12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsتفسیر بیان القرآن

Ayah 12:41

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ اَمَّاۤ اَحَدُكُمَا فَیَسْقِیْ رَبَّهٗ خَمْرًا١ۚ وَ اَمَّا الْاٰخَرُ فَیُصْلَبُ فَتَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْ رَّاْسِهٖ١ؕ قُضِیَ الْاَمْرُ الَّذِیْ فِیْهِ تَسْتَفْتِیٰنِؕ Open ayah 12:41 in the Quran reader

اے میرے جیل کے دونوں ساتھیو ! تم میں سے ایک تو اپنے آقا کو شراب پلائے گا اور جو دوسرا ہے اسے سولی دے دی جائے گی اور پرندے اس کے سر میں سے (نوچ نوچ کر) کھائیں گے فیصلہ کردیا گیا ہے اس معاملے کا جس کے بارے میں تم دونوں مجھ سے پوچھ رہے تھے

آیت 41 يٰصَاحِبَيِ السِّجْنِ اَمَّآ اَحَدُكُمَا فَيَسْقِيْ رَبَّهٗ خَمْرًا یہاں پر رب کا لفظ بادشاہ کے لیے استعمال ہوا ہے۔ یہ اس شخص کے خواب کی تعبیر ہے جس نے خود کو شراب کشید کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ یہ شخص پہلے بھی بادشاہ کا ساقی تھا مگر اس پر کوئی الزام لگا اور اسے جیل بھیج دیا گیا۔ حضرت یوسف نے خبر دے دی کہ اس کے خواب کے مطابق وہ اس الزام سے بری ہو کر اپنے پرانے عہدے پر بحال ہوجائے گا۔
Ayah 12:42

وَ قَالَ لِلَّذِیْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِیْ عِنْدَ رَبِّكَ١٘ فَاَنْسٰىهُ الشَّیْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِیْنَؕ۠ Open ayah 12:42 in the Quran reader

اور یوسف نے کہا اس شخص سے جس کے بارے میں آپ نے گمان کیا کہ وہ ان دونوں میں سے نجات پائے گا کہ اپنے آقا سے میرا ذکر بھی کرنا تو اسے بھلائے رکھا شیطان نے ذکر کرنا اپنے آقا سے تو آپ رہے جیل میں کئی برس تک

آیت 42 وَقَالَ لِلَّذِيْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِيْ عِنْدَ رَبِّكَ یعنی تمہیں کبھی موقع ملے تو بادشاہ کو بتانا کہ جیل میں ایک ایسا قیدی بھی ہے جس کا کوئی قصور نہیں اور اسے خواہ مخواہ جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔ فَاَنْسٰىهُ الشَّيْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِي السِّجْنِ بِضْعَ سِنِيْنَ بِضْع کا لفظ عربی زبان میں دو سے لے کر نو تک دس سے کم کی تعداد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
Ayah 12:43

وَ قَالَ الْمَلِكُ اِنِّیْۤ اَرٰى سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعَ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِیْ فِیْ رُءْیَایَ اِنْ كُنْتُمْ لِلرُّءْیَا تَعْبُرُوْنَ Open ayah 12:43 in the Quran reader

اور بادشاہ نے کہا کہ میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو کھا رہی ہیں سات دبلی گائیں اور سات بالیاں ہیں ہری اور دوسری (سات) خشک تو اے میرے درباریو ! مجھے بتاؤ تعبیر میرے خواب کی اگر تم لوگ خوابوں کی تعبیر کرسکتے ہو

آیت 43 وَقَالَ الْمَلِكُ اِنِّىْٓ اَرٰي سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ يَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ اب یہاں سے اس قصے کا ایک نیا باب شروع ہو رہا ہے۔ اس وقت مصر پر فراعنہ کی حکومت نہیں تھی ‘ بلکہ وہاں چرواہے بادشاہ Hyksos Kings حکمران تھے۔ تاریخ میں اکثر ایسے واقعات ملتے ہیں کہ کچھ صحرائی قبیلوں نے قوت حاصل کر کے متمدن علاقوں پر چڑھائی کی پھر یا تو وہ لوٹ مار کر کے واپس چلے گئے یا ان علاقوں پر اپنی حکومتیں قائم کرلیں۔ ایسی ہی ایک مثال مصر کے چرواہے بادشاہوں کی ہے جو صحرائی قبیلوں سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے کسی زمانے میں مصر پر حملہ کیا اور مقامی لوگوں قبطی قوم کو غلام بنا کر وہاں اپنی حکومت قائم کرلی۔ یہاں جس بادشاہ کا ذکر ہے وہ اسی خاندان سے تھا۔ اس بادشاہ کے کردار اور رویے کی جو جھلک اس قصے میں دکھائی گئی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اگرچہ توحید و رسالت سے نا بلد تھا مگر ایک نیک سرشت انسان تھا۔
Ayah 12:44

قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ١ۚ وَ مَا نَحْنُ بِتَاْوِیْلِ الْاَحْلَامِ بِعٰلِمِیْنَ Open ayah 12:44 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ یہ تو پریشان خیالات ہیں اور ایسے خوابوں کی تعبیر ہم نہیں جانتے

آیت 44 قَالُوْٓا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ ۚ وَمَا نَحْنُ بِتَاْوِيْلِ الْاَحْلَامِ بِعٰلِمِيْنَ بادشاہ کے خواب کو سن کر انہوں نے جواب دیا کہ یہ کوئی معنوی خواب نہیں ایسے ہی بےمعنی اور منتشر قسم کے خیالات ہیں جن کی ہم کوئی تعبیر نہیں کرسکتے۔ فرائڈ کا بھی یہی خیال ہے کہ خواب میں انسان اپنے شہوانی خیالات اور دوسری دبی ہوئی نفسانی خواہشات کی تسکین کرنا چاہتا ہے ‘ مگر اسلامی نکتہ نظر سے خواب تین قسم کے ہوتے ہیں۔ پہلی قسم ”رویائے صادقہ“ کی ہے یعنی سچے خواب ‘ یہ اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں اور ایسے خوابوں کے بارے میں حضور نے فرمایا ہے کہ یہ نبوت کے اجزاء میں سے ہیں۔ دوسری قسم کے خواب وہ ہیں جو شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں اور ان میں بعض اوقات شیاطینِ جن اپنی طرف سے خیالات انسانوں کے ذہنوں میں الہام بھی کرتے ہیں۔ تیسری قسم کے خواب وہ ہیں جن کا ذکر فرائڈ نے کیا ہے۔ یعنی انسان کے اپنے ہی خیالات منتشر انداز میں مختلف وجوہات کی بنا پر سوتے وقت انسان کے ذہن میں آتے ہیں اور ان میں کوئی معنی یا ربط ہونا ضروری نہیں ہوتا۔
Ayahs 12:45–46

