Chapter 1 of 1
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ مدینہ کے باشندے تھے،یعنی ’’انصارِمدینہ ‘‘میں سے تھے،مدینہ کے مشہورقبیلے’’خزرج‘‘کے خاندان ’’بنوسَلَمَہ‘‘سے ان کاتعلق تھا۔(۱)
حضرت کعب بن مالکؓ نے اس قدرابتدائی دورمیں دینِ اسلام قبول کیاتھاکہ ہجرت سے قبل جب نبوت کاتیرہواں سال چل رہاتھا،حج کے موقع پرمنیٰ میں ’’عقبہ‘‘نامی مقام پرمدینہ سے آئے ہوئے حجاج میں سے بہتّرافرادنے پیشگی منصوبے کے مطابق رسول اللہ ﷺ سے خفیہ ملاقات کی تھی ،اورآپؐ کے دستِ مبارک پربیعت بھی کی تھی ٗجسے تاریخ میں ’’بیعتِ عقبہ ثانیہ‘‘کے نام سے یادکیاجاتاہے۔(۲) اوریہی وہ موقع تھاکہ جب مدینہ کے ان باشندوں نے رسول اللہ ﷺ کوباقاعدہ مدینہ چلے آنے کی دعوت دی تھی،اورپھراسی کے نتیجے میں ہی ’’ہجرتِ مدینہ ‘‘کایادگار واقعہ پیش آیاتھا،جوآگے چل کردنیاکی تاریخ میں اولین’’ اسلامی ریاست ‘‘کے قیام ٗنیزمسلمانوں کے بے مثال عروج کاسبب بناتھا۔
’’بیعتِ عقبہ ثانیہ‘‘کے اس یادگارموقع پررسول اللہ ﷺ کے دستِ مبارک پربیعت کرنے ٗ اورپھراس موقع پرآپؐ کومستقل طورپرمدینہ چلے آنے کی دعوت دینے ٗ نیزآپؐ کی حفاظت کی خاطربوقتِ ضرورت اپنی جان ومال ٗ اہل وعیال ٗ اورسبھی کچھ قربان کردینے کاعہد وپیمان کرنے والے ان بہتّرخوش نصیب اورعظیم ترین افرادمیں حضرت کعب بن مالکؓ بھی شامل تھے۔
اورپھرنبوت کے چودہویں سال کے آغازمیں رسول اللہ ﷺ ودیگرمسلمان رفتہ رفتہ مکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت کرگئے،جہاں ایک نئی زندگی کاآغازہوا۔
٭…رسول اللہ ﷺ کی مدینہ تشریف آوری کے بعدحضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ ہمیشہ آپؐ کی خدمت ٗ صحبت ٗ علمی استفادہ ٗاورکسبِ فیض کے سلسلے میں پیش پیش اورنمایاں رہے…لیکن پھر ایک ایساواقعہ پیش آیاجوان کیلئے بہت ہی بڑی آزمائش کی صورت میں سامنے آکھڑاہوا۔اوروہ واقعہ تھا’’غزوۂ تبوک‘‘۔
۹ھمیں پیش آنے والایہ ’’غزوۂ تبوک‘‘بہت سی خصوصیات کی بناء پردیگرغزوات سے کافی مختلف ثابت ہواتھا،البتہ یہ اوربات ہے کہ وہاں ’’تبوک‘‘کے مقام پرپہنچنے کے بعدباقاعدہ کسی جنگ کی نوبت ہی نہیں آئی تھی،اورجوبڑے خطرات سروں پرمنڈلارہے تھے ٗاللہ نے اپنے خاص فضل وکرم سے انہیں رفع دفع فرمادیاتھا…لیکن اس کے باوجود اس غزوے کے موقع پرکچھ ایسے مخصوص حالات سے مسلمانوں کودوچارہوناپڑاتھاکہ جواس سے قبل کبھی کسی غزوے کے موقع پرپیش نہیں آئے تھے،مثلاً:
٭…اس سے قبل تمام غزوات مشرکینِ عرب کے خلاف پیش آئے تھے(۱) چندغزوات یہودکے خلاف بھی پیش آئے تھے،مدینہ میں ٗاورپھرخیبرمیں ٗ لیکن یہودبھی زمانۂ درازسے نسل درنسل جزیرۃ العرب میں ہی آبادتھے…
غرضیکہ اب تک جتنے بھی غزوات پیش آئے تھے ان میں کیفیت یہی تھی کہ مسلمانوں اور فریقِ مخالف میں عقیدہ وایمان کے لحاظ سے تواگرچہ یقینابہت بڑافرق تھا(بلکہ یہی چیزتو وجہِ نزاع اورسببِ اختلاف تھی)تاہم یہ بھی ایک حقیقت تھی کہ زبان ٗ بول چال ٗلب ولہجہ ٗ فنونِ حرب ٗنیزسامانِ حرب وضرب کے لحاظ سے مسلمانوں اوران کے دشمنوں کے مابین مکمل مشابہت ومماثلت تھی،لشکرکی تعداد ٗنیزاسلحہ ودیگرسازوسامان کی تعدادکے لحاظ سے توفرق موجودتھا،کہ مسلمانوں کی تعدادہمیشہ دشمن کے مقابلے میں کم رہی،سامان حرب وضرب کی بھی قلت کاسامنارہا،لیکن جوسامانِ جنگ دشمن کے پاس تھا،بعینہٖ وہی سامانِ جنگ مسلمانوں کے پاس بھی تھا…بس تعدادمیں فرق تھا۔
جبکہ غزوۂ تبوک کے موقع پرایک بالکل نئے اورنامانوس دشمن کاسامناتھا،جس کی زبان قطعی مختلف تھی،جنگ لڑنے کے طورطریقے مختلف تھے،سامانِ جنگ جداگانہ نوعیت کاتھا… غرضیکہ یہ پہلاموقع تھاکہ مسلمانوں کوایک ایسے دشمن کاسامناتھاجوہرلحاظ سے نیااور قطعی نامانوس تھا۔
٭…یہ جنگ دنیاکی عظیم ترین قوت ’’سلطنتِ روم‘‘کے خلاف لڑی جانے والی تھی۔
٭…مدینہ سے تبوک تک مسافت بہت زیادہ تھی،راستہ دشوارگذارتھا۔
٭…سخت ترین گرمی کاموسم تھا،یہی وجہ تھی کہ منافقین اس موقع پرباہم ایک دوسرے کویوں کہتے پھررہے تھے: {لَاتَنفِرُوا فِي الحَرِّ…}یعنی’’اس قدرشدیدگرمی میں نہ نکلو…‘‘یوں یہ منافقین اپنی اس قسم کی باتوں کے ذریعے سبھی کیلئے پست ہمتی ٗبددلی ٗ اور حوصلہ شکنی کاسبب بن رہے تھے…
