Chapter 2 of 6
غزوۂ خندق کے موقع پر
منافقین پرنگاہ رکھنے کے علاوہ بھی رسول اللہ ﷺ مزیدبہت سے نازک معاملات میں دینِ اسلام اورمسلمانوں کی بہتری اورسلامتی کی خاطرحضرت حذیفہ بن الیمان ؓ کی اسی فطری ذہانت وفطانت سے خوب کام لیتے رہے،بالخصوص حذیفہؓ کایہ کمال غزوۂ خندق کے تاریخی اورنازک ترین موقع پراپنے عروج کوجاپہنچاتھا،جب مسلمان چہارسودشمنوں کے نرغے میں پھنسے ہوئے تھے،محاصرہ بہت طول پکڑچکاتھا،آزمائش اپنی انتہاء کوپہنچی ہوئی تھی،محنت ومشقت اورتگ ودوپورے عروج پرتھی،پریشانی اورخوف کی شدت کی وجہ سے آنکھیں پتھرارہی تھیں ،اورکلیجے منہ کوآنے لگے تھے(۱)حتیٰ کہ کچھ لوگوں کے ایمان بھی ڈگمگانے لگے تھے…
اس موقع پرجوظاہری پریشانیاں تھیں ٗمثلاً:طویل محاصرے کے نتیجے میں اشیائے خوردونوش کی شدیدقلت ٗ ان ظاہری پریشانیوں کے علاوہ مزیدیہ کہ خوف ٗ پریشانی ٗ وسوسے ٗ اندیشے ٗ الجھن ٗ کشمکش ٗ یہ تمام نفسیاتی مشکلات بھی اپنے عروج پرتھیں …
٭…کسی بھی جنگ کے موقع پرکامیابی کیلئے سامانِ حرب وضرب کے ساتھ ساتھ مزیددوچیزوں کی بڑی اہمیت ہواکرتی ہے،ایک تونفسیاتی طورپرمضبوطی،جبکہ دوسری چیز: دشمن کے عزائم سے مکمل آگاہی ، یابالفاظِ دیگر’’سراغ رسانی‘‘۔
یعنی دشمن کے حالات ٗ دشمن کی نقل وحرکت ٗدشمن کے منصوبے اورارادے ٗ جنگی چالیں ٗ تدبیریں ٗ ان تمام معاملات کے بارے میں مکمل اوردرست معلومات کامہیاہونا۔
چنانچہ غزوۂ خندق کے اس نازک ترین موقع پررسول اللہ ﷺ نے حضرت حذیفہ بن الیمان ؓ کی فطری مہارت اورخدادادصلاحیت سے فائدہ اٹھانے کاارادہ فرماتے ہوئے انہیں رات کی تاریکی میں دشمن کے لشکرمیں اندردورتک جہاں اں کے بڑے سرکردہ سپہ سالاروں کے خیمے نصب تھے ٗوہاں بھیجنے کافیصلہ فرمایا،تاکہ ان کی لائی ہوئی اطلاعات کی روشنی میں آئندہ کالائحہ ٔ عمل ترتیب دیاجاسکے۔
٭…چنانچہ سرفروشی کی یہ داستان سناتے ہوئے حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
’’اُس رات ہم خندق کے قریب صف بستہ کھڑے تھے،ہمارے سامنے کچھ فاصلے پر مشرکینِ مکہ کالشکرخوب کیل کانٹے سے لیس پوری آب وتاب کے ساتھ موجودتھا، جبکہ دوسری جانب کچھ فاصلے پریہودِمدینہ سے تعلق رکھنے والے قبیلۂ بنوقریظہ کے مسلح دستے خیمہ زن تھے ٗ جن کی طرف سے ہمیں اپنی عورتوں اوربچوں کے بارے میں شدیدخطرہ لاحق تھا(یعنی یہ یہودِمدینہ شایدسامنے آکرباقاعدہ جنگ تونہیں لڑیں گے ،لیکن مشرکینِ مکہ کی طرف سے حملے کی صورت میں افراتفری اورمحاذآرائی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ ہماری عورتوں اوربچوں کونقصان پہنچائیں گے…کیونکہ یہ یہودی تومدینہ کے اندرہی تھے ، خندق کے اِس پار)