وَ قَالَ الَّذِیْ نَجَا مِنْهُمَا وَ ادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَبِّئُكُمْ بِتَاْوِیْلِهٖ فَاَرْسِلُوْنِ Open ayah 12:45 in the Quran reader

اور کہا اس شخص نے جو ان دونوں (قیدیوں) میں سے نجات پا گیا تھا اور ایک طویل عرصے کے بعد اسے (اچانک) یاد آگیا (اس نے کہا) میں بتادوں گا تم لوگوں کو اس کی تعبیر بس مجھے ذرا (قید خانے میں یوسف کے پاس) بھیج دیں

یُوْسُفُ اَیُّهَا الصِّدِّیْقُ اَفْتِنَا فِیْ سَبْعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعِ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ۙ لَّعَلِّیْۤ اَرْجِعُ اِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:46 in the Quran reader

اے یوسف ! اے راست باز ! ہمیں تعبیر بتائیے سات موٹی گائیوں کے بارے میں کہ انہیں کھا رہی ہیں سات دبلی اور سات سبز بالیوں اور دوسری (سات) خشک بالیوں کے بارے میں تاکہ میں واپس جاؤں (تعبیر لے کر) ان لوگوں کے پاس تاکہ انہیں بھی معلوم ہوجائے

آیت 45 وَقَالَ الَّذِيْ نَجَا مِنْهُمَا وَادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ وہ شخص جیل سے رہا ہو کر پھر سے ساقی گری کر رہا تھا۔ اسے بادشاہ کے خواب کے ذکر سے اچانک حضرت یوسف یاد آگئے کہ ہاں جیل میں ایک شخص ہے جو خوابوں کی تعبیر بتانے میں بڑا ماہر ہے۔ اَنَا اُنَبِّئُكُمْ بِتَاْوِيْـلِهٖ فَاَرْسِلُوْنِ اس طرح وہ شخص جیل میں حضرت یوسف کے پاس پہنچ کر آپ سے مخاطب ہوا :
Ayah 12:47

قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِیْنَ دَاَبًا١ۚ فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ فِیْ سُنْۢبُلِهٖۤ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ Open ayah 12:47 in the Quran reader

یوسف نے (تعبیر بتاتے ہوئے) فرمایا کہ تم سات سال تک خوب زراعت کرو گے لگاتار تو (اس دوران میں) جو فصل بھی تم کاٹو اسے رہنے دینا اس کی بالیوں ہی میں سوائے اس قلیل تعداد کے جو تم کھاؤ

فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ فِيْ سُنْۢبُلِهٖٓ اِلَّا قَلِيْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ آپ نے صرف اس خواب کی تعبیر ہی نہیں بتائی بلکہ مسئلے کی تدبیر بھی بتادی اور تدبیر بھی ایسی جو شاہی مشیروں کے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتی تھی۔ آج کے سائنسی تجربات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اناج کو محفوظ کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ اسے سٹوں کے اندر ہی رہنے دیا جائے اور ان سٹوں کو محفوظ کرلیا جائے۔ اس طرح سے اناج خراب نہیں ہوتا اور اسے کیڑوں مکوڑوں سے بچانے کے لیے کسی اضافی preservative کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔
Ayah 12:48

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ Open ayah 12:48 in the Quran reader

پھر اس کے بعد سات سال آئیں گے بہت سخت وہ (سات سال) چٹ کر جائیں گے اس کو جو کچھ تم نے ان کے لیے بچا رکھا ہوگا سوائے اس کے جو تم (بیج کے لیے) محفوظ کرلو گے

آیت 48 ثُمَّ يَاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ خوشحالی کے سات سالوں کے بعد سات سال تک خشک سالی کا سماں ہوگا جس کی وجہ سے ملک میں شدید قحط پڑجائے گا۔ يَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ اِلَّا قَلِيْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ حضرت یوسف نے خواب کی تعبیر یہ بتائی کہ سات سال تک ملک میں بہت خوشحالی ہوگی فصلیں بہت اچھی ہوں گی مگر ان سات سالوں کے بعد سات سال ایسے آئیں گے جن میں خشک سالی کے سبب شدید قحط پڑجائے گا۔ اس مسئلے کی تدبیر آپ نے یہ بتائی کہ پہلے سات سال کے دوران صرف ضرورت کا اناج استعمال کرنا اور باقی سٹوں کے اندر ہی محفوظ کرتے جانا اور جب قحط کا زمانہ آئے تو ان سٹوں سے نکال کر بقدر ضرورت اناج استعمال کرنا۔
Ayah 12:49

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِیْهِ یُغَاثُ النَّاسُ وَ فِیْهِ یَعْصِرُوْنَ۠ Open ayah 12:49 in the Quran reader

پھر آئے گا اس کے بعد ایک سال کہ اس میں خوب بارشیں ہوں گی لوگوں پر اور اس میں وہ (انگور کا) رس نچوڑیں گے

ثُمَّ يَاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِيْهِ يُغَاث النَّاسُ وَفِيْهِ يَعْصِرُوْنَ جب خوب بارشیں ہوں گی تو انگور کی بیلیں خوب پھلیں پھولیں گی ‘ انگور کی پیداوار بھی خوب ہوگی ‘ لوگ خوب انگور نچوڑیں گے اور شراب کشید کریں گے۔
Ayah 12:50

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِعْ اِلٰى رَبِّكَ فَسْئَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِكَیْدِهِنَّ عَلِیْمٌ Open ayah 12:50 in the Quran reader

(یہ سن کر) بادشاہ نے کہا کہ اس شخص کو میرے پاس لے آؤ پھر جب آیا آپ کے پاس ایلچی تو آپ نے فرمایا کہ تم واپس چلے جاؤ اپنے آقا کے پاس اور اس سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا معاملہ تھا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے یقیناً میرا رب ان کی چالوں سے خوب واقف ہے

