22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsتفسیر بیان القرآن

Ayah 22:40

اِ۟لَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذْكَرُ فِیْهَا اسْمُ اللّٰهِ كَثِیْرًا١ؕ وَ لَیَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 22:40 in the Quran reader

وہ لوگ جو ناحق اپنے گھروں سے نکال دیے گئے صرف اس (جرم) پر کہ انہوں نے کہا : ہمارا رب اللہ ہے اور اگر اللہ بعض لوگوں کو بعض دوسرے لوگوں کے ذریعے دور نہ کرتا رہتا تو ڈھا دیے جاتے ساری خانقاہیں گرجے کنیسے اور مسجدیں جن میں کثرت سے اللہ کا نام لیا جاتا ہے اور اللہ لازماً اس کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کرے گا یقیناً اللہ طاقتور ہے زبردست ہے

آیت 40 الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِہِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ ” یعنی مہاجرین جنہیں اپنے اہل و عیال اور گھر بار چھوڑ کر مکہّ سے نکل جانے پر مجبور کردیا گیا تھا۔ اِلَّآ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ط ” ان کا جرم بس یہ تھا کہ وہ اہل مکہ کے باطل معبودوں کو چھوڑ کر صرف ایک اللہ کو اپنا رب اور معبود مانتے تھے ‘ جس کی پاداش میں انہیں گھر بار چھوڑنے پر مجبور کردیا گیا۔ وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ ” یہ مضمون اس سے پہلے سورة البقرۃ کی آیت 251 میں بھی آچکا ہے۔ وہاں پر مشرک بادشاہ جالوت کے ساتھ حضرت طالوت کی جنگ کا ذکر کرنے کے بعد یہ اصول بیان فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ وقتاً فوقتاً زمین کی صفائی کرتا رہتا ہے۔ فاسد لوگ ہوں یا فاسد تہذیب و ثقافت ‘ جب ان کا فساد زمین میں ایک حد سے تجاوز کرنے لگتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی مشیت سے اسے کسی دوسری طاقت کے ذریعے نیست و نابود کردیتا ہے۔ سورة البقرۃ کی مذکورہ آیت میں فرمایا گیا کہ اگر اللہ ایسے نہ کرتا تو : لَفَسَدَتِ الْاَرْضُ زمین میں ہر طرف فساد ہی فساد ہوتا۔ البتہ یہاں اس بگاڑ یا فساد کے ایک دوسرے پہلو کی طرف توجہ دلائی گئی ہے : لَّہُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِیَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ یُذْکَرُ فِیْہَا اسْمُ اللّٰہِ کَثِیْرًا ط ” صَلَوٰتٌ‘ صلوٰۃ کی جمع ہے۔ صَلَوتَا عبرانی زبان کا لفظ ہے اور اس سے مراد یہودیوں کے عبادت خانے Cinygogs ہیں۔ دراصل عبرانی اور عربی زبانوں میں بہت مشابہت پائی جاتی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے یا تو ان کا آپس میں ماں بیٹی کا رشتہ ہے یا پھر دونوں سگی بہنیں ہیں۔ یعنی یا تو عربی زبان عبرانی سے نکلی ہے اور یا یہ دونوں کسی ایک زبان کی شاخیں ہیں۔ چناچہ ان دونوں میں بہت سے الفاظ باہم مشابہ ہیں۔ مثلا عربی کے لفظ ”سلام“ کی جگہ عبرانی میں ”شولوم“ بولا جاتا ہے۔ اسی طرح عبرانی کے ”یوم کپور“ کو عربی میں ”یوم کفارہ“ ّ کہا جاتا ہے۔ یعنی لفظ ”یوم“ تو جوں کا توں ویسے ہی ہے جبکہ ”کپور“ اور ”کفارہ“ میں بنیادی فرق ”پ“ اور ”ف“ کا ہے۔ عربی میں چونکہ ”پ“ نہیں ہے اس لیے اکثر زبانوں کی ”پ“ کی آواز عربی میں آکر ”ف“ سے بدل جاتی ہے۔ جیسے اس سے پہلے سورة الانبیاء کی آیت 85 کے تحت ”ذو الکفل“ ِ کے حوالے سے ہندی کے لفظ ”کپل“ کا عربی کے ِ ”کفل“ کی صورت اختیار کرنے کا ذکر ہوا تھا۔ بہر حال عبرانی اور عربی زبانوں کے الفاظ اور ان کی اصطلاحات میں اکثر مشابہت پائی جاتی ہے۔ تو اگر اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے مطابق کچھ لوگوں کو کچھ لوگوں کے ذریعے دفع نہ کرتا رہتا ‘ یعنی مفسد قوتوں کو نیست و نابود نہ کرتا رہتا تو دنیا میں تمام مذاہب کی جتنی بھی عبادت گاہیں ہیں وہ سب کی سب منہدم کردی جاتیں۔ ظاہر ہے یہ تمام عبادت گاہیں اپنے اپنے وقت میں ایک اللہ کی عبادت کے لیے بنائی گئی تھیں۔ وَلَیَنْصُرَنَّ اللّٰہُ مَنْ یَّنْصُرُہٗ ط ” ان الفاظ میں اہل ایمان کے لیے یہ بہت بڑی خوشخبری ہے۔ لہٰذا آیت کا یہ ٹکڑا ہر مسلمان کو ازبر ہونا چاہیے۔ اس عبارت میں تاکید کا جو اسلوب اختیار کیا گیا ہے وہ عربی زبان میں انتہائی تاکید کے لیے اختیار کیا جاتا ہے۔ فعل مضارع سے پہلے لام مفتوح زبر کے ساتھ بھی حرف تاکید ہے ‘ جبکہ آخر میں نون مشددّ سے معنی میں مزید تاکید پیدا ہوتی ہے۔ جیسے اَفْعَلُ کے معنی ہیں کہ میں یہ کروں گا ‘ لیکن لَاَفْعَلَنََّّ کے معنی ہوں گے کہ میں یہ لازماً کر کے رہوں گا۔ لیکن اس سلسلے میں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ یہ یک طرفہ معاملہ نہیں ہے ‘ بلکہ یہ وعدہ مشروط ہے۔ تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا ! جیسے سورة البقرۃ کی آیت 152 میں فرمایا گیا ہے : فَاذْکُرُوْنِیْٓ اَذْکُرْکُمْ کہ تم مجھے یاد رکھو ‘ میں تمہیں یاد رکھوں گا۔ یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ تم لوگ اللہ کے باغیوں کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھاؤ ‘ تمہاری وفاداریاں اللہ کے دشمنوں کے ساتھ ہوں اور پھر بھی تم چاہو کہ وہ تمہاری مدد کرے۔ اس سلسلے میں اسی سورت کی آیت 15 کا مضمون بھی مد نظر رکھنا ضروری ہے ‘ جس میں اللہ کی مدد پر بندۂ مؤمن کے پختہ یقین کا معاملہ زیر بحث آیا ہے۔ دراصل یہ بندۂ مؤمن کا ”یقین“ ہی ہے جو اس کے صبر و استقامت اور ثبات و استقلال کے لیے سہارا فراہم کرتا ہے۔ اور اگر دل میں یقین کی جگہ بےیقینی ڈیرے جما لے اور اس بےیقینی کے ہاتھوں نصرت الٰہی کی امید کی رسی ہی کٹ جائے تو پھر ایسے شخص کے لیے دنیا میں اور کوئی سہارا نہیں رہتا۔ اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ ” یعنی اللہ نے تمہاری مدد کا وعدہ کیا ہے تو جان لو کہ وہ زبردست طاقت کا مالک اور ہر وقت ‘ ہر جگہ تمہاری مدد پر پوری طرح قادر ہے۔
Ayahs 22:41–43

اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ Open ayah 22:41 in the Quran reader

وہ لوگ کہ اگر انہیں ہم زمین میں تمکنّ عطا کردیں تو وہ نماز قائم کریں گے اور زکوٰۃ ادا کریں گے اور وہ نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے روکیں گے اور تمام امور کا انجام تو اللہ ہی کے قبضۂ قدرت میں ہے

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ ثَمُوْدُۙ Open ayah 22:42 in the Quran reader

اور (اے نبی ﷺ !) اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلا رہے ہیں تو ان سے پہلے قوم نوح ؑ قوم عاد اور قوم ثمود کے لوگ بھی (رسولوں ؑ کو) جھٹلا چکے ہیں

وَ قَوْمُ اِبْرٰهِیْمَ وَ قَوْمُ لُوْطٍۙ Open ayah 22:43 in the Quran reader

اور ابراہیم ؑ کی قوم اور لوط ؑ کی قوم بھی (رسولوں ؑ کی تکذیب کرچکی ہے)

