12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsآسان قرآن

Ayahs 12:38–42

وَ اتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَآءِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نُّشْرِكَ بِاللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَیْنَا وَ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 12:38 in the Quran reader

اور میں نے اپنے باپ دادا ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کے دین کی پیروی کی ہے۔ ہمیں یہ حق نہیں ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک ٹھہرائیں۔ یہ (توحید کا عقیدہ) ہم پر اور تمام لوگوں پر اللہ کے فضل کا حصہ ہے، لیکن اکثر لوگ (اس نعمت کا) شکر ادا نہیں کرتے۔

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُؕ Open ayah 12:39 in the Quran reader

اے میرے قید خانے کے ساتھیو ! کیا بہت سے متفرق رب بہتر ہیں، یا وہ ایک اللہ جس کا اقتدار سب پر چھایا ہوا ہے ؟

مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اَسْمَآءً سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:40 in the Quran reader

اس کے سوا جس جس کی تم عبادت کرتے ہو، ان کی حقیقت چند ناموں سے زیادہ نہیں ہے جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے رکھ لیے ہیں۔ اللہ نے ان کے حق میں کوئی دلیل نہیں اتاری۔ حاکمت اللہ کے سوا کسی کو حاصل ہیں ہے، اسی نے یہ حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی سیدھا سیدھا دین ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ اَمَّاۤ اَحَدُكُمَا فَیَسْقِیْ رَبَّهٗ خَمْرًا١ۚ وَ اَمَّا الْاٰخَرُ فَیُصْلَبُ فَتَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْ رَّاْسِهٖ١ؕ قُضِیَ الْاَمْرُ الَّذِیْ فِیْهِ تَسْتَفْتِیٰنِؕ Open ayah 12:41 in the Quran reader

اے میرے قید خانے کے ساتھیو ! (اب اپنے خوابوں کی تعبیر سنو) تم میں سے ایک کا معاملہ تو یہ ہے کہ وہ (قید سے آزاد ہوکر) اپنے آقا کو شراب پلائے گا۔ رہا دوسرا تو اسے سولی دی جائے گی، جس کے نتیجے میں پرندے اس کے سر کو (نوچ کر) کھائیں گے۔ جس معاملے میں تم پوچھ رہے تھے، اس کا فیصلہ (اسی طرح) ہوچکا ہے۔

وَ قَالَ لِلَّذِیْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِیْ عِنْدَ رَبِّكَ١٘ فَاَنْسٰىهُ الشَّیْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِیْنَؕ۠ Open ayah 12:42 in the Quran reader

اور ان دونوں میں سے جس کے بارے میں ان کا گمان تھا کہ وہ رہا ہوجائے گا، اس سے یوسف نے کہا کہ : اپنے آقا سے میرا بھی تذکرہ کردینا۔ (27) پھر ہوا یہ کہ شیطان نے اس کو یہ بات بھلا دی کہ وہ اپنے آقا سے یوسف کا تذکرہ کرتا۔ چنانچہ وہ کئی برس قید خانے میں رہے۔

27: آقا سے مراد بادشاہ ہے۔ حضرت یوسف ؑ نے جس قیدی کے بارے میں یہ فرمایا تھا کہ وہ چھوٹ جائے گا اور واپس جا کر حسب معمول اپنے آقا کو شراب پلائے گا اس سے آپ نے یہ بات فرمائی کہ تم اپنے آقا یعنی بادشاہ سے میرا تذکلرہ کرنا کہ ایک شخص بےگناہ جیل میں پڑا ہوا ہے۔ اس کے معاملے پر آپ کو توجہ کرنی چاہیے مگر جیسا کہ آگے بیان فرمایا گیا ہے اللہ تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا کہ وہ شخص بادشاہ سے یہ بات کہنا بھول گیا جس کی وجہ سے انہیں کئی سال اور جیل میں رہنا پڑا۔
Ayahs 12:43–44

وَ قَالَ الْمَلِكُ اِنِّیْۤ اَرٰى سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعَ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِیْ فِیْ رُءْیَایَ اِنْ كُنْتُمْ لِلرُّءْیَا تَعْبُرُوْنَ Open ayah 12:43 in the Quran reader

اور (چند سال بعد مصر کے) بادشاہ نے (اپنے درباریوں سے) کہا کہ : میں (خواب میں) کیا دیکھتا ہوں کہ سات موٹی تازی گائیں ہیں جنہیں سات دبلی پتلی گائیں کھا رہی ہیں، نیز سات خوشے ہرے بھرے ہیں، اور سات اور ہیں جو سوکھے ہوئے ہیں۔ اے درباریو ! اگر تم خواب کی تعبیر دے سکتے ہو تو میرے اس خواب کا مطلب بتاؤ۔

قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ١ۚ وَ مَا نَحْنُ بِتَاْوِیْلِ الْاَحْلَامِ بِعٰلِمِیْنَ Open ayah 12:44 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ : یہ پریشان قسم کے خیالات (معلوم ہوتے) ہیں، اور ہم خوابوں کی تعبیر کے علم سے واقف (بھی) نہیں۔ (28)

28: بادشاہ نے جو خواب دیکھا تھا وہ اس کی تعبیر جاننا چاہتا تھا، مگر دربار کے لوگوں نے پہلے تو یہ کہا کہ یہ کوئی بامعنی خواب معلوم نہیں ہوتا، پریشان قسم کے خیالات بعض اوقات ایسے خوابوں کا روپ دھارلیتے ہیں، پھر یہ بھی کہا کہ اگر یہ واقعی کوئی بامعنی خواب ہے تب بھی ہم اس کی تعبیر بتانے سے قاصر ہیں ؛ کیونکہ ہم اس علم سے واقف نہیں ہیں۔
Ayah 12:45

وَ قَالَ الَّذِیْ نَجَا مِنْهُمَا وَ ادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَبِّئُكُمْ بِتَاْوِیْلِهٖ فَاَرْسِلُوْنِ Open ayah 12:45 in the Quran reader

اور ان دو قیدیوں میں سے جو رہا ہوگیا تھا، اور اسے ایک لمبے عرصے کے بعد (یوسف کی) بات یاد آئی تھی، اس نے کہا کہ : میں آپ کو اس خواب کی تعبیر بتائے دیتا ہوں، بس مجھے (یوسف کے پاس قید خانے میں) بھیج دیجیے۔ (29)