تب اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی طرف سے ان کیلئے یہ شدیدترین وعیدنازل ہوئی تھی: {قُل نَارُ جَھَنَّمَ أشَدُّ حَراً لَوکَانُوا یَفقَھُونَ…}(۱)یعنی’’کہہ دیجئے کہ جہنم کی آگ توبہت زیادہ گرم ہے،کاش وہ اس بات کوسمجھتے‘‘
یعنی یہ منافقین جس گرمی سے بچنے کی خاطراس غزوے کیلئے نکلنے سے کترارہے ہیں ٗ ان کایہ عمل انہیں اُس جہنم کی آگ تک پہنچادے گاجس کی گرمی تودنیاکی اس گرمی سے بہت زیادہ سخت ہے…تب یہ کیاکریں گے؟
٭…یہ غزوہ ایسے وقت پیش آیاجب کھجوریں پکنے کاموسم تھا،سال بھرکے انتظارکے بعداب اپنی شب وروزکی محنت کاپھل جب اپنی آنکھوں کے سامنے نظرآنے لگاتھا… ایسے میں اسے چھوڑکرچلتے بننا…جبکہ اس بارے میں کوئی اندازہ ہی نہیں تھاکہ واپسی کب ہوگی؟ بالخصوص یہ کہ ان کی زندگی میں کھجورکی بہت بڑی اہمیت تھی ،کھجورہی ان کی خوراک تھی ، کھجورپرہی ان کی معیشت اورگذربسرکابڑی حدتک انحصارتھا۔
٭… اس غزوے کے موقع پراس قدرمشکلات کاسامناتھاکہ اس غزوے میں شرکت کرنے والے ہمیشہ کیلئے ’’مؤمن ‘‘جبکہ پیچھے رہ جانے والے ’’منافق‘‘کہلائے،یعنی اس غزوے میں شرکت یاعدمِ شرکت ہمیشہ کیلئے ایمان کااورنفاق کامعیاربن گئی…
٭… قرآن کریم (سورہ توبہ) میں اس غزوے سے متعلق اتنی بڑی تعدادمیں آیات نازل کی گئیں ٗ نیزتفصیلی حالات وواقعات کاتذکرہ کیاگیا…کہ کسی دوسرے غزوے کے موقع پراتنی بڑی تعدادمیں قرآن کریم کی آیات نازل نہیں ہوئیں ۔
٭…حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ خالص اورحقیقی مؤمن تھے،البتہ یہ کہ وہ اس یادگاراوراہم ترین غزوۂ تبوک میں شریک نہیں ہوئے،اس کی کیاوجہ تھی؟کیاحالات وواقعات پیش آئے تھے؟ اورپھرکیانتیجہ برآمدہواتھا؟ یقینااس میں ہمیشہ کیلئے ہرمسلمان کیلئے بڑاسبق پوشیدہ ہے۔
اس سلسلے میں ایک طویل حدیث ہے ،جس میں حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ خوداپناواقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :(۱)
’’غزوۂ تبوک سے قبل کبھی کسی غزوے کے موقع پرمیں غیرحاضر نہیں رہاتھا،سوائے ’’غزوۂ بدر‘‘کے،کیونکہ بدرکے موقع پرتوصورتِ حال اس وجہ سے قطعی مختلف تھی کہ اس موقع پر تو باقاعدہ غزوے کااعلان ہی نہیں ہواتھا،رسول اللہ ﷺ اپنے بہت سے ساتھیوں کے ہمراہ مشرکینِ مکہ کے اُس ’’عِیر‘‘(تجارتی قافلے)کوروکنے کی غرض سے مدینہ سے نکلے تھے جو ملکِ شام سے مکہ کی جانب واپس جاتے ہوئے مدینہ کے قریب سے گذررہاتھا،لیکن اس تجارتی قافلے کی بجائے آمناسامناہوگیاتھامشرکینِ مکہ کے جنگی لشکرسے،جو اس تجارتی قافلے کوبچانے کی خاطرمکہ سے مدینہ پہنچاتھا،اللہ کی طرف سے اسی میں کوئی حکمت تھی‘‘(یعنی مسلمانوں کااس تجارتی قافلے کی بجائے جنگی لشکرکے ساتھ جوسامنا ہو گیا، اسی میں اللہ کے علم میں کوئی حکمت تھی‘‘۔(۲)
لہٰذاغزوۂ بدرمحض اتفاقیہ طورپرپیش آگیاتھا،اس کیلئے باقاعدہ کوئی اعلان نہیں کیاگیاتھا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ تواس موقع پرجنگ کے ارادے سے نکلے ہی نہیں تھے،چنانچہ یہی وجہ تھی کہ صرف کعب بن مالکؓ ہی نہیں ٗبلکہ بہت سے صحابۂ کرام اس میں شریک نہیں ہوئے تھے ، جس پرانہیں کوئی ملامت نہیں کی گئی تھی۔
اورجب ’’غزوۂ تبوک ‘‘کاموقع آیاتو…جیساکہ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ خود صورتِ حال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں …’’اس موقع پرمیرے حالات بہت اچھے تھے، خوشحالی تھی،دوصحتمند ٗتندرست ٗاورتیزرفتاراونٹنیاں بھی میرے پاس تھیں ،جبکہ اس سے قبل کبھی کسی غزوے کے موقع پرایسانہیں ہواتھاکہ بیک وقت دواونٹنیاں میری ملکیت میں ہوں ،نیزاس سے قبل کبھی میرے حالات بھی اس قدراچھے نہیں تھے‘‘
٭…رسول اللہ ﷺ کامعمول یہ تھاکہ آپؐ ہمیشہ ہر غزوے کے موقع پراحتیاطی تدبیر کے طورپرحتیٰ الامکان رازداری سے کام لیاکرتے تھے…مثلاًیہ کہ کب روانگی ہوگی؟ کس راستے سے روانگی ہوگی؟وغیرہ…