آیت 41 اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰہُمْ فِی الْاَرْضِ ” ”تمکن“ کا ذکر اس سے پہلے حضرت یوسف علیہ السلام کے حوالے سے سورة یوسف علیہ السلام کی آیت 21 اور 56 میں بھی آچکا ہے : وَکَذٰلِکَ مَکَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِز ”اور اسی طرح ہم نے یوسف علیہ السلام کو زمین میں تمکن عطا کیا“۔ تو اپنے ان مؤمن بندوں کو اگر ہم کسی خطۂ زمین کا اختیار و اقتدار عطا کریں گے تو ان کا لائحہ عمل کیا ہوگا ؟ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ ” مؤمنین کو اگر کسی ملک پر حکومت کرنے کا اختیار ملے گا تو وہ اپنی پہلی ترجیح کے طور پر نماز کا نظام قائم کریں گے۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ پہنچتے ہی جمعہ کے قیام کا اہتمام فرمایا اور اقامت صلوٰۃ کے لیے ترجیحی بنیادوں پر مسجد نبوی کی تعمیر کی۔ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ ” پھر زکوٰۃ کا باقاعدہ نظام قائم کیا جائے گا تاکہ معاشرے کے پس ماندہ طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی کفالت کا بندوبست ہو سکے۔ وَلِلّٰہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرِ ” اگر یہ روایت صحیح ہے کہ یہ آیات سفر ہجرت کے دوران میں نازل ہوئی تھیں تو ان میں سے خصوصی طور پر یہ آیت حضور ﷺ کے مدینہ تشریف آوری کے فوراً بعد کی صورت حال کے لیے ایک منشور manifesto کا درجہ رکھتی ہے۔ چونکہ عنقریب مدینہ میں آپ ﷺ کا ورود ایک بےتاج بادشاہ کی حیثیت سے ہونے والا تھا اور مدینہ پہنچتے ہی آپ ﷺ کو اختیار و اقتدار ملنے والا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے پیشگی بتادیا کہ اس صورت حال میں آپ ﷺ کی ترجیحات کیا ہوں گی۔ چناچہ جس طرح آج کل ہر سیاسی پارٹی الیکشن سے پہلے اپنا منشور جاری کرتی ہے کہ حکومت ملنے کی صورت میں ہماری ترجیحات کیا ہوں گی ‘ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اہل ایمان کو ہمیشہ کے لیے ایک منشور عطا کردیا ہے کہ کسی ملک میں اقتدار ملنے کی صورت میں انہیں کون کون سے امور ترجیحی بنیادوں پر انجام دینے ہوں گے۔ یہ وہ خاص آیات 38 تا 41 ہیں جن کی وجہ سے بعض لوگ اس سورت کو مدنی سورت سمجھتے ہیں ‘ البتہ درست موقف یہی ہے کہ یہ آیات یا تو اثنائے سفر ہجرت میں نازل ہوئیں یا نبی اکرم ﷺ کے مدینہ پہنچنے کے فوراً بعد۔ لیکن انہیں مضامین حج کی مناسبت سے اس مکی سورت میں اس مقام پر رکھ دیا گیا۔ اس کے بعد اگلی آیت سے دوبارہ مکی انداز کے مضامین کا آغاز ہو رہا ہے۔
Ayah 22:44

وَّ اَصْحٰبُ مَدْیَنَ١ۚ وَ كُذِّبَ مُوْسٰى فَاَمْلَیْتُ لِلْكٰفِرِیْنَ ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١ۚ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 22:44 in the Quran reader

اور مدین کے لوگ بھی (اپنے پیغمبر کو جھٹلا چکے ہیں) اور موسیٰ ؑ کی بھی تکذیب ہوچکی ہے تو میں نے ان کافروں کو کچھ ڈھیل دی پھر میں نے ان کو پکڑ لیا تو کیسی رہی میری پکڑ

فَاَمْلَیْتُ لِلْکٰفِرِیْنَ ثُمَّ اَخَذْتُہُمْج فَکَیْفَ کَانَ نَکِیْرِ ” ان اقوام کے انجام سے متعلق تفصیلات قرآن میں بار بار بیان ہوئی ہیں۔
Ayah 22:45

فَكَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ فَهِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ بِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّ قَصْرٍ مَّشِیْدٍ Open ayah 22:45 in the Quran reader

اور کتنی ہی بستیاں تھیں جنہیں ہم نے ہلاک کردیا اور وہ ظالم تھیں تو وہ گری پڑی ہیں اپنی چھتوں پر اور کتنے ہی ناکارہ کنویں (بند پڑے ہیں) اور کتنے ہی مضبوط بنائے ہوئے محل (بھی ویران پڑے ہیں)

آیت 45 فَکَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ اَہْلَکْنٰہَا وَہِیَ ظَالِمَۃٌ ” اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے جس جس بستی کو ہلاک کیا ان کے باسی مجرم اور گناہگار تھے۔ جب بھی کوئی بستی کفر و شرک اور دوسرے گناہوں کے سبب معصیت اور برائی کا مرکز بن جاتی تو اس کا وجود معاشرے کے لیے خطرے کی علامت بن جاتا۔ چناچہ جس طرح انسانی جسم کا کوئی حصہ گل سڑ کرّ متعفن مواد سے بھر جائے تو باقی جسم کو محفوظ رکھنے کے لیے اس حصے یا عضو کو کاٹ پھینکنا نا گزیر ہوجاتا ہے ‘ بالکل اسی طرح اللہ کی مشیت سے ہر ایسی بستی کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا۔ وَبِءْرٍ مُّعَطَّلَۃٍ ” ان تباہ ہونے والی بستیوں میں کتنے کنویں ہوں گے جو کسی وقت بڑی محنت سے کھودے گئے ہوں گے۔ اپنے اپنے وقت پر ان کنووں پر پانی بھرنے والے لوگوں کے کیسے کیسے جمگھٹے رہا کرتے ہوں گے ‘ مگر اب وہ کنویں ویران و معطل پڑے ہیں۔ وَّقَصْرٍ مَّشِیْدٍ ” ان قوموں کے گچ کاری کیے گئے مضبوط اور عالی شان محل اب کھنڈرات میں تبدیل ہوئے پڑے ہیں۔ سپین میں جا کر الحمرا کو دیکھو ! ‘ کبھی یہ محل مسلمان فرمانرواؤں کا مسکن تھا ‘ آج اس کی کیا کیفیت ہے ؟ قرطبہ کی عالی شان مسجد کو دیکھو ! جہاں اب نہ کوئی سجدہ کرنے والا ہے اور نہ وہاں کسی کو سجدہ کرنے کی اجازت ہے۔ [ بئرٍ اور قَصْرٍ ، قَرْیۃٍ پر عطف ہیں۔ ]
Ayah 22:46

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِهَاۤ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ۚ فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَ لٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ Open ayah 22:46 in the Quran reader

تو کیا یہ لوگ زمین میں گھومے پھرے نہیں ہیں کہ ہوتے ان کے دل جن سے یہ سمجھتے یا (ہوتے ان کے) کان جن سے یہ سنتے تو اصل میں آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں کے اندر ہیں

آیت 46 اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَکُوْنَ لَہُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِہَآ ” اگر یہ لوگ عقل اور سمجھ سے کام لیتے تو پیغمبروں کو جھٹلانے والی قوموں کی بستیوں کے کھنڈرات کو دیکھ کر عبرت پکڑتے اور اصل بات کی تہہ تک پہنچتے۔ اس آیت میں ایک بہت اہم نکتہ بیان ہوا ہے کہ یہاں لفظ ”قلب“ کے ساتھ عقل اور سمجھنے کے تعلق کی بات ہوئی ہے۔ یہ بات کئی دفعہ اس سے پہلے بھی میں دہرا چکا ہوں کہ انسان ایک مرکب وجود کا حامل ہے۔ اس مرکب کی ایک اکائی تو اس کا جسم ہے جو خالص ایک حیوانی وجود ہے۔ اس وجود میں حیوانوں کی تمام تر خصوصیات faculties موجود ہیں۔ اس لحاظ سے انسان گویا اعلیٰ ترین حیوان ہے ‘ یعنی اپنے جسم کی ساخت کے اعتبار سے وہ تمام حیوانوں سے افضل ہے۔ لیکن اپنے اس حیوانی وجود کے ساتھ ساتھ انسان اپنا ایک روحانی وجود بھی رکھتا ہے ‘ جو اس کے حیوانی وجود سے علیحدہ اور مستقل بالذات وجود ہے۔ انسان کے ان دونوں وجودوں کے ملاپ اور امتزاج کی ترکیب اور کیفیت کے متعلق ہم کچھ بھی ادراک نہیں رکھتے۔ ہم تو یہ بھی نہیں جانتے کہ انسانی وجود کے اندر جو ”جان“ life ہے وہ کہاں ہے ؟ کیا یہ جان دل میں ہے ؟ لیکن دل تو آج کل بدل بھی دیا جاتا ہے اور جان وہیں کی وہیں رہتی ہے۔ تو کیا یہ جان دل سے متعلق ہے یا دماغ سے متعلق ؟ حقیقت بہر حال یہی ہے کہ اس کے متعلق ہم واقعی نہیں جانتے۔ تو جب ہم جان کے متعلق ہی کچھ نہیں جانتے تو اس سے آگے بڑھ کر ”روح“ کے متعلق ہم کیا جان سکتے ہیں کہ انسان کی روح اس کے جسم کے اندر کس طور سے صحبت پذیر ہے ؟ اتصالے ّ بےتکیف بےقیاس ! ہست رب الناسّ را با جان ناس انسان کے حیوانی اور روحانی وجود میں باہم مصاحبت اور اتصال تو ہے ‘ لیکن اس کی نوعیت واقعتا کیا ہے ؟ بقول شاعر یہ مصاحبت اور اتصال ”بےتکیف و بےقیاس“ ہے۔ نہ اس کی کیفیت معلوم ہوسکتی ہے اور نہ ہی اسے کسی اور چیز پر قیاس کیا جاسکتا ہے ‘ لیکن انسان کے دو علیحدہ علیحدہ وجود بہر حال موجود ہیں۔ ان میں سے اس کا روحانی وجود بہت پہلے عالم ارواح میں پیدا کیا گیا تھا ‘ جس کا حوالہ سورة الانعام کی آیت 94 میں اس طرح آیا ہے : کَمَا خَلَقْنٰکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ جبکہ ہر انسان کے مادی یا جسمانی وجود کی پیدائش اس دنیا یا عالم خلق کے اندر اپنے اپنے وقت پر ہوتی ہے۔ اس ساری تفصیل میں سیاق وسباق کے حوالے سے سمجھنے کی اصل بات یہ ہے کہ انسان کے دونوں وجودوں میں سے ہر وجود کی اپنی اپنی صلاحیتیں اور اپنے اپنے ذرائع علم ہیں۔ روح کی اپنی عقل ‘ اپنی بصارت اور اپنی سماعت ہے ‘ جبکہ حیوانی وجود کی اپنی عقل ہے ‘ اپنی آنکھیں اور اپنے کان ہیں۔ سورة بنی اسرائیل کی اس آیت میں حیوانی وجود ہی کے حواس کا ذکر ہے : اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓءِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْءُوْلاً ۔ سورة بنی اسرائیل کے مطالعے کے دوران اس آیت کے تحت حیوانی وجود کے ذرائع علم سے متعلق تفصیلاً گفتگو ہوچکی ہے۔ اب آیت زیر نظر میں روحانی وجود کے ذرائع علم کی بات ہو رہی ہے۔ اس کو مختصراً یوں سمجھ لیں کہ روح دیکھتی بھی ہے ‘ سنتی بھی ہے اور سمجھتی بھی ہے۔ چناچہ اسی حوالے سے یہاں فرمایا گیا ہے کہ ان لوگوں کے دل ہوتے جن سے یہ بات سمجھتے ! فَاِنَّہَا لَا تَعْمَی الْاَبْصَارُ وَلٰکِنْ تَعْمَی الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ ” ذرا غور کریں ‘ یہ کون سا اندھا پن ہے ؟ دراصل یہی وہ اندھا پن تھا جو ابوجہل ‘ ابو لہب اور ولید بن مغیرہ جیسے لوگوں کو لاحق تھا۔ ان کی آنکھیں تو اندھی نہیں تھیں ‘ لیکن ان کے دل مکمل طور پر اندھے ہوچکے تھے۔ ان کی روحوں پر دنیوی اغراض ‘ ہٹ دھرمیوں اور عصبیتوں کے غلیظ پردے پڑچکے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی روحیں نہ دیکھ سکتی تھیں ‘ نہ سن سکتی تھیں اور نہ سمجھ سکتی تھیں۔ ایسے لوگوں کا دیکھنا اور سننا صرف حیوانی سطح کا دیکھنا اور سننا ہوتا ہے۔ جیسے تیزی سے گزرتی ہوئی کار کو دیکھ کر انسان بھی ایک طرف ہوجاتا ہے اور کتا بھی اس سے اپنا بچاؤ کرلیتا ہے۔ اس حوالے سے انسان اور کتے ّ کے دیکھنے میں کوئی فرق نہیں۔ چناچہ انسان کو چاہیے کہ اپنی ان صلاحیتوں کے اعتبار سے حیوانوں کی سطح سے ترقی کر کے انسانی مقام و مرتبہ حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ اسی نکتہ کو اقبال جیسے صاحب نظر نے یوں بیان کیا ہے : ”دیدن دگر آموز ! شنیدن دگر آموز !“ کہ ذرا دوسری طرح کا دیکھنا سیکھو اور دوسرے انداز کا سننا سیکھو ! قریش مکہّ کے تجارتی قافلے عذاب الٰہی کی زد میں آنے والی تباہ شدہ بستیوں کے کھنڈرات کے پاس سے گزرا کرتے تھے۔ وہ لوگ ان کھنڈرات کو دیکھتے تو تھے لیکن وہ یہ سب کچھ حیوانی آنکھوں سے دیکھتے تھے۔ چناچہ نہ وہ ان سے کوئی سبق حاصل کرتے تھے ‘ نہ عبرت پکڑتے تھے۔ انسان کی یہی وہ کیفیت ہے جس کے بارے میں آیت زیر مطالعہ میں فرمایا گیا ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوا کرتیں بلکہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں کے اندر ہیں۔ اس لیے کہ روح کا مسکن قلب ہے۔ ہم یہ تو نہیں سمجھ سکتے کہ اس ملاپ کی نوعیت اور کیفیت کیا ہے اور نہ ہی ہم دل کے اندر کسی طریقے سے روح کے اثرات کا کھوج لگا سکتے ہیں ‘ کیونکہ وہ ایک غیر مرئی چیز ہے ‘ لیکن انسان کے حیوانی وجود کے اندر روح کا تعلق بہر حال اس کے ”قلب“ کے ساتھ ہی ہے۔
Ayahs 22:47–48

