39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsتفسیر بیان القرآن

Ayah 39:73

وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِیْنَ Open ayah 39:73 in the Quran reader

اور لے جایا جائے گا ان لوگوں کو جنت کی طرف جو اپنے رب کا تقویٰ اختیار کیے رہے تھے گروہ در گروہ یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے اور اس کے دروازے (پہلے ہی) کھولے جا چکے ہوں گے اور اس کے داروغہ ان سے کہیں گے : آپ پر سلام ہو آپ لوگ کتنے پاکباز ہیں اب داخل ہوجائیے اس میں ہمیشہ ہمیش رہنے کے لیے

آیت 73 { وَسِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّہُمْ اِلَی الْجَنَّۃِ زُمَرًا } ”اور لے جایا جائے گا ان لوگوں کو جنت کی طرف جو اپنے رب کا تقویٰ اختیار کیے رہے تھے گروہ در گروہ۔“ { حَتّٰٓی اِذَا جَآئُ وْہَا وَفُتِحَتْ اَبْوَابُہَا } ”یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے اور اس کے دروازے پہلے ہی کھولے جا چکے ہوں گے“ یہاں پر ”و“ بہت معنی خیز ہے۔ اس ”و“ کی وجہ سے فقرے میں یہ مفہوم پیدا ہو رہا ہے کہ جنت کے دروازے پہلے سے ہی کھلے ہوں گے۔ یعنی اہل جنت کا انتظار کھلے دروازوں کے ساتھ ہو رہا ہوگا۔ اس حوالے سے سورة ص کی آیت 50 میں { مُفَتَّحَۃً لَّہُمُ الْاَبْوَابُ۔ } کے الفاظ بھی اسی مفہوم کو واضح کرتے ہیں۔ { وَقَالَ لَہُمْ خَزَنَتُہَا سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ طِبْتُمْ } ”اور اس کے داروغہ ان سے کہیں گے : آپ پر سلام ہو ‘ آپ لوگ کتنے پاکباز ہیں !“ { فَادْخُلُوْہَا خٰلِدِیْنَ } ”اب داخل ہوجائیے اس میں ہمیشہ ہمیش رہنے کے لیے۔“
Ayah 39:74

وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَهٗ وَ اَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّةِ حَیْثُ نَشَآءُ١ۚ فَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ Open ayah 39:74 in the Quran reader

اور وہ کہیں گے کہ ُ کل حمد اور کل شکر اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہم سے اپنا وعدہ پورا کردیا اور ہمیں اس زمین کا وارث بنا دیا کہ اب ہم گھر بنا لیں جنت میں جہاں چاہیں و بہت ہی اچھا ہوگا اجر عمل کرنے والوں کا !

آیت 74 { وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَہٗ } ”اور وہ کہیں گے کہ ُ کل حمد اور کل شکر اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہم سے اپنا وعدہ پورا کردیا“ { وَاَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّۃِ حَیْثُ نَشَآئُ } ”اور ہمیں اس زمین کا وارث بنا دیا کہ اب ہم گھر بنا لیں جنت میں جہاں چاہیں۔“ { فَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ } ”تو بہت ہی اچھا ہوگا اجر عمل کرنے والوں کا !“ گواہوں نے گواہیاں دے دیں ‘ آخری فیصلے صادر کردیے گئے ‘ سزا پانے والوں کو جہنم کی طرف بھیج دیا گیا ‘ کامیاب ہونے والوں کو جنت میں پہنچا دیا گیا۔ اب آخری آیت میں گویا عدالت ِمحشر کا اختتامی منظر ڈراپ سین دکھایا جا رہا ہے :
Ayah 39:75

وَ تَرَى الْمَلٰٓئِكَةَ حَآفِّیْنَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ قِیْلَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 39:75 in the Quran reader

اور تم دیکھو گے فرشتوں کو کہ وہ عرش الٰہی کو گھیرے ہوئے ہوں گے اپنے ربّ کی تسبیح بیان کر رہے ہوں گے اس کی حمد کے ساتھ ور ان کے مابین حق کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور پکارا جائے گا کہ ُ کل کی کل حمد اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے

آیت 75 { وَتَرَی الْمَلٰٓئِکَۃَ حَآفِّیْنَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّہِمْ } ”اور تم دیکھو گے ‘ فرشتوں کو کہ وہ عرش الٰہی کو گھیرے ہوئے ہوں گے ‘ اپنے ربّ کی تسبیح بیان کر رہے ہوں گے اس کی حمد کے ساتھ۔“ { وَقُضِیَ بَیْنَہُمْ بِالْحَقِّ } ”اور ان کے مابین حق کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا“ یہاں پر بَیْنَہُمْ سے کچھ مفسرین نے تو انسان ہی مرادلیے ہیں اور ان کی رائے یہ ہے کہ یہاں گویا وہی بات دہرائی گئی ہے جو قبل ازیں چھٹے رکوع میں بایں الفاظ بیان ہوچکی ہے :ـ { وَقُضِیَ بَیْنَہُمْ بِالْحَقِّ وَہُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ }۔ لیکن ایک دوسری رائے کے مطابق یہاں پر وَقُضِیَ بَیْنَہُمْ کا مطلب یہ ہے کہ انسانوں کے فیصلوں کے بعد فرشتوں کے درمیان بھی فیصلہ کردیا جائے گا۔ قبل ازیں سورة صٓ کی آیت 69 کے ضمن میں یہ وضاحت کی جا چکی ہے کہ فرشتے عاقل ہستیاں ہیں۔ ان میں سے ہر کوئی اپنی سوچ اور اپنی رائے رکھتا ہے۔ اس بنا پر ان میں اختلافات بھی ہوتے رہتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کے بارے میں بحث کرتے ہوئے ان میں سے ہر کوئی اپنی اپنی رائے دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے فلاں فیصلے میں یہ حکمت ہے ‘ وغیرہ وغیرہ۔ چناچہ اس جملے کا ایک مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آخر میں فرشتوں کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کا بھی حق کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا۔ { وَقِیْلَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ } ”اور پکارا جائے گا کہ ُ کل کی کل حمد اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے !“ یعنی آخر میں وہی اللہ تعالیٰ کی جے بلند کی جائے گی کہ کل شکر اور کل تعریف اللہ کے لیے ہے ‘ جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے !