اور جب وہ آگ میں ایک دوسرے سے جھگڑیں گے تو کمزور لوگ بڑے بننے والوں سے کہیں گے“ { اِنَّا کُنَّا لَـکُمْ تَبَعًا فَہَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا نَصِیْبًا مِّنَ النَّارِ } ”ہم تو تمہاری پیروی کرتے تھے ‘ تو کیا تم لوگ ہم سے آگ کے عذاب کا کوئی حصہ کم کروا سکتے ہو ؟“ دنیا میں تو تمہارا ہر جگہ حکم چلتا تھا۔ تو اگر یہاں پر بھی تمہارا کچھ اختیار ہے تو ہمارے عذاب میں کچھ کمی کروا دو۔ آخر ہم تمہاری پیروی کر کے ہی اس حال کو پہنچے ہیں۔
Ayah 40:48

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُلٌّ فِیْهَاۤ١ۙ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ حَكَمَ بَیْنَ الْعِبَادِ Open ayah 40:48 in the Quran reader

وہ بڑے بننے والے کہیں گے کہ ہم سبھی اس کے اندر پڑے ہوئے ہیں اللہ نے تو اپنے بندوں کے مابین فیصلہ کردیا ہے

آیت 48 { قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْٓا اِنَّا کُلٌّ فِیْہَآ } ”وہ بڑے بننے والے کہیں گے کہ ہم سبھی اس کے اندر پڑے ہوئے ہیں“ یعنی ابوجہل اور عتبہ بن ابی معیط جیسے بڑے بڑے سردار اپنی بےبسی اور بےچارگی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے پیروکاروں سے یوں معذرت کریں گے۔ { اِنَّ اللّٰہَ قَدْ حَکَمَ بَیْنَ الْعِبَادِ } ”اللہ نے تو اپنے بندوں کے مابین فیصلہ کردیا ہے۔“ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آخری فیصلہ ہوچکا ہے اور ہم تم سب چونکہ مجرم تھے اس لیے اس عذاب کے مستحق ٹھہرے ہیں۔
Ayah 40:49

وَ قَالَ الَّذِیْنَ فِی النَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ادْعُوْا رَبَّكُمْ یُخَفِّفْ عَنَّا یَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ Open ayah 40:49 in the Quran reader

اور کہیں گے وہ لوگ جو آگ میں ہوں گے جہنم کے داروغوں (فرشتوں) سے آپ اپنے رب سے دعا کریں کہ وہ ہم سے بس ایک دن ہی عذاب میں تخفیف کر دے۔

آیت 49 { وَقَالَ الَّذِیْنَ فِی النَّارِ لِخَزَنَۃِ جَہَنَّمَ ادْعُوْا رَبَّکُمْ یُخَفِّفْ عَنَّا یَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ } ”اور کہیں گے وہ لوگ جو آگ میں ہوں گے جہنم کے داروغوں فرشتوں سے ‘ آپ اپنے رب سے دعا کریں کہ وہ ہم سے بس ایک دن ہی عذاب میں تخفیف کر دے۔“
Ayah 40:50

قَالُوْۤا اَوَ لَمْ تَكُ تَاْتِیْكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ؕ قَالُوْا فَادْعُوْا١ۚ وَ مَا دُعٰٓؤُا الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ۠ Open ayah 40:50 in the Quran reader

وہ جواب میں کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس رسول ؑ نہیں آتے رہے تھے واضح نشانیوں (اور واضح تعلیمات) کے ساتھ ؟ وہ کہیں گے : ہاں (آئے تو تھے) ! وہ کہیں گے : تو اب تم خود ہی پکارو ! اور کافروں کی دعا نہیں ہے مگر بھٹک کر رہ جانے والی۔

