3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیر بیان القرآن

Ayahs 3:161–162

وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ١ؕ وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۚ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 3:161 in the Quran reader

اور کسی نبی کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ خیانت کرے اور جو کوئی خیانت کرے گا تو وہ اپنی خیانت کی ہوئی چیز سمیت حاضر ہوگا قیامت کے دن پھر ہر جان کو پورا پورا دے دیا جائے گا جو کچھ اس نے کمایا ہوگا اور ان پر کچھ ظلم نہ ہوگا

اَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَ اللّٰهِ كَمَنْۢ بَآءَ بِسَخَطٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 3:162 in the Quran reader

) تو کیا بھلا وہ شخص جس نے اللہ کی رضا کی پیروی کی اس کی مانندہو جائے گا جو اللہ کے غضب اور غصے کو کما کر لوٹا ؟ اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے پہنچنے کی

آیت 161 وَمَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ ط غَلَّ یَغُلُّ غُلُوْلًا کے معنی ہیں خیانت کرنا اور مال غنیمت میں سے کسی چیز کا چوری کرلینا ‘ جبکہ غَلَّ یَغِلُّ غلاًّ کے معنی دل میں کینہ ہونا کے ہیں۔ روایات میں آتا ہے کہ آنحضور ﷺ پر منافقوں نے الزام لگایا تھا کہ آپ ﷺ نے مال غنیمت میں کوئی خیانت کی ہے معاذ اللہ ‘ ثم معاذ اللہ ! یہ اس الزام کا جواب دیا جا رہا ہے کہ کسی نبی ﷺ ‘ کی شان نہیں ہے کہ وہ خیانت کا ارتکاب کرے۔ البتہ مولانا اصلاحی صاحب نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ اس لفظ کو صرف مالی خیانت کے ساتھ مخصوص کرنے کی کوئی دلیل نہیں۔ یہ دراصل منافقین کے اس الزام کی تردید ہے جو انہوں نے احد کی شکست کے بعد رسول اللہ ﷺ پر لگایا تھا کہ ہم نے تو اس شخص پر اعتماد کیا ‘ اس کے ہاتھ پر بیعت کی ‘ اپنے نیک و بد کا اس کو مالک بنایا ‘ لیکن یہ اس اعتماد سے بالکل غلط فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ہمارے جان و مال کو اپنے ذاتی حوصلوں اور امنگوں کے لیے تباہ کر رہے ہیں۔ یہ عرب پر حکومت کرنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے ہماری جانوں کو تختۂ مشق بنایا ہے۔ یہ صریحاً قوم کی بدخواہی اور اس کے ساتھ غداری و بےوفائی ہے۔ قرآن نے ان کے اس الزام کی تردید فرمائی ہے کہ تمہارا یہ الزام بالکل جھوٹ ہے ‘ کوئی نبی اپنی امت کے ساتھ کبھی بےوفائی اور بدعہدی نہیں کرتا۔ نبی جو قدم بھی اٹھاتا ہے رضائے الٰہی کی طلب میں اور اس کے احکام کے تحت اٹھاتا ہے۔ وَمَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ج اللہ تعالیٰ کے قانون جزا و سزا سے ایک نبی سے بڑھ کر کون باخبر ہوگا ؟ ثُمَّ تُوَفّٰی کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ وَہُمْ لاَ یُظْلَمُوْنَ نوٹ کیجیے لفظ تُوَفّٰییہاں بھی پور اپورا دیے جانے کے معنی میں آیا ہے۔
Ayah 3:163

هُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:163 in the Quran reader

ان کی بھی درجہ بندیاں ہیں اللہ کے ہاں اور جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اسے دیکھ رہا ہے

آیت 163 ہُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ اللّٰہِ ط جیسے نیکوکاروں کے درجے ہیں اسی طرح وہاں بدکاروں کے بھی درجے ہیں۔ سب بدکار برابر نہیں اور سب نیکوکار برابر نہیں۔ وَاللّٰہُ بَصِیْرٌم بِمَا یَعْمَلُوْنَ اب آگے جو آیت آرہی ہے ‘ یہ مضمون سورة البقرۃ میں دو مرتبہ آچکا ہے۔ پہلی مرتبہ سورة البقرۃ کے پندرہویں رکوع میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی دعا میں یہ مضمون بایں الفاظ آیا تھا : رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْہِمْ رَسُوْلاً مِّنْہُمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِکَ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُزَکِّیْہِمْ ط آیت 129 پھر اٹھارہویں رکوع کے آخر میں یہ الفاظ آئے تھے : کَمَآ اَرْسَلْنَا فِیْکُمْ رَسُوْلاً مِّنْکُمْ یَتْلُوْا عَلَیْکُمْ اٰیٰتِنَا وَیُزَکِّیْکُمْ وَیُعَلِّمُکُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُعَلِّمُکُمْ مَّا لَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ اب یہ مضمون تیسری مرتبہ یہاں آ رہا ہے :
Ayah 3:164

لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۚ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 3:164 in the Quran reader

درحقیقت اللہ نے یہ بہت بڑا احسان کیا ہے اہل ایمان پر جب ان میں اٹھایا ایک رسول ﷺ ان ہی میں سے جو تلاوت کر کے انہیں سناتا ہے اس کی آیات اور انہیں پاک کرتا ہے اور تعلیم دیتا ہے انہیں کتاب و حکمت کی اور یقیناً اس سے پہلے (یعنی رسول ﷺ کی آمد سے قبل) تو وہ لازماً کھلی گمراہی کے اندر مبتلا تھے

آیت 164 لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُوْلاً مِّنْ اَنْفُسِہِمْ یعنی ان کی اپنی قوم میں سے۔ یَتْلُوْ عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ ج یہ انقلاب نبوی ﷺ کے اساسی منہاج کے چار عناصر ہیں ‘ جنہیں قرآن اسی ترتیب سے بیان کرتا ہے : تلاوت آیات ‘ تزکیہ اور تعلیم کتاب و حکمت۔ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی دعا میں جو ترتیب تھی ‘ اللہ نے اس کو تبدیل کیا ہے۔ اس پر سورة البقرۃ آیت 151 کے ذیل میں گفتگو ہوچکی ہے۔
Ayah 3:165

اَوَ لَمَّاۤ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْهَا١ۙ قُلْتُمْ اَنّٰى هٰذَا١ؕ قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:165 in the Quran reader

اور کیا جب تم پر ایک مصیبت آئی جبکہ تم اس سے دگنی مصیبت ان کو پہنچا چکے ہو تو تم کہنے لگے کہ یہ کہاں سے آگئی ؟ (اے نبی ﷺ کہہ دیجیے یہ تمہارے اپنے نفسوں (کی شرارت کی وجہ) سے ہوا ہے یقیناً اللہ تو ہرچیز پر قادر ہے

آیت 165 اَوَلَمَّآ اَصَابَتْکُمْ مُّصِیْبَۃٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْہَالا قُلْتُمْ اَنّٰی ہٰذَا ط یعنی یہ کیوں ہوگیا ؟ اللہ نے پہلے مدد کی تھی ‘ اب کیوں نہیں کی ؟ قُلْ ہُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِکُمْ ط۔ غلطی تم نے کی تھی ‘ امیر کے حکم کی خلاف ورزی تم نے کی تھی ‘ جس کا خمیازہ تم کو بھگتنا پڑا۔ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ۔ گویا اسی مضمون کو یہاں دہرا کر لایا گیا ہے جو پیچھے آیت 152 میں بیان ہوچکا ہے کہ اللہ تو وعدہ اپنا پورا کرچکا تھا اور تم دشمن پر غالب آ چکے تھے ‘ مگر تمہاری اپنی غلطی کی وجہ سے جنگ کا پانسہ پلٹ گیا۔ اللہ چاہتا تو تمہیں کوئی سزا نہ دیتا ‘ بغیر سزادیے معاف کردیتا ‘ لیکن اللہ کی حکمت کا تقاضا یہ ہوا کہ تمہیں سزا دی جائے۔ اس لیے کہ ابھی تو بڑے بڑے مراحل آنے ہیں۔ اگر اسی طرح تم نظم کو توڑتے رہے اور احکام کی خلاف ورزی کرتے رہے تو پھر تمہاری حیثیت ایک جماعت کی تو نہیں ہوگی ‘ پھر تو ایک انبوہ ہوگا ‘ ہجومِ مؤمنینہو گا ‘ جبکہ اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے ایک منظم جماعت ‘ لشکر ‘ فوج ‘ حزب اللہ درکار ہے۔
Ayah 3:166

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیَعْلَمَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 3:166 in the Quran reader

اور جو بھی مصیبت تم پر آئی ہے اس دن جب دونوں لشکر آپس میں بھڑ گئے تھے وہ اللہ کے اذن سے آئی ہے اور یہ اس لیے تھی کہ اللہ ظاہر کردے ایمان والوں کو

آیت 166 وَمَآ اَصَابَکُمْ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعٰنِ فَبِاِذْنِ اللّٰہِ اللہ کے اذن کے بغیر تو یہ تکلیف نہیں آسکتی تھی۔ وَلِیَعْلَمَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ یہ ظاہر ہوجائے کہ کون ہیں اصل مؤمن ‘ حقیقی مؤمن جو صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتے ‘ ہیں۔
Ayah 3:167

وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ نَافَقُوْا١ۖۚ وَ قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوِ ادْفَعُوْا١ؕ قَالُوْا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّا اتَّبَعْنٰكُمْ١ؕ هُمْ لِلْكُفْرِ یَوْمَئِذٍ اَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلْاِیْمَانِ١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یَكْتُمُوْنَۚ Open ayah 3:167 in the Quran reader

اور تاکہ ان لوگوں کو بھی ظاہر کر دے جنہوں نے منافقت اختیار کی اور ان (منافقوں) سے کہا گیا کہ آؤ اللہ کی راہ میں جنگ کرو یا (کم از کم اپنے شہر کا) دفاع کرو انہوں نے کہا کہ اگر ہم سمجھتے کہ جنگ ہونی ہے تو ہم ضرور تمہارا ساتھ دیتے یہ لوگ اس دن ایمان کی نسبت کفر سے قریب تر تھے یہ اپنے مونہوں سے وہ بات کہہ رہے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے اور اللہ اس چیز کو خوب جانتا ہے جو کچھ وہ چھپا رہے ہیں

آیت 176 وَلِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ نَافَقُوْاج۔ لِیَعْلَمَ کا معنی ہے تاکہ جان لے۔۔ لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ ہرچیز کا جاننے والا ہے لہٰذا ایسے مقامات پر ترجمہ کیا جاتا ہے : تاکہ اللہ ظاہر کر دے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے واقعتا ظاہر کردیا کہ کون مؤمن ہے اور کون منافق ! عبداللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر چلا گیا تو سب پر ان کا نفاق ظاہر ہوگیا۔ اب آئندہ اہل ایمان ان کی بات پر اعتبار تو نہیں کریں گے ‘ ان کی چکنی چپڑی باتیں کان لگا کر تو نہیں سنیں گے۔ تو اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ یہ بالکل واضح ہوجائے کہ Who is who what is what ?۔ وَقِیْلَ لَہُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَوِ ادْفَعُوْا ط عبداللہ بن ابی جب اپنے تین سو آدمیوں کو لے کر واپس جا رہا تھا تو اس وقت ان سے کچھ لوگوں نے کہا ہوگا کہ بیوقوفو ! کہاں جا رہے ہو ؟ اس وقت تو لشکر سامنے ہے۔ اگر ایک ہزار میں سے تین سو آدمی نکل جائیں گے تو باقی لوگوں کے دلوں میں بھی کچھ نہ کچھ کمزوری پیدا ہوگی۔ اگر تم میدان جنگ میں دشمن کا مقابلہ نہیں کرسکتے تو کم از کم مدینہ کے دفاع کے لیے تو کمربستہ ہوجاؤ۔ اگر مدینہ پر حملہ ہوا تو کیا ہوگا ؟ اگر یہاں پر یہ لشکر شکست کھا گیا تو کیا دشمن تمہاری بہوبیٹیوں کو اپنی باندیاں بنا کر نہیں لے جائیں گے ؟ قَالُوْا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالاً لاَّتَّبَعْنٰکُمْ ط یعنی یہ تو درحقیقت نورا کشتی ہو رہی ہے ‘ یہ حقیقت میں جنگ ہے ہی نہیں۔ یہ جو مکہ سے محمد ﷺ کے ساتھی مہاجرین آئے ہیں اور اب یہ جو مکہ ہی سے لشکر ہم پر چڑھائی کر کے آیا ہے یہ سب ایک ہی تھیلے کے چٹے بٹے ہیں اور ہمارا ان سے کوئی سروکار نہیں۔
Ayah 3:168

اَلَّذِیْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ وَ قَعَدُوْا لَوْ اَطَاعُوْنَا مَا قُتِلُوْا١ؕ قُلْ فَادْرَءُوْا عَنْ اَنْفُسِكُمُ الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 3:168 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جو خود تو بیٹھے رہے اور اپنے (شہید ہوجانے والے) بھائیوں کی نسبت کہا کہ اگر وہ بھی ہمارے ساتھ آگئے ہوتے تو قتل نہ ہوتے تو (اے نبی ﷺ ان سے کہیے اچھا اگر تم (اپنے اس قول میں) سچے ہو تو اپنی جانوں سے موت کو ہٹا کر دکھا دو

آیت 168 اَلَّذِیْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِہِمْ وَقَعَدُوْا لَوْ اَطَاعُوْنَا مَا قُتِلُوْا ط قُلْ فَادْرَءُ وْا عَنْ اَنْفُسِکُمُ الْمَوْتَ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ کیا تم اپنے آپ سے موت کو ٹال لو گے ؟ خود موت سے بچے رہو گے ؟ کیا موت تمہیں اپنے گھروں میں نہیں آئے گی ؟
Ayahs 3:169–170

وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُوْنَۙ Open ayah 3:169 in the Quran reader

اور ہرگز نہ سمجھنا ان لوگوں کو جو اللہ کی راہ میں قتل ہوجائیں کہ وہ مردہ ہیں بلکہ وہ تو زندہ ہیں اپنے رب کے پاس رزق پا رہے ہیں

فَرِحِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۙ وَ یَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِهِمْ مِّنْ خَلْفِهِمْ١ۙ اَلَّا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۘ Open ayah 3:170 in the Quran reader

شاداں وفرحاں ہیں اس پر جو کچھ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے فضل سے عطا کیا ہے اور بشارت حاصل کر رہے ہیں ان لوگوں کے بارے میں جو ان کے پیچھے (دنیا میں) رہ گئے ہیں اور ابھی ان سے نہیں ملے کہ نہ ان پر کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ حزن سے دوچار ہوں گے

آیت 169 وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتًا ط۔ یہی مضمون قبل ازیں سورة البقرۃ میں آچکا ہے : وَلاَ تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتٌط بَلْ اَحْیَآءٌ وَّلٰکِنْ لاَّ تَشْعُرُوْنَ
Ayah 3:171

یَسْتَبْشِرُوْنَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ٤ۚۛ۠ Open ayah 3:171 in the Quran reader

وہ خوشیاں منا رہے ہیں اللہ تعالیٰ کی نعمت کی وجہ سے اور اس کے فضل کی بنا پر اور اس بات پر کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے اجر کو ضائع نہیں کرتا

