25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsاحکام القرآن

Ayahs 25:49–54

لِّنُحْیَِۧ بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا وَّ نُسْقِیَهٗ مِمَّا خَلَقْنَاۤ اَنْعَامًا وَّ اَنَاسِیَّ كَثِیْرًا Open ayah 25:49 in the Quran reader

تاکہ اس سے شہر مردہ (یعنی زمین افتادہ) کو زندہ کردیں اور پھر ہم اسے بہت سے چوپایوں اور آدمیوں کو جو ہم نے پیدا کیے ہیں پلاتے ہیں

وَ لَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَیْنَهُمْ لِیَذَّكَّرُوْا١ۖ٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 25:50 in the Quran reader

اور ہم نے اس (قرآن کی آیتوں) کو طرح طرح کے لوگوں میں بیان کیا تاکہ نصیحت پکڑیں مگر بہت سے لوگوں نے انکار کے سوا قبول نہ کیا

وَ لَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ نَّذِیْرًا٘ۖ Open ayah 25:51 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ڈرانے والا بھیج دیتے

فَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ جَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِیْرًا Open ayah 25:52 in the Quran reader

تو تم کافروں کا کہا نہ مانو اور ان سے اس (قرآن) کے حکم کے مطابق بڑے شدو مد سے لڑو

وَ هُوَ الَّذِیْ مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ۚ وَ جَعَلَ بَیْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:53 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے دو دریاؤں کو ملا دیا ایک کا پانی شیریں ہے پیاس بجھانے والا اور دوسرے کا کھاری چھاتی جلانے والا اور دونوں کے درمیان ایک آڑ اور مضبوط اوٹ بنادی

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَهٗ نَسَبًا وَّ صِهْرًا١ؕ وَ كَانَ رَبُّكَ قَدِیْرًا Open ayah 25:54 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے پانی سے آدمی پیدا کیا پھر اس کو صاحب نسب اور صاحب قرابت دامادی بنایا اور تمہارا پروردگار (ہر طرح کی) قدرت رکھتا ہے

نسب اور سسرالی رشتے قول باری ہے : (وھوالذی خلق من الماء بشرا وجعلہ نسبا وطھوا) اور وہی ہے جس نے پانی سے ایک بشر پیدا کیا اور پھر اس نے نسب اور سسرال کے دو الگ الگ سلسلے چلائے۔ یہاں وہ پانی مراد لینا جائز ہے جس سے جانداروں کی اصل پیدا کی گئی جس کا ذکر اس قول باری میں ہے : (وجعلنا من الماء کل شیء حی) اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی، اور اس سے وہ نطفہ مراد لینا بھی درست ہے جس سے اولاد آدمی کی تخلیق ہوئی۔ قول باری (فجعلہ نسبا وصھرا) کی تفسیر میں طائوس کا قول ہے کہ رضاعت بھی صہر یعنی سسرال میں داخل ہے۔ ایک روایت کے مطابق ضحاک کا قول ہے کہ نسب سے مراد رضاعت ہے اور صہر سے مراد دامادی رشتہ ہے۔ فراء کا قول ہے کہ سب سے محرم رشتہ دار مراد ہے جس سے نکاح جائز نہیں ہوتا اور صہر سے غیر محرم رشتہ دار مراد ہے جس کے ساتھ نکاح جائز ہوتا ہے۔ مثلاً چچازاد بہنیں وغیرہ۔ ایک قول کے مطابق نسب سے قریبی رشتہ داری مراد ہے اور صہر سے مخلوط رشتہ داری مراد ہے جو قریبی رشتہ داری کے مشابہ ہوتی ہے۔ ضحاک کا قول ہے نسب کے تحت سات قسم کے رشتہ دار آتے ہیں جن کا ذکر قول باری (حرمت علیکم امھاتکم) لے سے کر قول باری (وبنات الاخت) تک ہوا ہے اور صہر کے تحت پانچ رشت دار آتے ہیں جن کا ذکر قول باری (وامھاتکم اللاتی اضعنکم) سے لے کر قول باری (وحلائل ابناء کم الذین من اصلابکم) تک ہوا ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اصہار کے سلسلے میں متعارف بات یہی ہے کہ ان سے ایک شخص کی بیویوں کا ہر وہ محرم رشتہ دار مراد ہے جس کی طرف اس شخص یعنی شوہر کی نسبت ہوتی ہے۔ اسی بنا پر ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ اگر کوئی شخص کسی شخص کے اصہار کے لئے وصیت کر جائے تو یہ وصیت اس شخص کی بیویوں کے ہر محرم رشتہ دار کے لئے جاری کی جائے گی۔ لوگوں کی عام گفتگو اور محاورے سے یہی مفہوم متعارف ہے۔ بیٹی کے شوہر یعنی داماد کو ختن کہتے ہیں۔ اسی طرح ہر اس عورت کو ختن کہتے ہیں جو اس مرد کے لئے محرم ہوتی ہے جس کی طرف داماد کی نسبت کی جاتی ہے۔ نیز شوہر کے تمام محرم مرد رشتہ دار بھی اس کے سسرال کے ختن کہلاتے ہیں ۔ کبھی صہر کا لفظ ختن یعنی داماد کی جگہ استعمال ہوتا ہے اور عرب کے لوگ داماد کو بھی صہر کہہ دیتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے ؎ سمیتھا اذا ولدت تموت والقبر صھر ضامن زمیت جب یہ بچی پیدا ہوئی تھی اس وقت ہی میں نے اس کا نام ” تموت “ (جلد مرجائے) رکھ دیا تھا دراصل قبرہی بڑا باوقار اور ذمہ دار داماد ہوتا ہے یعنی ایک بچی کی قبر ہی کے اندر درست طریقے سے حفاظت ہوسکتی ہے۔ یہاں شاعر نے صہر کہہ کر داماد مراد لیا ہے جو ان کی گفتگو اور روز مرہ بول چال کی متعارف صورت پر محمول ہے۔
Ayahs 25:55–62