آیت 50 { قَالُوْٓا اَوَلَمْ تَکُ تَاْتِیْکُمْ رُسُلُکُمْ بِالْبَیِّنٰتِ } ”وہ جواب میں کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس رسول علیہ السلام نہیں آتے رہے تھے واضح نشانیوں اور واضح تعلیمات کے ساتھ ؟“ { قَالُوْا بَلٰی } ”وہ کہیں گے : ہاں آئے تو تھے !“ { قَالُوْا فَادْعُوْاج وَمَا دُعٰٓؤُا الْکٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ } ”وہ کہیں گے : تو اب تم خود ہی پکارو ! اور کافروں کی دعا نہیں ہے مگر بھٹک کر رہ جانے والی۔“ دنیا کی زندگی میں جن لوگوں نے کفر و انکار کی روش اختیار کی تھی آج ان کی دعا بالکل صدا بصحرا ثابت ہوگی۔ ان لوگوں کی دعا کا نہ کوئی اثر ہوگا اور نہ ہی اس کی کہیں شنوائی ہوگی۔ بالکل یہی کیفیت ان لوگوں کی بھی ہے جو دنیا میں اللہ تعالیٰ سے دعائیں تو مانگتے ہیں مگر ساتھ ہی اپنی حرام خوری بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ باطل کی چاکری بھی کیے جا رہے ہیں ‘ طاغوت کے حمایتی بھی بنے ہوئے ہیں اور اپنی سوچ اور فکر کو باطل طور طریقوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے نت نئی راہیں بھی تلاش کرتے رہتے ہیں۔ گویا ان کی وفاداری اور دوستی تو شیطان اور اس کے چیلوں سے ہوتی ہے مگر دعا اللہ سے کرتے ہیں۔ اس حوالے سے یہ حدیث پہلے بھی بیان ہوچکی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کا ذکر فرمایا جو بڑا طویل سفر کر کے حج یا عمرہ کے لیے آتا ہے۔ اس کے کپڑے بھی میلے ہوچکے ہیں اور بال بھی غبار آلودہ ہیں۔ وہ اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر ”یارب ! یارب !“ پکارتا ہے۔ لیکن اس کا کھانا بھی حرام کا ہے ‘ اس کا پینا بھی حرام کا ہے ‘ اس نے جو کپڑے پہن رکھے ہیں وہ بھی حرام کمائی کے ہیں ‘ اور اس کے جسم نے حرام غذا سے نشوونما پائی ہے۔ -۔ تو اس کی دعا کیونکر قبول ہو ؟ فَاَنّٰی یُسْتَجَابُ لِذٰلِکَ ! 1 1971 ء کی جنگ کے دوران ہم نے دیکھا کہ پاکستان کی نصرت کے لیے حرمین شریفین میں قنوت نازلہ پڑھی جاتی تھی اور گڑ گڑا کر دعائیں مانگی جاتی تھیں ‘ مگر اللہ تعالیٰ نے ہمارے کرتوتوں کی وجہ سے اپنے گھر کے اندر مانگی گئی ان دعائوں کو بھی ٹھکرا دیا اور جو ہونا تھا وہ ہو کر رہا۔ لفظ ”کافر“ کو اس کے وسیع مفہوم کے تناظر میں رکھ کر غور کیجیے کہ اس کی زد کہاں کہاں پڑتی ہے۔ اس کا مصداق قانونی کفار کے علاوہ وہ لوگ بھی ٹھہرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی ناشکری اور نافرمانی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے سورة آل عمران کی آیت 97 کے آخر میں سنائی گئی وعید بہت واضح ہے۔ مذکورہ آیت میں حج کا حکم دینے کے بعد فرمایا گیا : { وَمَنْ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ } ”اور جس نے کفر کیا تو وہ جان لے کہ اللہ بےنیاز ہے تمام جہان والوں سے“۔ یعنی جس نے صاحب استطاعت ہو کر بھی حج ادا نہیں کیا اس نے گویا کفر کیا۔ اسی طرح تارک صلوٰۃ کے بارے میں حضور ﷺ کا بہت مشہور فرمان ہے : مَنْ تَرَکَ الصَّلاَۃَ مُتَعَمِدًا فَقَدْ کَفَرَجِھَارًا 1 ”جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑ دی اس نے علانیہ کفر کیا۔“ پس ایک کفر تو وہ ہے جس سے ایک مسلمان باقاعدہ مرتد ہو کر سزا کا مستحق ٹھہرتا ہے اور ایک کفر یہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے کسی خاص حکم کی نافرمانی سے سرزد ہوتا ہے اور جس کو کسی صاحب نظر نے ”جو دم غافل سو دم کافر“ کا عنوان دیا ہے۔ اس زاویئے سے دیکھا جائے تو آج پوری دنیا کے مسلمان اس کفر کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ آج دنیا بھر میں مسلمانوں کا کوئی ایک ملک بھی ایسا نہیں جہاں اللہ کے قانون کی حکمرانی ہو ‘ جبکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان تو اس بارے میں یہ ہے : { وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوْنَ۔ } المائدۃ ”جو لوگ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی شریعت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہی تو کافر ہیں“۔ چناچہ ہمیں سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ اس حوالے سے آج ہم کہاں کھڑے ہیں ؟ ہم جس ملک کے شہری ہیں کیا وہاں شریعت اسلامی کی حکمرانی ہے ؟ کیا ہمارے دیوانی و فوجداری معاملات قرآن کے قانون کے مطابق طے پا رہے ہیں ؟ کیا ہمارا نظام معیشت اللہ کی مرضی کے مطابق چل رہا ہے ؟ اور اگر ایسا نہیں ہے اور یقینا نہیں ہے تو کیا ہم سورة المائدۃ کی مذکورہ آیت کے مصداق نہیں بن چکے ہیں۔
Ayah 40:51

اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْهَادُۙ Open ayah 40:51 in the Quran reader

ہم لازماً مدد کرتے ہیں اپنے رسولوں کی اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے دنیا کی زندگی میں بھی اور اس دن بھی (مدد کریں گے) جس دن گواہ کھڑے ہوں گے

آیت 51 { اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ یَـقُوْمُ الْاَشْہَادُ } ”ہم لازماً مدد کرتے ہیں اپنے رسولوں کی اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے دنیا کی زندگی میں بھی ‘ اور اس دن بھی مدد کریں گے جس دن گواہ کھڑے ہوں گے۔“
Ayah 40:52

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ الظّٰلِمِیْنَ مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 40:52 in the Quran reader

جس دن کہ ظالموں کو ان کی معذرت کچھ فائدہ نہ دے گی اور ان کے لیے لعنت ہوگی اور ان کے لیے بہت ُ برا گھرہو گا

آیت 52 { یَوْمَ لَا یَنْفَعُ الظّٰلِمِیْنَ مَعْذِرَتُہُمْ } ”جس دن کہ ظالموں کو ان کی معذرت کچھ فائدہ نہ دے گی“ { وَلَہُمُ اللَّعْنَۃُ وَلَہُمْ سُوْٓئُ الدَّارِ } ”اور ان کے لیے لعنت ہوگی اور ان کے لیے بہت ُ برا گھرہو گا۔“
Ayah 40:53

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْهُدٰى وَ اَوْرَثْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَۙ Open ayah 40:53 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ ؑ ٰ کو ہدایت دی تھی اور ہم نے وارث بنایا تھا بنی اسرائیل کو کتاب کا