آیت 171 یَسْتَبْشِرُوْنَ بِنِعْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ وَفَضْلٍلا وَّاَنَّ اللّٰہَ لاَ یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ اب آگے جو آیات آرہی ہیں ان کے بارے میں تاریخ و سیرت کی کتابوں میں دو قسم کی روایات آتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ کفار کی فوج کے واپس چلے جانے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے بعض ضروری امور نمٹائے اور شہداء کی تدفین کی۔ اس کے بعد آپ ﷺ کو اچانک خیال آیا کہ یہ کفار چلے تو گئے ہیں ‘ لیکن ہوسکتا ہے انہیں اپنی غلطی کا احساس ہو کہ اس وقت تو مسلمان اس حالت میں تھے کہ ہم انہیں ختم کرسکتے تھے ‘ لہٰذا وہ کہیں دوبارہ پلٹ کر حملہ آور نہ ہوجائیں۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو قریش کے تعاقب کے لیے تیار ہوجانے کا حکم دیا ‘ تاکہ انہیں معلوم ہوجائے کہ ہم نے ہمت نہیں ہاردی۔ اس کے باوجود کہ اہل ایمان کے جسم زخموں سے چور چور تھے ‘ اتنا بڑا صدمہ پہنچا تھا ‘ وہ پھر تیار ہوگئے اور حضور ﷺ جان نثاروں کی ایک جماعت کے ساتھ کفار کے تعاقب میں حمراء الاسد تک گئے جو مدینہ سے آٹھ میل کے فاصلے پر ہے۔ ادھر ابوسفیان کو واقعتا اپنی غلطی کا احساس ہوچکا تھا اور وہ مقام روحاء پر رک کر اپنی فوج کی ازسرنو تنظیم کر کے واپس پلٹ کر مدینہ پر حملہ آور ہونے کا ارادہ کر رہا تھا۔ ادھر سے آنے والے ایک تاجر سے اس نے کہا بھی تھا کہ جا کر مسلمانوں کو بتادو کہ میں بہت بڑا لشکر لے کر دوبارہ آ رہا ہوں۔ لیکن جب ابوسفیان نے دیکھا کہ مسلمانوں کے عزم و حوصلہ میں کوئی کمی نہیں آئی ہے اور وہ ان کے تعاقب میں آ رہے ہیں تو ارادہ بدل لیا اور لشکرکو مکہ کی طرف کوچ کا حکم دے دیا۔ اسی طرح کا ایک اور واقعہ بیان ہوتا ہے کہ ابوسفیان جاتے ہوئے یہ کہہ گیا تھا کہ اب اگلے سال بدر میں دوبارہ ملاقات ہوگی۔ یعنی ایک سال پہلے بدر میں جنگ ہوئی تھی ‘ اب احد میں ہمارا مقابلہ ہوگیا۔ اب اگلے سال پھر ہمارے اور تمہارے درمیان تیسرا مقابلہ بدر میں ہوگا۔ چناچہ اگلے سال رسول اللہ ﷺ صحابہ کرام رض کو لے کر بدر تک گئے۔ یہ مہم بدرصغریٰکہلاتی ہے۔ ادھر سے ابوسفیان پورے لاؤ لشکر کے ساتھ آگیا اور اس مرتبہ بھی کچھ لوگوں کے ذریعہ سے اہل ایمان میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی کہ لوگو کیا کر رہے ہو ‘ قریش تو بہت بڑا لشکر لے کر آ رہے ہیں ‘ تم اس کا مقابلہ نہ کر پاؤ گے ! تو اس کے جواب میں مسلمانوں نے صبر و توکل کا مظاہرہ کیا اور وہ کلمات کہے جو آگے آ رہے ہیں۔ تو یہ آیات دونوں واقعات پر منطبق ہوسکتی ہیں۔
Ayah 3:172

اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَصَابَهُمُ الْقَرْحُ١ۛؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا مِنْهُمْ وَ اتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِیْمٌۚ Open ayah 3:172 in the Quran reader

جن لوگوں نے لبیک کہی اللہ اور رسول ﷺ کی پکار پر اس کے بعد کہ ان کو چرکا لگ چکا تھا ان میں سے جو بھی محسنین اور متقین ہیں ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔

آیت 172 اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰہِ وَالرَّسُوْلِ مِنْم بَعْدِ مَآ اَصَابَہُمُ الْقَرْحُ ط۔ یہ آیت سابقہ آیات کے تسلسل میں آئی ہے۔ یعنی اس اجر عظیم کے مستحق وہ لوگ ٹھہریں گے کہ احد کی شکست کا زخم کھانے کے بعد بھی ان کے عزم و ایمان کا یہ حال ہے کہ جونہی اللہ اور رسول کی جانب سے انہیں ایک تازہ مہم کے لیے پکارا گیا وہ فوراً تیار ہوگئے۔
Ayah 3:173

اَلَّذِیْنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ اِیْمَانًا١ۖۗ وَّ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِیْلُ Open ayah 3:173 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن سے لوگوں نے کہا کہ تمہارے خلاف بڑی فوجیں جمع ہوگئی ہیں پس ان سے ڈرو ! تو اس بات نے ان کے ایمان میں اور زیادہ اضافہ کردیا اور انہوں نے کہا اللہ ہمارے لیے کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے

وَّقَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ اُسی کا سہارا سب سے اچھا سہارا ہے۔ چناچہ یہ لوگ بےخوف ہو کر مقابلے کے لیے نکلے۔
Ayah 3:174

فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ لَّمْ یَمْسَسْهُمْ سُوْٓءٌ١ۙ وَّ اتَّبَعُوْا رِضْوَانَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَظِیْمٍ Open ayah 3:174 in the Quran reader

پس وہ لوٹ آئے اللہ کی نعمت اور اس کے فضل کے ساتھ ان کو کسی قسم کا بھی ضرر نہ پہنچا اور انہوں نے تو اللہ کی رضا کی پیروی کی اور یقیناً اللہ تعالیٰ بڑے فضل کا مالک ہے

آیت 174 فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ وَفَضْلٍ ابوسفیان کو جب پتا چلا کہ محمد ﷺ ہمارے تعاقب میں آ رہے ہیں تو اس نے عافیت اسی میں سمجھی کہ سیدھا مکہ مکرمہ کی طرف رخ کرلیا جائے۔ بدرِصغریٰکی مہم میں بھی یہی ہوا کہ جب اس نے سنا کہ محمد رسول اللہ ﷺ تو اپنے پورے ساتھیوں کے ساتھ مقابلے پر آگئے ہیں تو وہ کنی کترا کر اور طرح دے کر نکل گیا اور مقابلے میں نہیں آیا۔ لَّمْ یَمْسَسْہُمْ سُوْءٌ لا انہیں اس مہم میں کوئی تکلیف نہیں پہنچی۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک آزمائش تھی جس میں وہ پورے اترے۔ وَّاتَّبَعُوْا رِضْوَان اللّٰہِ ط۔ انہیں اللہ کی رضا و خوشنودی پر چلنے کا شرف حاصل ہوگیا۔
Ayah 3:175

اِنَّمَا ذٰلِكُمُ الشَّیْطٰنُ یُخَوِّفُ اَوْلِیَآءَهٗ١۪ فَلَا تَخَافُوْهُمْ وَ خَافُوْنِ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:175 in the Quran reader

(اے مسلمانو !) یہ شیطان ہے جو تمہیں ڈراتا ہے اپنے ساتھیوں سے تو تم ان سے نہ ڈرو مجھ سے ڈرو اگر تم مؤمن صادق ہو۔

آیت 175 اِنَّمَا ذٰلِکُمُ الشَّیْطٰنُ یُخَوِّفُ اَوْلِیَآءَ ‘ ہٗص وہ تو چاہتا ہے کہ اپنے ساتھی کفار یعنی حزب الشیطان کا خوف تم پر طاری کر دے۔ اس کے ایک معنی یہ بھی لیے گئے ہیں کہ شیطان اپنے دوستوں کو ڈراتا ہے۔ یعنی شیطان کی اس تخویف کا اثر انہی پر ہوتا ہے جو اس کے ولی ہوتے ہیں ‘ لیکن جو اولیاء اللہ ہیں ان پر شیطان کی طرف سے اس قسم کی وسوسہ اندازی کا اثر نہیں ہوتا۔
Ayahs 3:176–177