لیکن غزوۂ تبوک کے موقع پرایسانہیں کیاگیا،بلکہ عام منادی کردی گئی،اورسبھی لوگوں کو خوب زیادہ سے زیادہ تیاری کی ہدایت کی گئی،کیونکہ اس موقع پرصورتِ حال بہت زیادہ سنگین تھی…چنانچہ سبھی لوگ بھرپورطریقے سے تیاری میں مشغول ہوگئے،دوردرازکے علاقوں سے بھی بڑی تعدادمیں دستے مدینہ پہنچنے لگے…لہٰذاایسے میں جب ہرکوئی نہایت جوش وخروش اورزوروشورکے ساتھ تیاری میں مشغول ومنہمک تھا…تب صرف منافق قسم کے لوگ ہی تھے کہ جواس غزوے میں شرکت سے بچنے کے حیلے بہانے تلاش کررہے تھے کہ بس کسی بھی طرح ان کی جان بچ جائے…یہ لوگ کوئی تیاری بھی نہیں کررہے تھے، اوریوں گویاقدرت کی طرف سے اس بڑی آزمائش کے ذریعے خالص اورسچے مؤمنوں اور منافقوں کے مابین تمیزاورپہچان کامعیارمقررکردیاگیاتھا،نیزاس طرح اُس اسلامی معاشرے میں مسلمانوں کے درمیان جوچھپے ہوئے دشمن اورآستین کے سانپ تھے… قدرت کی طرف سے اب انہیں بے نقاب کئے جانے کاانتظام ہورہاتھا۔
٭…البتہ تین افرادایسے تھے جوحقیقی مؤمن تھے،یعنی حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ ٗ حضرت ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ ٗاورحضرت مُرارۃ بن الربیع رضی اللہ عنہ ،یہ تینوں مؤمنِ خالص تھے،لیکن اس کے باوجوداس موقع پریہ تینوں بھی نہیں جاسکے…یقینااس میں بھی اللہ عزوجل کی جانب سے کوئی بڑی حکمت ومصلحت پوشیدہ تھی…
٭…حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ’’رسول اللہ ﷺ ودیگرتمام مسلمانوں نے اس سفرکیلئے خوب تیاری کی ٗاوراس کے بعدایک روزوہ سب مدینہ سے روانہ ہوگئے…لیکن میں چونکہ اپنے کھجوروں کے باغ سے متعلق کچھ کام کاج میں الجھا ہوا تھا،اس لئے میں نے سوچاکہ میں کل روانہ ہوں گا،اورخوب تیزرفتاری کے ساتھ سفرکرتا ہوا ان کے ساتھ جاملوں گا…لیکن دوسرے روزبھی میں اپناوہ کام نپٹانہیں سکا…تب سوچا کہ کل جاملوں گا…آخرمجھے خوب اندازہ ہوگیاکہ اب بہت دیرہوچکی ہے…اب میں کسی صورت لشکرکے ساتھ نہیں مل سکتا…‘‘(۱)
٭…آخرحضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ مدینہ میں ہی بیٹھے رہ گئے…فرماتے ہیں کہ ’’میں جب بھی گھرسے نکلتا…تواپنے پرانے ساتھیوں میں سے مجھے کوئی نظرنہ آتا… رسول اللہ ﷺ بھی نظرنہ آتے…بس گلی کوچوں میں کھیلتے کودتے بچے نظرآتے تھے… کبھی کوئی معذورشخص نظرآجاتاجوواقعی عذرکی وجہ سے نہیں جاسکاتھا،یاپھرکبھی کوئی ایساشخص نظرآجاتاجوسرسے پاؤں تک نفاق میں ڈوباہواہوتاتھا،یعنی منافق قسم کاانسان… جو اپنے نفاق کی وجہ سے نہیں گیا،جب جانے کاوقت تھاتب چھپ کراپنے گھرمیں دبکا بیٹھا رہا…اوراب جبکہ سبھی جاچکے ہیں تویہ یہاں گھومتاپھررہاہے…اس قسم کے لوگوں پر جب میری نگاہ پڑتی…تومیں خوداپنے بارے میں بھی سوچنے لگتا…اورتب میرادل بجھ جاتا…اورمیں یہ سوچ کرانتہائی شرمساراورغمگین ہوجاتاکہ ’’میں بھی توانہی کی طرح یہاں بیٹھاہواہوں ٗلہٰذاکیامیراشماران بچوں ٗعورتوں ٗمعذوروں ٗ اورمنافقوں میں ہے ؟‘‘
٭…اُدھردوسری طرف رسول اللہ ﷺ اپنے لشکرکے ہمراہ مدینہ سے روانگی کے بعد مسلسل سفرکرتے ہوئے آخرمنزلِ مقصودیعنی ’’تبوک‘‘جاپہنچے،اس دوران تمام راستے میں آپؐ نے کعبؓ کے بارے میں کسی سے کوئی استفسارنہیں فرمایا،البتہ طویل مسافت طے کرتے ہوئے تبوک پہنچ جانے کے بعدایک روزجب آپؐ اپنے چندساتھیوں کے ہمراہ کسی جگہ تشریف فرماہے تھے ،تب آپؐ نے اچانک انہیں مخاطب کرتے ہوئے دریافت فرمایا: أین کعب بن مالک…؟ یعنی’’کعب بن مالک کہاں ہیں …؟‘‘تب ایک شخص نے جواب دیاکہ ’’اے اللہ کے رسول!کعب تونہیں آئے‘‘
اس موقع پراتفاقاًوہاں حضرت معاذبن جبل رضی اللہ عنہ بھی موجودتھے(۱)انہوں نے جب یہ صورتِ حال دیکھی توانہیں یہ فکرلاحق ہونے لگی کہ’’کہیں ایسانہوکہ کعب کی غیرحاضری کی خبرسننے کے بعدرسول اللہ ﷺ کوصدمہ پہنچے ،یاآپؐ کے قلبِ مبارک میں کعب کے خلاف کوئی ناگواری اورکدورت پیداہونے لگے…‘‘لہٰذاانہوں نے فوراًہی کعبؓ کی طرف سے دفاع کی غرض سے ان کے بارے میں کوئی ایسی مبہم اورگول مول قسم کی بات کی جس سے یہ تأثردینامقصودتھاکہ کعب منافق نہیں ہیں ،بلکہ وہ توبہت ہی اچھے انسان ہیں ،ضرورانہیں کوئی عذرپیش آگیاہوگاجس کی وجہ سے وہ نہیں آسکے‘‘
تاہم رسول اللہ ﷺ نے نہ تواس پہلے شخص کی بات کاکوئی جواب دیا(جس نے آپؐ کے استفسارکے جواب میں یہ بتایاتھاکہ کعب تونہیں آئے)اورنہ ہی معاذبن جبلؓ کی اس بات کاکوئی جواب دیا(جس میں انہوں نے کعبؓ کی طرف سے کچھ صفائی پیش کرنے کی کوشش کی تھی)آپؐ نے اس موقع پر بس خاموشی اختیارفرمالی۔
