33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsتفسیر بیان القرآن

Ayah 33:24

لِّیَجْزِیَ اللّٰهُ الصّٰدِقِیْنَ بِصِدْقِهِمْ وَ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ اِنْ شَآءَ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ Open ayah 33:24 in the Quran reader

تا کہ اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا پورا پورا بدلہ دے اور منافقین کو چاہے تو عذاب دے اور چاہے تو ان کی توبہ قبول کرلے } یقینا اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔

آیت 24 { لِّیَجْزِیَ اللّٰہُ الصّٰدِقِیْنَ بِصِدْقِہِمْ } ”تاکہ اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا پورا پورا بدلہ دے“ { وَیُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ اِنْ شَآئَ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْہِمْ } ”اور منافقین کو چاہے تو عذاب دے اور چاہے تو ان کی توبہ قبول کرلے۔“ یعنی اللہ چاہے تو ان کو توبہ کا موقع دے دے۔ { اِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا } ”یقینا اللہ بہت بخشنے والا ‘ نہایت رحم کرنے والا ہے۔“ اس آیت سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اس وقت 5 ہجری تک منافقین کے لیے توبہ کا دروازہ کھلا تھا۔ لیکن جب یہ مہلت ختم ہوگئی تو ان کے متعلق یہ فیصلہ سنا دیا گیا : { اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَلَنْ تَجِدَ لَہُمْ نَصِیْرًا } النساء ”یقینا منافقین آگ کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے ‘ اور تم نہ پائو گے ان کے لیے کوئی مدد گار۔“ بلکہ غزوہ تبوک کی مہم کے دوران ان کے کردار اور رویے ّکے سبب سورة التوبہ میں ان کے بارے میں آخری فیصلہ بایں الفاظ فرما دیا گیا : { اِسْتَغْفِرْ لَہُمْ اَوْ لاَ تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّۃً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَہُمْ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ کَفَرُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَاللّٰہُ لاَ یَہْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ } ”اے نبی ﷺ ! آپ ان کے لیے استغفار کریں یا ان کے لیے استغفار نہ کریں ان کے حق میں برابر ہے ‘ اگر آپ ستر ّمرتبہ بھی ان کے لیے استغفار کریں گے تب بھی اللہ انہیں ہرگز معاف نہیں فرمائے گا۔ یہ اس لیے کہ یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ کفر کرچکے ہیں ‘ اور اللہ ایسے فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔“
Ayah 33:25

وَ رَدَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِغَیْظِهِمْ لَمْ یَنَالُوْا خَیْرًا١ؕ وَ كَفَى اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ قَوِیًّا عَزِیْزًاۚ Open ayah 33:25 in the Quran reader

اور لوٹا دیا اللہ نے کافروں کو ان کے غصے کے ساتھ ہی وہ کوئی کامیابی حاصل نہ کرسکے۔ اور اللہ کافی رہا اہل ِایمان کی طرف سے قتال کے لیے۔ } اور یقینا اللہ بڑی طاقت والا سب پر غالب ہے۔

آیت 25 { وَرَدَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِغَیْظِہِمْ } ”اور لوٹا دیا اللہ نے کافروں کو ان کے غصے کے ساتھ ہی“ کفارو مشرکین بہت بڑا لشکر اکٹھا کر کے فتح کے زعم میں مدینہ پر حملہ آور ہوئے تھے ‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں ناکام و نامراد پسپا کردیا۔ نہ تو جنگ کی نوبت آئی اور نہ ہی وہ اپنا ہدف حاصل کرسکے۔ ان کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف غصے کی جو آگ بھڑک رہی تھی اسے بھی ٹھنڈا کرنے کا انہیں موقع نہ ملا اور اپنے غیظ و غضب سمیت ہی انہیں بےنیل ِمرام واپس جانا پڑا۔ { لَمْ یَنَالُوْا خَیْرًا } ”وہ کوئی کامیابی حاصل نہ کرسکے۔“ اس مہم میں انہیں ناکامی و حسرت کے سوا کچھ بھی حاصل نہ ہوسکا۔ نہ تو وہ کسی قسم کا کوئی کارنامہ سرانجام دے سکے اور نہ ہی کوئی مفاد حاصل کرسکے۔ { وَکَفَی اللّٰہُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَ } ”اور اللہ کافی رہا اہل ِایمان کی طرف سے قتال کے لیے۔“ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے کھلی جنگ کی نوبت ہی نہ آنے دی اور اپنی تدابیر اور اپنے لشکروں کے ذریعے سے ہی کفار کو شکست دے دی۔ گویا اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ایک کڑے امتحان سے تو گزارا مگر انہیں کوئی گزند نہ پہنچنے دی۔ { وَکَانَ اللّٰہُ قَوِیًّا عَزِیْزًا } ”اور یقینا اللہ بڑی طاقت والا ‘ سب پر غالب ہے۔“ اب آئندہ آیات میں غزوئہ بنی قریظہ کا ذکر ہے۔ یہ غزوہ گویا غزوئہ احزاب کا ضمیمہ ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ جب کفار کے لشکر چلے گئے اور نبی اکرم ﷺ خندق سے پلٹ کر گھر تشریف لائے اور اپنی زرہ اور ہتھیار اتارے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ ﷺ نے ہتھیار اتار دیے ہیں ‘ جبکہ ہم نے تو ابھی نہیں اتارے ! اس لیے کہ ابھی بنی قریظہ کو ان کی بد عہدی کی سزا دینا باقی ہے۔ یہ ظہر کا وقت تھا۔ حضور ﷺ نے فوراً اعلان فرمایا کہ ”جو کوئی سمع وطاعت پر قائم ہو وہ عصر کی نماز اس وقت تک نہ پڑھے جب تک دیار بنی قریظہ پر نہ پہنچ جائے !“ ساتھ ہی آپ ﷺ نے حضرت علی رض کو ایک دستے کے ساتھ ُ مقدمۃ ُ الجیش کے طور پر بنوقریظہ کی طرف روانہ فرما دیا۔ کچھ ہی دیر کے بعد حضور ﷺ کی قیادت میں پورا اسلامی لشکر وہاں پہنچ گیا اور ان کی بستی کا محاصرہ کرلیا۔ یہ اپنے مضبوط قلعوں اور گڑھیوں میں محصور ہوگئے۔ دو تین ہفتوں کے محاصرے کے بعد بالآخر یہودیوں نے اس شرط پر ہتھیار ڈال دیے کہ حضرت سعد بن معاذ رض ان کے بارے میں جو فیصلہ کریں گے وہ انہیں قبول ہوگا۔ حضرت سعد رض بن معاذ قبیلہ اوس کے رئیس تھے اور قبیلہ اوس کے ساتھ ماضی میں بنی قریظہ کے حلیفانہ تعلقات رہ چکے تھے۔ اس لیے بنی قریظہ کو امید تھی کہ وہ ان کے حق میں نرم فیصلہ کریں گے اور انہیں بھی اسی طرح مدینہ سے نکل جانے دیں گے جس طرح قبل ازیں بنو قینقاع اور بنونضیر کو نکل جانے دیا گیا تھا۔ لیکن حضرت سعد رض دیکھ چکے تھے کہ پہلے جن دو یہودی قبیلوں کو مدینہ سے نکل جانے کا موقع دیا گیا تھا وہ کس طرح سارے گرد و پیش کے قبائل کو بھڑکا کر مدینہ پر بارہ ہزار کا لشکر چڑھا لائے تھے۔ اور یہ معاملہ بھی حضرت سعد رض کے سامنے تھا کہ بنوقریظہ نے عین بیرونی حملے کے موقع پر بدعہدی کر کے مسلمانوں کی تباہی کا سامان کیا تھا۔ چناچہ حضرت سعد رض نے تورات کے احکام کے عین مطابق فیصلہ سنایا اور تورات میں بد عہدی کی جو سزا تھی وہی سزا ان کے لیے تجویز کی۔ اس فیصلے کے مطابق بنی قریظہ کے ان تمام َمردوں کو قتل کردیا گیا جو جنگ کے قابل تھے۔ عورتوں ‘ بچوں اور بوڑھوں کو غلام بنا لیا گیا اور ان کے اموال و املاک پر قبضہ کرلیا گیا۔ اس طرح مدینہ سے اس آخری یہودی قبیلے کا بھی خاتمہ ہوگیا۔ اس سے پہلے دو یہودی قبائل بنو قینقاع اور بنو نضیر کو بد عہدی ہی کی سزا کے طور پر مدینہ سے جلا وطن کیا جا چکا تھا۔ بہر حال ان تینوں قبائل میں سے بنی قریظہ کو بد ترین سزا کا سامنا کرنا پڑا۔ جب مسلمان بنو قریظہ کی گڑھیوں میں داخل ہوئے تو انہیں معلوم ہوا کہ ان غداروں نے جنگ احزاب میں حصہ لینے کے لیے بہت بڑی تعداد میں تلواریں ‘ نیزے ‘ ڈھالیں اور زرہیں تیار رکھی تھیں۔
Ayah 33:26

وَ اَنْزَلَ الَّذِیْنَ ظَاهَرُوْهُمْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ صَیَاصِیْهِمْ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ وَ تَاْسِرُوْنَ فَرِیْقًاۚ Open ayah 33:26 in the Quran reader

اور اللہ نے اتار لیا اہل ِکتاب میں سے ان لوگوں کو جنہوں نے ان (مشرکین) کی مدد کی تھی ان کے قلعوں سے اور ان کے دلوں میں اس نے رعب ڈال دیا } تو اب ان میں سے کچھ کو تم قتل کر رہے ہو اور کچھ کو تم قیدی بنا رہے ہو