آیت 53 { وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْہُدٰی وَاَوْرَثْنَا بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ الْکِتٰبَ } ”اور ہم نے موسیٰ علیہ السلام ٰ کو ہدایت دی تھی اور ہم نے وارث بنایا تھا بنی اسرائیل کو کتاب کا۔“
Ayah 40:54

هُدًى وَّ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 40:54 in the Quran reader

جو ہدایت اور یاد دہانی تھی ہوشمندوں کے لیے۔

آیت 54 { ہُدًی وَّذِکْرٰی لِاُولِی الْاَلْبَابِ } ”جو ہدایت اور یاد دہانی تھی ہوشمندوں کے لیے۔“
Ayah 40:55

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ Open ayah 40:55 in the Quran reader

تو (اے نبی ﷺ !) آپ صبر کیجیے ! یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے اور اپنے قصور کی معافی چاہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کیجیے شام کو بھی اور صبح کو بھی

آیت 55 { فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ} ”تو اے نبی ﷺ ! آپ صبر کیجیے ! یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے“ { وَّاسْتَغْفِرْ لِذَنبِْکَ } ”اور اپنے قصور کی معافی چاہیں“ اگر آپ خیال کرتے ہیں کہ کسی درجے میں بھی آپ سے کوئی کوتاہی ہوئی ہے تو اللہ سے استغفار کیجیے۔ یہاں پر حضور ﷺ کے حوالے سے لفظ ”ذنب“ کے مفہوم اور اس کی نوعیت کو اچھی طرح سمجھ لیجیے۔ انبیاء کرام علیہ السلام کی روحانی کیفیات اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ مستقل استحضار کا مخصوص انداز اور معیار ہے۔ اگر استحضار کے اس مخصوص معیار میں کسی لمحے کوئی کمی آجائے تو اپنے احساس کی شدت کی وجہ سے انہیں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ان سے کوئی گناہ سرزد ہوگیا ہے۔ یہ گویا ”حَسَنَاتُ الابرَارِ سِیِّـــٔاتُ المُقرَّبین“ والا معاملہ ہے۔ یعنی مقربین ِبارگاہ کا مقام اتنا بلند ہے کہ عام آدمی کے معیار کی نیکی ان کے معاملے میں شاید کوتاہی شمار ہوجائے۔ { وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ بِالْعَشِیِّ وَالْاِبْکَارِ } ”اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کیجیے شام کو بھی اور صبح کو بھی۔“
Ayah 40:56

اِنَّ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ۙ اِنْ فِیْ صُدُوْرِهِمْ اِلَّا كِبْرٌ مَّا هُمْ بِبَالِغِیْهِ١ۚ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 40:56 in the Quran reader

یقینا وہ لوگ جو اللہ کی آیات میں جھگڑے ڈالتے ہیں بغیر کسی سند کے جو ان کے پاس آئی ہو نہیں ہے ان کے دلوں میں کچھ مگر تکبر جس تک وہ پہنچنے والے نہیں ہیں پس آپ اللہ کی پناہ طلب کیجیے یقینا وہ سب کچھ سننے والا ہرچیز کو دیکھنے والا ہے

آیت 56 { اِنَّ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِ اللّٰہِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰٹہُمْ } ”یقینا وہ لوگ جو اللہ کی آیات میں جھگڑے ڈالتے ہیں بغیر کسی سند کے جو ان کے پاس آئی ہو“ { اِنْ فِیْ صُدُوْرِہِمْ اِلَّا کِبْرٌ مَّا ہُمْ بِبَالِغِیْہِ } ”نہیں ہے ان کے دلوں میں کچھ ‘ مگر تکبر جس تک وہ پہنچنے والے نہیں ہیں۔“ ان کے دلوں میں صرف بڑائی کی خواہش ہے ‘ جو کبھی پوری نہیں ہوگی۔ { فَاسْتَعِذْ بِاللّٰہِط اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ } ”پس آپ اللہ کی پناہ طلب کیجیے ‘ یقینا وہ سب کچھ سننے والا ‘ ہرچیز کو دیکھنے والا ہے۔“
Ayah 40:57

لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 40:57 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی تخلیق یقینا زیادہ بڑا کام ہے انسانوں کی تخلیق سے لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔

آیت 57 { لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَکْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ } ”آسمانوں اور زمین کی تخلیق یقینا زیادہ بڑا کام ہے انسانوں کی تخلیق سے“ اس مفہوم کو جتنا آج ہم سمجھ سکتے ہیں آج سے چودہ سو سال پہلے انسان نہیں سمجھ سکتا تھا۔ اس لیے کہ زمین و آسمان کی وسعتوں کے بارے میں آج کا انسان جو کچھ جانتا ہے اس دور کا انسان تو اس کے مقابلے میں بہت کم جانتا تھا۔ یہ کائنات اس قدر وسیع و عریض ہے کہ سائنس کی تمام تر ترقی اور بڑی بڑی ٹیلی سکوپس telescopes ایجاد کرلینے کے باوجود آج کے سائنس دان یہ تک نہیں جان سکے کہ اس کائنات کا نقطہ آغاز کہاں ہے اور یہ ختم کہاں پر ہوتی ہے۔ تو جس اللہ نے اتنی وسیع کائنات تخلیق کی ہے اس کے لیے تمہاری تخلیق کیا معنی رکھتی ہے ! { وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ } ”لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔“
Ayah 40:58

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ لَا الْمُسِیْٓءُ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 40:58 in the Quran reader

اور برابر نہیں ہوسکتے اندھے اور آنکھوں والے اور (نہ برابر ہوسکتے ہیں) وہ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے اور وہ جو بدکار ہیں بہت ہی کم ہے جو کہ تم سبق حاصل کرتے ہو۔