٭…رسول اللہ ﷺ نے اپنے لشکرکے ہمراہ بیس روزتبوک میں قیام فرمایا،اورپھروہاں سے واپسی کاسفرشروع ہوا،تبوک میں یہ بیس روزہ قیام ٗنیزآمدورفت ملاکرکل یہ پچاس دن کاسفررہا۔
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کوجب یہ خبرملی کہ رسول اللہ ﷺ تبوک سے واپس مدینہ کی جانب روانہ ہوچکے ہیں ،تواس سوچ میں پڑگئے کہ آپؐ کی جب مدینہ تشریف آوری ہوگی تومیں کیاکہوں گا…؟
اورپھرآخرآپؐ واپس مدینہ پہنچ گئے،آپؐ کامعمول تھاکہ ہمیشہ سفرسے واپسی کے موقع پر اپنے گھرتشریف لے جانے کی بجائے پہلے مسجدجایاکرتے تھے،وہاں دورکعت نمازادا کرتے، اس کے بعدکچھ دیروہیں تشریف فرمارہتے،تاکہ سب سے ملاقات وغیرہ کاسلسلہ بھی ہوجائے…اس کے بعدآپؐ اپنے گھرتشریف لے جاتے۔
حضرت کعب بن مالکؓ فرماتے ہیں ’’رسول اللہ ﷺ جب مسجدمیں تشریف فرماتھے ،تب میں دیکھتارہاکہ بڑی تعدادمیں منافقین آتے رہے ،آپؐ کے سامنے مختلف حیلے بہانے بناتے رہے ،جھوٹی کہانیاں سناتے رہے،جھوٹے عذرپیش کرتے رہے،اورجھوٹی قسمیں کھاکراپنی جان چھڑاتے رہے…اورہنسی خوشی وہاں سے جاتے رہے…جبکہ میں نے یہ پختہ عزم کررکھاتھاکہ میں جھوٹ نہیں بولوں گا،میں مسجدمیں داخل ہوا،آپؐ کی خدمت میں سلام عرض کیا…آپؐ نے سلام کاجواب دیا،قدرے تبسم فرمایا،لیکن اس تبسم میں کچھ ناراضگی کی آمیزش بھی شامل تھی،پھرآپؐ نے فرمایا: ’’میرے قریب آؤ‘‘اس پرمیں قریب آگیا،تب آپؐ نے مجھ سے دریافت فرمایا’’کعب !تم کیوں پیچھے رہ گئے؟‘‘ میں نے عرض کیا’’اے اللہ کے رسول!مجھے کوئی عذردرپیش نہیں تھا،میں نے دوتیزرفتاراونٹنیاں بھی تیار کر رکھی تھیں ،آج اگرمیں آپ کی بجائے کسی دنیاوی بادشاہ کے سامنے ہوتاتوکوئی جھوٹا بہانہ بناکراپنی جان چھڑالیتا،لیکن میں آپ کے سامنے ہرگزجھوٹ نہیں بولوں گا‘‘
الغرض منافقین کے برعکس حضرت کعب بن مالکؓ نے ایمان داری اورصاف گوئی سے کام لیتے ہوئے بالکل درست اوراصل بات بتادی کہ نہ تومجھے کوئی عذرتھا،نہ ہی کوئی جسمانی یامالی رکاوٹ اورپریشانی لاحق تھی…
حضرت کعب بن مالکؓ کی یہ بات سننے کے بعدرسول اللہ ﷺ نے فرمایا: أمّا ھذا فقد صَدَق … یعنی’’یہی ہے جس نے سچ بولاہے‘‘ اورپھرمزیدفرمایا’’جاؤ،یہاں تک کہ اللہ تمہارے بارے میں کوئی فیصلہ نازل فرمائے‘‘
تب کعبؓ وہاں سے چل دئیے…ایمان کی شمع دل میں لئے ہوئے،اپنے اللہ پرمکمل بھروسہ کئے ہوئے،اوراپنامعاملہ بس اسی کے حوالے کرتے ہوئے…
اس موقع پرحضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کوذہنی ونفسیاتی طورپرپریشانی توبہت زیادہ لاحق تھی ،بالخصوص اس بات کی وجہ سے کہ یہ منافق قسم کے لوگ کس طرح جھوٹے بہانے بنابناکراورجھوٹی قسمیں کھاکرچھوٹ گئے…اوربس ہنسی خوشی چلتے بنے…بات ختم ہوگئی…جبکہ میرااب نہ جانے کیابنے گا…؟ لیکن اس پریشانی کے ساتھ ہی انہیں یہ اطمینان بھی تھاکہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کے سامنے جھوٹ نہیں بولا،یوں بیک وقت ’’پریشانی اوراطمینان‘‘کی یہ ملی جلی کیفیت ان پرطاری تھی…
اس دوران ان کی قوم ’’بنوسَلَمہ‘‘کے کچھ لوگوں نے انہیں مشورہ دیتے ہوئے کہا’’اے کعب!آپ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں دوبارہ جائیے،اورعرض کیجئے کہ مجھے کوئی عذر درپیش تھا،جس کی وجہ سے میں اس غزوے سے پیچھے رہ گیا،آپ کی یہ بات سن کررسول اللہ ﷺ آپ کیلئے دعائے مغفرت کریں گے،جس پراللہ آپ کومعاف فرمادے گا…اوربس بات ختم ہوجائیگی…‘‘
کعبؓ کی قوم کے یہ لوگ کعب ؓکے سامنے اپنے اس مشورے پراصرارکرتے رہے ،حتیٰ کہ کچھ دیرکیلئے کعبؓ اس بارے میں ترددکاشکارہوگئے…
آخرانہوں نے سوچاکہ’’ معلوم کیاجائے کہ کیامیرے علاوہ کوئی اورشخص بھی ایساہے جس نے راست گوئی سے کام لیاہو…اوراس وجہ سے اس کامعاملہ بھی مجھ جیساہی ہو… چنانچہ تحقیق کرنے پرمعلوم ہواکہ دوافرادایسے ہیں جنہوں نے سچ بولا،جس پرانہیں بھی رسول اللہ ﷺ کی طرف سے وہی بات کہی گئی جواِنہیں (یعنی حضرت کعب رضی اللہ عنہ ) کوکہی گئی تھی،یعنی اللہ کی طرف سے فیصلے کاانتظار…‘‘
