4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsآسان قرآن

Ayahs 4:79–81

مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ١٘ وَ مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ سَیِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ١ؕ وَ اَرْسَلْنٰكَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًا١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًا Open ayah 4:79 in the Quran reader

تمہیں جو کوئی اچھائی پہنچتی ہے تو وہ محض اللہ کی طرف سے ہوتی ہے اور جو کوئی برائی پہنچتی ہے، تو وہ تمہارے اپنے سبب سے ہوتی ہے، اور (اے پیغمبر) ہم نے تمہیں لوگوں کے پاس رسول بنا کر بھیجا ہے، اور اللہ (اس بات کی) گواہی دینے کے لیے کافی ہے۔ (48)

مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ١ۚ وَ مَنْ تَوَلّٰى فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًاؕ Open ayah 4:80 in the Quran reader

جو رسول کی اطاعت کرے، اس نے اللہ کی اطاعت کی، اور جو (اطاعت سے) منہ پھیر لے تو (اے پیغمبر) ہم نے تمہیں ان پر نگران بنا کر نہیں بھیجا (کہ تمہیں ان کے عمل کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے)

وَ یَقُوْلُوْنَ طَاعَةٌ١٘ فَاِذَا بَرَزُوْا مِنْ عِنْدِكَ بَیَّتَ طَآئِفَةٌ مِّنْهُمْ غَیْرَ الَّذِیْ تَقُوْلُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَكْتُبُ مَا یُبَیِّتُوْنَ١ۚ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 4:81 in the Quran reader

اور یہ (منافق لوگ سامنے تو) اطاعت کا نام لیتے ہیں، مگر یہ تمہارے پاس سے باہر جاتے ہیں تو ان میں سے ایک گروہ رات کے وقت تمہاری باتوں کے خلاف مشورے کرتا ہے، اور یہ رات کے وقت جو مشورے کرتے ہیں، اللہ وہ سب لکھ رہا ہے۔ لہذا تم ان کی پرواہ مت کرو، اور اللہ پر بھروسہ رکھو۔ اور اللہ تمہاری حمایت کے لیے بالکل کافی ہے۔

48: ان آیتوں میں دو حقیقتیں بیان فرمائی گئی ہیں، ایک یہ کہ اس کائنات میں جو کچھ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کے حکم سے ہوتا ہے، کسی کو کوئی فائدہ پہنچے تو وہ بھی اللہ کے حکم سے پہنچتا ہے، اور نقصان پہنچے تو وہ بھی اسی کے حکم سے ہوتا ہے، دوسری حقیقت یہ بیان کی گئی ہے کہ کسی کو فائدہ یا نقصان پہنچانے کا حکم اللہ تعالیٰ کب اور کس بناء پر دیتے ہیں، اس کے بارے میں آیت : 79 نے یہ بتایا ہے کہ جہاں تک کسی کو فائدہ پہنچنے کا تعلق ہے اس کا حقیقی سبب صرف اللہ تعالیٰ کا فضل ہوتا ہے، کیونکہ کسی بھی مخلوق کا اللہ تعالیٰ پر کوئی اجارہ نہیں آتا کہ وہ اسے ضرور فائدہ پہنچائے، اور اگر اس فائدہ کا کوئی ظاہری سبب اس شخص کا کوئی عمل نظر آتا بھی ہو تو اس عمل کی توفیق اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوتی ہے، اس لئے وہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہی فضل ہے، اور اس شخص کا کوئی ذاتی استحقاق نہیں ہے، دوسری طرف اگر انسان کو کوئی نقصان پہنچے تو اگرچہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کے حکم ہی سے ہوتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ یہ حکم اسی وقت فرماتے ہیں جب اس شخص نے اپنے اختیاری عمل سے کوئی غلطی کی ہو، اب منافقین کا معاملہ یہ تھا کہ جب انہیں کوئی فائدہ پہنچتا تو اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ؛ لیکن کوئی نقصان ہوجاتا تو اسے آنحضرت ﷺ کے ذمے لگا دیتے تھے، اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ جو نقصان کی ذمہ داری آنحضرت ﷺ پر عائد کررہے ہیں اگر اس سے مراد یہ ہے کہ یہ نقصان آنحضرت کے حکم سے ہوا ہے، تو یہ بات بالکل غلط ہے ؛ کیونکہ اس کائنات میں تمام کام اللہ ہی کے حکم سے ہوتے ہیں کسی اور حکم سے نہیں اور اگر ان کا مطلب یہ ہے کہ (معاذاللہ) آنحضرت ﷺ کی کوئی غلطی اس کا سبب بنی ہے تو یہ بات بھی غلط ہے، ہر انسان کو خود اس کے اپنے کسی عمل کی وجہ سے نقصان پہنچتا ہے، آنحضرت ﷺ کو تو رسول بناکر بھیجا گیا ہے لہذا نہ تو کائنات میں واقع ہونے والے کسی تکوینی واقعے کی ذمہ داری آپ پر عائد ہوتی ہے اور نہ آپ فرائض رسالت میں کسی کوتاہی کے مرتکب ہوسکتے ہیں، جس کا خمیازہ آپ کی امت کو بھگتنا پڑے۔
Ayah 4:82

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ؕ وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِیْهِ اخْتِلَافًا كَثِیْرًا Open ayah 4:82 in the Quran reader

کیا یہ لوگ قرآن میں غور وفکر سے کام نہیں لیتے ؟ اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بکثرت اختلافات پاتے۔ (49)

49: یوں تو انسان کی کوئی کاوش کمزوریوں سے پاک نہیں ہوتی لہذا انسان کی کتابوں میں تضاد اور اختلافات پائے جاتے ہیں لیکن اگر کوئی شخص اپنی کسی کتاب کے بارے میں یہ جھوٹا دعویٰ کرے کہ یہ اللہ کی کتاب ہے تو اس میں یقیناً تضادات اور اختلافات ہوں گے۔ جن لوگوں نے پچھلے انبیائے کرام کی کتابوں میں تحریفات کی ہیں۔ ان کی وجہ سے ان کتابوں میں جو تضادات پیدا ہوئے ہیں، وہ اس بات کی واضح دلیل ہیں۔ ان کی تفصیل دیکھنی ہو تو حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی کی کتاب ”اظہار الحق“ کا مطالعہ کیا جائے۔ اس کا اردو ترجمہ ”بائبل سے قرآن تک“ کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔
Ayahs 4:83–84