آیت 50 وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِيْ بِهٖ بادشاہ اپنے خواب کی تعبیر اور پھر اس کی ایسی اعلیٰ تدبیر سن کر یقیناً بہت متاثر ہوا ہوگا اور اس نے سوچا ہوگا کہ ایسے ذہین فطین شخص کو جیل میں نہیں بلکہ بادشاہ کا مشیر ہونا چاہیے۔ چناچہ اس نے حکم دیا کہ اس قیدی کو فوراً میرے پاس لے کر آؤ۔ فَلَمَّا جَاۗءَهُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِعْ اِلٰي رَبِّكَ بادشاہ کا پیغام لے کر جب قاصد آپ کے پاس پہنچا تو آپ نے اس کے ساتھ جانے سے انکار کردیا کہ میں اس طرح ابھی جیل سے باہر نہیں آنا چاہتا۔ پہلے پورے معاملے کی چھان بین کی جائے کہ مجھے کس جرم کی پاداش میں جیل بھیجا گیا تھا۔ اگر مجھ پر کوئی الزام ہے تو اس کی مکمل تفتیش ہو اور اگر میرا کوئی قصور نہیں ہے تو مجھے علی الاعلان بےگناہ اور بری قرار دیا جائے۔ چناچہ آپ نے اس قاصد سے فرمایا کہ تم اپنے بادشاہ کے پاس واپس جاؤ : اِنَّ رَبِّيْ بِكَيْدِهِنَّ عَلِيْمٌ بادشاہ تک یہ بات پہنچی تو اس نے سب بیگمات کو طلب کرلیا۔
Ayah 12:51

قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ یُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْهِ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ الْئٰنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ١٘ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:51 in the Quran reader

اس نے پوچھا کہ کیا معاملہ تھا تمہارا جب تم سب نے پھسلانا چاہا تھا یوسف کو انہوں نے کہا کہ اللہ گواہ ہے ہمارے علم میں اس کے بارے میں کوئی بھی برائی نہیں ہے (اس پر) عزیز کی بیوی بھی بول اٹھی کہ اب حقیقت تو واضح ہو ہی گئی ہے میں نے ہی اس کو پھسلانے کی کوشش کی تھی اور وہ بالکل سچا ہے

قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِنْ سُوْۗءٍ اس وقت جو کچھ بھی ہوا تھا وہ سب ہماری طرف سے تھا ‘ یوسف علیہ السلام کی طرف سے کوئی غلط بات ہم نے محسوس نہیں کی۔ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِيْزِ الْــٰٔنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ ۡ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَاِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِيْنَ اس طرح عزیز کی بیوی کو اس حقیقت کا برملا اظہار کرنا پڑا کہ یوسف علیہ السلام نے نہ تو زبان سے کوئی غلط بیانی کی ہے اور نہ ہی اس کے کردار میں کوئی کھوٹ ہے۔
Ayah 12:52

ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآئِنِیْنَ Open ayah 12:52 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ وہ جان لے کہ میں نے اس کی غیرموجودگی میں اس کی خیانت نہیں کی اور یہ کہ یقیناً اللہ خیانت کرنے والوں کی چال کو کامیاب نہیں کرتا

آیت 52 ذٰلِكَ لِيَعْلَمَ اَنِّىْ لَمْ اَخُنْهُ بالْغَيْبِ یہ فقرہ سیاق عبارت میں کس کی زبان سے ادا ہوا ہے اس کے بارے میں مفسرین کے بہت سے اقوال ہیں۔ اس لیے کہ اس فقرے کے موقع محل اور الفاظ میں متعدد امکانات کی گنجائش ہے۔ ان اقوال میں سے ایک قول یہ ہے کہ یہ فقرہ عزیز کی بیوی کی زبان ہی سے ادا ہوا ہے کہ میں نے ساری بات اس لیے سچ سچ بیان کردی ہے تاکہ یوسف کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی عدم موجودگی میں اس سے کوئی غلط بات منسوب کر کے اس کی خیانت نہیں کی۔
Ayah 12:53

وَ مَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِیْ١ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 12:53 in the Quran reader

اور میں اپنے نفس کو بری قرار نہیں دیتی یقیناً (انسان کا) نفس تو برائی ہی کا حکم دیتا ہے سوائے اس کے جس پر میرا رب رحم فرمائے۔ یقیناً میرا رب بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔

اِلَّا مَارَحِمَ رَبِّيْ ۭ اِنَّ رَبِّيْ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ اگر گزشتہ آیت میں نقل ہونے والے بیان کو عزیز مصر کی بیوی کا بیان مانا جائے تو اس صورت میں آیت زیر نظر بھی اسی کے کلام کا تسلسل قرار پائے گی اور اس کا ترجمہ وہی ہوگا جو اوپر کیا گیا ہے۔ یہ ترجمہ دراصل اس نظریے کے مطابق ہے جس کے تحت ہمارے بہت سے مفسرین اور قصہ گو حضرات نے مائی زُلیخا کو ولی اللہ کے درجے تک پہنچا دیا ہے۔ اور کچھ بعید بھی نہیں کہ اس کا عشق مجازی وقت کے ساتھ ساتھ عشق حقیقی میں تبدیل ہوگیا ہو اور وہ حقیقتاً ہدایت پر آگئی ہو۔ بہر حال جو لوگ اس بات کو درست تسلیم کرتے ہیں وہ ان آیات کا ترجمہ اسی طرح کرتے ہیں ‘ کیونکہ اس نے اعتراف جرم کر کے توبہ کرلی تھی اور اس لحاظ سے مذکورہ مفسرین کا موقف یہ ہے کہ اعتراف گناہ سے لے کر آیت 53 کے اختتام تک اسی کا بیان ہے۔ اس سلسلے میں دوسرا موقف جو دور حاضر کے زیادہ تر مفسرین نے اختیار کیا ہے یہ ہے کہ عزیز مصر کی بیوی کا بیان اس آیت پر ختم ہوگیا ہے : اَنَا رَاوَدْتُّہٗ عَنْ نَّفْسِہٖ وَاِنَّہٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ اور اس کے بعد حضرت یوسف کا بیان نقل ہوا ہے۔ اس صورت میں آیت 52 اور 53 کا مفہوم یوں ہوگا کہ جب بادشاہ کی تفتیشی کارروائی اور عزیز مصر کی بیوی کے برملا اعتراف جرم کے بارے میں حضرت یوسف علیہ السلام کو بتایا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اس سب کچھ سے میرا یہ مقصود نہیں تھا کہ کسی کی عزت و ناموس کا پردہ چاک ہو ‘ بلکہ میں تو چاہتا تھا کہ عزیز مصر یہ جان لے کہ اگر اس نے مجھے اپنے گھر میں عزت و اکرام سے رکھا تھا اور مجھ پر اعتماد کیا تھا تو میں نے بھی اس کی عدم موجودگی میں اس کی خیانت کر کے اس کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچائی ‘ اور میرا ایمان ہے کہ اللہ خیانت کرنے والوں کو راہ یاب نہیں کرتا۔ باقی میں خود کو بہت پارسا نہیں سمجھتا بلکہ سمجھتا ہوں کہ نفس انسانی تو انسان کو برائی پر ابھارتا ہی ہے اور اس کے حملے سے صرف وہی بچ سکتا ہے جس پر میرا رب اپنی خصوصی نظر رحمت فرمائے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے میری حفاظت کا بھی اگر خصوصی انتظام نہ فرمایا جاتا تو مجھ سے بھی غلطی سرزد ہوسکتی تھی۔ مگر چونکہ میرا رب بخشنے والا بہت زیادہ رحم فرمانے والا ہے اس لیے اس نے مجھ پر اپنی خصوصی رحمت فرمائی۔
Ayah 12:54