اوریہ دوحضرات ہلال بن امیہ اورمُرارۃ بن الربیع (رضی اللہ عنہما)تھے، حضرت کعبؓ کوجب یہ بات معلوم ہوئی توانہیں یہ سوچ کرکافی اطمینان نصیب ہواکہ ’’یہ دونوں تواللہ کے برگزیدہ ترین بندے ہیں ،حتیٰ کہ غزوہ ٔبدرمیں شرکت کاعظیم شرف بھی انہیں نصیب ہواہے،لہٰذافکرکی ضرورت نہیں ،کیونکہ ان دونوں کے ساتھ جوہوگاوہی میرے ساتھ بھی ہوجائیگا‘‘اوریہ بات سوچ کرانہوں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اب دوبارہ حاضری کااور اپنے لئے کوئی عذرپیش کرنے کاارادہ بالکل ہی ترک کردیا،اوراپنے اسی ’’سچ‘‘پرقائم رہتے ہو ئے بس خودکواللہ کے حوالے کردینے کاعزم بالجزم کرکے بیٹھ گئے۔
٭…اورپھراسی کیفیت میں چندروزہی گذرے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ حکم صادر فرمایاکہ ہرکوئی ان تینوں سے مکمل قطعِ تعلق کرلے،تب سبھی نے ان سے مکمل قطعِ تعلق کرلیا، حتیٰ کہ سبھی نے ان سے بات چیت ٗ سلام وکلام ٗ سب کچھ ترک کردیا،تب یہ تینوں بہت زیادہ پریشان اورانتہائی افسردہ ہوگئے…اوریوں بس اپنے ہی لوگوں کے درمیان اجنبی بن کررہ گئے،جس شہرمیں پیداہوئے،جہاں ساری زندگی گذاری ، جن گلی کوچوں میں کھیل کودکربڑے ہوئے…اب وہی جگہ اوراپناوہی شہرانہیں اجنبی محسوس ہونے لگا…یایوں کہہ لیاجائے کہ…یہ خوداب اس شہرمیں اجنبی بن کررہ گئے…اب انہیں وہاں وحشت محسوس ہونے لگی،نہ کسی کے ساتھ کوئی تعلق باقی رہا،نہ کوئی رشتہ برقراررہا،نہ کوئی میل جول ہے ،نہ ملاقات ہے،نہ سلام وکلام کاکوئی سلسلہ ہے،کوئی بات نہیں کرتا،کوئی سلام نہیں کرتا،اگریہ خودسلام کرتے ہیں توکوئی ان کے سلام کاجواب نہیں دیتا،یہاں تک کہ خود رسول اللہ ﷺ بھی اپنی تمامتررحمت وشفقت کے باوجود ٗاوراپنی تمامترخوش اخلاقی کے باوجود… ان کے سلام کاجواب نہیں دیتے…
حضر ت کعبؓ فرماتے ہیں کہ ’’میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضرہوتا،سلام عرض کرتا، اور یہ سوچ کرخوب غورسے آپؐ کے ہونٹوں کی جانب دیکھتاکہ آپؐ نے اگرچہ زبان سے تو میرے سلام کاجواب نہیں دیا…لیکن…ممکن ہے کہ آپؐ کے ہونٹوں میں جنبش ہوئی ہو… آوازتونہیں آئی…لیکن ممکن ہے کہ آپؐ نے شایدآہستہ سے جواب دیاہو…‘‘
٭…قابلِ غورہے یہ بات کہ وہ ،معاشرہ جسے ’’خیرالقرون‘‘کے نام سے یادکیاگیا،تمام انسانی تاریخ میں بہترین معاشرہ،جہاں خودرسول اللہ ﷺ کاوجودمسعودتھا،آپؐ کاوہ مبارک زمانہ،وہ عہدِنبوی،اس بے مثال اوراس مبارک ترین معاشرے میں جس کوسبھی چھوڑدیں ،اورجس سے سبھی منہ موڑلیں ،جس سے کوئی بات نہ کرے،جسے کوئی سلام کا جواب تک نہ دے…ظاہرہے کہ یہ کتنی بڑی آزمائش تھی…یونہی وقت گذرتارہا،حتیٰ کہ ان تینوں کویہ زمین اپنی تمامترکشادگی کے باوجوداپنے لئے تنگ محسوس ہونے لگی… اورپھراس سے بھی بڑھ کرنوبت یہاں تک جاپہنچی …کہ انہیں خوداپناوجوداپنے لئے بوجھ محسوس ہونے لگا…ان کی اسی کیفیت کو قرآن کریم میں اس طرح بیان کیاگیاہے:
{وَضَاقَت عَلَیھِمُ الأرضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَیھِمْ أنفُسُھُمْ … } (۱) یعنی’’یہاں تک جب یہ زمین اپنی تمام وسعتوں کے باوجودان پرتنگ ہوگئی،اوران کی زندگیاں ان پردوبھرہوگئیں …‘‘
یوں یہ تینوں خوداپنوں کے درمیان ٗ اپنے ہی شہرمیں اجنبی بن کررہ گئے…اس سے بھی بڑھ کریہ کہ خوداپنی ذات سے اجنبی ہوگئے…اپنے آپ سے بیگانے ہوگئے…
٭…اورپھرجب اسی کیفیت میں چالیس دن گذرگئے،تورسول اللہ ﷺ نے ان تینوں کو یہ حکم دیاکہ اپنی بیویوں سے علیحدہ ہوجائیں …اوران سے ترکِ تعلق کرلیں ۔
چنانچہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے بھیجاہواقاصدیہ حکم لئے ہوئے حضرت کعب بن مالکؓ کے پاس پہنچا،اورآپؐ کی طرف سے یہ حکم سنایا: اِنّ النّبِيّ ﷺ یَأمُرُکَ أن تَعتَزِلَ اِمْرَأتَک… یعنی’’رسول اللہ ﷺ نے آپ کیلئے یہ حکم بھجوایاہے کہ آپ اپنی بیوی سے دوری اختیارکرلیجئے…‘‘تب انہوں نے اس قاصد سے دریافت کیا’’کیامیں اسے طلاق دے دوں ؟ یاکیاکروں ؟‘‘اس پرقاصدنے آپؐ کی طرف سے وہی پیغام دہرایا،بعینہٖ وہی الفاظ دہرائے،اپنی طرف سے کوئی مطلب بیان نہیں کیا،کوئی خودساختہ تشریح پیش نہیں کی، کوئی تاویل نہیں کی،بلکہ مکمل امانت ودیانت کے ساتھ وہی الفاظ دہرائے جورسول اللہ ﷺ نے ارشادفرمائے تھے۔
یہ حکم موصول ہونے کے بعدحضرت کعب بن مالکؓ نے اپنی اہلیہ سے کہا : اِلحَقِي بأھلِکیعنی’’اپنے میکے چلی جاؤ…‘‘اورتب وہ اپنے میکے چلی گئیں ،اوریوں ان کیلئے یہ آزمائش اب بہت زیادہ شدت اختیارکرگئی،کیونکہ اب گھربھی ویران ہوچکاتھا۔