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ وَ لَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ١ؕ وَ اِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 22:47 in the Quran reader

اور (اے نبی ﷺ !) یہ لوگ عذاب کے بارے میں آپ سے جلدی مچا رہے ہیں اور اللہ اپنے وعدے کی ہرگز خلاف ورزی نہیں کرے گا اور یقیناً ایک دن آپ ﷺ کے رب کے نزدیک ایک ہزار برس کی طرح ہے اس حساب سے جو گنتی تم کرتے ہو

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَمْلَیْتُ لَهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا١ۚ وَ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:48 in the Quran reader

اور کتنی ہی بستیاں ایسی تھیں کہ میں نے انہیں ڈھیل دی تھی لیکن وہ گناہگار تھیں پھر میں نے ان کو پکڑ لیا اور (سب نے) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے

آیت 47 وَیَسْتَعْجِلُوْنَکَ بالْعَذَابِ وَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰہُ وَعْدَہٗ ط ” عذاب کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے سب وعدے ہر صورت میں پورے ہوں گے اور ان لوگوں پر عذاب آکر رہے گا۔ البتہ یہ عذاب کب آئے گا ؟ کس شکل میں آئے گا ؟ اس کے بارے میں صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ اس نے ایسی تمام معلومات خفیہ رکھی ہیں۔ سورة الانبیاء میں اس موضوع سے متعلق حضور ﷺ سے یوں اعلان کرایا گیا : وَاِنْ اَدْرِیْٓ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ ”اور میں نہیں جانتا کہ جس عذاب کا تم لوگوں سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ قریب ہے یا کچھ عرصے بعد آئے گا۔“ وَاِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّکَ کَاَلْفِ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ ” دنیا میں عام انسانی حساب کے مطابق ایک ہزار برس کا عرصہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک دن کے برابر ہے۔ سورة السجدۃ میں یہی مضمون اس طرح بیان ہوا ہے : یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَی الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْہِ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٓٗ اَلْفَ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ ”اللہ آسمان سے زمین تک کے ہر معاملے کی تدبیر کرتا ہے ‘ پھر یہ چڑھتا ہے اس کی طرف ایک ایسے دن میں جس کی مقدار ہے ایک ہزار سال ‘ جیسے تم لوگ گنتے ہو“۔ یہ ”تدبیرِ اَمر“ دراصل اللہ تعالیٰ کے ان تین کاموں میں سے ایک ہے جن کے متعلق قبل ازیں سورة یونس کی آیت 3 کے تحت جلد چہارم شاہ ولی اللہ رح کی تصنیف ”حجۃ اللہ البالغہ“ کے حوالے سے بتایا جا چکا ہے ‘ یعنی ابداع ‘ خلق اور تدبیر۔ چناچہ اس تیسرے کام تدبیر کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتوں کو طرح طرح کے احکام دیے جاتے ہیں اور پھر فرشتوں کے ذریعے سے ہی ان احکام کی تنفیذ execution ہوتی ہے۔ اس منصوبہ بندی میں اللہ کے ہاں ایک دن کا عرصہ انسانی گنتی کے مطابق ایک ہزار برس کے برابر ہے۔ یہاں یہ نکتہ بھی ذہن نشین کر لیجیے کہ یہ مضمون چونکہ بہت واضح الفاظ کے ساتھ قرآن میں دو مرتبہ آیا ہے اس لیے یہ معاملہ ”متشابہات“ میں سے نہیں بلکہ ”محکمات“ کے درجے میں ہے۔
Ayahs 22:49–50

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَاۤ اَنَا لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 22:49 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ !) آپ اعلان کردیجیے کہ میں تو تمہارے لیے بس ایک واضح طور پر خبردار کرنے والا ہوں

فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 22:50 in the Quran reader

تو جو لوگ ایمان لائیں اور نیک عمل کریں ان کے لیے (اللہ کی طرف سے) مغفرت اور بہت با عزت روزی ہے

آیت 49 قُلْ یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّمَآ اَنَا لَکُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ ” کہ مجھے تو اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہی اسی لیے ہے کہ میں تم لوگوں کو آنے والی زندگی کے مراحل کی تمام تفصیلات سے واضح طور پر خبردار کر دوں۔
Ayah 22:51

وَ الَّذِیْنَ سَعَوْا فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 22:51 in the Quran reader

اور جو لوگ ہماری آیات کو نیچا دکھانے کی تگ و دو کرتے ہیں وہی ہیں جو جہنم والے ہیں

آیت 51 وَالَّذِیْنَ سَعَوْا فِیْٓ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓءِکَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ ” یعنی وہ لوگ جن کی ساری بھاگ دوڑ اور تگ و دو اللہ تعالیٰ کی آیات کو ناکام اور غیر مؤثر بنانے ‘ گویا اللہ تعالیٰ کی مخالفت اور اس کی منصوبہ بندی کی راہ میں روڑے اٹکانے میں ہے وہ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔
Ayahs 22:52–53

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤى اَلْقَى الشَّیْطٰنُ فِیْۤ اُمْنِیَّتِهٖ١ۚ فَیَنْسَخُ اللّٰهُ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ ثُمَّ یُحْكِمُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌۙ Open ayah 22:52 in the Quran reader

اور ہم نے نہیں بھیجا آپ ﷺ سے پہلے کوئی رسول اور نہ کوئی نبی مگر یہ کہ جب اس نے خود کوئی خیال باندھا تو شیطان نے اس کے خیال میں خلل اندازی کی تو اللہ منسوخ کردیتا ہے اسے جو کچھ شیطان نے ڈالا ہوتا ہے پھر اللہ اپنے فیصلوں کو پختہ کردیتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا کمال حکمت والا ہے

لِّیَجْعَلَ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْقَاسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍۙ Open ayah 22:53 in the Quran reader

تا کہ وہ شیطان کی طرف سے کی گئی آمیزش کو فتنہ بنا دے ان لوگوں کے لیے جن کے دلوں میں مرض ہو اور جن کے دل سخت ہوچکے ہوں اور یقیناً ظالم لوگ مخالفت اور دشمنی میں بہت دور جاچکے ہیں

