21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsآسان قرآن

Ayahs 21:37–43

خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ١ؕ سَاُورِیْكُمْ اٰیٰتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ Open ayah 21:37 in the Quran reader

انسان جلد بازی کی خصلت لے کر پیدا ہوا ہے۔ میں عنقریب تمہیں اپنی نشانیاں دکھلا دوں گا، لہذا تم مجھ سے جلدی مت مچاؤ (20)

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 21:38 in the Quran reader

اور یہ لوگ (مسلمانوں سے) کہتے ہیں کہ : اگر تم سچے ہو تو آخر یہ (عذاب کی) دھمکی کب پوری ہوگی ؟

لَوْ یَعْلَمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا حِیْنَ لَا یَكُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْهِهِمُ النَّارَ وَ لَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 21:39 in the Quran reader

کاش ان کافروں کو اس وقت کی کچھ خبر لگ جاتی جب یہ نہ اپنے چہروں سے آگ کو دور کرسکیں گے، اور نہ اپنی پشتوں سے، اور نہ ان کو کوئی مدد میسر آئے گی۔

بَلْ تَاْتِیْهِمْ بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ رَدَّهَا وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 21:40 in the Quran reader

بلکہ وہ (آگ) ان کے پاس ایک دم آدھمکے گی، اور ان کے ہوش و حواس گم کر رکے رکھ دے گی، پھر نہ یہ اسے پیچھے ہٹا سکیں گے، اور نہ انہیں کوئی مہلت دی جائے گی۔

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 21:41 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) تم سے پہلے بھی پیغمبروں کا مذاق اڑایا گیا تھا، پھر ان کا مذاق بنانے والوں کو اسی چیز نے آگھیرا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔

قُلْ مَنْ یَّكْلَؤُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ مِنَ الرَّحْمٰنِ١ؕ بَلْ هُمْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 21:42 in the Quran reader

کہہ دو کہ : کون ہے جو رات میں اور دن میں خدائے رحمن (کے عذاب سے) سے تمہارا بچاؤ کرے ؟ مگر وہ ہیں کہ اپنے پروردگار کے ذکر سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔

اَمْ لَهُمْ اٰلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِّنْ دُوْنِنَا١ؕ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَ اَنْفُسِهِمْ وَ لَا هُمْ مِّنَّا یُصْحَبُوْنَ Open ayah 21:43 in the Quran reader

بھلا کیا ان کے پاس ہمارے سوا کوئی ایسے خدا ہیں جو ان کی حفاظت کرتے ہوں ؟ وہ تو خود اپنی مدد نہیں کرسکتے اور نہ ہمارے مقابلے میں کوئی ان کا ساتھ دے سکتا ہے۔

20: جب آنحضرت ﷺ دنیا یا آخرت میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈراتے تھے تو یہ لوگ اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے تھے کہ وہ عذاب ابھی لے آؤ۔ ان آیتوں میں اس کا جواب دیا گیا ہے۔
Ayahs 21:44–46

بَلْ مَتَّعْنَا هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى طَالَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ؕ اَفَلَا یَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا١ؕ اَفَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 21:44 in the Quran reader

بلکہ معاملہ یہ ہے کہ ہم نے ان کو اور ان کے آباؤاجداد کو سامان عیش عطا کیا، یہاں تک کہ (اسی حالت میں) ان پر ایک عمر گزر گئی۔ (21) بھلا کیا انہیں یہ نظر نہیں آتا کہ ہم زمین کو اس کے مختلف کناروں سے گھٹاتے چلے آرہے ہیں۔ (22) پھر کیا وہ غالب آجائیں گے ؟

قُلْ اِنَّمَاۤ اُنْذِرُكُمْ بِالْوَحْیِ١ۖ٘ وَ لَا یَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَآءَ اِذَا مَا یُنْذَرُوْنَ Open ayah 21:45 in the Quran reader

کہہ دو کہ : میں تو تمہیں وحی کے ذریعے ڈراتا ہوں، لیکن بہرے لوگ ایسے ہیں کہ جب انہیں ڈرایا جاتا ہے تو وہ کوئی پکار نہیں سنتے۔

وَ لَئِنْ مَّسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:46 in the Quran reader