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖۤ اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِیْ١ۚ فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَكِیْنٌ اَمِیْنٌ Open ayah 12:54 in the Quran reader

اور بادشاہ نے (اب فیصلہ کن انداز میں) کہا کہ اس کو میرے پاس لے آؤ میں اسے اپنا مصاحب خاص بناؤں گا تو جب بادشاہ نے آپ سے بات چیت کی تو کہا کہ آج کے دن سے آپ ہمارے نزدیک بڑے با عزت اور معتبر انسان ہیں

فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِيْنٌ اَمِيْنٌ آج سے آپ کا شمار ہمارے خاص مقربین میں ہوگا اور اس لحاظ سے مملکت کے اندر آپ کا ایک خاص مقام ہوگا۔ آپ کی امانت و دیانت پر ہمیں پورا پورا بھروسا ہے۔
Ayah 12:55

قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰى خَزَآئِنِ الْاَرْضِ١ۚ اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ Open ayah 12:55 in the Quran reader

آپ نے فرمایا کہ مجھے ملک کے خزانوں پر مقرر کردیں میں حفاظت کرنے والا بھی ہوں اور جاننے والا بھی ہوں

آیت 55 قَالَ اجْعَلْنِيْ عَلٰي خَزَاۗىِٕنِ الْاَرْضِ ۚ اِنِّىْ حَفِيْظٌ عَلِيْمٌ حضرت یوسف جان چکے تھے کہ اس ملک پر بہت بڑی آفت آنے والی ہے اور اگر اس ممکنہ صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے بر وقت درست اور مؤثر اقدام نہ کیے گئے تو نہ صرف خود مصر ایک خوفناک قحط کی زد میں آجائے گا بلکہ آس پاس کے علاقوں کے لیے بھی بہت بھیانک حالات پیدا ہوجائیں گے۔ اس پورے خطے میں مصر ہی ایک ایسا ملک تھا جہاں غلہ اور دوسری اشیائے خوراک پیدا ہوتی تھیں۔ اس کے ہمسایہ میں چاروں طرف خشک صحرائی علاقے تھے اور اناج وغیرہ کے سلسلے میں ان علاقوں کا انحصار بھی مصر کی زراعت پر تھا۔ یہی وجہ تھی کہ آپ نے موقع دیکھا تو فوراً اپنی خدمات پیش کردیں کہ اگر خزانے اور خوراک و زراعت کا پورا انتظام و انصرام میرے پاس ہوگا تو میں اس آفت کا سامنا کرنے کے لیے جامع اور ٹھوس منصوبہ بندی کرسکوں گا۔
Ayah 12:56

وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١ۚ یَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَیْثُ یَشَآءُ١ؕ نُصِیْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَآءُ وَ لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:56 in the Quran reader

اور اس طرح ہم نے یوسف کو تمکن عطا کیا (مصر کی) زمین میں کہ وہ اس میں جہاں چاہے اپنا ٹھکانہ بنا لے ہم اپنی رحمت سے نوازتے ہیں جس کو چاہتے ہیں اور ہم نیکو کاروں کا اجرضائع نہیں کرتے

آیت 56 وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوْسُفَ فِي الْاَرْضِ ۚ يَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَاۗءُ حضرت یوسف کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمکن عطا ہونے کا یہ دوسرامرحلہ تھا۔ پہلے مرحلے میں آپ کو بدوی اور صحرائی ماحول سے اٹھا کر اس دور کے ایک نہایت متمدن ملک کی اعلیٰ ترین سطح کی سوسائٹی میں پہنچایا گیا جبکہ دوسرے مرحلے میں آپ کو اسی ملک کے ارباب اختیار و اقتدار کی صف میں ایک نہایت ممتاز مقام عطا کردیا گیا جس کے بعد آپ پورے اختیار کے ساتھ عزیز کے عہدے پر متمکن ہوگئے۔
Ayah 12:57

وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 12:57 in the Quran reader

اور آخرت کا اجر تو بہت ہی بہتر ہے ان کے لیے جو ایمان لائیں اور تقویٰ کی روش اختیار کیے رکھیں

آیت 57 وَلَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَيْرٌ لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ اب یہاں سے آگے اس قصے کا ایک نیا باب شروع ہونے جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ آئندہ رکوع کے مضامین اور گزشتہ مضمون کے درمیان زمانی اعتبار سے تقریباً دس سال کا بعد ہے۔ اب بات اس زمانے سے شروع ہورہی ہے جب مصر میں بہتر فصلوں کے سات سالہ دور کے بعد قحط پڑچکا تھا۔ یہاں پر جو تفصیلات چھوڑ دی گئی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت یوسف کی تعبیر کے عین مطابق سات سال تک مصر میں خوشحالی کا دور دورہ رہا اور فصلوں کی پیداوار معمول سے کہیں بڑھ کر ہوئی۔ اس دوران حضرت یوسف نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت اناج کے بڑے بڑے ذخائر جمع کرلیے تھے۔ چناچہ جب یہ پورا علاقہ قحط کی لپیٹ میں آیا تو مصر کی حکومت کے پاس نہ صرف اپنے عوام کے لیے بلکہ ملحقہ علاقوں کے لوگوں کی ضرورت پوری کرنے کے لیے بھی اناج وافر مقدار میں موجود تھا۔ چناچہ حضرت یوسف نے اس غیر معمولی صورت حال کے پیش نظر ”راشن بندی“ کا ایک خاص نظام متعارف کروایا۔ اس نظام کے تحت ایک خاندان کو ایک سال کے لیے صرف اس قدرّ غلہ دیا جاتا تھا جس قدر ایک اونٹ اٹھا سکتا تھا اور اس کی قیمت اتنی وصول کی جاتی تھی جو وہ آسانی سے ادا کرسکیں۔ ان حالات میں فلسطین میں بھی قحط کا سماں تھا اور وہاں سے بھی لوگ قافلوں کی صورت میں مصر کی طرف غلہ لینے کے لیے آتے تھے۔ ایسے ہی ایک قافلے میں حضرت یوسف علیہ السلام کے دس بھائی بھی غلہ لینے مصر پہنچے جبکہ آپ کا ماں جایا بھائی ان کے ساتھ نہیں تھا۔ اس لیے کہ حضرت یعقوب اپنے اس بیٹے کو کسی طرح بھی ان کے ساتھ کہیں بھیجنے پر آمادہ نہیں تھے۔
Ayah 12:58

