Chapter 6 of 7

خلیفۂ اول کے انتخاب میں زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ کاکردار

رسول اللہ ﷺ کی صحبت اورمسلسل کسبِ فیض نیزاس سلسلے میں خاص توجہ ٗغیرمعمولی ذوق وشوق ٗاوردلچسپی کی بدولت حضرت زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ کوجس طرح علمی میدان میں خاص مقام ومرتبہ حاصل تھا…اسی طرح اُس دورمیں مسلمانوں کے باہم معاشرتی مسائل نیزسیاسی معاملات میں بھی ان کی اصابتِ رائے پرسب متفق تھے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ کی اس جہانِ فانی سے رحلت کاجاں گدازواقعہ جب پیش آیا،جس کے نتیجے میں تمام مسلمان انتہائی رنج وغم کی کیفیت سے دوچارتھے…لیکن عین اسی وقت رنج وغم کی اس کیفیت کے علاوہ مزیدایک اہم ترین معاملہ جودرپیش تھا،جس پرآئندہ ہمیشہ کیلئے تمام امت کی بقاء کادارومدارتھا…وہ یہ کہ رسول اللہ ﷺ کاجانشین اب کون ہوگا؟ رسول اللہ ﷺ کاجسدِاطہراب تک ان لوگوں کے درمیان موجودتھا،تجہیزوتکفین ابھی تک نہیں ہوئی تھی…کہ اس دوران یہ معاملہ خطرناک صورتِ حال اختیارکرنے لگا،طرح طرح کی آوازیں بلندہونے لگیں …سازشی عناصر ٗچھپے ہوئے دشمن ٗ اورفتنہ پردازقسم کے لوگوں نے اپنے ناپاک عزائم کوعملی جامہ پہنانے کی غرض سے بھاگ دوڑکے سلسلے شروع کردئیے… کوئی کہنے لگا’’رسول اللہ ﷺ مہاجرین میں سے تھے،لہٰذااب آپؐ کی خلافت وجانشینی بھی محض مہاجرین ہی کاحق ہے‘‘ کوئی کہنے لگا’’انصارکی دعوت پررسول اللہ ﷺ اپناشہرمکہ چھوڑکرمدینہ تشریف لائے… لہٰذاانصارخلافت کے زیادہ حقدارہیں ‘‘ کسی نے کہا’’دوخلیفہ ہونے چاہئیں …ایک مہاجرین میں سے ،اورایک انصارمیں سے‘‘ الغرض اس وقت صورتِ حال ایسی تھی کہ کسی بھی لمحے یہ معاملہ خطرناک رُخ اختیار کر سکتا تھا، اورعین ممکن تھاکہ صورتِ حال اس قدربگڑجائے کہ معاملہ ہاتھوں سے نکل جائے … ایسے میں ’’ سقیفۂ بنی ساعدہ‘‘نامی مقام پربلندہوتی ہوئی ان رنگارنگ آوازوں کے درمیان حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کن انداز میں حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے بآوازِبلندکہا ’’ابوبکر! اپنا ہاتھ بڑھائیے‘‘ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے جب اپناہاتھ ان کی جانب بڑھایاتوحضرت عمرؓ نے فوراًاپناہاتھ ان کے ہاتھ پررکھتے ہوئے لوگوں کی طرف متوجہ ہوکریوں کہا’’لوگو!یہی ہمارے خلیفہ ہیں ،میں ان کے ہاتھ پربیعت کررہاہوں ، لہٰذا تم سب بھی انہی کے ہاتھ پربیعت کرلو‘‘۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ کی اس جرأت ٗنیزان کی طرف سے اس فوری اوربروقت اقدام کی وجہ سے معاملہ کافی حدتک سنبھل گیا،بات بگڑنے سے بچ گئی…تاہم اس کے باوجوداصل معاملہ تو’’انصار‘‘کاتھا،کیونکہ مدینہ کے اصل باشندے تووہی تھے،ایسے میں ان کی مرضی کے بغیراس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ اورکوئی پائیدارقسم کااقدام بہت مشکل تھا…لہٰذایہ بات انتہائی ضروری تھی کہ خودانہی میں سے کوئی ایسی آوازبلندہوکہ جوسب کیلئے اس قدر واجب الاحترام ہوکہ اس کی مخالفت میں بولنے کی کوئی جرأت نہ کرے… چنانچہ حضرت عمربن خطاب رضی اللہ کے اس طرزِعمل کے فوری بعدحضرت زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ (جوخودانصارِمدینہ میں سے تھے)اپنی قوم(یعنی انصار)کی جانب متوجہ ہوئے،اوربآوازِبلندمکمل وقار ٗاورمتانت وسنجیدگی کے ساتھ بس انہوں نے ایک فیصلہ سنادیا… وہ شخص جوہمیشہ رسول اللہ ﷺ کی صحبت ومعیت میں رہا،وہاں رہتے ہوئے اللہ عزوجل کی جانب سے نازل ہونے والی وحی لکھتارہا،قرآنی آیات تحریرکرتارہا،یہی وجہ تھی کہ اس کااپنادل بھی قرآن کے نورسے منورتھا،اوراسی لئے اس کی زبان سے نکلی ہوئی ہربات میں خاص تأثیرتھی،اس کی ہربات مخاطب کے دل میں اترجانے والی تھی…قرآن اوراللہ کے پاکیزہ کلام کی برکت سے… چنانچہ اس نازک ترین موقع پربھی کہ جب امت کی وحدت سخت خطرے میں تھی…امت کی کشتی ہچکولے کھارہی تھی…ایسے میں حضرت زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ نے مکمل عزم اورحوصلے کے ساتھ،مختصرمگرٹھوس اوردوٹوک فیصلہ سناتے ہوئے فرمایا’’اے جماعتِ انصار!رسول اللہ ﷺ چونکہ خودمہاجرین میں سے تھے،لہٰذااب ان کاجانشین بھی مہاجرین میں سے ہی ہوگا‘‘ اورپھرقدرے توقف کے بعدمزیدفرمایا’’ہم زندگی بھررسول اللہ ﷺ کے ’’انصار‘‘بنے رہے،لہٰذااب آئندہ بھی ہم ہمیشہ کیلئے رسول اللہ ﷺ کے جانشین کے ’’انصار‘‘(یعنی مددگار)ہی بنے رہیں گے‘‘ یعنی اللہ کے دین کی نشرواشاعت ٗ نیزہرخیروخوبی کوعام کرنے ٗاورہربرائی کولگام دینے کے معاملے میں ہم اب بھی بدستور’’انصار‘‘(مددگار)اوردست وبازوبنے رہیں گے،جیساکہ خودرسول اللہ ﷺ کے مبارک دورمیں ہم اسی مقصدکیلئے انصاربنے رہے۔(۱) حضرت زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ کی طرف سے اس دوٹوک اعلان کے ساتھ ہی تمام انصارِمدینہ مطمئن ہوگئے،اورنہایت جوش وخروش کے ساتھ ہنسی خوشی آگے بڑھ کرحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پربیعت کرنے لگے…یوں خفیہ دشمنوں کی طرف سے تیارکی گئی وہ تمام سازشیں دم توڑگئیں …امت کی وحدت پارہ پارہ ہونے سے بچ گئی… اس عظیم کارنامے ٗ یعنی اس نازک موقع پرانصارکوسمجھانے اورانہیں قائل کرنے ٗ نیز مہاجرین وانصارکویکجااورمتحدرکھنے میں حضرت زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ نے جوبنیادی کردار اداکیا…یقیناان کایہ کارنامہ ہمیشہ ناقابلِ فراموش تصورکیاجاتارہے گا۔ ٭…اس نازک ترین موقع پرحضرت زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ کایہ ناقابلِ فراموش اورتاریخی کردار…ان کایہ مختصرمگردوٹوک فیصلہ …اورپھرتمام انصارِمدینہ کی طرف سے اس فیصلے کی پذیرائی …یقینایہ سب کچھ ان کے خلوصِ نیت اورایمانی جذبے کاہی نتیجہ تھا… عرصۂ درازتک کتابتِ وحی کی مقدس ترین خدمت سرانجام دیتے رہنا ٗ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کاوالہانہ اورجذباتی لگاؤاورتعلقِ خاطر ٗ آپؐ کی خدمتِ اقدس میں رہتے ہوئے مسلسل علمی استفادہ ٗ کسبِ فیض ٗ اورپھراس کے نتیجے میں اُس معاشرے میں ان کاوہ بلندترین مقام ومرتبہ…یہی وہ تمام اسباب تھے جواس موقع پران کے اس مختصرمگرٹھوس فیصلے کی مقبولیت وپذیرائی کاسبب بنے…نیزیہی وجہ تھی کہ اس معاشرے میں تمام بڑے بڑے صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جوخودجبالِ علم تصورکئے جاتے تھے…وہ ان کابے حداحترام کیاکرتے تھے…