اور اگر تمہارے پروردگار کے عذاب کا ایک جھونکا بھی انہیں چھو جائے تو یہ کہہ اٹھیں گے کہ : ہائے ہماری کم بختی ! واقعی ہم لوگ ظالم تھے۔

21: یعنی ہم نے انہیں اور ان کے باپ دادوں کو عیش و عشرت کا جو سامان دے دیا تھا، اس سے وہ لمبے عرصے تک مزے اراتے رہے، اور یہ سمجھ بیٹھے کہ یہ ان کا حق ہے، اور وہ جو کچھ کر رہے ہیں، ٹھیک کر رہے ہیں۔ اس غرور میں مبتلا ہو کر وہ حق کے انکار پر آمادہ ہوگئے۔ 22: یہ وہی بات ہے جو سورة رعد آیت 41 میں بھی گذری ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جزیرہ عرب کے مختلف اطراف سے شرک اور مشرکین کا اثر و رسوخ گھٹتا چلا جا رہا ہے، اور اسلام اور مسلمانوں کے اثرات بڑھ رہے ہیں۔
Ayahs 21:47–54

وَ نَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَا بِهَا١ؕ وَ كَفٰى بِنَا حٰسِبِیْنَ Open ayah 21:47 in the Quran reader

اور ہم قیامت کے دن ایسی ترازویں لا رکھیں گے جو سراپا انصاف ہوں گی، (23) چنانچہ کسی پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔ اور اگر کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر بھی ہوگا، تو ہم اسے سامنے لے آئیں گے، اور حساب لینے کے لیے ہم کافی ہیں۔

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ الْفُرْقَانَ وَ ضِیَآءً وَّ ذِكْرًا لِّلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 21:48 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ اور ہارون کو حق و باطل کا ایک معیار (ہدایت کی) ایک روشنی اور ان متقی لوگوں کے لیے نصیحت کا سامان عطا کیا تھا۔

الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ هُمْ مِّنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُوْنَ Open ayah 21:49 in the Quran reader

جو دیکھے بغیر اپنے پروردگار سے ڈریں، اور جن کو قیامت کی گھڑی کا خوف لگا ہوا ہو۔

وَ هٰذَا ذِكْرٌ مُّبٰرَكٌ اَنْزَلْنٰهُ١ؕ اَفَاَنْتُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ۠ Open ayah 21:50 in the Quran reader

اور اب یہ (قرآن) برکتوں والا پیغام نصیحت ہے جو ہم نے نازل کیا ہے۔ کیا پھر بھی تم اسے ماننے سے انکار کرتے ہو ؟

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا بِهٖ عٰلِمِیْنَۚ Open ayah 21:51 in the Quran reader

اور اس سے پہلے ہم نے ابراہیم کو وہ سمجھ بوجھ عطا کی تھی جو ان کے لائق تھی اور ہم انہیں خوب جانتے تھے۔

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا هٰذِهِ التَّمَاثِیْلُ الَّتِیْۤ اَنْتُمْ لَهَا عٰكِفُوْنَ Open ayah 21:52 in the Quran reader

وہ وقت یاد کرو جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تھا کہ : یہ کیا مورتیں ہیں جن کے آگے تم دھرنا دیے بیٹھے ہو ؟

قَالُوْا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا لَهَا عٰبِدِیْنَ Open ayah 21:53 in the Quran reader

وہ بولے کہ : ہم نے اپنے باپ دادوں کو ان کی عبادت کرتے ہوئے پایا ہے۔

قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 21:54 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا : حقیقت یہ ہے کہ تم بھی اور تمہارے باپ دادے بھی کھلی گمراہی میں مبتلا رہے ہو۔

