27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsتفسیر بیان القرآن

Ayah 27:41

قَالَ نَكِّرُوْا لَهَا عَرْشَهَا نَنْظُرْ اَتَهْتَدِیْۤ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِیْنَ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 27:41 in the Quran reader

سلیمان ؑ نے کہا کہ اس کے لیے اس کے تخت کی ہیئت ذرا بدل دو ہم دیکھیں کہ وہ پہچان پاتی ہے یا ان لوگوں میں سے ہوتی ہے جو نہیں پہچان پاتے

آیت 41 قَالَ نَکِّرُوْا لَہَا عَرْشَہَا ” کہ ملکہ کو آزمانے کے لیے تخت کی ظاہری ہیئت میں تھوڑی بہت تبدیلی کر دو۔
Ayahs 27:42–43

فَلَمَّا جَآءَتْ قِیْلَ اَهٰكَذَا عَرْشُكِ١ؕ قَالَتْ كَاَنَّهٗ هُوَ١ۚ وَ اُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَ كُنَّا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:42 in the Quran reader

پھر جب وہ آئی تو (اس سے) کہا گیا کہ کیا اسی طرح کا ہے آپ کا تخت ؟ اس نے کہا یہ تو گویا وہی ہے اور ہمیں اس سے پہلے ہی علم حاصل ہوچکا ہے اور ہم اسلام لا چکے ہیں

وَ صَدَّهَا مَا كَانَتْ تَّعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ Open ayah 27:43 in the Quran reader

اور سلیمان ؑ نے اسے روک دیا (اس سے) جس کو وہ پوجتی تھی اللہ کے سوا وہ ایک کافر قوم میں سے تھی

آیت 42 فَلَمَّا جَآءَ تْ قِیْلَ اَہٰکَذَا عَرْشُکِط قَالَتْ کَاَنَّہٗ ہُوَ ج ” چنانچہ اس نے اپنے تخت کو پہچان لیا۔ یعنی وہ واقعی ایک ذہین اور سمجھ دار عورت تھی۔ اس سے پہلے آیت 43 میں فاتح بادشاہوں کے بارے میں اس کا تبصرہ بھی اس کی ذہانت اور دانش مندی کا ثبوت ہے۔ وَاُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِہَا وَکُنَّا مُسْلِمِیْنَ ” یعنی میرے تخت کا یہاں پہنچ جانا اب میرے لیے کوئی بہت بڑی حیرت کی بات نہیں۔ آپ علیہ السلام کا اللہ کے ہاں جو مقام و مرتبہ ہے اس کے بارے میں مجھے بہت پہلے ہی علم ہوچکا ہے اور اسی وجہ سے ہم مسلمان ہو کر آپ علیہ السلام کی اطاعت قبول کرچکے ہیں۔
Ayahs 27:44–45

قِیْلَ لَهَا ادْخُلِی الصَّرْحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَّ كَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ١ؕ۬ قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَ اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 27:44 in the Quran reader

اس سے کہا گیا کہ اب محل میں داخل ہو جاؤتو جب اس نے اس (کے فرش) کو دیکھا تو اسے گہرا پانی سمجھا اور اپنی دونوں پنڈلیاں کھول دیں سلیمان ؑ نے کہا : یہ تو ایسا محل ہے جو مرصعّ ہے شیشوں سے اس نے کہا : اے میرے پروردگار ! یقیناً میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور اب میں نے سلیمان ؑ کے ساتھ اللہ کی اطاعت اختیار کی ہی جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ فَاِذَا هُمْ فَرِیْقٰنِ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 27:45 in the Quran reader

اور ہم نے بھیجا تھا قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح ؑ کو کہ تم اللہ کی بندگی کرو تو اس پر وہ لوگ دو گروہ بن کر آپس میں جھگڑنے لگے

