14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsاحکام القرآن

Ayahs 14:25–52

تُؤْتِیْۤ اُكُلَهَا كُلَّ حِیْنٍۭ بِاِذْنِ رَبِّهَا١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 14:25 in the Quran reader

اپنے پروردگار کے حکم سے ہر وقت پھل لاتا (اور میوے دیتا) ہو اور خدا لوگوں کے لئے مثالیں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔

وَ مَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِیْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِیْثَةِ اِ۟جْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ Open ayah 14:26 in the Quran reader

اور ناپاک بات کی مثال ناپاک درخت کی سی ہے (نہ جڑ مستحکم نہ شاخیں بلند) زمین کے اوپر ہی سے اکھیڑ کر پھینک دیا جائے اسکو ذرا بھی قرار (وثبات) نہیں۔

یُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ یُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِیْنَ١ۙ۫ وَ یَفْعَلُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ۠ Open ayah 14:27 in the Quran reader

خدا مومنوں (کے دلوں) کو (صحیح اور) پکی بات سے دنیا کی زندگی میں بھی مضبوط رکھتا ہے اور آخرت میں بھی (رکھے گا) اور خدا بےانصافوں کو گمراہ کردیتا ہے۔ اور خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے۔

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّ اَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِۙ Open ayah 14:28 in the Quran reader

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے خدا کے احسان کو ناشکری سے بدل دیا۔ اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر میں اتارا ؟

جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْقَرَارُ Open ayah 14:29 in the Quran reader

(وہ گھر) دوزخ ہے۔ (سب ناشکرے) اس میں داخل ہونگے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعُوْا فَاِنَّ مَصِیْرَكُمْ اِلَى النَّارِ Open ayah 14:30 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے خدا کے شریک مقرر کئے کہ (لوگوں کو) اسکے راستے سے گمراہ کریں۔ کہہ دو کہ (چند روز) فائدے اٹھالو آخر تم کو دوزخ کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خِلٰلٌ Open ayah 14:31 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ میرے مومن بندوں سے کہہ دو کہ نماز پڑھا کریں اور اس دن کے آنے سے پیشتر جس میں نہ (اعمال کا) سودا ہوگا اور نہ دوستی (کام آئے گی) ہمارے دیئے ہوئے مال میں سے درپردہ اور ظاہر خرچ کرتے رہیں۔

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِیَ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْاَنْهٰرَۚ Open ayah 14:32 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور آسمان سے مینہ برسایا۔ پھر اس سے تمہارے کھانے کے لئے پھل پیدا کئے۔ اور کشتیوں ( اور جہازوں) کو تمہارے زیر فرمان کیا تاکہ دریا (اور سمندر) میں اسکے حکم سے چلیں۔ اور نہروں کو بھی تمہارے زیرفرمان کیا۔

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ دَآئِبَیْنِ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَۚ Open ayah 14:33 in the Quran reader

اور سورج اور چاند کو تمہارے لئے کام میں لگا دیا کہ دونوں (دن رات) ایک دستور پر چل رہے ہیں۔ اور رات اور دن کو بھی تمہاری خاطر کام میں لگا دیا۔

وَ اٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ١ؕ وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ۠ Open ayah 14:34 in the Quran reader

اور جو کچھ تم نے مانگا سب میں سے تم کو عنایت کیا۔ اور اگر خدا کے احسان گننے لگو تو شمار نہ کرسکو۔ (مگر لوگ نعمتوں کا شکر نہیں کرتے) کچھ شک نہیں کہ انسان بڑا بےانصاف اور ناشکرا ہے۔

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّ اجْنُبْنِیْ وَ بَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَؕ Open ayah 14:35 in the Quran reader

اور جب ابراہیم نے دعا کی کہ میرے پروردگار اس شہر کو (لوگوں کے لئے) امن کی جگہ بنا دے اور مجھے اور میری اولاد کو اس بات سے کہ بتوں کی پرستش کرنے لگیں بچائے رکھ۔

رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ١ۚ فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 14:36 in the Quran reader

اے پروردگار انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔ سو جس شخص نے میرا کہا مانا وہ میرا ہے اور جس نے میری نافرمانی کی تو تو بخشنے والا مہربان ہے۔

رَبَّنَاۤ اِنِّیْۤ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِكَ الْمُحَرَّمِ١ۙ رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِیْۤ اِلَیْهِمْ وَ ارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَشْكُرُوْنَ Open ayah 14:37 in the Quran reader

اے پروردگار ! میں نے اپنی اولاد میدان (مکّہ) میں جہاں کھیتی نہیں تیرے عزت (وادب) والے گھر کے پاس لا بسائی ہے۔ اے پروردگار تاکہ یہ نماز پڑھیں۔ تو لوگوں کے دلوں کے ایسا کردیں کہ ان کی طرف جھکے رہیں اور ان کو میووں سے روزی دے تاکہ (تیرا) شکر کریں۔

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِیْ وَ مَا نُعْلِنُ١ؕ وَ مَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ Open ayah 14:38 in the Quran reader

اے پروردگار جو بات ہم چھپاتے اور ظاہر کرتے ہیں تو سب جانتا ہے۔ اور خدا سے کوئی چیز مخفی نہیں (نہ) زمین میں نہ آسمان میں۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ وَهَبَ لِیْ عَلَى الْكِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآءِ Open ayah 14:39 in the Quran reader

خدا کا شکر ہے جس نے مجھ کو بڑی عمر میں اسماعیل اور اسحاق بخشے۔ بیشک میرا پروردگار دعا سننے والا ہے۔

رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوةِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ١ۖۗ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَآءِ Open ayah 14:40 in the Quran reader

اے پروردگار مجھ کو ایسی (توفیق عنایت) کر کہ نماز پڑھتا رہوں۔ اور میری اولاد کو بھی (یہ توفیق بخش) اے پروردگار میری دعا قبول فرما۔

رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُ۠ Open ayah 14:41 in the Quran reader

اے پروردگار حساب (کتاب) کے دن مجھ کو اور میرے ماں باپ کو اور مومنوں کو مغفرت کیجئیو۔

وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ١ؕ۬ اِنَّمَا یُؤَخِّرُهُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْهِ الْاَبْصَارُۙ Open ayah 14:42 in the Quran reader

اور (مومنو ! ) مت خیال کرنا کہ یہ ظالم جو عمل کر رہے ہیں خدا ان سے بیخبر ہے۔ وہ ان کو اس دن تک مہلت دے رہا ہے جب کہ (دہشت کے سبب) آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔

مُهْطِعِیْنَ مُقْنِعِیْ رُءُوْسِهِمْ لَا یَرْتَدُّ اِلَیْهِمْ طَرْفُهُمْ١ۚ وَ اَفْئِدَتُهُمْ هَوَآءٌؕ Open ayah 14:43 in the Quran reader

(اور لوگ) سر اٹھائے ہوئے (میدان قیامت کی طرف) دوڑ رہے ہوں گے۔ ان کی نگاہیں انکی طرف لوٹ نہ سکیں گی اور انکے دل (مارے خوف کے) ہوا ہو رہے ہونگے۔

وَ اَنْذِرِ النَّاسَ یَوْمَ یَاْتِیْهِمُ الْعَذَابُ فَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رَبَّنَاۤ اَخِّرْنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ۙ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَ نَتَّبِعِ الرُّسُلَ١ؕ اَوَ لَمْ تَكُوْنُوْۤا اَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّنْ زَوَالٍۙ Open ayah 14:44 in the Quran reader

اور لوگوں کو اس دن سے آگاہ کردو جب ان پر عذاب آجائے گا۔ تب ظالم لوگ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں تھوڑی سی مدت مہلت عطا کر تاکہ ہم تیری دعوت (توحید) قبول کریں اور تیرے پیغمبروں کے پیچھے چلیں (تو جواب ملے گا) کیا تم پہلے قسمیں نہیں کھایا کرتے تھے ؟ تم کو (اس حال سے جس میں تم ہو) زوال (اور قیامت کو حساب اعمال) نہیں ہوگا۔

