15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsتفسیر بیان القرآن

Ayah 15:41

قَالَ هٰذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیْمٌ Open ayah 15:41 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا کہ یہ ایک سیدھا راستہ ہے جو مجھ تک پہنچانے والا ہے

آیت 41 قَالَ ھٰذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسْتَــقِيْمٌ یعنی میرے اور تمہارے درمیان یہ معاملہ طے ہوگیا تمہیں مہلت دے دی گئی۔ مجھ تک پہنچنے کا راستہ بالکل واضح ہے۔ تم اولاد آدم کو اس راستے سے بہکانے کے لیے اپنا زور آزما لو۔
Ayah 15:42

اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِیْنَ Open ayah 15:42 in the Quran reader

یقینا میرے بندوں پر تجھے کچھ اختیار نہیں ہوگا سوائے ان کے جو خود تیری پیروی کریں گمراہوں میں سے

آیت 42 اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ یعنی صرف ”مُخلَصین“ ہی کی تخصیص نہیں ہے بلکہ کسی انسان پر بھی تجھے اختیار نہیں ہوگا۔ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ جو لوگ ”غاوین“ میں سے ہوں گے ‘ خود ان کے اندر سرکشی ہوگی ‘ وہ خود اپنی نفس پرستی کی طرف مائل ہو کر تیری پیروی کریں گے ‘ ان کو لے جا کر تو گمراہی کے جس گڑھے میں چاہے پھینک دے اور جہنم کی جس وادی میں چاہے ان کو گرا دے ‘ مجھے ان سے کوئی دلچسپی نہیں۔ لیکن میرے کسی فرمانبردار بندے پر تجھے کوئی اختیار حاصل نہیں ہوگا۔
Ayah 15:43

وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ اَجْمَعِیْنَ۫ۙ Open ayah 15:43 in the Quran reader

اور یقیناً جہنم ہی ان سب کا موعود ٹھکانہ ہے

آیت 43 وَاِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ اَجْمَعِيْنَ جو لوگ بھی تیری پیروی کریں گے ان سب کے لیے جہنم کا وعدہ ہے۔
Ayahs 15:44–45

لَهَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍ١ؕ لِكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌ۠ Open ayah 15:44 in the Quran reader

اس (جہنم) کے سات دروازے ہیں ان میں سے ہر دروازے کا ایک حصہ ہے مقرر شدہ

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍؕ Open ayah 15:45 in the Quran reader

(اس کے برعکس) یقیناً متقی لوگ ہوں گے باغات اور چشموں میں

آیت 44 لَهَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍ ۭ لِكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌ جہنم کے ہر دروازے میں سے داخل ہونے والے جنوں اور انسانوں کو مخصوص کردیا گیا ہے۔ ممکن ہے دروازوں کی یہ تقسیم و تخصیص گناہوں کی نوعیت کے اعتبار سے ہو۔ واللہ اعلم ! اہل جہنم کے ذکر کے بعد اب اہل جنت کا ذکر ہونے جا رہا ہے۔ موازنے اور فوری تقابل simultaneous contrast کا یہ انداز و اسلوب قرآن میں ہمیں جگہ جگہ ملتا ہے۔
Ayah 15:46

اُدْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِیْنَ Open ayah 15:46 in the Quran reader

(ان سے کہا جائے گا کہ) تم داخل ہوجاؤ ان (باغات) میں سلامتی کے ساتھ بےخوف و خطر

اُدْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِيْنَ یہاں تم ہر طرح سے امن میں رہو گے تمہیں کسی قسم کا کوئی اندیشہ نہیں ہوگا۔
Ayah 15:47

وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 15:47 in the Quran reader

اور ہم نکال دیں گے ان کے سینوں میں سے جو کچھ بھی کدورت ہوگی بھائی بھائی (بن کر وہ بیٹھے ہوں گے) تختوں پر آمنے سامنے

آیت 47 وَنَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ یہ مضمون بالکل انہی الفاظ میں سورة الاعراف آیت 43 میں بھی آچکا ہے۔ اہل ایمان کی آپس کی رنجشیں کدورتیں اور شکایتیں ختم کر کے ان کے دلوں کو ہر قسم کے تکدر سے پاک کردیا جائے گا۔ اِخْوَانًا عَلٰي سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيْنَ جب کسی سے ناراضگی ہو تو آدمی آنکھیں چار نہیں کرتا لیکن اہل جنت کے دل چونکہ ایک دوسرے کی طرف سے بالکل صاف ہوں گے ‘ اس لیے وہ آمنے سامنے بیٹھ کر ایک دوسرے سے باتیں کر رہے ہوں گے۔
Ayahs 15:48–49

