Chapter 2 of 3
سخاوت وفیاضی
حضرت ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ جس طرح ہمیشہ امن اورجنگ ٗ سفراورحضر ٗہرموقع پر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضررہے ٗآپؐ کی صحبت ومعیت ٗ علمی استفادہ ٗاورکسبِ فیض میں ہمہ وقت مشغول ومنہمک رہے …نیزدینِ برحق کی سربلندی کیلئے ہمیشہ پیش پیش رہے…اسی طرح ان کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ اللہ نے انہیں کافی خوشحالی وفراوانی سے نوازاتھا…اللہ کے دئیے ہوئے اس مال ودولت میں سے یہ ہمیشہ اللہ کی راہ میں ٗاللہ کے بندوں کی فلاح وبہبودکی خاطرٗ نیزاللہ کے دین کی سربلندی اور نشرواشاعت کی خاطرنہایت ہی سخاوت وفیاضی اوردریادلی کے ساتھ اپنامال خرچ کیاکرتے تھے۔
اس حوالے سے ان کاایک واقعہ کافی مشہورہے جوکہ اکثر کتبِ تفسیروحدیث وتاریخ میں مفصل مذکورہے۔
واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ مدینہ میں مسجدِنبوی سے متصل ان کاایک باغ تھا(۱)جس میں بکثرت کھجوروں کے درخت تھے،اس کے علاوہ اس میں انگوربھی بہت زیادہ تھے،ان کے اس باغ کی کھجوریں اورانگوربہت ہی اعلیٰ قسم کے اورانتہائی خوش ذائقہ تھے،دوردورتک ان کے اس باغ کی اوراس کے میٹھے اورلذیذترین پھلوں کی بڑی شہرت تھی،نیزاس میں ایک کنواں بھی تھاجس کاپانی کافی خوش ذائقہ تھا…جیساکہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ (حضرت ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کے ربیب) فرماتے ہیں :
کَانَ أبُوطَلحَۃَ أکثَرَ الأنصَارِ بِالمَدِینَۃِ مَالاًمِن نَخلٍ ، وَکَانَ أحَبّ أموَالِہٖ الَیہِ بَیرَحَاء ، وَکَانت مُستَقبِلَۃَ المَسجد ، وَکَان رسُولُ اللّہِ ﷺ یَدخُلُھا ، وَیَشرَبُ مِن مَائٍ فیھا طَیِّب ، فلَمّا نَزلَت ھٰذہٖ الآیۃ : {لَن تَنَالُوا البِرَّ حَتّیٰ تُنفِقُوا مِمّا تُحِبُّونَ } (۱) قَامَ أبُوطَلحَۃَ الیٰ رَسُولِ اللّہِ ﷺ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللّہ! اِنّ اللّہَ تَعَالیٰ أنزَلَ عَلَیکَ : {لَن تَنَالُوا البِرَّ حَتّیٰ تُنفِقُوا مِمّا تُحِبُّونَ } وَاِنّ أحَبَّ مَالِي الَيَّ بَیرَحَاء ، وَاِنّھَا صَدَقَۃٌ لِلّہِ تَعَالیٰ ، أرجُو بِرَّھَا وَذُخرَھَا عِندَ اللّہِ تَعَالَیٰ ، فَضَعھَا یَا رَسُولَ اللّہ حَیثُ أرَاکَ اللّہ ، فَقَال رَسُولُ اللّہِ ﷺ : بَخٍ ، ذلِکَ مَالٌ رَابِحٌ ، ذلِکَ مَالٌ رَابِحٌ ، وَقَد سَمِعتُ مَا قُلتَ ، وَاِنِّي أرَیٰ أن تَجعَلَھَا فِي الأقرَبِینَ ، فَقَالَ أبُوطَلحَۃ : اَفعَلُ یَا رَسُولَ اللّہ! ، فَقَسَمّھَا أبُوطَلحَۃَ فِي أقَارِبِہٖ وَبَنِي عَمِّہٖ ۔ (۲)
ترجمہ(ابوطلحہ کھجوروں کے باغات کے اعتبارسے تمام انصارِمدینہ میں مالدارترین شخص تھے، اورانہیں اپنے تمام اموال میں ’’بیرحاء‘‘نامی باغ سب سے زیادہ پسندتھا،جوکہ مسجدنبوی کے بالکل سامنے ہی تھا، رسول اللہ ﷺ اکثراس باغ میں تشریف لایاکرتے اوروہاں کا لذیذ پانی نوش فرمایاکرتے تھے، پھرجب یہ آیت {لَن تَنَالُوا البِرَّ حَتّیٰ تُنفِقُوا مِمّا تُحِبُّونَ } نازل ہوئی تب ابوطلحہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضرہوئے ، اورعرض کیا’’اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے آپ پریہ آیت نازل فرمائی ہے :{لَن تَنَالُوا البِرَّ حَتّیٰ تُنفِقُوا مِمّا تُحِبُّونَ }یعنی(تم ہرگزنیکی کونہیں پہنچ سکوگے ٗ تاآنکہ تم اپنی پسندیدہ چیزیں [اللہ کی راہ میں ]خرچ کرو)اور مجھے اپنے تمام مالوں میں سب سے محبوب ’’بیرحاء‘‘ہے ،لہٰذامیں اسے اللہ کیلئے صدقہ کرتاہوں ،میں اللہ سے اس کے اجروثواب کی ٗ اوراُس کے پاس اس کے ذخیرہ ہونے کی امیدرکھتاہوں ،پس آپ اللہ کی دی ہوئی سمجھ کے مطابق جہاں مناسب سمجھیں اسے تصرف میں لائیں ، اس پررسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اوہو!یہ توبڑاہی نفع بخش مال ہے ، تم نے جوکچھ کہاہے ٗ میں نے وہ سن لیاہے،میری رائے یہ ہے کہ تم اسے اپنے قرابت داروں میں تقسیم کردو،ابوطلحہ نے عرض کیا’’ٹھیک ہے اے اللہ کے رسول! میں ایساہی کروں گا‘‘۔چنانچہ انہوں نے اسے اپنے رشتے داروں اورچچازاد بھائیوں میں تقسم کردیا)
اس یادگارواقعہ سے یقیناحضرت ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کامقام ومرتبہ ٗ زہدفی الدنیا ٗ اللہ کاقرب حاصل کرنے کیلئے فکروجستجو ٗ انفاق فی سبیل اللہ ٗ سخاوت وفیاضی ٗ اوراللہ ورسول ﷺ کے ہرحکم کی فوری تعمیل وتنفیذ کاجذبہ اوراہتمام والتزام ظاہرہوتاہے۔
٭…اسی کیفیت میں مدینہ شہرمیں شب وروزگذرتے رہے،حضرت ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ محبت وعقیدت ٗ صحبت ومعیت ٗاورکسبِ فیض کے یہ سلسلے قائم ودائم رہے،آپؐ کی حیاتِ طیبہ کے دوران ہمیشہ ہی تادمِ آخرتعلقِ خاطراسی طرح برقراررہا…اورپھرجب آپؐ کی اس جہانِ فانی سے رحلت کاجاں گداز واقعہ پیش آیاتھاٗ تب آپؐ کی قبرمبارک کی کھدائی کاکام بھی انہوں نے ہی انجام دیاتھا۔