23: اس آیت نے واضح فرمایا ہے کہ قیامت کے دن صرف یہی نہیں کہ تمام لوگوں سے انصاف ہوگا ؛ بلکہ اس بات کا بھی اہتمام کیا جائے گا کہ انصاف سب لوگوں کو آنکھوں سے نظر آئے، اس غرض کے لئے اللہ تعالیٰ ایسی ترازویں برسر عام نصب فرمائیں گے جن میں انسانوں کے اعمال کو تولا جائے گا اور اعمال کے وزن کے حساب سے انسانوں کے انجام کا فیصلہ ہوگا، انسان جو عمل بھی کرتا ہے اس دنیا میں اگرچہ ان کا نہ کوئی جسم نظر آتا ہے اور نہ ان میں کسی وزن کا احساس ہوتا ہے، لیکن آخرت میں اللہ تعالیٰ ان کا وزن کرنے کی ایسی صورت پیدا فرمائیں گے جن سے ان اعمال کی حقیقت واضح ہوجائے، اگر انسان سردی گرمی جیسی چیزوں کو تولنے کے لئے نئے نئے آلات ایجاد کرسکتا ہے تو ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بات پر بھی قادر ہے کہ وہ ان اعمال کو تولنے کا عملی مظاہرہ فرمادیں۔
Ayahs 21:55–57

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ اَمْ اَنْتَ مِنَ اللّٰعِبِیْنَ Open ayah 21:55 in the Quran reader

انہوں نے کہا : کیا تم ہم سے سچ مچ کی بات کر رہے ہو، یا دل لگی کر رہے ہو ؟ (24)

قَالَ بَلْ رَّبُّكُمْ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الَّذِیْ فَطَرَهُنَّ١ۖ٘ وَ اَنَا عَلٰى ذٰلِكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 21:56 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا : نہیں، بلکہ تمہارا پروردگار وہ ہے جو تمام آسمانوں اور زمین کا مالک ہے، جس نے یہ ساری چیزیں پیدا کی ہیں، اور لوگو میں اس بات پر گواہی دیتا ہوں۔

وَ تَاللّٰهِ لَاَكِیْدَنَّ اَصْنَامَكُمْ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 21:57 in the Quran reader

اور اللہ کی قسم ! جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے تو میں تمہارے بتوں کے ساتھ ایک (ایسا) کام کروں گا (جس سے ان کی حقیقت کھل جائے گی)

24: انہیں چونکہ توقع نہیں تھی کہ کوئی ان کے بتوں کے بارے میں ایسی بات کہہ سکتا ہے، اس لیے شروع میں انہیں یہ شک ہوا کہ شاید حضرت ابراہیم ؑ سنجیدگی سے نہیں، بلکہ مذاق کے طور پر یہ بات کہہ رہے ہیں۔
Ayahs 21:58–62

فَجَعَلَهُمْ جُذٰذًا اِلَّا كَبِیْرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ اِلَیْهِ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 21:58 in the Quran reader

چنانچہ ابراہیم نے ان کے بڑے بت کے سوا سارے بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا، تاکہ وہ لوگ اس کی طرف رجوع کریں۔ (25)

قَالُوْا مَنْ فَعَلَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 21:59 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ : ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ حرکت کس نے کی ہے ؟ وہ کوئی بڑا ہی ظالم تھا۔

قَالُوْا سَمِعْنَا فَتًى یَّذْكُرُهُمْ یُقَالُ لَهٗۤ اِبْرٰهِیْمُؕ Open ayah 21:60 in the Quran reader

کچھ لوگوں نے کہا : ہم نے ایک نوجوان کو سنا ہے کہ وہ ان بتوں کے بارے میں باتیں بنایا کرتا ہے، اسے ابراہیم کہتے ہیں۔

قَالُوْا فَاْتُوْا بِهٖ عَلٰۤى اَعْیُنِ النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَشْهَدُوْنَ Open ayah 21:61 in the Quran reader

انہوں نے کہا : تو پھر اس کو سب لوگوں کے سامنے لے کر آؤ، تاکہ سب گواہ بن جائیں۔

قَالُوْۤا ءَاَنْتَ فَعَلْتَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَا یٰۤاِبْرٰهِیْمُؕ Open ayah 21:62 in the Quran reader

(پھر جب ابراہیم کو لایا گیا تو) وہ بولے : ابراہیم ! کیا ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ حرکت تم ہی نے کی ہے ؟

