Chapter 1 of 10
حضرت خالدبن ولیدرضی اللہ عنہ
معروف صحابیٔ رسول ﷺ ٗنیزانتہائی اہم تاریخی شخصیت حضرت خالدبن ولیدرضی اللہ عنہ کاتعلق مکہ میں قبیلۂ قریش کے مشہورومعززترین خاندان ’’بنومخزوم‘‘سے تھا،مکہ شہرمیں اوراس تمام معاشرے میں سیاسی ٗ معاشرتی ٗ ثقافتی ٗ اورمعاشی ٗ غرضیکہ ہرلحاظ سے خاندان بنومخزوم کوبڑی قدرومنزلت حاصل تھی۔
خالدبن ولیدنے جب مکہ شہرمیں اپنی ولادت ٗاورپھربچپن کے مرحلے کے بعدعہدِشباب میں قدم رکھاتوبہت جلدہی ان کی فطری صلاحیتیں ظاہرہونے لگیں ،ان کی شخصیت میں پوشیدہ ہنرنکھرکر سامنے آنے لگے،بالخصوص شجاعت وجرأت ٗ فنونِ حرب میں بے مثال مہارت ٗ جنگی تدابیرسے خوب واقفیت ٗ نیزبھرپوراورلاجواب قائدانہ صلاحیتیں …یہ وہ تمام خوبیاں تھیں جن کی بدولت ان کی شخصیت اس معاشرے میں روزبروزخوب نمایاں اورممتازہوتی چلی گئی…حتیٰ کہ آئندہ چل کرایک وقت ایسابھی آیاکہ جب جرأت وشجاعت ٗفنونِ حرب میں بے مثال مہارت ٗاوروسیع وعریض تاریخی فتوحات کے حوالے سے ان کی شخصیت ہمیشہ کیلئے افسانوی اورطلسماتی حیثیت اختیارکرگئی…
دینِ اسلام کے ابتدائی دورمیں قریشِ مکہ کے دیگراکثروبیشترسرکردہ افرادکی مانندخالدبھی کافی عرصہ تک دینِ اسلام کی مخالفت پرکمربستہ رہے…البتہ مسلمانوں اورمشرکینِ مکہ کے مابین باقاعدہ لڑی جانے والی تین بڑی جنگوں کے حوالے سے خالدکی صورتِ حال یہ رہی کہ ۲ھمیں اولین غزوہ یعنی ’’بدر‘‘کے موقع پرخالدکسی وجہ سے شریک نہیں ہوئے تھے۔
اس کے بعددوسرا غزوہ یعنی ’’اُحد‘‘جوکہ ۳ھ میں پیش آیاتھا،اس موقع پرخالدمشرکینِ مکہ کے لشکرمیں موجودتھے،اس موقع پرابتداء میں مسلمانوں کی فتح اورمشرکین کی شکست کے آثارکافی نمایاں ہونے لگے تھے ،لیکن پھراچانک مسلمان اپنی ہی ایک غلطی کی وجہ سے جیتی ہوئی جنگ ہارگئے تھے…اوراس کے پیچھے خالدہی کی جنگی مہارت اورعسکری تدبیر کا بڑا عمل دخل تھا…(جس پرخالدکوقبولِ اسلام کے بعدزندگی بھربڑی ندامت رہی)۔
جبکہ اس سلسلے کی تیسری جنگ یعنی ’’خندق‘‘ جوکہ ۵ھ میں پیش آئی تھی ،اس موقع پر خالدمشرکینِ مکہ کے لشکرمیں موجودتھے،لیکن اس موقع پرکیفیت یہ رہی تھی کہ باقاعدہ یلغار کی نوبت ہی نہیں آئی تھی۔
اس کے بعد ۶ھمیں مسلمانوں اورمشرکینِ مکہ کے مابین معروف معاہدۂ صلح یعنی ’’صلحِ حدیبیہ‘‘ کے نتیجے میں جب جنگوں کایہ سلسلہ کچھ تھم گیا…تو فطری طورپربہت سے لوگوں کو اب اس زمانۂ صلح میں نفرتوں ٗعداوتوں ٗ اورمحض جذبات کی دنیاسے نکل کرٹھنڈے دل ودماغ اورہوش وحواس کے ساتھ حقیقت پسندانہ طریقے سے صورتِ حال کاجائزہ لینے ٗ نیز ہرقسم کے تعصب اورتنگ نظری سے بالاترہوکردینِ اسلام کی پاکیزہ تعلیمات کے بارے میں غوروفکرکاموقع ملا…تب ان مشرکینِ مکہ میں سے بہت سے افرادایسے تھے کہ اس غوروفکرکے نتیجے میں ان کے دلوں میں دینِ اسلام اورپیغمبرِاسلام کے خلاف نفرت وعداوت کی چنگاریوں کی بجائے اب وہاں ’’ایمان کی بہار‘‘آنے لگی تھی…گمراہی کے اندھیرے چھٹنے لگے تھے،اوران کی جگہ ہدایت کی روشنی پھیلنے لگی تھی۔
