2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر بیان القرآن

Ayah 2:219

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ١ؕ قُلْ فِیْهِمَاۤ اِثْمٌ كَبِیْرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ١٘ وَ اِثْمُهُمَاۤ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا١ؕ وَ یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلِ الْعَفْوَ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَۙ Open ayah 2:219 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ !) یہ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں دریافت کرتے ہیں (کہ ان کا کیا حکم ہے ؟) (اے نبی ﷺ ! ان سے) کہہ دیجیے کہ ان دونوں کے اندر بہت بڑے گناہ کے پہلو ہیں اور لوگوں کے لیے کچھ منفعتیں بھی ہیں البتہ ان کا گناہ کا پہلو نفع کے پہلو سے بڑا ہے اور یہ آپ ﷺ سے پوچھتے ہیں کہ (اللہ کی راہ میں) کتنا خرچ کریں ؟ کہہ دیجیے : اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنی آیات تمہارے لیے واضح کر رہا ہے تاکہ تم غور و فکر کرو۔

آیت 219 یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ ط ان احکام سے شریعت کا ابتدائی خاکہ blue print تیار ہونا شروع ہوگیا ہے ‘ کچھ احکام پہلے آ چکے ہیں اور کچھ اب آ رہے ہیں۔ شراب اور جوئے کے بارے میں یہاں ابتدائی حکم بیان ہوا ہے اور اس پر محض اظہار ناراضگی فرمایا گیا ہے۔ قُلْ فِیْہِمَآ اِثْمٌ کَبِیْرٌ وَمَنَافِعُ للنَّاسِز وَاِثْمُہُمَآ اَکْبَرُ مِنْ نَّفْعِہِمَا ط۔ یعنی اشارہ کردیا گیا کہ ان کو چھوڑ دو۔ اب معاملہ تمہاری عقل سلیم کے حوالے ہے ‘ حقیقت تم پر کھول دی گئی ہے۔ یہ ابتدائی حکم ہے ‘ لیکن حکم کے پیرائے میں نہیں۔ بس واضح کردیا گیا کہ ان کا گناہ ان کے فائدے سے بڑھ کر ہے ‘ اگرچہ ان میں لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیں۔ بقول غالب : ؂ مے سے غرض نشاط ہے کس روسیاہ کو ؟ اِک گونہ بےخودی مجھے دن رات چاہیے ! اور : ؂ میں میکدے کی راہ سے ہو کر گزر گیا ورنہ سفر حیات کا بیحد طویل تھا ! یہ حکمت سمجھ لیجیے کہ شراب اور جوئے میں کیا چیز مشترک ہے کہ یہاں دونوں کو جمع کیا گیا ؟ شراب کے نشے میں بھی انسان اپنے آپ کو حقائق سے منقطع کرتا ہے اور محنت سے جی چراتا ہے۔ وہ زندگی کے تلخ حقائق کا مواجہہ کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ ع اِک گونہ بےخودی مجھے دن رات چاہیے !۔۔ اور جوئے کی بنیاد بھی محنت کی نفی پر ہے۔ ایکّ رویہ تو یہ ہے کہ محنت سے ایک آدمی کما رہا ہے ‘ مشقت کر رہا ہے ‘ کوئی کھوکھا ‘ چھابڑی یا ریڑھی لگا کر کچھ کمائی کر رہا ہے ‘ جبکہ ایک ہے چانس اور داؤ کی بنیاد پر پیسے کمانا۔ یہ محنت کی نفی ہے۔ چناچہ شراب اور جوئے کے اندر اصل میں علت ایک ہی ہے۔ وَیَسْءَلُوْنَکَ مَاذَا یُنْفِقُوْنَ ط آیت 195 میں انفاق کا حکم بایں الفاظ آچکا ہے : وَاَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ ج اور خرچ کرو اللہ کی راہ میں اور اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ جھونکو۔ تو سوال کیا گیا کہ کتنا خرچ کریں ؟ ہمیں کچھ مقدار بھی بتادی جائے۔ فرمایا : قُلِ الْعَفْوَ ط جو بھی تمہاری ضرورت سے زائد ہو۔ اللہ تعالیٰ کا یہ مطالبہ نہیں ہے کہ تم اپنی ضرورتوں کو پیچھے ڈال دو ‘ بلکہ تم پہلے اپنی ضرورتیں پوری کرو ‘ پھر جو تمہارے پاس بچ جائے اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دو۔ کمیونزم کے فلسفہ میں ایک اصطلاح قدر زائد surplus value استعمال ہوتی ہے۔ یہ ہے اَلْعَفْوَ۔ جو بھی تمہاری ضروریات سے زائد ہے یہ surplus value ہے ‘ اسے اللہ کی راہ میں دے دو۔ اس کو بچا کر رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اللہ پر بےاعتمادی کا اظہار کرر ہے ہیں کہ اللہ نے آج تو دے دیا ہے ‘ کل نہیں دے گا۔ لیکن یہ کہ انسان کی ضرورتیں کیا ہیں ‘ کتنی ہیں ‘ اس کا اللہ نے کوئی پیمانہ مقرر نہیں کیا۔ اس کا تعلق باطنی روح سے ہے۔ ایک مسلمان کے اندر اللہ کی محبت اور آخرت پر ایمان جوں جوں بڑھتا جائے گا اتنا ہی وہ اپنی ضرورتیں کم کرے گا ‘ اپنے معیارِزندگی کو پست کرے گا اور زیادہ سے زیادہ اللہ کی راہ میں دے گا۔ اصول یہ ہے کہ ہر شخص یہ دیکھے کہ جو میری ضرورت سے زائد ہے اسے میں بچا بچا کر نہ رکھوں ‘ بلکہ اللہ کی راہ میں دے دوں۔ انفاق فی سبیل اللہ پر اس سورة مبارکہ میں پورے دو رکوع آگے آنے والے ہیں۔
Ayah 2:220

فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْیَتٰمٰى١ؕ قُلْ اِصْلَاحٌ لَّهُمْ خَیْرٌ١ؕ وَ اِنْ تُخَالِطُوْهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَعْنَتَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:220 in the Quran reader

دنیا اور آخرت (کے معاملات) میں اور یہ آپ ﷺ سے پوچھ رہے ہیں یتیموں کے بارے میں (اے نبی ﷺ ! ان سے) کہہ دیجیے کہ (جس طرز عمل میں) ان کی بھلائی اور مصلحت (ہو وہی اختیار کرنا) بہتر ہے اور اگر تم ان کو اپنے ساتھ ملائے رکھو تو وہ تمہارے بھائی ہی تو ہیں اور اللہ جانتا ہے مفسد کو بھی اور مصلح کو بھی اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں سختی ہی میں ڈالے رکھتا یقیناً اللہ تعالیٰ زبردست ہے حکمت والا ہے

آیت 220 فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِط۔ تمہارا یہ غور و فکر دنیا کے بارے میں بھی ہونا چاہیے اور آخرت کے بارے میں بھی۔ دنیا میں بھی اسلام رہبانیت نہیں سکھاتا۔ اسلام کی تعلیم یہ نہیں ہے کہ نہ کھاؤ ‘ نہ پیو ‘ چلے کشی کرو ‘ جنگلوں میں نکل جاؤ ! نہیں ‘ اسلام تو متمدن زندگی کی تعلیم دیتا ہے ‘ گھر گھرہستی اور شادی بیاہ کی ترغیب دیتا ہے ‘ بیوی بچوں کے حقوق بتاتا ہے اور ان کی ادائیگی کا حکم دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تمہیں آخرت کی بھی فکر کرنی چاہیے ‘ اور دنیا و آخرت کے معاملات میں ایک نسبت و تناسب ratio proportion قائم رہنا چاہیے۔ دنیا کی کتنی قدر و قیمت ہے اور اس کے مقابلے میں آخرت کی کتنی قدر و قیمت ہے ‘ اس کا صحیح طور پر اندازہ کرنا چاہیے۔ اگر یہ اندازہ غلط ہوگیا اور کوئی غلط تناسب قائم کرلیا گیا تو ہرچیز تلپٹ ہوجائے گی۔ مثال کے طور پر ایک دوا کے نسخے میں کوئی چیز کم تھی ‘ کوئی زیادہ تھی۔ اگر آپ نے جو چیز کم تھی اسے زیادہ کردیا اور جو زیادہ تھی اسے کم کردیا تو اب ہوسکتا ہے یہ نسخۂ شفا نہ رہے ‘ نسخہ ہلاکت بن جائے۔ وَیَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْیَتٰمٰی ط قُلْ اِصْلاَحٌ لَّہُمْ خَیْرٌ ط ان کی مصلحت کو پیش نظر رکھنا بہتر ہے ‘ نیکی ہے ‘ بھلائی ہے۔ اصل میں لوگوں کے سامنے سورة بنی اسرائیل کی یہ آیت تھی : وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ الاَّ بالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ آیت 34 اور مال یتیم کے قریب تک نہ پھٹکو ‘ مگر ایسے طریقے پر جو یتیم کے حق میں بہتر ہو۔ چناچہ وہ مال یتیم کے بارے میں انتہائی احتیاط کر رہے تھے اور انہوں نے یتامٰی کی ہنڈیاں بھی علیحدہ کردی تھیں کہ مبادا ان کے حصے کی کوئی بوٹی ہمارے پیٹ میں چلی جائے۔ لیکن اس طرح یتامٰیکی دیکھ بھال کرنے والے لوگ تکلیف اور حرج میں مبتلا ہوگئے تھے۔ کسی کے گھر میں یتیم پرورش پا رہا ہے تو اس کا خرچ الگ طور پر اس کے مال میں سے نکالا جا رہا ہے اور اس کے لیے الگ ہنڈیا پکائی جا رہی ہے۔ فرمایا کہ اس حکم سے یہ مقصد نہیں تھا ‘ مقصد یہ تھا کہ تم کہیں ان کے مال ہڑپ نہ کر جاؤ ‘ ان کے لیے اصلاح اور بھلائی کا معاملہ کرنا بہتر طرزعمل ہے۔ وَاِنْ تُخَالِطُوْہُمْ فَاِخْوَانُکُمْ ط وَاللّٰہُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ ط۔ وہ جانتا ہے کہ کون بدنیتی سے یتیم کا مال ہڑپ کرنا چاہتا ہے اور کون یتیم کی خیر خواہی چاہتا ہے۔ یہ ہنڈیا علیحدہ کر کے بھی گڑبڑ کرسکتا ہے اور یہ وہ شخص ہے جو ہنڈیا مشترک کر کے بھی حق پر رہ سکتا ہے۔ وَلَوْ شَاء اللّٰہُ لَاَعْنَتَکُمْ ط۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہیں مشقت اور سختی سے بچایا اور تم پر آسانی فرمائی۔ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ وہ انتہائی مشقت پر مبنی سخت سے سخت حکم بھی دے سکتا ہے ‘ اس لیے کہ وہ زبردست ہے ‘ لیکن وہ انسانوں کو مشقت میں نہیں ڈالتا ‘ بلکہ اس کے ہر حکم کے اندر حکمت ہوتی ہے۔ اور جہاں حکمت نرمی کی متقاضی ہوتی ہے وہاں وہ رعایت دیتا ہے۔
Ayah 2:221