قَالَ اِنَّہٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ ط ” یعنی وہ شیشے کا چکنا فرش تھا اور ملکہ نے جب اس میں اپنا عکس دیکھاتو اسے پانی سمجھ کر پنڈلیوں سے کپڑا اوپر اٹھا لیا کہ شاید آگے جانے کے لیے اس پانی سے ہو کر گزرنا ہے۔ بہر حال حضرت سلیمان علیہ السلام نے اسے اصل حقیقت سے آگاہ کیا۔ اس سے دراصل اسے احساس دلانا مقصود تھا کہ جو نعمتیں اللہ تعالیٰ نے ہمیں دے رکھی ہیں ‘ وہ تمہارے حاشیہ خیال میں بھی نہیں ہیں۔ قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَاَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ” حضرت سلیمان علیہ السلام کا واقعہ یہاں پر اختتام پذیر ہوا۔ سورت کا یہ حصہ قصص النبییّن کے انداز میں ہے۔ اس کے بعد حضرت صالح اور حضرت لوط علیہ السلام کے واقعات میں انباء الرسل کا انداز پایا جاتا ہے۔
Ayah 27:46

قَالَ یٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ١ۚ لَوْ لَا تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 27:46 in the Quran reader

اس ؑ نے کہا : اے میری قوم کے لوگو ! تم کیوں جلدی مچاتے ہو برائی کے لیے بھلائی سے پہلے تم لوگ اللہ سے مغفرت کیوں نہیں مانگتے تاکہ تم پر رحم کیا جائے

آیت 46 قَالَ یٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بالسَّیِّءَۃِ قَبْلَ الْحَسَنَۃِ ج ” تم لوگ اللہ سے خیر مانگنے کے بجائے عذاب مانگنے میں کیوں جلدی مچا رہے ہو ؟ سورة الاعراف میں ان کا یہ قول نقل ہوچکا ہے : یٰصٰلِحُ اءْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ اِنْ کُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ ”اے صالح ! لے آؤ ہم پر وہ عذاب جس کی تم ہمیں دھمکی دے رہے ہو اگر تم واقعی رسولوں میں سے ہو !“
Ayahs 27:47–48

قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِكَ وَ بِمَنْ مَّعَكَ١ؕ قَالَ طٰٓئِرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ Open ayah 27:47 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ ہم منحوس سمجھتے ہیں تم کو اور تمہارے ساتھیوں کو اس نے کہا کہ تمہاری نحوست کا معاملہ اللہ کے اختیار میں ہے بلکہ تم ایسے لوگ ہو جو آزمائے جا رہے ہو

وَ كَانَ فِی الْمَدِیْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ یُّفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ Open ayah 27:48 in the Quran reader

اور اس شہر میں نو (9) بڑے بڑے سردار تھے وہ زمین میں فساد مچاتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے

آیت 47 قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِکَ وَبِمَنْ مَّعَکَ ط ” ہمیں خدشہ ہے کہ آپ لوگوں کی نحوست کی وجہ سے ہم کسی آفت میں گرفتار نہ ہوجائیں۔
Ayahs 27:49–50

قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ لَنُبَیِّتَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِیِّهٖ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِهٖ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 27:49 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ تم سب آپس میں اللہ کی قسم کھا کر عہد کرو کہ ہم لازماً رات کو حملہ کریں گے اس پر اور اس کے گھر والوں پر پھر ہم اس کے وارث سے کہہ دیں گے کہ ہم تو اس کے گھر والوں کے قتل کے وقت موجود ہی نہیں تھے اور ہم بالکل سچے ہیں

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا وَّ مَكَرْنَا مَكْرًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:50 in the Quran reader