وَ جَآءَ اِخْوَةُ یُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَیْهِ فَعَرَفَهُمْ وَ هُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ Open ayah 12:58 in the Quran reader

اور آئے یوسف کے بھائی اور آپ کے سامنے پیش ہوئے تو آپ نے انہیں پہچان لیا مگر وہ آپ کو نہیں پہچان پائے

فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ ان حالات میں یہ امکان ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ عزیز مصر جس کے دربار میں ان کی پیشی ہورہی ہے وہ ان کا بھائی یوسف ہے۔
Ayahs 12:59–61

وَ لَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُوْنِیْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِیْكُمْ١ۚ اَلَا تَرَوْنَ اَنِّیْۤ اُوْفِی الْكَیْلَ وَ اَنَا خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ Open ayah 12:59 in the Quran reader

پھر جب آپ نے ان کا سامان تیار کروا دیا تو فرمایا کہ (آئندہ) اپنے اس بھائی کو بھی میرے پاس لے کر آنا جو تمہارے والد سے (تمہارا بھائی) ہے کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ میں پیمانہ پورا بھر کردیتا ہوں اور بہترین مہمان نوازی کرنے والا بھی ہوں

فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِیْ بِهٖ فَلَا كَیْلَ لَكُمْ عِنْدِیْ وَ لَا تَقْرَبُوْنِ Open ayah 12:60 in the Quran reader

اور اگر تم اسے میرے پاس لے کر نہیں آؤ گے تو میرے پاس تمہارے لیے کوئی غلہ نہیں ہے اور تم میرے قریب بھی نہ پھٹکنا

قَالُوْا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ اَبَاهُ وَ اِنَّا لَفٰعِلُوْنَ Open ayah 12:61 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ ہم اس کے بارے میں اس کے والد کو آمادہ کرنے کی کوشش کریں گے اور ہم یہ ضرور کر کے رہیں گے

آیت 59 وَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُوْنِيْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِيْكُمْ غلہ چونکہ راشن بندی کے تحت دیا جاتا تھا اس لیے انہوں نے درخواست کی ہوگی کہ ہمارا ایک بھائی اور بھی ہے اس کے اہل خانہ بھی ہیں اسے ہم اپنے والد کی خدمت کے لیے پیچھے چھوڑ آئے ہیں اس کے حصے کا غلہ بھی ہمیں دے دیا جائے۔ اس سلسلے میں سوال و جواب کے دوران انہوں نے یہ بھی بتایا ہوگا کہ ہم دس حقیقی بھائی ہیں جبکہ وہ گیا رہواں بھائی باپ کی طرف سے سگا لیکن والدہ کی طرف سے سوتیلا ہے۔ حضرت یوسف نے یہ سارا ماجرا سننے کے بعد فرمایا ہوگا کہ ٹھیک ہے میں آپ کے گیارہویں بھائی کے حصے کا اضافی غلہ تم لوگوں کو اس شرط پردے دیتا ہوں کہ آئندہ جب تم لوگ غلہ لینے کے لیے آؤ گے تو اپنے اس بھائی کو ساتھ لے کر آؤ گے تاکہ میں تصدیق کرسکوں کہ تم لوگوں نے غلط بیانی کر کے مجھ سے اضافی غلہ تو نہیں لیا۔
Ayah 12:62

وَ قَالَ لِفِتْیٰنِهِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَهُمْ فِیْ رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَعْرِفُوْنَهَاۤ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 12:62 in the Quran reader

اور یوسف نے اپنے نوجوانوں سے کہا کہ ان کی پونجی (بھی واپس) ان کے کجاو وں میں رکھ دو تاکہ وہ پہچانیں ان کو جب لوٹیں اپنے اہل و عیال کی طرف شاید کہ (اس طرح) وہ دوبارہ آئیں

آیت 62 وَقَالَ لِفِتْيٰنِهِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَهُمْ فِيْ رِحَالِهِمْ اس زمانے میں چیزوں کے عوض ہی چیزیں خریدی جاتی تھیں۔ چناچہ وہ لوگ بھی اپنے ہاں سے کچھ چیزیں بھیڑ بکریوں کی اون وغیرہ اس مقصد کے لیے لے کر آئے تھے اور غلے کی قیمت کے طور پر اپنی وہ چیزیں انہوں نے پیش کردی تھیں۔ مگر حضرت یوسف نے اپنے ملازمین کو ہدایت کردی کہ جب ان کے کجاو وں میں گندم بھری جائے تو ان لوگوں کی یہ چیزیں بھی جو انہوں نے غلے کی قیمت کے طور پر ادا کی ہیں چپکے سے واپس ان کے کجاو وں میں ہی رکھ دی جائیں۔
Ayahs 12:63–65

فَلَمَّا رَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْهِمْ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَیْلُ فَاَرْسِلْ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَكْتَلْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:63 in the Quran reader

پھر جب وہ لوٹے اپنے والد کے پاس تو کہنے لگے : ابا جان ! ہم سے (ایک) پیمانہ روک لیا گیا ہے تو (آئندہ) ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیجئے گا تاکہ ہم (اس کے حصے کا بھی) غلہ لے کر آئیں اور ہم اس کی پوری حفاظت کریں گے

قَالَ هَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَیْهِ اِلَّا كَمَاۤ اَمِنْتُكُمْ عَلٰۤى اَخِیْهِ مِنْ قَبْلُ١ؕ فَاللّٰهُ خَیْرٌ حٰفِظًا١۪ وَّ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:64 in the Quran reader

یعقوب نے فرمایا کہ کیا میں اس کے بارے میں اسی طرح تم پر اعتبار کرلوں جیسے میں نے اس کے بھائی (یوسف) کے بارے میں پہلے تم پر اعتبار کیا تھا (ویسے تو) اللہ ہی بہترین محافظ ہے اور وہی تمام رحم کرنے والوں میں سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے

وَ لَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ اِلَیْهِمْ١ؕ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا نَبْغِیْ١ؕ هٰذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَیْنَا١ۚ وَ نَمِیْرُ اَهْلَنَا وَ نَحْفَظُ اَخَانَا وَ نَزْدَادُ كَیْلَ بَعِیْرٍ١ؕ ذٰلِكَ كَیْلٌ یَّسِیْرٌ Open ayah 12:65 in the Quran reader