25: جیسا کہ سورة صافات :88 میں آنے والا ہے وہ کوئی جشن کا دن تھا جس میں ساری قوم شہر چھوڑ کر کہیں جایا کرتی تھی۔ حضرت ابراہیم ؑ نے ان کے ساتھ جانے سے معذرت کرلی تھی۔ اور جب سارے لوگ چلے گئے تو بت خانے میں جا کر سارے بتوں کو توڑ ڈالا، صرف ایک بڑے بت کو چھوڑ دیا اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنی کلہاڑی بھی اس کی گردن میں لٹکا کر چھوڑ دی۔ اس عمل سے ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ لوگ اپنی آنکھوں سے ان بتوں کی بےبسی کا منظر دیکھ سکیں۔ اور یہ سوچیں کہ جو بت خود اپنا دفاع نہیں کرسکتے، وہ دوسروں کی کیا مدد کریں گے۔ بڑے بت کو چھوڑنے کی مصلحت اس سوال و جواب سے واضح ہوگی جو آیت نمبر 63 میں آگے آ رہا ہے۔
Ayahs 21:63–64

قَالَ بَلْ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِیْرُهُمْ هٰذَا فَسْئَلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا یَنْطِقُوْنَ Open ayah 21:63 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا : نہیں، بلکہ یہ حرکت ان کے اس بڑے سردار نے کی ہے، اب انہی بتوں سے پوچھ لو، اگر یہ بولتے ہوں۔ (26)

فَرَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَنْفُسِهِمْ فَقَالُوْۤا اِنَّكُمْ اَنْتُمُ الظّٰلِمُوْنَۙ Open ayah 21:64 in the Quran reader

اس پر وہ لوگ اپنے دل میں کچھ سوچنے لگے، اور (اپنے آپ سے) کہنے لگے کہ : سچی بات تو یہی ہے کہ تم خود ظالم ہو۔

26: یہ درحقیقت ان کے عقیدے پر ایک طنز تھا، وہ لوگ چونکہ بتوں کو بڑے اختیارات کا مالک سمجھتے تھے، اور بڑا بت بنانے کا مقصد یہی تھا کہ یہ چھوٹے چھوٹے خداؤں کے لیے سردار کی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے اس طنز سے حضرت ابراہیم ؑ کا مقصد یہ تھا کہ جب تم اس بڑے بت کو بتوں کا سردار سمجھتے ہو اور سردار اپنے ماتحتوں کا محافظ ہوا کرتا ہے، اس لیے اگر کسی اور شخص نے چھوٹے بتوں کو توڑا ہوتا تو تمہارے اعتقاد کے مطابق یہ سردار اسے ایسا کرنے نہ دیتا، لہذا یہ احتمال تو ہو ہی نہیں سکتا کہ کوئی اور شخص بتوں کی یہ گت بنائے، اور ان کا یہ سردار چپ چاپ دیکھتا رہے، اب تمہارے اعتقاد کے مطابق ایک ہی احتمال رہ جاتا ہے کہ خود یہ سردار ہی ان سے ناراض ہوگیا ہو، اور اسی نے ان کو توڑ پھوڑ ڈالا ہو۔ چونکہ یہ واضح طور پر ایک طنز تھا، اس لیے اس میں غلط بیان کا کوئی پہلو نہیں ہے۔ دوسری طرف یہ چھوٹے بت بھی ان کے عقیدے کے مطابق چھوٹے ہونے کے باوجود خدا ہی تھے، اس لیے حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا کہ ان میں اتنی طاقت تو ہونی چاہیے کہ جو واقعہ ان کے ساتھ پیش آیا ہے، کم از کم وہ تمہیں بتاسکیں، اس لیے انہی سے پوچھ کر دیکھ لو کہ کیا قصہ ہوا تھا۔
Ayahs 21:65–68

ثُمَّ نُكِسُوْا عَلٰى رُءُوْسِهِمْ١ۚ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ یَنْطِقُوْنَ Open ayah 21:65 in the Quran reader

پھر انہوں نے اپنے سر جھکا لیے، اور کہا : تمہیں تو معلوم ہی ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں۔ (27)

قَالَ اَفَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكُمْ شَیْئًا وَّ لَا یَضُرُّكُمْؕ Open ayah 21:66 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا : بھلا بتاؤ کہ کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی عبادت کر رہے ہو جو تمہیں نہ کچھ فائدہ پہنچاتی ہیں نہ نقصان ؟

اُفٍّ لَّكُمْ وَ لِمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 21:67 in the Quran reader

تف ہے تم پر بھی، اور ان پر بھی جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرے ہو۔ بھلا کیا تمہیں اتنی سمجھ نہیں ؟