آیت 26 { وَاَنْزَلَ الَّذِیْنَ ظَاہَرُوْہُمْ مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ مِنْ صَیَاصِیْہِمْ } ”اور اللہ نے اتار لیا اہل ِکتاب میں سے ان لوگوں کو جنہوں نے ان مشرکین کی مدد کی تھی ‘ ان کے قلعوں سے“ بنو قریظہ کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے مسلمانوں سے بد عہدی کر کے حملہ آور قبائل کے ساتھ گٹھ جوڑ کرلیا تھا۔ چناچہ اللہ کی مشیت کے مطابق انہیں اپنے قلعوں اور گڑھیوں سے نکل کر مسلمانوں کے آگے ہتھیار ڈالنا پڑے۔ { وَقَذَفَ فِیْ قُلُوْبِہِمُ الرُّعْبَ } ”اور ان کے دلوں میں اس نے رعب ڈال دیا“ { فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ وَتَاْسِرُوْنَ فَرِیْقًا } ”تو اب ان میں سے کچھ کو تم قتل کر رہے ہو اور کچھ کو تم قیدی بنا رہے ہو۔“ یعنی حضرت سعد بن معاذ رض کے فیصلے کے مطابق جنگ کے قابل مرد قتل کردیے گئے ‘ جبکہ بوڑھوں ‘ عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا لیا گیا۔
Ayah 33:27

وَ اَوْرَثَكُمْ اَرْضَهُمْ وَ دِیَارَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ وَ اَرْضًا لَّمْ تَطَئُوْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا۠ Open ayah 33:27 in the Quran reader

اور اس نے تمہیں وارث بنا دیا ان کی زمینوں ان کے گھروں اور ان کے اموال کا اور اس زمین کا بھی جس پر ابھی تم نے قدم نہیں رکھے۔ } اور اللہ ہرچیز پر قادر ہے۔

آیت 27 { وَاَوْرَثَکُمْ اَرْضَہُمْ وَدِیَارَہُمْ وَاَمْوَالَہُمْ } ”اور اس نے تمہیں وارث بنا دیا ان کی زمینوں ‘ ان کے گھروں اور ان کے اموال کا“ { وَاَرْضًا لَّمْ تَطَئُوْہَا } ”اور اس زمین کا بھی جس پر ابھی تم نے قدم نہیں رکھے۔“ اس فقرے میں ان تمام فتوحات کی طرف اشارہ موجود ہے جو بعد میں مسلمانوں کو حاصل ہوئیں۔ اس لحاظ سے غزوئہ احزاب حضور ﷺ کی جدوجہد کے سفر میں ایک فیصلہ کن موڑ turning point ثابت ہوا۔ اس سلسلے میں حضور ﷺ نے اہل ایمان کو خوشخبری بھی سنا دی تھی کہ : لَنْ تَغْزُوْکُمْ قُرَیْشٌ بَعْدَ عَامِکُمْ ھٰذَا وَلٰـکِنَّـکُمْ تَغْزُوْنَھُمْ 1 یعنی ”اس سال کے بعد قریش کبھی بھی تم پر حملہ آور نہیں ہو سکیں گے ‘ بلکہ آئندہ تم ان پر چڑھائی کرو گے۔“ حضور ﷺ کے اس فرمان کی صداقت اگلے ہی سال یعنی 6 ہجری میں اس وقت ظاہر ہوگئی جب آپ ﷺ چودہ سو صحابہ رض کے ساتھ عمرہ کرنے کے لیے مکہ روانہ ہوئے۔ اس سفر میں مسلمانوں نے احرام باندھ رکھے تھے۔ تلواروں کے علاوہ ان کے پاس کوئی اور ہتھیار بھی نہیں تھا اور تلواریں بھی نیاموں میں تھیں۔ حضور ﷺ اپنے قافلے کے ساتھ جب مکہ کے قریب پہنچے تو یہ صورت حال گویا مشرکین مکہ کے گلے میں ایک ایسی ہڈی کی طرح پھنس کر رہ گئی جسے نہ وہ اگل سکتے تھے اور نہ نگل سکتے تھے۔ ایک طرف ان کی صدیوں پرانی روایات تھیں جن کے مطابق کسی بد ترین دشمن کو بھی حج یا عمرے سے روکا نہیں جاسکتا تھا اور دوسری طرف ان کی انا تھی جس کے تحت وہ مسلمانوں کو کسی قیمت پر بھی مکہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے سکتے تھے۔ ان کے لیے یہ دونوں صورتیں ہی مشکل تھیں۔ مسلمانوں کو مکہ میں داخل ہونے سے روکیں تو کس جواز کے تحت روکیں اور اگر آنے کی اجازت دیں تو کس منہ سے ایسا کریں ! اس صورت حال میں حضور ﷺ نے حدیبیہ کے مقام پر پڑائو کرنے کا حکم دیا اور حضرت عثمان رض کو حالات کا جائزہ لینے کے لیے مکہ بھیجا۔ حضرت عثمان رض کو مکہ میں کچھ زیادہ دیر رکنا پڑا تو مسلمان لشکر میں کسی طرح یہ افواہ پھیل گئی کہ مشرکین نے انہیں شہید کردیا ہے۔ اس پر حضور ﷺ نے آپ رض کے خون کا بدلہ لینے کے لیے صحابہ رض سے بیعت لینے کا ارادہ ظاہر فرمایا۔ چناچہ موقع پر موجود تمام صحابہ رض نے آپ ﷺ کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر حضرت عثمان رض کے خون کا بدلہ لینے کے لیے آخری دم تک لڑنے کا عہد کیا تھا۔ یہ بیعت علی الموت تھی اور تاریخ میں اسے ”بیعت ِرضوان“ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ جب اس بیعت کی خبر مکہ پہنچی تو مشرکین کے چھکے ّچھوٹ گئے۔ انہوں نے سفارتی مہم کے ذریعے حضور ﷺ کو صلح کی پیش کش کی اور طویل مذاکرات کے بعدبالآخر فریقین کے مابین صلح حدیبیہ کا تاریخی معاہدہ طے پا گیا۔ اس معاہدہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورة الفتح میں بایں الفاظ تبصرہ فرمایا : { اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا } ”یقینا ہم نے آپ ﷺ کو فتح مبین عطا فرمائی ہے۔“ اس فرمانِ الٰہی کے اثرات وثمرات فوری طور پر ہی ظاہر ہونا شروع ہوگئے۔ اگلے ہی سال 7 ہجری میں مسلمانوں نے یہودیوں کا مضبوط گڑھ خیبر فتح کرلیا۔ اس کے بعد مسلمانوں کی فتوحات کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوگیا اور بیس سال کے اندر اندر اسلامی سلطنت کی حدود تین براعظموں تک وسیع ہوگئیں۔ آیت زیر نظر میں انہی فتوحات کے بارے میں پیشین گوئی کی گئی ہے۔ { وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرًا } ”اور اللہ ہرچیز پر قادر ہے۔“
Ayah 33:28

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَ اُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا Open ayah 33:28 in the Quran reader

اے نبی ﷺ آپ اپنی بیویوں سے کہہ دیجیے کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو } تو آئو میں تمہیں کچھ مال و متاع دے کر اچھے طریقے سے رخصت کر دوں