وَ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ١ۚ اِنَّهُمْ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَلَّا یَجْعَلَ لَهُمْ حَظًّا فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 3:176 in the Quran reader

اور (اے نبی ﷺ یہ لوگ آپ کے لیے باعث غم نہ بنیں جو کفر کے معاملے میں اس قدر بھاگ دوڑ کر رہے ہیں وہ اللہ کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے اللہ چاہتا ہے کہ ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہ رکھے اور ان کے لیے تو بڑا عذاب ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْكُفْرَ بِالْاِیْمَانِ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:177 in the Quran reader

یقیناً جن لوگوں نے ایمان ہاتھ سے دے کر کفر خرید لیا وہ اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے

آیت 176 وَلاَ یَحْزُنْکَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْْکُفْرِ ج مدینہ کے یہود اور مکہ کے مشرکین مسلمانوں کے خلاف ساز باز میں مصروف رہتے۔ کبھی یہودیوں کا کوئی وفد سرداران مکہ کے پاس جاکر کہتا کہ تم مسلمانوں پر چڑھائی کرو ‘ ہم اندر سے تمہاری مدد کریں گے۔ کبھی قریش یہودیوں سے رابطہ کرتے۔ گویا آج کل کی اصطلاح میں بڑی Diplomatic Activity ‘ ہو رہی تھی۔ ان حالات میں رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی وساطت سے اہل ایمان کو اطمینان دلایا جا رہا ہے کہ ان کی سرگرمیوں سے رنجیدہ نہ ہوں ‘ ان کی ساری ریشہ دوانیوں کی حیثیت سیلاب کے اوپر آجانے والے جھاگ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اِنَّہُمْ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰہَ شَیْءًا ط یُرِیْدُ اللّٰہُ اَلاَّ یَجْعَلَ لَہُمْ حَظًّا فِی الْاٰخِرَۃِ ج یہ گویا اللہ کے اس فیصلے کا ظہور ہے کہ ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔
Ayah 3:178

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ خَیْرٌ لِّاَنْفُسِهِمْ١ؕ اِنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ لِیَزْدَادُوْۤا اِثْمًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 3:178 in the Quran reader

اور مت سمجھیں یہ کافر کہ ہم جو انہیں مہلت دے رہے ہیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہے اور ان کے لیے اہانت آمیز عذاب ہوگا

آیت 178 وَلاَ یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْآ اَنَّمَا نُمْلِیْ لَہُمْ خَیْرٌ لِّاَنْفُسِہِمْ ط ُ کافروں کو مہلت اس لیے ملتی ہے کہ وہ اپنے کفر میں اور بڑھ جائیں تاکہ اپنے آپ کو برے سے برے عذاب کا مستحق بنا لیں۔ اللہ ان کو ڈھیل ضرور دیتا ہے ‘ لیکن یہ نہ سمجھو کہ یہ ڈھیل ان کے حق میں اچھی ہے۔ اِنَّمَا نُمْلِیْ لَہُمْ لِیَزْدَادُوْآ اِثْمًاج ہم تو ان کو صرف اس لیے ڈھیل دیتے ہیں تاکہ وہ گناہ میں اور اضافہ کرلیں۔
Ayah 3:179

مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ حَتّٰى یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَیْبِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَلَكُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 3:179 in the Quran reader

اللہ وہ نہیں کہ چھوڑے رکھے مسلمانوں کو اس حالت میں جس پر تم ہو یہاں تک کہ وہ خبیث کو طیب سے ممیز کر دے اور اللہ تعالیٰ کا یہ بھی طریقہ نہیں ہے کہ تمہیں غیب کی خبریں بتائے لیکن (اس کام کے لیے) اللہ منتخب کرلیتا ہے اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہتا ہے پس ایمان پختہ رکھو اللہ پر اور اس کے رسولوں ؑ پر اور اگر تم (یہ دو شرطیں پوری کر دو گے) ایمان میں ثابت قدم رہو گے اور تقویٰ پر کاربند رہو گے تو تمہارے لیے بہت بڑا اجر ہے۔

آیت 179 مَا کَان اللّٰہُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰی مَآ اَنْتُمْ عَلَیْہِ حَتّٰی یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ ط۔ یہ آیت بھی فلسفۂ آزمائش کے ضمن میں بہت اہم ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک اور صالح بندوں کو تکالیف میں کیوں ڈالتا ہے ‘ حالانکہ وہ تو قادر مطلق ہے ‘ آن واحد میں جو چاہے کرسکتا ہے۔ فرمایا جا رہا ہے کہ یہ بات اللہ کی حکمت کے مطابق نہیں ہے کہ وہ تمہیں اسی حال میں چھوڑے رکھے جس پر تم ہو۔ ابھی تمہارے اندر کمزور اور پختہ ایمان والے گڈمڈ ہیں ‘ بلکہ ابھی تو منافق اور مؤمن بھی گڈمڈ ہیں۔ تو جب تک ان عناصر کو الگ الگ نہ کردیا جائے اور تمہاری اجتماعیت سے یہ تمام ناپاک عناصر نکال نہ دیے جائیں اس وقت تک تم آئندہ پیش آنے والے مشکل اور کٹھن حالات کے لیے تیار نہیں ہوسکتے۔ آگے تمہیں سلطنت روما سے ٹکرانا ہے ‘ تمہیں سلطنت کسریٰ سے ٹکر لینی ہے۔ ابھی تو یہ اندرون ملک عرب تمہاری جنگیں ہو رہی ہیں۔ ان آزمائشوں کا مقصد یہ ہے کہ تمہاری اجتماعیت کی تطہیر ‘ purge ‘ ہوتی رہے ‘ یہاں تک کہ منافقین اور صادق الایمان لوگ بالکل نکھر کر علیحدہ ہوجائیں۔ وَمَا کَان اللّٰہُ لِیُطْلِعَکُمْ عَلَی الْغَیْبِ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِہٖ مَنْ یَّشَآءُص۔ وہ اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہتا ہے غیب کے حالات بھی بتاتا ہے۔ رسولوں کو غیب از خود معلوم نہیں ہوتا ‘ اللہ کے بتانے سے معلوم ہوتا ہے۔ یعنی ان آزمائشوں میں کیا حکمتیں ہیں اور ان میں تمہارے لیے کیا خیر پنہاں ہے ‘ ہرچیز ہر ایک کو نہیں بتائی جائے گی ‘ البتہ یہ چیزیں ہم اپنے رسولوں کو بتا دیتے ہیں۔
Ayah 3:180

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ هُوَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ١ؕ سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِهٖ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 3:180 in the Quran reader

اور نہ خیال کریں وہ لوگ جو بخل کر رہے ہیں اس مال میں جو اللہ نے انہیں دیا ہے اپنے فضل میں سے کہ یہ بخل ان کے حق میں بہتر ہے بلکہ یہ ان کے حق میں بہت برا ہے اسی مال کے طوق بنا کر ان کی گردنوں میں پہنائے جائیں گے جس میں انہوں نے بخل کیا تھا قیامت کے دن اور آسمانوں اور زمین کی وراثت بالآخر اللہ ہی کے لیے ہے اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے باخبر ہے

آیت 180 وَلاَ یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَآ اٰتٰٹہُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ہُوَ خَیْرًا لَّہُم ْ ط۔ ظاہر بات ہے کہ جب جنگ احد کے لیے تیاری ہو رہی ہوگی تو حضور ﷺ نے مسلمانوں کو انفاق مال کی دعوت دی ہوگی تاکہ اسباب جنگ فراہم کیے جائیں۔ لیکن جن لوگوں نے دولت مند ہونے کے باوجود بخل کیا ان کی طرف اشارہ ہو رہا ہے کہ انہوں نے بخل کر کے جو اپنا مال بچالیا وہ یہ نہ سمجھیں کہ انہوں نے کوئی اچھا کام کیا ہے۔ یہ مال اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا کیا تھا ‘ اس میں بخل سے کام لے کر انہوں نے اچھا نہیں کیا۔ بَلْ ہُوَ شَرٌّ لَّہُمْ ط سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ط وَلِلّٰہِ مِیْرَاث السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط دنیا کا مال و اسباب آج تمہارے پاس ہے تو کل کسی اور کے پاس چلا جائے گا اور بالآخر سب کچھ اللہ کے لیے رہ جائے گا۔ آسمانوں اور زمین کی میراث کا حقیقی وارث اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ یہاں وہ چھ رکوع مکمل ہوگئے ہیں جو غزوۂ احد کے حالات و واقعات اور ان پر تبصرے پر مشتمل تھے۔ اس سورة مبارکہ کے آخری دو رکوع کی نوعیت حاصل کلام کی ہے۔ یہ گویا concluding رکوع ہیں۔
Ayahs 3:181–182

لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ فَقِیْرٌ وَّ نَحْنُ اَغْنِیَآءُ١ۘ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوْا وَ قَتْلَهُمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ نَقُوْلُ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 3:181 in the Quran reader

اللہ نے سن لیا ہے قول ان لوگوں کا جنہوں نے کہا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں ہم لکھ رکھیں گے جو کچھ انہوں نے کہا ہے اور ان کے ناحق قتل انبیاء کو بھی (لکھ رکھیں گے) اور ہم کہیں گے اب چکھو مزا اس جلا دینے والی آگ کے عذاب کا

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِۚ Open ayah 3:182 in the Quran reader

یہ سب کچھ تمہارے اپنے ہی ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے اور اللہ تو اپنے بندوں کے حق میں ہرگز ظالم نہیں ہے

آیت 181 لَقَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُوْآ اِنَّ اللّٰہَ فَقِیْرٌ وَّنَحْنُ اَغْنِیَآءُ 7 ۔ یہ بات کہنے والوں میں منافقین بھی شامل ہوسکتے ہیں اور یہودی بھی۔ جب رسول اللہ ﷺ مسلمانوں کو انفاق مال کی ترغیب دیتے تھے کہ اللہ کو قرض حسنہ دو تو یہودیوں اور ان کے زیر اثر منافقوں نے اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہنا شروع کردیا کہ ہاں اللہ فقیر ہوگیا ہے اور ہم سے قرض مانگ رہا ہے ‘ جبکہ ہم غنی ہیں ‘ ہمارے پاس دولت ہے۔ سَنَکْتُبُ مَا قَالُوْا ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ کی شدید ناراضگی جھلکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فوراً تو گرفت نہیں کرتا لیکن ایک وقت آئے گا جس دن انہیں اپنے اس قول کی پوری سزا مل جائے گی۔ اور صرف یہی نہیں : وَقَتْلَہُمُ الْاَنْبِیَآءَ بِغَیْرِحَقٍّ لا اس سے پہلے یہ جو نبیوں کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں ان کا یہ جرم بھی ان کے نامۂ اعمال میں ثبت ہے۔
Ayah 3:183

اَلَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ عَهِدَ اِلَیْنَاۤ اَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُوْلٍ حَتّٰى یَاْتِیَنَا بِقُرْبَانٍ تَاْكُلُهُ النَّارُ١ؕ قُلْ قَدْ جَآءَكُمْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِیْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالَّذِیْ قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوْهُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 3:183 in the Quran reader

جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اللہ نے ہم سے ایک عہد لے لیا تھا) کہ ہم کسی رسول پر ایمان نہ لائیں جب تک وہ ایسی قربانی پیش نہ کرے جسے آگ کھاجائے (اے نبی ﷺ ! ان سے) کہیے تمہارے پاس مجھ سے پہلے بہت سے رسول آچکے ہیں واضح معجزوں کے ساتھ اور وہ چیز بھی لے کر آئے جس کے لیے تم کہہ رہے ہو پھر تم نے انہیں کیوں قتل کیا اگر تم سچے ہو ؟

آیت 183 اَلَّذِیْنَ قَالُوْآ اِنَّ اللّٰہَ عَہِدَ اِلَیْنَآ اَلاَّ نُؤْمِنَ لِرَسُوْلٍ حَتّٰی یَاْتِیَنَا بِقُرْبَانٍ تَاْکُلُہُ النَّارُط یہاں روئے سخن پھر یہود کی طرف ہوگیا ہے۔ نوع انسانی جب عہد طفولیت میں تھی تو خرق عادت چیزیں بہت ہوا کرتی تھیں۔ ان میں سے ایک بات یہ بھی تھی کہ اگر کوئی شخص اللہ کی جناب میں کوئی جانور ذبح کر کے پیش کرتا تو آسمان سے ایک آگ اترتی جو اسے بھسم کردیتی تھی اور یہ اس بات کی علامت ہوتی تھی کہ یہ قربانی قبول ہوگئی۔ جیسے ہابیل اور قابیل کے قصے میں آیا ہے کہ : اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِھِمَا وَلَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِ ط المائدۃ : 27 جب دونوں نے قربانی پیش کی تو ایک کی قربانی قبول ہوگئی اور دوسرے کی قبول نہیں ہوئی۔ یہ پتا کیسے چلا ؟ عید الاضحی کے موقع پر ہم جو قربانیاں کرتے ہیں ان کے بارے میں ہم نہیں جانتے کہ کس کی قربانی قبول ہوئی اور کس کی قبول نہیں ہوئی۔ یہ تو اللہ ہی جانتا ہے۔ لیکن پہلے ایسی حِسّی علامات ہوتی تھیں کہ پتا چل جاتا تھا کہ یہ قربانی اللہ نے قبول کرلی ہے۔ بنی اسرائیل کے ابتدائی دور میں بھی یہ نشانی موجود تھی کہ آسمان سے اترنے والی آگ کا قربانی کو بھسم کردینا اس کی قبولیت کی علامت تھی۔ مدینہ کے یہود نے کٹ حجتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم سے تو اللہ نے یہ عہد لے لیا تھا کہ ہم کسی رسول پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ یہ معجزہ نہ دکھائے۔ تو اگر محمد ﷺ واقعی رسول ﷺ ہیں تو یہ معجزہ دکھائیں۔ اس کا جواب دیا جا رہا ہے : قُلْ قَدْ جَآءَ کُمْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِیْ بالْبَیِّنٰتِ وَبِالَّذِیْ قُلْتُمْ انہوں نے سوختنی قربانی کا معجزہ بھی دکھایا جس کا تم مطالبہ کر رہے ہو۔
Ayah 3:184

فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ جَآءُوْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ وَ الْكِتٰبِ الْمُنِیْرِ Open ayah 3:184 in the Quran reader

پھر (اے نبی ﷺ اگر وہ آپ ﷺ کو جھٹلا دیں تو آپ ﷺ سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کو جھٹلایا جا چکا ہے جو آئے تھے واضح نشانیاں اور صحیفے اور روشن کتاب لے کر

آیت 184 فَاِنْ کَذَّبُوْکَ تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں۔ یہ معاملہ صرف آپ ﷺ ہی کے ساتھ نہیں ہوا۔ فَقَدْ کُذِّبَ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِکَ یہ تو اس راستے کا ایک عام تجربہ ہے ‘ جس سے آپ ﷺ ‘ کو بھی گزرنا پڑے گا۔
Ayah 3:185

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ اِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ Open ayah 3:185 in the Quran reader

ہر ذی نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور تم کو تمہارے اعمال کا پورا پورا بدلہ تو قیامت ہی کے دن دیا جائے گا تو جو کوئی بچالیا گیا جہنم سے اور داخل کردیا گیا جنت میں تو وہ کامیاب ہوگیا اور یہ دنیا کی زندگی تو اس کے سوا کچھ نہیں کہ صرف دھوکے کا سامان ہے۔

آیت 185 کُلُّ نَفْسٍ ذَآءِقَۃُ الْمَوْتِ ط موت تو ایک دن آکر رہنی ہے۔ وَاِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ط فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ ط اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ اے اللہ ! ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل فرمانا !
Ayahs 3:186–187