٭…ان دنوں اپنی کیفیت بیان کرتے ہوئے کعب بن مالکؓ فرماتے ہیں :
’’جب نوبت یہاں تک جاپہنچی تومیرے دونوں ساتھی (ہلال بن امیہ اورمُرارۃ بن الربیع)توبس اپنے اپنے گھرمیں بندہوکربیٹھ گئے جہاں وہ سارادن روتے رہتے تھے… جبکہ میں توان کی بنسبت کافی جوان ٗباہمت ٗاورحوصلہ مندتھا،لہٰذاگھرمیں بندہوکربیٹھ جانے اورگریہ وزاری میں اپنے شب وروزبسرکرنے کی بجائے میں گھومتاپھرتاتھا،ہرنمازکے وقت مسجدبھی جاتااوروہاں دیگرتمام نمازیوں کے ساتھ باجماعت نمازبھی پڑھاکرتاتھا، میں (فرائض کے بعدسنتیں پڑھتے وقت)نمازکے دوران کن اکھیوں سے چوری چوری رسول اللہ ﷺ کی جانب دیکھاکرتاتھا،تب میں محسوس کرتاکہ آپؐ میری جانب دیکھ رہے ہیں … لیکن جونہی میں سلام پھیرتا ٗآپؐ اپناچہرہ دوسری جانب موڑلیتے…
پھرمسجدسے نکلنے کے بعدبازاروں میں گھومتاپھرتا،لوگوں کودیکھتا،ان کے قریب جاتا،اس امیدکے ساتھ کہ شایدکوئی مجھ سے بات کرے،لیکن کوئی بھی مجھ سے بات نہ کرتا،اس لئے کہ یہ تورسول اللہ ﷺ کاحکم تھا،اوروہ سبھی حضرات رسول اللہ ﷺ کے ہرحکم کی تعمیل ضروری سمجھتے تھے…
ایک روزجب اسی کیفیت میں میں مدینہ کے کسی بازارمیں چلاجارہاتھا،لوگوں کی طرف سے یہ بے رخی اب میرے لئے قطعی ناقابلِ برداشت ہوتی جارہی تھی…آخرچلتے چلتے میں ابوقتادہ کے باغ تک جاپہنچا،جوکہ میرے چچازادبھائی تھے ٗ نیزہم میں آپس میں بہت زیادہ محبتیں اورقربتیں تھیں ،میں نے دیوارکے اوپرسے جھانک کردیکھاتومجھے وہاں ابوقتادہ نظرآئے،میں نے انہیں سلام کیا…مگراللہ کی قسم…انہوں نے میرے سلام کاجواب تک نہیں دیا…(۱)
میں نے ابوقتادہؓ کواللہ کی قسم دے کرکہا’’کیاتم نہیں جانتے کہ مجھے اللہ اوراس کے رسولؐسے بہت زیادہ محبت ہے؟‘‘لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا،میں نے دوسری باریہی سوال دہرایا،تب بھی انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا، حالانکہ وہ میرے بارے میں خوب اچھی طرح جانتے تھے کہ مجھے واقعی اللہ اوراس کے رسول سے بہت زیادہ محبت ہے،تب میں نے تیسری بارقسم دے کرپھریہی سوال دہرایا،جس پرانہوں نے فقط اتناکہا ’’اللہ ورسولہ اعلم‘‘یعنی یہ تواللہ اوراس کارسول ہی بہترجانتے ہیں ‘‘تب میری آنکھوں سے آنسوبہنے لگے…‘‘
(یعنی کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کومسلسل گذشتہ کئی روزسے سبھی لوگوں کی طرف سے ترکِ تعلق کاجوسامناتھا،اوردوسرے دونوں حضرات(ہلال بن امیہ اورمُرارۃ بن الربیع) کے برعکس ابتک وہ اس صورتِ حال کوبرداشت کرتے چلے آرہے تھے،نمازبھی مسجدمیں حاضرہوکرباجماعت اداکیاکرتے تھے،بازاروں میں بھی گھوماپھراکرتے تھے اس امید پر کہ شایدکوئی مجھ سے بات کرے… الغرض اس کیفیت کے باوجودابتک یہ نفسیاتی صدمہ ایک حدکے اندرتھا،لیکن آج جب چچازادبھائی کے ساتھ انہیں اس صورتِ حال سے دوچارہوناپڑا…تواب دل ٹوٹ گیا…اورابتک انہوں نے اپنے دل میں دردکاجوایک سمندر چھپا رکھاتھا…اب وہ آنسوبن کربہنے لگا…)
٭…اس کے بعدحضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اس باغ سے واپس چل دئیے… چلتے چلتے دوبارہ مدینہ کے اسی بازارمیں پہنچ گئے،وہی اداسی کی کیفیت طاری تھی،اسی کیفیت میں افسردہ ورنجیدہ چلے جارہے تھے کہ اچانک ان کے کان میں کسی کی آوازپڑی ، کوئی ’’نبَطی‘‘ یعنی شامی شخص تھا(واضح ہوکہ ملکِ شام اُس وقت سلطنتِ روم کاحصہ تھا،یعنی بالفاظِ دیگریہ ’’رومی‘‘شخص تھا)جوہرراہ گیرکوروک روک کراس سے پوچھتا پھر رہا تھاکہ ’’کعب بن مالک کے بارے میں کوئی مجھے بتائے ،ان سے ملاقات کہاں اورکس طرح ہوسکے گی؟‘‘
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