وہ رات جس قدرسیاہ اوربھیانک تھی ٗ اورجس طرح خوفناک آندھی چل رہی تھی ،تیزہواکے جھکڑ یوں چل رہے تھے جیسے خوفناک بجلی کڑک رہی ہو،ایساہولناک منظرہم نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھاتھا،تاریکی کایہ حال تھاکہ خود اپناہاتھ تک سجھائی نہ دیتاتھا،اس پر مستزاد یہ کہ اچانک منافقین نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے بہانہ سازی شروع کی کہ ہمارے گھراورہمارے بچے غیرمحفوظ ہیں ، لہٰذاہمیں گھرجانے کی اجازت دیجئے(۱)حالانکہ ہمیں معلوم تھاکہ ان کے گھرغیرمحفوظ نہیں ہیں ،کیونکہ ان کاتویہودکے ساتھ مکمل رابطہ اورگٹھ جوڑتھا(لہٰذاانہیں یہودکی طرف سے کوئی خطرہ نہیں تھا،خطرہ توہمیں تھا) تاہم اس کے باوجود اُس دن جوبھی منافق رسول اللہ ﷺ سے اجازت طلب کرتا،آپؐ اسے اجازت دے دیتے ،اس طرح ایک ایک کرکے منافقین بڑی تعدادمیں کھسکتے گئے…
اس کے بعدایساہواکہ رسول اللہ ﷺ اس تاریک رات میں گھوم پھرکرخودصورتِ حال کاجائزہ لینے لگے ، تب اس موقع پرآپؐ ہم میں سے ہرایک کے قریب سے گذرے، اور پھر آپؐ میرے قریب آکررک گئے،اُس وقت سردی کی شدت کی وجہ سے میرابراحال ہورہاتھا،سردی سے حفاظت کیلئے میرے پاس کوئی انتظام نہیں تھا،بس گھرسے روانہ ہوتے وقت میں اپنی بیوی سے اس کی چادرمانگ لایاتھا،بس وہی میں نے اوڑھ رکھی تھی،جوکہ کافی چھوٹی تھی اورمیرے گھٹنوں تک بھی نہیں پہنچ رہی تھی …
دوسری بات یہ کہ مجھے بھوک نے بہت ہی بدحال کررکھاتھا،لہٰذامیں بھوک کی شدت کی وجہ سے ٗ نیزسردی سے بچنے کی خاطرنیچے کی جانب جھکاہواتھا،سیدھاکھڑے ہونے کی ہمت ہی نہیں ہورہی تھی ، اسی دوران رسول اللہ ﷺ میرے بہت قریب آگئے،اورسرگوشی کے اندازمیں مجھ سے دریافت فرمایا: مَن ھٰذا؟ یعنی ’’یہ کون ہے؟‘‘میں نے عرض کیا’’حذیفہ‘‘ اس پرآپؐ نے دوبارہ وضاحت چاہی ، میں نے پھرعرض کیاکہ ’’میں حذیفہ ہوں ، اے اللہ کے رسول!حکم فرمائیے‘‘تب آپؐ نے فرمایا’’دشمن کے کیمپ میں کچھ ہونے والاہے،لہٰذاتم چپکے سے وہاں جاؤ،اورمجھے وہاں کی صورتِ حال سے مطلع کرو‘‘
تب میں فوری طورپرآپ ؐکے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے وہاں سے روانہ ہوگیا،اُس وقت سردی کی وجہ سے میری جوکیفیت تھی ،آپؐ اسے جان چکے تھے،لہٰذااس موقع پرآپؐ نے میری جانب دیکھتے ہوئے یہ دعاء فرمائی : اَللّھُمّ احْفَظْہُ مِن بَینِ یَدَیہِ وَمِن خَلْفِہٖ ، وَعَن یَمِیْنِہٖ وَعَن شِمَالِہٖ ، وَمِن فَوْقِہٖ وَمِن تَحْتِہٖ ۔ یعنی’’اے اللہ!تواس کی حفاظت فرماسامنے سے بھی اورپیچھے سے بھی ، دائیں سے بھی اوربائیں سے بھی ، اوپرسے بھی اورنیچے سے بھی‘‘(۱)رسول اللہ ﷺ کامیرے لئے یہ دعاء فرماناتھاکہ بس فوراًہی مجھے یوں محسوس ہواکہ اللہ نے میرے دل سے خوف دورکردیا،نیزسردی کی شدت بھی جاتی رہی میں ابھی چلاہی تھاکہ آپ ﷺ نے مجھے دوبارہ آوازدی اورفرمایا’’اے حذیفہ !واپسی پرتم سیدھے میرے پاس ہی آنا،کسی اورکوکچھ نہ بتانا‘‘میں نے عرض کیا’’آپ کاحکم سرآنکھوں پراے اللہ کے رسول…!)