وَ اِذَا جَآءَهُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِهٖ١ؕ وَ لَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَ اِلٰۤى اُولِی الْاَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ مِنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّیْطٰنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 4:83 in the Quran reader

اور جب ان کو کوئی بھی خبر پہنچتی ہے، چاہے وہ امن کی ہو یا خوف پیدا کرنے والی، تو یہ لوگ اسے (تحقیق کے بغیر) پھیلانا شروع کردیتے ہیں۔ اور اگر یہ اس (خبر) کو رسول کے پاس یا اصحاب اختیار کے پاس لے جاتے تو ان میں سے جو لوگ اس کی کھوج نکالنے والے ہیں وہ اس کی حقیقت معلوم کرلیتے۔ (50) اور (مسلمانو) اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو تھوڑے سے لوگوں کو چھوڑ کر باقی سب شیطان کے پیچھے لگ جاتے۔

فَقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفْسَكَ وَ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّكُفَّ بَاْسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ اَشَدُّ بَاْسًا وَّ اَشَدُّ تَنْكِیْلًا Open ayah 4:84 in the Quran reader

لہذا (اے پیغمبر) تم اللہ کے راستے میں جنگ کرو، تم پر اپنے سوا کسی اور کی ذمہ داری نہیں ہے۔ ہاں مومنوں کو ترغیب دیتے رہو، کچھ بعید نہیں کہ اللہ کافروں کی جنگ کا زور توڑ دے۔ اور اللہ کا زور سب سے زیادہ زبردست ہے اور اس کی سزا بڑی سخت۔

50: بعض لوگ مدینہ منورہ میں بلا تحقیق افواہیں پھیلادیا کرتے تھے جس سے معاشرہ میں بڑا نقصان ہوتا تھا یہ آیت ایسی بےتحقیق افواہوں پر یقین کرلینے اور اسے دوسروں تک پہنچانے کی ممانعت کررہی ہے
Ayah 4:85

مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً یَّكُنْ لَّهٗ نَصِیْبٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً سَیِّئَةً یَّكُنْ لَّهٗ كِفْلٌ مِّنْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقِیْتًا Open ayah 4:85 in the Quran reader

جو شخص کوئی اچھی سفارش کرتا ہے، اس کو اس میں سے حصہ ملتا ہے، اور جو کوئی بری سفارش کرتا ہے اسے اس برائی میں سے حصہ ملتا ہے، اور اللہ ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہے۔ (51)

51: آیت نمبر 84 میں آنحضرت ﷺ کو جو حکم دیا گیا تھا کہ آپ مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دیں، اس کے بعد یہ آیت لاکر اشارہ کردیا گیا کہ آپ کی ترغیب کے نتیجے میں جو لوگ جہاد کریں گے، ان کے ثواب میں آپ بھی شریک ہوں گے کیونکہ جب کوئی شخص اچھی سفارش کے نتیجے میں کوئی نیک کام کرے تو جو ثواب کام کرنے والے کو ملتا ہے اس میں سفارش کرنے والے کو بھی حصہ ملتا ہے، اسی طرح اگر بری سفارش کے نتیجے میں کوئی غلط کام ہوجائے توجتنا گناہ غلط کام کرنے والے کو ملے گا، بری سفارش کرنے والا بھی اس کے گناہ میں شریک ہوگا۔
Ayahs 4:86–87

وَ اِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَاۤ اَوْ رُدُّوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَسِیْبًا Open ayah 4:86 in the Quran reader

اور جب تمہیں کوئی شخص سلام کرے تو تم اسے اس سے بھی بہتر طریقے پر سلام کرو، یا (کم از کم) انہی الفاظ میں اس کا جواب دے دو۔ (52) بیشک اللہ ہر چیز کا حساب رکھنے والا ہے۔

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِیْثًا۠ Open ayah 4:87 in the Quran reader

اللہ وہ ہے کہ اس کے سوا کوئی خدا نہیں، وہ تمہیں ضرور بالضرور قیامت کے دن اکٹھا کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ہے، اور کون ہے جو اللہ سے زیادہ بات کا سچا ہو ؟

52: اسلام بھی چونکہ اللہ تعالیٰ کے حضور ایک سفارش ہے، اس لیے سفارش کا حکم بیان کرنے کے ساتھ سلام کا حکم بھی بیان فرما دیا گیا ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ پسندیدہ بات تو یہ ہے کہ جن الفاظ میں کسی شخص نے سلام کیا ہے اس سے بہتر الفاظ میں اس کا جواب دیا جائے، مثلاً اگر اس نے صرف السلام علیکم کہا ہے تو جواب میں وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ کہا جائے لیکن اگر بعینہ اسی کے الفاظ میں جواب دے دیا جائے تو یہ بھی جائز ہے، البتہ کسی مسلمان کے سلام کا بالکل جواب نہ دینا گناہ ہے۔
Ayahs 4:88–89

فَمَا لَكُمْ فِی الْمُنٰفِقِیْنَ فِئَتَیْنِ وَ اللّٰهُ اَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوْا١ؕ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَهْدُوْا مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا Open ayah 4:88 in the Quran reader

پھر تمہیں کیا ہوگیا کہ منافقین کے بارے میں تم دو گروہ بن گئے ؟ (53) حالانکہ انہوں نے جیسے کام کیے ہیں ان کی بناء پر اللہ نے ان کو اوندھا کردیا ہے۔ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ ایسے شخص کو ہدایت پر لاؤ جسے اللہ (اس کی خواہش کے مطابق) گمراہی میں مبتلا کرچکا ؟ اور جسے اللہ گمراہی میں مبتلا کردے، اس کے لیے تم ہرگز کبھی کوئی بھلائی کا راستہ نہیں پاسکتے۔

وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ كَمَا كَفَرُوْا فَتَكُوْنُوْنَ سَوَآءً فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ اَوْلِیَآءَ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ١۪ وَ لَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۙ Open ayah 4:89 in the Quran reader

