Chapter 10 of 10
وفات
سیف اللہ خالدبن الولیدرضی اللہ عنہ امین الأمت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کی زیرِقیادت سلطنتِ روم کے خلاف کارروائیوں کے سلسلے میں ملکِ شام میں ہی مقیم تھے کہ انہی دنوں بیمارپڑگئے،رفتہ رفتہ مرض شدت اختیارکرتاگیا…آخر ۲۱ھمیں بتاریخ ۱۸/رمضان المبارک ٗ ملکِ شام کے شہر’’حِمص‘‘میں اکاون(۵۱)سال کی عمرمیں دنیائے فانی سے کوچ کرتے ہوئے اپنے اللہ سے جاملے…
انتقال سے محض چندروزقبل حضرت خالدبن ولیدرضی اللہ عنہ نے حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے توسط سے خلیفۂ وقت حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کے نام یہ زبانی وصیت بھجوائی کہ ’’اے امیرالمؤمنین!میری وفات کے بعدمیراگھوڑااورمیری تلوار…یہ دونوں چیزیں آپ کی نگرانی میں اللہ کے دین کی سربلندی کی خاطروقف رہیں گی،جبکہ مدینہ میں میراجوگھرہے ،آپ اپنی نگرانی میں وہ بطورِصدقہ کسی ضرورتمندکودیدیجئے‘‘۔(۱)
اللہ تعالیٰ اپنے اس بندے خالدبن ولیدرضی اللہ عنہ کے درجات جنت الفردوس میں بلندفرمائیں ،نیزہمیں وہاں جنت الفردوس میں اپنے حبیب ﷺ اورتمام صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی صحبت ومعیت کے شرف سے نوازیں ۔