لَتُبْلَوُنَّ فِیْۤ اَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ١۫ وَ لَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَذًى كَثِیْرًا١ؕ وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ Open ayah 3:186 in the Quran reader

(مسلمانو ! یاد رکھو) تمہیں لازماً آزمایا جائے گا تمہارے مالوں میں بھی اور تمہاری جانوں میں بھی اور تمہیں لازماً سننی پڑیں گی ان لوگوں سے بھی جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی اور ان سے بھی جنہوں نے شرک کیا بڑی تکلیف دہ باتیں اور اگر تم صبر کرتے رہو گے (ثابت قدم رہو گے) اور تقویٰ کی روش اختیار کیے رکھو گے تو بیشک یہ بڑے ہمت کے کاموں میں سے ہے

وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّهٗ لِلنَّاسِ وَ لَا تَكْتُمُوْنَهٗ١٘ فَنَبَذُوْهُ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ وَ اشْتَرَوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ فَبِئْسَ مَا یَشْتَرُوْنَ Open ayah 3:187 in the Quran reader

اور یاد کرو جبکہ اللہ نے ان لوگوں سے ایک قول وقرار لیا تھا جن کو کتاب دی گئی تھی کہ تم لازماً اسے لوگوں کے سامنے واضح کرو گے اور اسے چھپاؤ گے نہیں تو انہوں نے اس عہد کو پس پشت پھینک دیا اور اس کی بڑی حقیر سی قیمت وصول کرلی تو بہت ہی بری شے ہے جو وہ (اس کے بدلے میں) حاصل کر رہے ہیں

آیت 186 لَتُبْلَوُنَّ فِیْ اَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ قف یہ وہی مضمون ہے جو سورة البقرۃ کے انیسویں رکوع میں گزر چکا ہے : وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ط آیت 155 اور ہم تمہیں لازماً آزمائیں گے کسی قدر خوف سے اور بھوک سے اور مالوں ‘ جانوں اور ثمرات کے نقصان سے۔ یہاں مجہول کا صیغہ ہے کہ تمہیں لازماً آزمایا جائے گا ‘ تمہاری آزمائش کی جائے گی تمہارے مالوں میں بھی اور تمہاری جانوں میں بھی۔ کان کھول کر سن لو کہ یہ ایمان کا راستہ پھولوں کی سیج نہیں ہے ‘ یہ کانٹوں بھرا بستر ہے۔ ایسا نہیں ہوگا کہ ٹھنڈے ٹھنڈے اور بغیر تکلیفیں اٹھائے تمہیں جنت مل جائے گی۔ سورة البقرۃ آیت 214 میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی جنت میں داخل ہوجاؤ گے حالانکہ ابھی تو تم پر وہ حالات و واقعات وارد نہیں ہوئے جو تم سے پہلوں پر ہوئے تھے۔۔ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَمِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْآ اَذًی کَثِیْرًا ط یہ سب کچھ سنو اور صبر کرو۔ جیسے رسول اللہ ﷺ سے ابتدا میں کہا گیا تھا : وَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ وَاھْجُرْھُمْ ھَجْرًا جَمِیْلًا المزمل اور ان باتوں پر صبر کیجیے جو یہ لوگ کہتے ہیں اور وضعداری کے ساتھ ان سے الگ ہوجایئے۔ آپ ﷺ کو کیا کچھ نہیں سننا پڑا۔ کسی نے کہہ دیا مجنون ہے ‘ کسی نے کہہ دیا شاعر ہے ‘ کسی نے کہا ساحر ہے ‘ کسی نے کہا مسحور ہے۔ سورة الحجر کے آخر میں ارشاد ہے : وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَ نَّکَ یَضِیْقُ صَدْرُکَ بِمَا یَقُوْلُوْنَ اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں خوب معلوم ہے کہ یہ مشرکین جو کچھ کہہ رہے ہیں اس سے آپ ﷺ ‘ کا سینہ بھنچتا ہے۔ ان کی زبانوں سے جو کچھ آپ ﷺ کو سننا پڑرہا ہے اس سے آپ ﷺ کو تکلیف پہنچتی ہے ‘ لیکن صبر کیجیے ! وہی بات مسلمانوں سے کہی جا رہی ہے۔
Ayahs 3:188–189

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اَتَوْا وَّ یُحِبُّوْنَ اَنْ یُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:188 in the Quran reader

آپ ان کے بارے میں خیال نہ کریں جو اپنے کیے پر خوش ہوتے ہیں اور (اس سے بھی بڑھ کر) چاہتے ہیں کہ ان کی تعریف کی جائے ایسے کاموں پر جو انہوں نے کیے ہی نہیں اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 3:189 in the Quran reader

اور اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اور اللہ ہرچیز پر قادر ہے

آیت 188 لاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ بِمَآ اَتَوْا اگر کچھ نیکی کرلیتے ہیں ‘ کسی کو کچھ دے دیتے ہیں تو اس پر بہت اتراتے ہیں ‘ اکڑتے ہیں کہ ہم نے یہ کچھ کرلیا ہے۔ وَّیُحِبُّوْنَ اَنْ یُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوْاص آج کل اس کی سب سے بڑی مثال سپاس نامے ہیں ‘ جو تقریبات میں مدعو شخصیات کو پیش کیے جاتے ہیں۔ ان سپاس ناموں میں ان حضرات کے ایسے ایسے کارہائے نمایاں بیان کیے جاتے ہیں جو ان کی پشتوں میں سے بھی کسی نے نہ کیے ہوں۔ اس طرح ان کی خوشامد اور چاپلوسی کی جاتی ہے اور وہ اسے پسند کرتے ہیں۔ فَلاَ تَحْسَبَنَّہُمْ بِمَفَازَۃٍ مِّنَ الْعَذَابِ ج تو ان کے بارے میں یہ خیال نہ کریں کہ وہ عذاب سے بچ جائیں گے۔
Ayah 3:190

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِۚۙ Open ayah 3:190 in the Quran reader

یقیناً آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات اور دن کے الٹ پھیر میں ہوش مند لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں

سورة آل عمران کا آخری رکوع قرآن مجید کے عظیم ترین مقامات میں سے ہے۔ اس کی پہلی چھ آیات کے بارے میں روایت آتی ہے کہ جس شب میں یہ نازل ہوئیں تو پوری رات حضور ﷺ پر رقت طاری رہی اور آپ ﷺ کھڑے ‘ بیٹھے ‘ لیٹے ہوئے روتے رہے۔ نماز تہجد کے دوران بھی آپ ﷺ پر رقت طاری رہی۔ پھر آپ ﷺ نے بہت طویل سجدہ کیا ‘ اس میں بھی گریہ طاری رہا اور سجدہ گاہ آنسوؤں سے تر ہوگئی۔ پھر آپ ﷺ کچھ دیر لیٹے رہے لیکن وہ کیفیت برقرار رہی۔ یہاں تک کہ صبح صادق ہوگئی۔ حضرت بلال رض جب فجر کی نماز کی اطلاع دینے کے لیے حاضر ہوئے اور آپ ﷺ ‘ کو اس کیفیت میں دیکھا تو وجہ دریافت کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اے بلال ‘ میں کیوں نہ روؤں کہ آج کی شب میرے رب نے مجھ پر یہ آیات نازل فرمائی ہیں۔ پھر آپ ﷺ نے ان آیات کی تلاوت فرمائی اس روایت کو امام رازی نے تفسیر کبیر میں بیان کیا ہے یعنی وہ گریہ اور رقت شکر کے جذبے کے تحت تھی۔ یہ بھی نوٹ کیجیے کہ یہ سورة آل عمران کا بیسواں رکوع شروع ہو رہا ہے اور سورة البقرۃ کے بیسویں رکوع کی پہلی آیت کے الفاظ یہ تھے : اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلاَفِ الَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَالْفُلْکِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا وَبَثَّ فِیْہَا مِنْ کُلِّ دَآبَّۃٍص وَّتَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ اسی آیت الآیات کا خلاصہ یہاں آگیا ہے : آیت 190 اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَالنَّہَارِ لَاٰیٰتٍ لّاُولِی الْاَلْبَابِ سورۃ البقرۃ کی آیت 164 ان الفاظ پر ختم ہوئی تھی : لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں۔ یہاں ان لوگوں کو اولوا الالبابکا نام دیا گیا۔ یہ ہدایت کا پہلا قدم ہے کہ کائنات کو دیکھو ‘ مظاہر فطرت کا مشاہدہ کرو ؂ کھول آنکھ ‘ زمین دیکھ ‘ فلک دیکھ ‘ فضا دیکھ مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ ! یہ سب آیات الٰہیہ ہیں ‘ ان کو دیکھو اور اللہ کو پہچانو۔ اگلا قدم یہ ہے کہ جب اللہ کو پہچان لیا تو اب اسے یاد رکھو۔ یعنی ؂ َ فقر قرآں اختلاط ذکر و فکر فکر را کامل نہ دیدم جز بہ ذکر !
Ayahs 3:191–192