29: یہ وہی قیدی تھا جس کو حضرت یوسف ؑ نے اس کے خواب کی یہ تعبیر دی تھی کہ اسے جیل سے رہائی مل جائے گی اور جب وہ رہا ہوا تھا تو اس سے کہا تھا کہ اپنے آقا سے میرا بھی تذکرہ کردینا مگر وہ ان کا ذکر کرنا بھول گیا تھا۔ اب جو بادشاہ نے اپنے خواب کی تعبیر پوچھی تو اسے یاد آیا کہ حضرت یوسف ؑ کو اللہ تعالیٰ نے خوابوں کی تعبیر کا خاص علم عطا فرمایا ہے اور وہ اس خواب کی صحیح تعبیر بتاسکتے ہیں۔ اس لیے اس نے بادشاہ کو بتایا کہ قید خانے میں ایک شخص ہے جو خواب کی بہترین تعبیر بتاتا ہے آپ مجھے اس کے پاس بھیج دیجئے۔ قرآن کریم چونکہ قصہ گوئی کی کتاب نہیں ہے، بلکہ ہر قصے سے اس کا کوئی مقصد وابستہ ہوتا ہے۔ اس لیے اس کا یہ خاص اسلوب ہے کہ جو باتیں سننے والا خود اپنی سمجھ سے نکال سکتا ہے ان کی تفصیل بیان نہیں کرتا۔ چنانچہ یہاں بھی صریح لفظوں میں یہ فرمانے کی ضرورت نہیں سمجھی کہ اس کے بعد بادشاہ نے اس کو قید خانے میں بھیجا اور وہاں حضرت یوسف ؑ سے اس کی ملاقات ہوئی اور اس نے ان سے کہا بلکہ براہ راست بات یہاں شروع فرما دی کہ یوسف ! اے وہ شخص جس کی ہر بات سچی ہوتی۔
Ayah 12:46

یُوْسُفُ اَیُّهَا الصِّدِّیْقُ اَفْتِنَا فِیْ سَبْعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعِ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ۙ لَّعَلِّیْۤ اَرْجِعُ اِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:46 in the Quran reader

(چنانچہ اس نے قید خانے میں پہنچ کر یوسف سے کہا) یوسف ! اے وہ شخص جس کی ہر بات سچی ہوتی ہے، تم ہمیں اس (خواب) کا مطلب بتاؤ کہ سات موٹی تازی گائیں ہیں جنہیں سات دبلی پتلی گائیں کھا رہی ہیں، اور سات خوشے ہرے بھرے ہیں، اور دوسرے سات اور ہیں جو سوکھے ہوئے ہیں، شاید میں لوگوں کے پاس واپس جاؤں (اور انہیں خواب کی تعبیر بتاؤں) تاکہ وہ بھی حقیقت جان لیں۔ (30)

30: حقیقت جان لینے کا مطلب یہ بھی ہے کہ وہ خواب کی صحیح تعبیر سمجھ لیں۔ اور یہ بھی کہ وہ حضرت یوسف ؑ کے بارے میں حقیقت حال سے واقف ہوجائیں کہ ایک ایسا نیک اور راست باز انسان بےگناہ قید میں پڑا ہوا ہے۔
Ayahs 12:47–49

قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِیْنَ دَاَبًا١ۚ فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ فِیْ سُنْۢبُلِهٖۤ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ Open ayah 12:47 in the Quran reader

یوسف نے کہا : تم سات سال تک مسلسل غلہ زمین میں اگاؤ گے، اس دوران جو فصل کاٹو، اس کو اس کی بالیوں ہی میں رہنے دینا، البتہ تھوڑا سا غلہ جو تمہارے کھانے کے کام آئے، (وہ نکال لیا کرو)۔

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ Open ayah 12:48 in the Quran reader

پھر اس کے بعد تم پر سات سال ایسے آئیں گے جو بڑے سخت ہوں گے، اور جو کچھ ذخیرہ تم نے ان سالوں کے واسطے جمع کر رکھا ہوگا، اس کو کھا جائیں گے، ہاں البتہ تھوڑا سا حصہ جو تم محفوظ کرسکو گے (صرف وہ بچ جائے گا)

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِیْهِ یُغَاثُ النَّاسُ وَ فِیْهِ یَعْصِرُوْنَ۠ Open ayah 12:49 in the Quran reader

پھر اس کے بعد ایک سال ایسا آئے گا جس میں لوگوں پر خوب بارش ہوگی، اور وہ اس میں انگور کا شیرہ نچوڑیں گے۔ (31)

31: حضرت یوسف ؑ نے خواب کی جو تعبیر دی اس کا خلاصہ یہ تھا کہ آئندہ ساتھ سال تک تو موسم ٹھیک رہے گا جس کے نتیجے میں لوگ خوب غلہ اگائیں گے لیکن اس کے بعد سات سال تک زبردست قحط پڑے گا سات موٹی تازی گائیں جو خواب میں نظر آئی ہیں ان سے مراد سات خوشحالی کے سال ہیں اور جو سات دبلی پتلی گائیں دیکھی گئی ہیں ان سے قحط کے سات سالوں کی طرف اشارہ ہے۔ اب ان سات قحط کے سالوں کا پہلے سے انتظام کرنے کے لیے حضرت یوسف ؑ نے یہ تدبیر بتائی کہ خوشحالی کے سات سالوں میں جتنا غلہ اگے اس میں سے تھوڑا تھوڑا تو اپنے روز مرہ کے کھانے کے لیے نکال لیا جائے اور باقی غلے کو اس کی بالیوں ہی میں پڑا رہنے دیا جائے۔ تاکہ وہ سڑ کر خراب نہ ہو۔ جب قحط کے سات سال آئیں گے تو یہ ذخیرہ اس وقت کام آئے گا۔ اور قحط کے یہ سات سال اس سارے ذخیرے کو کھاجائیں گے۔ البتہ تھوڑا سا غلہ آئندہ بیج ڈالنے کے لیے بچا رہے گا جو آئندہ سال کی کاشت کے کام آئے گا۔ چنانچہ اگلے سال خوب بارشیں ہوں گی اور لوگ انگور کا خوب رس نکالیں گے۔
Ayah 12:50

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِعْ اِلٰى رَبِّكَ فَسْئَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِكَیْدِهِنَّ عَلِیْمٌ Open ayah 12:50 in the Quran reader