لَا یَمَسُّهُمْ فِیْهَا نَصَبٌ وَّ مَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِیْنَ Open ayah 15:48 in the Quran reader

نہیں پہنچے گی انہیں اس میں کوئی تھکان اور نہ ہی وہ اس میں سے نکالے جائیں گے

نَبِّئْ عِبَادِیْۤ اَنِّیْۤ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 15:49 in the Quran reader

(اے نبی !) میرے بندوں کو بتا دیجئے کہ میں یقیناً بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہوں

آیت 48 لَا يَمَسُّهُمْ فِيْهَا نَصَبٌ وَّمَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِيْنَ اہل جنت کو جنت میں داخل ہونے کے بعد وہاں سے نکالے جانے کا کھٹکا نہیں ہوگا اور نہ ہی اس میں انہیں کسی قسم کی کوئی تکلیف یا پریشانی ہوگی۔
Ayah 15:50

وَ اَنَّ عَذَابِیْ هُوَ الْعَذَابُ الْاَلِیْمُ Open ayah 15:50 in the Quran reader

اور یہ کہ میرا عذاب بھی بہت دردناک عذاب ہے

آیت 50 وَاَنَّ عَذَابِيْ هُوَ الْعَذَابُ الْاَلِيْمُ یقینا میں غفور اور رحیم ہوں مگر دوسری طرف میرا عذاب بھی بہت سخت ہوتا ہے۔ لہٰذا کوئی شخص نڈر اور نچنت بھی نہ ہوجائے ‘ بلکہ میرے بندوں کو ہر وقت ”بین الخوف و الرجا“ کی کیفیت میں رہنا چاہیے۔ وہ میری رحمت اور مغفرت کی امید بھی رکھیں اور میرے عذاب سے ڈرتے بھی رہیں۔
Ayah 15:51

وَ نَبِّئْهُمْ عَنْ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 15:51 in the Quran reader

اور انہیں ذرا بتایئے ابراہیم کے مہمانوں کے بارے میں

آیت 51 وَنَبِّئْهُمْ عَنْ ضَيْفِ اِبْرٰهِيْمَ یہ واقعہ تھوڑے بہت فرق کے ساتھ ہم سورة ہود کے ساتویں رکوع میں بھی پڑھ چکے ہیں۔
Ayah 15:52

اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ اِنَّا مِنْكُمْ وَ جِلُوْنَ Open ayah 15:52 in the Quran reader

جب وہ داخل ہوئے آپ کے ہاں تو انہوں نے سلام کیا آپ نے کہا کہ ہمیں تو تم سے خوف آ رہا ہے

آیت 52 اِذْ دَخَلُوْا عَلَيْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا ۭ قَالَ اِنَّا مِنْكُمْ وَجِلُوْنَ آپ کے اجنبی ہونے کی وجہ سے ہمیں آپ سے خدشہ ہے۔ لہٰذا بہتر ہوگا اگر آپ لوگ اپنی شناخت کروادیں۔
Ayah 15:53

قَالُوْا لَا تَوْجَلْ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 15:53 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ ڈرئیے نہیں ہم آپ کو ایک صاحب علم بیٹے کی بشارت دیتے ہیں

آیت 53 قَالُوْا لَا تَوْجَلْ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ عَلِيْمٍ فرشتوں نے حضرت ابراہیم کو حضرت اسحاق کی ولادت کی خوشخبری دی۔ حضرت اسماعیل کی ولادت اس سے چند برس قبل ہوچکی تھی۔ واضح رہے کہ قرآن حکیم میں حضرت اسماعیل کے لیے ”غلام حلیم“ اور حضرت اسحاق کے لیے ”غلام علیم“ کے الفاظ آتے ہیں۔
Ayah 15:54

قَالَ اَبَشَّرْتُمُوْنِیْ عَلٰۤى اَنْ مَّسَّنِیَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُوْنَ Open ayah 15:54 in the Quran reader

آپ نے کہا کہ کیا تم مجھے خوشخبری دے رہے ہو باوجود اس کے کہ مجھ پر بڑھاپا طاری ہوچکا ہے تو تم مجھے یہ کیسی خوشخبری دے رہے ہو

آیت 54 قَالَ اَبَشَّرْتُمُوْنِيْ عَلٰٓي اَنْ مَّسَّنِيَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُوْنَ عَلٰی یہاں پر ”علی الرغم“ کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے کہ میرے بڑھاپے کے باوجود تم مجھے جو بیٹے کی خوشخبری دے رہے ہو تو کہیں تم لوگوں کو کوئی مغالطہ تو نہیں ہو رہا ؟
Ayah 15:55

قَالُوْا بَشَّرْنٰكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْقٰنِطِیْنَ Open ayah 15:55 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو حق کے ساتھ بشارت دے رہے ہیں تو آپ ناامید لوگوں میں سے نہ ہوں

آیت 55 قَالُوْا بَشَّرْنٰكَ بالْحَقِّ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْقٰنِطِيْنَ انہوں نے بتایا کہ ہم آپ کے رب کی طرف سے بھیجے گئے ہیں اور یہ جو بشارت ہم نے آپ کو دی ہے یہ حقیقی اور قطعی بات ہے ‘ بالکل ایسا ہی ہوگا۔
Ayah 15:56

قَالَ وَ مَنْ یَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّهٖۤ اِلَّا الضَّآلُّوْنَ Open ayah 15:56 in the Quran reader

آپ نے کہا کہ کون ہوگا جو اپنے رب کی رحمت سے مایوس ہو سوائے گمراہوں کے

آیت 56 قَالَ وَمَنْ يَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّهٖٓ اِلَّا الضَّاۗلُّوْنَ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور رحمت سے حضرت ابراہیم کو ستاسی 87 برس کی عمر میں بیٹا عطا کیا۔ اسی طرح کا معاملہ حضرت زکریا کے ساتھ بھی پیش آیا۔ حضرت زکریا کی زوجہ محترمہ ساری عمر بانجھ رہیں مگر جب وہ دونوں میاں بیوی بہت بوڑھے ہوچکے تھے تو اللہ نے انہیں بیٹا حضرت یحییٰ عطا کیا۔
Ayahs 15:57–61

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 15:57 in the Quran reader

آپ نے پوچھا : اے فرستادو ! تمہاری کیا مہم ہے

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَۙ Open ayah 15:58 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ ہمیں بھیجا گیا ہے ایک مجرم قوم کی طرف

اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ اِنَّا لَمُنَجُّوْهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:59 in the Quran reader

سوائے آل لوط کے ان سب کو ہم ضروربچا لیں گے

اِلَّا امْرَاَتَهٗ قَدَّرْنَاۤ١ۙ اِنَّهَا لَمِنَ الْغٰبِرِیْنَ۠ Open ayah 15:60 in the Quran reader

سوائے ان کی بیوی کے ہم نے اندازہ ٹھہرا لیا ہے کہ وہ یقیناً پیچھے رہنے والوں میں سے ہوگی

فَلَمَّا جَآءَ اٰلَ لُوْطِ اِ۟لْمُرْسَلُوْنَۙ Open ayah 15:61 in the Quran reader

تو جب لوط کے گھر پہنچے وہ بھیجے ہوئے

آیت 57 قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَيُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ اب حضرت ابراہیم نے ان سے پوچھ ہی لیا کہ آپ لوگوں کے یہاں آنے کا کیا مقصد ہے ؟ آپ کو کیا مہم درپیش ہے ؟
Ayah 15:62

قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ Open ayah 15:62 in the Quran reader

اس (لو ط) نے کہا کہ یقیناً تم اجنبی لوگ ہو

آیت 62 قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ حضرت لوط نے دیکھا کہ یہ بالکل اجنبی لوگ ہیں تو انہوں نے پوچھا کہ آپ لوگ کون ہیں اور کہاں سے تشریف لائے ہیں ؟ آپ کی تشریف آوری کا مقصد کیا ہے ؟
Ayahs 15:63–64