الَّذِیْنَ یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِهِمْ وَ یَتَفَكَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا١ۚ سُبْحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ Open ayah 3:191 in the Quran reader

جو اللہ کا ذکر کرتے رہتے ہیں کھڑے بھی بیٹھے بھی اور اپنے پہلوؤں پر بھی اور مزید غور و فکر کرتے رہتے ہیں آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اے ہمارے ربّ ! تو نے یہ سب کچھ بےمقصد تو پیدا نہیں کیا ہے تو پاک ہے (اس سے کہ کوئی عبث کام کرے) پس تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا !

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخْزَیْتَهٗ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 3:192 in the Quran reader

اے ہمارے ربّ ! جس کو تو نے داخل کردیا آگ میں بیشک اس کو تو نے رسوا کردیا اور ظالموں کے لیے کوئی مددگار نہیں ہوں گے

آیت 191 الَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰی جُنُوْبِہِمْ وَیَتَفَکَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ج اس غور و فکر سے وہ ایک دوسرے نتیجے پر پہنچتے ہیں اور پکار اٹھتے ہیں : رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلًا ج اور پھر ان کا ذہن اپنی طرف منتقل ہوتا ہے کہ میری زندگی کا مقصد کیا ہے ؟ میں کس لیے پیدا کیا گیا ہوں ؟ کیا میری زندگی بس یہی ہے کہ کھاؤ پیو ‘ اولاد پیدا کرو اور دنیا سے رخصت ہوجاؤ ؟ معلوم ہوا کہ نہیں ‘ کوئی خلا ہے۔ انسانی اعمال کے نتیجے نکلنے چاہئیں ‘ انسان کو اس کی نیکی اور بدی کا بدلہ ملنا چاہیے ‘ جو اس دنیا میں اکثر و بیشتر نہیں ملتا۔ دنیا میں اکثر یہی دیکھا گیا ہے کہ نیکوکار فاقوں سے رہتے ہیں اور بدکار عیش کرتے ہیں۔ چناچہ کوئی اور زندگی ہونی چاہیے ‘ کوئی اور دنیا ہونی چاہیے جس میں اچھے برے اعمال کا بھرپور بدلہ مل جائے ‘ مکافات عمل ہو۔ لہٰذا وہ کہہ اٹھتے ہیں : سُبْحٰنَکَ فَقِنَا عَذَاب النَّارِ تو نے یقیناً ایک دوسری دنیا تیار کر رکھی ہے ‘ جس میں جزا وسزا کے لیے جنت بھی ہے اور جہنم بھی !
Ayah 3:193

رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیْ لِلْاِیْمَانِ اَنْ اٰمِنُوْا بِرَبِّكُمْ فَاٰمَنَّا١ۖۗ رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ كَفِّرْ عَنَّا سَیِّاٰتِنَا وَ تَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِۚ Open ayah 3:193 in the Quran reader

اے ہمارے ربّ ! ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا جو ایمان کی ندا دے رہا تھا کہ ایمان لاؤ اپنے رب پر تو ہم ایمان لے آئے اے ہمارے ربّ ہمارے گناہ بخش دے ! اور ہماری برائیاں ہم سے دور کر دے ! اور ہمیں وفات دیجیو اپنے نیکوکار (اور وفادار) بندوں کے ساتھ

آیت 193 رَبَّنَآ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیْ لِلْاِیْمَانِ اَنْ اٰمِنُوْا بِرَبِّکُمْ فَاٰمَنَّاق ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت کے بعد ایسے لوگوں کے کانوں میں جونہی کسی نبی یا رسول کی پکار آتی ہے تو فوراً لبیک کہتے ہیں ‘ ذرا بھی دیر نہیں لگاتے۔ جیسے حضرت ابوبکر صدیق رض نے فوری طور پر رسول اللہ ﷺ کی دعوت قبول کرلی ‘ اس لیے کہ ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت تک تو وہ خود پہنچ چکے تھے۔ سورة الفاتحہ کے مضامین کو ذہن میں تازہ کر لیجیے کہ اولوا الالباب میں سے ایک شخص جو اپنی سلامت ‘ طبع ‘ سلامتئ فطرت اور سلامت ‘ عقل کی رہنمائی میں یہاں تک پہنچ گیا کہ اس نے اللہ کو پہچان لیا ‘ آخرت کو پہچان لیا ‘ یہ بھی طے کرلیا کہ اسے اللہ کی بندگی ہی کا راستہ اختیار کرنا ہے ‘ لیکن اس کے بعد وہ نبوت و رسالت کی راہنمائی کا محتاج ہے ‘ لہٰذا اللہ تعالیٰ کے حضور دست سوال دراز کرتا ہے : اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ یہاں بھی یہی مضمون ہے کہ اب ایسے شخص کے سامنے اگر کسی نبی کی دعوت آئے گی تو اس کا ردِّعمل کیا ہوگا۔ اب آگے ایک عظیم ترین دعا آرہی ہے۔ یہ اس دعا سے جو سورة البقرہ کے آخر میں آئی تھی بعض پہلوؤں سے کہیں زیادہ عظیم تر ہے۔ رَبَّنَا فَاغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا وَکَفِّرْ عَنَّا سَیِّاٰتِنَا ہمارے نامۂ اعمال کے دھبے بھی دھو دے اور ہمارے دامن کردار کے جو داغ ہیں وہ بھی صاف کر دے۔
Ayah 3:194

رَبَّنَا وَ اٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰى رُسُلِكَ وَ لَا تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ Open ayah 3:194 in the Quran reader

اے ہمارے رب ہمیں بخش وہ سب کچھ جس کا تو نے وعدہ کیا ہے ہم سے اپنے رسولوں کے ذریعے سے اور ہمیں رسوا نہ کیجیو قیامت کے دن یقیناً تو اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرے گا

آیت 194 رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰی رُسُلِکَ وَلَا تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ط اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ ہمیں شک ہے تو اس بات میں کہ آیا ہم تیرے ان وعدوں کے مصداق ثابت ہو سکیں گے یا نہیں۔ لہٰذا تو اپنی شان غفاری سے ہماری کوتاہیوں کی پردہ پوشی کرنا اور ہمیں وہ سب کچھ عطا کردینا جو تو نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے وعدہ کیا ہے۔
Ayah 3:195

فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ اَنِّیْ لَاۤ اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى١ۚ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَالَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ قٰتَلُوْا وَ قُتِلُوْا لَاُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاُدْخِلَنَّهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ ثَوَابًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الثَّوَابِ Open ayah 3:195 in the Quran reader

تو ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرمائی کہ میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کے کسی عمل کو ضائع کرنے والا نہیں ہوں خواہ وہ مردہو یا عورت تم سب ایک دوسرے ہی میں سے ہو سو جنہوں نے ہجرت کی اور جو اپنے گھروں سے نکال دیے گئے اور جنہیں میری راہ میں ایذائیں پہنچائی گئیں اور جنہوں نے (میری راہ میں) جنگ کی اور جانیں بھی دے دیں میں لازماً ان سے ان کی برائیوں کو دور کر دوں گا اور لازماً داخل کروں گا انہیں ان باغات میں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور یہ بدلہ ہوگا اللہ کے پاس سے اور بہترین بدلہ تو اللہ ہی کے پاس ہے