آیت 58 { وَمَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰی وَالْبَصِیْرُ } ”اور برابر نہیں ہوسکتے اندھے اور آنکھوں والے“ { وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَلَا الْمُسِیْٓئُ } ”اور نہ برابر ہوسکتے ہیں وہ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے اور وہ جو بدکار ہیں۔“ { قَلِیْلًا مَّا تَتَذَکَّرُوْنَ } ”بہت ہی کم ہے جو کہ تم سبق حاصل کرتے ہو۔“
Ayah 40:59

اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 40:59 in the Quran reader

(اور دیکھو !) یقینا قیامت آکر رہے گی اس میں کوئی شک نہیں ہے لیکن اکثر لوگ ماننے والے نہیں ہیں۔

آیت 59 { اِنَّ السَّاعَۃَ لَاٰتِیَۃٌ لَّا رَیْبَ فِیْہَاز وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ } ” اور دیکھو ! یقینا قیامت آکر رہے گی اس میں کوئی شک نہیں ہے ‘ لیکن اکثر لوگ ماننے والے نہیں ہیں۔“
Ayah 40:60

وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَ۠ Open ayah 40:60 in the Quran reader

اور تمہارا رب کہتا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا یقینا وہ لوگ جو میری عبادت سے تکبر کی بنا پر اعراض کرتے ہیں وہ داخل ہوں گے جہنم میں ذلیل و خوار ہو کر۔

آیت 60 { وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْٓ اَسْتَجِبْ لَکُمْ } ”اور تمہارا رب کہتا ہے کہ مجھے پکارو ‘ میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔“ ابتدا میں بتایا گیا تھا کہ اس سورت کا مرکزی مضمون دعا ہے۔ چناچہ نوٹ کیجیے یہاں پھر فرمایا جا رہا ہے کہ اگر تم میرے بندے ہو تو مجھ سے مانگو ! انسان کا معاملہ یہ ہے کہ اس سے مانگا جائے تو اس پر گراں گزرتا ہے ‘ جبکہ اللہ سے اگر نہ مانگا جائے تو وہ ناراض ہوتا ہے۔ گویا عطائے خداوندی خود سائلوں کی تلاش میں رہتی ہے ع ”ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں !“ نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ رات کے پچھلے پہر اللہ تعالیٰ سمائے دنیا تک نزول فرماتے ہیں اور ایک ندا ہوتی ہے : ھَلْ مِنْ سَائِلٍ فَاُعْطِیَہُ ، ھَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَاَغْفِرَلَـہٗ ، ھَلْ مِنْ تَائِبٍ فَاَتُوْبَ عَلَیْہِ ، ھَلْ مِنْ دَاعٍ فَاُجِیْبَہٗ 1 ”ہے کوئی مانگنے والا کہ میں اسے عطا کروں ؟ ہے کوئی گناہوں کی معافی مانگنے والا کہ میں اسے معاف کروں ؟ ہے کوئی توبہ کرنے والا کہ میں اس کی توبہ قبول کروں ؟ ہے کوئی پکارنے والا کہ میں اس کی پکار قبول کروں ؟“ { اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَہَنَّمَ دٰخِرِیْنَ } ”یقینا وہ لوگ جو میری عبادت سے تکبر کی بنا پر اعراض کرتے ہیں وہ داخل ہوں گے جہنم میں ذلیل و خوار ہو کر۔“ قبل ازیں عبادت اور دعا کے لازم و ملزوم ہونے کے بارے میں گفتگو ہوچکی ہے اور اس حدیث کا ذکر بھی ہوچکا ہے جس میں حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ دعا ہی اصل عبادت ہے۔ چناچہ اس آیت میں یہ نکتہ مزید واضح ہوگیا ہے۔ یہاں پر پہلے دعا کا ذکر کیا گیا ہے ادْعُوْنِیْٓ اور پھر اسی کے لیے عبادت کا لفظ لایا گیا ہے۔ گویا اس آیت میں دعا اور عبادت مترادف الفاظ کے طور پر آئے ہیں۔
Ayah 40:61

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 40:61 in the Quran reader

اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی ہے تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو اور دن بنا دیا ہے دیکھنے کے لیے۔ یقینا اللہ تو اپنے بندوں پر بہت فضل والا ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔

آیت 61 { اَللّٰہُ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الَّیْلَ لِتَسْکُنُوْا فِیْہِ وَالنَّہَارَ مُبْصِرًا } ”اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی ہے تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو اور دن بنا دیا ہے دیکھنے کے لیے۔“ اس نے رات کو تاریک بنایا ہے تاکہ تم اس میں آرام کرو اور دن کو روشن بنایا ہے تاکہ تم اس میں کام کرو۔ { اِنَّ اللّٰہَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَی النَّاسِ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْکُرُوْنَ } ”یقینا اللہ تو اپنے بندوں پر بہت فضل والا ہے ‘ لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔“
Ayah 40:62

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ١ۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ٘ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 40:62 in the Quran reader

وہ ہے اللہ تمہارا رب جو ہرچیز کا خالق ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو کہاں سے تم پھرائے جا رہے ہو !