قَالُوْا بَلْ جِئْنٰكَ بِمَا كَانُوْا فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ Open ayah 15:63 in the Quran reader

انہوں نے کہا : بلکہ ہم تو آپ کے پاس وہ شے لے کر آئے ہیں جس کے بارے میں یہ لوگ شک میں پڑے ہوئے تھے

وَ اَتَیْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 15:64 in the Quran reader

اور ہم آئے ہیں آپ کے پاس حق (قطعی فیصلے) کے ساتھ اور یقیناً ہم سچے ہیں

آیت 63 قَالُوْا بَلْ جِئْنٰكَ بِمَا كَانُوْا فِيْهِ يَمْتَرُوْنَ حضرت لوط جب اپنی قوم کو متنبہ کرتے تھے کہ اگر تم لوگ شرک سے اور اس فعل خبیث سے باز نہیں آؤ گے تو تم پر اللہ کا عذاب آئے گا ‘ تو وہ آپ کا مذاق اڑاتے تھے ‘ کیونکہ انہیں یقین نہیں تھا کہ ان پر واقعی عذاب آجائے گا۔ فرشتوں نے کہا کہ آج ہم وہی عذاب لے کر آگئے ہیں جس کے بارے میں یہ لوگ شک میں تھے۔
Ayah 15:65

فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ اتَّبِعْ اَدْبَارَهُمْ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ وَّ امْضُوْا حَیْثُ تُؤْمَرُوْنَ Open ayah 15:65 in the Quran reader

تو آپ اپنے گھر والوں کو لے جائیے رات کے ایک حصے میں اور آپ ان کے پیچھے پیچھے جائیے اور آپ لوگوں میں سے کوئی بھی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے اور آپ چلے جائیے جہاں آپ کو حکم ہوا ہے

آیت 65 فَاَسْرِ بِاَہْلِکَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَاتَّبِعْ اَدْبَارَہُمْ وَلاَ یَلْتَفِتْ مِنْکُمْ اَحَدٌ ” یعنی آپ لوگ صبح ہونے سے پہلے پہلے یہاں سے نکل جائیں۔ پیچھے رہ جانے والوں کے لیے اب دوستی اور ہمدردی جیسے جذبات کا اظہار کسی بھی شکل میں نہیں ہونا چاہیے۔
Ayah 15:66

وَ قَضَیْنَاۤ اِلَیْهِ ذٰلِكَ الْاَمْرَ اَنَّ دَابِرَ هٰۤؤُلَآءِ مَقْطُوْعٌ مُّصْبِحِیْنَ Open ayah 15:66 in the Quran reader

اور ہم نے لوط کو اپنے اس فیصلے سے آگاہ کردیا کہ صبح ہوتے ہی ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی جائے گی

آیت 66 وَقَضَيْنَآ اِلَيْهِ ذٰلِكَ الْاَمْرَ اَنَّ دَابِرَ هٰٓؤُلَاۗءِ مَقْطُوْعٌ مُّصْبِحِيْنَ وہاں سے نکلنے سے پہلے حضرت لوط کو بتادیا گیا کہ اس پوری قوم کو تہس نہس کردیا جائے گا اور یہاں کوئی ایک متنفس بھی نہیں بچے گا۔
Ayahs 15:67–69

وَ جَآءَ اَهْلُ الْمَدِیْنَةِ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 15:67 in the Quran reader

اور آئے اہل شہر خوشیاں مناتے ہوئے

قَالَ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَیْفِیْ فَلَا تَفْضَحُوْنِۙ Open ayah 15:68 in the Quran reader

لوط نے کہا : یہ میرے مہمان ہیں چناچہ تم لوگ مجھے رسوا نہ کرو

وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ Open ayah 15:69 in the Quran reader

اللہ سے ڈرو اور مجھے بےآبرو مت کرو

آیت 67 وَجَاۗءَ اَهْلُ الْمَدِيْنَةِ يَسْـتَبْشِرُوْنَ حضرت لوط کے ہاں خوبصورت لڑکوں کو دیکھ کر بد قماش قسم کے لوگوں نے خوشی خوشی آپ کے گھر پر یلغار کردی۔
Ayah 15:70

قَالُوْۤا اَوَ لَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 15:70 in the Quran reader

انہوں نے کہا : کیا ہم نے آپ کو سب دنیا والوں (کی حمایت میں کھڑے ہونے) سے منع نہیں کیا تھا