آیت 195 فَاسْتَجَابَ لَہُمْ رَبُّہُمْ یہ ہے دعا کی قبولیت کی انتہا کہ اس دعا کے فوراً بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے قبولیت کا اعلان ہورہا ہے۔ اَنِّیْ لَا اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی ج بَعْضُکُمْ مِّنْ بَعْضٍ ج ایک ہی باپ کے نطفے سے بیٹا بھی ہے اور بیٹی بھی ‘ اور ایک ہی ماں کے رحم میں بیٹا بھی پلا ہے اور بیٹی ‘ بھی۔ فَالَّذِیْنَ ہَاجَرُوْا وَاُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِہِمْ وَاُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ وَقٰتَلُوْا وَقُتِلُوْا لَاُکَفِّرَنَّ عَنْہُمْ سَیِّاٰتِہِمْ ان کے نامۂ اعمال میں اگر کوئی دھبے ہوں گے تو انہیں دھو دوں گا۔ وَلَاُدْخِلَنَّہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ ج۔ ثَوَابًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ ط۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے خاص خزانۂ ‘ فضل سے۔ وَاللّٰہُ عِنْدَہٗ حُسْنُ الثَّوَابِ اب آخری پانچ آیات جو آرہی ہیں ان کی حیثیت اس سورة مبارکہ کے تمام مباحث پر خاتمۂ ‘ کلام کی ہے۔ یاد رہے کہ اس سورت میں اہل کتاب کا عمومی ذکر بھی ہوا ہے اور یہود و نصاریٰ کا الگ الگ بھی۔ پھر اس میں اہل ایمان کا ذکر بھی ہے اور مشرکین کا بھی۔
Ayah 3:196

لَا یَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِی الْبِلَادِؕ Open ayah 3:196 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کو دھوکے میں نہ ڈالے ان کافروں کی چلت پھرت شہروں کے اندر

اب فرمایا : آیت 196 لاَ یَغُرَّنَّکَ تَقَلُّبُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِی الْْبِلاَدِ یہ کافر جو ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر بھاگ دوڑ کر رہے ہیں ‘ اور اسلام اور مسلمانوں کو ختم کرنے کے لیے سازشیں کر رہے ہیں ‘ جمعیتیں فراہم کر رہے ہیں ‘ اس سے آپ ﷺ کسی دھوکے میں نہ آئیں ‘ کسی مغالطے کا شکار نہ ہوں ‘ ان کی طاقت کے بارے میں کہیں آپ ﷺ مرعوب نہ ہوجائیں۔
Ayah 3:197

مَتَاعٌ قَلِیْلٌ١۫ ثُمَّ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 3:197 in the Quran reader

یہ تو بس تھوڑا سا فائدہ اٹھانا ہے پھر ان کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے

آیت 197 مَتَاعٌ قَلِیْلٌ قف یہ تو محض چند روزہ زندگی کے لیے ہم نے انہیں کچھ ساز و سامان دے دیا ہے۔
Ayah 3:198

لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا نُزُلًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّلْاَبْرَارِ Open ayah 3:198 in the Quran reader

اس کے برعکس جن لوگوں نے اپنے رب کا تقویٰ اختیار کیا ان کے لیے باغات ہیں جن کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے یہ ان کے لیے ابتدائی مہمان نوازی ہوگی اللہ کی طرف سے اور مزید جو اللہ کے پاس ہے وہ کہیں بہتر ہے نیکوکاروں کے لیے

آیت 198 لٰکِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّہُمْ لَہُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا نُزُلاً مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ ط وَمَا عِنْدَ اللّٰہِ خَیْرٌ لِّلْاَبْرَارِ جنت کی اصل نعمتیں تو بیان میں آ ہی نہیں سکتیں۔ ان کے بارے میں حضرت ابوہریرہ رض سے مروی یہ متفق علیہ حدیث یاد رکھیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : قَال اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی : اَعْدَدْتُ لِعِبَادِیَ الصَّالِحِیْنَ مَالَا عَیْنٌ رَأَتْ وَلَا اُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ 1 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : میں نے اپنے صالح بندوں کے لیے جنت میں وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جو نہ تو کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا ‘ اور نہ ہی کسی انسان کے دل میں اس کا خیال ہی گزرا۔ قرآن و حدیث میں جنت کی جن نعمتوں کا تذکرہ ہے ان کی حیثیت اہل جنت کے لیے نُزُل ابتدائی مہمان نوازی کی ہوگی۔
Ayah 3:199

وَ اِنَّ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ خٰشِعِیْنَ لِلّٰهِ١ۙ لَا یَشْتَرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 3:199 in the Quran reader

اور بیشک اہل کتاب میں وہ بھی ہیں جو ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور اس پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو تم پر نازل کیا گیا اور اس پر بھی جو ان کی طرف نازل کیا گیا اللہ سے ڈرتے رہتے ہیں وہ اللہ کی آیات کو حقیر سی قیمت پر فروخت نہیں کرتے ایسے ہی لوگوں کا اجر ان کے رب کے پاس محفوظ ہے یقیناً اللہ جلد حساب چکانے والا ہے

آیت 199 وَاِنَّ مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ لَمَنْ یُّؤْمِنُ باللّٰہِ ان کے دلوں میں اللہ کا خوف ہے ‘ وہ عاجزی اور تواضع اختیار کرتے ہیں۔ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ۔ وہ حساب لینے میں دیر نہیں لگاتا۔ آخری آیت پھر بہت جامع ہے :
Ayah 3:200

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا١۫ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 3:200 in the Quran reader

اے اہل ایمان ! صبر کرو اور صبر میں اپنے دشمنوں سے بڑھ جاؤ اور مربوط رہو اور اللہ کا تقویٰ اختیار کیے رکھو تاکہ تم فلاح پاؤ

آیت 200 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَصَابِرُوْا مصابرت باب مفاعلہ سے ہے اور اس میں مقابلہ ہوتا ہے۔ ایک تو ہے صبر کرنا ‘ ثابت قدم رہنا ‘ اور ایک ہے مصابرت یعنی صبر و استقامت میں دشمن سے بڑھ جانا۔ ایک صبر وہ بھی تو کر رہے ہیں۔ تمہیں آج چرکا لگا ہے تو انہیں ایک سال پہلے ایسا ہی چرکا لگا تھا اور 70 مارے گئے تھے۔ وہ ایک سال کے اندر پھر چڑھائی کر کے آگئے ‘ تو تم اپنا دل غمگین کر کے کیوں بیٹھے ہوئے ہو ؟ تمہیں تو ان سے بڑھ کر صبر کرنا ہے ‘ ان سے بڑھ کر قربانیاں دینی ہیں ‘ تبھی تم حقیقت میں اللہ کے وفادار ثابت ہو گے۔ وَرَابِطُوْاقف۔ مرابطہ پہرے کو بھی کہتے ہیں اور نظم و ضبط discipline کی پابندی کرتے ہوئے باہم جڑے رہنے کو بھی۔ غزوۂ احد میں شکست کا سبب نظم کا ڈھیلا پن اور سمع وطاعت میں کمی تھی۔ لہٰذا یہاں صبر و مصابرت کے ساتھ ساتھ نظم کی پابندی اور باہم مربوط رہنے کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ وَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ۔ یہ آخری اور اہم ترین چیز ہے۔ یہ سب کچھ کرو گے تو فلاح ملے گی۔ ایسے ہی گھر بیٹھے تم فوز و فلاح سے ہمکنار نہیں ہو سکو گے۔ بارک اللّٰہ لی ولکم فی ال قرآن العظیم۔ ونفعنی وایاکم بالآیات والذکر الحکیم۔