جیسا کہ قبل ازیں بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اس رکوع کے مضمون کا ربط پہلے رکوع کے مضمون کے ساتھ ہے۔ دراصل یہ پورا مضمون معاشرتی اصلاحات سے متعلق ہے جس کی پہلی قسط کے طور پر کچھ احکام یہاں اس سورت میں بیان ہوئے ہیں جبکہ ان احکام کی دوسری قسط سورة النور میں ہے جو ایک سال بعد 6 ہجری میں نازل ہوئی۔ ان اصلاحات میں عورتوں کے پردے کے بارے میں احکام بھی شامل ہیں۔ اس سے پہلے عرب میں عورتوں کے پردے کا رواج نہیں تھا۔ باہر نکلتے ہوئے عورتیں اگرچہ ایک بڑی سی چادر لپیٹ کر نکلتی تھیں لیکن وہ سر ڈھانپنے اور چہرہ چھپانے کا اہتمام نہیں کرتی تھیں۔ اسی طرح گھروں کے اندر بھی غیر محرم مردوں کا بےتکلف آنا جانا رہتا تھا اور گھر کی خواتین ان مردوں سے پردہ نہیں کرتی تھیں۔ چناچہ اس معاملے میں تدریجاً اصلاحی احکام دیے گئے اور charity begins at home کے اصول کے مطابق پردے کے ابتدائی حکم میں سب سے پہلے حضور ﷺ کی ازواجِ مطہرات رض کو مخاطب کیا گیا۔ قبل ازیں آیت 21 میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذات میں ایک اعلیٰ نمونہ ہے۔ گویا ایک باپ کی حیثیت سے ‘ ایک بیٹے کی حیثیت سے ‘ داماد کی حیثیت سے ‘ سسر کی حیثیت سے ‘ قاضی القضاۃ کی حیثیت سے ‘ سپہ سالار کی حیثیت سے ‘ سربراہ مملکت کی حیثیت سے ‘ امام ‘ خطیب ‘ ّمعلم ‘ مربی ‘ مزکی ‘ غرض ہر قابل ذکر حیثیت سے آپ ﷺ کی ذات اور زندگی میں ایک کامل نمونہ ہے۔ لیکن بنیادی طور پر یہ نمونہ مردوں کے لیے ہے۔ مرد ہونے کی حیثیت سے آپ ﷺ کی زندگی میں عورتوں اور عورتوں کے نسوانی معاملات کے لیے تو مکمل نمونہ دستیاب نہیں ہوسکتا تھا۔ اس لیے عورتوں کی راہنمائی کے لیے ضروری تھا کہ کسی عورت کے کردار کو بطور نمونہ پیش کیا جاتا۔ چناچہ یہاں حضور ﷺ کے اُسوئہ مبارک کا ذکر فرمانے کے بعد حضور ﷺ کی ازواجِ مطہرات رض کو خصوصی طور پر مخاطب کر کے گویا ان کے کردار کو دنیا بھر کی عورتوں کے لیے اسوہ بنانا مقصود ہے۔ یعنی جس طرح حضور ﷺ کی ذات امت کے لیے اسوہ ہے عین اسی طرح آپ ﷺ کی ازواجِ مطہرات رض خصوصی طور پر خواتین ِاُمت کے لیے مثال اور نمونہ ہیں۔ اسی بنا پر انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ اگر تم نیکی کرو گی تو دوگنا اجر پائو گی ‘ اور اگر خدانخواستہ تم سے کوئی غلطی سرزد ہوئی تو اس کی سزا بھی تمہیں دوگنا ملے گی۔ اس لیے کہ اب تم لوگوں کی زندگیاں دنیا بھر کی مسلمان خواتین کے لیے اسوہ ہیں اور مسلمان خواتین کو رہتی دنیا تک تمہاری پیروی کرنا ہے۔ آیت 28{ یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لاَزْوَاجِکَ اِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا وَزِیْنَتَہَا } ”اے نبی ﷺ آپ اپنی بیویوں سے کہہ دیجیے کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو“ { فَتَعَالَـیْنَ اُمَتِّعْکُنَّ وَاُسَرِّحْکُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا } ”تو آئو میں تمہیں کچھ مال و متاع دے کر اچھے طریقے سے رخصت کر دوں۔“ یہ آیات واقعہ ایلاء سے متعلق ہیں۔ اس کی تفصیل یوں ہے کہ جب فتوحات کے باعث مدینہ میں کثرت سے مال غنیمت آنا شروع ہوا تو مجموعی طور پر مسلمانوں کے ہاں خوشحالی آنا شروع ہوگئی۔ ان حالات میں بربنائے طبع بشری ازواجِ مطہرات رض کی طرف سے بھی تقاضا آیا کہ اب ان کے نفقات بھی بڑھائے جائیں۔ حضور ﷺ نے اس مطالبے کو سخت ناپسند فرمایا اور بات یہاں تک پہنچ گئی کہ آپ ﷺ مسجد کے ساتھ ایک بالا خانے میں منتقل ہوگئے اور ایک ماہ تک آپ ﷺ نے اپنی کسی بھی اہلیہ محترمہ کے پاس نہ جانے کی قسم کھالی۔ جونہی یہ خبر لوگوں تک پہنچی تو مدینے میں گویا ایک کہرام مچ گیا۔ ہر کوئی پریشان تھا اور ہر کسی کے ذہن میں سوال تھا کہ اب کیا ہوگا ؟ کیا حضرت ابوبکر رض کی بیٹی حضرت عائشہ رض کو طلاق ہوجائے گی ؟ کیا حضرت عمر رض کی بیٹی حضرت حفصہ رض کو طلاق ہوجائے گیـ؟ شوہر کی طرف سے بیوی کے ساتھ کسی وجہ سے قطع تعلقی کی قسم کھا لینے کو فقہ کی اصطلاح میں ”ایلاء“ کہا جاتا ہے۔ اس کا حکم سورة البقرۃ میں اس طرح آیا ہے : { لِلَّذِیْنَ یُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآئِہِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَۃِ اَشْہُرٍج فَاِنْ فَآ ئُ وْ فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ} ”جو لوگ اپنی بیویوں سے تعلق نہ رکھنے کی قسم کھا بیٹھتے ہیں ‘ ان کے لیے چار ماہ کی مہلت ہے ‘ پس اگر وہ رجوع کرلیں تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔“ زیر مطالعہ آیات حضور ﷺ کے ایلاء فرمانے کے بعد نازل ہوئیں۔ ان آیات کی ہدایات کے مطابق آپ ﷺ نے ازواجِ مطہرات رض کو واضح طور پر اختیار دے دیا کہ وہ دوراستوں میں سے جو راستہ چاہیں قبول کرلیں۔
Ayah 33:29

وَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْكُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 33:29 in the Quran reader

اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کے گھر کی طالب ہو تو (اطمینان رکھو کہ) اللہ نے تم جیسی نیک خواتین کے لیے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔

آیت 29 { وَاِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَالدَّارَ الْاٰخِرَۃَ فَاِنَّ اللّٰہَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْکُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا } ”اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کے گھر کی طالب ہو تو اطمینان رکھو کہ اللہ نے تم جیسی نیک خواتین کے لیے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔“ اب آپ لوگوں کی مرضی ہے کہ دنیا اور اس کی آسائشیں حاصل کرنے کا راستہ اختیار کر لویا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہتے ہوئے فقر و فاقہ کی زندگی قبول کرلو۔ اس آیت کے نزول کے وقت رسول اللہ ﷺ کے نکاح میں چار بیویاں تھیں۔ حضرت سودہ ‘ حضرت عائشہ ‘ حضرت حفصہ اور حضرت اُمّ سلمہ رض۔ ابھی حضرت زینب رض سے حضور ﷺ کا نکاح نہیں ہوا تھا۔ روایات کے مطابق حضور ﷺ نے سب سے پہلے یہ بات حضرت عائشہ رض کے سامنے رکھی اور ان سے فرمایا کہ اس معاملے میں اپنے والدین کی رائے لے لو ‘ پھر فیصلہ کرو۔ انہوں نے بلاتوقف عرض کیا : ”کیا یہ معاملہ میں اپنے والدین سے پوچھوں ؟ میں تو اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کی طالب ہوں۔“ اس کے بعد حضور ﷺ نے باقی ازواجِ مطہرات رض میں سے ایک ایک کے پاس جا کر یہی بات فرمائی اور ہر ایک نے وہی جواب دیا جو حضرت عائشہ رض نے دیا تھا۔ اور یوں سب ازواجِ مطہرات رض اپنے مطالبات سے دستبردار ہوگئیں۔ اس کے بعد حضور ﷺ کی تمام ازواج مطہرات رض نے اپنی زندگیاں اس طرح گزار دیں کہ حضور ﷺ کے کسی ایک گھر میں بھی متواتر دو وقت کا چولہا کبھی گرم نہ ہوا۔
Ayah 33:30

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ مَنْ یَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ یُّضٰعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَیْنِ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 33:30 in the Quran reader

اے نبی ﷺ کی بیویو ! تم میں سے جو کوئی (بالفرض) کسی کھلی بےحیائی کا ارتکاب کرے گی اسے دوگنا عذاب دیاجائے گا۔ } اور یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔

آیت 30 { یٰنِسَآئَ النَّبِیِّ مَنْ یَّاْتِ مِنْکُنَّ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ یُّضٰعَفْ لَہَا الْعَذَابُ ضِعْفَیْنِ } ”اے نبی ﷺ کی بیویو ! تم میں سے جو کوئی بالفرض کسی کھلی بےحیائی کا ارتکاب کرے گی اسے دوگنا عذاب دیاجائے گا۔“ { وَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرًا } ”اور یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔“ یہ نہ سمجھنا کہ آپ نبی ﷺ کی بیویاں ہو اور نبی ﷺ آپ کو بچا لیں گے۔ اس معاملے میں اللہ تعالیٰ کا قانون بہت واضح ہے کہ اگر کسی شخص کے اپنے اعمال درست نہ ہوں تو آخرت میں اسے کوئی دوسرا نہیں بچا سکے گا۔ اس حوالے سے حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی کا ذکر قرآن میں کثرت سے آیا ہے۔ سورة التحریم میں حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی کے ساتھ حضرت نوح علیہ السلام کی بیوی کا ذکر بھی ہے کہ وہ دونوں انبیاء کی بیویاں ہوتے ہوئے بھی عذاب سے نہ بچ سکیں۔ حضرت ابوہریرہ رض سے روایت ہے کہ جب یہ آیت { وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ۔ الشعراء نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے قریش کے تمام خاص و عام کو بلا کر جمع فرمایا اور ایک ایک قبیلے کا نام لے کر اس کے افراد کو مخاطب فرمایا : یا بنی کعب بن لوی !… یا بنی مُرۃ بن کعب !… یا بنی عبد شمس !… یا بنی عبد مناف !… یا بنی ہاشم !… یا بنی عبدالمطلب ! اور ہر ایک کو یہی فرمایا : اَنْقِذُوْا اَنْفُسَکُمْ مِنَ النَّارِ ”اپنے آپ کو آگ سے بچائو !“ آخر میں آپ ﷺ نے اپنی پیاری بیٹی سیدہ فاطمۃ الزہراء رض کو مخاطب کرتے ہوئے بھی یہی فرمایا : یَا فَاطِمَۃُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ اَنْقِذِیْ نَفْسَکِ مِنَ النَّارِ ، فَاِنِّیْ لَا اَمْلِکُ لَـکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا ”اے محمد ﷺ کی بیٹی فاطمہ ! اپنے آپ کو آگ سے بچائو ! اس لیے کہ میں تم لوگوں کو اللہ کی گرفت سے بچانے کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا۔“ صحیح مسلم ‘ ح : 204 دوسری روایت کے مطابق آپ ﷺ نے اپنے خاندان کے افراد کو بھی نام لے لے کر مخاطب فرمایا : یَا عَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ! لَا اُغْنِیْ عَنْکَ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا ، یَا صَفِیَّۃُ عَمَّۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ! لَا اُغْنِیْ عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا ، یَا فَاطِمَۃُ بِنْتَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ! سَلِینِیْ بِمَا شِئْتِ ، لَا اُغْنِیْ عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا صحیح مسلم ‘ ح : 206 ”اے میرے چچا عباس بن عبدالمطلب ! میں اللہ کے محاسبے کے وقت آپ کے کچھ کام نہ آسکوں گا۔ اے اللہ کے رسول کی پھوپھی صفیہ ! میں اللہ کے محاسبے کے وقت آپ کے کچھ کام نہ آسکوں گا۔ اے اللہ کے رسول کی بیٹی فاطمہ ! مجھ سے جو چاہو مانگ لو ‘ لیکن میں اللہ کے محاسبے کے وقت تمہارے کچھ کام نہ آسکوں گا۔“ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ آیت قرآنی کے الفاظ کا یہ مطلب نہیں کہ ‘ معاذ اللہ ‘ نبی اکرم ﷺ کی ازواجِ مطہرات سے کسی بےحیائی کا اندیشہ تھا ‘ بلکہ اس سے مقصود آپ ﷺ کی ازواج کو یہ احساس دلانا تھا کہ اسلامی معاشرے میں ان کا مقام جس قدر بلند ہے اسی کے لحاظ سے ان کی ذمہ داریاں بھی بہت سخت ہیں ‘ اس لیے ان کا اخلاقی رویہ انتہائی پاکیزہ ہونا چاہیے۔
Ayah 33:31