’’میں نے اسے بتایاکہ میں ہی کعب بن مالک ہوں ،تب اس نے مجھے ایک خط تھمادیا،جوکہ میرے نام رومیوں کے بادشاہ کی طرف سے تحریرکردہ تھا،میں نے وہ خط پڑھناشروع کیا،اس کامضمون کچھ اس طرح تھا’’ہمیں خبرملی ہے کہ آپ کے ساتھی(یعنی رسول اللہ ﷺ )نے آپ کے ساتھ بڑی زیادتی اورناانصافی کی ہے،جبکہ آپ جیسے لائق وفائق اورقابل ترین انسان کی یہ ناقدری اوربے توقیری کسی صورت مناسب نہیں ہے، لہٰذا آپ کیلئے ہماری طرف سے یہ پیغام ہے کہ آپ یہ ذلت وناقدری کی زندگی چھوڑکر ہمارے پاس چلے آئیے،یہاں ہرطرح آپ کی عزت افزائی اورقدردانی کی جائیگی اور آپ کے عین شایانِ شان سلوک روارکھاجائے گا‘‘ حضرت کعب بن مالکؓ مزیدفرماتے ہیں ’’یہ خط پڑھتے ہی میری زبان سے بے اختیاریہ الفاظ نکلے: وھٰذہٖ مِن البَلَاء… یعنی’’اب یہ ایک اورآزمائش آکھڑی ہے‘‘تب میں نے فوراًہی بغیرکسی تاخیرکے اس خط کووہاں قریب ہی موجود ایک تندورمیں پھینک دیا‘‘(۱)
٭…اس کے بعدحضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ مزیدفرماتے ہیں :
’’جب دس دن مزیدگذرگئے(یعنی چالیس دن پہلے…اوراب مزیددس دن ،یوں جب کُل پچاس دن گذرچکے)توایک روزجب میں اپنے گھرکی چھت پرنمازِفجرپڑھنے کے بعد بیٹھاہواتھا(۱)تواچانک مجھے کسی کی آوازسنائی دی ،جوبآوازِبلندیوں پکاررہاتھا: یا کعب بن مالک أبشِر… یعنی’’اے کعب بن مالک !آپ کیلئے بڑی خوشخبری ہے…‘‘تب میں فوراًہی اللہ کے سامنے سجدہ ریزہوگیا،اورمیں سمجھ گیاکہ میرے لئے اس آزمائش سے نجات کاوقت اب آچکاہے(یعنی انہوں نے سوچاکہ باقی تمام تفصیل بعدمیں پتہ چلتی رہیگی،فی الحال فوری طورپربس اللہ کے سامنے سجدہ ریزہوگئے)‘‘
عین اسی وقت تین الگ الگ گھڑسواربھی خوشخبری لئے ہوئے مسجدنبوی سے اپنی اپنی منزل کی جانب روانہ ہوئے،ایک کعب بن مالک کے گھرکی طرف ،دوسراہلال بن امیہ ٗ اورتیسرامرارۃ بن الربیع (رضی اللہ عنہم اجمعین)کے گھرکی طرف…
چنانچہ تھوڑی ہی دیرمیں وہ گھڑسوارکعبؓ کے گھرجاپہنچا…لیکن وہ شخص جوکہ پہلے ہی بڑی ہی بے چینی اوربے قراری کے عالم میں دورسے ہی پکارتاہوا …اوربآوازِبلند یا کعب بن مالک أبشر… کی صدالگاتاہواپیدل چلاآرہاتھا…اس کی یہ صدااُس گھڑسوار سے پہلے پہنچ گئی تھی،اوریوں حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ تک یہ عظیم ترین خوشخبری سب سے پہلے اُسی شخص کے ذریعے پہنچی،لہٰذاجب وہ ان تک پہنچاتوانہوں نے فرطِ مسرت کی وجہ سے ٗاوراپنے جذبات سے مغلوب ہوکر ٗاپناوہ لباس جواس وقت انہوں نے پہن رکھا تھا… بطورِانعام اس شخص کودے دیا…اورخودپڑوسیوں سے دوسرے کپڑے مانگ کر پہن لئے…
مقصدیہ کہ اُس وقت فوری طورپرانہیں جوکچھ میسرتھاوہ اس خوشخبری لانے والے کوبطورِ انعام پیش کردیا،کیونکہ وہ اس قدرعظیم خوشخبری لایاتھاکہ اسے انعام دینے میں ذرہ برابر تاخیر انہیں گوارانہیں تھی۔
اورپھرجب اس گھڑسوارقاصدنے بھی یہی خوشخبری سنائی تویہ چیزحضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کیلئے مزیدمسرت کاباعث بنی ،نیزاس موقع پراس قاصدنے یہ پیغام بھی پہنچایا کہ ’’اے کعب!رسول اللہ ﷺ مسجدمیں آپ کویادفرمارہے ہیں ‘‘تب حضرت کعبؓ فوری طورپرمسجدکی جانب روانہ ہوگئے،چونکہ یہ خبربڑی سرعت کے ساتھ تمام شہرمدینہ میں پھیل چکی تھی، لہٰذااس موقع پرانہیں مبارکبادپیش کرنے کی غرض سے ان کے گھرسے مسجدتک پورے راستے میں دونوں جانب لوگوں کابہت بڑاجمعِ غفیراکٹھاہوچکاتھا،ہرطرف سے لوگ امڈتے چلے آرہے تھے،کیونکہ ظاہرہے کہ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کیلئے یہ بہت ہی عظیم شرف اوربڑااعزازتھاکہ ان کی قبولیتِ توبہ کے بارے میں باقاعدہ قرآن کریم کی آیات نازل ہوئی تھیں …جوکہ اہلِ ایمان تاقیامت پڑھتے رہیں گے…(۱)
اس کے بعدحضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ مسجدنبوی پہنچے جہاں اُس وقت رسول اللہ ﷺ تشریف فرماتھے،نیزآپؐ کے اردگردبڑی تعدادمیں صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی موجودتھے،ان تمام حضرات میں سب سے پہلے حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہوکرنہایت گرمجوشی کے ساتھ حضرت کعبؓ کااستقبال کیا،مصافحہ کیا،اوربڑی مسرت کااظہارکرتے ہوئے پرتپاک اندازمیں انہیں مبارکبادپیش کی …
اس موقع پران کے اس والہانہ اندازکے بارے میں حضرت کعبؓ کے بیٹے عبداللہ اپنے والدکے بارے میں کہتے ہیں : کَان لَایَنسَاھَا لِطَلحَۃ یعنی’’اس موقع پرطلحہ کے اس اندازکومیرے والدزندگی بھرہمیشہ یادکرتے رہے‘‘(۱)