وَ لَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى یُؤْمِنَّ١ؕ وَ لَاَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكَةٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَتْكُمْ١ۚ وَ لَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَتّٰى یُؤْمِنُوْا١ؕ وَ لَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ یَدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ١ۖۚ وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلَى الْجَنَّةِ وَ الْمَغْفِرَةِ بِاِذْنِهٖ١ۚ وَ یُبَیِّنُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 2:221 in the Quran reader

اور مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں اور ایک مؤمنہ لونڈی بہتر ہے ایک آزاد مشرکہ عورت سے اگرچہ وہ تمہیں اچھی بھی لگتی ہو اور اپنی عورتیں مشرکوں کے نکاح میں مت دو جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں اور ایک مؤمن غلام بہتر ہے ایک آزاد مشرک مرد سے اگرچہ وہ تمہیں پسند بھی ہو یہ لوگ آگ کی طرف بلا رہے ہیں اور اللہ تمہیں بلا رہا ہے جنت کی طرف اور مغفرت کی طرف اپنے حکم سے اور وہ اپنی آیات واضح کر رہا ہے لوگوں کے لیے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں

آیت 221 وَلاَ تَنْکِحُوا الْمُشْرِکٰتِ حَتّٰی یُؤْمِنَّ ط وَلَاَمَۃٌ مُّؤْمِنَۃٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِکَۃٍ وَّلَوْ اَعْجَبَتْکُمْ ج وَلاَ تُنْکِحُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَتّٰی یُؤْمِنُوْا ط وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِکٍ وَّلَوْ اَعْجَبَکُمْ ط۔ خواہ وہ صاحب حیثیت اور مال دار ہو ‘ لیکن دولت ایمان سے محروم ہو تو تمہارے لیے جائز نہیں ہے کہ اپنی بہن یا بیٹی اس کے نکاح میں دے دو۔ اُولٰٓءِکَ یَدْعُوْنَ اِلَی النَّارِج ۔ اگر ان سے رشتے ناتے جوڑو گے تو وہ تمہیں بھی جہنم میں لے جائیں گے اور تمہاری اولاد کو بھی۔
Ayah 2:222

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِیْضِ١ؕ قُلْ هُوَ اَذًى١ۙ فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِ١ۙ وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى یَطْهُرْنَ١ۚ فَاِذَا تَطَهَّرْنَ فَاْتُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ Open ayah 2:222 in the Quran reader

اور وہ عورتوں کی ماہواری کے بارے میں آپ ﷺ سے سوال کر رہے ہیں کہہ دیجیے وہ ایک ناپاکی بھی ہے اور ایک تکلیف کا مسئلہ بھی ہے تو حیض کی حالت میں عورتوں سے علیحدہ رہو اور ان سے مقاربت نہ کرو یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائیں پھر جب وہ خوب پاک ہوجائیں تو اب ان کی طرف جاؤ جہاں سے اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے یقیناً اللہ محبت کرتا ہے بہت توبہ کرنے والوں سے اور محبت کرتا ہے بہت پاکبازی اختیار کرنے والوں سے

آیت 222 وَیَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْمَحِیْضِ ط قُلْ ہُوَ اَذًیلا فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْْمَحِیْضِلا وَلاَ تَقْرَبُوْہُنَّ حَتّٰی یَطْہُرْنَ ج فَاِذَا تَطَہَّرْنَ فَاْتُوْہُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَکُمُ اللّٰہُ ط معلوم ہوا کہ بدیہیات فطرت اللہ تعالیٰ کے اوامر میں شامل ہیں۔ عورتوں کے ساتھ مجامعت کا طریقہ انسان کو فطری طور پر معلوم ہے ‘ یہ ایک امر طبعی ہے۔ ہر حیوان کو بھی جبلی طور پر معلوم ہے کہ اسے اپنی مادّہ کے ساتھ کیسا تعلق قائم کرنا ہے۔ لیکن اگر انسان فطری طریقہ چھوڑ کر غیر فطری طریقہ اختیار کرے اور عورتوں کے ساتھ بھی قوم لوط والا عمل کرنے لگے تو یہ حرام ہے۔ صحیح راستہ وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہاری فطرت میں ڈالا ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَیُحِبُّ الْمُتَطَہِّرِیْنَ ۔ ان سے اگر کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو اس سے توبہ کرتے ہیں اور ناپاک چیزوں سے دور رہتے ہیں۔
Ayah 2:223

نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ١۪ فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ١٘ وَ قَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ مُّلٰقُوْهُ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:223 in the Quran reader

تمہاری بیویاں تمہارے لیے بمنزلہ کھیتی ہیں تو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو آؤ اور اپنے آگے کے لیے سامان کرو اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور جان لو کہ تمہیں اس سے مل کر رہنا ہے اور (اے نبی ﷺ !) اہل ایمان کو بشارت دے دیجیے

آیت 223 نِسَآؤُکُمْ حَرْثٌ لَّکُمْ ۔ جیسے کھیت میں بیج بوتے ہو ‘ پھر فصل کاٹتے ہو ‘ اسی طرح بیویوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ تمہیں اولاد عطا کرتا ہے۔ فَاْتُوْا حَرْثَکُمْ اَنّٰی شِءْتُمْ ز تم اپنی کھیتی میں جدھر سے چاہو آؤ ‘ تمہارے لیے کوئی رکاوٹ نہیں ہے ‘ آگے سے یا دا ‘ ہنی طرف سے یا بائیں طرف سے ‘ جدھر سے بھی چاہو ‘ مگر یہ ضرور ہے کہ تخم ریزی اسی خاص جگہ میں ہو جہاں سے پیداوار کی امید ہوسکتی ہے۔ وَقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِکُمْ ط یعنی اپنے مستقبل کی فکر کرو اور اپنی نسل کو آگے بڑھانے کی کوشش کرو۔ اولاد انسان کا اثاثہ ہوتی ہے اور بڑھاپے میں اس کا سہارا بنتی ہے۔ آج تو الٹی گنگا بہائی جارہی ہے اور اولاد کم سے کم پیدا کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے ‘ جبکہ ایک زمانے میں اولاد عصائے پیری شمار ہوتی تھی۔ وَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّکُمْ مُّلٰقُوْہُ ط نوٹ کیجیے کہ قرآن حکیم میں شریعت کے ہر حکم کے ساتھ تقویٰ کا ذکر بار بار آرہا ہے۔ اس لیے کہ کسی قانون کی لاکھ پیروی کی جا رہی ہو مگر تقویٰ نہ ہو تو وہ قانون مذاق بن جائے گا ‘ کھیل تماشا بن جائے گا۔ اس کی بعض مثالیں ابھی آئیں گی۔
Ayah 2:224

وَ لَا تَجْعَلُوا اللّٰهَ عُرْضَةً لِّاَیْمَانِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْا وَ تَتَّقُوْا وَ تُصْلِحُوْا بَیْنَ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:224 in the Quran reader

اور اللہ کے نام کو تختۂ مشق نہ بنا لو اپنی قسموں کے لیے کہ بھلائی نہ کرو گے پرہیزگاری نہ کرو گے اور لوگوں کے درمیان صلح نہ کراؤ گے اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے

آیت 224 وَلاَ تَجْعَلُوا اللّٰہَ عُرْضَۃً لِاَّیْمَانِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْا وَتَتَّقُوْا وَتُصْلِحُوْا بَیْنَ النَّاسِ ط یعنی اللہ تعالیٰ کے عظیم نام کو استعمال کرتے ہوئے ایسی قسمیں مت کھاؤ جو نیکی وتقویٰ اور مقصد اصلاح کے خلاف ہوں۔ کسی وقت غصے ّ میں آکر آدمی قسم کھا بیٹھتا ہے کہ میں فلاں شخص سے کبھی حسن سلوک اور بھلائی نہیں کروں گا ‘ اس سے روکا گیا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رض نے بھی اسی طرح کی قسم کھالی تھی۔ مِسطَح ایک غریب مسلمان تھے ‘ جو آپ رض کے قرابت ‘ دار بھی تھے۔ ان کی آپ رض مدد کیا کرتے تھے۔ جب حضرت عائشہ صدیقہ رض پر تہمت لگی تو مسطح بھی اس آگ کے بھڑکانے والوں میں شامل ہوگئے۔ حضرت ابوبکر رض ان کے طرز عمل سے بہت رنجیدہ خاطر ہوئے کہ میں تو اس کی سرپرستی کرتا رہا اور یہ میری بیٹی پر تہمت لگانے والوں میں شامل ہوگیا۔ آپ رض نے قسم کھائی کہ اب میں کبھی اس کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ واقعہ سورة النور میں آئے گا۔ مسلمانوں سے کہا جا رہا ہے کہ تم ایسا نہ کرو ‘ تم اپنی نیکی کے دروازے کیوں بند کرتے ہو ؟ جس نے ایسی قسم کھالی ہے وہ اس قسم کو کھول دے اور قسم کا کفارہ دے دے۔ اسی طرح لوگوں کے مابین مصالحت کرانا بھی ضروری ہے۔ دو بھائیوں کے درمیان جھگڑا تھا ‘ آپ نے مصالحت کی کوشش کی لیکن آپ کی بات نہیں مانی گئی ‘ اس پر آپ نے غصے میں آکر کہہ دیا کہ اللہ کی قسم ‘ اب میں ان کے معاملے میں دخل نہیں دوں گا۔ اس طرح کی قسمیں کھانے سے روکا گیا ہے۔ اور اگر کسی نے ایسی کوئی قسم کھائی ہے تو وہ اسے توڑ دے اور اس کا کفارہّ دے دے۔
Ayah 2:225

لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوْبُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ Open ayah 2:225 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ مؤاخذہ نہیں کرے گا تم سے تمہاری بےمعنی قسموں پر (جو تم عزم و ارادہ کے بغیر کھا بیٹھتے ہو) لیکن ان قسموں پر تم سے ضرور مؤاخذہ کرے گا جو تم نے اپنے دلی ارادے کے ساتھ کھائی ہوں اور اللہ بخشنے والا ہے اور حلیم ہے

آیت 225 لاَ یُؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ باللَّغْوِ فِیْ اَیْمَانِکُمْ عربوں کا انداز گفتگو اس طرح کا ہے کہ واللہ ‘ باللہَ کے بغیر ان کا کوئی جملہ شروع ہی نہیں ہوتا۔ اس سے درحقیقت ان کی نیت قسم کھانے کی نہیں ہوتی بلکہ یہ ان کا گفتگو کا ایک اسلوب ہے۔ اس طرح کی قسموں پر مؤاخذہ نہیں ہے۔ وَلٰکِنْ یُّؤَاخِذُکُمْ بِمَا کَسَبَتْ قُلُوْبُکُمْ ط۔ ایسی قسموں کو توڑو گے تو کفارہّ دینا ہوگا۔ کفارے ّ کا حکم سورة المائدۃ میں بیان ہوا ہے۔ میں عرض کرچکا ہوں کہ سورة البقرۃ میں شریعت اسلامی کا ابتدائی خاکہ دے دیا گیا ہے اور اس کے تکمیلی احکام کچھ سورة النساء میں اور کچھ سورة المائدۃ میں بیان ہوئے ہیں۔ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ ۔ وہ بہت درگزر کرنے والا اور بردبار ہے۔ وہ فوراً نہیں پکڑتا ‘ بلکہ اصلاح کی مہلت دیتا ہے۔
Ayah 2:226

لِلَّذِیْنَ یُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَةِ اَشْهُرٍ١ۚ فَاِنْ فَآءُوْ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:226 in the Quran reader

جو لوگ اپنی بیویوں سے تعلق نہ رکھنے کی قسم کھا بیٹھتے ہیں ان کے لیے چار ماہ کی مہلت ہے پس اگر وہ رجوع کرلیں تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے

آیت 226 لِلَّذِیْنَ یُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآءِہِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَۃِ اَشْہُرٍ ج۔ اگر کوئی مرد کسی وقت ناراض ہو کر یا غصے میں آکر یہ قسم کھالے کہ اب میں اپنی بیوی کے قریب نہیں جاؤں گا ‘ اس سے کوئی تعلق نہیں رکھوں گا ‘ تو یہ ایلاء کہلاتا ہے۔ خود آنحضور ﷺ نے بھی اپنی ازواج مطہرات سے ایلاء فرمایا تھا۔ ازواج مطہرات نے عرض کیا تھا کہ اب عام مسلمانوں کے ہاں بھی خوشحالی آگئی ہے تو ہمارے ہاں یہ تنگی اور سختی کیوں ہے ؟ اب ہمارے بھی نفقات بڑھائے جائیں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے ان سے ایلاء کیا۔ اس کا ذکر بعد میں آئے گا۔ عام طور پر ہوتا یہ تھا کہ لوگ قسم تو کھا بیٹھتے تھے کہ بیوی کے پاس نہ جائیں گے ‘ مگر بعد میں اس پر پچھتاتے تھے کہ کیا کریں۔ اب وہ بیوی بےچاری معلقّ ہو کر رہ جاتی۔ اس آیت میں ایلاء کی مہلت مقرر کردی گئی کہ زیادہ سے زیادہ چار ماہ تک انتظار کیا جاسکتا ہے۔ فَاِنْ فَآءُ وْ فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ۔ ان چار ماہ کے دوران اگر وہ اپنی قسم کو ختم کریں اور رجوع کرلیں ‘ تعلق زن و شو قائم کرلیں تو اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے۔
Ayah 2:227

وَ اِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَاِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:227 in the Quran reader

اور اگر وہ طلاق کا ارادہ کرچکے ہوں تو اللہ سننے والا جاننے والا ہے

آیت 227 وَاِنْ عَزَمُوا الطَّلاَقَ فَاِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ ۔ یعنی چار ماہ کا عرصہ گزر جانے پر شوہر کو بہرحال فیصلہ کرنا ہے کہ وہ یا تو رجوع کرے یا طلاق دے۔ اب عورت کو مزید معلقّ نہیں رکھا جاسکتا۔ رجوع کی صورت میں چونکہ قسم توڑنا ہوگی لہٰذا اس کا کفارہ ادا کرنا ہوگا۔ حضرت عمر فاروق رض نے اپنے دور خلافت میں یہ حکم جاری کیا تھا کہ جو لوگ جہاد کے لیے گھروں سے دور گئے ہوں انہیں چار ماہ بعد لازمی طور پر گھر بھیجا جائے۔ آپ رض نے یہ حکم غالباً اسی آیت سے استنباط کرتے ہوئے جاری فرمایا تھا۔ اس کے لیے آپ رض نے اُمّ المؤمنین حضرت حفصہ رض سے مشاورت بھی فرمائی تھی۔ اگرچہ آپ رض کا حضرت حفصہ رض سے باپ بیٹی کا رشتہ ہے ‘ مگر دین کے معاملات میں شرم و حیا آڑے نہیں آتی ‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وَاللّٰہُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ الاحزاب : 53 اور اللہ شرماتا نہیں حق بات بتلانے میں۔ آپ رض نے ان سے پوچھا کہ ایک عورت کتنا عرصہ اپنی عفت و عصمت کو سنبھال کر اپنے شوہر کا انتظار کرسکتی ہے ؟ حضرت حفصہ رض نے کہا چار ماہ۔ چناچہ حضرت عمر رض نے مجاہدین کے بارے میں یہ حکم جاری فرما دیا کہ انہیں چار ماہ سے زیادہ گھروں سے دور نہ رکھا جائے۔
Ayah 2:228

وَ الْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوْٓءٍ١ؕ وَ لَا یَحِلُّ لَهُنَّ اَنْ یَّكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِیْۤ اَرْحَامِهِنَّ اِنْ كُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ وَ بُعُوْلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِیْ ذٰلِكَ اِنْ اَرَادُوْۤا اِصْلَاحًا١ؕ وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١۪ وَ لِلرِّجَالِ عَلَیْهِنَّ دَرَجَةٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 2:228 in the Quran reader

اور جن عورتوں کو طلاق دے دی جائے ان پر لازم ہے کہ وہ اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں اور ان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ اللہ نے ان کے ارحام میں جو کچھ پیدا کردیا ہو وہ اسے چھپائیں اگر وہ فی الواقع اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھتی ہیں اور ان کے شوہر اس کے زیادہ حق دار ہیں کہ انہیں لوٹا لیں اس عدت کے دوران میں اگر وہ واقعۃً اصلاح چاہتے ہوں اور عورتوں کے لیے اسی طرح حقوق ہیں جس طرح ان پر ذمہ داریاں ہیں دستور کے مطابق اور اللہ تعالیٰ زبردست ہے حکمت والا ہے