آیت 52 وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّلَا نَبِیٍّ اِلَّآ اِذَا تَمَنّٰیٓ اَلْقَی الشَّیْطٰنُ فِیْٓ اُمْنِیَّتِہٖ ج ” لفظ ”تمنا“ اردو میں بھی مستعمل ہے۔ لغوی اعتبار سے اس مادہ میں آرزو اور خواہش کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ یعنی جس طرح ایک عام آدمی سوچتا ہے ‘ خواہش کرتا ہے اور مختلف امور میں منصوبہ بندی کرتا ہے اسی طرح نبی علیہ السلام اور رسول علیہ السلام بھی سوچتا ہے اور منصوبہ بندی کرتا ہے۔ مثلاً ابو طالب کی وفات کے بعد جب ابو لہب بنو ہاشم کا سردار بن گیا اور اس کی ذاتی دشمنی کے باعث آپ ﷺ کو اپنے قبیلے کی پشت پناہی حاصل نہ رہی تو آپ ﷺ نے سوچا کہ اب کیا کروں ؟ ع ”کس طرف جاؤں ‘ کدھر دیکھوں ‘ کسے آواز دوں !“ چناچہ ان حالات میں آپ ﷺ نے طائف کا سفر کرنے کا منصوبہ بنایا ‘ لیکن وہاں سے کوئی مثبت جواب نہ ملا اور آپ ﷺ کو بظاہر ناکام لوٹنا پڑا۔ بلکہ حضرت عائشہ رض کی روایت کے مطابق وہ دن آپ ﷺ کی زندگی کا سخت ترین دن یوم احد سے بھی زیادہ سخت ثابت ہوا۔ بہر حال آپ ﷺ نے منصوبہ بندی بھی کی اور اس کے مطابق کوشش بھی کی۔ یہ الگ بات تھی کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت میں یہ سعادت اہل طائف کے بجائے اہل یثرب کی قسمت میں لکھی گئی تھی۔ تو جب کوئی نبی اپنی منصوبہ بندی کرتا ہے تو شیطان اپنی طرف سے ان کے خیال میں کچھ نہ کچھ خلل ضرور ڈالتا ہے۔ عصمت انبیاء کے بارے میں تمام اہل ایمان چونکہ بہت حساس ہیں اس لیے آیت زیر مطالعہ کے الفاظ سے جو مفہوم بظاہر سامنے آتا ہے وہ گویا ہر مسلمان کے حلق میں پھنس جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آیت کی تفسیر و تشریح میں بہت سی دور ازکار تاویلات بھی لائی گئی ہیں۔ بہر حال میرے خیال میں یہ بالکل سیدھا سادہ مسئلہ ہے۔ اس کو یوں سمجھیں کہ کسی رسول یا نبی کی شخصیت اور خواہشات وتعلیمات کے دو پہلو ہیں۔ ایک پہلو تو وہ ہے جو براہ راست وحی الٰہی کے تابع ہے۔ اس پہلو سے متعلق معاملات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی جلی یا وحی خفی کے ذریعے سے براہ راست واضح ہدایات ملتی رہتی ہیں۔ ان ہدایات یا احکام میں کسی خطا یا غلطی کا کوئی امکان نہیں اور نہ ہی اس میں شیطان یا شیطانی قوتیں کسی قسم کی در اندازی کرسکتی ہیں۔ دوسری طرف نبی علیہ السلام کی شخصیت کا ایک ذاتی اور نجی پہلو بھی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ نبی علیہ السلام کی کوئی ذاتی شخصیت یا سوچ ہوتی ہی نہیں ‘ بلکہ بہت سے معاملات میں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی کو ایک حکم دے دیا جاتا ہے اور اس حکم پر عمل کرنے کے بارے میں نبی علیہ السلام خود سوچتا ہے ‘ خود منصوبہ بندی کرتا ہے اور خود فیصلہ کرتا ہے۔ مثلاً حضور ﷺ کو ایک حکم دے دیا گیا : وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ الشعراء کہ آپ ﷺ تبلیغ شروع کیجیے اور اس سلسلے میں اپنے قریبی رشتہ داروں کو خبردار کیجیے۔ اس حکم کی تعمیل کے لیے حضور ﷺ نے حضرت علی رض کو ایک ضیافت کا انتظام کرنے کا حکم دیا۔ آپ ﷺ نے بنو ہاشم کے تمام مردوں کو مدعو کیا اور سب کو کھانا کھلایا۔ آپ ﷺ نے ان تک اپنا دعوتی پیغام پہنچانے کے لیے یہی طریقہ مناسب خیال کیا۔ گویا ایسے کسی حکم پر عمل کے لیے جزئیات کی منصوبہ بندی کرنے کا تعلق نبی علیہ السلام کے ذاتی اجتہاد سے ہے۔ چناچہ ان تدبیری معاملات کا وہ درجہ نہیں ہوتا جو براہ راست وحی کی ہدایت کا ہوتا ہے۔ اس فرق کو صحابہ کرام رض بہت اچھی طرح سمجھتے تھے اور اس کی بہت سی عملی مثالیں بھی ہمیں سیرت سے ملتی ہیں۔ مثلاً غزوۂ بدر کے موقع پر آپ ﷺ نے ایک جگہ کی تخصیص فرما کر حکم دیا کہ لشکر کا کیمپ اس جگہ پر لگایا جائے۔ اس پر کچھ صحابہ رض نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اگر اس جگہ کے انتخاب کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص حکم ہے تو سر تسلیم خم ہے ! لیکن اگر یہ آپ ﷺ کی رائے ہے تو ہمیں بھی اپنی رائے پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔ آپ ﷺ نے نہ صرف انہیں رائے دینے کی اجازت دی بلکہ ان کی رائے کو قبول بھی فرمایا اور لگے لگائے کیمپ کو اکھاڑ کر ان کی تجویز کردہ جگہ پر لگانے کا حکم دیا۔ یہ چونکہ حضور ﷺ کی ذاتی تدبیر تھی اس لیے صحابہ رض کو بھی اس میں اختلاف کی گنجائش محسوس ہوئی اور انہوں نے اپنے عملی تجربات کی روشنی میں رائے دی۔ دوسری طرف اگر یہ فیصلہ وحی کی روشنی میں کیا گیا ہوتا تو کیمپ کے اکھاڑے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا تھا۔ اسی طرح ”تابیر نخل“ کے معاملے کی مثال بھی بہت واضح ہے۔ رسول اللہ ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے دیکھا کہ وہاں پر کھجور کے درختوں کو بار آور کرنے کے لیے زیرہ پوشی کا مصنوعی طریقہ artificial pollination اختیار کیا جاتا تھا ‘ یعنی نر درخت کے پھولوں کو مادہ درخت کے پھولوں پر جھاڑا جاتا تھا۔ آپ ﷺ نے کچھ لوگوں کو یہ عمل کرتے دیکھا تو فرمایا کہ اگر تم لوگ ایسا نہ کرو تو شایدبہتر ہو ! آپ ﷺ کے ایسا فرمانے پر لوگوں نے اس سال وہ عمل نہ کیا تو اس کے نتیجے میں فصل واضح طور پر کم ہوئی۔ اس پر ان لوگوں نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ اس سال ہم نے تابیر نخل کے مروّجہ طریقے پر عمل نہیں کیا تو ہماری فصل کم ہوئی ہے۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا : اَنْتُمْ اَعْلَمُ بِاَمْرِ دُنْیَاکُمْ 1 یعنی آپ لوگ اپنے دنیوی امور کے بارے میں مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ محدثین عظام پر اپنی خصوصی رحمتیں ‘ برکتیں اور نعمتیں نازل فرمائے۔ ان لوگوں کی محنتوں اور کوششوں سے حضور ﷺ کی احادیث محفوظ ہوئیں اور پھر ہم تک پہنچ کر ہماری راہنمائی کا ذریعہ بنیں۔ حضور ﷺ کے اس فرمان کا مقصد اور مفہوم یہی ہے کہ دنیوی معاملات کے مختلف شعبوں میں تم لوگوں کو ایسے تجربات حاصل ہیں جو مجھے حاصل نہیں اور میں تم لوگوں کو ان معاملات میں تعلیم دینے کے لیے مبعوث بھی نہیں ہوا۔ میں تم لوگوں کو زراعت کے اصول سکھانے کے لیے نہیں آیا۔ میں تو تم لوگوں کو ہدایت دینے کے لیے آیا ہوں اور یہی میری رسالت کا بنیادی مقصد اور موضوع ہے۔ چناچہ رسالت سے متعلق امور میں آپ لوگوں کے لیے میرا اتباع لازمی ہے ‘ لیکن دنیوی معاملات تم لوگ اپنے تجرباتی علم کی بنیاد پر ہی انجام دو۔ اگر دیکھا جائے تو اہل مدینہ کا تابیر نخل سے متعلق مذکورہ عمل سائنسی اصولوں پر مبنی تھا۔ سائنس کی بنیاد تجربات پر رکھی گئی ہے اور سائنسی علوم کا ارتقاء development بھی تجربات کے ذریعے سے ہی ممکن ہوتا ہے۔ چناچہ یہ فرما کر حضور ﷺ نے تجرباتی یا سائنسی علوم کی گویا حوصلہ افزائی فرمائی کہ اپنے دنیوی معاملات کو تم لوگ مجھ سے بہتر جانتے ہو اور یہ کہ ان امور کو تم لوگ اپنے تجرباتی علم کی بنیاد پر ہی انجام دیا کرو۔ اس ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی علیہ السلام یا رسول علیہ السلام کی وہ تعلیمات اور وہ ہدایات جو براہ راست وحی الٰہی کے تابع ہوں ان میں نہ تو کسی قسم کی خطا کا امکان ہے اور نہ ہی ان کے اندر شیطانی قوتوں کی در اندازی کا کوئی احتمال ہے ‘ لیکن عام دنیوی امور اور ان کی جزئیات کے بارے میں فیصلے کرتے ہوئے جہاں ایک نبی یا رسول اپنے ذاتی اجتہاد سے کام لے رہا ہو وہاں پر کسی خطا یا شیطانی خلل اندازی کا امکان موجود رہتا ہے۔ میری یہ توجیہہ ”موضح القرآن“ میں بیان کردہ شاہ عبدالقادر رح کی رائے کے قریب ترین ہے ‘ لہٰذا مجھے اس پر پورا اطمینان ہے۔
Ayah 22:54