اور بادشاہ نے کہا کہ : اس کو (یعنی یوسف کو) میرے پاس لے کر آؤ۔ چنانچہ جب ان کے پاس ایلچی پہنچا تو یوسف نے کہا : اپنے مالک کے پاس واپس جاؤ، اور ان سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا قصہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈا لے تھے ؟ میرا پروردگار ان عورتوں کے مکر سے خوب واقف ہے۔ (32)

32: یہاں پھر قرآن کریم نے واقعے کے وہ حصے حذف فرما دئیے ہیں جو خود سمجھ میں آسکتے ہیں۔ یعنی حضرت یوسف ؑ نے خواب کی جو تعبیر دی تھی وہ بادشاہ کو بتائی گئی۔ بادشاہ نے تعبیر سن کر ان کو قدر دانی کے طور پر اپنے پاس بلوانا چاہا۔ اور اس مقصد کے لیے اپنا ایک ایلچی بھیجا اس موقع پر حضرت یوسف ؑ نے چاہا کہ اپنی رہائی سے پہلے اس جھوٹ الزام کی واضح طور پر صفائی کروائیں جو ان پر لگایا گیا تھا۔ اس لیے اس مرحلے پر انہوں نے ایلچی کے ساتھ جانے کے بجائے بادشاہ کو یہ پیغام بھجوایا کہ آپ پہلے ان عورتوں کے معاملات کی تحقیق کریں جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے، چونکہ ان عورتوں کو ساری بات معلوم تھی، اور ان کے ذریعے حقیقت کا معلوم کرنا زیادہ آسان تھا، اسی لیے زلیخا کے بجائے ان کا حوالہ دیا۔ اور اگرچہ یہ تحقیق جیل سے رہا ہونے کے بعد بھی کی جاسکتی تھی۔ لیکن حضرت یوسف ؑ نے شاید اس لیے یہ طریقہ اختیار فرمایا تاکہ بادشاہ اور عزیز مصر وغیرہ پر یہ بات واضح ہوجائے کہ ان کو اپنی بےگناہی پر اتنا یقین ہے کہ وہ بےگناہ ثابت ہوئے بغیر جیل سے رہا ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ دوسرے حضرت یوسف ؑ نے بادشاہ کے انداز سے یہ سمجھ لیا تھا کہ وہ انہیں کوئی اعزاز دیں گے۔ اس اعزاز کے ملنے کے بعد تحقیقات کے غیر جانب دارانہ ہونے میں لوگوں کو شکوک اور شبہات ہوسکتے تھے۔ اس لیے آپ نے مناسب یہی سمجھا کہ جیل سے اس وقت نکلیں جب غیر جانب دارانہ تحقیق کے نتیجے میں الزام کا ہر داغ دھل چکا ہو۔ اللہ تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا کہ بادشاہ کو حضرت یوسف ؑ کی سچائی کا یقین ہوگیا، اور اس نے جب ان عورتوں کو بلا کر ان سے اس انداز میں سوال کیا جیسے اسے ساری حقیقت معلوم ہے تو وہ حقیقت سے انکار نہ کرسکیں، بلکہ انہوں نے حضرت یوسف ؑ کی بےگناہی کی صاف لفظوں میں گواہی دی۔ اس مرحلے پر عزیز مصرف کی بیوی زلیخا کو بھی یہ اقرار کرنا پڑا کہ اصل غلطی اسی کی تھی۔ شاید اللہ تعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ اپنے جرم کے اقرار اور توبہ کے ذریعے وہ بھی پاک صاف ہوسکے،
Ayahs 12:51–53

قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ یُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْهِ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ الْئٰنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ١٘ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:51 in the Quran reader

بادشاہ نے (ان عورتوں کو بلا کر ان سے) کہا : تمہارا کیا قصہ تھا جب تم نے یوسف کو ورغلا نے کی کوشش کی تھی ؟ ان سب عورتوں نے کہا کہ : حاشا للہ ! ہم کو ان میں ذرا بھی کوئی برائی معلوم نہیں ہوئی۔ عزیز کی بیوی نے کہا کہ : اب تو حق بات سب پر کھل ہی گئی ہے۔ میں نے ہی ان کو ورغلانے کی کوشش کی تھی، اور حقیقت یہ ہے کہ وہ بالکل سچے ہیں۔

ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآئِنِیْنَ Open ayah 12:52 in the Quran reader

(جب یوسف کو قید خانے میں اس گفتگو کی خبر ملی تو انہوں نے کہا کہ :) یہ سب کچھ میں نے اس لیے کیا تاکہ عزیز کو یہ بات یقین کے ساتھ معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی غیر موجودگی میں اس کے ساتھ کوئی خیانت نہیں کی، اور یہ بھی کہ جو لوگ خیانت کرتے ہیں اللہ ان کے فریب کو چلنے نہیں دیتا۔

وَ مَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِیْ١ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 12:53 in the Quran reader

اور میں یہ دعوی نہیں کرتا کہ میرا نفس بالکل پاک صاف ہے، واقعہ یہ ہے کہ نفس تو برائی کی تلقین کرتا ہی رہتا ہے، ہاں میرا رب رحم فرمادے تو بات اور ہے (کہ اس صورت میں نفس کا کوئی داؤ نہیں چلتا) بیشک میرا رب بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔ (33)

33: حضرت یوسف ؑ کی تواضع اور عبدیت کا کمال دیکھئے کہ اس موقع پر جب ان کی بےگناہی خود ان عورتوں کے اعتراف سے ثابت ہوگئی، تب بھی اس پر اپنی بڑائی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے یہ فرما رہے ہیں کہ میں اس انتہائی خطرناک جال سے جو بچا ہوں اس میں میرا کوئی کمال نہیں نفس تو میرے پاس بھی ہے جو انسان کو برائی کی تلقین کرتا رہتا ہے، لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا رحم و کرم ہے کہ وہ جس کو چاہتا ہے اس کے فریب سے بچا لیتا ہے، البتہ دوسرے دلائل سے یہ بات واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ رحم و کرم اسی پر ہوتا ہے جو گناہ سے بچنے کے لئے اپنی سی کوشش کر گزرے، جیسے حضرت یوسف ؑ نے دروازے تک بھاگ کر کی تھی اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ سے رجوع کرکے اس سے پناہ مانگے۔
Ayah 12:54