٭…حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اُس موقع پرمسجدنبوی میں موجودحضرات صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اس جمعِ غفیرمیں سے گذرتے ہوئے آخررسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضرہوئے،ان یادگارترین لمحات کی منظرکشی کرتے ہوئے وہ فرماتے ہیں : فَلَمّا سَلّمتُ عَلَیٰ رَسُولِ اللّہِ ﷺ وَھُوَ یَبرُقُ وَجھُہ مِنَ السُّرُور… وَکَانِ اِذا سُرّ استِنَارَ وَجھُہ کأنّہٗ قِطعَۃُ قَمَر ، وَکُنّا نَعرِفُ مِنہُ ذلِک … یعنی’’میں نے جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں سلام عرض کیا ٗاُس وقت آپؐ کارُخِ انورفرطِ مسرت کی وجہ سے چمک رہاتھا…آپؐ جب کبھی مسرورہوتے توآپؐ کارُخِ انوراس طرح چمک اٹھتاتھاجیسے چاندکاٹکڑاہو…آپؐ کے اس مزاج سے ہم سبھی خوب واقف تھے‘‘
اورپھر سلام ودعاء کے اس سلسلے کے بعدرسول اللہ ﷺ نے حضرت کعب بن مالکؓ کو مخاطب کرتے ہوئے ارشادفرمایا: أبْشِر بِخَیرِ یَومٍ مَرَّ عَلَیکَ مُنذُ وَلَدَتکَ أُمُّکَ یعنی’’اے کعب!تمہاری پیدائش کے بعدسے ابتک آج کایہ دن تمہارے لئے سب سے بہترین دن ہے‘‘(۱)
اس کے بعدحضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا’’اے اللہ کے رسول!یہ ہماری توبہ کی قبولیت کی خوشخبری آپ کی طرف سے ہے؟یااللہ عزوجل کی طرف سے ہے؟‘‘(۱)
اس پرآپؐ نے ارشادفرمایا’’یہ خوشخبری اللہ کی طرف سے ہے‘‘
رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے یہ جواب سننے کے بعدحضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرطِ مسرت سے مزیدجھوم جھوم اٹھے…اوربے اختیارآپؐ کی خدمت میں یوں عرض کرنے لگے’’اے اللہ کے رسول!اللہ کی طرف سے میرے لئے اس اتنی بڑی نعمت(یعنی قبولیتِ توبہ کی خوشخبری)کااب تقاضایہ ہے کہ اب میں اپناتمام مال اللہ کی راہ میں صدقہ کردوں ‘‘
(یعنی چونکہ اپنے اس دنیاوی مال واسباب سے متعلق مسائل ومصروفیات کی وجہ سے ہی میں اس غزوے سے پیچھے رہ گیاتھا،یہی مال میرے لئے اتنی بڑی آزمائش کاسبب بنا،اوراب اللہ کی طرف سے یہ اتنی بڑی خوشخبری آئی ہے،لہٰذامیں چاہتاہوں کہ اس خوشی کے موقع پربطورِشکراس تمام مال واسباب کواللہ کی راہ میں صدقہ کردوں کہ جس میں الجھ کرمیں اس اتنی بڑی آزمائش میں پھنس گیاتھا)
اس پررسول اللہ ﷺ نے جواب میں یوں ارشادفرمایا: أمْسِک عَلَیکَ بَعضَ مَالِکَ ، فَھُوَ خَیرٌ لَکَ … یعنی’’اپناکچھ مال اپنے لئے بھی سنبھال کررکھو،اسی میں تمہارے لئے بہتری ہے‘‘۔
(یعنی پورامال صدقہ کردینے کی بجائے کچھ صدقہ کردو،اورکچھ اپنے لئے رکھ لو،تاکہ کل تمہارے کام آسکے)۔
چنانچہ آپؐ کے اس ارشادپرعمل کرتے ہوئے حضرت کعب بن مالکؓ نے اپناکچھ مال فی سبیل اللہ صدقہ کردیا،جبکہ کچھ مال اپنے لئے رکھ لیا۔(۱)
٭… انصارِمدینہ سے تعلق رکھنے والے یہ جلیل القدرصحابی حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ ہجرتِ مدینہ سے کچھ قبل یعنی نبوت کے تیرہویں سال ’’بیعتِ عقبہ ثانیہ‘‘کے موقع پر مسلمان ہوئے تھے،یوں یہ ان عظیم ترین اورانتہائی خوش نصیب انسانوں میں سے تھے جن کی طرف سے اس بیعت کے موقع پردعوت اورپرزوراصرارکے نتیجے میں ہی رسول اللہ ﷺ ودیگرمسلمانوں کی مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کایادگارواقعہ پیش آیاتھا،اورپھریہی واقعۂ ’’ہجرتِ مدینہ‘‘ ہی روئے زمین پراولین اسلامی ریاست کے قیام کا ٗاوربہت ہی وسیع پیمانے پرمشرق ومغرب میں چہارسواسلامی فتوحات کاپیش خیمہ ثابت ہواتھا…
ہجرتِ مدینہ سے چندماہ قبل دعوتِ حق پرلبیک کہتے ہوئے دینِ برحق قبول کرنے کے بعدسن ۹ہجری میں غزوۂ تبوک کے تاریخی موقع پر حضرت کعبؓ اتنی بڑی آزمائش سے دوچار ہوئے ،اورپھربتوفیقِ الٰہی ’’سچ‘‘کادامن تھامے رکھنے کی وجہ سے ان کیلئے من جانب اللہ قبولیتِ توبہ کااعلان ہوا…
اس کے بعدوقت کاسفرجاری رہا…رسول اللہ ﷺ کامبارک دورگذرجانے کے بعد حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے خلفائے راشدین کادوربھی دیکھا،آخری عمرمیں یہ مدینہ سے ملکِ شام منتقل ہوگئے تھے،جہاں انہوں نے مستقل رہائش اختیارکرلی تھی ، آخروہیں ملکِ شام میں ہی ۵۰ھمیں ۷۷سال کی عمرمیں حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اس دنیائے فانی سے کوچ کرتے ہوئے اپنے اللہ سے جاملے۔
اللہ تعالیٰ جنت الفردوس میں ان کے درجات بلندفرمائیں ۔