قَالُوْا حَرِّقُوْهُ وَ انْصُرُوْۤا اٰلِهَتَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:68 in the Quran reader

وہ (ایک دوسرے سے) کہنے لگے : آگ میں جلا ڈالو اس شخص کو، اور اپنے خداؤں کی مدد کرو، اگر تم میں کچھ کرنے کا دم خم ہے۔

27: حضرت ابراہیم ؑ نے بتوں کی حقیقت بتانے کے لیے جو طریقہ اختیار فرمایا، اس نے انہیں کم از کم اپنے دل میں سوچنے پر مجبور کردیا، اور ان کے دل نے گواہی دی کہ قصور در اصل ہمارا ہی ہے۔ لیکن مدتوں سے جمے ہوئے عقیدے کو چھوڑنے کی جرأت نہ ہوئی، لاجواب ہو کر سر تو جھکا دیا، لیکن کہا یہ کہ یہ بات تو تم بھی جانتے ہو، اور ہم بھی پہلے سے جانتے ہیں کہ یہ بت بولتے نہیں ہیں۔
Ayahs 21:69–70

قُلْنَا یٰنَارُ كُوْنِیْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَۙ Open ayah 21:69 in the Quran reader

(چنانچہ انہوں نے ابراہیم کو آگ میں ڈال دیا اور) ہم نے کہا : اے آگ ! ٹھندی ہوجا، اور ابراہیم کے لیے سلامتی بن جا۔ (28)

وَ اَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَخْسَرِیْنَۚ Open ayah 21:70 in the Quran reader

ان لوگوں نے ابراہیم کے لیے برائی کا منصوبہ بنایا تھا، مگر نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے انہی کو بری طرح ناکام کردیا۔

28: اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا یہ معجزہ دکھایا کہ آگ حضرت ابراہیم ؑ کے لیے ٹھنڈک اور سلامتی کا سبب بن گئی۔ جو لوگ معجزات کو ماننے سے انکار کرتے ہیں، ان کا موقف در حقیقت اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر شک کرنے کے مترادف ہے۔ حالانکہ اگر اللہ تعالیٰ پر ایمان ہے تو یہ ماننا پڑے گا کہ آگ میں جلانے کی خاصیت اسی نے پیدا فرمائی ہے، اگر وہ اپنے ایک جلیل القدر پیغمبر کو دشمنوں کے ظلم سے بچانے کے لیے اس کی یہ خاصیت ختم کردے تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے ؟
Ayahs 21:71–73

وَ نَجَّیْنٰهُ وَ لُوْطًا اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا لِلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:71 in the Quran reader

اور ہم انہیں اور لوط کو بچا کر اس سرزمین کی طرف لے گئے جس میں ہم نے دنیا جہان کے لوگوں کے لیے برکتیں رکھی ہیں۔ (29)

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ١ؕ وَ یَعْقُوْبَ نَافِلَةً١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا صٰلِحِیْنَ Open ayah 21:72 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو انعام کے طور پر اسحاق اور یعقوب عطا کیے، اور ان میں سے ہر ایک کو ہم نے نیک بنایا۔

وَ جَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِمْ فِعْلَ الْخَیْرٰتِ وَ اِقَامَ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءَ الزَّكٰوةِ١ۚ وَ كَانُوْا لَنَا عٰبِدِیْنَۚۙ Open ayah 21:73 in the Quran reader

اور ان سب کو ہم نے پیشوا بنایا جو ہمارے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے، اور ہم نے وحی کے ذریعے انہیں نیکیاں کرنے، نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کی تاکید کی تھی، اور وہ ہمارے عبادت گزار تھے۔

29: لوط ؑ حضرت ابراہیم ؑ کے بھتیجے تھے، اور سورة عنکبوت آیت 29 سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی قوم میں سے تنہا وہی ان پر ایمان لائے تھے۔ تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب انہیں آگ میں ڈالنے کی سازش ناکام ہوگئی تو نمرود نے مرعوب ہو کر ان سے تعرض نہیں کیا۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنے بھتیجے کو لے کر عراق سے شام کے علاقے میں تشریف لے گئے۔ قرآن کریم نے کئی مقامات پر شام اور فلسطین کے علاقے کو برکتوں والا علاقہ قرار دیا ہے۔