یہ لوگ چاہتے یہ ہیں کہ جس طرح انہوں نے کفر کو اپنا لیا ہے، اسی طرح تم بھی کافر بن کر سب برابر ہوجاؤ،۔ لہذا (اے مسلمانو) تم ان میں سے کسی کو اس وقت تک دوست نہ بناؤ جب تک وہ اللہ کے راستے میں ہجرت نہ کرلے۔ چنانچہ اگر وہ (ہجرت سے) اعراض کریں تو ان کو پکڑو، اور جہاں بھی انہیں پاؤ، انہیں قتل کردو، اور ان میں سے کسی کو نہ اپنا دوست بناؤ، نہ مددگار۔

53: ان آیتوں میں چار قسم کے منافقین کا تذکرہ ہے اور ان میں سے ہر قسم کا حکم الگ بیان کیا گیا ہے، اس آیت میں منافقین کی پہلی قسم کا ذکر ہے، یہ مکہ مکرمہ کے کچھ لوگ تھے جو مدینہ منورہ آئے اور ظاہری طور پر مسلمان ہوگئے اور مسلمانوں کی ہمدردی حاصل کرلی، کچھ عرصے کے بعد انہوں نے حضور اقدس ﷺ سے تجارت کے بہانے مکہ مکرمہ جانے کی اجازت لی اور واپس چلے گئے، ان کے بارے میں بعض مسلمانوں کی رائے یہ تھی کہ یہ سچے مسلمان تھے اور بعض انہیں منافق سمجھتے تھے ؛ لیکن جب وہ مکہ مکرمہ جاکر واپس نہ لوٹے تو ان کا کفر ظاہر ہوگیا ؛ کیونکہ اس وقت مکہ مکرمہ سے ہجرت کرنا ایمان کا لازمی حصہ تھا اور جو شخص قدرت کے باوجود ہجرت نہ کرے اسے مسلمان قرار نہیں دیا جاسکتا تھا، لہذا اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اب جبکہ ان کا نفاق ظاہر ہوچکا ہے تو ان کے بارے میں کسی اختلاف رائے کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
Ayah 4:90

اِلَّا الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ اِلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ اَوْ جَآءُوْكُمْ حَصِرَتْ صُدُوْرُهُمْ اَنْ یُّقَاتِلُوْكُمْ اَوْ یُقَاتِلُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَیْكُمْ فَلَقٰتَلُوْكُمْ١ۚ فَاِنِ اعْتَزَلُوْكُمْ فَلَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ وَ اَلْقَوْا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ١ۙ فَمَا جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ عَلَیْهِمْ سَبِیْلًا Open ayah 4:90 in the Quran reader

ہاں وہ لوگ اس حکم سے مستثنی ہیں جو کسی ایسی قوم سے جا ملیں جن کے اور تمہارے درمیان کوئی (صلح کا) معاہدہ ہے، یا وہ لوگ جو تمہارے پاس اس طرح آئیں کہ ان کے دل تمہارے خلاف جنگ کرنے سے بھی بیزار ہوں، اور اپنی قوم کے خلاف جنگ کرنے سے بھی (54) اور اگر اللہ چاہتا تو انہیں تم پر مسلط کردیتا تو وہ تم سے ضرور جنگ کرتے۔ چنانچہ اگر وہ تم سے کنارہ کشی کرتے ہوئے تم سے جنگ نہ کریں، اور تم کو امن کی پیشکش کردیں تو اللہ نے تم کو ان کے خلاف کسی کاروائی کا کوئی حق نہیں دیا۔

54: پچھلی آیت میں ایسے منافقین سے جنگ کرنے اور انہیں قتل کرنے کا حکم دیا گیا تھا جن کا کفر ظاہر ہوچکا ہو، البتہ اس حکم سے دو قسم کے لوگ مستثنی کئے گئے ہیں، ایک وہ لوگ جو کسی ایسی غیر مسلم قوم کے ساتھ جاملے ہوں جن سے مسلمانوں نے جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کر رکھا ہو اور دوسرے وہ لوگ جو جنگ سے بالکل بیزار ہوں نہ مسلمانوں سے لڑنا چاہتے ہوں نہ اپنی قوم سے اور چونکہ ان کو اندیشہ ہوتا ہے کہ اگر وہ مسلمانوں سے نہیں لڑیں گے تو خود ان کی قوم ان سے لڑے گی، اس لئے وہ مسلمانوں کے پاس آجاتے ہیں، ان کے بارے میں بھی مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ ان کے خلاف کاروائی نہ کریں، یہاں تک منافقین کی تین قسمیں ہوگئیں۔
Ayah 4:91

سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِیْنَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّاْمَنُوْكُمْ وَ یَاْمَنُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ كُلَّمَا رُدُّوْۤا اِلَى الْفِتْنَةِ اُرْكِسُوْا فِیْهَا١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَعْتَزِلُوْكُمْ وَ یُلْقُوْۤا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ وَ یَكُفُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:91 in the Quran reader

(منافقین میں) کچھ دوسرے لوگ تمہیں ایسے ملیں گے جو یہ چاہتے ہیں کہ وہ تم سے بھی محفوظ رہیں اور اپنی قوم سے بھی (مگر) جب کبھی ان کو فتنے کی طرف واپس بلایا جائے، وہ اس میں اوندھے منہ جاگرتے ہیں۔ (55) چنانچہ اگر یہ لوگ تم سے (جنگ کرنے سے) علیحدگی اختیار نہ کریں، اور نہ تمہیں امن کی پیشکش کریں اور نہ اپنے ہاتھ روکیں تو ان کو بھی پکڑو، اور جہاں کہیں انہیں پاؤ، انہیں قتل کرو۔ ایسے لوگوں کے خلاف اللہ نے تم کو کھلا کھلا اختیار دے دیا ہے۔

55: اوپر کی آیت میں تیسری قسم کے لوگوں کا ذکر تھا جو واقعۃ جنگ سے بیزار تھے اور مسلمانوں سے لڑنا نہیں چاہتے تھے، اس آیت میں منافقین کی چوتھی قسم کا ذکر ہے جو جنگ سے بیزار ہونے کے معاملہ میں بھی منافقت سے کام لیتے تھے، ظاہر تو یہ کرتے تھے کہ ہم مسلمانوں سے جنگ نہیں چاہتے ؛ لیکن یہ جھوٹا اعلان صرف اس لئے تھا تاکہ مسلمان انہیں قتل کرنے سے بازر ہیں ؛ چنانچہ جب دوسرے کفار انہیں مسلمانوں کے خلاف کسی سازش کی دعوت دیتے تو یہ اس سازش میں بےدھڑک شریک ہوجاتے تھے۔
Ayahs 4:92–93

وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ یَّقْتُلَ مُؤْمِنًا اِلَّا خَطَئًا١ۚ وَ مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَئًا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَّ دِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّصَّدَّقُوْا١ؕ فَاِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ فَدِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖ وَ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ١٘ تَوْبَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:92 in the Quran reader

کسی مسلمان کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ کسی دسرے مسلمان کو قتل کرے، الا یہ کہ غلطی سے ایسا ہوجائے۔ (56) اور جو شخص کسی مسلمان کو غلطی سے قتل کر بیٹھے تو اس پر فرض ہے کہ وہ ایک مسلمان غلام آزاد کرے اور دیت (یعنی خون بہا) مقتول کے وارثوں کو پہنچائے، الا یہ کہ وہ معاف کردیں۔ اور اگر مقتول کسی ایسی قوم سے تعلق رکھتا ہو جو تمہاری دشمن ہے، مگر وہ خود مسلمان ہو تو بس ایک مسلمان غلام کو آزاد کرنا فرض ہے، (خون بہا دینا واجب نہیں) (57)۔ اور اگر مقتول ان لوگوں میں سے ہو جو (مسلمان نہیں، مگر) ان کے اور تمہارے درمیان کوئی معاہدہ ہے تو بھی یہ فرض ہے کہ خوں بہا اس کے وارثوں تک پہنچایا جائے، اور ایک مسلمان غلام کو آزاد کیا جائے۔ (58) ہاں اگر کسی کے پاس غلام نہ ہو تو اس پر فرض ہے کہ دو مہینے تک مسلسل روزے رکھے۔ یہ توبہ کا طریقہ ہے جو اللہ نے مقرر کیا ہے، اور اللہ علیم و حکیم ہے۔

وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِیْهَا وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ لَعَنَهٗ وَ اَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِیْمًا Open ayah 4:93 in the Quran reader

اور جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اللہ اس پر غضب نازل کرے گا اور لعنت بھیجے گا، اور اللہ نے اس کے لیے زبردست عذاب تیار کر رکھا ہے۔

56: غلطی سے قتل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کسی انسان کو قتل کرنا مقصود نہیں تھا ؛ بلکہ یا تو بےخیالی میں گولی چل گئی یا مارنا تو کسی جانور کو تھا مگر نشانہ خطا ہونے کی وجہ سے کوئی انسان مرگیا، اس کو اصطلاح میں قتل خطا کہتے ہیں، اس کا حکم آیت نے بتایا ہے کہ ایک توقاتل پر کفارہ واجب ہوتا ہے اور ایک دیت، کفارہ یہ ہے کہ ایک مسلمان غلام آزاد کیا جائے اور اگر غلام میسر نہ ہو تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے جائیں، اور دیت کی مقدار احادیث میں سو اونٹ یا دس ہزار دینار مقرر کی گئی ہے۔ 57: اس سے مراد وہ مسلمان ہے جو دارالحرب میں رہتا ہو، اگر اسے غلطی سے قتل کردیا جائے تو صرف کفارہ واجب ہے، دیت واجب نہیں ہے۔ 58: مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی ایسا غیر مسلم غلطی سے قتل ہوجائے جو مسلم ریاست کا شہری بن کر امن سے رہتا ہے (جسے اصطلاح میں ذمی کہتے ہیں) تو اس میں بھی دیت اور کفارہ اسی طرح واجب ہیں جیسے کسی مسلمان کو قتل کرنے پر واجب ہوتے ہیں۔
Ayah 4:94

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَتَبَیَّنُوْا وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰۤى اِلَیْكُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا١ۚ تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ فَعِنْدَ اللّٰهِ مَغَانِمُ كَثِیْرَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَتَبَیَّنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 4:94 in the Quran reader

ٍاے ایمان والو ! جب تم اللہ کے راستے میں سفر کرو تو تحقیق سے کام لیا کرو، اور جو شخص تم کو سلام کرے تو دنیوی زندگی کا سامان حاصل کرنے کی خواہش میں اس کو یہ نہ کہو کہ : تم مومن نہیں ہو۔ (59) کیونکہ اللہ کے پاس مال غنیمت کے بڑے ذخیرے ہیں۔ تم بھی تو پہلے ایسے ہی تھے۔ پھر اللہ نے تم پر فضل کیا۔ (60) لہذا تحقیق سے کام لو، بیشک جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سب سے پوری طرح باخبر ہے۔

59: اللہ کے راستے میں سفر کرنے سے مراد جہاد کے لئے سفر کرنا ہے، ایک واقعہ ایسا پیش آیا تھا کہ ایک جہاد کے دوران کچھ غیر مسلموں نے اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرنے کے لئے صحابہ کرام کو سلام کیا، وہ صحابہ یہ سمجھے کہ ان لوگوں نے صرف اپنی جان بچانے کے لئے سلام کیا ہے اور حقیقت میں وہ مسلمان نہیں ہوئے، چنانچہ انہوں نے ایسے لوگوں کو قتل کردیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں یہ اصول بیان کردیا گیا کہ اگر کوئی شخص ہمارے سامنے اسلام لائے اور اسلام کے تمام ضروری عقائد کا اقرار کرلے تو ہم اسے مسلمان ہی سمجھیں گے اور اس کے دل کا حال اللہ پر چھوڑیں گے، لیکن یہ سمجھ لینا چاہیے کہ آیت کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ اگر کوئی شخص کھلے کھلے کفریہ عقائد رکھتا ہو تو صرف السلام علیکم کہہ دینے کی بنا پر اسے مسلمان سمجھا جائے گا۔ 60: شروع میں تم بھی غیر مسلم ہی تھے، اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور تم مسلمان ہوئے، مگر تمہارے زبانی اقرار کے سوا تمہارے سچا مسلمان ہونے کی کوئی دلیل نہیں تھی، تمہارے ظاہری اقرار ہی کی بنا پر تمہیں مسلمان مانا گیا۔
Ayahs 4:95–96

لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَ الْمُجٰهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَةً١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:95 in the Quran reader

جن مسلمانوں کو کوئی معذوری لاحق نہ ہو اور وہ (جہاد میں جانے کے بجائے گھر میں) بیٹھ رہیں وہ اللہ کے راستے میں اپنے مال و جان سے جہاد کرنے والوں کے برابر نہیں ہیں۔ جو لوگ اپنے مال و جان سے جہاد کرتے ہیں ان کو اللہ نے بیٹھ رہنے والوں پر درجے میں فضیلت دی ہے۔ اور اللہ نے سب سے اچھائی کا وعدہ کر رکھا ہے۔ (61) اور اللہ نے مجاہدین کو بیٹھ رہنے والوں پر فضیلت دے کر بڑا ثواب بخشا ہے۔

دَرَجٰتٍ مِّنْهُ وَ مَغْفِرَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:96 in the Quran reader

یعنی خاص اپنے پاس سے بڑے درجے اور مغفرت اور رحمت اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

61: یہ اس حالت کا ذکر ہے جب جہاد ہر شخص کے ذمے فرض عین نہ ہو، ایسے میں جو لوگ جہاد میں جانے کے بجائے گھر میں بیٹھ گئے، اگرچہ ان پر کوئی گناہ نہیں ہے اور ان کے ایمان اور دوسرے نیک کاموں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان سے جنت کا وعدہ کیا ہوا ہے لیکن جو لوگ جہاد میں گئے ہیں ان کا درجہ گھر بیٹھنے والوں سے بہت زیادہ ہے، البتہ جہاں جہاد فرض عین ہوجائے یعنی مسلمانوں کا امیر تمام مسلمانوں کو جہاد کا حکم دیدے یا جب کوئی دشمن مسلمانوں پر چڑھ آئے تو پھر گھر بیٹھنا حرام ہے۔
Ayahs 4:97–100

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِیْمَ كُنْتُمْ١ؕ قَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ قَالُوْۤا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوْا فِیْهَا١ؕ فَاُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًاۙ Open ayah 4:97 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا۔ (62) اور اسی حالت میں فرشتے ان کی روح قبض کرنے آئے تو بولے : تم کس حالت میں تھے ؟ وہ کہنے لگے کہ : ہم تو زمین میں بےبس کردیئے گئے تھے۔ فرشتوں نے کہا : کیا اللہ کی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرجاتے ؟ لہذا ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے، اور وہ نہایت برا انجام ہے۔

اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَةً وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ سَبِیْلًاۙ Open ayah 4:98 in the Quran reader

البتہ وہ بےبس مرد، عورتیں اور بچے (اس انجام سے مستثنی ہیں) جو (ہجرت کی) کوئی تدبیر نہیں کرسکتے اور نہ (نکلنے کا) کوئی راستہ پاتے ہیں۔

فَاُولٰٓئِكَ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَفُوًّا غَفُوْرًا Open ayah 4:99 in the Quran reader

چنانچہ پوری امید ہے کہ اللہ ان کو معاف فرمادے۔ اللہ بڑا معاف کرنے والا بہت بخشنے والا ہے۔

وَ مَنْ یُّهَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرٰغَمًا كَثِیْرًا وَّسَعَةً١ؕ وَ مَنْ یَّخْرُجْ مِنْۢ بَیْتِهٖ مُهَاجِرًا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ یُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَ قَعَ اَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:100 in the Quran reader

اور جو شخص اللہ کے راستے میں ہجرت کرے گا وہ زمین میں بہت جگہ اور بڑی گنجائش پائے گا۔ اور جو شخص اپنے گھر سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرنے کے لیے نکلے، پھر اسے موت آپکڑے تب بھی اس کا ثواب اللہ کے پاس طے ہوچکا، اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

62: اپنی جان پر ظلم کرنا قرآن کریم کی ایک اصطلاح ہے جس کا مطلب کسی گناہ کا ارتکاب کرنا ہوتا ہے، کیونکہ گناہ کرکے انسان اپنی جان ہی کو نقصان پہنچاتا ہے، آیت نمبر : 97 میں اپنی جانوں پر ظلم کرنے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے قدرت کے باوجود مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت نہیں کی تھی، جب مسلمانوں کے لئے ہجرت کا حکم آگیا تھا تو مکہ میں رہنے والے ہر مسلمان پر شرعاً فرض تھا کہ وہ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرے ؛ بلکہ اس کو ایمان کا لازمی تقاضا قرار دیا گیا تھا، اور اگر کوئی شخص قدرت کے باجود ہجرت نہ کرتا تو اسے مسلمان قرار نہیں دیا جاتا تھا، اس آیت میں ایسے ہی بعض لوگوں کا ذکر ہے کہ جب فرشتے ان کے پاس ان کی روح قبض کرنے آئے تو ان کے ساتھ کیا مکالمہ ہوا، چونکہ یہ لوگ ہجرت کے حکم کی نافرمانی کی وجہ سے مسلمان نہیں رہے تھے اس لئے ان کے بارے میں دوزخی ہونے کا اعلان کیا گیا ہے، البتہ جو لوگ کسی مجبوری کی بناء پر ہجرت سے قاصر رہے تھے ان کا استثناء بھی کردیا گیا ہے کہ معذوری کی وجہ سے وہ قابل معافی ہیں۔
Ayahs 4:101–102

وَ اِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِ١ۖۗ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ اِنَّ الْكٰفِرِیْنَ كَانُوْا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِیْنًا Open ayah 4:101 in the Quran reader

اور جب تم زمین میں سفر کرو اور تمہیں اس بات کا خوف ہو کہ کافر لوگ تمہیں پریشان کریں گے، تو تم پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم نماز میں قصر کرلو۔ (63) یقینا کفر لوگ تمہارے کھلے دشمن ہیں۔