آیت 70 قَالُوْٓا اَوَلَمْ نَــنْهَكَ عَنِ الْعٰلَمِيْنَ کیا ہم آپ کو منع نہیں کرچکے کہ آپ ہر کسی کی طرف داری کرتے ہوئے ہمارے معاملے میں دخل اندازی نہ کیا کریں۔ ہم جس کے ساتھ جو چاہیں کریں آپ بیچ میں آنے والے کون ہوتے ہیں ؟
Ayah 15:71

قَالَ هٰۤؤُلَآءِ بَنٰتِیْۤ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَؕ Open ayah 15:71 in the Quran reader

آپ نے کہا : یہ میری بیٹیاں ہیں اگر تمہیں کچھ کرنا ہی ہے

آیت 71 قَالَ هٰٓؤُلَاۗءِ بَنٰتِيْٓ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِيْنَ قبل ازیں اس فقرے کی وضاحت ہوچکی ہے۔ یعنی میری قوم کی بیٹیاں جو تمہارے گھروں میں موجود ہیں ان کی طرف رجوع کرو۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہارے لیے فطری ساتھی بنایا ہے۔ اس فقرے کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ نے اتمام حجت کے لیے ان میں سے دو سرداروں کو یہاں تک کہہ دیا ہو کہ اگر ایسی ہی بات ہے تو میں اپنی بیٹیوں کا نکاح تم سے کیے دیتا ہوں۔
Ayah 15:72

لَعَمْرُكَ اِنَّهُمْ لَفِیْ سَكْرَتِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 15:72 in the Quran reader

قسم ہے آپ کی جان کی وہ لوگ اپنی اس بدمستی میں بالکل اندھے ہوگئے تھے

آیت 72 لَعَمْرُكَ اِنَّهُمْ لَفِيْ سَكْرَتِهِمْ يَعْمَهُوْنَ عمہ کے مادہ میں دل کے اندھے پن کا مفہوم پایا جاتا ہے یعنی ان لوگوں کے دل بھلائی اور برائی کی تمیز سے بالکل عاری ہوگئے تھے۔
Ayah 15:73

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ مُشْرِقِیْنَۙ Open ayah 15:73 in the Quran reader

تو انہیں آپکڑا ایک چنگھاڑنے اجالا ہونے کے وقت

آیت 73 فَاَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ مُشْرِقِيْنَ یعنی پو پھٹتے ہی ان پر اللہ کے عذاب کا کوڑا ایک زبردست چنگھاڑ کے ساتھ ٹوٹ پڑا۔
Ayah 15:74

فَجَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍؕ Open ayah 15:74 in the Quran reader

پھر ہم نے اس کے اوپر والے حصے کو بنا دیا اس کے نچلے والا اور ہم نے برسائے ان کے اوپر پکی ہوئی مٹی کے کنکر

آیت 74 فَجَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَاَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ سِجِّيْلٍ یعنی ان آبادیوں کو پوری طرح تلپٹ کردیا گیا اور ان پر سنگ گل کی بارش برسائی گئی۔
Ayah 15:75

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِیْنَ Open ayah 15:75 in the Quran reader

یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو حق کے متلاشی ہوتے ہیں

آیت 75 اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِيْنَ ”متوسمین“ سے مراد وہ لوگ ہیں جو آیات آفاقیہ ‘ آیات تاریخیہ ‘ آیات انفسیہ یا آیات قرآنیہ کے ذریعے سے حقیقت کو جاننا اور پہچاننا چاہیں۔ اسم اصل مادہ ”س م و“ ہے۔ الف اس کے حروف اصلیہ میں سے نہیں ہے کے معنی علامت کے ہیں۔ اردو میں لفظ ”اسم“ کو نام کے مترادف کے طور پر جانا جاتا ہے ‘ اس لیے کہ کسی چیز یا شخص کا نام بھی ایک علامت کا کام دیتا ہے جس سے اس کی پہچان ہوتی ہے۔ لہٰذا جو اصحاب بصیرت علامتوں سے متوسم باب تفعل ہوتے ہیں ‘ ان کے لیے ایسے واقعات میں سامان عبرت موجود ہے۔
Ayahs 15:76–77