وَ مَنْ یَّقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِهَاۤ اَجْرَهَا مَرَّتَیْنِ١ۙ وَ اَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِیْمًا Open ayah 33:31 in the Quran reader

اور جو کوئی تم میں سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت پر کاربند رہے گی اور نیک عمل کرے گی تو اسے ہم دوگنا اجردیں گے } اور اس کے لیے ہم نے عزت ّوالا رزق تیار کر رکھا ہے۔

آیت 31 { وَمَنْ یَّقْنُتْ مِنْکُنَّ لِلّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَتَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِہَآ اَجْرَہَا مَرَّتَیْنِ } ”اور جو کوئی تم میں سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت پر کاربند رہے گی اور نیک عمل کرے گی تو اسے ہم دوگنا اجردیں گے“ { وَاَعْتَدْنَا لَہَا رِزْقًا کَرِیْمًا } ”اور اس کے لیے ہم نے عزت ّوالا رزق تیار کر رکھا ہے۔“ جنت میں انہیں ہر طرح کی نعمتوں سے نوازا جائے گا۔
Ayah 33:32

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًاۚ Open ayah 33:32 in the Quran reader

اے نبی ﷺ کی بیویو ! تم عام عورتوں کی مانند نہیں ہو اگر تم تقویٰ اختیار کرو تو گفتگو میں نرمی پیدا نہ کرو کہ وہ شخص جس کے دل میں روگ ہے وہ کسی لالچ میں پڑجائے } اور بات کرو معروف انداز میں۔

آیت 32 { یٰنِسَآئَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآئِ } ”اے نبی ﷺ کی بیویو ! تم عام عورتوں کی مانند نہیں ہو“ مراد یہ ہے کہ نبی مکرم ﷺ کی بیویاں ہونے کی حیثیت سے تمہیں تا قیام قیامت امت کی خواتین کے لیے اسوہ بننا ہے۔ آئندہ آیات میں ازواجِ مطہرات رض کو پردے سے متعلق خصوصی ہدایات دی جا رہی ہیں۔ اس سلسلے کی پہلی ہدایت یہ ہے : { اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ } ”اگر تم تقویٰ اختیار کرو تو گفتگو میں نرمی پیدا نہ کرو“ جیسا کہ قبل ازیں بیان ہوچکا ہے ‘ ان آیات کے نزول کے وقت عربوں کے رواج کے مطابق غیر مرد ایک دوسرے کے گھروں میں بےدھڑک آتے جاتے تھے اور گھر کی عورتوں سے بلا روک ٹوک گفتگو بھی کرتے تھے۔ چناچہ اس سلسلے میں پہلی ہدایت یہ دی گئی کہ اگر کسی مرد سے تمہیں براہ راست کبھی کوئی بات کرنی پڑے تو تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ تمہاری آواز میں کسی قسم کی نزاکت ‘ نرمی یا چاشنی کا شائبہ تک نہ ہو۔ { فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِہٖ مَرَضٌ} ”کہ وہ شخص جس کے دل میں روگ ہے وہ کسی لالچ میں پڑجائے“ ظاہر ہے کہ منافق بھی اسی معاشرے میں موجود تھے اور وہ کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ حضرت عائشہ رض پر بہتان تراشی کا واقعہ اس کی واضح مثال ہے جس کی تفصیل ہم سورة النور میں پڑھ چکے ہیں۔ چناچہ پہلے اقدام کے طور پر یہاں غیر محرم َمردوں سے بات چیت میں احتیاط کا حکم دیا گیا ہے ‘ کیونکہ مخاطب خاتون کی آواز میں نرمی اور لوچ محسوس کرکے گندی ذہنیت کے حامل کسی شخص کے دل میں کوئی منفی آرزو پیدا ہوسکتی ہے اور وہ بات آگے بڑھانے کی کوشش کا سوچ سکتا ہے۔ { وَّقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا } ”اور بات کرو معروف انداز میں۔“ اندازِ گفتگو میں نہ نرمی و نزاکت کی جھلک ہو اور نہ ہی ترشی و تلخی کا رنگ ‘ بس معقول اور معروف انداز میں صرف ضرورت کی بات چیت ہونی چاہیے۔
Ayah 33:33

وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى وَ اَقِمْنَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتِیْنَ الزَّكٰوةَ وَ اَطِعْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًاۚ Open ayah 33:33 in the Quran reader

اور تم اپنے گھروں میں قرار پکڑو اور مت نکلو بن سنور کر پہلے دور جاہلیت کی طرح اور نماز قائم کرو زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت پر کاربند رہو۔ } اللہ تو بس یہی چاہتا ہے اے نبی ﷺ کے گھر والو ! کہ وہ دور کر دے تم سے ناپاکی اور تمہیں خوب اچھی طرح پاک کر دے۔

آیت 33 { وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ } ”اور تم اپنے گھروں میں قرار پکڑو“ ایک مخلوط معاشرے کو اسلامی معاشرے میں بدلنے کے سلسلے میں دوسری ہدایت یہ ہے کہ عورت کا اصل اور مستقل مقام اس کا گھر ہے۔ چناچہ اسے چاہیے کہ وہ گھر کے اندر رہ کر ماں ‘ بہن ‘ بیٹی یا بیوی کا کردار خوش اسلوبی سے ادا کرنے کی کوشش کرے۔ { وَلَا تَـبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّۃِ الْاُوْلٰی } ”اور مت نکلو بن سنور کر پہلے دور جاہلیت کی طرح“ تبرّج کے معنی ہیں نمایاں ہونا اور نمائش کرنا۔ یہاں اس سے عورتوں کا بنائو سنگھار کر کے غیر َمردوں کے سامنے خود کو نمایاں کرنے کا عمل مراد ہے۔ اس عمل کا مقصد عورت کی اس خواہش کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا کہ لوگوں کی نگاہیں اس کی طرف اٹھیں اور وہ ان کی توجہات کا مرکز بنے۔ عربوں کے ہاں تو اپنے تمدن اور طرزمعاشرت پر بڑھ چڑھ کر فخر کیا جاتا تھا اور وہ فرعون کی طرح اسے ”مثالی کلچر“ { بِطَرِیْقَتِکُمُ الْمُثْلٰی } طٰہٰ قرار دیتے ہوں گے ‘ لیکن قرآن نے ان طور طریقوں کو ”جاہلیت“ کی علامت قرار دیا ہے اور مسلمان خواتین کو ہدایت کی ہے کہ وہ خود کو اپنے گھروں تک محدود رکھیں اور بن ٹھن کر باہر نکلنے کے طور طریقے ترک کردیں۔ { وَاَقِمْنَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتِیْنَ الزَّکٰوۃَ وَاَطِعْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ } ”اور نماز قائم کرو ‘ زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت پر کاربند رہو۔“ { اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیْرًا } ”اللہ تو بس یہی چاہتا ہے اے نبی ﷺ کے گھر والو ! کہ وہ دور کر دے تم سے ناپاکی اور تمہیں خوب اچھی طرح پاک کر دے۔“ اے نبی ﷺ کی بیویو ! جس طرح محمد رسول اللہ ﷺ کی مثالی شخصیت میں امت کے لیے اسوہ ہے ‘ اسی طرح تمہاری شخصیات کو بھی پوری امت مسلمہ کی خواتین کے لیے اسوہ اور نمونہ بننا ہے۔ اس لیے اللہ چاہتا ہے کہ تمہیں ہر طرح کی آلائشوں سے پاک اور صاف کر کے تہذیب ِنفس ‘ تصفیہ قلب اور تزکیہ باطن کا اعلیٰ مرتبہ عطا فرمائے۔ یہاں پر اَہْلَ الْبَیْتِ کے خطاب کی مخاطب بلاشبہ ازواجِ مطہرات رض ہیں ‘ کیونکہ خطاب کا آغاز ہی یٰـنِسَآئَ النَّبِیِّ کے الفاظ سے کیا گیا ہے اور اس سے پہلی اور بعد کی آیات میں سارا خطاب انہی سے ہے۔ اس سے پہلے سورة ہود کی آیت 73 میں بھی یہ لفظ اہل البیت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اہلیہ محترم حضرت سارہ علیہ السلام کے لیے استعمال ہوا ہے۔ جب فرشتے انسانی شکلوں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے گھر آئے تو انہوں نے حضرت سارہ علیہ السلام کو مخاطب کر کے یوں کہا : { رَحْمَتُ اللّٰہِ وَبَرَکٰتُہٗ عَلَیْکُمْ اَہْلَ الْبَیْتِ } ”اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہوں تم پر اے نبی علیہ السلام کے گھر والو !“ چناچہ اس ضمن میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے کہ ”اہل بیت“ سے اصلاً ازواجِ مطہرات رض مراد ہیں۔ البتہ حضرت فاطمہ ‘ حضرت علی اور حضرات حسنین رض کے بارے میں اُمّ المومنین حضرت اُمّ سلمہ رض سے مروی حضور ﷺ کا یہ فرمان : اَللّٰھُمَّ ھٰؤُلَائِ اَھْلُ بَیْتِیْ فَاَذْھِبْ عَنْھُمُ الرِّجْسَ وَطَھِّرْھُمْ تَطْھِیْرًا 1 گویا ان شخصیات کو بھی اہل بیت کے دائرے میں شامل کرنے سے متعلق ہے کہ اے اللہ ! یہ لوگ بھی میرے اہل ِبیت ہیں ‘ چناچہ ان سے بھی گندگی دور کر دے اور انہیں پاک کر دے۔
Ayah 33:34