اور انہوں نے ایک چال چلی اور ہم نے بھی ایک تدبیر کی اور انہیں پتا بھی نہ چلا

آیت 49 قَالُوْا تَقَاسَمُوْا باللّٰہِ لَنُبَیِّتَنَّہٗ وَاَہْلَہٗ ” ان سب سرداروں نے مل کر حضرت صالح علیہ السلام کو قتل کرنے کی سازش کی۔ ان میں سے کوئی اکیلا یہ اقدام کر کے حضرت صالح علیہ السلام کے قبیلے کے ساتھ دشمنی مول نہیں لے سکتا تھا ‘ اس لیے انہوں نے حلف اٹھوا کر سب کو اس پر آمادہ کیا۔ سب کو اس طرح اس مہم میں شامل کرنے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ ان میں سے کوئی شخص راز فاش نہ کرسکے۔ قبائلی روایات و قوانین کے تحت پورا قبیلہ بحیثیت مجموعی اپنے تمام افراد کے جان و مال کے تحفظ کا ذمہ دار ہوتا ہے اور اپنے کسی فرد کو کوئی گزند پہنچنے کی صورت میں پورا قبیلہ یک جان ہو کر اس کے بدلے کا اہتمام کرتا ہے۔ سورة ہود علیہ السلام میں ہم پڑھ آئے ہیں کہ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کے لوگ بھی آپ علیہ السلام کے خلاف ایسا ہی اقدام کرنا چاہتے تھے لیکن آپ علیہ السلام کے قبیلے کے ڈر کی وجہ سے وہ ایسا نہ کرسکے۔ اپنی اس مجبوری کا اقرار انہوں نے ان الفاظ میں کیا تھا : وَلَوْلاَ رَہْطُکَ لَرَجَمْنٰکَز آیت 91 ”اور اگر تمہارا قبیلہ نہ ہوتا تو ہم تمہیں سنگسار کردیتے۔“ خود محمد رسول اللہ ﷺ کے خلاف بھی مکہ میں ایک وقت ایسا آیا کہ سب مشرکین آپ ﷺ کے قتل کے درپے ہوگئے ‘ مگر اپنی اس خواہش کو عملی جامہ پہناتے ہوئے ڈرتے تھے کہ ان کا یہ اقدام ان کے قبائل کے درمیان کہیں خانہ جنگی کا باعث نہ بن جائے۔ چناچہ انہوں نے بھی بعینہٖ وہی منصوبہ بنایا جو حضرت صالح علیہ السلام کی قوم کے سرداروں نے بنایا تھا کہ ہر قبیلے سے ایک ایک نوجوان اس عمل میں شریک ہو اور سب مل کر آپ ﷺ پر حملہ کریں۔ اس طرح نہ تو یہ پتا چل سکے گا کہ اصل قاتل کون ہے اور نہ ہی بنو ہاشم سب قبائل سے بدلہ لینے کی جرأت کرسکیں گے۔ بہر حال حضرت صالح علیہ السلام کی قوم کے ان نو سرداروں نے باہم حلف اٹھا کر منصوبہ بنایا کہ وہ سب مل کر رات کو آپ علیہ السلام کے گھر پر دھاوا بول دیں گے اور :
Ayahs 27:51–53

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ١ۙ اَنَّا دَمَّرْنٰهُمْ وَ قَوْمَهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 27:51 in the Quran reader

تو دیکھ لو کیا انجام ہوا ان کی چال کا ہم نے انہیں اور ان کی پوری قوم کو ہلاک کر ڈالا

فَتِلْكَ بُیُوْتُهُمْ خَاوِیَةًۢ بِمَا ظَلَمُوْا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 27:52 in the Quran reader

تو یہ ان کے گھر ہیں جو ویران پڑے ہیں اس ظلم کے سبب جو انہوں نے کیا یقیناً اس میں نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں

وَ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ Open ayah 27:53 in the Quran reader

اور ہم نے نجات دی ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے اور جنہوں نے تقویٰ کی روش اختیار کی تھی

آیت 51 فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ مَکْرِہِمْلا اَنَّا دَمَّرْنٰہُمْ وَقَوْمَہُمْ اَجْمَعِیْنَ ” یعنی اس قوم پر عذاب الٰہی ٹوٹ پڑا اور ان نو سرداروں سمیت تمام منکرین ہلاک ہوگئے۔
Ayahs 27:54–57

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 27:54 in the Quran reader

اور لوط ؑ کو بھی (ہم نے بھیجا) جب اس نے اپنی قوم سے کہا کہ کیا تم فحش کام کرتے ہو اور تم دیکھتے بھی ہو

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ Open ayah 27:55 in the Quran reader

کیا تم مردوں کا رخ کرتے ہو شہوت رانی کے لیے عورتوں کو چھوڑ کر ! بلکہ تم بڑے ہی جاہل لوگ ہو

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْۤا اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 27:56 in the Quran reader