اور جب انہوں نے کھولا اپنا سامان تو انہوں نے دیکھا کہ ان کی پونچی انہیں لوٹا دی گئی ہے وہ پکار اٹھے : ابا جان ! ہمیں اور کیا چاہیے ؟ یہ ہماری پونجی بھی ہمیں لوٹا دی گئی ہے (اب ہم جائیں گے) اور اپنے اہل و عیال کے لیے غلہ لائیں گے اور اپنے بھائی کی حفاظت کریں گے اور ایک اونٹ کا بوجھ زیادہ لائیں گے۔ یہ (ایک اضافی) بوجھ (لانا تو اب) بہت آسان ہے

آیت 63 فَلَمَّا رَجَعُوْٓا اِلٰٓى اَبِيْهِمْ قَالُوْا يٰٓاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَيْلُ یعنی انہوں نے آئندہ کے لیے ہمارے چھوٹے بھائی کے حصے کا غلہ روک دیا ہے اور وہ تبھی ملے گا جب ہم اس کو وہاں لے کر جائیں گے۔
Ayah 12:66

قَالَ لَنْ اُرْسِلَهٗ مَعَكُمْ حَتّٰى تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَتَاْتُنَّنِیْ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّحَاطَ بِكُمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اٰتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ Open ayah 12:66 in the Quran reader

یعقوب نے فرمایا : میں اسے (واپس) ہرگز نہیں بھیجوں گا تمہارے ساتھ یہاں تک کہ تم میرے سامنے پختہ قسم کھاؤ اللہ کی کہ تم لازماً اسے لے کر آؤ گے میرے پاس سوائے اس کے کہ تم سب کو گھیرے میں لے لیاجائے پھر جب انہوں نے آپ کو اپنا پختہ قول وقرار دے دیا تو یعقوب نے فرمایا کہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں اللہ اس پر نگہبان ہے

آیت 66 قَالَ لَنْ اُرْسِلَهٗ مَعَكُمْ حَتّٰى تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَتَاْتُنَّنِيْ بِهٖٓ اِلَّآ اَنْ يُّحَاطَ بِكُمْ ہاں اگر کوئی ایسی مصیبت آجائے کہ تم سب کے سب گھیرلیے جاؤ اور وہاں سے گلو خلاصی مشکل ہوجائے تو اور بات ہے ‘ مگر عام حالات میں تم لوگ اسے واپس میرے پاس لانے کے پابند ہو گے۔
Ayah 12:67

وَ قَالَ یٰبَنِیَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّ ادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ١ؕ وَ مَاۤ اُغْنِیْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۚ وَ عَلَیْهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ Open ayah 12:67 in the Quran reader

اور آپ نے کہا : اے میرے بیٹو ! تم لوگ ایک دروازے سے (شہر میں) داخل نہ ہونا بلکہ متفرق دروازوں سے داخل ہونا اور میں تم کو بچا نہیں سکتا اللہ (کے فیصلے) سے کچھ بھی اختیار مطلق تو صرف اللہ ہی کا ہے اسی پر میں نے توکلّ کیا ہے اور تمام توکل کرنے والوں کو اسی پر توکل کرنا چاہیے

آیت 67 وَقَالَ يٰبَنِيَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ حسد اور نظر بد وغیرہ کے اثرات سے بچنے کے لیے بہتر ہے کہ آپ تمام بھائی اکٹھے ایک دروازے سے شہر میں داخل ہونے کے بجائے مختلف دروازوں سے داخل ہوں۔ وَمَآ اُغْنِيْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ میں اللہ کے کسی فیصلے کو تم لوگوں سے نہیں ٹال سکتا۔ اگر اللہ کی مشیت میں تم لوگوں کو کوئی گزند پہنچنا منظور ہے تو میں اس کو روک نہیں سکتا۔ یہ صرف انسانی کوشش کی حد تک احتیاطی تدابیر ہیں جو ہم اختیار کرسکتے ہیں۔
Ayah 12:68

وَ لَمَّا دَخَلُوْا مِنْ حَیْثُ اَمَرَهُمْ اَبُوْهُمْ١ؕ مَا كَانَ یُغْنِیْ عَنْهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ اِلَّا حَاجَةً فِیْ نَفْسِ یَعْقُوْبَ قَضٰىهَا١ؕ وَ اِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 12:68 in the Quran reader

تو جب وہ داخل ہوئے جہاں سے انہیں حکم دیا تھا ان کے والد نے وہ (یعقوب) بچانے والا نہیں تھا ان کو اللہ (کے فیصلے) سے کچھ بھی سوائے اس کے کہ یعقوب کے دل میں ایک خیال تھا جو اس نے اسے پورا کرلیا اور یقیناً آپ صاحب علم تھے اس علم کے اعتبار سے جو ہم نے آپ کو سکھایا تھا لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں

مَا كَانَ يُغْنِيْ عَنْهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ اِلَّا حَاجَةً فِيْ نَفْسِ يَعْقُوْبَ قَضٰىهَا حضرت یعقوب کے دل میں ایک کھٹک تھی جسے دور کرنے کے لیے آپ نے یہ تدبیر اختیار کی کہ اپنے بیٹوں کو ہدایت کردی کہ وہ ایک دروازے سے داخل ہونے کی بجائے مختلف دروازوں سے داخل ہوں لیکن آپ کی یہ تدبیر اللہ کے کسی فیصلے پر اثر انداز نہیں ہوسکتی تھی۔
Ayah 12:69

وَ لَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّیْۤ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:69 in the Quran reader

اور جب وہ آئے یوسف کے پاس تو آپ نے اپنے بھائی کو اپنے پاس الگ بلا لیا اور اسے بتادیا کہ میں تمہارا بھائی ہوں تو اب مت غمگین ہونا اس پر جو یہ لوگ کرتے رہے ہیں

آیت 69 وَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّىْٓ اَنَا اَخُوْكَ آپ نے اپنے چھوٹے بھائی بن یا مین کو علیحدگی میں اپنے پاس بلایا اور ان پر اپنی شناخت ظاہر کردی کہ میں تمہارا بھائی یوسف ہوں جو بچپن میں کھو گیا تھا۔ فَلَا تَبْتَىِٕسْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ حضرت یوسف نے اپنے چھوٹے بھائی کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ مجھے اللہ نے اس اعلیٰ مقام تک پہنچایا ہے اور ہمیں آپس میں ملا بھی دیا ہے۔ چناچہ اب ان بڑے بھائیوں کے رویے پر تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اب سختی کے دن ختم ہوگئے ہیں۔
Ayahs 12:70–72

فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَایَةَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُهَا الْعِیْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ Open ayah 12:70 in the Quran reader