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖۤ اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِیْ١ۚ فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَكِیْنٌ اَمِیْنٌ Open ayah 12:54 in the Quran reader

اور بادشاہ نے کہا کہ : اس کو میرے پاس لے آؤ، میں اسے خالص اپنا (معاون) بناؤں گا۔ چنانچہ جب (یوسف بادشاہ کے پاس آگئے اور) بادشاہ نے ان سے باتیں کیں تو اس نے کہا : آج سے ہمارے پاس تمہارا بڑا مرتبہ ہوگا، اور تم پر پورا بھروسہ کیا جائے گا۔ (34)

34: بادشاہ نے حضرت یوسف ؑ سے جو باتیں کیں، ان کی تفصیل بعض روایات میں اس طرح آئی ہے کہ اس نے پہلے تو خواب کی تعبیر خود حضرت یوسف ؑ سے سننے کی خواہش ظاہر کی، اس موقع پر حضرت یوسف ؑ نے بادشاہ کے خواب کی کچھ ایسی تفصیلات اس سے بیان کیں جو بادشاہ نے اب تک کسی اور کو نہیں بتائی تھیں، اس پر وہ نہایت حیرت زدہ ہوا، پھر حضرت یوسف ؑ نے قحط کے سالوں کا انتظام کرنے کے لئے بھی بڑی مفید تجویزیں پیش کیں، جو اسے بہت پسند آئیں اور اسے آپ کی نیکی کا اطمینان ہوگیا، اس موقع پر اس نے آپ سے کہا کہ آپ پر چونکہ ہمیں پورا بھروسہ ہوچکا ہے، اس لئے آپ کا شمار حکومت کے معتمد افراد میں ہوگا، نیز جب حضرت یوسف ؑ نے قحط کے اثرات سے بچنے کی تدبیر بتائی تو بادشاہ نے پوچھا کہ اس کا انتظام کون کرے گا اس پر حضرت یوسف ؑ نے پیشکش کی کہ میں یہ ذمہ داری لینے کو تیار ہوں۔
Ayah 12:55

قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰى خَزَآئِنِ الْاَرْضِ١ۚ اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ Open ayah 12:55 in the Quran reader

یوسف نے کہا کہ : آپ مجھے ملک کے خزانوں (کے انتظام) پر مقرر کردیجیے۔ یقین رکھیے کہ مجھے حفاظت کرنا خوب آتا ہے (اور) میں (اس کام کا) پورا علم رکھتا ہوں۔ (35)

35: عام حالات میں حکومت کا کوئی عہدہ خود طلب کرنا شرعی اعتبار سے جائز نہیں ہے، اور آنحضرت ﷺ نے اس کی ممانعت فرمائی ہے ؛ لیکن جب کسی سرکاری عہدہ کے نااہلوں کے سپرد ہونے کی وجہ سے خلق خدا کی پریشانی کا قوی خطرہ ہو تو ایسی مجبوری کی حالت میں کسی نیک پارسا اور متقی آدمی کے لئے عہدے کا طلب کرنا جائز ہے، یہاں حضرت یوسف ؑ کو اندیشہ تھا کہ قحط کا جو زمانہ آنے والا ہے اس میں لوگوں کے ساتھ ناانصافیاں ہوں گی، اس کے علاوہ اس ملک میں اللہ تعالیٰ کا قانون جاری کرنے کا اس کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا کہ حضرت یوسف ؑ خود یہ ذمہ داری قبول فرمائیں، اور اللہ تعالیٰ کے احکام کو نافذ فرمائیں، اس لئے آپ نے ملک کے خزانوں کا انتظام اپنے سر لے لیا، پھر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رفتہ رفتہ بادشاہ نے حکومت کے سارے اختیارات انہی کے سپرد کردئے تھے اور وہ پورے ملک کے حکمران بن گئے تھے اور حضرت مجاہد ؒ کی روایت یہ ہے کہ بادشاہ ان کے ہاتھ پر مسلمان بھی ہوگیا تھا، لہذا حضرت یوسف ؑ کا اس ذمہ داری کو قبول کرنا پورے ملک پر اللہ تعالیٰ کا قانون انصاف نافذ ہونے کا ذریعہ بن گیا۔
Ayahs 12:56–57

وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١ۚ یَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَیْثُ یَشَآءُ١ؕ نُصِیْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَآءُ وَ لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:56 in the Quran reader

اور اس طرح ہم نے یوسف کو ملک میں ایسا اقتدار عطا کیا کہ وہ اس میں جہاں چاہیں اپنا ٹھکانا بنائیں۔ ہم اپنی رحمت جس کو چاہتے ہیں پہنچاتے ہیں اور نیک لوگوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتے۔

وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 12:57 in the Quran reader

اور آخرت کا جو اجر ہے وہ ان لوگوں کے لیے کہیں زیادہ بہتر ہے جو ایمان لاتے اور تقوی پر کاربند رہتے ہیں (36)

36:: دنیا میں حضرت یوسف ؑ کو جو عزت اور اقتدار ملا اس کے ذکر کے ساتھ قرآن کریم نے یہ بھی واضح فرمادیا کہ یہ اس اجر عظیم کے مقابلے میں بہت کم ہے جو ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے آخرت میں تیار کر رکھا ہے، اس طرح ہر وہ شخص جس کو دنیا میں کوئی عزت اور دولت ملی اسے یہ ابدی نصیحت فرمادی گئی ہے اس کو اصل فکر اس بات کی کرنی چاہیے کہ اس دنیا کی عزت و دولت کے نتیجے میں آخرت کا اجر ضائع نہ ہو۔
Ayah 12:58

وَ جَآءَ اِخْوَةُ یُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَیْهِ فَعَرَفَهُمْ وَ هُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ Open ayah 12:58 in the Quran reader

اور (جب قحط پڑا تو) یوسف کے بھائی آئے، اور ان کے پاس پہنچے۔ (37) تو یوسف نے انہیں پہچان لیا، اور وہ یوسف کو نہیں پہچانے۔ (38)