وَّ سَكَنْتُمْ فِیْ مَسٰكِنِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ تَبَیَّنَ لَكُمْ كَیْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَ ضَرَبْنَا لَكُمُ الْاَمْثَالَ Open ayah 14:45 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے تم ان کے مکانوں میں رہتے تھے اور تم پر ظاہر ہوچکا تھا کہ ہم نے ان لوگوں کے ساتھ کس طرح (کا معاملہ) کیا تھا اور تمہارے (سمجھانے) کیلئے مثالیں بھی بیان کردی تھیں۔

وَ قَدْ مَكَرُوْا مَكْرَهُمْ وَ عِنْدَ اللّٰهِ مَكْرُهُمْ١ؕ وَ اِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَالُ Open ayah 14:46 in the Quran reader

اور انہوں نے (بڑی بڑی) تدبیریں کیں اور انکی (سب) تدبیریں خدا کے ہاں (لکھی ہوئی) ہیں۔ گو وہ تدبیریں ایسی (غضب کی) تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی ٹل جائیں۔

فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍؕ Open ayah 14:47 in the Quran reader

تو ایسا خیال نہ کرنا کہ خدا نے جو اپنے پیغمبروں سے وعدہ کیا ہے۔ اسکے خلاف کریگا۔ بیشک خدا زبردست (اور) بدلہ لینے والا ہے۔

یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ وَ السَّمٰوٰتُ وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ Open ayah 14:48 in the Quran reader

جس دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی (بدل دئیے جائیں گے) اور سب لوگ خدائے یگانہ و زبردست کے سامنے نکل کھڑے ہوں گے۔

وَ تَرَى الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ مُّقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِۚ Open ayah 14:49 in the Quran reader

اور اس دن تم گنہگاروں کو دیکھو گے کہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔

سَرَابِیْلُهُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ وَّ تَغْشٰى وُجُوْهَهُمُ النَّارُۙ Open ayah 14:50 in the Quran reader

ان کے کرتے گندھک کے ہوں گے اور انکے من ہوں کو آگ لپٹ رہی ہوگی۔

لِیَجْزِیَ اللّٰهُ كُلَّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 14:51 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ خدا ہر شخص کو اسکے اعمال کا بدلہ دے۔ بیشک خدا جلد حساب لینے والا ہے۔

هٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ وَ لِیُنْذَرُوْا بِهٖ وَ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ لِیَذَّكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 14:52 in the Quran reader

یہ (قرآن) لوگوں کے نام (خدا کا پیغام) ہے تاکہ ان کو اس سے ڈرایا جائے اور تاکہ وہ جان لیں کہ وہی اکیلا معبود ہے اور تاکہ اہل عقل نصیحت پکڑیں۔