پھر جب آپ نے ان کے لیے ان کا سامان تیار کرا دیا تو رکھ دیا پینے کا پیالہ اپنے بھائی کے سامان میں پھر ایک پکارنے والے نے پکار لگائی کہ اے قافلے والو ! تم لوگ چور ہو

قَالُوْا وَ اَقْبَلُوْا عَلَیْهِمْ مَّا ذَا تَفْقِدُوْنَ Open ayah 12:71 in the Quran reader

انہوں نے پوچھا ان کی طرف مڑ کر کہ آپ کی کیا چیز گم ہوئی ہے

قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَ لِمَنْ جَآءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّ اَنَا بِهٖ زَعِیْمٌ Open ayah 12:72 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں بادشاہ کا جام زریں نہیں مل رہا اور جو اسے لے آئے گا اسے ایک اونٹ کے بوجھ کے برابر غلہ دیا جائے گا اور میں اس کا ذمہ دار ہوں

آیت 70 فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَايَةَ فِيْ رَحْلِ اَخِيْهِ یہ بادشاہ کا خصوصی جام تھا جو سونے کا بنا ہوا تھا۔ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَيَّــتُهَا الْعِيْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ جب وہ قافلہ چل پڑا تو اسے روک لیا گیا کہ ہمارے ہاں سے کوئی چیز چوری ہوئی ہے اور ہمیں اس بارے میں تم لوگوں پر شک ہے۔
Ayah 12:73

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كُنَّا سٰرِقِیْنَ Open ayah 12:73 in the Quran reader

انہوں نے کہا : اللہ کی قسم آپ لوگ خوب جانتے ہیں کہ ہم زمین میں فساد مچانے نہیں آئے اور ہم چوری کرنے والے ہرگز نہیں ہیں

آیت 73 قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِي الْاَرْضِ وَمَا كُنَّا سٰرِقِيْنَ آپ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم قحط کے مارے لوگ یہاں اتنی دور سے غلہ لینے آئے ہیں ہم کوئی چور ڈاکو نہیں ہیں۔ ان کے اس فقرے اور انداز گفتگو میں بڑی لجاجت پائی جاتی ہے۔
Ayah 12:74

قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 12:74 in the Quran reader

انہوں (شاہی ملازمین) نے کہا کہ پھر اس (چور) کی کیا سزا ہوگی اگر تم لوگ جھوٹے ہوئے

آیت 74 قَالُوْا فَمَا جَزَاۗؤُهٗٓ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِيْنَ یعنی اگر تم لوگ اپنے اس دعوے میں جھوٹے نکلے اور تم میں سے ہی کوئی شخص چور ہوا تو پھر اس شخص کی کیا سزا ہونی چاہیے ؟
Ayah 12:75

قَالُوْا جَزَآؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَآؤُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 12:75 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ اس کی سزا یہی ہے کہ جس کے سامان میں وہ (جام زریں) پایا جائے وہ خود ہی اس کا بدلہ ہوگا۔ ہم تو اسی طریقے سے ظالموں کو سزا دیا کرتے ہیں

آیت 75 قَالُوْا جَزَاۗؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِيْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَاۗؤُهٗ ۭ كَذٰلِكَ نَجْزِي الظّٰلِمِيْنَ انہوں نے کہا کہ ہاں اگر ایسا ہوا تو پھر جس کے سامان میں سے آپ کا جام نکل آئے سزا کے طور پر آپ لوگ اسے اپنے پاس رکھ لیں وہ آپ کا غلام بن جائے گا۔ ہمارے ہاں تو شریعت ابراہیمی کی رو سے چوری کے جرم کی یہی سزا رائج ہے۔
Ayah 12:76

فَبَدَاَ بِاَوْعِیَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِیْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَآءِ اَخِیْهِ١ؕ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِیُوْسُفَ١ؕ مَا كَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاهُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِكِ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ فَوْقَ كُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ Open ayah 12:76 in the Quran reader

تو آپ نے (تلاشی) شروع کی ان کے بوروں کی اپنے بھائی کے بورے سے پہلے پھر آپ نے نکال لیا وہ (جام) اپنے بھائی کے سامان سے اس طرح سے ہم نے تدبیر کی یوسف کے لیے آپ کے لیے ممکن نہیں تھا کہ اپنے بھائی کو روکتے بادشاہ کے قانون کے مطابق سوائے اس کے کہ اللہ چاہے ہم درجے بلند کرتے ہیں جس کے چاہتے ہیں۔ اور ہر صاحب علم کے اوپر کوئی اور صاحب علم بھی ہے

كَذٰلِكَ كِدْنَا لِيُوْسُفَ یہ ایک ایسی تدبیر تھی جس میں توریے کا سا انداز تھا اور اس سے مقصود کسی کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ اس پورے خاندان کو آپس میں ملانا تھا۔ اس تدبیر کی ذمہ داری اللہ نے خود لی ہے کہ حضرت یوسف نے اپنی طرف سے ایسا نہیں کیا تھا بلکہ اللہ نے آپ کے لیے یہ ایک راہ نکالی تھی۔ یہ وضاحت اس لیے ضروری تھی تاکہ کسی ذہن میں یہ اشکال پیدا نہ ہو کہ ایسی تدبیر اختیار کرنا شان نبوت کے منافی ہے۔ یہاں پر یہ نکتہ لائق توجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اختیار بھی مطلق ہے اور اس کا علم بھی ہر شے پر محیط ہے۔ اللہ کو تو علم تھا کہ یہ عارضی سا معاملہ ہے اور اس سے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ مَا كَانَ لِيَاْخُذَ اَخَاهُ فِيْ دِيْنِ الْمَلِكِ اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللّٰهُ لفظ ”دین“ کی تعریف definition کے اعتبار سے قرآن کی یہ آیت بہت اہم ہے۔ یہاں دِیْنِ الْمَلِکِ بادشاہ کے دین سے مراد وہ نظام ہے جس کے تحت بادشاہ اس پورے ملک کو چلا رہا تھا ‘ جس میں بادشاہ اقتدار اعلیٰ Sovereignty کا مالک تھا۔ اس کا اختیار مطلق تھا ‘ اس کا ہر حکم قانون تھا اور پورا نظام سلطنت و مملکت اس کے تابع تھا۔ اس حوالے سے ”دین اللہ“ کی اصطلاح بہت آسانی سے واضح ہوجاتی ہے۔ چناچہ اگر اللہ کے اقتدار Sovereignty اور اختیار مطلق کو تسلیم کر کے پورا نظام زندگی اس کے تابع کردیا جائے تو یہی ”دین اللہ“ کا عملی ظہور ہوگا۔ یہی وہ کیفیت تھی جو ”دین اللہ“ کے غلبے کے بعد جزیرہ نمائے عرب میں پیدا ہوئی تھی اور جس کی گواہی سورة النصر میں اس طرح دی گئی ہے : اِذَاجَآءَ نَصْرُاللّٰہِ وَالْفَتْحُ وَرَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا۔ اسی طرح آج کا دین جسے عوام کی فلاح کا ضامن قرار دیا جا رہا ہے ”دین الجمہور“ ہے۔ اس دین یا نظام میں قانون سازی کا اختیار جمہور یعنی عوام یا عوام کے نمائندوں کو حاصل ہے وہ جسے چاہیں جائز قرار دیں اور جسے چاہیں ناجائز اور یہی سب سے بڑا کفر اور شرک ہے۔ بہر حال اس وقت مصر میں بادشاہی نظام رائج تھا جس کو حضرت یوسف بدل نہیں سکتے تھے کیونکہ آپ بادشاہ تو نہیں تھے۔ آپ کو جو اختیار حاصل تھا وہ اسی نظام کے مطابق اپنے شعبے اور محکمے کی حد تک تھا جس کے وہ انچارج تھے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے یہ تدبیر نکالی۔ آپ کے بھائیوں سے پہلے یہ اقرار کرا لیا گیا کہ جس کے سامان سے وہ پیالہ برآمد ہوگا سزا کے طور پر اسے خود ہی غلام بننا پڑے گا اور اس طرح حضرت یوسف کے لیے جواز پیدا ہوگیا کہ وہ اپنے بھائی کو اپنے پاس روک سکیں۔ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَاۗءُ ۭ وَفَوْقَ كُلِّ ذِيْ عِلْمٍ عَلِيْمٌ یعنی علم کے لحاظ سے علماء کے درجات ہیں۔ ہر عالم کے اوپر اس سے بڑا عالم ہے اور یہ درجات اللہ تعالیٰ کی ذات پر جا کر اختتام پذیر ہوتے ہیں جو سب سے بڑا عالم ہے۔
Ayah 12:77