آیت 228 وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْءٍ ط۔ طلاق کے بعد عورت کے لیے تین ماہ کی عدت ہے۔ اس عدت میں شوہر چاہے تو رجوع کرسکتا ہے ‘ اگر اس نے ایک یا دو طلاقیں دی ہوں۔ البتہ تیسری طلاق کے بعد رجوع کا حق نہیں ہے۔ طلاق رجعی کے بعد ابھی اگر عدت ختم ہوجائے تو اب شوہر کا رجوع کا حق ختم ہوجائے گا اور عورت آزاد ہوگی۔ لیکن اس مدت کے اندر وہ دوسری شادی نہیں کرسکتی۔ وَلاَ یَحِلُّ لَہُنَّ اَنْ یَّکْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ فِیْ اَرْحَامِہِنَّ اِنْ کُنَّ یُؤْمِنَّ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ط۔ تین حیض کی مدت اسی لیے مقرر کی گئی ہے کہ معلوم ہوجائے کہ عورت حاملہ ہے یا نہیں۔ اگر عورت حاملہ ہو لیکن وہ اپنا حمل چھپا رہی ہو تاکہ اس کے پیٹ میں پلنے والا اس کا بچہ اس کے پاس ہی رہے ‘ تو یہ اس کے لیے جائز نہیں ہے۔ وَبُعُوْلَتُہُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّہِنَّ فِیْ ذٰلِکَ اِنْ اَرَادُوْٓا اِصْلاَحًا ط اسے رجعت کہتے ہیں۔ شوہروں کو حق حاصل ہے کہ وہ عدت کے اندر اندر رجوع کرسکتے ہیں ‘ لیکن یہ حق تیسری طلاق کے بعد حاصل نہیں رہتا۔ پہلی یا دوسری طلاق کے بعد عدت ختم ہونے سے پہلے شوہر کو اس کا اختیار حاصل ہے کہ وہ رجوع کرلے۔ اس پر بیوی کو انکار کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ وہ یہ نہیں کہہ سکتی کہ تم تو مجھے طلاق دے چکے ہو ‘ اب میں تمہاری بات ماننے کو تیار نہیں ہوں۔ وَلَہُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْہِنَّ بالْمَعْرُوْفِص یعنی ان کے لیے جو حقوق ہیں وہ ان کی ذمہ داریوں کی مناسبت سے ہیں۔ وَلِلرِّجَالِ عَلَیْہِنَّ دَرَجَۃٌ ط اور مردوں کے لیے ان پر ایک درجہ فوقیت کا ہے۔ وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ ۔ اس زمانے میں اس آیت کی بہت غلط تعبیر بھی کی گئی ہے اور اس سے مساوات مردد و زن کا فلسفہ ثابت کیا گیا ہے۔ چناچہ بعض مترجمین نے وَلَہُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْہِنَّ بالْمَعْرُوْفِص کا ترجمہ اس طرح کیا ہے کہ عورتوں کے حقوق بھی مردوں پر ویسے ہی ہیں جیسے َ مردوں کے ان پر حقوق ہیں۔ یہ ترجمہ درست نہیں ہے ‘ اس لیے کہ اسلامی شریعت میں مرد اور عورت کے درمیان یعنی شوہر اور بیوی کے درمیان مساوات نہیں ہے۔ اس آیت کا مفہوم سمجھنے کے لیے عربی میں ل اور عَلٰیکا استعمال معلوم ہونا چاہیے۔ لِ کسی کے حق کے لیے اور عَلٰی کسی کی ذمہ داری کے لیے آتا ہے۔ چناچہ اس ٹکڑے کا ترجمہ اس طرح ہوگا : لَھُنَّان کے لیے حقوق ہیں۔ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْہِنَّ جیسی کہ ان پر ذمہّ داریاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جیسی ذمہ داری مرد پر ڈالی ہے ویسے حقوق اس کو دیے ہیں اور جیسی ذمہّ داری عورت پر ڈالی ہے اس کی مناسبت سے اس کو بھی حقوق دے دیے ہیں۔ اور اس بات کو کھول دیا کہ وَلِلرِّجَالِ عَلَیْہِنَّ دَرَجَۃٌ ط یعنی مردوں کو ان پر ایک درجہ فوقیت کا حاصل ہے۔ اب مساوات کیونکر ہوسکتی ہے ؟ آخر میں فرمایا : وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ اور اللہ تعالیٰ زبردست ہے ‘ حکمت والا ہے۔ خواہ تمہیں یہ بات پسند ہو خواہ ناپسند ہو ‘ یہ اس کا حکم ہے۔ وہ عزیز ہے ‘ زبردست ہے ‘ جو چاہے حکم دے۔ اور حکیم ہے ‘ حکمت والا ہے ‘ اس کا ہر حکم حکمت پر مبنی ہے۔ اس آیت میں جو مضمون بیان ہوا ہے اس پر قدرے تفصیلی گفتگو کی ضرورت ہے۔ دیکھئے ‘ انسانیّ تمدن کا اہم ترین اور بنیادی ترین مسئلہ کیا ہے ؟ ایک ہے انسانی زندگی کا مسئلہ۔ انسانی زندگی کا سب سے پہلا مسئلہ تو وہی ہے جو حیوانی زندگی کا بھی ہے ‘ یعنی اپنی مادی ضروریات۔ ہر حیوان کی طرح انسان کے ساتھ بھی پیٹ لگا ہوا ہے جو کھانے کو مانگتا ہے۔ لیکن اس کے بعد جب دو انسان ملتے ہیں اور اس سے تمدن کا آغاز ہوتا ہے تو اس کا سب سے بڑا مسئلہ انسان کی شہوت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت دو جنسیں بنا دی ہیں اور ان دونوں کے مابین تعلق سے نسل آگے چلتی ہے۔ اب اس معاملے کو کیسے منظم کیا جائے ‘ اس کی کیا حدود وقیود ہوں ؟ یہ جذبہ واقعۃً بہت زور آور potent ہے۔ اس کے بارے میں فرائیڈ نے جو کچھ کہا ہے وہ بالکل بےبنیاد نہیں ہے۔ بس یوں سمجھئے کہ اس نے ذرا زیادہ مرچ مسالا لگا دیا ہے ‘ ورنہ اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان کا جنسی جذبہ نہایت قوی اور زورآور جذبہ ہے۔ اور جو شے جتنی قوی ہو اسے حدود میں رکھنے کے لیے اس پر اسی قدر زیادہ قدغنیں عائد کرنی پڑتی ہیں۔ کوئی گھوڑا جتنا منہ زور ہو اتنا ہی اسے لگام دینا آسان نہیں ہوتا ‘ اس کے لیے پھر مشقت کرنی پڑتی ہے۔ چناچہ اگر اس جنسی جذبے کو بےلگام چھوڑ دیا جاتا تو تمدن میں فساد ہوجاتا۔ لہٰذا اس کے لیے شادی کا معاملہ رکھا گیا کہ ایک عورت کا ایک مرد کے ساتھ رشتہ قائم ہوجائے ‘ سب کو معلوم ہو کہ یہ اس کی بیوی ہے یہ اس کا شوہر ہے ‘ تاکہ اس طرح نسب کا معاملہ بھی چلے اور ایک خاندانی ادارہ وجود میں آئے۔ ورنہ آزاد شہوت رانی free sex سے تو خاندانی ادارہ وجود میں آہی نہیں سکتا۔ چناچہ نکاح کے ذریعے ازدواجی بندھن کا طریقہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو سکھایا اور اس طرح خاندانی ادارہ وجود میں آیا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس ادارے میں مرد اور عورت دونوں برابر ہیں ؟ اس نظریے سے بڑی حماقت اور کوئی نہیں ہے۔ اس لیے کہ سیدھی سی بات ہے کہ کسی بھی ادارے کے دو برابر کے سربراہ نہیں ہوسکتے۔ اگر آپ کسی محکمے کے دو ڈائریکٹر بنا دیں تو وہ ادارہ تباہ ہوجائے گا۔ اوپر مینیجنگ ڈائریکٹر ایک ہی ہوگا ‘ اس کے نیچے آپ دس ڈائریکٹر بھی بنا دیں تو کوئی حرج نہیں۔ کسی ادارے کا جنرل مینیجر ایک ہی ہوگا ‘ اس کے ماتحت آپ ہر شعبے کا ایک مینیجر بنا دیجیے۔ کسی بھی ادارے میں اگر نظم قائم کرنا ہے تو اس کا چوٹی top کا سربراہ ایک ہی ہونا چاہیے۔ لہٰذا جب ایک مرد اور ایک عورت سے ایک خاندانی ادارہ وجود میں آئے تو اس کا سربراہ کون ہوگا مرد یا عورت ؟ مرد اور عورت انسان ہونے کے ناطے بالکل برابر ہیں ‘ ایک ہی باپ کے نطفے سے بیٹا بھی ہے اور بیٹی بھی۔ ایک ہی ماں کے رحم میں بہن نے بھی پرورش پائی ہے اور بھائی نے بھی۔ لہٰذ اس اعتبار سے شرف انسانیت میں ‘ نوع انسانیت کے فرد کی حیثیت سے ‘ دونوں برابر ہیں۔ لیکن جب ایک مرد اور ایک عورت مل کر خاندان کی بنیاد رکھتے ہیں تو اب یہ برابر نہیں رہے۔ جیسے انسان سب برابر ہیں ‘ لیکن ایک دفتر میں چپڑاسی اور افسر برابر نہیں ہیں ‘ ان کے الگ الگ اختیارات اور فرائض ہیں۔ قرآن حکیم میں سب سے پہلے اور سب سے زیادہ تفصیل کے ساتھ جو احکام دیے گئے ہیں وہ خاندانی نظام اور عائلی معاملات ہی سے متعلق ہیں۔ اس لیے کہ انسانی تمدن کی جڑ بنیاد اور یہی ہے۔ یہاں سے خاندان بنتا ہے اور خاندانوں کے اجتماع کا نام معاشرہ ہے۔ پاکستانی معاشرے کی مثال لے لیجیے۔ اگر ہماری آبادی اس وقت چودہ کروڑ ہے اور آپ ایک خاندان کے سات افراد شمار کرلیں تو ہمارا معاشرہ دو کروڑ خاندانوں پر مشتمل ہے۔ خاندان کا ادارہ مستحکم ہوگا تو معاشرہ مستحکم ہوجائے گا۔ خاندان کے ادارے میں صلاح اور فلاح ہوگی تو معاشرے میں بھی صلاح و فلاح نظر آئے گی۔ اگر خاندان کے ادارے میں فساد ‘ بےچینی ‘ ظلم اور ناانصافی ہوگی ‘ میاں اور بیوی میں جھگڑے ہو رہے ہوں گے تو پھر وہاں اولاد کی تربیت صحیح نہیں ہوسکتی ‘ ان کی تربیت میں یہ منفی چیزیں شامل ہوجائیں گی اور اسی کا عکس پورے معاشرے پر پڑے گا۔ چناچہ خاندانی ادارے کی اصلاح اور اس کے استحکام کے لیے قرآن مجید میں بڑی تفصیل سے احکام دیے گئے ہیں ‘ جنہیں عائلی قوانین کہا جاتا ہے۔ اس ضمن میں طلاق ایک اہم معاملہ ہے۔ اس میں مرد اور عورت کو برابر کا اختیار نہیں دیا گیا۔ جہاں تک شادی کا تعلق ہے اس میں عورت کی رضامندی ضروری ہے ‘ اسے شادی سے انکار کرنے کا حق حاصل ہے ‘ اس پر جبر نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن ایک مرتبہ جب وہ نکاح میں آگئی ہے تو اب شوہر کا پلڑا بھاری ہے ‘ وہ اسے طلاق دے سکتا ہے۔ اگر ظلم کے ساتھ دے گا تو اللہ کے ہاں جواب دہی کرنی پڑے گی اور پکڑ ہوجائے گی۔ لیکن بہرحال اسے اختیار حاصل ہے۔ عورت خود طلاق نہیں دے سکتی ‘ البتہ طلاق حاصل کرسکتی ہے ‘ جسے ہم خلع کہتے ہیں۔ وہ عدالت کے ذریعے سے یا خاندان کے بڑوں کے ذریعے سے خلع حاصل کرسکتی ہے ‘ لیکن اسے مرد کی طرح طلاق دینے کا حق حاصل نہیں ہے۔ اسی طرح اگر مرد نے ایک یا دو طلاقیں دے دیں اور ابھی عدت پوری نہیں ہوئی تو اسے رجوع کا حق حاصل ہے۔ اس پر عورت انکار نہیں کرسکتی۔ یہ تمام چیزیں ایسی ہیں جو موجودہ زمانے میں خواتین کو اچھی نہیں لگتیں۔ اس لیے کہ آج کی دنیا میں مساوات مرد و زن کا فلسفہ شیطان کا سب سے بڑا فلسفہ اور معاشرے میں فتنہ و فساد اور گندگی پیدا کرنے کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اور اب ہمارے ایشیائی ممالک خاص طور پر مسلمان ممالک میں خاندانی نظام کی جو بچی کھچی شکل باقی رہ گئی ہے اور جو کچھ رہی سہی اقدار موجود ہیں انہیں تباہ و برباد کرنے کی سرتوڑ کوششیں ہو رہی ہیں۔ قاہرہ کانفرنس اور بیجنگ کانفرنس کا مقصد یہی ہے کہ ایشیا کا مشرق اور مغرب دونوں طرف سے گھیراؤ کیا جائے تاکہ یہاں کی عورت کو آزادی دلائی جائے۔ مرد و عورت کی مساوات اور عورتوں کی آزادی emancipation کے نام پر ہمارے خاندانی نظام کو اسی طرح برباد کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس طرح ان کے ہاں برباد ہوچکا ہے۔ امریکی صدر بل کلنٹن نے اپنے سال نو کے پیغام میں کہا تھا کہ جلد ہی ہماری قوم کی اکثریت حرام زادوں born without any wedlock پر مشتمل ہوگی۔ وہاں اب محض one parent family رہ گئی ہے۔ ماں کی حیثیت باپ کی بھی ہے اور ماں کی بھی۔ وہاں کے بچے اپنے باپ کو جانتے ہی نہیں۔ اب وہاں ایک مہم زور و شور سے اٹھ رہی ہے کہ ہر انسان کا حق ہے کہ اسے معلوم ہو کہ اس کا باپ کون ہے۔ یہ عظیم تباہی ہے جو مغربی معاشرے پر آچکی ہے اور ہمارے ہاں بھی لوگ اس معاشرے کی نقالی اختیار کر رہے ہیں اور یہ نظریۂ مساوات مرد و زن بہت ہی تابناک اور خوشنما الفاظ کے ساتھ سامنے آ رہا ہے۔ البتہ اس معاملے کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ اسلام نے عورتوں کو جو حقوق دیے ہیں بدقسمتی سے ہم مسلمانوں نے وہ بھی ان کو نہیں دیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ذہنوں پر ابھی تک ہمارا ہندوانہ پس منظرّ مسلط ہے اور ہندوؤں کے معاشرے میں عورت کی قطعاً کوئی حیثیت ہی نہیں۔ وراثت کا حق تو بہت دور کی بات ہے ‘ اسے تو اپنے شوہر کی موت کے بعد زندہ رہنے کا حق بھی حاصل نہیں ہے۔ اسے تو شوہر کی چتا کے ساتھ ہی جل کر ستی ہوجانا چاہیے۔ گویا اس کا تو کوئی قانونی وجود legal entity ہے ہی نہیں۔ ہمارے آباء و اَجداد مسلمان تو ہوگئے تھے ‘ لیکن اسلامی تعلیمات کے مطابق ان کی تربیت نہیں ہوسکی تھی ‘ لہٰذا ہمارے ذہنوں پر وہی ہندوانہ تصوراتّ مسلط ہیں کہ عورت تو مرد کے پاؤں کی جوتی کی طرح ہے۔ یہ جو کچھ ہم کر رہے ہیں کہ ان کے جائز حقوق بھی ان کو نہیں دیتے ‘ اس کے نتیجے میں ہم اپنے اوپر ہونے والی مغربی یلغار کو مؤثرّ کرنے میں خود مدد دے رہے ہیں۔ اگر ہم اپنی خواتین کو وہ حقوق نہیں دیں گے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے ان کے لیے مقرر کیے ہیں تو ظاہر بات ہے کہ آزادئ نسواں ‘ حقوق نسواں اور مساوات مرد و زن جیسے خوش نما عنوانات سے جو دعوت اٹھی ہے وہ لازماً انہیں کھینچ کرلے جائے گی۔ لہٰذا اس طرف بھی دھیان رکھیے۔ ہمارے ہاں دین دار گھرانوں میں خاص طور پر عورتوں کے حقوق نظر انداز ہوتے ہیں۔ اس کو سمجھنا چاہیے کہ اسلام میں عورتوں کے کیا حقوق ہیں اور ان کی کس قدر دلجوئی کرنی چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِاَھْلِہٖ وَاَنَا خَیْرُکُمْ لِاَھْلِیْ 28 تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو اپنے گھر والوں کے لیے اچھے ہوں۔ اور جان لو کہ میں اپنے گھر والوں کے لیے تم سب سے اچھا ہوں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ عورتوں کے ساتھ حسن سلوک ہو ‘ ان کی دلجوئی ہو ‘ ان کے احساسات کا بھی پاس کیا جائے۔ البتہ جہاں دین اور شریعت کا معاملہ آجائے وہاں کسی لچک کی گنجائش نہ ہو ‘ وہاں آپ شمشیر برہنہ ہوجائیں اور صاف صاف کہہ دیں کہ یہ معاملہ دین کا ہے ‘ اس میں میں تمہاری کوئی رعایت نہیں کرسکتا ‘ ہاں اپنے معاملات کے اندر میں ضرور نرمی کروں گا۔ اس ساری بحث کو ذہن میں رکھیے۔ ہمارے جدید دانشور اس آیت کے درمیانی الفاظ کو تولے لیتے ہیں : وَلَہُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْہِنَّ بالْمَعْرُوْفِص اور اس سے مساوات مرد و زن کا مفہوم نکالنے کی کوشش کرتے ہیں ‘ لیکن ان سے پہلے والے الفاظ اور وَبُعُوْلَتُہُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّہِنَّ اور بعدوالے الفاظ وَلِلرِّجَالِ عَلَیْہِنَّ دَرَجَۃٌ سے صرف نظر کرلیتے ہیں۔ یہ طرز عمل بالکل غلط ہے۔ ایک مرد اور ایک عورت سے جو خاندانی ادارہ وجود میں آتا ہے ‘ اسلام اس کا سربراہ مرد کو ٹھہراتا ہے۔ یہ فلسفہ زیادہ وضاحت سے سورة النساء میں بیان ہوگا جہاں الفاظ آئے ہیں : اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَی النِّسَآءِ۔۔ آیت 34۔ یہاں اس کی تمہید آگئی ہے تاکہ یہ کڑوی گولی خواتین کے حلق سے ذرا نیچے اترنی شروع ہوجائے۔ اس آیت کا ترجمہ ایک بار پھر دیکھ لیجیے : اور ان کے شوہر اس کے زیادہ حق دار ہیں کہ انہیں لوٹا لیں اس عدت کے دوران میں اگر وہ واقعۃً اصلاح چاہتے ہوں۔ اور عورتوں کے لیے اسی طرح حقوق ہیں جس طرح ان پر ذمہ داریاں ہیں دستور کے مطابق۔ اور مردوں کے لیے ان پر ایک درجہ فوقیت کا ہے۔ اور اللہ زبردست ہے ‘ حکیم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو ذمہ داریاں عورت کے حوالے کی ہیں ‘ جس طرح کے اس پر فرائض عاید کیے ہیں ویسے ہی اس کو حقوق بھی عطا کیے ہیں۔ یہ دنیا کا مسلّمہ اصول ہے کہ حقوق و فرائض باہم ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ اگر آپ کی ذمہ داری زیادہ ہے تو حقوق اور اختیارات بھی زیادہ ہوں گے۔ اگر آپ پر ذمہّ داری بہت زیادہ ڈال دی جائے لیکن حقوق اور اختیارات اس کی مناسبت سے نہ ہوں تو آپ اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرسکتے۔ جہاں ذمہ داری کم ہوگی وہاں حقوق اور اختیارات بھی کم ہوں گے۔ یہ دونوں چیزیں متناسب proportionate چلتی ہیں۔
Ayah 2:229

اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ١۪ فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍ١ؕ وَ لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ شَیْئًا اِلَّاۤ اَنْ یَّخَافَاۤ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِهٖ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَعْتَدُوْهَا١ۚ وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 2:229 in the Quran reader

طلاق دو مرتبہ ہے پھر یا تو معروف طریقے سے روک لینا ہے یا پھر خوبصورتی کے ساتھ رخصت کردینا ہے اور تمہارے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ جو کچھ تم نے انہیں دیا تھا اس میں سے کچھ بھی واپس لو سوائے اس کے کہ دونوں کو اندیشہ ہو کہ وہ حدود اللہ کو قائم نہیں رکھ سکیں گے پس اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ وہ دونوں حدود الٰہی پر قائم نہیں رہ سکتے تو ان دونوں پر اس معاملے میں کوئی گناہ نہیں ہے جو عورت فدیہ میں دے یہ اللہ کی حدود ہیں پس ان سے تجاوز مت کرو اور جو لوگ اللہ کی حدود سے تجاوز کرتے ہیں وہی ظالم ہیں

اب ہم اگلی آیات کا مطالعہ کرتے ہیں : آیت 229 اَلطَّلاَقُ مَرَّتٰنِ ص ۔ یعنی ایک شوہر کو دو مرتبہ طلاق دے کر رجوع کرلینے کا حق ہے۔ ایک دفعہ طلاق دی اور عدت کے اندر اندر رجوع کرلیا تو ٹھیک ہے۔ پھر طلاق دے دی اور عدت کے اندر اندر رجوع کرلیا تو بھی ٹھیک ہے۔ تیسری مرتبہ طلاق دے دی تو اب وہ رجوع نہیں کرسکتا۔ فَاِمْسَاکٌم بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌم بِاِحْسَانٍ ط۔ یعنی دو مرتبہ طلاق دینے کے بعد اب فیصلہ کرو۔ یا تو اپنی بیوی کو نیکی اور بھلائی کے ساتھ گھر میں روک لو ‘ تنگ کرنے اور پریشان کرنے کے لیے نہیں ‘ یا پھر بھلے طریقے سے ‘ بھلے مانسوں کی طرح اسے رخصت کر دو۔ وَلاَ یَحِلُّ لَکُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّآ اٰتَیْتُمُوْہُنَّ شَیْءًا جب تم طلاق دے رہے ہو تو تم نے انہیں جو مہر دیا تھا اس میں سے کچھ واپس نہیں لے سکتے۔ ہاں اگر عورت خود طلاق مانگے تو اسے اپنے مہر میں سے کچھ چھوڑنا پڑ سکتا ہے۔ لیکن جب مرد طلاق دے رہا ہو تو وہ اس میں سے کچھ بھی واپس نہیں لے سکتا جو وہ اپنی بیوی کو دے چکا ہے۔ سورة النساء آیت 20 میں یہاں تک الفاظ آئے ہیں کہ اگرچہ تم نے سونے کا ڈھیر قِنطَار دے دیا ہو پھر بھی اس میں سے کچھ واپس نہ لو۔ اِلَّآ اَنْ یَّخَافَآ اَلاَّ یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِ ط۔ مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ازدواجی زندگی کے ضمن میں جو اہداف و مقاصد معینّ فرمائے ہیں ‘ اس کے لیے جو احکام دیے ہیں اور جو آداب بتائے ہیں ‘ فریقین اگر یہ محسوس کریں کہ ہم انہیں ملحوظ نہیں رکھ سکتے تو یہ ایک استثنائی صورت ہے ‘ جس میں عورت کوئی مال یا رقم فدیہ کے طور پردے کر ایسے شوہر سے خلاصی حاصل کرسکتی ہے۔ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِ لا فلاَ جُنَاحَ عَلَیْہِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِہٖ ط۔ یعنی ایسی صورت میں عورت اگر فدیہ کے طور پر کچھ دے دلا کر اپنے آپ کو چھڑا لے تو اس میں فریقین پر کوئی گناہ نہیں۔ مثلاً کسی عورت کا مہر دس لاکھ تھا ‘ وہ اس میں سے پانچ لاکھ شوہر کو واپس دے کر اس سے خلع لے لے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ فَلاَ تَعْتَدُوْہَا ج۔ دیکھئے روزے وغیرہ کے ضمن میں حدود اللہ کے ساتھ فَلَا تَقْرَبُوْھَا فرمایا تھا۔ یہاں فرمایا : فَلاَ تَعْتَدُوْہَا ج اس لیے کہ ان معاملات میں لوگ بڑے دھڑلے ّ سے اللہ کی مقرر کردہ حدود کو پامال کر جاتے ہیں۔ اگرچہ قانون باقی رہ جاتا ہے مگر اس کی روح ختم ہوجاتی ہے۔
Ayah 2:230

فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗ١ؕ فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنْ ظَنَّاۤ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ یُبَیِّنُهَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 2:230 in the Quran reader

پھر اگر وہ (تیسری مرتبہ) اسے طلاق دے دے تو وہ عورت اس کے بعد اس کے لیے جائز نہیں ہے جب تک کہ وہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح نہ کرے پس اگر وہ اس کو طلاق دے دے تو اب کوئی گناہ نہیں ہوگا ان دونوں پر کہ وہ مراجعت کرلیں اگر ان کو یہ یقین ہو کہ وہ اللہ کی حدود کی پاسداری کرسکیں گے اور یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں جن کو وہ واضح کر رہا ہے ان لوگوں کے لیے جو علم حاصل کرنا چاہیں

آیت 230 فَاِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہٗ مِنْم بَعْدُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہٗ ط۔ تیسری طلاق دے چکنے کے بعد اگر کوئی شخص پھر اسی عورت سے نکاح کرنا چاہے تو جب تک وہ عورت کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرے اور وہ اسے طلاق نہ دے اس وقت تک یہ عورت اپنے پہلے شوہر کے لیے حلال نہیں ہوسکتی۔ اسے حلالہ کہا جاتا ہے۔ لیکن حلالہ کے نام سے ہمارے ہاں جو مکروہ دھندا مروّج ہے کہ ایک معاہدے کے تحت عورت کا نکاح کسی مرد سے کیا جاتا ہے کہ تم پھر اسے طلاق دے دینا ‘ اس پر رسول اللہ ﷺ نے لعنت فرمائی ہے۔ فَاِنْ طَلَّقَہَا یعنی وہ عورت دوسری جگہ پر شادی کرلے ‘ لیکن دوسرے شوہر سے بھی اس کی نہ بنے اور وہ بھی اس کو طلاق دے دے۔ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْہِمَآ اَنْ یَّتَرَاجَعَآ اب وہ عورت اپنے سابقہ شوہر سے نکاح کرسکتی ہے۔ دوسرے شوہر سے نکاح کے بعد عورت کو شاید عقل آجائے کہ زیادتی میری ہی تھی کہ پہلے شوہر کے ہاں بس نہیں سکی۔ اب دوسری مرتبہ تجربہ ہونے پر ممکن ہے اسے اپنی غلطی کا احساس ہوجائے۔ اب اگر وہ دوبارہ اپنے سابقہ شوہر کی طرف رجوع کرنا چاہے تو اس کی اجازت ہے کہ وہ پھر سے نکاح کرلیں۔ اِنْ ظَنَّآ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِ ط۔ ازدواجی زندگی میں اللہ تعالیٰ نے جو حدود مقرر کی ہیں اور جو احکام دیے ہیں ان کو بہرحالّ مدنظر رکھنا ہے اور تمام معاملات پر فائق رکھنا ہے۔ وَتِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ یُبَیِّنُہَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ یَعْلَمُوْنَکا ترجمہ ہے جو جانتے ہیں یعنی جنہیں علم حاصل ہے ‘ لیکن یہاں اس کا مفہوم ہے جو علم کے طالب ہیں۔ بعض اوقات فعل کو طلب فعل کے معانی میں استعمال کیا جاتا ہے
Ayah 2:231

وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ١۪ وَّ لَا تُمْسِكُوْهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْا١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ١ؕ وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا١٘ وَّ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مَاۤ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ وَ الْحِكْمَةِ یَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:231 in the Quran reader

اور جب تم لوگ اپنی بیویوں کو طلاق دو اور پھر وہ اپنی عدتّ پوری کرلیں اور تم انہیں مت روکو نقصان پہنچانے کے ارادے سے کہ تم حدود سے تجاوز کرو اور جو کوئی بھی یہ کام کرے گا وہ اپنی ہی جان پر ظلم ڈھائے گا اور اللہ کی آیات کو مذاق نہ بنا لو اور یاد کرو اللہ کے جو انعامات تم پر ہوئے ہیں اور جو اس نے نازل فرمائی تم پر اپنی کتاب اور حکمت وہ اس کے ذریعے سے تمہیں نصیحت کر رہا ہے اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ کو ہرچیز کا حقیقی علم حاصل ہے

آیت 231 وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ فَاَمْسِکُوْہُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْہُنَّ بِمَعْرُوْفٍص تو یا تو معروف طریقے سے انہیں روک لو یا اچھے انداز سے انہیں رخصت کر دو۔ وَلاَ تُمْسِکُوْہُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْا ج۔ دیکھو ایسا مت کرو کہ تم انہیں تنگ کرنے کے لیے روک لو کہ میں اس کی ذرا اور خبر لے لوں ‘ اگر طلاق ہوجائے گی تو یہ آزاد ہوجائے گی۔ غصہ اتنا چڑھا ہوا ہے کہ ابھی بھی ٹھنڈا نہیں ہو رہا اور وہ اس لیے رجوع کر رہا ہے تاکہ عورت کو مزید پریشان کرے ‘ اسے اور تکلیفیں پہنچائے۔ اس طرح تو اس نے قانون کا مذاق اڑایا اور اللہ کی دی ہوئی اس اجازت کا ناجائز استعمال کیا۔ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہٗ ط وَلاَ تَتَّخِذُوْْٓا اٰیٰتِ اللّٰہِ ہُزُوًاز۔ ضروری ہے کہ احکام شریعت پر ان کی روح کے مطابق عمل کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن حکیم میں خاص طور پر ازدواجی زندگی کے ضمن میں بار بار اللہ کے خوف اور تقویٰ کی تاکید کی گئی ہے۔ اگر تمہارے دل اس سے خالی ہوں گے تو تم اللہ کی شریعت کو کھیل تماشا بنا دو گے ‘ ٹھٹھا اور مذاق بنا دو گے۔ وَاذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَمَآ اَنْزَلَ عَلَیْکُمْ مِّنَ الْکِتٰبِ وَالْحِکْمَۃِ یَعِظُکُمْ بِہٖ ط۔ اللہ تعالیٰ کی ایسی عظیم نعمتیں پانے کے بعد بھی اگر تم نے اس کی حدود کو توڑا اور اس کی شریعت کو مذاق بنایا تو پھر تمہیں اس کی گرفت سے ڈرنا چاہیے۔
Ayah 2:232

وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ یَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ ذٰلِكَ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكُمْ اَزْكٰى لَكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:232 in the Quran reader

اور جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دے دو پھر وہ اپنی عدت پوری کرلیں تو مت آڑے آؤ اس میں کہ وہ عورتیں پھر نکاح کرلیں اپنے سابق ازواج سے جبکہ وہ آپس میں رضامند ہوجائیں بھلے طریقے پر یہ وہ چیز ہے جس کی نصیحت کی جا رہی ہے تم میں سے اس کو جو واقعتا ایمان رکھتا ہو اللہ پر اور یوم آخرت پر یہی طریقہ تمہارے لیے زیادہ پاک اور زیادہ عمدہ ہے اور اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے

آیت 232 وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ فَلاَ تَعْضُلُوْہُنَّ اَنْ یَّنْکِحْنَ اَزْوَاجَہُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَہُمْ بالْمَعْرُوْفِ ط جو عورت طلاق پا کر اپنی عدت پوری کرچکی ہو وہ آزاد ہے کہ جہاں چاہے اپنی پسند سے نکاح کرلے۔ اس کے اس ارادے میں طلاق دینے والے شوہر یا اس کے خاندان والوں کو کوئی رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔ اسی طرح اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاق دی اور عدت کے دوران رجوع نہیں کیا تو اب عدت کے بعد عورت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ چاہے تو اسی شوہر سے نکاح ثانی کرسکتی ہے۔ آیت 228 کے ذیل میں یہ بات وضاحت کے ساتھ بیان ہوچکی ہے کہ ایک یا دو طلاق کی صورت میں شوہر کو عدت کے دوران رجوع کا حق حاصل ہے۔ لیکن اگر عدت پوری ہوگئی تو اب یہ طلاق رجعی نہیں رہی ‘ طلاق بائن ہوگئی۔ اب شوہر اور بیوی کا جو رشتہ تھا وہ ٹوٹ گیا۔ اب اگر یہ رشتہ پھر سے جوڑنا ہے تو دوبارہ نکاح کرنا ہوگا اور اس میں عورت کی مرضی کو دخل ہے۔ عدت کے اندر اندر رجوع کی صورت میں عورت کی مرضی کو دخل نہیں ہے۔ لیکن عدت کے بعد اب عورت کو اختیار ہے ‘ وہ چاہے تو اسی سابق شوہر سے نکاح ثانی کرلے اور چاہے تو اپنی مرضی سے کسی اور شخص سے نکاح کرلے۔ البتہ طلاق مغلظّ تیسری طلاق کے بعد جب تک اس عورت کا نکاح کسی اور مرد سے نہ ہوجائے اور وہ بھی اسے طلاق نہ دے دے ‘ سابق شوہر کے ساتھ اس کا نکاح نہیں ہوسکتا۔ اس آیت میں یہ ہدایت دی جا رہی ہے کہ طلاق بائن کے بعد اگر وہی عورت اور وہی مرد پھر سے نکاح کرنا چاہیں تو اب کسی کو اس میں آڑے نہیں آنا چاہیے۔ عام طور پر عورت کے قریبی رشتے دار اس میں رکاوٹ بنتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس شخص نے پہلے بھی تمہیں ستایا تھا ‘ اب تم پھر اسی سے نکاح کرنا چاہتی ہو ‘ ہم تمہیں ایسا نہیں کرنے دیں گے۔ ذٰلِکَ یُوْعَظُ بِہٖ مَنْ کَانَ مِنْکُمْ یُؤْمِنُ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ط جن کے اندر ایمان ہی نہیں ہے ان کے لیے تو یہ ساری نصیحت گویا بھینس کے آگے بین بجانا ہے جس سے انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ ذٰلِکُمْ اَزْکٰی لَکُمْ وَاَطْہَرُ ط وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ لہٰذا تم اپنی عقل کو مقدم نہ رکھو ‘ بلکہ اللہ کے احکام کو مقدم رکھو۔ مرد اور عورت دونوں کا خالق وہی ہے ‘ اسے مرد بھی عزیز ہے اور عورت بھی عزیز ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اَلْخَلْقُ عَیَال اللّٰہِ 29 یعنی تمام مخلوق اللہ کے کنبے کی مانند ہے۔ لہٰذا اللہ کو تو ہر انسان محبوب ہے ‘ خواہ مرد ہو یا عورت ہو۔ انسان اس کی تخلیق کا شاہکار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کا علم بھی کامل ہے ‘ وہ جانتا ہے کہ عورت کے کیا حقوق ہونے چاہئیں اور مرد کے کیا ہونے چاہئیں۔
Ayah 2:233