حین سے مراد قول باری ہے (توتی اکلھا کل حین باذن ربھا۔ ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے پھل دے رہا ہے) ابو ظبیان نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا ” صبح اور شام ! سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ اس شجرۂ طیبہ سے کھجور کا درخت مراد ہے جو ہر چھ ماہ بعد پھل دیتا ہے۔ مجاہد، عامر اور عکرمہ سے بھی یہی مروی ہے۔ اسی طرح الحکم اور حماد سے بھی ان کا یہی قول منقول ہے۔ عکرمہ سے ایک روایت میں ان کا یہ قول مروی ہے۔ سعید بن المسیب کا قول ہے کہ آیت میں وارد لفظ ’ حسین ‘ سے مراد دو مہینے ہیں جو کھجور اتارنے سے لے کر نئے شگوفے نکلنے تک کی مدت ہے۔ سعید بن المسیب سے یہ بھی مروی ہے کہ کھجور کے درخت میں پھل صرف دو ماہ تک رہتا ہے۔ سعید سے ایک اور روایت کے مطابق آیت میں لفظ ’ حین ‘ سے چھ ماہ کا عرصہ مراد ہے۔ القاسم بن عبد اللہ نے ابو حازم سے روایت کی ہے، انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے کہ جب آپ سے لفظ ’ حین ‘ کی تفسیر پوچھی گئی تو آپ نے یہ آیت تلاوت کی (توتی اکلھا کل حسین) اور فرمایا ” چھ ماہ “ پھر یہ آیت تلاوت کی (لیسجننہ حتی حین۔ اسے ایک مدت کے لئے قید کردیں) اور فرمایا : ” تیرہ سال “ پھر یہ آیت تلاوت کی (ولتعلمن نباہ بعد حین “ اور تمہیں ضرور اس کی خبر ایک مدت کے بعد مل جائے گی) اور فرمایا ” قیامت کا دن، ہشام بن حسان نے عکرمہ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے کہا : ان فعلت کذا وکذا الی حین فغلا مہ حسو “ اگر میں نے فلاں فلاں کام فلاں مدت تک کر لئے تو میرا غلام آزاد) وہ شخص حضرت عمر بن عبد العزیز کے پاس آ کر مسئلہ پوچھنے لگا۔ انہوں نے مجھ سے دریافت کیا میں نے جواب میں کہا۔ ” حین یعنی مدت کی ایک قسم وہ ہے جس کا ادراک نہیں ہوسکتا۔ قول باری ہے (وان ادری لعلہ فتنۃ لکم و متاع الی حین۔ اور میں خبر نہیں رکھتا شاید کہ وہ تمہارے لئے امتحان ہی ہو اور ایک (خاص) وقت تک کے لئے فائدہ اٹھانا) اس لئے یہ شخص کھجور اتارنے کے وقت سے لے کر شگوفہ نکلنے تک فقرے میں ذکر کردہ کاموں سے باز رہے۔ عکرمہ کہتے ہیں کہ میرا یہ جواب حضرت عمر بن عبد العزیز کو بہت پسند آیا۔ عبد الرزاق نے معمر سے اور انہوں نے حسن سے قول باری (توتلی اکلھا کل حین) کی تفسیر میں ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ” چھ یا سات ماہ کے مابین “۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ’ حین ‘ کے لفظ کا اطلاق وقت مبہم پر ہوتا ہے لیکن اس سے ایک مقرر وقت مراد لینا بھی درست ہے۔ قول باری ہے (فسبحن اللہ حین تمسون وحین تصبحون۔ اللہ کی تسبیح ہے جب تم شام کرو اور جب صبح کرو) پھر فرمایا (وحین تظھرون۔ اور جب تم دوپہر کرو) یہاں یہ لفظ نماز فجر، ظہر اور مغرب کے اوقات پر محمول ہے اگرچہ اس میں فقہاء کے مابین اختلاف رائے بھی ہے۔ یہاں لفظ ’ حین ‘ سے ان اوقات میں فرض نمازوں کی ادائیگی مراد ہے اس لئے یہاں یہ لفظ ان نمازوں کے اوقات کے لئے اسم بن گیا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابن عباس سے لفظ ’ حین ‘ کی تفسیر میں ” صبح اور شام “ کی جو روایت منقول ہے اس میں آپ کا ذہن اس قول باری کی طرف گیا ہے (حین تمسون وحین تصبحون) بعض دفعہ ’ حین ‘ کے لفظ کا اطلاق کر کے اس سے کم سے کم وقت مراد لیا جاتا ہے چناچہ ارشاد باری ہے (وسوف یعلمون حین یدون العذاب۔ عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے) یہاں یہ لفظ دیکھنے کے وقت پر محمول ہے۔ دیکھ لینے کا وقت انتہائی مختصر ہوتا ہے اس میں کوئی امتداد نہیں ہوتا۔ بعض دفعہ اس لفظ کا اطلاق کر کے چالیس سال کی مدت مراد ہوتی ہے اس لئے کہ قول باری (ھل اتی علی الانسان حین من الدھر لم یکن شیئا مذکورا۔ بیشک انسان پر زمانہ میں ایک ایسا وقت بھی آچکا ہے کہ وہ کوئی قابل ذکر چیز ہی نہیں تھا) کی تفسیر میں مروی ہے کہ اس سے چالیس سال مراد ہے۔ آیت زیر بحث کی تفسیر کے سلسلے میں ہم نے سلف سے ایک سال، چھ ماہ، تیرہ سال اور دو ماہ کے جو اقوال نقل کئے ہیں ان سب کا احتمال موجود ہے، جب بات اس طرح ہے تو اس سے یہ ثابت ہوا کہ ’ حین ‘ ایک ایسا اسم ہے جس کا اطلاق متکم کے حسب منشا وقت مبہم پر، کم سے کم وقت پر اور مقررہ مدت پر ہوتا ہے۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ جو شخص یہ قسم کھا بیٹھے کہ وہ فلاں شخص سے گفتگو نہیں کرے گا، اس کی مدت اس نے اسی لفظ ’ حین ‘ سے مقرر کی ہو تو اس صورت میں اس قسم کو چھ ماہ کی مدت پر محمول کیا جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک بات تو واضح ہے کہ قسم کھانے والے نے یہ لفظ کہہ کر کم سے کم وقت مراد نہیں لیا ہے اس لئے کہ عام حالات میں لوگ کم سے کم مدت کے قلیل وقت کے لئے قسم نہیں کھاتے، نیز یہ بھی ظاہر ہے کہ قسم کھانے والے نے اس سے چالیس برس کی مدت مراد نہیں لی ہے اس لئے کہ جو شخص چالیس برس کی مدت کے لئے ایک قسم کھائے گا وہ گویا ہمیشہ کے لئے قسم کھائے گا اور اس میں وقت کی کوئی پابندی نہیں ہوگی۔ پھر قول باری (ترتی اکلھا کل حین باذن ربھا) کی تفسیر میں مدت کے بارے میں سلف کے مابین اختلاف رائے پایا گیا جس کا ہم پہلے ذکر کر آئے ہیں تو اس میں کم سے کم وقت چھ ماہ کا عرصہ ہوگا اس لئے کہ کھجور کی فصل کی کٹائی سے لے کر نئے شگوفے نکلنے کے وقت تک کی مدت چھ ماہ ہوتی ہے۔ ایک سال کی مدت کے اعتبار سے چھ ماہ کی مدت کا اعتبار اولیٰ ہے اس لئے کہ پھل لگے رہنے کی مدت ایک سال تک نہیں پھیلتی بلکہ یہ مدت منقطع ہوجاتی ہے یہاں تک کہ اس میں کوئی چیز باقی نہیں رہتی۔ لیکن اگر ہم چھ ماہ کی مدت کا اعتبار کریں گے تو یہ ظاہر لفظ کے موافق ہوگا یعنی کھجور کا درخت چھ ماہ پھل دیتا ہے اور چھ ماہ پھل کے بغیر رہتا ہے۔ جن حضرات نے آیت کی تفسیر میں دو ماہ کا اعتبار کیا ہے ان کا یہ اعتبار کوئی معنی نہیں رکھتا سا لئے کہ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ کھجور کی فصل کی کٹائی سے لے کر نئے شگوفے نکلنے تک کی مدت دو ماہ سے زائد ہوتی ہے، اگر ان حضرات نے درخت پر پھل کا دو ماہ تک باقی رہنے کا اعتبار کیا ہے تو ہمیں یہ معلوم ہے کہ شگوفے نکلنے کے وقت سے کھجور اتارنے کے وقت تک کا عرصہ بھی دو ماہ سے زائد ہوتا ہے۔ جب ایک سال نیز چھ ماہ کی مدتوں کا ان وجوہات کی بنا پر اعتبار باطل ہوگیا جن کا ہم نے سطور بالا میں ذکر کیا ہے تو اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ چھ ماہ کی مدت کا اعتبار ہی اولیٰ ہے۔