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُهُمْ وَ لَا یَضُرُّهُمْ١ؕ وَ كَانَ الْكَافِرُ عَلٰى رَبِّهٖ ظَهِیْرًا Open ayah 25:55 in the Quran reader

اور یہ لوگ خدا کو چھوڑ کر ایسی چیز کی پرستش کرتے ہیں کہ جو نہ انکو فائدہ پہنچا سکے اور نہ ضرر اور کافر اپنے پروردگار کی مخالفت میں بڑا زور مارتا ہے

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا Open ayah 25:56 in the Quran reader

اور (اے محمد) ہم نے آپ کو صرف خوشی اور عذاب کی خبر سنانے کو بھیجا ہے

قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَآءَ اَنْ یَّتَّخِذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا Open ayah 25:57 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں تم سے اس (کام) کی اجرت نہیں مانگتا ہاں جو شخص چاہے اپنے پروردگار کی طرف (جانے کا) راستہ اختیار کرے

وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَمُوْتُ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِهٖ١ؕ وَ كَفٰى بِهٖ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرَا٤ۚۛۙ Open ayah 25:58 in the Quran reader

اور اس (خدائے) زندہ پر بھروسہ رکھو جو (کبھی) نہیں مرے گا اور اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح ہی کرتے رہو اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے خبر رکھنے کو کافی ہے

اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ۛۚ اَلرَّحْمٰنُ فَسْئَلْ بِهٖ خَبِیْرًا Open ayah 25:59 in the Quran reader

جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا وہ (جس کا نام) رحمن (یعنی بڑا مہربان) ہے تو اس کا حال کسی باخبر سے دریافت کرلو

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اسْجُدُوْا لِلرَّحْمٰنِ قَالُوْا وَ مَا الرَّحْمٰنُ١ۗ اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا وَ زَادَهُمْ نُفُوْرًا۠۩ Open ayah 25:60 in the Quran reader

اور جب ان (کفار) سے کہا جاتا ہے کہ رحمن کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں کہ رحمن کیا ؟ کیا جس کے لئے تم ہم سے کہتے ہو ہم اسکے آگے سجدہ کریں اور اس سے بدکتے ہیں