37: جیسا کہ حضرت یوسف ؑ نے تعبیر دی تھی، سات سال بعد پورے مصر میں سخت قحط پڑا، اور آس پاس کے علاقے بھی اسکی لپیٹ میں آگئے، حضرت یوسف ؑ نے مصر کے بادشاہ کو یہ مشورہ دیا تھا کہ خوشحالی کے سات سالوں میں مسلسل غلے کا ذخیرہ کیا جائے تاکہ جب قحط کے سال آئیں تو یہ ذخیرہ لوگوں کے کام آئے، اس موقع پر آپ نہ صرف اپنے علاقے کے لوگوں کو سستے داموں غلہ فروخت کرسکیں گے بلکہ اردگرد کے دوسرے علاقوں کے لوگوں کی بھی مدد کرسکیں گے، چنانچہ اس قحط کے نتیجے میں دور دور تک غلے کی بڑی قلت ہوگئی، حضرت یعقوب ؑ (یعنی حضرت یوسف ؑ کے والد) اس پورے عرصے میں فلسطین کے علاقے کنعان ہی میں تھے جب کنعان میں بھی قحط پڑا تو انہیں اور ان کے صاحبزادوں کو پتہ چلا کہ مصر کے بادشاہ نے قحط زدہ لوگوں کے لئے راشن مقرر کر رکھا ہے اور وہاں سے مناسب قیمت پر غلہ مل سکتا ہے، اس خبر کو سن کر حضرت یوسف ؑ کے دس باپ شریک بھائی جنہوں نے ان کو بچپن میں کنویں میں ڈالا تھا راشن لینے کیلئے مصر آئے، البتہ ان کے سگے بھائی بنیامین کو اپنے والد کے پاس چھوڑ آئے، یہاں راشن کی تقسیم کا سارا انتظام حضرت یوسف ؑ خود کررہے تھے ؛ تاکہ سب لوگوں کو انصاف کے ساتھ راشن مل سکے، چنانچہ ان کے بھائیوں کو ان کے سامنے آنا پڑا۔ 38: حضرت یوسف ؑ تو ان کو اس لئے پہچان گئے کہ ان کی صورتوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی، اور حضرت یوسف ؑ کو توقع بھی تھی کہ وہ راشن لینے کے لئے آئیں گے، لیکن وہ بھائی حضرت یوسف ؑ کو اس لئے نہیں پہچان سکے کہ انہوں نے حضرت یوسف ؑ کو سات سال کی عمر میں دیکھا تھا اور اب وہ بہت بڑے ہوچکے تھے، اس لئے صورت میں بڑی تبدیلی آچکی تھی، اس کے علاوہ ان کہ وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ مصر کے محلات میں ہوسکتے ہیں۔
Ayah 12:59

وَ لَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُوْنِیْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِیْكُمْ١ۚ اَلَا تَرَوْنَ اَنِّیْۤ اُوْفِی الْكَیْلَ وَ اَنَا خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ Open ayah 12:59 in the Quran reader

اور جب یوسف نے ان کا سامان تیار کردیا تو ان سے کہا کہ (آئندہ) اپنے باپ شریک بھائی کو بھی میرے پاس لے کر آنا۔ (39) کیا تم یہ نہیں دیکھ رہے ہو کہ میں پیمانہ بھر بھر کردیتا ہوں، اور میں بہترین مہمان نواز بھی ہوں ؟

39: در اصل ہوا یہ تھا کہ جب ان دس بھائیوں کو ایک ایک اونٹ کا بوجھ غلہ مل گیا تو انہوں نے حضرت یوسف ؑ سے کہا کہ ہمارا ایک باپ شریک بھائی ہے جو ہمارے والد کی خدمت کے لیے وہاں رہ گیا ہے اور یہاں نہیں آسکا آپ اس کے حصے کا غلہ بھی ہمیں دے دیجئے اس پر حضرت یوسف ؑ نے فرمایا کہ راشن کے جو قواعد مقرر کیے گئے ہیں ان کی رو سے میں ایسا نہیں کرسکتا۔ البتہ اگلی مرتب جب آپ آئیں تو اسے بھی ساتھ لے کر آئیں تو میں سب کا حصہ پورا پورا دوں گا اور اگر اس مرتبہ آپ لوگ اسے ساتھ نہ لائے تو آپ کے اپنے حصے کا غلہ بھی آپ کو نہیں ملے گا۔ کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ نے جھوٹ بولا تھا کہ آپ کا کوئی اور بھائی بھی ہے اور دھوکا دینے والوں کو راشن نہیں دیا جاسکتا۔
Ayahs 12:60–62

فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِیْ بِهٖ فَلَا كَیْلَ لَكُمْ عِنْدِیْ وَ لَا تَقْرَبُوْنِ Open ayah 12:60 in the Quran reader

اب اگر تم اسے لے کر نہ آئے تو میرے پاس تمہارے لیے کوئی غلہ نہیں ہوگا، اور تم میرے پاس بھی نہ پھٹکنا۔

قَالُوْا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ اَبَاهُ وَ اِنَّا لَفٰعِلُوْنَ Open ayah 12:61 in the Quran reader

وہ بولے : ہم اس کے والد کو اس کے بارے میں بہلانے کی کوشش کریں گے (کہ وہ اسے ہمارے ساتھ بھیج دیں) اور ہم ایسا ضرور کریں گے۔

وَ قَالَ لِفِتْیٰنِهِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَهُمْ فِیْ رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَعْرِفُوْنَهَاۤ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 12:62 in the Quran reader

اور یوسف نے اپنے نوکروں سے کہہ دیا کہ وہ ان (بھائیوں) کا مال (جس کے بدلے انہوں نے غلہ خریدا ہے) انہی کے کجاووں میں رکھ دیں، (40) تاکہ جب یہ اپنے گھر والوں کے پاس واپس پہنچیں تو اپنے مال کو پہچان لیں۔ شاید (اس احسان کی وجہ سے) وہ دوبارہ آئیں۔

40: حضرت یوسف ؑ نے ان بھائیوں کے ساتھ یہ احسان فرمایا کہ غلے کو خریدنے کے لیے جو قیمت انہوں نے دی تھی، وہ واپس انہی کے سامان میں رکھوا دی اس زمانے میں سونے چاندی کے سکوں کے بجائے مختلف قسم کا سامان قیمت کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کنعان سے کچھ چمڑا اور جوتے لے کر آئے تھے وہی انہوں نے غلے کی قیمت کے طور پر پیش کیا، اور اسی کو حضرت یوسف ؑ نے واپس ان کے سامان میں رکھوا دیا یہ ظاہر بات ہے کہ انہوں نے اپنی جیب سے اتنی قیمت سرکاری خزانے میں جمع کرا دی ہوگی۔
Ayah 12:63