آیت 62 { ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ خَالِقُ کُلِّ شَیْئٍ ”وہ ہے اللہ تمہارا رب جو ہرچیز کا خالق ہے۔“ { لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَز فَاَنّٰی تُؤْفَکُوْنَ } ”اس کے سوا کوئی معبود نہیں ‘ تو کہاں سے تم پھرائے جا رہے ہو !“
Ayah 40:63

كَذٰلِكَ یُؤْفَكُ الَّذِیْنَ كَانُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 40:63 in the Quran reader

اسی طرح وہ لوگ بھی الٹے پھرائے گئے تھے جو اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے

آیت 63 { کَذٰلِکَ یُؤْفَکُ الَّذِیْنَ کَانُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ یَجْحَدُوْنَ } ”اسی طرح وہ لوگ بھی الٹے پھرائے گئے تھے جو اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے۔“
Ayah 40:64

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً وَّ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۖۚ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:64 in the Quran reader

اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے بنا دیا زمین کو ٹھہرنے کی جگہ اور آسمان کو چھت اور تمہاری صورت گری کی تو کیا ہی عمدہ تمہاری صورتیں بنائیں اور تمہیں رزق بہم پہنچایا پاکیزہ چیزوں سے۔ تو بہت بابرکت ہے اللہ جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے

آیت 64 { اَللّٰہُ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّالسَّمَآئَ بِنَآئً } ”اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے بنا دیا زمین کو ٹھہرنے کی جگہ اور آسمان کو چھت“ { وَّصَوَّرَکُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَکُمْ } ”اور تمہاری صورت گری کی ‘ تو کیا ہی عمدہ تمہاری صورتیں بنائیں“ { وَرَزَقَکُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ } ”اور تمہیں رزق بہم پہنچایا پاکیزہ چیزوں سے۔“ { ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْج } ”وہ ہے اللہ تمہارا رب !“ { فَتَبٰـرَکَ اللّٰہُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ } ”تو بہت بابرکت ہے اللہ جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔“
Ayah 40:65

هُوَ الْحَیُّ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:65 in the Quran reader

وہ زندہ وجاوید ہستی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں پس اسی کو پکارو ! اس کے لیے اطاعت کو خالص کرتے ہوئے کل ُ حمد اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔

آیت 65 { ہُوَ الْحَیُّ لَآ اِلٰــہَ اِلَّا ہُوَ } ”وہ زندہ وجاوید ہستی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں“ ایک وہی ذات ہے جو خود زندہ ہے ‘ صرف اسی کی حیات ذاتی ہے۔ باقی زندگی جہاں بھی ہے ‘ جس شکل میں بھی ہے اسی کی عطا کردہ ہے۔ ہمیں بھی زندگی کے یہ چار دن اسی نے مستعار دیے ہیں۔ ع ”عمر ِدراز مانگ کے لائے تھے چار دن !“ { فَادْعُوْہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ } ”پس اسی کو پکارو ! اس کے لیے اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔“ نوٹ کیجیے ‘ پھر وہی حکم دہرایا جا رہا ہے کہ دعا اسی سے مانگو ‘ وہ قبول بھی کرے گا ‘ مگر شرط یہ ہے کہ تمہاری اطاعت خالص اسی کے لیے ہونی چاہیے۔ { اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن } ”کل ُ حمد اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔“
Ayah 40:66

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَمَّا جَآءَنِیَ الْبَیِّنٰتُ مِنْ رَّبِّیْ١٘ وَ اُمِرْتُ اَنْ اُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:66 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ !) آپ کہہ دیجیے : مجھے تو روک دیا گیا ہے کہ میں بندگی کروں ان کی جن کو تم پکار رہے ہو اللہ کے سوا جبکہ میرے پاس آچکی ہیں واضح تعلیمات میرے رب کی طرف سے اور مجھے تو حکم ہوا ہے کہ میں سرتسلیم خم کر دوں تمام جہانوں کے پروردگار کے سامنے

آیت 66 { قُلْ اِنِّیْ نُہِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجیے : مجھے تو روک دیا گیا ہے کہ میں بندگی کروں ان کی جن کو تم پکار رہے ہو اللہ کے سوا“ آیت 60 کی طرح یہاں بھی عبادت اَعْبُدَ اور دعا تَدْعُوْنَ کے الفاظ ایک دوسرے کے مترادف کے طور پر استعمال ہوئے ہیں۔ { لَمَّا جَآئَ نِیَ الْبَیِّنٰتُ مِنْ رَّبِّیْ } ”جبکہ میرے پاس آچکی ہیں واضح تعلیمات میرے رب کی طرف سے“ { وَاُمِرْتُ اَنْ اُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ } ”اور مجھے تو حکم ہوا ہے کہ میں سرتسلیم خم کر دوں تمام جہانوں کے پروردگار کے سامنے۔“ جہاں تک سورة المومن میں توحید ِعملی کے داخلی پہلو یعنی دعا کے مضمون کا تعلق ہے وہ اس سورت کی آیت 65 پر اختتام پذیر ہوچکا ہے۔ اس کے بعد اس سورت میں بھی انہیں مضامین کی جھلک نظر آئے گی جو عام طور پر مکی سورتوں میں آئے ہیں۔ البتہ یہاں پر یہ مضامین قدرے مختلف اسلوب اور ترتیب میں نظر آئیں گے۔ ان ہی مضامین میں سے ایک انسان کی تخلیق کا ذکر ہے :
Ayah 40:67

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ یُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ ثُمَّ لِتَكُوْنُوْا شُیُوْخًا١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى مِنْ قَبْلُ وَ لِتَبْلُغُوْۤا اَجَلًا مُّسَمًّى وَّ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 40:67 in the Quran reader

وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا پہلے مٹی سے پھر نطفے سے پھر علقہ سے پھر وہ تمہیں نکال لیتا ہے ایک بچے کی حیثیت سے پھر (تمہیں پروان چڑھاتا ہے) تاکہ تم پہنچ جائو اپنی جوانی کو پھر (تمہیں مزید عمر دیتا ہے) تاکہ تم ہو جائو بوڑھے اور تم میں سے بعض وہ بھی ہیں جنہیں اس سے پہلے ہی وفات دے دی جاتی ہے اور (بعض کو مہلت دیتا ہے) تاکہ تم ایک وقت معین ّکو پہنچ جائو اور (یہ اس لیے ہے) تاکہ تم نصیحت حاصل کرو