وَ اِذَا كُنْتَ فِیْهِمْ فَاَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلٰوةَ فَلْتَقُمْ طَآئِفَةٌ مِّنْهُمْ مَّعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْۤا اَسْلِحَتَهُمْ١۫ فَاِذَا سَجَدُوْا فَلْیَكُوْنُوْا مِنْ وَّرَآئِكُمْ١۪ وَ لْتَاْتِ طَآئِفَةٌ اُخْرٰى لَمْ یُصَلُّوْا فَلْیُصَلُّوْا مَعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْا حِذْرَهُمْ وَ اَسْلِحَتَهُمْ١ۚ وَدَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ تَغْفُلُوْنَ عَنْ اَسْلِحَتِكُمْ وَ اَمْتِعَتِكُمْ فَیَمِیْلُوْنَ عَلَیْكُمْ مَّیْلَةً وَّاحِدَةً١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ كَانَ بِكُمْ اَذًى مِّنْ مَّطَرٍ اَوْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَنْ تَضَعُوْۤا اَسْلِحَتَكُمْ١ۚ وَ خُذُوْا حِذْرَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 4:102 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) جب تم ان کے درمیان موجود ہو اور انہیں نماز پڑھاؤ تو (دشمن سے مقابلے کے وقت اس کا طریقہ یہ ہے کہ) مسلمانوں کا ایک گروہ تمہارے ساتھ کھڑا ہوجائے اور اپنے ہتھیار ساتھ لے لے۔ پھر جب یہ لوگ سجدہ کرچکیں تو تمہارے پیچھے ہوجائیں، اور دوسرا گروہ جس نے ابھی تک نماز نہ پڑھی ہو آگے آجائے، اور وہ تمہارے ساتھ نماز پڑھے، اور وہ اپنے ساتھ اپنے بچاؤ کا سامان اور اپنے ہتھیار لے لے۔ کافر لوگ یہ چاہتے ہیں کہ تم اپنے ہتھیاروں اور اپنے سامان سے غافل ہوجاؤ تو وہ ایک دم تم پر ٹوٹ پڑیں۔ اور اگر تمہیں بارش کی وجہ سے تکلیف ہو یا تم بیمار ہو تو اس میں بھی تم پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم اپنے ہتھیار اتار کر رکھ دو ، ہاں اپنے بچاؤ کا سامان ساتھ لے لو۔ بیشک اللہ نے کافروں کے لیے ذلت والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

63: اللہ تعالیٰ نے سفر کی حالت میں ظہر، عصر اور عشاء کی نماز آدھی کردی ہے۔ اسے قصر کہا جاتا ہے۔ عام سفروں میں قصر ہر حالت میں واجب ہے، چاہے دشمن کا خوف ہو یا نہ ہو لیکن یہاں ایک خاص قسم کے قصر کا ذکر مقصود ہے جو دشمن کے مقابلے کے وقت ہی ہوسکتا ہے، اس میں یہ چھوٹ بھی ہوتی ہے کہ مسلمانوں کا لشکر دو حصوں میں تقسیم ہو کر ایک ہی امام کے پیچھے باری باری ایک ایک رکعت پڑھے، اور دوسری رکعت بعد میں تنہا پوری کرے جس کا طریقہ اگلی آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ چونکہ یہ خاص قسم کا قصر جسے صلاۃ الخوف کہتے ہیں دشمن کے مقابلے کی حالت ہی میں ہوسکتا ہے، اس لیے یہاں قصر کے ساتھ یہ شرط لگائی گئی ہے کہ اگر تمہیں اس بات کا خوف ہو کہ کافر لوگ تمہیں پریشان کریں گے۔ (ابن جریر) آنحضرت ﷺ نے غزوہ ذات الرقاع کے موقع پر صلاۃ الخوف پڑھی ہے۔ اس کا مفصل طریقہ احادیث اور فقہ کی کتابوں میں موجود ہے۔
Ayah 4:103

فَاِذَا قَضَیْتُمُ الصَّلٰوةَ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِكُمْ١ۚ فَاِذَا اطْمَاْنَنْتُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ۚ اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا Open ayah 4:103 in the Quran reader

پھر جب تم نماز پوری کرچکو تو اللہ کو (ہر حالت میں) یاد کرتے رہو، کھڑے بھی بیٹھے بھی، اور لیٹے ہوئے بھی۔ (64) پھر جب تمہیں (دشمن کی طرف سے) اطمینان حاصل ہوجائے تو نماز قاعدے کے مطابق پڑھو۔ بیشک نماز مسلمانوں کے ذمے ایک ایسا فریضہ ہے جو وقت کا پابند ہے۔

64: یعنی سفر یا خوف کی حالت میں نماز میں تو قصر ہوسکتا ہے لیکن اللہ کا ذکر ہر حالت میں جاری رہنا چاہیے، کیونکہ اس کا نہ کوئی خاص وقت مقرر ہے، نہ کوئی خاص ہیئت۔ وہ کھڑے بیٹھے لیٹے ہر حالت میں ہوسکتا ہے۔
Ayah 4:104

وَ لَا تَهِنُوْا فِی ابْتِغَآءِ الْقَوْمِ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا تَاْلَمُوْنَ فَاِنَّهُمْ یَاْلَمُوْنَ كَمَا تَاْلَمُوْنَ١ۚ وَ تَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا یَرْجُوْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا۠ Open ayah 4:104 in the Quran reader

اور تم ان لوگوں (یعنی کافر دشمن) کا پیچھا کرنے میں کمزوری نہ دکھاؤ، اگر تمہیں تکلیف پہنچی ہے تو ان کو بھی اسی طرح تکلیف پہنچی ہے جیسے تمہیں پہنچی ہے۔ (65) اور تم اللہ سے اس بات کے امیدوار ہو جس کے وہ امیدوار نہیں۔ اور اللہ علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

65: جنگ کے اختتام پر لوگ تھکے ہوئے ہوتے ہیں، اور اس وقت دشمن کا تعاقب بھاری معلوم ہوتا ہے، لیکن اگر جنگی مصلحت ہو اور امیر حکم دے تو تعاقب واجب ہے۔ ایسے میں یہ سوچنے کی ترغیب دی گئی ہے کہ جس طرح ہم تھکے ہوئے ہیں، دشمن بھی تو تھکا ہوا ہے، اور مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد اور ثواب کی جو امید ہے وہ دشمن کو حاصل نہیں ہے۔
Ayahs 4:105–112