فَلَمَّا رَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْهِمْ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَیْلُ فَاَرْسِلْ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَكْتَلْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:63 in the Quran reader

چنانچہ جب وہ اپنے والد کے پاس واپس پہنچے تو انہوں نے کہا : ابا جان ! آئندہ ہمیں غلہ دینے سے انکار کردیا گیا ہے۔ (41) لہذا آپ ہمارے بھائی (بنیامین) کو ہمارے ساتھ بھیج دیجیے، تاکہ ہم (پھر) غلہ لاسکیں، اور یقین رکھیے کہ ہم اس کی پوری پوری حفاظت کریں گے۔

41: یعنی اگر ہم بنیامین کو ساتھ لے کر نہ گئے تو ہم میں سے کسی کو غلہ نہیں مل سکے گا۔
Ayahs 12:64–67

قَالَ هَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَیْهِ اِلَّا كَمَاۤ اَمِنْتُكُمْ عَلٰۤى اَخِیْهِ مِنْ قَبْلُ١ؕ فَاللّٰهُ خَیْرٌ حٰفِظًا١۪ وَّ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:64 in the Quran reader

والد نے کہا : کیا میں اس کے بارے میں تم پر ویسا ہی بھروسہ کروں جیسا اسکے بھائی (یوسف) کے بارے میں تم پر پہلے کیا تھا ؟ خیر ! اللہ سب سے بڑھ کر نگہبان ہے، اور وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔

وَ لَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ اِلَیْهِمْ١ؕ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا نَبْغِیْ١ؕ هٰذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَیْنَا١ۚ وَ نَمِیْرُ اَهْلَنَا وَ نَحْفَظُ اَخَانَا وَ نَزْدَادُ كَیْلَ بَعِیْرٍ١ؕ ذٰلِكَ كَیْلٌ یَّسِیْرٌ Open ayah 12:65 in the Quran reader

اور جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تو دیکھا کہ ان کا مال بھی ان کو لوٹا دیا گیا ہے، وہ کہنے لگے : ابا جان ! ہمیں اور کیا چاہیے ؟ یہ ہمارا مال ہے جو ہمیں لوٹا دیا گیا ہے، اور (اس مرتبہ) ہم اپنے گھر والوں کے لیے اور غلہ لائیں گے، اپنے بھائی کی حٖفاظت کریں گے، اور ایک اونٹ کا بوجھ زیادہ لے کر آئیں گے (اس طرح) یہ زیادہ غلہ بڑی آسانی سے مل جائے گا۔

قَالَ لَنْ اُرْسِلَهٗ مَعَكُمْ حَتّٰى تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَتَاْتُنَّنِیْ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّحَاطَ بِكُمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اٰتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ Open ayah 12:66 in the Quran reader

والد نے کہا : میں اس (بنیامین) کو تمہارے ساتھ اس وقت تک ہرگز نہیں بھیجوں گا جب تک تم اللہ کے نام پر مجھ سے یہ عہد نہ کرو کہ اسے ضرور میرے پاس واپس لے کر آؤ گے، الا یہ کہ تم (واقعی) بےبس ہوجاؤ۔ چنانچہ جب انہوں نے اپنے والد کو یہ عہد دے دیا تو والد نے کہا : جو قول وقرار ہم کر رہے ہیں اس پر اللہ نگہبان ہے۔

وَ قَالَ یٰبَنِیَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّ ادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ١ؕ وَ مَاۤ اُغْنِیْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۚ وَ عَلَیْهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ Open ayah 12:67 in the Quran reader

اور (ساتھ ہی یہ بھی) کہا کہ : میرے بیٹو ! تم سب ایک دروازے سے (شہر میں) داخل نہ ہونا، بلکہ مختلف دروازوں سے داخل ہونا (42) میں اللہ کی مشیت سے تمہیں بچا سکتا، حکم اللہ کے سوا کسی کا نہیں چلتا۔ (43) اسی پر میں نے بھروسہ کر رکھا ہے، اور جن جن کو بھروسہ کرنا ہو، انہیں چاہیے کہ اسی پر بھروسہ کریں۔

42: یہ تاکید حضرت یعقوب ؑ نے اس خیال سے فرمائی کہ یہ گیارہ کے گیارہ بھائی جو سب ماشاء اللہ قد آور اور حسین و جمیل تھے جب ایک ساتھ شہر میں داخل ہوں گے تو کہیں کسی کی نظر نہ لگ جائے۔ 43۔ نظر بد سے بچنے کی تدبیر بتانے کے ساتھ ساتھ حضرت یعقوب ؑ نے یہ حقیقت بھی واضح فرما دی کہ انسان کی کسی تدبیر میں بذات خود کوئی تاثیر نہیں ہوتی۔ جو کچھ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مشیت سے ہوتا ہے وہ چاہتا ہے تو انسان کی تدبیر میں اثر پیدا فرما دیتا ہے اور چاہتا ہے تو وہ بےاثر ہوجاتی ہے لہذا ایک مومن کا کام یہ ہے کہ وہ اپنی سی تدبیر تو ضرور کرے۔ لیکن ھروسہ اس تدبیر کے بجائے اللہ تعالیٰ پر رکھے
Ayah 12:68

وَ لَمَّا دَخَلُوْا مِنْ حَیْثُ اَمَرَهُمْ اَبُوْهُمْ١ؕ مَا كَانَ یُغْنِیْ عَنْهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ اِلَّا حَاجَةً فِیْ نَفْسِ یَعْقُوْبَ قَضٰىهَا١ؕ وَ اِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 12:68 in the Quran reader

اور جب وہ (بھائی) اسی طرح (مصر میں) داخل ہوئے جس طرح ان کے والد نے کہا تھا، تو یہ عمل اللہ کی مشیت سے ان کو ذڑا بھی بچانے والا نہیں تھا، لیکن یعقوب کے دل میں ایک خواہش تھی جو انہوں نے پوری کرلی۔ بیشک وہ ہمارے سکھائے ہوئے علم کے حامل تھے، لیکن اکثر لوگ (معاملے کی حقیقت) نہیں جانتے (44)