اس کے بعدمیں سخت تاریکی میں پھونک پھونک کرقدم رکھتاہوادشمن کے کیمپ کی جانب روانہ ہوگیا،اسی کیفیت میں …اپنی جان ہتھیلی پرلئے ہوئے میں مسلسل چلتارہا…حتیٰ کہ دشمن کے کیمپ میں جاپہنچا،اوراب گویامیں انہی کاایک فردتھا،وہاں مسلسل گھومتے پھرتے آخرمیں ایک ایسی جگہ جا پہنچاجہاں ان کے بڑے سردارقسم کے لوگ خیمہ زن تھے…کچھ دیرگذرنے کے بعدمیں نے دیکھاکہ ان کاسپہ سالارابوسفیان(جواُس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے) اپنی جگہ سے اٹھااوراپنے سپاہیوں کو کچھ ضروری ہدایات دینے کی غرض سے ایک جگہ کھڑاہوگیا،اورگفتگوکے آغازسے قبل اس نے سب کوتاکید کرتے ہوئے کہا’’جوکچھ میں ابھی کہنے والاہوں ٗ میری وہ بات کسی صورت مسلمانوں تک نہ پہنچے،لہٰذاہرکوئی اپنے آس پاس نظررکھے ، اپنے ہم نشین کے بارے میں خوب اطمینان کرلے (کہیں وہ مسلمانوں کاجاسوس نہو)
اورپھراس تاکیدوتمہیدکے بعداوراطمینان کرلینے کے بعدوہ یوں گویاہوا’’اے جماعتِ قریش!بخداہماراچین وسکون بربادہوچکاہے،ہمارے جانورموت کی نیندسوتے جارہے ہیں ، اُدھربنوقریظہ ہم سے دست کش ہوچکے ہیں ،مزیدیہ کہ سخت اورتندوتیزآندھی ہمارے لئے الگ مصیبت بنی ہوئی ہے،لہٰذامیراخیال یہ ہے کہ اب ہمیں یہاں سے واپسی کی تیاری کرنی چاہئے…‘‘اورپھرفوراًہی اس نے فَاِنِّي مُرتَحِل … یعنی’’میں توبس چلا…‘‘یہ الفاظ کہتے ہوئے اپنے اونٹ کی رسی کھولی اوراس پرسوارہوکراسے ایڑلگادی، جس پراس کااونٹ فوراًہی اچھل کراٹھ کھڑاہوا…تب وہاں افراتفری مچ گئی ،ہرکوئی وہاں سے فرارکیلئے بے چین نظرآنے لگا…‘‘
حضرت حذیفہ بن الیمان ؓ مزیدفرماتے ہیں ’’جب میں نے ابوسفیان کووہاں سے اس طرح روانہ ہوتے دیکھاتواللہ کی قسم اگرمجھے رسول اللہ ﷺ کی طرف سے رازداری برتنے کی تاکیدکالحاظ نہوتا ٗتومیں اُس وقت ابوسفیان کوبسہولت اپنے تیرکانشانہ بناتا،اوراسے زندہ نکلنے نہ دیتا‘‘
اس کے بعدحضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ’’میں اسی طرح بچتابچاتا واپس چلاآیا،رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضرہوا،اُس وقت آپؐ کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے،آپؐ نے سردی سے حفاظت کیلئے ایک چادراوڑھ رکھی تھی،جب آپؐ نے نمازمکمل کی ،تومیری طرف متوجہ ہوئے،مجھے اپنے قریب بٹھایا،اورازراہِ شفقت اپنی اس چادرکاایک پلومجھے اُڑھادیا،اورپھرصورتِ حال دریافت فرمائی،میں نے تمام ماجراکہہ سنایا،اس پرآپؐ کی مسرت کی انتہاء نہ رہی،اورآپؐ نے اللہ کاشکراداکیا‘‘(۱)
٭…حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کیلئے یہ والہانہ عقیدت ومحبت ٗ مشکل ترین حالات میں بھی اطاعت وفرمانبرادری اوروفاء شعاری کایہ بے مثال جذبہ …اسی طرح رسول اللہ ﷺ کی طرف سے حذیفہؓ کیلئے شفقت وعنایت اورلطف وکرم کایہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا…حتیٰ کہ آپؐ کامبارک دورگذرگیا،آپؐ ہمیشہ تادمِ آخر ان سے انتہائی مسرورومطمئن رہے،بالخصوص منافقین کی طرف سے ہمہ وقت جواندیشہ لاحق رہتاتھا ٗ اس سلسلے میں ’’سراغ رسانی ‘‘کے حوالے سے حضرت حذیفہؓ کی جوگراں قدرخدمات تھیں ٗ آپؐ بطورِخاص اس حوالے سے بہت زیادہ مطمئن رہے اور ان کی ان خدمات کو ہمیشہ سراہتے رہے…