قَالُوْۤا اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَاَسَرَّهَا یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِهٖ وَ لَمْ یُبْدِهَا لَهُمْ١ۚ قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا١ۚ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:77 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہے تو اس سے پہلے اس کا بھائی بھی چوری کرچکا ہے اس کو چھپائے رکھا یوسف نے اپنے جی میں اور ان پر ظاہر نہیں ہونے دیا آپ نے (دل ہی دل میں) کہا کہ تم بجائے خود بہت برے لوگ ہو اور جو کچھ تم بیان کر رہے ہو اللہ اس سے خوب واقف ہے

آیت 77 قَالُوْٓا اِنْ يَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ برادران یوسف کی طبیعت کا ہلکا پن ملاحظہ ہو کہ اس پر انہوں نے فوراً کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہے تو اس سے یہ بعید نہیں تھا کیونکہ ایک زمانے میں اس کے ماں جائے بھائی یوسف نے بھی اسی طرح کی حرکت کی تھی۔ قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا ۚ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ انہوں نے آپ پر بھی فوراً چوری کا بےبنیاد الزام لگا دیا مگر آپ نے کمال حکمت اور صبر سے اسے برداشت کیا اور اس پر کسی قسم کا کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔
Ayahs 12:78–79

قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَیْخًا كَبِیْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:78 in the Quran reader

وہ کہنے لگے : اے عزیز (صاحب اختیار) ! اس کا والد جو ہے بہت بوڑھا ہے تو آپ اس کی جگہ ہم میں سے کسی ایک کو رکھ لیں ہم دیکھ رہے ہیں کہ آپ بڑے ہی نیک انسان ہیں

قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 12:79 in the Quran reader

یوسف نے فرمایا : اللہ کی پناہ اس بات سے کہ ہم پکڑ لیں کسی اور کو اس شخص کے بجائے جس کے پاس سے ہم نے اپنا مال برآمد کیا ہے یقیناً اس صورت میں تو ہم ظالم ہوں گے

اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ یہ صورت حال ان لوگوں کے لیے بہت پریشان کن تھی۔ باپ کا اعتماد وہ پہلے ہی کھو چکے تھے۔ اس دفعہ اللہ کے نام پر عہد کر کے بن یامین کو اپنے ساتھ لائے تھے۔ اب خیال آتا تھا کہ اگر اسے یہاں چھوڑ کر واپس جاتے ہیں تو والد کو جا کر کیا منہ دکھائیں گے۔ چناچہ وہ گڑ گڑانے پر آگئے اور حضرت یوسف کی منت سماجت کرنے لگے کہ آپ بہت شریف اور نیک انسان ہیں ‘ آپ ہم میں سے کسی ایک کو اس کی جگہ اپنے پاس رکھ لیں مگر اس کو جانے دیں۔
Ayah 12:80

فَلَمَّا اسْتَیْئَسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِیًّا١ؕ قَالَ كَبِیْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَیْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَ مِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُّمْ فِیْ یُوْسُفَ١ۚ فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰى یَاْذَنَ لِیْۤ اَبِیْۤ اَوْ یَحْكُمَ اللّٰهُ لِیْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 12:80 in the Quran reader

پھر جب وہ یو سف سے مایوس ہوگئے تو علیحدگی میں جا کر مشورہ کرنے لگے ان کے بڑے نے کہا : کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے والد نے تم سے اللہ کے نام پر پختہ عہد لیا ہوا ہے اور (کیا تم نہیں جانتے) جو زیادتی اس سے پہلے تم یوسف کے معاملے میں کرچکے ہو اب میں تو اس سر زمین سے نہیں ہلوں گا یہاں تک کہ میرے والد خود مجھے اجازت دے دیں یا پھر اللہ ہی میرے بارے میں کوئی فیصلہ کردے اور یقیناً وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے

قَالَ كَبِيْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْٓا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَيْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ ان کے سب سے بڑے بھائی کا نام یہودا تھا یہ وہی تھے جنہوں نے مشورہ دے کر حضرت یوسف کی جان بچائی تھی کہ اگر تم اس کی جان کے درپے ہوگئے ہو تو اسے قتل مت کرو بلکہ کسی دور دراز علاقے میں پھینک آؤ۔ فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰى يَاْذَنَ لِيْٓ اَبِيْٓ تم لوگ جا کر والد صاحب کو سارا واقعہ بتاؤ پھر اگر وہ مطمئن ہو کر مجھے اجازت دے دیں تو تب میں واپس جاؤں گا ورنہ میں ادھر ہی رہوں گا۔