آیت 67 { ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَۃٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَۃٍ } ”وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا پہلے مٹی سے ‘ پھر نطفے سے ‘ پھر علقہ سے“ عَلَقَہکے لغوی معنی ایسی چیز کے ہیں جو کسی دوسری چیز کے ساتھ معلق ّہو۔ اس لفظ میں بچے کی تخلیق کے حوالے سے دوسرے مرحلے کی کیفیت بیان ہوئی ہے جب نطفہ رحم مادر کی دیوار کے ساتھ لٹکی ہوئی ایک جونک کی سی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ -۔ -۔ -۔ لفظ ”عَلَقَہ“ کی مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة المومنون کی آیت 14 کی تشریح۔ { ثُمَّ یُخْرِجُکُمْ طِفْلًا } ”پھر وہ تمہیں نکال لیتا ہے ایک بچے کی حیثیت سے“ { ثُمَّ لِتَبْلُغُوْٓا اَشُدَّکُمْ } ”پھر تمہیں پروان چڑھاتا ہے تاکہ تم پہنچ جائو اپنی جوانی کو“ { ثُمَّ لِتَکُوْنُوْا شُیُوْخًا } ”پھر تمہیں مزید عمر دیتا ہے تاکہ تم ہو جائو بوڑھے۔“ یعنی حیات انسانی کا دورانیہ life cycle عام طور پر اسی نہج پر چلتا ہے۔ { وَمِنْکُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰی مِنْ قَبْلُ } ”اور تم میں سے بعض وہ بھی ہیں جنہیں اس سے پہلے ہی وفات دے دی جاتی ہے“ بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو بڑھاپے کی عمر تک نہیں پہنچ پاتے۔ کوئی بچپن میں فوت ہوجاتا ہے اور کوئی جوانی میں۔ { وَلِتَبْلُغُوْٓا اَجَلًا مُّسَمًّی وَّلَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ۔ ”اور بعض کو مہلت دیتا ہے تاکہ تم ایک وقت معین ّکو پہنچ جائو اور یہ اس لیے ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔“ چاہے کوئی بچپن میں ہی انتقال کر جائے ‘ کوئی جوانی میں فوت ہو یا کوئی بہت طویل عمر پالے ‘ ہر شخص نے اپنی موت تک بہر صورت زندہ رہنا ہے اور ہر شخص کی موت کا وقت اللہ کے ہاں مقرر اور طے شدہ ہے۔
Ayah 40:68

هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ فَاِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۠ Open ayah 40:68 in the Quran reader

وہی ہے جو زندہ رکھتا ہے اور موت وارد کرتا ہے۔ چناچہ (اُس کے امر کی شان تو یہ ہے کہ) جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرلیتا ہے تو کہتا ہے ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے

آیت 68 { ہُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَیُمِیْتُج } ”وہی ہے جو زندہ رکھتا ہے اور موت وارد کرتا ہے۔“ { فَاِذَا قَضٰٓی اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ } ”چناچہ اُس کے امر کی شان تو یہ ہے کہ جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرلیتا ہے تو کہتا ہے ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے۔“
Ayah 40:69

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ اَنّٰى یُصْرَفُوْنَ٤ۖۛۚ Open ayah 40:69 in the Quran reader

کیا تم نے غور نہیں کیا ان لوگوں کے حال پر جو اللہ کی آیات کے بارے میں جھگڑتے ہیں ! وہ کہاں سے پھرائے جا رہے ہیں ؟

آیت 69 { اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ َیُجَادِلُوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِ اللّٰہِ } ”کیا تم نے غور نہیں کیا ان لوگوں کے حال پر جو اللہ کی آیات کے بارے میں جھگڑتے ہیں !“ اَلَمْ تَرَکا لفظی ترجمہ تو یہ ہوگا کہ کیا تم نے دیکھا نہیں ؟ لیکن اس کا مفہوم یہی ہے کہ کیا تم نے غور نہیں کیا ؟ { اَنّٰی یُصْرَفُوْنَ } ”وہ کہاں سے پھرائے جا رہے ہیں ؟“ یعنی وہ حق کے قریب پہنچ کر واپس پلٹ گئے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں محمد ﷺ کا دور نصیب ہوا ‘ آپ ﷺ کے ساتھ ایک شہر اور ایک جگہ اکٹھے رہنے کا موقع ملا۔ لیکن ان کی بد قسمتی ملاحظہ کیجیے کہ اللہ تعالیٰ کے اتنے بڑے انعام کے باوجود بھی یہ لوگ ہدایت سے محروم رہ گئے۔ مقامِ عبرت ہے ! دیکھو ‘ یہ لوگ کہاں تک پہنچ کر ناکام لوٹے ہیں : ؎ قسمت کی خوبی دیکھئے ٹوٹی کہاں کمند دو چار ہاتھ جبکہ لب ِبام رہ گیا !
Ayah 40:70

الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِالْكِتٰبِ وَ بِمَاۤ اَرْسَلْنَا بِهٖ رُسُلَنَا١ۛ۫ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 40:70 in the Quran reader

وہ لوگ کہ جنہوں نے جھٹلایا کتاب کو اور ان چیزوں کو جن کے ساتھ ہم نے بھیجا اپنے رسولوں کو تو عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا

آیت 70 { الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِالْکِتٰبِ وَبِمَآ اَرْسَلْنَا بِہٖ رُسُلَنَاقف فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ } ”وہ لوگ کہ جنہوں نے جھٹلایا کتاب کو اور ان چیزوں کو جن کے ساتھ ہم نے بھیجا اپنے رسولوں کو ‘ تو عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا۔“ بس کچھ ہی وقت کی بات ہے ‘ اصل حقیقت ان پر منکشف ہوجائے گی۔
Ayah 40:71

اِذِ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ وَ السَّلٰسِلُ١ؕ یُسْحَبُوْنَۙ Open ayah 40:71 in the Quran reader

جب ان کی گردنوں میں طوق پڑے ہوں گے اور وہ زنجیروں میں جکڑے ہوں گے (اس حالت میں) انہیں گھسیٹا جائے گا

آیت 71 { اِذِ الْاَغْلٰلُ فِیْٓ اَعْنَاقِہِمْ وَالسَّلٰسِلُط یُسْحَبُوْنَ } ”جب ان کی گردنوں میں طوق پڑے ہوں گے اور وہ زنجیروں میں جکڑے ہوں گے ‘ اس حالت میں انہیں گھسیٹا جائے گا۔“
Ayah 40:72

فِی الْحَمِیْمِ١ۙ۬ ثُمَّ فِی النَّارِ یُسْجَرُوْنَۚ Open ayah 40:72 in the Quran reader

کھولتے پانی میں پھر انہیں آگ میں جھونک دیا جائے گا۔

آیت 72 { فِی الْْحَمِیْمِلا ثُمَّ فِی النَّارِ یُسْجَرُوْنَ } ”کھولتے پانی میں ‘ پھر انہیں آگ میں جھونک دیا جائے گا۔“
Ayahs 40:73–74

ثُمَّ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 40:73 in the Quran reader

پھر ان سے کہا جائے گا : کہاں ہیں وہ جنہیں تم شریک بنایا کرتے تھے

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا بَلْ لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُوْا مِنْ قَبْلُ شَیْئًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 40:74 in the Quran reader

اللہ کے سوا ؟ وہ کہیں گے : سب گم ہوگئے ہم سے بلکہ ہم نہیں پکار رہے تھے اس سے پہلے کسی بھی شے کو۔ اسی طرح اللہ بھٹکا دیتا ہے کافروں کو۔

آیت 73 ‘ 74 { ثُمَّ قِیْلَ لَہُمْ اَیْنَ مَا کُنْتُمْ تُشْرِکُوْنَ۔ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ } ”پھر ان سے کہا جائے گا : کہاں ہیں وہ جنہیں تم شریک بنایا کرتے تھے اللہ کے سوا ؟“ { قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا بَلْ لَّمْ نَکُنْ نَّدْعُوْا مِنْ قَبْلُ شَیْئًاط } ”وہ کہیں گے : سب گم ہوگئے ہم سے ‘ بلکہ ہم نہیں پکار رہے تھے اس سے پہلے کسی بھی شے کو۔“ اے اللہ ! آج اس وقت ہم پر یہ حقیقت واضح ہوگئی ہے کہ جنہیں معبود سمجھ کر ہم پکارا کرتے تھے ان کا تو کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ { کَذٰلِکَ یُضِلُّ اللّٰہُ الْکٰفِرِیْنَ۔ ’ ‘ ’ اسی طرح اللہ بھٹکا دیتا ہے کافروں کو۔“
Ayah 40:75

ذٰلِكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَۚ Open ayah 40:75 in the Quran reader

اور یہ سب اس لیے ہوا کہ تم زمین میں ناحق اتراتے تھے اور اس لیے بھی کہ تم اکڑا بھی کرتے تھے۔

آیت 75 { ذٰلِکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَبِمَا کُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَ } ”اور یہ سب اس لیے ہوا کہ تم زمین میں ناحق اتراتے تھے اور اس لیے بھی کہ تم اکڑا بھی کرتے تھے۔“ تم لوگ دنیا کے مال و متاع پر خواہ مخواہ اکٹرفوں دکھاتے تھے۔ گویا تم ہلدی کی گانٹھ مل جانے پر پنساری بن بیٹھے تھے۔ حالانکہ دنیا میں تمہارا وہ سارا مال و متاع ہمارا ہی عطا کیا ہوا تھا جس پر اترانے اور فخر جتلانے کا تمہیں کوئی حق نہیں تھا۔
Ayah 40:76

اُدْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 40:76 in the Quran reader

اب داخل ہو جائو جہنم کے دروازوں میں اس میں ہمیشہ رہنے کے لیے تو یہ بہت ہی ُ برا ٹھکانہ ہے متکبرین ّکا۔

آیت 76 { اُدْخُلُوْٓا اَبْوَابَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْہَاج } ”اب داخل ہو جائو جہنم کے دروازوں میں ‘ اس میں ہمیشہ رہنے کے لیے۔“ { فَبِئْسَ مَثْوَی الْمُتَکَبِّرِیْنَ } ”تو یہ بہت ہی ُ برا ٹھکانہ ہے متکبرین ّکا۔“ اب اگلی آیت میں حضور ﷺ سے خطاب کر کے آپ ﷺ کی وساطت سے تمام مسلمانوں کو تسلی دی جا رہی ہے :
Ayah 40:77

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۚ فَاِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 40:77 in the Quran reader

تو (اے نبی ﷺ !) آپ صبرکیجیے یقینا اللہ کا وعدہ حق ہے تو اگر ہم آپ ﷺ کو دکھا دیں اس میں سے کچھ جس کا ہم ان سے وعدہ کر رہے ہیں یا ہم آپ کو وفات دے دیں پھر ان کو ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے

آیت 77 { فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ} ”تو اے نبی ﷺ ! آپ صبرکیجیے ‘ یقینا اللہ کا وعدہ حق ہے۔“ اللہ کا وعدہ ہے کہ اس کا دین ضرور غالب ہوگا : { مَآ اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰٓی } طٰہ ”ہم نے یہ قرآن آپ ﷺ پر اس لیے تو نازل نہیں کیا کہ آپ ﷺ ناکام ہوجائیں“ معاذ اللہ ! { فَاِمَّا نُرِیَنَّکَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُہُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّکَ } ”تو اگر ہم آپ ﷺ کو دکھا دیں اس میں سے کچھ جس کا ہم ان سے وعدہ کر رہے ہیں یا ہم آپ کو وفات دے دیں“ یہ مضمون قرآن میں متعدد بار آچکا ہے کہ جس عذاب کے بارے میں انہیں خبردار کیا جا رہا ہے وہ ان پر آپ ﷺ کی زندگی میں بھی آسکتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان پر وہ برا وقت آپ ﷺ کے دنیا سے چلے جانے کے بعد آئے۔ { فَاِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ } ”پھر ان کو ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔“ مجھے انہیں پکڑنے کی کوئی جلدی نہیں ہے۔ وہ بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتے۔ انہوں نے آنا تو بہر حال میرے ہی پاس ہے۔
Ayah 40:78

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَیْكَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَیْكَ١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ قُضِیَ بِالْحَقِّ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُوْنَ۠ Open ayah 40:78 in the Quran reader

اور ہم نے بہت سے رسول بھیجے آپ ﷺ سے پہلے ان میں سے کچھ وہ بھی ہیں جن کا ذکر ہم نے آپ سے کیا ہے اور کچھ وہ بھی ہیں جن کا ذکر ہم نے آپ سے نہیں کیا اور کسی بھی رسول کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ وہ کوئی نشانی لے آتا مگر اللہ کے اذن سے پھر جب اللہ کا حکم آگیا تو فیصلہ چکا دیا گیا حق کے ساتھ اور اس وقت خسارے میں پڑگئے جھٹلانے والے

آیت 78 { وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِکَ مِنْہُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَیْکَ وَمِنْہُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَیْکَ } ”اور ہم نے بہت سے رسول بھیجے آپ ﷺ سے پہلے ‘ ان میں سے کچھ وہ بھی ہیں جن کا ذکر ہم نے آپ سے کیا ہے اور کچھ وہ بھی ہیں جن کا ذکر ہم نے آپ سے نہیں کیا۔“ یعنی ان رسولوں میں سے بعض کے حالات آپ کو سنا دیے ہیں اور بعض کے نہیں سنائے۔ { وَمَا کَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَۃٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰہِ } ”اور کسی بھی رسول کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ وہ کوئی نشانی لے آتا مگر اللہ کے اذن سے۔“ کبھی کوئی رسول اپنی مرضی اور ذاتی کوشش سے اپنی قوم کو کوئی معجزہ نہیں دکھا سکا۔ یہ مضمون اکثر مکی سورتوں میں آیا ہے۔ گویا اس مضمون کی ڈور کا تسلسل زیر مطالعہ مکی سورتوں میں بھی نظر آ رہا ہے۔ { فَاِذَا جَآئَ اَمْرُ اللّٰہِ قُضِیَ بِالْحَقِّ وَخَسِرَ ہُنَالِکَ الْمُبْطِلُوْنَ } ”پھر جب اللہ کا حکم آگیا تو فیصلہ چکا دیا گیا حق کے ساتھ اور اس وقت خسارے میں پڑگئے جھٹلانے والے۔“
Ayah 40:79

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَنْعَامَ لِتَرْكَبُوْا مِنْهَا وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ٘ Open ayah 40:79 in the Quran reader

اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے چوپائے بنا دیے تاکہ تم سواری کرو ان میں سے بعض پر اور ان میں سے بعض کا تم گوشت بھی کھاتے ہو

آیت 79 { اَللّٰہُ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَنْعَامَ لِتَرْکَبُوْا مِنْہَا وَمِنْہَا تَاْکُلُوْنَ } ”اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے چوپائے بنا دیے تاکہ تم سواری کرو ان میں سے بعض پر اور ان میں سے بعض کا تم گوشت بھی کھاتے ہو۔“
Ayah 40:80

وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ لِتَبْلُغُوْا عَلَیْهَا حَاجَةً فِیْ صُدُوْرِكُمْ وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَؕ Open ayah 40:80 in the Quran reader

اور ان میں تمہارے لیے اور بھی بہت سی منفعتیں ہیں اور تاکہ ان پر سوار ہو کر تم اپنی وہ ضرورتیں پوری کرو جو تمہارے دل میں ہوتی ہیں اور ان پر بھی اور کشتیوں پر بھی تمہیں سوار کرایا جاتا ہے

آیت 80 { وَلَکُمْ فِیْہَا مَنَافِعُ } ”اور ان میں تمہارے لیے اور بھی بہت سی منفعتیں ہیں“ یہ مضمون اس سے پہلے سورة النحل میں بہت تفصیل سے آچکا ہے۔ { وَلِتَبْلُغُوْا عَلَیْہَا حَاجَۃً فِیْ صُدُوْرِکُمْ وَعَلَیْہَا وَعَلَی الْفُلْکِ تُحْمَلُوْنَ } ”اور تاکہ ان پر سوار ہو کر تم اپنی وہ ضرورتیں پوری کرو جو تمہارے دل میں ہوتی ہیں اور ان پر بھی اور کشتیوں پر بھی تمہیں سوار کرایا جاتا ہے۔“