یہی وہ دورتھاجب خالدبن ولیدکے دل ودماغ پربھی کچھ ایسی ہی کیفیت طاری رہنے لگی تھی… خاص طورپرایک بہترین جنگجواوربے مثال عسکری مہارت رکھنے والے انسان کی حیثیت سے جس بات نے خالدکو بہت زیادہ متأثرکررکھاتھاٗ وہ یہ کہ رسول اللہ ﷺ کی شخصیت میں بھی یہی خوبیاں (یعنی جرأت وشجاعت ٗنیزفنونِ حرب اورعسکری تدابیرمیں بے مثال مہارت ٗاورکامیاب منصوبہ بندی) بدرجۂ اتم موجودتھیں ،لیکن خاص بات یہ کہ اکثرعسکری ماہرین کااصل ہدف اورتمامترجستجومحض جنگ جیتنے کی خاطرہواکرتی ہے …خواہ اس مقصدکیلئے انہیں کچھ بھی کرناپڑے…اخلاقی قدروں کوقدموں تلے کچلناپڑے… یعنی اخلاق ٗانصاف ٗامانت ودیانت ٗاورانسانیت وشرافت کی ان کے نزدیک کوئی خاص اہمیت نہیں ہواکرتی…تمامترتوجہ بس بہرصورت اپنی ’’فتح‘‘پرہی مرکوزہواکرتی ہے…
جبکہ اس کے برعکس رسول اللہ ﷺ کی شخصیت میں جرأت وشجاعت اوربے مثال عسکری مہارت اورکامیاب منصوبہ بندی کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ انسانیت وشرافت بھی اپنے عروج پرتھی…جوکہ خالدکیلئے ایک بہت ہی عجیب بات تھی…اوردرحقیقت یہی وہ اصل وجہ تھی جس کی بناء پران کے دل میں رسول اللہ ﷺ کی محبت مسلسل گھرکرتی چلی جارہی تھی۔
اورپھرنوبت یہاں تک جاپہنچی کہ ان کے دل میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضری اورملاقات کاجذبہ ہمہ وقت موجزن رہنے لگا…اورپھررفتہ رفتہ انہوں نے قبولِ اسلام کا فیصلہ اورعزم بالجزم بھی کرلیا،تب یہ اس مقصدکیلئے جلدازجلدمکہ سے مدینہ کی جانب روانگی کے سلسلے میں منصوبہ بندی میں مشغول ہوگئے۔
البتہ اس موقع پران کی خواہش یہ تھی کہ مدینہ کی جانب تنہاجانے کی بجائے کاش قریشِ مکہ میں سے انہیں کوئی اپناہم خیال شخص مل جائے…اوردونوں ایک ساتھ مدینہ کی جانب روانہ ہوں …چنانچہ انہوں نے ایک روزاپنے دیرینہ دوست عثمان بن طلحہ سے اس بارے میں گفتگوکی،دینِ اسلام ٗ نیزپیغمبرِاسلام کے بارے میں اپنے ان بدلے ہوئے افکار وخیالات کاتذکرہ واظہارکیا،جس پرعثمان بن طلحہ نے برجستہ جواب دیاکہ ’’خالد!یقین جانو…اب تومیرے بھی بالکل ایسے ہی خیالات ہیں ‘‘۔
اورپھرایک روزیہ دونوں علیٰ الصباح روشنی پھیلنے سے قبل ہی مکہ شہرسے نکل گئے…دل میں ایمان کانور…نیزحُبِّ رسول ؐ کاطوفان چھپائے ہوئے یہ دونوں سوئے منزل … یعنی مدینۃ الرسول ﷺ کی جانب رواں دواں ہوگئے۔