تَبٰرَكَ الَّذِیْ جَعَلَ فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ جَعَلَ فِیْهَا سِرٰجًا وَّ قَمَرًا مُّنِیْرًا Open ayah 25:61 in the Quran reader

اور (خدا) بڑی برکت والا ہے جس نے آسمانوں میں برج بنائے اور ان میں (آفتاب کا نہایت روشن) چراغ اور چمکتا ہوا چاند بھی بنایا

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ خِلْفَةً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّذَّكَّرَ اَوْ اَرَادَ شُكُوْرًا Open ayah 25:62 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والا بنایا (یہ باتیں) اس شخص کے لئے جو غور کرنا چاہے یا شکر گزاری کا ارادہ کرے (سوچنے اور سمجھنے کی ہیں )

رات دن ایک دوسرے کے جانشین ہیں قول باری ہے : (وھوالذی جعل اللیل والنھار خلفۃ) وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کا جانشین بنایا۔ تاآخر آیت۔ شمر بن عطیہ نے ابن سلمہ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص حضرت عمر ؓ کے پاس آکر کہنے لگا۔ امیر المومنین مجھ سے نماز رہ گئی ہے۔ “ آپ نے سن کر فرمایا ” رات کے وقت جو نماز تم سے رہ گئی ہے اس کے بدلے میں دن کے وقت نماز پڑھ لو۔ “ یعنی اس کی قضا دا کرلو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے جانشین بنایا ہے ہر اس شخص کے لئے جو سبق لینا چاہے یا شکر گزار ہونا چاہے۔ “ یونس نے ابن شہاب سے انہوں نے السائب بن زید اور عبداللہ بن عتبہ سے، انہوں نے عبدالرحمن بن عبدالقاری سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے :” جو شخص رات کے وقت اپنی معمول کی تلاوت وغیرہ یاس اس کے کسی جز سے یا کسی بنا پر رہ جائے اور پھر صبح کی نماز سے لے کر ظہر کی نماز کے دوران پڑھ لے تو اس کا شمار یوں ہوگا گویا کہ اس نے رات کے وقت حسب معمول تلاوت کی ہے۔ حسن کا قول ہے کہ (جعل اللیل والنھار خلفۃ) کا مفہوم یہ ہے کہ ایک کو دوسرے کا جانشین بنادیا گیا ہے۔ اگر دن کے اوقات میں کوئی عبادت وغیرہ رہ جائے تو وہ اسے رات کے وقت ادا کرسکتا ہے اور اس کے برعکس بھی۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ بات قول باری (واقم الصلوٰۃ لذکری ) اور میری یاد میں نماز قائم کرو، سے ملتی جلتی ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے : (من تام عن صلونۃ وانسیھا فلیصلھا اذاذ کرھا فان ذلک وقتھا۔ جو شخص سوتار ہ جائے اور نماز ادا نہ کرے یا نماز ادا کرنا بھول جائے تو جس وقت اسے یاد آجائے اس وقت ہی وہ اس نماز کی ادائیگی کرکے کیونکہ یہی وقت اس نماز کا وقت ہے) ۔ مجاہد سے (خلفۃ) کی تفسیر میں مروی ہے کہ ان میں سے ایک تاریک اور دوسرا روشن ہے ایک قول کے مطابق ایک چلا جاتا ہے اور اس کی جگہ دوسرا آجاتا ہے۔
Ayah 25:63

وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا Open ayah 25:63 in the Quran reader

اور خدا کے بندے تو وہ ہیں جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان سے (جاہلانہ) گفتگو کرتے ہیں تو سلام کہتے ہیں