44: یعنی بہت سے لوگ یا تو اپنی ظاہری تدبیروں کو ہی موثر حقیقی سمجھ بیٹھتے ہیں، یا ان پر اتنا بھروسہ کرلیتے ہیں کہ انہیں کبھی یہ خیال بھی نہیں آتا کہ جب تک اللہ تعالیٰ ان تدبیروں میں تاثیر پیدا نہ فرمائیں ان کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوسکتا۔ لیکن حضرت یعقوب ؑ ایسے نہیں تھے۔ انہوں نے جب اپنے صاحبزادوں کو نظر بد سے بچنے کی تدبیر بتائی تو ساتھ ہی یہ کہہ دیا کہ یہ محض ایک تدبیر ہے لیکن نفع اور نقصان پہنچانے کا اختیار اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو حاصل نہیں ہے چنانچہ ان کی یہ تدبیر نظر بد سے حفاظت کی حد تک تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے کام آئی لیکن اللہ تعالیٰ ہی کے حکم سے یہ بھائی ایک اور مشکل میں گرفتار ہوئے جس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔
Ayah 12:69

وَ لَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّیْۤ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:69 in the Quran reader

اور جب یہ لوگ یوسف کے پاس پہنچے تو انہوں نے اپنے (سگے) بھائی (بنیامین) کو اپنے پاس خاص جگہ دی، (45) (اور انہیں) بتایا کہ میں تمہارا بھائی ہوں، لہذا تم ان باتوں پر رنجیدہ نہ ہونا جو یہ (دوسرے بھائی) کرتے رہے ہیں۔

45: روایات میں مذکور ہے کہ حضرت یوسف ؑ نے دو دو بھائیوں کو ایک کمرے میں ٹھہرایا تھا اس طرح پانچ کمروں میں دس بھائی مقیم ہوگئے بنیامین رہ گئے تو حضرت یوسف ؑ نے فرمایا کہ یہ میرے ساتھ رہیں گے اس طرح انہیں اپنے سگے بھائی کے ساتھ تنہائی کا موقع مل گیا جس میں ان کو بتادیا کہ میں تمہارا سگا بھائی ہوں۔ بنیامین اس موقع پر کہا کہ اب میں ان بھائیوں کے ساتھ واپس جانا نہیں چاہتا۔ اس کے لیے حضرت یوسف ؑ نے وہ تدبیر اختیار کی جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔
Ayah 12:70

فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَایَةَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُهَا الْعِیْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ Open ayah 12:70 in the Quran reader

پھر جب یوسف نے ان کا سامان تیار کردیا تو پانی پینے کا پیالہ اپنے (سگے) بھائی کے کجاوے میں رکھوا دیا، پھر ایک منادی نے پکار کر کہا کہ : اے قافلے والو ! تم چور ہو، (46)۔

46: یہاں قدرتی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خود اپنی طرف سے پیالہ ان کے سامان میں رکھنے کے بعد اتنے و ثوق کے ساتھ ان کو چور قرار دینا کیسے جائز ہوسکتا ہے اس کے جواب میں بعض حضرات نے تو یہ موقف اختیار کیا ہے کہ حضرت یوسف ؑ نے پیالہ خفیہ طور پر رکھوایا تھا اور عملے کے لوگوں کو پیالہ نہ ملا تو انہوں نے اپنی طرف سے ان لوگوں کو چور قرار دیا۔ حضرت یوسف ؑ کے حکم سے نہٰں۔ لیکن جس سیاق میں قرآن کریم نے یہ واقعہ بیان فرمایا ہے۔ اس میں یہ احتمال بہت بعید معلوم ہوتا ہے۔ بعض مفسرین نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ ان کو چور قرار دینا ایک توریہ تھا اور ان کو چور اس معنی میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے حضرت یوسف ؑ کو بچپن میں اپنے والد سے چرا لیا تھا۔ تیسرے بعض مفسرین نے یہ فرمایا ہے کہ یہ تدبیر چونکہ خود اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علی ہالسلام کو سکھائی تھی جس یا کہ آگے آیت 76 میں اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا کہ اس طرح ہم نے یوسف کی خاطر یہ تدبیر کی اس لیے جو کچھ ہوا وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوا۔ اور جس طرح سورة کہف میں حضرت خضر ؑ نے کئی کام بظاہر شریعت کے خلاف کیے لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے تکوینی حکم سے تھے۔ اس لیے ان کے لیے جائز تھے۔ اسی طرح یہاں حضرت یوسف ؑ نے جو عمل کیا وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے یا، اس لیے ان پر کوئی اشکال نہیں ہونا چاہیے۔
Ayahs 12:71–72

قَالُوْا وَ اَقْبَلُوْا عَلَیْهِمْ مَّا ذَا تَفْقِدُوْنَ Open ayah 12:71 in the Quran reader

انہوں نے ان کی طرف مڑ کر پوچھا کہ : کیا چیز ہے جو تم سے گم ہوگئی ہے ؟

قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَ لِمَنْ جَآءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّ اَنَا بِهٖ زَعِیْمٌ Open ayah 12:72 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ : ہمیں بادشاہ کا پیمانہ نہیں مل رہا ِ (47) اور جو شخص اسے لاکر دے گا، اس کو ایک اونٹ کا بوجھ (انعام میں) ملے گا، اور میں اس (انعام کے دلوانے) کی ذمہ داری لیتا ہوں۔

47: یہ شاہی پیمانہ تھا اور بظاہر قیمتی تھا ورنہ اس کی تلاش میں اتنی محنت نہ کی جاتی۔
Ayahs 12:73–75

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كُنَّا سٰرِقِیْنَ Open ayah 12:73 in the Quran reader

وہ (بھائی) بولے : اللہ کی قسم ! آپ لوگ جانتے ہیں کہ ہم زمین میں فساد پھیلانے کے لیے نہیں آئے تھے، اور نہ ہم چوری کرنے والے لوگ ہیں۔

قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 12:74 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ : اگر تم لوگ جھوٹے (ثابت) ہوئے تو اس کی کیا سزا ہوگی ؟

قَالُوْا جَزَآؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَآؤُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 12:75 in the Quran reader

انہوں نے کہا : اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے کجاوے میں سے وہ (پیالہ) مل جائے، وہ خود سزا میں دھر لیا جائے۔ جو لوگ ظلم کرتے ہیں، ہم ان کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں، (48)

48: یعنی یعقوب ؑ کی شریعت میں یہی حکم ہے کہ جو چوری کرے، اسے گرفتار کرکے رکھ لیا جائے، اس طرح اللہ تعالیٰ نے خود ان بھائیوں سے یہ بات کہلوادی کہ چور کو یہ سزا ملنی چاہیے، چنانچہ جو سزا دی گئی وہ حضرت یعقوب ؑ کی شریعت کے مطابق دی گئی، ورنہ بادشاہ کے قانون میں چور کی پٹائی کی جاتی تھی، اور جرمانہ عائد کیا جاتا تھا، حضرت یوسف ؑ نے بھائیوں سے یہ سوال اس لئے فرمایا کہ انہیں حضرت یعقوب ؑ کی شریعت کے خلاف فیصلہ نہ کرنا پڑے اور بھائی کو اپنے پاس رکھنے کا موقع بھی مل جائے۔
Ayah 12:76

فَبَدَاَ بِاَوْعِیَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِیْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَآءِ اَخِیْهِ١ؕ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِیُوْسُفَ١ؕ مَا كَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاهُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِكِ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ فَوْقَ كُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ Open ayah 12:76 in the Quran reader

چنانچہ یوسف نے اپنے (سگے) بھائی کے تھیلے سے پہلے دوسرے بھائیوں کے تھیلوں کی تلاشی شروع کی، پھر اس پیالے کو اپنے (سگے) بھائی کے تھیلے میں سے برآمد کرلیا۔ (49) اس طرح ہم نے یوسف کی خاطر یہ تدبیر کی۔ اللہ کی یہ مشیت نہ ہوتی تو یوسف کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ بادشاہ کے قانون کے مطابق اپنے بھائی کو اپنے پاس رکھ لیتے، اور ہم جس کو چاہتے ہیں، اس کے درجے بلند کردیتے ہیں، اور جتنے علم والے ہیں، ان سب کے اوپر ایک بڑا علم رکھنے والا موجود ہے۔ (50)

49: پہلے دوسرے بھائیوں کی تلاشی اس لیے شروع فرمائی تاکہ تلاشی غیر جانب دار نہ سمجھی جائے۔ 50: یہ سارے بھائی خوشی خوشی یہ سمجھ رہے تھے کہ ہم نے اپنا مقصد پالیا۔ لیکن ان کو یہ علم نہیں تھا کہ چلتے چلتے کیا ہونے والا ہے ؟ کوئی شخص کتنے ہی بڑے علم کا دعویٰ کرتا ہو اللہ تعالیٰ کا علم اس پر یقیناً فائق ہے۔
Ayah 12:77

قَالُوْۤا اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَاَسَرَّهَا یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِهٖ وَ لَمْ یُبْدِهَا لَهُمْ١ۚ قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا١ۚ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:77 in the Quran reader

(بہرحال) وہ بھائی بولے کہ : اگر اس (بنیامین) نے چوری کی ہے تو (کچھ تعجب نہیں، کیونکہ) اس کا ایک بھائی اس سے پہلے بھی چوری کرچکا ہے۔ (51) اس پر یوسف نے ان پر ظاہر کیے بغیر چپکے سے (دل میں) کہا کہ : تم تو اس معاملے میں کہیں زیادہ برے ہو۔ (52) اور جو بیان تم دے رہے ہو، اللہ اس کی حقیقت خوب جانتا ہے۔

51: ان کا مطلب یہ تھا کہ بنیامین کے بھائی یعنی یوسف ؑ نے بھی ایک مرتبہ چوری کی تھی۔ یہ الزام انہوں نے کیوں لگایا ؟ اس کی وجہ قرآن کریم نے بیان نہیں فرمائی۔ لیکن بعض روایات میں اس کی وجہ یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ حضرت یوسف ؑ کی والدہ ان کے بچپن ہی میں وفات پا گئی تھی۔ اور ان کی پھوپھی نے ان کی پرورش کی کیونکہ بچپن کے بالکل ابتدائی دور میں بچے کی دیکھ بھال کے لیے کسی عورت کی ضرورت تھی۔ لیکن جب وہ ذرا بڑے ہوئے تو حضرت یعقوب ؑ نے انہیں اپنے پاس رکھنا چاہا۔ پھوپی اس عرصے میں حضرت یوسف ؑ سے اتنی محبت کرنے لگی تھیں کہ ان سے ان کی جدائی برداشت نہیں ہورہی تھی۔ اس لیے انہوں نے یہ تدبیر کی کہ اپنا ایک پٹکا ان کی کمر سے باندھ کر یہ مشہور کردیا کہ وہ چوری ہوگیا ہے۔ بعد میں جب وہ پٹکا حضرت یوسف ؑ کے پاس سے بر آمد ہوا تو حضرت یعقوب ؑ کی شریعت کے مطابق انہیں یہ حق مل گیا کہ وہ حضرت یوسف ؑ کو اپنے پاس رکھ لیں۔ چنانچہ جب تک وہ پھوپھی زندہ رہیں۔ اس وقت تک حضرت یوسف ؑ ان کے پاس رہے۔ ان کی وفات کے بعد یعقوب ؑ کے پاس آئے۔ یہ واقعہ ان کے بھائیوں کو معلوم تھا۔ اور وہ جانتے تھے کہ درحقیقت پٹکا انہوں نے چوری نہیں کیا تھا۔ مگر چونکہ وہ حضرت یوسف ؑ کے مخالف تھے۔ اس لیے انہوں نے اس موقع پر چوری کا الزام بھی ان پر لگا دیا۔ (ابن کثیر وغیرہ) یہ واقعہ اس صورت میں درست ہوسکتا ہے کہ حضرت یوسف ؑ کی والدہ کے بارے میں ان روایات کو صحیح قرار دیا جائے جن کی رو سے ان کا انتقال ہوچکا تھا۔ اور جن روایتوں میں یہ مذکورہ ہے کہ وہ زندہ تھیں۔ ان کے لحاظ سے چوری کے الزم کی یہ توجیہ ممکن ہیں ہے۔ بہر صورت یہ بات واضح ہے کہ الزام غلط تھا۔ 52: یعنی اس چوری کے معاملے میں جس کا الزام تم مجھ پر لگا رہے ہو تمہاری حالت کہیں زیادہ بری ہے کیونکہ تم نے خود مجھے میرے باپ سے چرا کر کنویں میں ڈال دیا تھا۔