وَ الْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَیْنِ كَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ١ؕ وَ عَلَى الْمَوْلُوْدِ لَهٗ رِزْقُهُنَّ وَ كِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ لَا تُضَآرَّ وَالِدَةٌۢ بِوَلَدِهَا وَ لَا مَوْلُوْدٌ لَّهٗ بِوَلَدِهٖ١ۗ وَ عَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِكَ١ۚ فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْهُمَا وَ تَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا١ؕ وَ اِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْۤا اَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّاۤ اٰتَیْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:233 in the Quran reader

اور مائیں اپنی اولاد کو دودھ پلائیں پورے دو سال اس شخص کے لیے جو مدت رضاعت پوری کرانا چاہتا ہو اور بچے والے کے ذمے ّ ہے بچوں کی ماؤں کا کھانا اور کپڑا دستور کے مطابق کسی پر ذمہّ داری نہیں ڈالی جاتی مگر اس کی وسعت کے مطابق نہ تو تکلیف پہنچائی جائے کسی والدہ کو اپنے بچے کی وجہ سے اور نہ اس کو جس کا وہ بچہ ہے (یعنی باپ) اس کے بچے کی وجہ سے اور وارث پر بھی اسی طرح کیّ ذمہ داری ہے پھر اگر ماں باپ چاہیں کہ دودھ چھڑا لیں (دو برس کے اندر ہی) باہمی رضامندی اور صلاح سے تو ان دونوں پر کچھ گناہ نہیں اور اگر تم اپنے بچوں کو کسی اور سے دودھ پلواناچاہو تو بھی تم پر کچھ گناہ نہیں جب کہ تم (بچے کی ماں کو) وہ سب کچھ دے دو جس کا کہ تم نے دینا ٹھہرایا تھا دستور کے موافق اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور جان رکھو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے

آیت 233 وَالْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلاَدَہُنَّ حَوْلَیْنِ کَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَۃَ ط اگر طلاق دینے والا شوہر یہ چاہتا ہے کہ مطلقہّ عورت اس کے بچے کو دودھ پلائے اور رضاعت کی مدت پوری کرے تو دو سال تک وہ عورت اس ذمہّ داری سے انکار نہیں کرسکتی۔ وَعَلَی الْمَوْلُوْدِ لَہٗ رِزْقُہُنَّ وَکِسْوَتُہُنَّ بالْمَعْرُوْفِ ط اس مدت میں بچے کے باپ پر مطلقہّ کے کھانے اور کپڑے کی ذمہ داری ہے ‘ جسے ہم نان نفقہ کہتے ہیں ‘ اس لیے کہ قانوناً اولاد شوہر کی ہے۔ اس سلسلے میں دستور کا لحاظ رکھنا ہوگا۔ یعنی مرد کی حیثیت اور عورت کی ضروریات کو پیش نظر رکھنا ہوگا۔ ایسا نہ ہو کہ مرد کروڑ پتی ہو لیکن وہ مطلقہ بیوی کو اپنی خادماؤں کی طرح کا نان نفقہ دینا چاہے۔ لَا تُکَلَّفُ نَفْسٌ الاَّ وُسْعَہَا ج لاَ تُضَآرَّ وَالِدَۃٌم بِوَلَدِہَا وَلاَ مَوْلُوْدٌ لَّہٗ بِوَلَدِہٖق یعنی دونوں کے ساتھ منصفانہ سلوک کیا جائے ‘ جیسا کہ حدیث نبوی ﷺ ہے : لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ 30 یعنی نہ تو نقصان پہنچانا ہے اور نہ ہی نقصان اٹھانا ہے۔ وَعَلَی الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِکَ ج اگر بچے کا باپ فوت ہوجائے تو بچے کو دودھ پلانے والی مطلقہ عورت کا نان نفقہ مرحوم کے وارثوں کے ذمے ّ رہے گا۔ فَاِنْ اَرَادَا فِصَالاً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْہُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْہِمَا ط وَاِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْٓا اَوْلاَدَکُمْ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ اگر بچے کا باپ یا اس کے ورثاء بچے کی والدہ کی جگہ کسی اور عورت سے بچے کو دودھ پلوانا چاہتے ہوں تو بھی کوئی حرج نہیں ‘ انہیں اس کی اجازت ہے ‘ بشرطیکہ۔۔ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّآ اٰتَیْتُمْ بالْمَعْرُوْفِ ط۔ یہ نہ ہو کہ نان نفقہ بچانے کے لیے اب تم مدت رضاعت کے درمیان بچے کی ماں کے بجائے کسی اور عورت سے اس لیے دودھ پلوانے لگو کہ اسے معاوضہ کم دینا پڑے گا۔ اگر تم کسی دایہ وغیرہ سے دودھ پلوانا چاہتے ہو تو پہلے بچے کی ماں کو بھلے طریقے پر وہ سب کچھ ادا کر دو جو تم نے طے کیا تھا۔
Ayah 2:234

وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ عَشْرًا١ۚ فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 2:234 in the Quran reader

اور جو تم میں سے وفات پاجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ عورتیں روکے رکھیں اپنے آپ کو چار ماہ دس دن تک پس جب وہ اپنی اس مدتّ تک پہنچ جائیں (یعنی عدتّ گزار لیں) تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہے اس معاملے میں جو کچھ وہ اپنے بارے میں دستور کے مطابق کریں اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے باخب رہے

آیت 234 وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ اَرْبَعَۃَ اَشْہُرٍ وَّعَشْرًاج قبل ازیں آیت 228 میں مطلقہ عورت کی عدت تین حیض بیان ہوئی ہے۔ یہاں بیوہ عورتوں کی ‘ عدت بیان کی جا رہی ہے کہ وہ شوہر کی وفات کے چار ماہ دس دن بعد تک اپنے آپ کو شادی سے روکے رکھیں۔ فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْ اَنْفُسِہِنَّ بالْمَعْرُوْفِ ط عدت گزار چکنے کے بعد وہ آزاد ہیں ‘ جہاں مناسب سمجھیں نکاح کرسکتی ہیں۔ اب تم انہیں روکنا چاہو کہ ہماری ناک کٹ جائے گی ‘ یہ بیوہ ہو کر صبر سے بیٹھ نہیں سکی ‘ اس سے رہا نہیں گیا ‘ اس طرح کی باتیں بالکل غلط ہیں ‘ اب تمہارا کوئی اختیار نہیں کہ تم انہیں روکو۔
Ayah 2:235

وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا عَرَّضْتُمْ بِهٖ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَآءِ اَوْ اَكْنَنْتُمْ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ سَتَذْكُرُوْنَهُنَّ وَ لٰكِنْ لَّا تُوَاعِدُوْهُنَّ سِرًّا اِلَّاۤ اَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلًا مَّعْرُوْفًا١ؕ۬ وَ لَا تَعْزِمُوْا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتّٰى یَبْلُغَ الْكِتٰبُ اَجَلَهٗ١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوْهُ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:235 in the Quran reader

اور تم پر کچھ گناہ نہیں ہے اس میں کہ کنایہ و اشارہ میں ظاہر کر دو ان عورتوں سے پیغام نکاح یا پوشیدہ رکھو اپنے دلوں میں اللہ کو معلوم ہے کہ تم ان عورتوں کا ذکر کرو گے لیکن ان سے نکاح کا وعدہ نہ کر رکھو چھپ کر سوائے اس کے کہ کوئی بات کہہ دو معروف طریقے سے اور مت باندھو گرہ نکاح کی جب تک کہ قانون شریعت اپنی مدت کو نہ پہنچ جائے اور جان رکھو کہ اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے پس اس سے ڈرتے رہو اور یہ بھی جان رکھو کہ اللہ بخشنے والا اور بردبار ہے

آیت 235 وَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا عَرَّضْتُمْ بِہٖ مِنْ خِطْبَۃِ النِّسَآءِ اَوْ اَکْنَنْتُمْ فِیْ اَنْفُسِکُمْ ط کسی عورت کا عدت کے دوران نکاح تو نہیں ہوسکتا ‘ نہ ہی اسے واضح طور پر پیغام نکاح دیا جاسکتا ہے ‘ البتہ اشارے کنائے میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ مجھے اس میں دلچسپی ہے۔ یا پھر یہ بات اپنے دل ہی میں پوشیدہ رکھی جائے اور عدت ختم ہونے کا انتظار کیا جائے۔ عَلِمَ اللّٰہُ اَنَّکُمْ سَتَذْکُرُوْنَہُنَّ آخر تمہیں ان کا خیال تو آئے گا کہ یہ عورت بیوہ ہوگئی ہے ‘ اب میں اس سے شادی کرسکتا ہوں۔ کوئی آدمی یہ بھی سوچ سکتا ہے کہ یہ جو میرے دل میں بیوہ کے بارے میں خیال آ رہا ہے اور اس سے نکاح کی رغبت پیدا ہو رہی ہے تو شاید میں گناہگار ہوگیا ہوں۔ یہاں اطمینان دلایا جا رہا ہے کہ ایسے خیال کا آنا گناہ نہیں ہے ‘ یہ قانون فطرت ہے۔ وَلٰکِنْ لاَّ تُوَاعِدُوْہُنَّ سِرًّا ایسا نہ ہو کہ خفیہ ہی خفیہ نکاح کی بات پکیّ ہوجائے۔ اِلَّا اَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلاً مَّعْرُوْفًا ط۔ بس کوئی ایسی معروف بات کہہ سکتے ہو جس سے انہیں اشارہ مل جائے۔ وَلاَ تَعْزِمُوْا عُقْدَۃَ النِّکَاحِ حَتّٰی یَبْلُغَ الْکِتٰبُ اَجَلَہٗ ط۔ یعنی اللہ کی مقرر کردہ عدت جب تک پوری نہ ہوجائے۔ یہاں کتاب سے مراد قانون شریعت ہے۔ کتاب اللہ میں بیوہ کی عدت چار ماہ دس دن مقرر کردی گئی ‘ اس کا پورا ہونا ضروری ہے ‘ اس سے پہلے نکاح نہیں ہوسکتا۔ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا فِیْ اَنْفُسِکُمْ فَاحْذَرُوْہُ ج ۔ اس کی پکڑ سے بچنے کی کوشش کرو۔ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ ۔ اللہ غفور ہے ‘ بخشنے والا ہے ‘ کوئی خطا ہوگئی ہے تو استغفار کرو ‘ تو بہ کرو ‘ اللہ معاف فرمائے گا۔ اور وہ حلیم ہے ‘ تحمل کرنے والا ہے ‘ فوراً نہیں پکڑتا ‘ بلکہ ڈھیل دیتا ہے ‘ مہلت دیتا ہے کہ اگر چاہو تو تم توبہ کرلو۔
Ayah 2:236

لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ مَا لَمْ تَمَسُّوْهُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَهُنَّ فَرِیْضَةً١ۖۚ وَّ مَتِّعُوْهُنَّ١ۚ عَلَى الْمُوْسِعِ قَدَرُهٗ وَ عَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهٗ١ۚ مَتَاعًۢا بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:236 in the Quran reader

تم پر کوئی گناہ نہیں ہے اگر تم ایسی بیویوں کو طلاق دے دو جن کو نہ تو تم نے ابھی چھوا ہو اور نہ ان کے لیے مہر مقرر کیا ہو اور ان کو کچھ خرچ دو صاحب وسعت پر اپنی حیثیت کے مطابق ضروری ہے اور تنگ دست پر اپنی حیثیت کے مطابق جو خرچ کہ قاعدہ کے موافق ہے یہ حق ہے محسنین پر

آیت 236 لاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ مَا لَمْ تَمَسُّوْہُنُّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَہُنَّ فَرِیْضَۃً ج۔ اگر کوئی شخص اپنی منکوحہ کو اس حال میں طلاق دینا چاہے کہ نہ تو اس کے ساتھ خلوت صحیحہ کی نوبت آئی ہو اور نہ ہی اس کے لیے مہر مقرر کیا گیا ہو تو وہ دے سکتا ہے۔ وَّمَتِّعُوْہُنَّ ج۔ اس صورت میں اگرچہ مہر کی ادائیگی لازم نہیں ہے ‘ لیکن مرد کو چاہیے کہ وہ اسے کچھ نہ کچھ مال و متاع دنیوی کپڑے وغیرہ دے دلا کر فارغ کرے۔ عَلَی الْمُوْسِعِ قَدَرُہٗ وَعَلَی الْمُقْتِرِ قَدَرُہٗ ج۔ جو وسعت والا ہے ‘ غنی ہے ‘ جس کو کشائش حاصل ہے وہ اپنی حیثیت کے مطابق ادا کرے اور جو تنگ دست ہے وہ اپنی حیثیت کے مطابق۔ مَتَاعًام بالْمَعْرُوْفِ ج۔ یہ ساز و سامان دنیا جو ہے یہ بھی بھلے انداز میں دیا جائے ‘ ایسا نہ ہو کہ جیسے خیرات دی جارہی ہو۔ حَقًّا عَلَی الْمُحْسِنِیْنَ ۔ نیکی کرنے والے ‘ بھلے لوگ یہ سمجھ لیں کہ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ ایک ذمہ داریّ ہے۔
Ayah 2:237

وَ اِنْ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ وَ قَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِیْضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ اِلَّاۤ اَنْ یَّعْفُوْنَ اَوْ یَعْفُوَا الَّذِیْ بِیَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِ١ؕ وَ اَنْ تَعْفُوْۤا اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى١ؕ وَ لَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:237 in the Quran reader

اور اگر تم عورتوں کو طلاق دو ان کو ہاتھ لگانے سے پہلے اور تم ٹھہرا چکے تھے ان کے لیے ایک متعینّ مہر تو جو مہر تم نے طے کیا تھا اب اس کا آدھا ادا کرنا لازم ہے الایہ کہ وہ معاف کردیں یا وہ شخص درگزر سے کام لے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے اور یہ کہ تم مرد درگزر کرو تو یہ تقویٰ سے قریب تر ہے اور اپنے مابین احسان کرنا مت بھلا دو یقیناً جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے

آیت 237 وَاِنْ طَلَّقْتُمُوْہُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْہُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَہُنَّ فَرِیْضَۃً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ اس صورت میں مقرر شدہ مہر کا آدھا تو تمہیں دینا ہی دینا ہے۔ اِلَّآ اَنْ یَّعْفُوْنَ یعنی کوئی عورت خود کہے کہ مجھے آدھا بھی نہیں چاہیے یا کوئی کہے کہ مجھے چوتھائی دے دیجیے۔ اَوْ یَعْفُوَا الَّذِیْ بِیَدِہٖ عُقْدَۃُ النِّکَاحِ ط۔ اور یہ گرہ مرد کے ہاتھ میں ہے ‘ وہ اسے کھول سکتا ہے۔ عورت از خود طلاق دے نہیں سکتی۔ لہٰذا مردوں کے لیے ترغیب ہے کہ وہ اس معاملے میں فراخ دلی سے کام لیں۔ وَاَنْ تَعْفُوْآ اَقْرَبُ للتَّقْوٰی ط وَلاَ تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَکُمْ ط اس کا ترجمہ یوں بھی کیا گیا ہے : اور تمہارے درمیان ایک کو دوسرے پر جو فضیلت ہے اس کو مت بھولو۔ یعنی اللہ نے جو فضیلت تم مردوں کو عورتوں پر دی ہے اس کو مت بھولو۔ چناچہ تمہارا طرز عمل بھی ایسا ہونا چاہیے کہ تم اپنے بڑے ہونے کے حساب سے ان کے ساتھ نرمی کرو اور ان کو زیادہ دو۔ تم نے ان کا جتنا بھی مہر مقرر کیا تھا وہ نصف کے بجائے پورا دے دو اور انہیں معروف طریقے سے عزت و تکریم کے ساتھ رخصت کرو۔
Ayah 2:238

حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى١ۗ وَ قُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِیْنَ Open ayah 2:238 in the Quran reader

محافظت کرو تمام نمازوں کی اور خاص طور پر بیچ والی نماز کی اور کھڑے ہوا کرو اللہ کے سامنے پورے ادب کے ساتھ

آیت 238 حٰفِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی ق یہ جو بار بار آ رہا ہے کہ جان لو اللہ ہر شے کا جاننے والا ہے ‘ جان رکھو کہ اللہ تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے ‘ جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ کی نگاہ میں ہے ‘ جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے باخبر ہے ‘ تو اس سب کو قلب و ذہن میں مستحضر رکھنے کے لیے تمہیں پنج وقتہ نماز دی گئی ہے کہ اس کی نگہداشت کرو۔ دنیا کے کاروبار سے نکلو اور اللہ کے حضور حاضر ہو کر اس سے کیا ہوا عہد تازہ کرو۔ حفیظ کا ایک شعر ہے : ؂ سرکشی نے کردیے دھندلے نقوش بندگی آؤ سجدے میں گریں لوح جبیں تازہ کریں ! صلوٰۃ وسطیٰ بیچ والی نماز کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں ‘ لیکن عام طور پر اس سے مراد عصر کی نماز لی جاتی ہے۔ اس لیے کہ دن میں دو نمازیں فجر اور ظہر اس سے پہلے ہیں اور دو ہی نمازیں مغرب اور عشاء اس کے بعد میں ہیں۔ وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قٰنِتِیْنَ ۔ قیام ‘ رکوع اور سجدہ فرائضِ نماز میں سے ہیں۔ رکوع میں بندہ اپنے رب کے حضور عاجزی سے جھک جاتا ہے ‘ سجدہ اس جھکنے کی انتہا ہے۔ مطلوب یہ ہے کہ قیام بھی قنوت ‘ عاجزی اور انکساری کے ساتھ ہو ‘ معلوم ہو کہ ایک بندہ اپنے آقا کے سامنے باادب کھڑا ہے۔
Ayah 2:239

فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُكْبَانًا١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:239 in the Quran reader

پھر اگر تم خطرے کی حالت میں ہو تو چاہے پیادہ پڑھ لو یا سوار پھر جب تم امن میں ہوجاؤ پھر اللہ کو یاد کرو جیسے کہ تمہیں اس نے سکھایا ہے جس کو تم نہیں جانتے تھے

آیت 239 فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالاً اَوْ رُکْبَانًا ج۔ دشمن اگر پیچھا کر رہا ہے اور آپ رک کر تمام شرائط و آداب کے ساتھ نماز پڑھنا شروع کردیں گے تو وہ آپ کے سر پر پہنچ جائے گا۔ یا آپ نے کہیں جا کر فوری طور پر حملہ کرنا ہے اور آپ نماز کے لیے رک جائیں گے تو مطلوبہ ہدف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ چناچہ دشمن سے خطرے کی حالت میں پیدل یا سوار جس حال میں بھی ہوں نماز پڑھی جاسکتی ہے۔ فَاِذَآ اَمِنْتُمْ خطرہ دور ہوجائے اور امن کی حالت ہو۔ فَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَمَا عَلَّمَکُمْ مَّا لَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ اُمت کو نماز کا طریقہ محمد رسول اللہ ﷺ نے سکھایا ہے اور حکم دیا ہے : صَلُّوْا کَمَا رَاَیْتُمُوْنِیْ اُصَلِّیْ 31 نماز پڑھو جیسے کہ تم مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔ نماز کا یہ طریقہ اللہ تعالیٰ کا سکھایا ہوا ہے۔ روایات سے ثابت ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آکرٌ محمد رسول اللہ ﷺ کو دو دن نماز پڑھائی ہے۔ ایک دن پانچوں نمازیں اوّل وقت میں اور دوسرے دن پانچوں نمازیں آخری وقت میں پڑھائیں اور بتادیا کہ ان نمازوں کا وقت ان اوقات کے درمیان ہے۔ چناچہ نماز کے معاملے میں آنحضور ﷺ کے معلم حضرت جبرئیل علیہ السلام ہیں اور آپ ﷺ پوری امت کے لیے معلم ہیں۔ اب بیوہ عورتوں کے بارے میں مزید ہدایات آرہی ہیں۔