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَا تَكُنْ لِّلْخَآئِنِیْنَ خَصِیْمًاۙ Open ayah 4:105 in the Quran reader

بیشک ہم نے حق پر مشتمل کتاب تم پر اس لیے اتاری ہے تاکہ تم لوگوں کے درمیان اس طریقے کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ نے تم کو سمجھا دیا ہے، اور تم خیانت کرنے والوں کے طرف دار نہ بنو۔ (66)

وَّ اسْتَغْفِرِ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ Open ayah 4:106 in the Quran reader

اور اللہ سے مغفرت طلب کرو، بیشک اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ Open ayah 4:107 in the Quran reader

اور کسی تنازعے میں ان لوگوں کی وکالت نہ کرنا جو خود اپنی جانوں سے خیانت کرتے ہیں۔ اللہ کسی بھی خیانت کرنے والے گنہگار کو پسند نہیں کرتا۔

یَّسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَ لَا یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اللّٰهِ وَ هُوَ مَعَهُمْ اِذْ یُبَیِّتُوْنَ مَا لَا یَرْضٰى مِنَ الْقَوْلِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطًا Open ayah 4:108 in the Quran reader

یہ لوگوں سے تو شرماتے ہیں، اور اللہ سے نہیں شرماتے، حالانکہ وہ اس وقت بھی ان کے پاس ہوتا ہے جب وہ راتوں کو ایسی باتیں کرتے ہیں جو اللہ کو پسند نہیں۔ اور جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ نے اس سب کا احاطہ کر رکھا ہے۔

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ جٰدَلْتُمْ عَنْهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١۫ فَمَنْ یُّجَادِلُ اللّٰهَ عَنْهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَمْ مَّنْ یَّكُوْنُ عَلَیْهِمْ وَكِیْلًا Open ayah 4:109 in the Quran reader

ارے تمہاری بساط یہی تو ہے کہ تم نے دنیوی زندگی میں لوگوں سے جھگڑ کر ان (خیانت کرنے والوں) کی حمایت کرلی۔ بھلا اس کے بعد قیامت کے دن اللہ سے جھگڑ کر کون ان کی حمایت کرے گا، یا کون ان کا وکیل بنے گا ؟

وَ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ یَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:110 in the Quran reader

اور جو شخص کوئی کر گزرے یا اپنی جان پر ظلم کر بیٹھے، پھر اللہ سے معافی مانگ لے تو وہ اللہ کو بہت بخشنے والا، بڑا مہربان پائے گا۔

وَ مَنْ یَّكْسِبْ اِثْمًا فَاِنَّمَا یَكْسِبُهٗ عَلٰى نَفْسِهٖ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:111 in the Quran reader

اور جو شخص کوئی گناہ کمائے، تو وہ اس کمائی سے خود اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے، اور اللہ پورا علم بھی رکھتا ہے، حکمت کا بھی مالک ہے۔

وَ مَنْ یَّكْسِبْ خَطِیْٓئَةً اَوْ اِثْمًا ثُمَّ یَرْمِ بِهٖ بَرِیْٓئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:112 in the Quran reader

اور اگر کوئی شخص کسی غلطی یا گناہ کا مرتکب ہو، پھر اس کا الزام کسی بےگناہ کے ذمے لگا دے، تو وہ بڑا بھاری بہتان اور کھلا گناہ اپنے ا وپر لاد لیتا ہے۔

66: یہ آیتیں اگرچہ عام ہدایتوں پر مشتمل ہیں مگر ایک خاص واقعے میں نازل ہوئی ہیں، خاندان بنو ابیرق کے ایک شخص بشر نے جو ظاہری طور پر مسلمان تھا، ایک صحابی حضرت رفاعہ ؓ کے گھر میں نقب لگا کر کچھ غلہ اور کچھ ہتھیار چرالئے، اور لے جاتے وقت ہوشیاری یہ کی کہ غلے کی بوری کا منہ اس طرح کھولا کہ تھوڑا تھوڑا غلہ راستے میں گرتا جائے یہاں تک کہ ایک یہودی کے گھر کے دروازے پر پہنچ کر بوری کا منہ بند کردیا اور بعد میں چوری کئے ہوئے ہتھیار اسی یہودی کے پاس رکھوادئے، جب چوری کی تفتیش شروع ہوئی تو ایک طرف غلے کے نشانات یہودی کے گھر تک پائے گئے اور دوسری طرف ہتھیار اسی کے پاس سے برآمد ہوئے، اس لئے شروع میں آنحضرت ﷺ کا خیال یہ ہونے لگا کہ یہ چوری اسی یہودی نے کی ہے، یہودی سے پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ ہتھیار تو میرے پاس بشر نامی شخص نے رکھوائے تھے، مگر چونکہ وہ اس پر کوئی گواہ پیش نہ کرسکا تھا، اس لئے آپ کا رجحان اس طرف ہونے لگا کہ وہ جان بچانے کے لئے بشر کا نام لے رہا ہے، دوسری طرف بشر کے خاندان بنو ابیرق کے لوگ بھی بشر کی وکالت کرتے ہوئے اس بات پر زور لگا رہے تھے کے سزا بشر کے بجائے یہودی کو دی جائے، ابھی یہ معاملہ چل ہی رہا تھا کہ یہ آیات کریمہ نازل ہوگئیں اور ان کے ذریعے بشر کی دھوکہ بازی کا پردہ چاک کردیا گیا اور یہودی کو بےگناہ قرار دے کر بری کردیا گیا، بشر کو جب راز فاش ہونے کا پتہ لگا تو وہ فرار ہو کر کفار مکہ سے جاملا اور وہاں کفر کی حالت میں بری طرح اس کی موت واقع ہوئی، ان آیات کے ذریعے ایک طرف تو معاملے کی اصل حقیقت آنحضرت ﷺ پر کھول دی گئی، اس کے علاوہ مقدمات کے فیصلے کرنے کے لئے اہم اصول بتادئے گئے ہیں، پہلا اصول یہ کہ تمام فیصلے کتاب اللہ کے احکام کے تابع ہونے چاہئیں، دوسرا اصول یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر ﷺ پر بہت سے ایسے امور کھولتے رہتے ہیں جو صراحۃً قرآن میں مذکور نہیں ہیں، فیصلے ان کی روشنی میں ہونے چاہئیں، آیت کے الفاظ اس طریقے کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ نے تمہیں سمجھادیا ہے، اسی طرف اشارہ کررہے ہیں اور ان سے قرآن کریم کے علاوہ آنحضرت ﷺ کی سنت کی حجیت کا بھی ثبوت ملتا ہے، تیسرا اصول یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ جس کسی شخص کے بارے میں یہ معلوم ہو کہ وہ کسی مقدمے میں غلطی پر ہے، اس کی وکالت کرنا جائز نہیں ہے، بنو ابیرق جو بشر کی وکالت کررہی تھی ان کی تنبیہ کی گئی ہے کہ اول تو یہ وکالت جائز نہیں دوسرے اس کا فائدہ ملزم کو زیادہ سے زیادہ دنیا میں پہنچ سکتا ہے آخرت میں تمہاری وکالت اس کو اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتی۔
Ayahs 4:113–114