وَّ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَیُؤْمِنُوْا بِهٖ فَتُخْبِتَ لَهٗ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:54 in the Quran reader

اور اس لیے بھی کہ وہ لوگ جان جائیں جنہیں علم دیا گیا ہو کہ یقیناً یہ حق ہے آپ ﷺ کے رب کی طرف سے تو وہ اس پر ایمان لے آئیں اور ان کے دل اس (اللہ) کے آگے جھک جائیں اور یقیناً اللہ اہل ایمان کو سیدھے راستے کی طرف ہدایت دینے والا ہے

آیت 54 وَّلِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اَنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ ” ایسے لوگ کسی بھی معاملے میں اللہ کے فیصلے پر پورے شرح صدر کے ساتھ ایمان اور یقین رکھتے ہیں۔ وَاِنَّ اللّٰہَ لَہَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ” یعنی مخلص اہل ایمان سے کسی وقت اگر کہیں کوئی لغزش ہوجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان کا رخ پھیر کر درست سمت کی طرف موڑ دیتا ہے۔
Ayah 22:55

وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً اَوْ یَاْتِیَهُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیْمٍ Open ayah 22:55 in the Quran reader

اور کافر تو اس بارے میں ہمیشہ شک و شبہ میں ہی رہیں گے یہاں تک کہ یا تو ان پر قیامت اچانک آن دھمکے یا ایک بانجھ دن کا عذاب ان پر مسلط ہوجائے

آیت 55 وَلَا یَزَالُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ مِرْیَۃٍ مِّنْہُ ” ان کے شکوک و شبہات تو کبھی ختم ہونے والے نہیں ہیں۔ حَتّٰی تَاْتِیَہُمُ السَّاعَۃُ بَغْتَۃً اَوْ یَاْتِیَہُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیْمٍ ” ”بانجھ دن“ سے مراد ایسا دن ہے جو ہر خیر سے خالی ہو۔ یعنی وہ دن جس میں کسی قوم کی بربادی کا فیصلہ ہوجائے۔
Ayahs 22:56–57

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 22:56 in the Quran reader

اس دن بادشاہی صرف اللہ کی ہوگی۔ وہی ان کے مابین فیصلہ کرے گا تو جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے وہ نعمتوں والے باغات میں ہوں گے

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ Open ayah 22:57 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کی روش اختیار کی اور ہماری آیات کو جھٹلایا ان کے لیے رسوا کن عذاب ہوگا

آیت 56 اَلْمُلْکُ یَوْمَءِذٍ لِّلّٰہِط یَحْکُمُ بَیْنَہُمْ ط ” کائنات کا حاکم حقیقی تو اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ کائنات میں ہر جگہ ‘ ہر وقت اسی کا حکم چل رہا ہے ‘ لیکن آج اس حقیقت پر کچھ پردے پڑے ہوئے ہیں۔ چناچہ دنیا میں ہمیں ڈرامے کے کرداروں کی طرح چھوٹے چھوٹے بادشاہ ‘ فرمانروا ‘ سردار وغیرہ بھی مقتدر اور با اختیار نظر آتے ہیں ‘ لیکن جب قیامت کا دن آئے گا تو یہ سب پردے اٹھ جائیں گے۔ اس دن تمام بنی نوع انسان کو مخاطب کر کے پوچھا جائے گا : لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ ط المؤمن : 16 ”آج کے دن بادشاہی کس کی ہے ؟“ اور پھر خود ہی جواب دیا جائے گا : لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَہَّارِ ”صرف اس اللہ کی جو واحد ہے ‘ قہار ہے !“
Ayahs 22:58–59

وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ قُتِلُوْۤا اَوْ مَاتُوْا لَیَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 22:58 in the Quran reader

اور وہ لوگ جنہوں نے ہجرت کی اللہ کی راہ میں پھر وہ قتل ہوگئے یا فوت ہوگئے (دونوں صورتوں میں) اللہ ان کو لازماً رزق حسنہ عطا فرمائے گا اور یقیناً اللہ ہی بہترین رزق دینے والا ہے

لَیُدْخِلَنَّهُمْ مُّدْخَلًا یَّرْضَوْنَهٗ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَلِیْمٌ حَلِیْمٌ Open ayah 22:59 in the Quran reader

وہ لازماً ان کو ایسے مقام میں داخل کرے گا جس سے وہ راضی ہوجائیں گے اور اللہ یقیناً سب کچھ جاننے والا تحمل کرنے والا ہے

آیت 58 وَالَّذِیْنَ ہَاجَرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ” ہجرت کا یہ مضمون یہاں پر موقع محل کی مناسبت سے آیا ہے۔ یہ مکی دور کے آخری زمانے کی سورت ہے اور جس طرح ہجرت سے متصلاً بعد سورة البقرۃ کا نزول ہوا اسی طرح ہجرت سے متصلاً قبل سورة الحج نازل ہوئی۔
Ayah 22:60

ذٰلِكَ١ۚ وَ مَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوْقِبَ بِهٖ ثُمَّ بُغِیَ عَلَیْهِ لَیَنْصُرَنَّهُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 22:60 in the Quran reader

یہ تو ہے ہی ! اور جو شخص بدلہ لے اسی قدر جس قدر اس پر زیادتی کی گئی پھر اس پر مزید زیادتی کی جائے تو اللہ لازماً اس کی مدد کرے گا یقینا اللہ معاف فرمانے والا بخشنے والا ہے

اِنَّ اللّٰہَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ ” یعنی مسلمانوں پر اس سے قبل جو زیادتیاں ہوچکی ہیں اب وہ ان کا بدلہ لے سکتے ہیں ‘ اور پھر مزید کسی زیادتی کی صورت میں بھی اللہ ان کی مدد فرمائے گا۔
Ayah 22:61

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 22:61 in the Quran reader

اور یہ اس لیے کہ اللہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور یہ کہ اللہ سب کچھ سننے والا سب کچھ دیکھنے والا ہے

آیت 61 ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّہَارِ وَیُوْلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیْلِ ” یعنی اس کائنات کا پورا نظام عدل و انصاف پر مبنی ہے۔ رات دن کا یہ الٹ پھیر اس نظام کے اندر موجود اعتدال و توازن کی ایک مثال ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کائنات کا یہ نظام ایسے ہی چل رہا ہے جیسے کہ اسے چلنا چاہیے۔ اس نظام کو درست رکھنے کے لیے قدرت کی طرف سے جو تدابیر اختیار کی جاتی ہیں ان سے متعلق قبل ازیں آیت 40 میں ایک راہنما اصول بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا کے نظام میں ظالم اور مفسد قوتوں کو مستقلاً برداشت نہیں کرتا اور دوسری قوتوں کے ذریعے انہیں نیست و نابود کرتا رہتا ہے : وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ لَّہُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِیَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ یُذْکَرُ فِیْہَا اسْمُ اللّٰہِ کَثِیْرًا ط ”اور اگر اللہ بعض لوگوں کو بعض دوسرے لوگوں کے ذریعے دور نہ کرتا رہتا ‘ تو ڈھا دیا جاتا خانقاہوں ‘ گرجوں ‘ معبدوں اور مسجدوں کو ‘ جن میں کثرت سے اللہ کا نام لیا جاتا ہے“۔ چناچہ جس طرح اللہ تعالیٰ انسانی معاشرے کے نظام کو عدل پر قائم رکھنے کے لیے انتظامات کرتا ہے اسی طرح اس نے کائناتی اور آفاقی نظام کو بھی ٹھیک ٹھیک چلانے کا اہتمام کر رکھا ہے۔
Ayah 22:62

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ هُوَ الْبَاطِلُ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 22:62 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ اللہ ہی حق ہے اور یہ کہ جس کو یہ لوگ پکارتے ہیں اس کے سوا وہ سب باطل ہے اور یہ کہ یقیناً اللہ ہی سب سے بلند اور سب سے بڑا ہے

آیت 62 ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ ہُوَ الْحَقُّ ” اللہ کی ذات برحق ہے ‘ جس کا حق ہونا قطعی اور یقینی ہے۔
Ayah 22:63

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١٘ فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّةً١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌۚ Open ayah 22:63 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ آسمان سے پانی نازل کرتا ہے تو زمین سرسبز ہوجاتی ہے یقیناً اللہ باریک بین اور بہت باخبر ہے

اِنَّ اللّٰہَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ ” یہاں پر ”لطیف“ کے یہ معنی بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ خفیہ تدبیریں کرنے والا ہے۔
Ayah 22:64

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 22:64 in the Quran reader

اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور یقیناً اللہ بےنیاز اپنی ذات میں خود حمید ہے

وَاِنَّ اللّٰہَ لَہُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ ” اسے کوئی احتیاج نہیں ‘ وہ ستودہ صفات ہے ‘ اپنی ذات میں خود محمود ہے ‘ اسے کسی حمد کی ضرورت نہیں۔
Ayah 22:65

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ وَ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ یُمْسِكُ السَّمَآءَ اَنْ تَقَعَ عَلَى الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 22:65 in the Quran reader

کیا تم نے دیکھا نہیں کہ اللہ نے زمین کی سب چیزوں کو تمہارے لیے مسخرّ کردیا ہے اور کشتی کو جو چلتی ہے سمندر میں اس کے حکم سے اور وہ تھامے ہوئے ہے آسمان کو کہ وہ گر نہ جائے زمین پر مگر اس کے حکم سے یقیناً اللہ انسانوں کے ساتھ بہت ہی شفیق ہے بہت مہربان ہے

آیت 65 اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ سَخَّرَ لَکُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ ” یعنی تمہاری خدمت گزاری اور تمہاری ضروریات کی بہم رسانی میں لگا دیا ہے۔
Ayah 22:66

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَحْیَاكُمْ١٘ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ Open ayah 22:66 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے تمہیں زندہ کیا پھر وہ تمہیں موت دے گا پھر تمہیں زندہ کرے گا یقیناً انسان بڑا ہی نا شکرا ہے

