Ayahs 50:40–45نماز مغرب وعشاء کی تاکید نیز تہجد سے کیا مراد ہے
قول باری ہے (ومن اللیل فسبحہ۔ اور رات میں بھی اس کی تسبیح کیجئے) مجاہد کا قول ہے اس سے صلوٰۃ اللیل یعنی تہجد کی نماز مراد ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس سے مغرب اور عشاء کی نمازیں مراد لینا بھی جائز ہے۔
نمازوں کے بعد تسبیحات
قول باری ہے (وادبار السجود۔ اور نمازوں کے بعد بھی) حضرت عمر ؓ ، حضرت علی ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت حسن بن علی ؓ ، حسن بصری، مجاہد، نخعی اور شعبی نے اس کی تفسیر میں کہا ہے کہ اس سے مغرب کی نماز کے بعد دو رکعتیں اور (وادبار النجوم اور ستاروں سے پیچھے بھی) سے فجر کی نماز سے پہلے دو رکعتیں مراد ہیں۔
حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہی مروی ہے ۔ مجاہد نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ قول باری (وادبار السجود) کا مفہوم یہ ہے کہ جب تم اپنی پیشانی زمین پر رکھو تو تین دفعہ تسبیح کرو۔
ابوبکرحبصاص کہتے ہیں کہ ہم نے شروع میں جن حضرات کے اقوال نقل کیے ہیں وہ سب اس پر متفق ہیں کہ قول باری (فسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل الغروب) سے نماز مراد ہے، اسی طرح (ومن اللیل فسبحہ) صلوٰۃ اللیل یعنی مغرب اور عشاء کی نمازیں ہیں اس سے یہ واجب ہوگیا کہ (وادبار السجود) سے نماز ہی مراد لی جائے کیونکہ اس میں لفظ ” فسبحہ “ پوشیدہ ہے۔ حضور ﷺ سے ہر نماز کے بعد تسبیح مروی ہے لیکن اس میں یہ ذکر نہیں ہے کہ یہ آیت کی تفسیر ہے۔
محمد بن سیرین نے کثیر بن افلح سے اور انہوں نے حضرت زید بن ثابت ؓ سے روایت کی ہے کہ ہمیں حضور ﷺ نے ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ ، تینتیس مرتبہ الحمد للہ اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر پڑھنے کا حکم دیا۔ پھر ایک انصاری کو خواب میں یہ کہا گیا کہ حضور ﷺ نے تمہیں ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمد للہ اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر پڑھنے کو کہا ہے، اگر تم انہیں پچیس پچیس مرتبہ پڑھو اور ان کے ساتھ لا الہ الا اللہ پچیس مرتبہ پڑھو تو ایسا کرلو۔ “ حضور ﷺ سے جب اس بات کا ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ” ایسا ہی کرلو۔ “
سمی نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ لوگوں نے حضور ﷺ سے عرض کیا : ” اللہ کے رسول ! مالدار لوگ تمام درجات اور ہمیشہ باق رہنے والی نعمتیں سمیٹ کرلے گئے۔ “ آپ ؐ نے پوچھا : ” وہ کیسے ؟ “ انہوں نے عرض کیا۔ وہ ہماری طرح نمازیں پڑھتے اور جہاد کرتے ہیں، نیز وہ اپنے زائد مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں جبکہ ہمارے پاس اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے کوئی مال نہیں ہے۔ “
یہ سن کر آپ ﷺ نے فرمایا : ” میں تمہیں ایسا عمل نہ بتائوں جسے کرکے تم ان لوگوں کے مرتبے پر پہنچ جائو گے جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں اور بعد میں آنے والوں سے آگے نکل جائو گے، کوئی شخص تم جیسا عمل نہیں کرسکے گا البتہ صرف وہی شخص تمہارے درجے تک پہنچ سکے گا جو یہ عمل (جو ابھی میں تمہیں بتانے والا ہوں) کرے گا۔
وہ عمل یہ ہے کہ ہر نماز کے بعد دس مرتبہ سبحان اللہ، دس مرتبہ الحمد للہ اور دس مرتبہ اللہ اکبر پڑھو۔ “ حضرت ابوذر ؓ نے بھی حضور ﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے البتہ انہوں نے ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ تینتیس مرتبہ الحمد للہ اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر پڑھنے کا ذکر کیا ہے۔
حضرت کعب بن عجرہ ؓ نے حضور ﷺ سے اسی قسم کی روایت کی ہے جس میں چونتیس مرتبہ اللہ اکبر کہنے کا ذکر ہے۔ ابوہارون العبدی نے حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ کو نماز کے آخر میں واپس ہوتے وقت یہ پڑھتے ہوئے سنا ہے ” سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون وسلام علی المرسلین، والحمد للہ رب العلمین۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اگر آیت کے معنی کو وجوب پر محمول کیا جائے تو قول باری (فسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس) کو فجر کی نماز اور (وقبل الغروب) کو ظہر اور عصر کی نمازوں پر محمول کیا جائے گا۔ اسی طرح حسن سے مروی ہے کہ قول باری (ومن اللیل فسبحہ) مغرب اور عشاء کی نمازوں پر محمول ہے۔
اس طرح یہ آیت پانچوں فرض نمازوں ک ومتضمن ہوجائے گی۔ لفظ تسبیح سے نماز کی تعبیر کی گئی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ تسبیح کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو ان تمام باتوں سے پاک قرار دیا جائے جو اس کی شان کے لائق نہیں ہیں اور نماز بھی قرات قرآن بھی اذکار پر مستعمل ہوتی ہے جو بعینہ تنزیہہ باری تعالیٰ ہے۔