تو اس ؑ کی قوم کا کوئی جواب نہیں تھا مگر یہ کہ انہوں نے کہا : نکال باہر کرو لوط کے گھر والوں کو اپنے شہر سے۔ یہ لوگ بڑے پاکباز بنتے ہیں

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ قَدَّرْنٰهَا مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 27:57 in the Quran reader

تو ہم نے نجات دی اس ؑ کو اور اس ؑ کے گھر والوں کو سوائے اس کی بیوی کے جس کے بارے میں ہم نے طے کردیا تھا کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں ہوگی

آیت 54 وَلُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِہٖٓ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَۃَ وَاَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ ” اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ علی الاعلان اپنی مجالس کے اندر ایسی فحش حرکات کا ارتکاب کرتے تھے۔
Ayah 27:58

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ۠ Open ayah 27:58 in the Quran reader

اور ان کے اوپر ہم نے ایک بارش برسائی تو بہت ہی بری بارش تھی جو ان لوگوں پر برسائی گئی جن کو خبردار کردیا گیا تھا

آیت 58 وَاَمْطَرْنَا عَلَیْہِمْ مَّطَرًاج فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ ” یہاں پر اس سورت کا انباء الرسل کا حصہ بھی اختتام پذیر ہوا۔ اب اس کے بعد کچھ حصہ التذکیر بآلاء اللہ پر مشتمل ہے اور یہ اس سورت کا بالکل منفرد انداز ہے۔
Ayah 27:59

قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَ سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰى١ؕ آٰللّٰهُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:59 in the Quran reader

آپ ؑ کہہ دیجیے کہ کل حمد اور کل شکر اللہ کے لیے ہے اور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جن کو اس نے ُ چن لیا ہے کیا اللہ بہتر ہے یا وہ جن کو یہ شریک بناتے ہیں

آیت 59 قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ وَسَلٰمٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی ط ” یعنی تمام انبیاء ورسل علیہ السلام اللہ کے چنے ہوئے لوگ تھے ‘ جیسا کہ سورة آل عمران میں بھی فرمایا گیا ہے : اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفآی اٰدَمَ وَنُوْحًا وَّاٰلَ اِبْرٰہِیْمَ وَاٰلَ عِمْرٰنَ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ ءٰٓ اللّٰہُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِکُوْنَ ” ذرا سوچو کہ اللہ کے مقابلے میں تمہارے ان معبودوں کی کیا حیثیت ہے ؟ تم لوگ خود تسلیم کرتے ہو کہ تمام اختیارات کا مالک اللہ ہی ہے۔ تو پھر ان بےاختیار معبودوں کو تم کس حیثیت سے پوجتے ہو ؟
Ayah 27:60

اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ١ۚ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْۢبِتُوْا شَجَرَهَا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ یَّعْدِلُوْنَؕ Open ayah 27:60 in the Quran reader

بھلا کون ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اور آسمان سے تمہارے لیے پانی اتارا پھر اس کے ذریعے سے ہم نے ُ پررونق باغات اگائے تمہارے لیے ممکن نہیں تھا کہ ان کے درختوں کو خود اگا سکتے کیا کوئی اور معبود بھی ہے اللہ کے ساتھ بلکہ یہ ایسے لوگ ہیں جو (حق سے) انحراف کر رہے ہیں

مَا کَانَ لَکُمْ اَنْ تُنْبِتُوْا شَجَرَہَا ط ”r ّ متجسسانہ سوالات searching questions کا یہ انداز بہت مؤثر ہے۔ علامہ اقبالؔ ؔ نے اپنے ان اشعار میں یہی مضمون بالکل اسی انداز میں پیش کیا ہے : پالتا ہے بیج کو مٹی کی تاریکی میں کون کون دریاؤں کی موجوں سے اٹھاتا ہے سحاب ؟ کون لایا کھینچ کر پچھم سے باد سازگار خاک یہ کس کی ہے ؟ کس کا ہے یہ نور آفتاب ؟ کہ اللہ ہی ہواؤں کو چلاتا ہے ‘ بارش برساتا ہے ‘ موسموں کو سازگار بناتا ہے ‘ اناج اگاتا ہے ‘ غرض تمام امور اسی کے حکم اور اسی کی قدرت سے انجام پاتے ہیں۔ اللہ کی قدرت کاملہ کے بیان کا یہی انداز سورة الواقعہ میں بھی ملتا ہے۔ ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ط ” کیا ان سارے کاموں میں اللہ کے ساتھ کوئی اور الٰہ بھی شریک ہے ؟
Ayah 27:61

اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ جَعَلَ خِلٰلَهَاۤ اَنْهٰرًا وَّ جَعَلَ لَهَا رَوَاسِیَ وَ جَعَلَ بَیْنَ الْبَحْرَیْنِ حَاجِزًا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَؕ Open ayah 27:61 in the Quran reader

بھلا کس نے بنایا زمین کو ٹھہرنے کی جگہ اور رواں کردیے اس کے اندر دریا (اور ندیاں) اور بنائے اس کے لیے لنگر (پہاڑ) اور بنایا دو دریاؤں کے درمیان پردہ کیا کوئی اور معبود بھی ہے اللہ کے ساتھ بلکہ ان کی اکثریت علم نہیں رکھتی

ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ط ” کیا کوئی ایسی دوسری ہستی تمہاری نظر میں ہے جو ان کاموں میں اللہ کے ساتھ شریک ہو ؟ بَلْ اَکْثَرُہُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ” تاویل خاص کے اعتبار سے ان آیات کے مخاطبینِ اوّلین مشرکین مکہّ تھے اور ان کے پاس ان پے در پے سوالات کا ایک ہی جواب تھا ‘ اور وہ یہ کہ اللہ کے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے ! اس حوالے سے ان کے خیالات ‘ نظریات اور عقائد کے بارے میں جاننا ضروری ہے اور یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ ان کے شرک کی صورت اور نوعیت کیا تھی ؟ چناچہ اس سلسلے میں یہ بات بہت اہم ہے کہ مشرکین مکہ اللہ کو معبود بھی مانتے تھے اور اس کو اس کائنات کا خالق بھی تسلیم کرتے تھے۔ البتہ کچھ شخصیات جن کے ُ بت انہوں نے بنا رکھے تھے کے بارے میں ان کا عقیدہ تھا کہ وہ اللہ کے لاڈلے ‘ چہیتے اور مقربین ہیں اور وہ اللہ کے ہاں ان کی سفارش کریں گے : ھٰٓؤُلَآءِ شُفَعَآؤُ نَا عِنْدَ اللّٰہِ ط یونس : 18۔ بس ان کا شرک اس سے زائد کچھ نہیں تھا۔
Ayah 27:62

اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَكْشِفُ السُّوْٓءَ وَ یَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 27:62 in the Quran reader

بھلا کون ہے جو سنتا ہے ایک مجبور و لاچار کو جب وہ اس کو پکارتا ہے اور (اس کی) تکلیف کو دور کرتا ہے اور جو تمہیں جانشین بناتا ہے زمین میں کیا کوئی اور معبود بھی ہے اللہ کے ساتھ (ان کاموں میں شریک) ؟ بہت ہی کم نصیحت ہے جو تم لوگ حاصل کرتے ہو

وَیَجْعَلُکُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ ط کہ تمہاری ایک نسل کے بعد دوسری نسل اس کی جانشین بنتی ہے اور یہ سلسلہ غیر منقطع طریقے سے اللہ تعالیٰ قائم رکھے ہوئے ہے۔
Ayahs 27:63–64

اَمَّنْ یَّهْدِیْكُمْ فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ مَنْ یُّرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ تَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:63 in the Quran reader

بھلا کون ہے جو تمہیں راستہ دکھاتا ہے خشکی اور سمندر کے اندھیروں میں ؟ اور کون بھیجتا ہے ہواؤں کو بشارت دیتی ہوئی اپنے باران رحمت کے آگے آگے کیا کوئی اور معبود بھی ہے اللہ کے ساتھ ؟ بہت بلند وبالا ہے اللہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں

اَمَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:64 in the Quran reader

بھلا کون ہے جو ابتدا میں پیدا کرتا ہے مخلوق کو پھر اس کا اعادہ کرتا ہے ؟ اور کون ہے جو تم لوگوں کو رزق دتیا ہے آسمانوں اور زمین سے کیا کوئی اور معبود بھی ہے اللہ کے ساتھ ؟ آپ ﷺ کہیے کہ لاؤ اپنی دلیل اگر تم سچے ہو

ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِط تَعٰلَی اللّٰہُ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ” ٹھنڈی ہوا کے جھونکے جو بادلوں کے آگے آگے باران رحمت کی نوید بن کر چلتے ہیں ‘ کیا انہیں چلانے اور بحر و بر کی تاریکیوں میں تم لوگوں کو درست راستے سجھانے میں اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کا بھی کوئی حصہ ہے ؟
Ayah 27:65

قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 27:65 in the Quran reader

آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ جو کوئی بھی آسمانوں اور زمین میں ہیں کسی کو بھی غیب کا علم نہیں سوائے اللہ کے اور انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ انہیں کب اٹھایا جائے گا

وَمَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ ” یعنی وہ لوگ جو فوت ہوچکے ہیں ‘ چاہے وہ اولیاء اللہ ہوں یا کوئی اور ‘ اس دنیا سے جانے کے بعد وہ عالم برزخ میں ہیں اور وہاں انہیں کچھ معلوم نہیں کہ انہیں کب دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔
Ayahs 27:66–69

بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ١۫ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْهَا١۫٘ بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ۠ Open ayah 27:66 in the Quran reader

بلکہ تھک ہار کر رہ گیا ہے ان کا علم آخرت کے بارے میں بلکہ اس کے بارے میں وہ شک میں مبتلا ہیں بلکہ اس کی طرف سے وہ اندھے ہوچکے ہیں

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّ اٰبَآؤُنَاۤ اَئِنَّا لَمُخْرَجُوْنَ Open ayah 27:67 in the Quran reader

اور یہ کافر کہتے ہیں کہ کیا جب ہم اور ہمارے آباء واجداد مٹی ہوجائیں گے تو کیا ہمیں پھر سے نکال لیا جائے گا

لَقَدْ وُعِدْنَا هٰذَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 27:68 in the Quran reader

یہی وعدہ ہم سے بھی کیا گیا ہے اور اس سے پہلے ہمارے آباء و اَجداد سے بھی کیا گیا تھا یہ کچھ نہیں مگر پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 27:69 in the Quran reader

آپ ﷺ کہیے کہ ذرا گھومو پھرو زمین میں اور دیکھ لو کہ کیسا انجام ہوا مجرم قوموں کا

آیت 66 بَلِ ادّٰرَکَ عِلْمُہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِقف ” یعنی یہ لوگ آخرت کی حقیقت کو سمجھ نہیں پا رہے۔ بَلْ ہُمْ فِیْ شَکٍّ مِّنْہَاقف بَلْ ہُمْ مِّنْہَا عَمُوْنَ ” اگرچہ یہ لوگ زبانی طور پر آخرت کا اقرار بھی کرتے ہیں اور دوبارہ جی اٹھنے پر بظاہر ایمان بھی رکھتے ہیں ‘ لیکن عملاً وہ اس کے منکر ہیں۔ عملاً انہیں آخرت کی زندگی کو سنوارنے یا قیامت کے احتساب سے بچنے کی کوئی فکر نہیں ہے۔ اس دنیا میں اپنے کل کی فکر انسان کو ہر وقت دامن گیر رہتی ہے ‘ کہ کل کیا کھانا ہے اور باقی ضروریات کیسے پوری کرنی ہیں۔ اس لیے کہ اسے کل کے آنے پر پختہ یقین ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر اسے واقعی یقین ہو کہ مرنے کے بعد اسے دوبارہ زندہ ہونا ہے اور یہ کہ آخرت کی زندگی ہی اصل زندگی ہے تو اس کے لیے وہ لازماً فکر مند بھی ہوگا اور اسے بہتر بنانے کی کوشش بھی کرے گا۔ لیکن کسی انسان کو عملاً اگر اس کی فکر نہیں ہے اور وہ اس کے لیے کوشش بھی نہیں کر رہا تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اسے اس کے بارے میں یقین نہیں ہے۔
Ayah 27:70

وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُنْ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 27:70 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ !) آپ ان پر رنجیدہ نہ ہوں اور جو چالیں یہ چل رہے ہیں ان پر دل تنگ نہ کریں

آیت 70 وَلَا تَحْزَنْ عَلَیْہِمْ وَلَا تَکُنْ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْکُرُوْنَ ” مکہ کے ماحول میں چونکہ رسول اللہ ﷺ کو شدید مخالفت اور دباؤ کا سامنا تھا ‘ اس لیے مکی سورتوں میں یہ مضمون بار بار دہرایا گیا ہے۔ سورة النحل کی آیت 127 میں یہ مضمون بالکل انہی الفاظ میں آیا ہے ‘ جبکہ سورة الشعراء میں اس حوالے سے حضور ﷺ کو مخاطب کر کے یوں فرمایا گیا ہے : لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلَّا یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ ”اے نبی ﷺ ! شاید آپ ہلاک کردیں گے اپنے آپ کو اس لیے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لا رہے“۔ بہر حال مشرکین مکہ کے مخالفانہ رویے ّ کے باعث حضور ﷺ کو بار بار تسلی دی جاتی تھی کہ آپ ﷺ نے ان تک ہمارا پیغام پہنچا کر ان پر حجت قائم کردی ہے اور یوں آپ ﷺ نے اپنا فرض ادا کردیا ہے۔ اب آپ ﷺ ان کی پروا نہ کریں اور نہ ہی ان کے بارے میں رنجیدہ ہوں۔ یہ لوگ عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں۔ ہماری تدابیر ان کی چالوں کا احاطہ کیے ہوئے ہیں۔ ہماری قدرت کے سامنے ان کی سازشیں کامیاب نہیں ہو سکیں گی۔
Ayah 27:71

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:71 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر آپ سچے ہیں

آیت 71 وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ہٰذَا الْوَعْدُ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ” یعنی آپ ہمیں مسلسل دھمکیاں دیے جا رہے ہیں کہ اگر ہم آپ کی اطاعت نہیں کریں گے تو ہم پر عذاب آجائے گا۔ چناچہ اگر آپ اپنے اس دعوے میں سچے ہیں تو ذرا یہ بھی بتادیں کہ وہ عذاب کب آئے گا ؟
Ayah 27:72

قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ رَدِفَ لَكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 27:72 in the Quran reader

آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ ہوسکتا ہے جس چیز کی تم لوگ جلدی مچا رہے ہو اس کا کچھ حصہ تمہارے قریب ہی آ لگا ہو

آیت 72 قُلْ عَسٰٓی اَنْ یَّکُوْنَ رَدِفَ لَکُمْ بَعْضُ الَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ ” ”رَدِفَ“ کے معنی گھوڑے پر دوسری سواری کے طور پر سوار ہونے کے ہیں۔ اس طرح پچھلا سوار اپنے آگے والے کی پیٹھ کے ساتھ جڑ کر بیٹھنے کی وجہ سے ”ردیف“ کہلاتا ہے۔ اس اعتبار سے آیت کا مفہوم یہ ہے کہ تم جس عذاب کے بارے میں بےصبری سے بار بار پوچھ رہے ہو وہ اب تمہاری پیٹھ کے ساتھ آ لگا ہے ‘ بس اب تمہاری شامت آنے ہی والی ہے۔ ان الفاظ میں غالباً غزوۂ بدر کی طرف اشارہ ہے جس میں مشرکین مکہ کو عذاب الٰہی کی پہلی قسط ملنے والی تھی۔
Ayah 27:73

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 27:73 in the Quran reader

اور یقیناً آپ ﷺ کا رب بڑے فضل والا ہے لوگوں کے حق میں لیکن ان کی اکثریت شکر نہیں کرتی

آیت 73 وَاِنَّ رَبَّکَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَی النَّاسِ ” یعنی ابھی تک اگر تم لوگوں پر عذاب نہیں آیا تو یہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی کا مظہر ہے۔ اس لیے کہ وہ لوگوں کے ساتھ بہت فضل اور کرم کا معاملہ کرتا ہے۔
Ayah 27:74