رحمن کے اصلی بندے قول باری ہے : (وعبادالرحمن الذین یمشون علی الارض ھونا۔ ) رحمن کے (اصلی) بندے وہ ہیں جو زمین پر نرم چال چلتے ہیں، ابن نجیح نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ (ھونا) کا مفہوم وقار اور سکون ہے یعنی ” وہ زمین پر بڑے وقار اور سکون سے چلتے ہیں۔ “ قول باری : (واذا اخاطبھم الجاھلون قالوا سلاما۔ ) اور جاہل ان کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام کی تفسیر میں ان کا قول ہے جب جاہل ان کے منہ آئیں تو وہ درست بات کہتے ہیں۔ حسن سے (یمشون علی الارض ھون) کی تفسیر میں منقول ہے کہ ” بہت ہی متحمل مزاج بن کر چلتے ہیں کسی سے نہیں الجھتے اور اگر کوئی الجھے تو بردباری کا مظاہرہ کرتے ہیں گویا کہ ڈر گئے ہوں حالانکہ ان میں تیروں کی طرح لچک ہوتی ہے۔ اللہ کے بندوں کے دن اس طرح گزرتے ہیں اور وہ اسی تحمل مزاجی کے ساتھ لوگوں میں چلتے پھرتے رہتے ہیں۔ “ قول باری : والذین یبتون لربھم سجا وقیاما جو اپنے رب کے حضور سجدے اور قیام میں راتیں گزارتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ” اللہ کے بندوں کی یہ راتیں ہیں۔ جب رات آجاتی ہے تو ان کے چاروں طرف پردے ڈال دیتی ہے اور پھر یہ رب کے سامنے رہ جاتے ہیں۔ “ حضرت ابن عباس ؓ سے (یمشون علی الارض ھوز) کی تفسیر میں منقول ہے کہ ” اللہ کے بندے زمین میں تواضع اور انکساری کی چال چلتے ہیں اور کسی تکبر کا مظاہر ہ نہیں کرتے۔ “
Ayahs 25:64–65

وَ الَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا Open ayah 25:64 in the Quran reader

اور جو اپنے پروردگار کے آگے سجدہ کر کے اور (عجز و ادب) سے کھڑے رہ کر راتیں بسر کرتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ١ۖۗ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًاۗۖ Open ayah 25:65 in the Quran reader

اور وہ جو دعا مانگتے رہتے ہیں کہ اے پروردگار دوزخ کے عذاب کو ہم سے دور رکھیو کہ اس کا عذاب بڑی تکلیف کی چیز ہے

قول باری ہے : (ان عذابھا کان غراما۔ اس کا عذاب تو جان کا لاگو ہے۔ ) ایک قول کے مطابق (غراما) کے معنی لازم، چمٹ جانے والا اور ہمیشہ ساتھ لگا رہنے والا کے ہیں۔ اسی سے غریم یعنی قرض خواہ کا لفظ نکلا ہے کیونکہ قرض خواہ اپنے مقروض کے ساتھ چمٹا رہتا ہے ۔ اسی سے یہ محاورہ بھی ہے۔ ” انہ لمغرم بانسانء “ (فلاں شخص عورتوں کا دیوانہ ہے) یعنی ان کے پیچھے لگا رہتا ہے اور اسے ان کے بغیر چین نہیں آتا۔ اعشیٰ کا شعر ہے۔ ان یعاقب یکن غراما وان یعط جزیلا فانہ لا یبالی اگر اسے سزا دی جائے تو وہ دیوانہ ہوجائے گا اور اگر اسے بڑا حصہ دیا جائے تو اس کی پروا نہیں کرے گا۔ بشر بن ابی حازم کا شعر ہے : یوم النسار ویوم الجفا وکان عذابا وکان غراما جدائی کا دن اور جفا کا دن یہ دونوں دن عذاب کے اور جان کے لاگو دن ہیں۔ ہمیں ثعلب کے غلام ابوعمر نے بتایا ہے کہ لغت میں غرم کے اصلی معنی لزوم کے ہیں۔ پھر اس نے اس کی تائید میں وہ شواہد پیش کیے جو ہم اوپر بیان کر آئے ہیں۔ قرض کو غرم اور مغرم کا نام دیا جاتا ہے اس لئے کہ وہ لزوم اور مطالبہ کا مقتضی ہوتا ہے ۔ طالب کو عزیم کہا جاتا ہے اس لئے کہ اسے لزوم کا حق ہوتا ہے اور مطلوب کو بھی غریم کہا جاتا ہے کیونکہ اس کے خلاف لزوم کا ثبوت ہوتا ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد (لا یغلق الرھن لصاحیہ غنمہ وعلیہ غرمہ) رہن کے فائدے سے اس کے مالک کو بند نہیں رکھا جائے گا اور اس پر اس کا قرض لازم ہوگا، بھی اسی پر محمول ہے یعنی غرم سے مراد اس کا وہ قرض ہے جس کے ساتھ وہ شخص مرہون اور جکڑا ہوا ہے۔ امام شافعی کا خیال ہے کہ غرم کے معنی ہلاک ہوجانے کے ہیں۔ ابو عمر نے بتایا ہے ک لغت کے لحاظ سے یہ بات غلط ہے۔ جن سے مروی ہے کہ ہر قرض خواہ اپنے مقروض کا پیچھا چھوڑ دے گا لیکن جہنم اپنے مقروض کا پیچھا نہیں چھوڑے گی۔
Ayahs 25:66–67