اس یادگاراورمبارک سفرکے دوران مکہ شہرکی حدودسے باہرنکلنے کے بعد ان دونوں نے ابھی کچھ ہی مسافت طے کی تھی کہ اچانک ایک جگہ انہیں عمروبن العاص مل گئے…جوکہ رؤسائے قریش میں سے تھے اورمشرکینِ مکہ کی معززترین شخصیات میں ان کاشمار ہوتا تھا، تب اس اچانک ملاقات پران تینوں کوخوشگوارحیرت ہوئی،اوریہ خوشگوارحیرت اس وقت عظیم مسرت میں بدل گئی جب عمروبن العاص نے انہیں یہ رازکی بات بتائی کہ ان کی منزل بھی مدینہ ہی ہے، اور مقصدِسفربھی وہی ہے ،یعنی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضری اورقبولِ اسلام… چنانچہ اب یہ تینوں ایک ساتھ اپنی منزل کی جانب محوِسفرہوگئے۔
خالدبن ولیدفرماتے ہیں ’’آخراس طویل اورمسلسل سفرکے بعدہم تینوں مدینہ پہنچے، میری زندگی کاوہ یادگارترین تھا،جب ۸ھمیں ماہِ صفرکے پہلے دن ہم تینوں ایک ساتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضرہوئے،ہم تینوں میں سے سب سے پہلے میں نے سلام عرض کیا،جس پرآپؐ نے بڑی ہی خندہ پیشانی اورگرمجوشی کے ساتھ میرے سلام کاجواب دیا،میں نے اپنی حاضری کامقصدبیان کیا،اورآپؐ کے سامنے کلمۂ حق’’أشہدأن لاالٰہ الااللہ وأشہدأن محمداًرسول اللہ‘‘پڑھتے ہوئے دینِ برحق قبول کیا…اس پرآپؐ نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: قَد کُنتُ أرَیٰ لَکَ عَقلاً رَجَوتُ أن لَا یُسلِمکَ اِلّا اِلیٰ خَیر… یعنی’’اے خالد!مجھے تمہاری شخصیت میں دانشمندی کے ایسے آثاردکھائی دیتے تھے جن کی بناء پرمجھے یہی امیدرہتی تھی کہ تم خیرکے راستے پرآہی جاؤگے‘‘
اس کے بعدمیں نے آپؐ کے دستِ مبارک پربیعت بھی کی ،اورپھرمیں نے عرض کیا ’’اے اللہ کے رسول!ماضی میں دینِ اسلام کے خلاف میں جن کارروائیوں میں ملوث رہا ہوں ٗ آپ اس سلسلے میں اللہ سے میرے لئے معافی کی دعاء فرمائیے‘‘
اس پرآپؐ نے فرمایا: اِنّ الاِسلَامَ یَجُبُّ مَا قَبلَہ … یعنی’’اے خالد!قبولِ اسلام کے بعدگذشتہ تمام گناہ ختم ہوجاتے ہیں ‘‘
میں نے عرض کیا: عَلَیٰ ذلِکَ یَا رَسُولَ اللّہ… یعنی’’اے اللہ کے رسول! اس کے باوجودبھی …بس آپ میرے لئے دعائے مغفرت فرمائیے‘‘
تب آپؐ نے یوں دعاء فرمائی : اَللّھُمّ اغفِر لِخَالِد بنِ الوَلِیدِ کُلَّ مَا أوضَعَ فِیہِ مِن صَدٍّ عَن سَبِیلِکَ … یعنی’’اے اللہ!توخالدبن ولیدکی وہ تمام لغزشیں معاف فرماجوآج تک اس سے تیرے دین کے خلاف سرزدہوتی رہی ہیں ‘‘۔
اورپھرمیرے بعدعمروبن العاص (رضی اللہ عنہ) اورپھرعثمان بن طلحہ(رضی اللہ عنہ)آگے بڑھے ،دینِ اسلام قبول کیا،نیزرسول اللہ ﷺ کے دستِ مبارک پربیعت کی‘‘(۱)(۲)