وَ اِنَّهَا لَبِسَبِیْلٍ مُّقِیْمٍ Open ayah 15:76 in the Quran reader

اور یہ بستیاں ایک سیدھی راہ پر واقع تھیں

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 15:77 in the Quran reader

یقیناً اس میں نشانی ہے اہل ایمان کے لیے

آیت 76 وَاِنَّهَا لَبِسَبِيْلٍ مُّقِيْمٍ قوم لوط کی یہ بستیاں اس شاہراہ عام پر واقع تھیں جو یمن بحیرۂ عرب اور شام بحیرۂ روم کے ساحلوں کو آپس میں ملاتی تھی۔ مشرقی ممالک ہندوستان ‘ چین ‘ جاوا ‘ ملایا وغیرہ سے یورپ جانے کے لیے جو سامان آتا تھا وہ یمن کے ساحل پر اتارا جاتا تھا اور پھر اس راستے سے تجارتی قافلے اسے شام اور فلسطین کے ساحل پر پہنچا دیتے تھے۔ اسی طرح یورپ سے مشرقی ممالک کے لیے آنے والا سامان شام کے ساحل پر اترتا تھا اور یہی قافلے اسے یمن کے ساحل پر پہنچانے کا ذریعہ بنتے تھے۔ اس وقت نہر سویز بھی نہیں بنی تھی اور ”راس امید“ والا راستہ Around the Cape of Good Hope بھی دریافت نہیں ہوا تھا ‘ جو واسکو ڈے گا ما نے 1498 ء میں تلاش کیا۔ چناچہ یہ شاہراہ اس زمانے میں مشرق اور مغرب کے درمیان تجارتی رابطے کا واحد ذریعہ تھی۔
Ayah 15:78

وَ اِنْ كَانَ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ لَظٰلِمِیْنَۙ Open ayah 15:78 in the Quran reader

اور بیشک بن والے بھی ظالم تھے

آیت 78 وَاِنْ كَانَ اَصْحٰبُ الْاَيْكَةِ لَظٰلِمِيْنَ ”اصحاب الایکہ“ سے اہل مدین مراد ہیں۔ یہ حضرت شعیب کی قوم تھی مگر یہاں اس قوم کا ذکر کرتے ہوئے آپ کا نام نہیں لایا گیا۔ ان سب اقوام کا تذکرہ یہاں پر انباء الرسل کے انداز میں ہورہا ہے۔
Ayah 15:79

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ١ۘ وَ اِنَّهُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِیْنٍؕ۠ Open ayah 15:79 in the Quran reader

تو ان سے بھی ہم نے انتقام لیا۔ اور یہ دونوں بستیاں بھی کھلے راستے پر واقع تھیں

آیت 79 فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ ۘ وَاِنَّهُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِيْنٍ اس سے مراد وہی تجارتی شاہراہ ہے جس کا ذکر ابھی ہوا ہے۔ یہ اصحاب حجر کے مساکن سے بھی ہو کر گزرتی تھی جبکہ اہل مدین کی آبادیاں اور قوم لوط کی بستیاں بھی اسی شاہراہ پر واقع تھیں۔
Ayah 15:80

وَ لَقَدْ كَذَّبَ اَصْحٰبُ الْحِجْرِ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 15:80 in the Quran reader

اور (اسی طرح) حجر والوں نے بھی مرسلین کو جھٹلایا

آیت 80 وَلَقَدْ كَذَّبَ اَصْحٰبُ الْحِـجْرِ الْمُرْسَلِيْنَ اصحاب الحجر سے مراد قوم ثمود ہے۔ قوم ثمود حجر کے علاقے میں آباد تھی اور ان کی طرف حضرت صالح مبعوث کیے گئے تھے۔ جیسے حضرت ہود کی قوم عاد کا ذکر ”احقاف“ کے حوالے سے بھی ہوا ہے ملاحظہ ہو سورة الاحقاف جو اس قوم کا علاقہ تھا ‘ اسی طرح قوم ثمود کا ذکر یہاں ”اصحاب الحجر“ کے نام سے ہوا ہے۔ یہاں پر ”مرسلین“ کے لفظ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس قوم میں پہلے بہت سے انبیاء آئے اور پھر آخر میں رسول کی حیثیت سے حضرت صالح تشریف لائے۔