وَ اذْكُرْنَ مَا یُتْلٰى فِیْ بُیُوْتِكُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ وَ الْحِكْمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا۠ Open ayah 33:34 in the Quran reader

اور یاد کیا کرو جو تمہارے گھروں میں اللہ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں اور حکمت کی باتیں (سنائی جاتی ہیں) } یقینا اللہ بہت باریک بین ہرچیز سے باخبر ہے۔

آیت 34 { وَاذْکُرْنَ مَا یُتْلٰی فِیْ بُیُوْتِکُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰہِ وَالْحِکْمَۃِ } ”اور یاد کیا کرو جو تمہارے گھروں میں اللہ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں اور حکمت کی باتیں سنائی جاتی ہیں۔“ آپ لوگوں کے گھروں میں اللہ کے رسول ﷺ پر وحی نازل ہوتی ہے اور یہاں سے دنیا بھر کو آیات الٰہی اور حکمت و دانائی کی تعلیم دی جاتی ہے ‘ اس لیے آپ لوگ سب سے بڑھ کر آیات ِالٰہی کو سننے اور ان پر عمل کرنے کی مکلف ہو۔ اس لحاظ سے بھی ازواج مطہرات رض کے درمیان حضرت عائشہ رض کو امتیازی شرف حاصل ہے۔ حضور ﷺ نے ایک بار حضرت اُمّ سلمہ رض سے حضرت عائشہ رض کے بارے میں فرمایا تھا : فَاِنَّـہٗ وَاللّٰہِ مَا نَزَلَ عَلَیَّ الْوَحْیُ وَاَنَا فِیْ لِحَافِ امْرَأَۃٍ مِنْکُنَّ غَیْرَھَا 1 ”اللہ کی قسم ‘ مجھ پر اس حال میں کبھی وحی نازل نہیں ہوئی کہ میں تم میں سے کسی عورت کے لحاف میں ہوں سوائے عائشہ رض کے۔“ ظاہر ہے وحی کا نزول تو حضور ﷺ کے قلب مبارک پر ہوتا تھا۔ اس کے لیے ظاہری طور پر تو کوئی خاص اہتمام کرنے اور جبرائیل علیہ السلام کو استیذان کی ضرورت نہیں تھی۔ جب اور جہاں اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا وحی کے ساتھ آپ ﷺ کے دل پر نازل ہوگئے۔ آیت میں ”حکمت“ سے وحی خفی یعنی حضور ﷺ کے فرمودات مراد ہیں۔ گویا حکمت نبوی ﷺ کی تعلیمات سے بھی سب سے بڑھ کر ازواجِ نبی ﷺ ہی مستفیض ہو رہی تھیں۔ { اِنَّ اللّٰہَ کَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا } ”یقینا اللہ بہت باریک بین ‘ ہرچیز سے باخبر ہے۔“
Ayah 33:35

اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآئِمِیْنَ وَ الصّٰٓئِمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِ١ۙ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 33:35 in the Quran reader

یقینا مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور مومن مرد اور مومن عورتیں ور فرماں بردار مرد اور فرماں بردار عورتیں اور راست باز مرد اور راست باز عورتیں اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں اور خشوع کرنے والے مرد اور خشوع کرنے والی عورتیں اور صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والی عورتیں اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں } اللہ نے ان سب کے لیے مغفرت اور بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔

آیت 35 { اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمٰتِ وَالْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ } ”یقینا مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ‘ اور مومن مرد اور مومن عورتیں“ ”مسلم“ کے لفظی معنی ہیں فرمانبردار اور سر ِتسلیم خم کرنے والا۔ جیسا کہ قبل ازیں بھی ذکر ہوچکا ہے کہ اس آیت کے ساتھ سورة النور کی آیت 35 کی ایک خاص مناسبت ہے۔ سورة النور کی مذکورہ آیت یہ ہے : { اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ مَثَلُ نُوْرِہٖ کَمِشْکٰوۃٍ فِیْہَا مِصْبَاحٌ اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَۃٍ اَلزُّجَاجَۃُ کَاَنَّہَا کَوْکَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ زَیْتُوْنَۃٍ لَّا شَرْقِیَّۃٍ وَّلَا غَرْبِیَّۃٍلا یَّکَادُ زَیْتُہَا یُضِیْٓ ُٔ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْہُ نَارٌ نُوْرٌ عَلٰی نُوْرٍ یَہْدِی اللّٰہُ لِنُوْرِہٖ مَنْ یَّشَآئُ وَیَضْرِبُ اللّٰہُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ وَاللّٰہُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ} ”اللہ نور ہے آسمانوں اور زمین کا۔ اس کے نور کی مثال ایسے ہے جیسے ایک طاق ‘ اس طاق میں ایک روشن چراغ ہے ‘ وہ چراغ شیشے کے فانوس میں ہے ‘ اور وہ شیشہ چمک رہا ہے جیسے کہ ایک چمکدار ستارہ ہو ‘ وہ چراغ جلایا جاتا ہے زیتون کے ایک مبارک درخت سے ‘ جو نہ شرقی ہے اور نہ غربی ‘ قریب ہے اس کا روغن خود بخود روشن ہوجائے ‘ چاہے اسے نہ چھوئے آگ۔ روشنی پر روشنی۔ اللہ ہدایت دیتا ہے اپنی روشنی کی جس کو چاہتا ہے ‘ اور اللہ یہ مثالیں بیان کرتا ہے لوگوں کے لیے ‘ جبکہ اللہ ہرچیز کا جاننے والا ہے۔“ سورة النور کی اس طویل آیت میں ایمان کی ماہیت و حقیقت اور ایمان کے اجزائے ترکیبی کا ذکر ہے۔ لیکن دل میں حقیقی ایمان کے جاگزیں ہوجا نے کے باعث متعلقہ شخصیت کے اندر جو اوصاف پیدا ہوتے ہیں ان کا ذکر آیت زیر مطالعہ میں آیا ہے۔ یہاں خصوصی طور پر ایک نکتہ یہ بھی سمجھ لیں کہ سورة النور اور سورة الاحزاب میں معاشرتی اصلاحات کے بارے میں جو احکام آئے ہیں ان میں عورتوں سے متعلق مسائل کی خصوصی اہمیت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آیت زیر نظر میں یہاں خصوصی طور پر َمردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کا ذکر علیحدہ صراحت کے ساتھ کیا گیا ہے ‘ جبکہ اس ضمن میں قرآن کا عمومی اسلوب یہی ہے کہ اکثر احکام مذکر کے صیغے میں دیے جاتے ہیں ‘ یعنی مردوں کو مخاطب کر کے ایک حکم دے دیا گیا اور بر سبیل ِ ”تغلیب“ عورتیں خود بخود اس حکم میں شامل ہوگئیں۔ جیسے وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ مذکر کا صیغہ ہے لیکن اس حکم میں مرد اور عورتیں سب شامل ہیں۔ بہر حال اس آیت میں تکرار کے ساتھ مردوں کے ساتھ خصوصی طور پر عورتوں کا ذکر کر کے دونوں کے لیے دس اوصاف ِگنوائے گئے ہیں : { وَالْقٰنِتِیْنَ وَالْقٰنِتٰتِ وَالصّٰدِقِیْنَ وَالصّٰدِقٰتِ } ”اور فرماں بردار مرد اور فرماں بردار عورتیں ‘ اور راست باز مرد اور راست باز عورتیں“ ”صدق“ سے مراد یہاں زبان کی سچائی کے ساتھ ساتھ عمل اور کردار کی سچائی ہے۔ { وَالصّٰبِرِیْنَ وَالصّٰبِرٰتِ وَالْخٰشِعِیْنَ وَالْخٰشِعٰتِ } ”اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں ‘ اور خشوع کرنے والے مرد اور خشوع کرنے والی عورتیں“ یعنی اللہ کے حضور جھک کر رہنے والے مرد اور عورتیں۔ { وَالْمُتَصَدِّقِیْنَ وَالْمُتَصَدِّقٰتِ وَالصَّآئِمِیْنَ وَالصّٰٓئِمٰتِ } ”اور صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں ‘ اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں“ { وَالْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَہُمْ وَالْحٰفِظٰتِ } ”اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والی عورتیں“ { وَالذَّاکِرِیْنَ اللّٰہَ کَثِیْرًا وَّالذّٰکِرٰتِ } ”اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں“ { اَعَدَّ اللّٰہُ لَہُمْ مَّغْفِرَۃً وَّاَجْرًا عَظِیْمًا } ”اللہ نے ان سب کے لیے مغفرت اور بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔“ اللَّھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ۔ -۔ - آمین !
Ayah 33:36

وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًاؕ Open ayah 33:36 in the Quran reader

اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کے لیے روا نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول ﷺ کسی معاملے کا فیصلہ کردیں تو (پھر بھی انہیں یہ خیال ہو کہ) ان کے لیے اپنے اس معاملے میں کوئی اختیار باقی ہے۔ } اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرے تو وہ صریح گمراہی میں پڑگیا۔

اب آئندہ آیات میں حضور اکرم ﷺ سے حضرت زینب رض کے نکاح سے متعلق معاملے کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔ پہلے رکوع میں اس مضمون کی تمہید کے طور پر ُ منہ بولے بیٹے کے بارے میں مختصر حکم آیا تھا ‘ لیکن یہاں پر اس معاملے کے تمام اہم پہلوئوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ مثلاً پہلے حضور ﷺ کے حکم اور خواہش کے مطابق حضرت زینب رض کا نکاح حضرت زید رض بن حارثہ سے ہونا ‘ بعد میں ناچاقی کی شکایت پر بھی حضور ﷺ کا حضرت زید رض کو طلاق نہ دینے کی ہدایت کرنا ‘ پھر حضور ﷺ کا یہ سوچنا کہ چونکہ میں نے اصرارکر کے نکاح کروایا تھا ‘ اس لیے اب اگر طلاق ہوئی تو حضرت زینب رض کے لیے اس کے علاوہ تلافی کی کوئی صورت نہیں ہوگی کہ میں خود ان سے نکاح کرلوں۔ پھر آپ ﷺ کا یہ سوچنا کہ اگر میں خود نکاح کروں گا تو منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے نکاح کرنے پر مخالفین ایک طوفان کھڑا کردیں گے۔ اگرچہ بظاہر اس میں کچھ مضائقہ نہیں تھا ‘ لیکن پھر بھی حضور ﷺ اسے مصلحت کے خلاف سمجھتے تھے۔ چناچہ حضور ﷺ اسی شش و پنج میں تھے کہ یہ آیات نازل ہوگئیں۔ آیت 36 { وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗٓ اَمْرًا اَنْ یَّکُوْنَ لَہُمُ الْخِیَرَۃُ مِنْ اَمْرِہِمْ } ”اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کے لیے روا نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول ﷺ کسی معاملے کا فیصلہ کردیں تو پھر بھی انہیں یہ خیال ہو کہ ان کے لیے اپنے اس معاملے میں کوئی اختیار باقی ہے۔“ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی تھی جب رسول اللہ ﷺ نے حضرت زید رض کے لیے حضرت زینب رض کے ساتھ نکاح کا پیغام بھجوایا تھا اور حضرت زینب رض اور ان کے بھائی عبداللہ رض بن جحش اسے منظور کرنے پر آمادہ نہیں تھے۔ اس آیت کے نزول کے بعد وہ فوراً آمادہ ہوگئے۔ { وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًا } ”اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرے تو وہ صریح گمراہی میں پڑگیا۔“ اپنے سیاق وسباق کے حوالے سے اگرچہ اس فقرے کا تعلق پس منظر میں بیان کیے گئے معاملہ سے ہے ‘ لیکن اس حکم کی نوعیت ایک قاعدہ کلیہ کی ہے کہ اگر کوئی شخص اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے فیصلے کے بعد بھی کسی معاملے میں یہ سمجھے کہ اب بھی اس کے پاس کوئی اختیار option باقی ہے تو وہ گویا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کا مرتکب ہو کر اس آیت کا مصداق ٹھہرے گا۔ حضرت زینب بنت جحش رض حضور ﷺ کی پھوپھی امیمہ بنت عبدالمطلب کی بیٹی تھیں۔ اس لحاظ سے ان کا تعلق قریش کے اونچے خاندان سے تھا۔ دوسری طرف حضرت زید رض بن حارثہ آزاد کردہ غلام تھے۔ اگرچہ ان کا تعلق بھی عرب کے ایک شریف خاندان سے تھا ‘ لیکن غلام تو وہ بہر حال رہ چکے تھے۔ اس لیے اگرچہ اس حکم کے بعد حضرت زینب رض اور ان کے گھر والوں نے اس نکاح کو قبول کرلیا تھا ‘ لیکن گمان غالب یہی ہے کہ حضرت زینب رض خاندانی تفاوت کے معاملے میں اپنے جذبات و احساسات کی وجہ سے حضرت زید رض کو شوہر کے طور پر مطلوبہ ادب و احترام نہ دے سکیں۔ حضرت زید رض نے متعدد بار حضور ﷺ سے اس صورت حال کی شکایت بھی کی اور طلاق دینے کی اجازت بھی چاہی مگر حضور ﷺ ہر دفعہ انہیں موافقت کی کوشش کرنے کی ہدایت فرما دیتے :
Ayah 33:37

وَ اِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْۤ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِ اَمْسِكْ عَلَیْكَ زَوْجَكَ وَ اتَّقِ اللّٰهَ وَ تُخْفِیْ فِیْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِیْهِ وَ تَخْشَى النَّاسَ١ۚ وَ اللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰىهُ١ؕ فَلَمَّا قَضٰى زَیْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا لِكَیْ لَا یَكُوْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْۤ اَزْوَاجِ اَدْعِیَآئِهِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا Open ayah 33:37 in the Quran reader

اور (اے نبی ﷺ !) جب آپ کہتے تھے اس شخص سے جس پر اللہ نے بھی انعام کیا تھا اور آپ نے بھی انعام کیا تھا کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس روکے رکھو اور اللہ سے ڈرو اور آپ ﷺ اپنے دل میں چھپائے ہوئے تھے وہ بات جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور آپ ﷺ لوگوں سے ڈر رہے تھے حالانکہ اللہ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ آپ ﷺ اس سے ڈریں۔ پس جب زید ؓ نے اس سے اپنا تعلق منقطع کرلیا تو اسے ہم نے آپ ﷺ کی زوجیت میں دے دیا تاکہ مومنوں کے لیے ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں کوئی تنگی نہ رہے جبکہ وہ ان سے اپنا تعلق بالکل کاٹ لیں۔ } اور اللہ کا فیصلہ تو پورا ہو کر ہی رہنا تھا۔