اِنَّ الْاِنْسَانَ لَکَفُوْرٌ ” یعنی پہلے تم مردہ تھے اور اس نے تمہیں زندہ کیا۔ یہ آیت سورة البقرۃ کی اس آیت سے گہری مشابہت رکھتی ہے : کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ باللّٰہِ وَکُنْتُمْ اَمْوَاتاً فَاَحْیَاکُمْْج ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ ثُمَّ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ دونوں آیات کے الفاظ بھی ملتے جلتے ہیں۔ صرف سورة البقرۃ کے ”کُنْتُمْ اَمْوَاتاً“ کے الفاظ کو زیر مطالعہ آیت میں دہرایا نہیں گیا۔ مضمون دونوں آیات کا بہر حال ایک ہی ہے۔ اس مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کی ارواح کو عالم ارواح میں پیدا کیا اور ان سے اپنی ربوبیت کا عہد اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ ؟ لینے کے بعد سب کو سلا دیا ‘ بالکل اسی طرح جیسے آج کسی چیز کو کو لڈ سٹوریج میں رکھ دیا جاتا ہے۔ یہ تمام انسانوں کی پہلی موت تھی۔ اس کے بعد جب کسی روح کا رحم مادر میں کسی جنین کے ساتھ ملاپ ہوتا ہے تو یہ اس روح یا اس انسان کا احیائے اول ہے۔ پھر دنیوی زندگی کے بعد جب اسے موت آئے گی تو یہ اس کا ”اماتہ ثانیہ“ ہوگا اور جب اسے قیامت کو اٹھایا جائے گا تو وہ احیائے ثانی ہوگا۔ اس مضمون کا ذروۂ سنام climax سورة غافر المؤمن کی آیت 11 میں آئے گا۔
Ayah 22:67

لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوْهُ فَلَا یُنَازِعُنَّكَ فِی الْاَمْرِ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ١ؕ اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:67 in the Quran reader

ہم نے ہر امتّ کے لیے قربانی (اور عبادت) کے طریقے مقرر کردیے ہیں جن کی وہ پیروی کرتے ہیں تو انہیں آپ ﷺ سے اس معاملے میں جھگڑنا نہیں چاہیے اور آپ ﷺ اپنے رب کی طرف بلاتے رہیے۔ یقیناً آپ ﷺ ہدایت کے سیدھے راستے پر ہیں

آیت 67 لِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکًا ہُمْ نَاسِکُوْہُ فَلَا یُنَازِعُنَّکَ فِی الْاَمْرِ ” یعنی بنی اسرائیل کے لیے قربانی کا طریقہ اور تھا ‘ بنی اسماعیل کسی اور طریقے سے قربانی کرتے تھے ‘ جبکہ مسلمانوں کو ان دونوں سے مختلف طریقہ بتایا گیا ہے۔ یہ ہر امت کی اپنی اپنی شریعت کا معاملہ ہے ‘ اس میں جھگڑنے کی کوئی بات نہیں ہے۔ یہ مضمون اس سے پہلے آیت 34 میں اس طرح آچکا ہے : وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکًا لِّیَذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ عَلٰی مَا رَزَقَہُمْ مِّنْم بَہِیْمَۃِ الْاَنْعَامِط فَاِلٰہُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ فَلَہٗٓ اَسْلِمُوْاط وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَ ”اور ہر امت کے لیے ہم نے قربانی کا ایک طریقہ بنایا ہے تاکہ وہ اللہ کا نام لیاکریں ان مویشیوں پر جو اس نے انہیں عطا کیے ہیں۔ تو جان لو کہ تمہارا معبود ایک ہی ہے ‘ چناچہ تم اس کے سامنے سرتسلیم خم کرو ‘ اور اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بشارے دے دیجیے عاجزی اختیار کرنے والوں کو۔“
Ayahs 22:68–69

وَ اِنْ جٰدَلُوْكَ فَقُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 22:68 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ آپ ﷺ سے جھگڑیں تو آپ ﷺ کہیے کہ اللہ بہتر جانتا ہے جو تم کر رہے ہو

اَللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 22:69 in the Quran reader

اللہ فیصلہ کر دے گا تمہارے مابین قیامت کے دن ان تمام چیزوں کے بارے میں جن میں تم اختلاف کرتے رہے تھے

آیت 68 وَاِنْ جٰدَلُوْکَ فَقُلِ اللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ” میرے پاس جو ہدایت میرے رب کی طرف سے آئی ہے میں اس کی پیروی کر رہا ہوں۔ اگر آپ لوگ سمجھتے ہیں کہ میرے مقابلے میں آپ زیادہ حق پر ہیں تو آپ جانیں اور آپ کا رب جانے۔
Ayah 22:70

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 22:70 in the Quran reader

کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمان میں اور زمین میں ہے یقیناً یہ سب کچھ ایک کتاب میں (در ج) ہے یقیناً یہ اللہ پر بہت آسان ہے

اِنَّ ذٰلِکَ فِیْ کِتٰبٍ ط ” یہ وہی کتاب ہے جسے ”اُمّ الکتاب“ بھی کہا گیا ہے ‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے علم قدیم کی کتاب۔ اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرٌ ” تمہیں یہ مشکل معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ایک چیز کا علم کیسے رکھتا ہے لیکن اللہ کے لیے یہ کوئی مشکل امر نہیں ہے۔
Ayah 22:71

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ مَا لَیْسَ لَهُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ Open ayah 22:71 in the Quran reader

اور وہ پرستش کرتے ہیں اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی جن کے بارے میں اس نے کوئی سند نہیں اتاری اور انہیں اس کا کچھ علم بھی نہیں اور ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہوگا

آیت 71 وَیَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ سُلْطٰنًا ” اگرچہ وہ اللہ کو مانتے ہیں لیکن اللہ کے علاوہ بھی بہت سی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں ‘ جن کے بارے میں ان کے پاس کوئی سند نہیں ہے۔ وَّمَا لَیْسَ لَہُمْ بِہٖ عِلْمٌ ط ” نہ صرف یہ کہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ کوئی سند نہیں بلکہ کوئی اثری ثبوت ‘ کوئی عقلی بنیاد اور کوئی منطقی دلیل بھی ان کے پاس ان من گھڑت معبودوں کی پرستش کے لیے نہیں ہے۔
Ayah 22:72

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الْمُنْكَرَ١ؕ یَكَادُوْنَ یَسْطُوْنَ بِالَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ؕ قُلْ اَفَاُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكُمْ١ؕ اَلنَّارُ١ؕ وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:72 in the Quran reader

اور جب ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ہماری روشن آیات تو تم دیکھتے ہو ان کافروں کے چہروں پر نا گواری کے آثار قریب ہوتے ہیں کہ ٹوٹ پڑیں ان پر جو ان کو ہماری آیت پڑھ کر سنا تے ہیں آپ ﷺ کہیے : کیا میں تمہیں اس سے بدتر چیز کی خبر دوں وہ ہے آگ ! جس کا وعدہ کیا ہے اللہ نے کافروں سے۔ اور وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے

آیت 72 وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْہِ الَّذِیْنَ کَفَرُوا الْمُنْکَرَ ط ” اللہ عزوجل کا کلام سن کر خوشی سے کھل اٹھنے کی بجائے ان کے چہروں پر بیزاری اور ناگواری کے آثار پیدا ہوجاتے ہیں۔ قُلْ اَفَاُنَبِّءُکُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِکُمْط ” یعنی جس قدر ناگواری تمہیں اس وقت ہو رہی ہے اور جس قدر سختی تم پر اس وقت بیت رہی ہے جب تمہیں اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھ کر سنائی جا رہی ہیں ‘ کیا میں تمہیں بتاؤں کہ اس سے بڑھ کر ناگوار اور سخت چیز تمہارے لیے کیا ہوگی ؟
Ayah 22:73

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّ لَوِ اجْتَمَعُوْا لَهٗ١ؕ وَ اِنْ یَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَیْئًا لَّا یَسْتَنْقِذُوْهُ مِنْهُ١ؕ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الْمَطْلُوْبُ Open ayah 22:73 in the Quran reader

اے لوگو ! ایک مثال بیان کی جاتی ہے پس اسے ذرا توجہّ سے سنو یقیناً (تمہارے وہ معبود) جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ایک مکھی بھی تخلیق نہیں کرسکتے اگرچہ وہ سب اس کے لیے اکٹھے ہوجائیں اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو یہ اس سے وہ چیز چھڑا نہیں سکتے کس قدر کمزور ہے طالب بھی اور مطلوب بھی