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:74 in the Quran reader

اور یقیناً آپ ﷺ کا رب خوب جانتا ہے جو کچھ چھپاتے ہیں ان کے سینے اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں

آیت 74 وَاِنَّ رَبَّکَ لَیَعْلَمُ مَا تُکِنُّ صُدُوْرُہُمْ وَمَا یُعْلِنُوْنَ ” اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے کہ وہ اپنی زبانوں سے کیا کہتے ہیں اور ان کے دلوں میں کیا جذبات ہیں۔ ان کے دل تو گواہی دے چکے تھے کہ محمد ﷺ سچے ہیں اور قرآن بھی برحق ہے ‘ لیکن وہ محض حسد ‘ ّ تکبر اور تعصب کے باعث انکار پر اڑے ہوئے تھے۔ اس حوالے سے ان کی کیفیت فرعون اور قوم فرعون کی کیفیت سے مشابہ تھی جس کا حال اسی سورت کی آیت 14 میں اس طرح بیان ہوا ہے : وَجَحَدُوْا بِہَا وَاسْتَیْقَنَتْہَآ اَنْفُسُہُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا ط ”اور انہوں نے ان آیاتِ الٰہی کا انکار کیا ظلم اور تکبر کے ساتھ جبکہ ان کے دلوں نے ان کا یقین کرلیا تھا“۔ سورة البقرۃ کی آیت 146 اور سورة الانعام کی آیت 20 میں علماء اہل کتاب کی بالکل یہی کیفیت ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے : اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰہُمُ الْکِتٰبَ یَعْرِفُوْنَہٗ کَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَ ہُمْ یعنی وہ اللہ کے رسول ﷺ اور قرآن کو ایسے پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔
Ayah 27:75

وَ مَا مِنْ غَآئِبَةٍ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:75 in the Quran reader

اور نہیں ہے کوئی پوشیدہ چیز آسمان اور زمین میں مگر وہ ایک روشن کتاب میں موجود ہے

آیت 75 وَمَا مِنْ غَآءِبَۃٍ فِی السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ ” گویا اللہ تعالیٰ کے علم قدیم ہی کو یہاں کتاب مبین کہا گیا ہے۔
Ayahs 27:76–78

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَكْثَرَ الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 27:76 in the Quran reader

یقیناً یہ قرآن کھول کر بیان کر رہا ہے بنی اسرائیل پر اکثر وہ باتیں جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں

وَ اِنَّهٗ لَهُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:77 in the Quran reader

اور یقیناً یہ (قرآن) ہدایت اور رحمت ہے اہل ایمان کے حق میں

اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ بِحُكْمِهٖ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙۚ Open ayah 27:78 in the Quran reader

یقیناً آپ ﷺ کا رب فیصلہ کردے گا ان کے درمیان اپنے حکم سے۔ اور وہ زبردست ہے سب کچھ جاننے والا

آیت 76 اِنَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ اَکْثَرَ الَّذِیْ ہُمْ فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ ” تورات کا نزول قرآن سے دو ہزار سال پہلے ہوا تھا۔ اصل کتاب مدتوں پہلے گم ہوچکی تھی ‘ پھر ایک عرصے بعد اسے یادداشتوں کی مدد سے دوبارہ مرتب کیا گیا اور بنی اسرائیل نے اپنی من پسند روایات کے ذریعے سے بہت سی غلط باتیں اللہ سے منسوب کردیں۔ جیسے اقبال نے کہا ہے : ع ”یہ امتّ روایات میں کھو گئی !“ بہر حال قرآن نے ہرچیز کو کھول کر بیان کردیا اور حقیقت ہر پہلو سے منکشف ہوگئی۔
Ayah 27:79

فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِیْنِ Open ayah 27:79 in the Quran reader

تو (اے نبی ﷺ !) آپ توکلّ کیجیے اللہ پر۔ یقیناً آپ ﷺ ہی واضح حق پر ہیں

آیت 79 فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِط اِنَّکَ عَلَی الْحَقِّ الْمُبِیْنِ ” آپ ﷺ کی دعوت میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہیں۔ آپ ﷺ کا موقف حق و صداقت پر مبنی ہے۔