اِنَّهَا سَآءَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا Open ayah 25:66 in the Quran reader

(اور) دوزخ ٹھہرنے اور رہنے کی بہت بری جگہ ہے

وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَیْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا Open ayah 25:67 in the Quran reader

اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ بےجا اڑاتے ہیں اور نہ تنگی کے کام میں لاتے ہیں بلکہ اعتدال کے ساتھ نہ ضرورت سے زیادہ نہ کم

قول باری ہے : (والذین اذا انفقوا لم یسرفوا ولم یقتروا وکان بین ذلک قواما۔ ) جو خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں نہ بخل، بلکہ دونوں کے درمیان اعتدال پر قائم رہتے ہیں ۔ ابن ابی نجیح نے مجاہد سے اس سلسلے میں روایت کی ہے کہ جو شخص اللہ کی نافرمانی میں ایک درہم بھی خرچ کرے گا وہ مسرف کہلائے گا (ولم یقتروا) انہوں نے کہا کہ اس سے بخل مراد ہے جس کے معنی اللہ کے حق کو روکنے کے ہیں۔ وکان بین ذلک قواما کی تفسیر انہوں نے یہ کی کہ ” اعتدال کی راہ اور طاعت خداوندی میں انفاق۔ “ ابن سیرین کا قول ہے سرف کے معنی ناحق خرچ کرنے کے ہیں۔
Ayah 25:68

وَ الَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ وَ لَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا یَزْنُوْنَ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ یَلْقَ اَثَامًاۙ Open ayah 25:68 in the Quran reader

اور وہ جو خدا کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور جس جاندار کو مار ڈالنا خدا نے حرام کیا ہے اس کو قتل نہیں کرتے مگر جائز طریق (یعنی حکم شریعت کے مطابق) اور بدکاری نہیں کرتے اور جو یہ کام کرے گا سخت گناہ میں مبتلا ہوگا

قول باری ہے : (والذین لا یدعون مع اللہ الھا اخر) جو اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں پکارتے تا آخر آیت۔ اعمش نے ابو وائل سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص حضور ﷺ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا کہ ” اللہ کے رسول ﷺ ! سب سے بڑا گناہ کونسا ہے ؟ “ آپ نے جواب دیا : ” سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ تم کسی کو اللہ کے مدمقابل ٹھہرائو حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا۔ “ اس نے عرض کیا : ” اس کے بعد کونسا ؟ “ آپ نے جواب دیا۔ اس کے بعد سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ تم اپنے بچے کو اس خوف سے مار ڈالو کہ کہیں وہ تمہارے ساتھ کھانے میں شریک نہ ہوجائے۔ “ اس نے پھر عرض کیا : ” اس کے بعد کونسا ؟ “ آپ نے فرمایا : یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے بدکاری کرو۔ “ اللہ تعالیٰ نے آپ کی تصدیق کرتے ہوئے اپنی کتاب میں : (والذین لا یدعون مع اللہ الھا اخر تا یلق اثاما) نازل فرمائی۔
Ayahs 25:69–72

یُّضٰعَفْ لَهُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ یَخْلُدْ فِیْهٖ مُهَانًاۗۖ Open ayah 25:69 in the Quran reader