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ وَ رَحْمَتُهٗ لَهَمَّتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْهُمْ اَنْ یُّضِلُّوْكَ١ؕ وَ مَا یُضِلُّوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَضُرُّوْنَكَ مِنْ شَیْءٍ١ؕ وَ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ١ؕ وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا Open ayah 4:113 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) اگر اللہ کا فضل اور رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی تو ان میں سے ایک گروہ نے تو تم کو سیدھی راہ سے بھٹکانے کا ارادہ کر ہی لیا تھا۔ (67) اور (درحقیقت) یہ اپنے سوا کسی کو نہیں بھٹکا رہے ہیں، اور یہ تم کو ذرا بھی نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ اللہ نے تم پر کتاب اور حکمت نازل کی ہے اور تم کو ان باتوں کا علم دیا ہے جو تم نہیں جانتے تھے، اور تم پر اللہ کا فضل ہمیشہ بہت زیادہ رہا ہے۔

لَا خَیْرَ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنْ نَّجْوٰىهُمْ اِلَّا مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ اَوْ مَعْرُوْفٍ اَوْ اِصْلَاحٍۭ بَیْنَ النَّاسِ١ؕ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:114 in the Quran reader

لوگوں کی بہت سی خفیہ سرگوشیوں میں کوئی خیر نہیں ہوتی، الا یہ کہ کوئی شخص صدقے کا یا کسی نیکی کا یا لوگوں کے درمیان اصلاح کا حکم دے۔ اور جو شخص اللہ کی خوشنودی حاصل کے کرنے کے لیے ایسا کرے گا، ہم اس کو زبردست ثواب عطا کریں گے۔

67: اس سے بشر اور اس کے حمایتی مراد ہیں جو یہ چاہتے تھے کہ یہودی کو بےگناہ سزا دلوا دیں
Ayah 4:115

وَ مَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَ یَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَ نُصْلِهٖ جَهَنَّمَ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا۠ Open ayah 4:115 in the Quran reader

اور جو شخص اپنے سامنے ہدایت واضح ہونے کے بعد بھی رسول کی مخالفت کرے، اور مومنوں کے راستے کے سوا کسی اور راستے کی پیروی کرے، اس کو ہم اسی راہ کے حوالے کردیں گے جو اس نے خود اپنائی ہے، اور اسے دوزخ میں جھونکیں گے، اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔ (68)

68: اس آیت سے علمائے کرام، بالخصوص امام شافعی نے اجماع کی حجیت پر استدلال کیا ہے یعنی جس مسئلے پر پوری امت مسلمہ متفق رہی ہو وہ یقینی طور پر برحق ہوتا ہے اور اس کی مخالفت جائز نہیں۔
Ayah 4:116

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:116 in the Quran reader

بیشک اللہ اس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے، اور اس سے کمتر ہر گناہ کی جس کے لیے چاہتا ہے بخشش کردیتا ہے۔ (69) اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایات ہے، وہ راہ راست سے بھٹک کر بہت دور جا گرتا ہے۔

69: تشریح : یعنی شرک سے کم کسی گناہ کو اللہ تعالیٰ جب چاہے توبہ کے بغیر بھی محض اپنے فضل سے معاف کرسکتا ہے لیکن شرک کی معافی اس کے بغیر ممکن نہیں کہ مشرک اپنے شرک سے سچی توبہ کرکے موت سے پہلے پہلے اسلام قبول کرے اور توحید پر ایمان لے آئے۔ یہی مضمون پیچھے آیت نمبر 48 میں بھی گذر چکا ہے
Ayah 4:117

اِنْ یَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اِنٰثًا١ۚ وَ اِنْ یَّدْعُوْنَ اِلَّا شَیْطٰنًا مَّرِیْدًاۙ Open ayah 4:117 in the Quran reader

اللہ کو چھوڑ کر جن سے یہ دعائیں مانگ رہے ہیں وہ صرف چند زنانیاں ہیں، (70) اور جس کو یہ پکار رہے ہیں وہ اس سرکش شیطان کے سوا کوئی نہیں۔

70: کفار مکہ جن من گھڑت دیویوں کو پوجتے تھے ان سب کو مؤنث سمجھتے تھے، لات، منات، عزی سب کو مؤنث سمجھا جاتا تھا، نیز فرشتوں کو بھی وہ خدا کی بیٹیاں کہا کرتے تھے، آیت میں اشارہ یہ ہے کہ ایک طرف تو کفار مکہ عورتوں کو کمتر مخلوق سمجھتے ہیں اور دوسری طرف جن کو اپنا خدا بنا رکھا ہے وہ ان کے خیال کے مطابق سب مؤنث ہیں
Ayah 4:118

لَّعَنَهُ اللّٰهُ١ۘ وَ قَالَ لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًاۙ Open ayah 4:118 in the Quran reader

جس پر اللہ نے پھٹکار ڈال رکھی ہے، اور اس نے (اللہ سے) یہ کہہ رکھا ہے کہ : میں تیرے بندوں سے ایک طے شدہ حصہ لے کر رہوں گا، (71)

71: یعنی بہت سے بندوں کو گمراہ کر کے انہیں اپنا بنا لوں گا اور بہت سوں سے اپنی مرضی کے کام کراؤں گا۔