آیت 37 { وَاِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْٓ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاَنْعَمْتَ عَلَیْہِ اَمْسِکْ عَلَیْکَ زَوْجَکَ وَاتَّقِ اللّٰہَ } ”اور اے نبی ﷺ ! جب آپ کہتے تھے اس شخص سے جس پر اللہ نے بھی انعام کیا تھا اور آپ نے بھی انعام کیا تھا کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس روکے رکھو اور اللہ سے ڈرو“ اس سے مراد حضرت زید رض ہیں۔ ان پر اللہ تعالیٰ اور نبی اکرم ﷺ کا انعام و احسان یہ تھا کہ وہ گردش زمانہ سے اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت میں پہنچ گئے تھے اور آپ ﷺ کے گھر میں گھر کے ایک فرد کی حیثیت سے رہے تھے۔ ان کے والد حارثہ بن شراحیل کا تعلق قبیلہ کلب سے تھا۔ حضرت زید رض جب آٹھ سال کے بچے تھے تو اپنی ماں کے ساتھ اپنے ننھیال گئے۔ ان کے قافلے پر دشمن قبیلے نے حملہ کردیا اور لوٹ مار کے ساتھ جن آدمیوں کو پکڑ کرلے گئے ان میں یہ بھی تھے۔ پھر انہوں نے عکاظ کے میلے میں لے جا کر ان کو بیچ دیا۔ خریدنے والے حکیم بن حزام تھے ‘ جنہوں نے ان کو اپنی پھوپھی حضرت خدیجہ رض کی خدمت میں پیش کردیا۔ جب نبی اکرم ﷺ کے ساتھ حضرت خدیجہ رض کا نکاح ہوا تو یہ حضور ﷺ کی خدمت میں پہنچ گئے۔ اس وقت ان کی عمر 15 برس تھی۔ کچھ مدت کے بعد حضرت زید رض کے والد اور چچا ان کو تلاش کرتے ہوئے حضور ﷺ تک پہنچے اور عرض کیا کہ آپ جو فدیہ چاہیں ہم دینے کو تیار ہیں ‘ آپ ہمارا بچہ ہمیں دے دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں لڑکے کو بلاتا ہوں اور اس کی مرضی پر چھوڑے دیتا ہوں کہ وہ تمہارے ساتھ جانا چاہتا ہے یا میرے پاس رہنا چاہتا ہے۔ اگر وہ تمہارے ساتھ جاناچا ہے گا تو میں کوئی فدیہ نہیں لوں گا اور اسے جانے دوں گا ‘ لیکن اگر وہ میرے پاس رہنا چاہے تو میں اسے زبردستی آپ کے ساتھ نہیں بھیجوں گا۔ وہ دونوں حضرات بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ یہ تو آپ نے عدل و انصاف سے بھی بڑھ کر درست بات کی ہے۔ حضور ﷺ نے زید رض کو بلایا اور ان سے کہا کہ ان دونوں صاحبوں کو جانتے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا : جی ہاں ‘ یہ میرے والد اور میرے چچا ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اچھا ‘ تم ان کو بھی جانتے ہو اور مجھے بھی۔ اب تمہیں پوری آزادی ہے کہ چاہو تو ان کے ساتھ چلے جائو اور چاہو تو میرے ساتھ رہو۔ زید رض نے جواب میں کہا کہ میں آپ کو چھوڑ کر کسی کے پاس نہیں جانا چاہتا۔ ان کے باپ اور چچا نے ساتھ چلنے پر اصرار کیا اور کہا کہ کیا تو آزادی پر غلامی کو ترجیح دیتا ہے ؟ لیکن حضرت زید رض کسی طرح بھی حضور ﷺ کا ساتھ چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوئے۔ حضور ﷺ نے اسی وقت زید رض کو آزاد کردیا اور حرم میں جا کر قریش کے مجمع عام میں اعلان فرمایا کہ آپ سب لوگ گواہ رہیں ‘ آج سے زید میرا بیٹا ہے۔ چناچہ اس روز سے انہیں زید بن محمد ﷺ پکارا جانے لگا۔ یہ سب واقعات نبوت سے پہلے کے ہیں۔ نزولِ وحی کے بعد جب نبی اکرم ﷺ نے اعلانِ نبوت فرمایا تو چار ہستیاں ایسی تھیں جنہوں نے ایک لمحہ شک و تردد کے بغیر آپ ﷺ کے دعوائے نبوت کی تصدیق کی۔ ایک حضرت خدیجہ ‘ دوسرے حضرت زید ‘ تیسرے حضرت علی اور چوتھے حضرت ابوبکر صدیق رض۔ اس وقت حضرت زید رض کی عمر 30 سال تھی اور ان کو حضور ﷺ کی خدمت میں رہتے ہوئے 15 برس بیت چکے تھے۔ ہجرت کے بعد 4 ھ میں حضور ﷺ نے اپنی پھوپھی زاد بہن حضرت زینب رض سے ان کا نکاح کردیا۔ اپنی طرف سے ان کا مہر ادا کیا اور گھر بسانے کے لیے ان کو ضروری سامان عنایت فرمایا۔ یہی حالات ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے کہ ”جس پر اللہ نے بھی انعام کیا تھا اور آپ ﷺ نے بھی انعام کیا تھا۔“ ماخوذ از تفہیم القرآن۔ - اضافہ از مرتب { وَتُخْفِیْ فِیْ نَفْسِکَ مَا اللّٰہُ مُبْدِیْہِ } ”اور آپ ﷺ اپنے دل میں چھپائے ہوئے تھے وہ بات جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا“ { وَتَخْشَی النَّاسَ وَاللّٰہُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰہُ } ”اور آپ ﷺ لوگوں سے ڈر رہے تھے ‘ حالانکہ اللہ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ آپ ﷺ اس سے ڈریں۔“ نبی اکرم ﷺ محسوس فرما رہے تھے کہ اگر زید رض نے طلاق دے دی تو مجھے خود زینب رض سے نکاح کرنا پڑے گا ‘ لیکن ساتھ ہی آپ ﷺ کو مخالفین کی طرف سے منفی پراپیگنڈے کا خدشہ بھی تھا۔ اگرچہ اس سورت کی ابتدائی آیات میں منہ بولے بیٹے کی شرعی اور قانونی حیثیت واضح فرما دی گئی تھی اور متعلقہ آیات کے نزول کے بعد لوگ انہیں زید رض بن محمد ﷺ کے بجائے زید رض بن حارثہ کہنے لگے تھے ‘ لیکن پھر بھی اندیشہ تھا کہ منافقین اس مسئلے کو بہانہ بنا کر حضور ﷺ کے خلاف واویلا کریں گے۔ { فَلَمَّا قَضٰی زَیْدٌ مِّنْہَا وَطَرًا زَوَّجْنٰـکَھَا } ”پس جب زید رض نے اس سے اپنا تعلق منقطع کرلیا تو اسے ہم نے آپ ﷺ کی زوجیت میں دے دیا“ یعنی جب حضرت زید رض نے حضرت زینب رض کو طلاق دے دی اور عدت بھی پوری ہوگئی تو ہم نے اس کا نکاح آپ ﷺ سے کردیا۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ سے حضرت زینب رض کے نکاح کی نسبت خصوصی طور پر اپنی طرف فرمائی۔ کلام اللہ کا یہ اندازِ بیاں حضرت زینب رض کے لیے یقینا ایک بہت بڑا عزاز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت زینب رض ان الفاظ پر فخر کرتے ہوئے دوسری ازواجِ مطہرات رض سے کہا کرتی تھیں کہ آپ سب لوگوں کے نکاح زمین پر ہوئے جبکہ میرا نکاح آسمانوں پر ہوا اور اللہ نے خود میرا نکاح پڑھایا۔ کلام اللہ کے ان الفاظ سے یہ صراحت بھی ہوتی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے یہ نکاح خود اپنی خواہش کی بنا پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی بنا پر کیا تھا۔ { لِکَیْ لَا یَکُوْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْٓ اَزْوَاجِ اَدْعِیَآئِہِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْہُنَّ وَطَرًا } ”تاکہ مومنوں کے لیے ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں کوئی تنگی نہ رہے جبکہ وہ ان سے اپنا تعلق بالکل کاٹ لیں۔“ یعنی حضور ﷺ کے اس نکاح کے ذریعے عرب معاشرے سے جاہلیت کی اس رسم کا خاتمہ بھی ہوجائے اور قیامت تک کے لیے ایک قانون بھی وضع ہوجائے تاکہ آئندہ منہ بولے بیٹے کی بیوہ یا مطلقہ کے معاملے کو ”محرماتِ ابدیہ“ کے ساتھ گڈ مڈ نہ کیا جائے۔ واضح رہے کہ محرماتِ ابدیہ کی فہرست سورة النساء آیت 23 اور 24 میں دی گئی ہے۔ { وَکَانَ اَمْرُ اللّٰہِ مَفْعُوْلًا } ”اور اللہ کا فیصلہ تو پورا ہو کر ہی رہنا تھا۔“ اس سارے معاملے میں یہی حکمت اور مصلحت پوشیدہ تھی کہ اللہ تعالیٰ اس فضول رسم کا خاتمہ حضور ﷺ کے ذاتی عمل سے کرنا چاہتا تھا۔ بعض نظریات اور خیالات معاشرے میں اس قدر پختہ اور گہرے ہوچکے ہوتے ہیں کہ ان کے خلاف کوئی عمل یا بات لوگ آسانی سے قبول نہیں کرتے۔ ٰمتبنی ّکی بیوہ یا مطلقہ کے ساتھ منہ بولے باپ کے نکاح کے بارے میں عرب معاشرے کے اندر مروّجہ خود ساختہ قانون بھی اسی زمرے میں آتا تھا۔ اس لیے اس قانون یا روایت کو خود حضور ﷺ کی ذاتی مثال کے ذریعے سے توڑنا مناسب خیال کیا گیا۔ چناچہ آپ ﷺ کے حضرت زینب رض سے نکاح کے بعد اس مسئلے میں کسی قسم کا ابہام یا شک باقی نہ رہا۔
Ayah 33:38

مَا كَانَ عَلَى النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗ١ؕ سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَا٘ۙ Open ayah 33:38 in the Quran reader

نبی ﷺ پر کوئی مضائقہ نہیں اس بات میں جو اللہ نے اس کے لیے فرض کردی ہے اللہ کا یہی طریقہ رہا ہے ان لوگوں کے بارے میں بھی جو پہلے گزر چکے ہیں۔ } اور اللہ کا فیصلہ قطعی طے شدہ تھا۔

آیت 38 { مَا کَانَ عَلَی النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللّٰہُ لَہٗ } ”نبی ﷺ پر کوئی مضائقہ نہیں اس بات میں جو اللہ نے اس کے لیے فرض کردی ہے۔“ { سُنَّۃَ اللّٰہِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ } ”اللہ کا یہی طریقہ رہا ہے ان لوگوں کے بارے میں بھی جو پہلے گزر چکے ہیں۔“ تمام نبیوں اور رسولوں علیہ السلام کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہی طریقہ رہا ہے کہ جو چیز ان پر فرض کردی جاتی تھی اس پر انہیں عمل کرنا ہوتا تھا۔ { وَکَانَ اَمْرُ اللّٰہِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَا } ”اور اللہ کا فیصلہ قطعی طے شدہ تھا۔“ یہ سارا معاملہ اللہ کی مشیت میں پہلے سے طے ہوچکا تھا اور اس فیصلے کی تنفیذ کے لیے وقت مقرر کیا جا چکا تھا۔
Ayah 33:39

اِ۟لَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰهِ وَ یَخْشَوْنَهٗ وَ لَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا Open ayah 33:39 in the Quran reader

وہ (اللہ کے رسول ﷺ جو اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور صرف اسی سے ڈرتے ہیں اور وہ نہیں ڈرتے کسی سے سوائے اللہ کے۔ اور اللہ کافی ہے حساب لینے والا۔

آیت 39 { نِ الَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰہِ وَیَخْشَوْنَہٗ } ”وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور صرف اسی سے ڈرتے ہیں“ یعنی سابقہ انبیاء و رسل علیہ السلام بھی اللہ تعالیٰ کے پیغامات کی بلاخوفِ لومۃ لائم تبلیغ کرتے رہے ہیں اور اس معاملے میں انہوں نے کسی کی پروا نہیں کی۔ { وَلَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰہَ وَکَفٰی بِاللّٰہِ حَسِیْبًا } ”اور وہ نہیں ڈرتے کسی سے سوائے اللہ کے۔ اور اللہ کافی ہے حساب لینے والا۔
Ayah 33:40

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ Open ayah 33:40 in the Quran reader

(دیکھو !) محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں بلکہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ﷺ ہیں اور سب نبیوں پر مہر ہیں۔ } اور یقینا اللہ ہرچیز کا علم رکھنے والا ہے۔