قیامت کے دن اس کو دونا عذاب ہوگا اور ذلت و خواری سے اس میں ہمیشہ رہے گا

اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یُبَدِّلُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 25:70 in the Quran reader

مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اچھے کام کیے تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو خدا نیکیوں سے بدل دے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

وَ مَنْ تَابَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ یَتُوْبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا Open ayah 25:71 in the Quran reader

اور جو توبہ کرتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے تو بیشک وہ خدا کی طرف رجوع کرتا ہے

وَ الَّذِیْنَ لَا یَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَ١ۙ وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا Open ayah 25:72 in the Quran reader

اور وہ جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور جب ان کو بےہودہ چیزوں کے پاس سے گزرنے کا اتفاق ہو تو بزرگانہ انداز سے گزرتے ہیں

زور سے مراد آلات موسیقی قول باری ہے : (والذین لا یشھدون الزور۔ ) اور جو جھوٹ کے گواہ نہیں بنتے۔ امام ابوحنیفہ سے مروی ہے کہ زور ، غنا یعنی موسیقی اور گانے بجانے کو کہتے ہیں۔ قول باری : (ومن یشتری لھو الحدیث) اور جو شخص لہو ولعب کی باتیں خریدتا ہے کہ تفسیر میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو گانے والی عورت خریدتا ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے بھی یہی مروی ہے۔ مجاہد نے اس آیت کی تفسیر میں کا ہے کہ اس غنا اور ہر لہو ولعب مراد ہے۔ ابن ابی لیلیٰ نے عطا سے اور انہوں نے حضرت جابر ؓ سے روایت کی ہے حضور ﷺ نے فرمایا : ” مجھے دو بیہودہ قسم کی احمقانہ آوازوں سے روکا گیا ہے ، مصیبت کے وقت رونے کی آواز سے جس کے ساتھ چہرہ نوچنا ، گریبان پھاڑنا اور شیطان کی طرح آواز بلند کرنا ہوتا ہے ، نیز گانے کی آواز سے جس کے ساتھ لہو ولعب اور شیطانی آلات موسیقی ہوتے ہیں۔ “ عبیداللہ بن زحر نے بکربن سوادہ سے ، انہوں نے قیس بن سعد ؓ بن عبادہ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا۔ (ان اللہ حرم علی الخمروالکویۃ والعناء) اللہ تعالیٰ نے مجھ پر شراب ، شطرنج اور غنا یعنی گانا بجانا حرام کردیا ہے ۔ محمد ابن الحنیفہ نے قول باری (لا یشھدون الزور) کی تفسیر میں کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ تم اس چیز کے پیچھے مت پڑو جس کے متعلق کچھ علم نہ ہو۔ کان، آنکھ اور دل سے ان کے اعمال کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی۔ ابوبکر حبصاص اس تفسیر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ احتمال ہے کہ محمد بن الحنیفہ نے اس سے غنا یعنی گانا بجانا مراد لیا ہو جیسا کہ سلف سے اس کی یہی تفسیر منقول ہے اور یہ احتمال بھی ہے کہ ان کے نزدیک اس سے ایسی بات کہنا مراد ہو جس کا کہنے والے کو کوئی علم نہ ہو آیت کے لفظ کے عموم کی بنا پر اسے ان دونوں باتوں پر محمول کیا جاسکتا ہے۔ قول باری ہے : (واذا امروا باللغو مرواکراما) اور کسی لغو چیز پر ان کا گزر ہوجائے تو شریف آدمیوں کی طرح گزرجاتے ہیں۔ سعید بن جبیر اور مجاہد کا قول ہے کہ جب ان کی ایذارسانی کی جاتی ہے تو درگزر کرتے ہوئے شریف آدمیوں کی طرح گزر جاتے ہیں۔ ابومحزوم نے سنان سے روایت کی ہے کہ جب ان کا گزر فحش گوئی اور گندی گفتگو کی مجلس پر ہوتا ہے تو وہ اس میں شرکت سے باز رہتے ہیں۔ حسن کا قول ہے کہ لغو سارے کا سارا معاصی ہے۔ سدی کا قول ہے کہ یہ سورت مکی ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ سدی کی مراد یہ ہے کہ یہ آیتیں مشرکین کے ساتھ قتال کے حکم سے پہلے نازل ہوئی تھیں۔
Ayahs 25:73–74

وَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْهَا صُمًّا وَّ عُمْیَانًا Open ayah 25:73 in the Quran reader

اور وہ کہ جب انکو پروردگار کی باتیں سمجھائی جاتی ہیں تو ان پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گرتے (بلکہ غورو فکر سے سنتے ہیں )

وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا Open ayah 25:74 in the Quran reader

اور وہ جو (خدا سے) دعا مانگتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو ہماری بیویوں کی طرف سے (دل کا چین) اور اولاد کی طرف سے آنکھ کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا امام بنا

قرل باری (قوۃ اغین۔ آنکھوں کی ٹھنڈک) یعنی دنیا میں آنکھوں کی ٹھنڈک۔ اس کی صورت یہ ہے کہ انسان اپنی بیوی اور بھائی وغیرہ کو اللہ کی اطاعت میں مصروف دیکھے۔ ان کا قول ہے ” بخدا ایک مسلمان کی آنکھوں کی اس سے بڑھ کر ٹھنڈک نہیں ہے کہ وہ اپنی اولاد یا اپنے والدین یا اپنے بچوں کی اولاد یا بھائی یا دوست کو اللہ کا مطیع اور فرمانبردار پائے۔ “ سلمہ بن کہیل سے مروی ہے کہ ” اے اللہ ! ان کے ذریعہ بایں طور پر آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچا کر انہیں اپنی فرمانبرداری کی راہ پر گامزن کردے۔ “ ابو اسامہ نے احوص بن حکیم سے ، انہوں نے ابوالزاہریہ سے اور انہوں نے جبیر بن نفیر سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ سے کا ا رشاد ہے : (من رزق ایمانا وحسن خلق فذلک امام المتقین جس شخص کو ایمان اور حسن خلق نصیب ہوجائے وہی پرہیزگاروں کا امام ہوتا ہے) مجاہد اور حسن نے قول باری :(واجعلنا للمتقین اماما۔ اور ہم کو پرہیزگاروں کا امام بنا) کی تفسیر میں کہا ہے کہ ہم اپنے بزرگوں کی اقتدا کرتے ہیں تاکہ ہمارے بعد آنے والے ہماری اقتدا کریں۔
Ayahs 25:75–77

اُولٰٓئِكَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوْا وَ یُلَقَّوْنَ فِیْهَا تَحِیَّةً وَّ سَلٰمًاۙ Open ayah 25:75 in the Quran reader

ان (صفات کے) لوگوں کو ان کے صبر کے بدلے اونچے اونچے محل دیے جائیں گے اور وہاں فرشتے ان سے دعاو سلام کے ساتھ ملاقات کریں گے

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا Open ayah 25:76 in the Quran reader

اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور وہ ٹھہرنے اور رہنے کی بہت ہی عمدہ جگہ ہے

قُلْ مَا یَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّیْ لَوْ لَا دُعَآؤُكُمْ١ۚ فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ یَكُوْنُ لِزَامًا۠ Open ayah 25:77 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر تم (خدا کو) نہیں پکارتے تو میرا پروردگار بھی تمہاری کچھ پروا نہیں کرتا تم نے تکذیب کی ہے تو اسکی سزا (تمہارے لئے) لازم ہوگی

قول باری ہے : (قل ما یعبو بکم ربی لولا دعاء کم) ان سے کہو ” میرے رب کو تمہاری کیا حاجت پڑی ہے اگر تم اس کو نہ پکارو۔ “ مجاہد کا قول ہے : ” میرے رب کو تمہاری کیا ضرورت ہے جبکہ وہ تمہارا محتاج نہیں ہے “۔ اگر اس کی طرف سے تمہیں اس کی اطاعت کی دعوت نہ دی جاتی تو اس کا فائدہ تم ضرور حاصل کرتے۔