اس سورة مبارکہ کا آخری رکوع اپنے مضامین کے اعتبار سے بہت اہم ہے۔ اسی اعتبار سے یہ ہمارے ”مطالعہ قرآن حکیم کے منتخب نصاب“ میں بھی شامل ہے۔ چناچہ اس رکوع کے مطالعہ سے پہلے میں ”منتخب نصاب“ اور اس کی غرض وغایت کے حوالے سے بھی چند باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں۔ الحمدللہ ! ہم نے ”رجوع الی القرآن“ کی جو تحریک شروع کر رکھی ہے اور اللہ کی توفیق سے اب تک میں اس میں اپنی زندگی کے 35 سال صرف کرچکا ہوں واضح رہے کہ یہ دروس جن پر ”بیان القرآن“ مشتمل ہے ‘ 1998 ء کے ہیں۔ اسی تحریک کی کو کھ سے تنظیم اسلامی اور تحریک خلافت نے جنم لیا ہے ‘ ہماری اس دعوت ”رجوع الی القرآن“ کی بنیاد ”مطالعہ قرآن حکیم کا منتخب نصاب“ ہے۔ اس منتخب نصاب کو میں نے ذریعہ بنایا ہے لوگوں کو قرآن سے متعارف کرانے کا اور ایک مسلمان پر دین کی طرف سے جو بنیادی فرائض عائد ہوتے ہیں ان فرائض کا ایک جامع تصور ان کے سامنے رکھنے کا۔ یعنی دین کے وہ فرائض جن کے بارے میں ہم سے قیامت کے دن باز پرس ہونی ہے ان کا ایک صحیح تصور مختصر الفاظ میں ہمارے سامنے آجائے۔ جہاں تک نماز ‘ روزہ وغیرہ کا تعلق ہے ‘ اس کے بارے میں تو سب جانتے ہیں کہ وہ بنیادی فرائض میں سے ہیں ‘ لیکن کیا ہم پر اس کے علاوہ بھی کچھ فرائض عائد ہوتے ہیں ؟ کیا ہم کچھ اور امور میں بھی مسؤل ہیں ؟ کیا بحیثیت مسلمان اس سے بڑھ کر کچھ مزید بھی ہماری ذمہ داری ہے ؟ ان سب سوالات کے جوابات اس منتخب نصاب کے مطالعے میں موجود ہیں۔ یہ نصاب تقریباً دو پاروں کے برابر ہے۔ یعنی حجم کے اعتبار سے یہ قرآن مجید کا 15/1 واں حصہ ہے۔ قرآن مجید کے اب تک کے مطالعے بیان القرآن کے دوران ہم منتخب نصاب کے کچھ حصوں کا مطالعہ بھی کر آئے ہیں ‘ لیکن چونکہ اس نصاب میں زیادہ تر آیات اور سورتیں قرآن حکیم کے نصف ثانی بلکہ آخری حصے سے شامل ہوئی ہیں ‘ اس لیے زیادہ تر مقامات کا مطالعہ ابھی باقی ہے۔ اگرچہ ان مقامات اور اسباق کا انتخاب کرتے ہوئے یہ بات میرے ذہن میں نہیں تھی کہ قرآن کے کس حصے سے کتنا حصہ منتخب کیا جائے ‘ لیکن عملی طور پر قرآن کے آخری حصے سے زیادہ آیات منتخب ہوئی ہیں۔ اس صورت حال کی ایک بہت خوبصورت مشابہت حروف مقطعات کے ساتھ ہے جس کی طرف آج اچانک میرا ذہن منتقل ہوا ہے اور وہ یہ کہ عربی کے 28 یا 29 حروف تہجی کی جو تختی ہے اس کے نصف اول میں سے بہت کم حروف ہیں جو حرف مقطعات میں شامل ہوئے ہیں ‘ جبکہ اس تختی کے نصف ثانی میں سے بہت سے حروف ہیں جو حروف مقطعات میں آئے ہیں۔ یہ تو بہرحال ایک اضافی نکتہ تھا۔ اس وقت منتخب نصاب کے عمومی تعارف اور اس میں سورة الحج کے آخری رکوع کی اہمیت کے حوالے سے بات ہو رہی ہے۔ اس منتخب نصاب کے کل چھ حصے ہیں۔ پہلا حصہ ”جامع اسباق“ پر مشتمل ہے۔ اس کا آغاز سورة العصر سے ہوتا ہے جو قرآن حکیم کی ایک مختصر مگر انتہائی جامع سورت ہے۔ اس میں انسان کی نجات اخروی کے چار لوازم یعنی ایمان ‘ عمل صالح ‘ تواصی بالحق اور تواصی بالصبر بیان ہوئے ہیں۔ اس کے بعد پہلے حصے میں قرآن کے تین ایسے جامع مقامات شامل کیے گئے ہیں جن میں نجات کے انہیں چاروں لوازم کا ذکر تفصیل کے ساتھ ہے۔ پہلے حصے کا دوسرا درس سورة البقرۃ کی آیت 177 آیت البر پر مشتمل ہے جس میں نیکی کی حقیقت پر تفصیلی بحث ہوئی ہے کہ یوں تو ہر شخص اپنے ذہن میں نیکی کا ایک اپنا تصور رکھتا ہے لیکن اصل اور جامع نیکی کون سی ہے ؟ نیکی کی روح کیا ہے ؟ اس کی جڑ اور بنیاد کیا ہے ؟ اس کا سب سے اونچا مقام کیا ہے ؟ اور اس کا مقام مطلوب کون سا ہے ؟ حصہ دوم میں ایمان سے متعلق مباحث ہیں کہ ایمان کیا ہے اور یہ کیسے وجود میں آتا ہے ؟ اس حصے کے دروس میں سورة الفاتحہ کا درس ‘ سورة آل عمران کے آخری رکوع کی آیات کا درس اور سورة النور کے پانچویں رکوع کا درس شامل ہیں۔ اس نصاب کا تیسرا حصہ اعمال صالحہ کے بارے میں ہے۔ اس میں انفرادی و اجتماعی سطح پر اور پھر معاشرتی و ریاستی سطح پر اعمال صالحہ کی اہمیت ‘ کیفیت ‘ ضرورت وغیرہ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ معاشرتی سطح پر اعمال صالحہ کی تفصیلات کے سلسلے میں سورة بنی اسرائیل کے تیسرے اور چوتھے رکوع کا اہم درس بھی اس حصے میں شامل ہے۔ ان آیات میں جو احکام مذکور ہیں وہ تورات کے ”احکام عشرہ“ یعنی En Commandments کی قرآنی تشریح و تعبیر کا درجہ رکھتے ہیں۔ منتخب نصاب کے چوتھے حصے کا پہلا درس سورة الحج کے اس رکوع پر مشتمل ہے جو اب ہمارے زیر مطالعہ آرہا ہے۔ گویا اس کی جگہ منتخب نصاب کے عین وسط میں ہے۔ قرآن کی دعوت کے اعتبار سے یہ قرآن حکیم کا جامع ترین مقام ہے۔ اس میں قرآنی دعوت کو دو حصوں میں تقسیم کر کے بیان فرمایا گیا ہے۔ یعنی ایک دعوت عمومی اور دوسری دعوت خصوصی۔ قرآن کی دعوت عمومی بنی نوع انسان کے ہر فرد کے لیے ہے۔ کوئی فرد دنیا کے کسی گوشے یا کسی نسل سے تعلق رکھتا ہو ‘ کسے باشد ! وہ قرآن کی اس دعوت کا مخاطب ہے۔ یہ عمومی دعوت دراصل ایمان کی دعوت ہے۔ چونکہ نبی آخر الزماں ﷺ کی بعثت دنیا کے تمام انسانوں کے لیے ہے : وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا سبا : 28 اس لیے ایمان کی یہ دعوت تمام انسانوں کے لیے ہے کہ لوگو ! اللہ پر ایمان لاؤ ‘ رسول پر لاؤ ‘ آخرت ‘ بعث بعد الموت ‘ جنت اور دوزخ پر ایمان لاؤ ! یہ پہلے درجے کی دعوت ہے اور پہلے درجے میں صرف ماننے کی دعوت ہی دی جاسکتی ہے۔ اس درجے پر عمل نماز ‘ روزہ وغیرہ کی دعوت نہیں دی جاسکتی ‘ کیونکہ جو انسان اللہ ‘ رسول اور قرآن کو نہیں مانتا اس کے لیے نماز اور روزہ کی کیا اہمیت ہوسکتی ہے ! اس کے بعد خصوصی دعوت کا درجہ ہے اور اس کے مخاطب وہ لوگ ہیں جو پہلی دعوت یعنی دعوت ایمان پر لبیک کہتے ہیں۔ یعنی جو لوگ دعوت ایمان کو قبول کریں گے انہیں دعوت عمل کے ذریعے ایمان کے تقاضے پورے کرنے کی ضرورت و اہمیت سے آگاہ کیا جائے گا۔ چناچہ اس رکوع کی چھ آیات میں دعوت قرآنی کے ان دونوں عمومی اور خصوصی درجوں کو علیحدہ علیحدہ بیان کیا گیا ہے۔ پہلی چار آیات میں ”یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ“ کے الفاظ سے پوری بنی نوع انسان کو خطاب کیا گیا ہے ‘ جبکہ آخری دو آیات میں ”یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا“ کے الفاظ کے ساتھ اہل ایمان کو دعوت عمل دی گئی ہے۔ اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّلَوِ اجْتَمَعُوْا لَہٗ ط ” چونکہ اس کے مخاطبِ اوّل مکہّ کے ُ بت پرست تھے اس لیے انہیں شعور دلانے کے لیے ان کے ُ بتوں کی مثال دی گئی ہے کہ خانہ کعبہ میں سجائے گئے تمہارے یہ تین سو ساٹھ بت مل کر بھی کوشش کرلیں تب بھی ایک مکھی تک نہیں بنا سکتے۔ یہ وہی انداز ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کے لوگوں کے سامنے ُ بتوں کی بےبسی ظاہر کرنے کے لیے اپنایا تھا۔ آپ علیہ السلام نے ُ بتوں کو توڑ کر ان کے پجاریوں کو اپنے گریبانوں میں جھانکنے پر مجبور کردیا تھا۔ وَاِنْ یَّسْلُبْہُمُ الذُّبَابُ شَیْءًا لَّا یَسْتَنْقِذُوْہُ مِنْہُ ط ” یعنی مکھی کو تخلیق کرنا تو بہت دور کی بات ہے ‘ یہ تو اپنے اوپر سے مکھی کو اڑا بھی نہیں سکتے۔ اگر کوئی مکھی ان کے سامنے پڑے ہوئے حلووں مانڈوں میں سے کچھ لے اڑے تو اس سے وہ چیز واپس بھی نہیں لے سکتے۔ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوْبُ ” اس مضمون پر یہ جملہ اس قدر جامع ہے کہ قرآن مجید کے نظریۂ توحید کا عملی لبّ لباب ان تین الفاظ میں سما گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر باشعور انسان کا ایک نصب العین ‘ آئیڈل یا آدرش ہوتا ہے ‘ جس کے حصول کے لیے وہ دن رات بھاگ دوڑ کرتا ہے۔ انسان کی شخصیت اور اس کا آئیڈیل آپس میں ایک دوسرے کی پہچان کے لیے معیار اور کسوٹی فراہم کرتے ہیں۔ کسی انسان کا معیار اس کے آئیڈیل سے پہچانا جاتا ہے اور کسی آئیڈیل کا معیار اس کے چاہنے والے کے معیار سے پرکھا جاتا ہے۔ اگر کسی انسان کا آئیڈیل گھٹیا ہے تو لازماً وہ انسان خود بھی اسی سطح پر ہوگا اور اگر کسی کا آئیڈیل اعلیٰ ہوگا تو وہ خود بھی اعلیٰ شخصیت کا مالک ہوگا۔ اس اصول پر ان لوگوں کے ذہنوں کے معیار اور سوچوں کی سطح کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے جو پتھر کے بتوں کو اپنے معبود سمجھ کر ان کے آگے جھکتے ہیں۔ جس طالب کا مطلوب اور آئیڈیل ایک ایسا بےجان مجسمہ ہے جو اپنے اوپر سے ایک مکھی تک کو نہیں اڑا سکتا ‘ اس کی اپنی شخصیت کا کیا حال ہوگا : ع ”قیاس کن زگلستانِ من بہار مرا !“ یہ مضمون ذرا مختلف انداز میں سورة البقرۃ کی آیت 165 میں اس طرح آچکا ہے : وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَنْدَادًا یُّحِبُّوْنَہُمْ کَحُبِّ اللّٰہِ ط کہ لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے مدِّ مقابل کچھ معبود بنا کر ان سے ایسے محبت کرنا شروع کردیتے ہیں جیسے اللہ سے محبت کرنی چاہیے۔ اس کے برعکس توحید کا سبق تو یہ ہے : لَا مَحْبُوْبَ الاَّ اللّٰہ ! لَا مَقْصُوْدَ الاَّ اللّٰہ ! لَا مَطْلُوْبَ الاَّ اللّٰہ ! یعنی انسان کا محبوب و مقصود و مطلوب صرف اور صرف اللہ ہے۔ باقی کوئی شے مطلوب و مقصود نہیں ہے ‘ باقی سب ذرائع ہیں۔ انسان کو زندہ رہنے کے لیے اور اپنی ضروریات زندگی پوری کرنے کے لیے مختلف ذرائع سے مدد لینی پڑتی ہے۔ اس سلسلے میں توحید کا تقاضا یہی ہے کہ ان سب چیزوں کو ذرائع کے طور پر استعمال ضرور کریں مگر انہیں اپنا مطلوب و مقصود نہ بنائیں۔ نہ کھیتی کو ‘ نہ دکان کو ‘ نہ کسی ہنر کو ‘ نہ کسی پیشے کو ‘ نہ کسی رشتہ دار ‘ اور نہ اولاد کو ! یہ ہے توحید کاُ لبّ لباب ! جو شخص توحید کے اس تصور تک نہیں پہنچ سکتا اور اللہ کی معرفت اس انداز میں حاصل نہیں کرسکتا ‘ اس کے ذہن کی پستی اسے اللہ کو چھوڑ کر طرح طرح کی چیزوں کی پرستش کرنا سکھاتی ہے اور پھر اسی ڈگر پر چلتے ہوئے کوئی وطن پرست ٹھہرتا ہے تو کوئی قوم پرست قرار پاتا ہے۔ کوئی دولت کی دیوی کا پجاری بن جاتا ہے تو کوئی اپنے نفس کو معبود بنا کر اپنے ہی حریم ذات کے گرد طواف شروع کردیتا ہے۔ ع ”اپنے ہی حسن کا دیوانہ بنا پھرتا ہوں !“
Ayah 22:74

مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 22:74 in the Quran reader

انہوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسا کہ اس کی قدر کا حق تھا یقیناً اللہ بہت طاقت والا سب پر غالب ہے

آیت 74 مَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ ط ” ایسے لوگ اللہ کی کما حقہّ معرفت حاصل نہ کرسکے اور جلال و جمالِ الٰہی کی کوئی جھلک نہ دیکھ سکے اور یوں دنیا اور اس کی چیزوں کو اصل مطلوب و مقصود سمجھ کر اس عروس ہزار داماد کے عاشق بن بیٹھے !
Ayah 22:75

اَللّٰهُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌۚ Open ayah 22:75 in the Quran reader

اللہُ چن لیتا ہے اپنے پیغامبر فرشتوں میں سے بھی اور انسانوں میں سے بھی یقینا اللہ سب کچھ سننے و الا دیکھنے والا ہے

اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌم بَصِیْرٌ ” یہاں رسالت کے دونوں واسطوں کا ذکر کردیا گیا ہے جس میں ایک ”رسول ملک“ ہے اور دوسر ا ”رسول بشر“ ہے۔ چناچہ فرشتوں میں سے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو چنا گیا اور انسانوں میں سے حضرت محمد ﷺ کو۔ اور یوں رسول ملک کے ذریعے رسول بشر تک پیغام پہنچایا گیا تاکہ وہ اپنے ابنائے نوع تک اسے پہنچا دیں۔
Ayah 22:76

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 22:76 in the Quran reader

وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے اور اللہ ہی کی طرف تمام معاملات لوٹا دیے جائیں گے

وَاِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ” اس آیت میں آخرت کا ذکر بھی آگیا اور یوں اس دعوت عمومی میں امور ثلاثہ یعنی توحید ‘ رسالت اور آخرت کا ذکر کردیا گیا۔ یاد رہے کہ اس دعوت میں یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ آیت 37 کے الفاظ سے نوع انسانی کے تمام افراد کو مخاطب کیا گیا ہے۔ اب دوسرے مرحلے کی دعوت ان خصوصی لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے اس پہلی دعوت پر لبیک کہا کہ ہم ایک اللہ کو معبود مانتے ہیں ‘ محمد ﷺ کو اللہ کا رسول تسلیم کرتے ہیں ‘ بعث بعد الموت پر بھی یقین رکھتے ہیں اور اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ کے فلسفے پر بھی ایمان رکھتے ہیں ‘ وہ لوگ اہل ایمان قرار پائے۔ اب اگلے مرحلے میں انہی لوگوں کو عمل کی دعوت دی جا رہی ہے۔ اس انداز دعوت میں ایک واضح فرق یہ ہے کہ اس میں فعل امر کا استعمال کیا گیا ہے ‘ یعنی اس دعوت کا اندازحکمیہ ہے۔ پہلی دعوت میں فعل امر کا استعمال صرف مثال سنانے کی حد تک ہوا تھا : فَاسْتَمِعُوْا لَہٗ ط کہ یہ مثال جو بیان کی جا رہی ہے اسے غور سے سنو ! لیکن جو لوگ اس دعوت کو مان کر اسلام کے دائرہ میں آگئے ہیں انہیں اب باقاعدہ حکم دیا جا رہا ہے :
Ayah 22:77

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا وَ اسْجُدُوْا وَ اعْبُدُوْا رَبَّكُمْ وَ افْعَلُوا الْخَیْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ۩ Open ayah 22:77 in the Quran reader

اے ایمان کے دعوے دارو ! جھک جاؤ اور سر بسجود ہوجاؤ اور اپنے رب کی بندگی کرو اور نیک کام کرو تاکہ تم فلاح پاؤ

آیت 77 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ارْکَعُوْا وَاسْجُدُوْا وَاعْبُدُوْا رَبَّکُمْ ” یہاں صرف اصطلاحی رکوع اور سجدہ ہی مراد نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کے سامنے مکمل طور پر سر تسلیم خم کردینے کا حکم ہے۔ اسی طرح ”عبادت“ کے حکم میں بھی ”مکمل بندگی“ کا مفہوم پنہاں ہے۔ ؂ زندگی آمد برائے بندگی زندگی بےبندگی شرمندگی ! وَافْعَلُوا الْخَیْرَ ” یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ واعْبُدُوْا بندگی کرو ! کے حکم میں تو گویا سب کچھ آگیا۔ اب اس کے بعد مزید نیک کام کون سے ہیں ؟ دراصل ”فعل خیر“ سے یہاں مراد خدمت خلق ہے۔ اس حکم سے مراد یہ ہے کہ اپنے آپ کو خدمت خلق میں لگا دو ! اور خدمت خلق صرف بھوکے کو کھانا کھلانے تک ہی محدود نہیں بلکہ سب سے بڑی خدمت خلق یہ ہے کہ لوگوں کی عاقبت سنوارنے کی کوشش کی جائے۔ چناچہ اس حکم میں یہ بھی شامل ہے کہ اے اللہ کے بندو ! ایمان و عمل کے جو حقائق تم پر منکشف ہوگئے ہیں ان سے دوسرے لوگوں کو بھی روشناس کراؤ ‘ تاکہ وہ جہنم کا ایندھن بننے سے بچ جائیں۔ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ” سیاق وسباق کے اعتبار سے یہ بہت اہم بات ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اے ایمان کے دعوے دارو ! کہیں تم یہ نہ سمجھ بیٹھنا کہ ایمان کا اقرار کرلیا تو بس اب فلاح ہی فلاح ہے۔ بس کلمہ پڑھ لیا اور کامیابی ہوگئی۔ نہیں ایسا نہیں ! ع ”یہ شہادت گہِ الفت میں قدم رکھنا ہے !“ تم لوگوں نے اس شہادت گاہ میں قدم رکھا ہے تو اب اس کے تقاضے پورے کرو گے تو تب کامیابی ہوگی۔ اگر تم یہ سمجھے بیٹھے ہو کہ بس ہم مسلمان ہوگئے ہیں اور اب بیٹھے بٹھائے ہمیں جنت مل جائے گی تو یہ تمہارا اپنا خیال ہے ‘ تمہاری اپنی دل خوش کن تمنا wishful thinking ہے۔ جیسے کہ بنی اسرائیل کے بارے میں فرمایا گیا : تِلْکَ اَمَانِیُّہُمْ ط البقرہ : 111 ”یہ ان کی تمنائیں ہیں۔“ امام شافعی رح کی رائے ہے کہ سورة الحج کی اس آیت کی تلاوت پر سجدۂ تلاوت کرنا چاہیے ‘ جبکہ امام ابوحنیفہ رح کے نزدیک یہ آیت سجدہ نہیں ہے۔ اس ضمن میں یہ بھی واضح رہے کہ آیات سجدہ پر سجدۂ تلاوت کرنا امام ابوحنیفہ رح کے نزدیک واجب جبکہ امام شافعی رح کے نزدیک مستحب ہے۔