آیت 40 { مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ } ”دیکھو ! محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں“ یہاں ایک دوسرے انداز میں واضح کردیا گیا کہ محمد ﷺ تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں ہیں۔ زید رض بن حارثہ محض آپ ﷺ کے منہ بولے بیٹے تھے۔ اب جبکہ اس ضمن میں ایک واضح حکم نازل ہوچکا ہے تو یہ معاملہ ہمیشہ کے لیے صاف ہوجانا چاہیے۔ حضور ﷺ کے ہاں جو نرینہ اولاد ہوئی اسے اللہ تعالیٰ نے بچپن میں ہی اٹھا لیا۔ آپ ﷺ کی آخری عمر میں حضرت ماریہ قبطیہ رض کے بطن سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ولادت ہوئی لیکن وہ بھی بچپن ہی میں فوت ہوگئے۔ آپ ﷺ کو اپنے بیٹے ابراہیم رض سے بہت محبت تھی۔ ان کی وفات سے حضور ﷺ کو بہت تکلیف پہنچی ‘ جس کا اظہار آپ ﷺ کے اس فرمان سے ہوتا ہے : یا ابراہیم انا بِفِراقِک لمحزونون ”اے ابراہیم ! ہم تمہاری جدائی میں بہت رنجیدہ ہیں۔“ یہ عجیب اتفاق ہے کہ ابوالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زوجہ محترمہ حضرت ہاجرہ علیہ السلام کا تعلق بھی مصر سے تھا جن کے بطن سے حضرت اسماعیل علیہ السلام پیدا ہوئے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے حضور ﷺ کا تعلق ہے اور حضور ﷺ نے اپنے اس بیٹے کا نام ابراہیم رض رکھا جو مصر سے تعلق رکھنے والی حضرت ماریہ قبطیہ علیہ السلام کے بطن سے تھا۔ { وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ } ”بلکہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ﷺ ہیں اور سب نبیوں پر مہر ہیں۔“ محمد ﷺ اللہ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں۔ آپ ﷺ کی آمد سے نبیوں کے سلسلہ پر مہر لگ گئی ‘ اب آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔ چناچہ جاہلیت کی غلط رسومات اگر آپ ﷺ ختم نہ کرتے تو آپ ﷺ کے بعد پھر اور کون انہیں ختم کرتا ؟ اگر آپ ﷺ ذاتی مثال قائم کرتے ہوئے اپنے منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے نکاح نہ کرتے تو یہ رسم اس طرح حتمی انداز میں ختم نہ ہوتی۔ یہاں اس آیت کے حوالے سے رسالت اور نبوت میں لطیف فرق کو بھی سمجھ لیجیے۔ دونوں میں فرق یہ ہے کہ نبوت آپ ﷺ پر ختم ہوگئی ‘ لیکن آپ ﷺ کی رسالت اب بھی قائم و دائم ہے اور تا قیام قیامت قائم و دائم رہے گی۔ اپنی حیات مبارکہ میں آپ ﷺ براہِ راست بنفس نفیس رسالت کے فرائض سر انجام دے رہے تھے مگر اب آپ ﷺ کے امتی آپ ﷺ کی طرف سے یہ فریضہ ادا کر رہے ہیں۔ چناچہ آج دین کے جو خدام قرآن کا پیغام خلق ِخدا تک پہنچا رہے ہیں وہ گویا رسالت ِمحمدی ﷺ ہی کا پیغام پہنچا رہے ہیں۔ سورة الانعام کی آیت 19 کے یہ الفاظ گویا اسی صورت حال کی طرف اشارہ کر رہے ہیں : { وَاُوْحِیَ اِلَیَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَکُمْ بِہٖ وَمَنْم بَلَغَ } ”اور میری جانب یہ قرآن وحی کیا گیا ہے تاکہ میں تمہیں خبردار کر دوں اس کے ذریعے سے اور اس کو بھی جس تک یہ پہنچ جائے“۔ حجۃ الوداع کے موقع پر حضور ﷺ نے اپنی رسالت کی ترویج و اشاعت کا یہ فریضہ امت کو سونپتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا : فَلْیُبَلِّغِ الشَّاھِدُ الْغَائِبَ ”اب پہنچائیں وہ جو موجود ہیں ان تک جو موجود نہیں ہیں“۔ لہٰذا محمد ٌ رسول اللہ ﷺ کی رسالت آپ ﷺ کی امت کے ذریعے سے مسلسل قائم و دائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ”خاتم“ کا جو لفظ آیا ہے وہ رسالت کے لیے نہیں بلکہ نبوت کے لیے آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جیسے ہی آپ ﷺ نے اس دنیا سے پردہ فرمایا وحی کا باب ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا اور اس کے ساتھ ہی نبوت کا دروازہ بھی بند ہوگیا۔ گویا نبوت محمدی ﷺ اس دنیا میں حضور ﷺ کی ذات کے ساتھ قائم تھی اور آپ ﷺ کے وصال کے ساتھ ختم ہوگئی ‘ لیکن رسالت ِمحمد ﷺ قیامت تک قائم رہے گی۔ { وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمًا } ”اور یقینا اللہ ہرچیز کا علم رکھنے والا ہے۔
Ayah 33:41

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِیْرًاۙ Open ayah 33:41 in the Quran reader

اے اہل ایمان ! اللہ کا ذکر کیا کرو کثرت کے ساتھ۔

آیت 41 { یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْکُرُوا اللّٰہَ ذِکْرًا کَثِیْرًا } ”اے اہل ایمان ! اللہ کا ذکر کیا کرو کثرت کے ساتھ۔“ مراد یہ ہے کہ انسان ہر وقت اور ہر حال میں اللہ کو یاد رکھے اور ایک پنجابی کہاوت ”ہتھ کا رول ‘ دل یا رول“ کے مصداق اپنے روز مرہ معمولاتِ زندگی کے دوران بھی ہر گھڑی ‘ ہر قدم پر اللہ کی یاد اس کے دل میں مستحضر رہے۔ عملی طور پر ”ذکر کثیر“ کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم مسنون دعائوں کو یاد کر کے انہیں اپنے معمولات کا حصہ بنا لیں۔ حضور ﷺ نے ہمیں ہر کیفیت اور ہر موقع محل کے لیے دعائیں تعلیم فرمائی ہیں۔ مثلاً گھر میں داخل ہونے کی دعا ‘ گھر سے باہر نکلنے کی دعا ‘ بازار میں داخل ہونے اور باہر جانے کی دعا ‘ بیت الخلاء میں داخل ہونے اور باہر نکلنے کی دعا۔ اگر ہم ان مسنون دعائوں کو اپنے معمولات میں شامل کرلیں تو کوئی اضافی وقت صرف کیے بغیر اپنے کام کاج کے دوران بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ مسلسل اپنا تعلق قائم رکھ سکتے ہیں۔ نمازِ پنجگانہ بھی اللہ کے ذکر کی بہترین صورت ہے۔ البتہ بندئہ مومن کے لیے اللہ کا سب سے اعلیٰ ذکر قرآن کریم کی تلاوت ہے ‘ جیسا کہ سورة العنکبوت کی اس آیت میں ارشاد فرمایا گیا ہے : { اُتْلُ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنَ الْکِتٰبِ وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَط اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِط وَلَذِکْرُ اللّٰہِ اَکْبَرُ ط وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ۔ } ”تلاوت کرتے رہا کریں اس کی جو وحی کی گئی ہے آپ ﷺ کی طرف کتاب میں سے اور نماز قائم کریں۔ یقینا نماز روکتی ہے بےحیائی سے اور برے کاموں سے۔ اور اللہ کا ذکر سب سے بڑی چیز ہے۔ اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم لوگ کر رہے ہو۔“
Ayah 33:42

وَّ سَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 33:42 in the Quran reader

اور صبح وشام اس کی تسبیح کرتے رہو۔

آیت 42 { وَّسَبِّحُوْہُ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلًا } ”اور صبح وشام اس کی تسبیح کرتے رہو۔“
Ayah 33:43

هُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْكُمْ وَ مَلٰٓئِكَتُهٗ لِیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا Open ayah 33:43 in the Quran reader

وہی ہے جو رحمتیں بھیجتا رہتا ہے تم پر اور اس کے فرشتے بھی تاکہ نکالے تمہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف۔ اور اہل ایمان کے حق میں وہ بہت مہربان ہے۔

آیت 43 { ہُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْکُمْ وَمَلٰٓئِکَتُہٗ لِیُخْرِجَکُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ } ”وہی ہے جو رحمتیں بھیجتا رہتا ہے تم پر اور اس کے فرشتے بھی ‘ تاکہ نکالے تمہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف۔“ یہاں پر اہل ایمان پر اللہ کی رحمتیں نازل ہونے کے حوالے سے وہی الفاظ استعمال ہوئے ہیں جو اسی سورت کی آیت 56 میں نبی اکرم ﷺ کے لیے آئے ہیں۔ وہاں فرمایا گیا : { اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ } ”یقینا اللہ اور اس کے فرشتے رحمتیں بھیجتے ہیں نبی ﷺ پر“۔ بہر حال یہ آیت مومنین کے حق میں ایک بہت بڑی خوشخبری ہے کہ اللہ کی رحمتوں اور عنایتوں میں سے ہر اہل ایمان کو بھی حصہ عطا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فرشتے بھی اہل ایمان کے حق میں دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں۔ { وَکَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا } ”اور اہل ایمان کے حق میں وہ بہت مہربان ہے۔“
Ayah 33:44

تَحِیَّتُهُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ١ۚۖ وَ اَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِیْمًا Open ayah 33:44 in the Quran reader

} جس دن وہ اس سے ملیں گے تو ان کی دعا سلام ہوگی اور اس نے تیار کر رکھا ہے ان کے لیے بہت با عزت اجر

آیت 44 { تَحِیَّتُہُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَہٗ سَلٰمٌج وَاَعَدَّ لَہُمْ اَجْرًا کَرِیْمًا } ”جس دن وہ اس سے ملیں گے تو ان کی دعا ”سلام“ ہوگی ‘ اور اس نے تیار کر رکھا ہے ان کے لیے بہت با عزت اجر۔“