Chapter 1 of 1

حضرت ابوالعاص بن الربیع رضی اللہ عنہ

مکہ میں قبیلۂ قریش کے جوذیلی قبائل اورمختلف خاندان تھے ٗان میں سے ایک اہم اور معزز خاندان’’بنوعبدالشمس‘‘تھا،اُس دورمیں اس خاندان سے تعلق رکھنے والوں کو ’’عبدالشمسی‘‘ کی بجائے ٗ اختصارکی غرض سے ’’عبشمی‘‘کہاجاتاتھا۔ اُن دنوں مکہ میں ابولعاص بن الربیع نامی ایک ’’عبشمی‘‘نوجوان تھا،جسے اس کے حسن وجمال اورظاہری شان وشوکت کی وجہ سے مثالی شخصیت تصورکیاجاتاتھا،اپنے دلکش حلئے اورپُرکشش ناک نقشے کے علاوہ مزیدیہ کہ وہ انتہائی سلیقہ مند ٗ باادب ٗاورخوش اخلاق بھی تھا،اس کے علاوہ یہ کہ مالی طورپربھی کافی خوشحال تھا…الغرض اُس دورمیں اوراُس معاشرے میں حسن وجمال ٗ شان وشوکت ٗ بہادری وشجاعت ٗ خوش اخلاقی ٗ سخاوت وفیاضی ٗ یہی وہ صفات تھیں جن کی بناء پرکسی کو’’مثالی شخصیت‘‘قراردیاجاتھا،اوریہی تمامترصفات اس نوجوان ’’ابوالعاص بن الربیع العبشمی‘‘میں بڑی حدتک موجودتھیں ۔ ابوالعاص بن الربیع نے بھی اپنے بزرگوں سے یہی پیشہ(تجارت)سیکھا،اسی کواپنایا،اس میں خوب مہارت حاصل کی،اورپھرخوب ترقی کی منزلیں بھی طے کرتاچلاگیا۔ چنانچہ جب بھی مکہ سے ملکِ شام یاملکِ یمن کی جانب کوئی تجارتی قافلہ روانہ ہوتا، او ر پھر وہاں سے واپسی میں یہ قافلہ بڑی مقدارمیں تجارتی سامان لئے ہوئے واپس مکہ پہنچتا… تو ایسے ہرقافلے میں ہمیشہ ابوالعاص بن الربیع کے سواونٹ ٗ نیزان اونٹوں کی دیکھ بھال اور سامان کی نقل وحمل کی غرض سے ہراونٹ کے ساتھ دوملازم ٗیعنی ہرقافلے میں ابوالعاص کے سواونٹ اوردوسوملازم شامل ہواکرتے تھے۔ خاص بات یہ کہ صداقت اورامانت ودیانت کے حوالے سے بھی اس نوجوان ابوالعاص کی بڑی شہرت تھی ،لہٰذااس کی تجارت کی کامیابی اوراس قدرعروج کی یہ بھی ایک بڑی وجہ تھی۔ ٭…مکہ میں اُس دورمیں ایک بہت ہی شریف النفس اورمعززخاتون ہواکرتی تھیں ٗ جو کہ انتہائی شرافت ونجابت اوراعلیٰ اخلاق وکردارکے ساتھ ساتھ مالداراورخوشحال بھی بہت زیادہ تھیں ،اوران کاذریعۂ معاش بھی’’ تجارت‘‘ہی تھا،اِن خاتون کانام ’’خدیجہ بنت خویلد‘‘ تھا،جوکہ مکہ کے ایک انتہائی شریف النفس اورمعززترین انسان’’محمدبن عبداللہ‘‘کی زوجہ محترمہ تھیں (یہ تمامترگفتگورسول اللہ ﷺ کی بعثت سے قبل کے زمانے کی ہے)۔ خدیجہ بنت خویلدکی ایک چھوٹی بہن تھی جس کانام ’’ہالہ‘‘تھا(۱)اوریہ نوجوان تاجر ابوالعاص بن الربیع اسی ’’ہالہ ‘‘کابیٹاتھا،اوریوں خدیجہ اس کی خالہ تھیں ۔ خدیجہ بنت خویلداپنی چھوٹی بہن ہالہ بنت خویلدسے بہت پیارکیاکرتی تھیں ،اورپھراسی رشتے کی وجہ سے وہ نوجوان ابوالعاص کے ساتھ بھی ہمیشہ بڑی محبت وشفقت سے پیش آیاکرتی تھیں ،انہوں نے کبھی اس نوجوان کواپنابھانجانہیں سمجھا،بلکہ وہ اسے اپنابیٹاہی تصورکیاکرتی تھیں …یہی کیفیت اس خاتون کے شوہرِنامدارمحمدبن عبداللہ(یعنی رسول اللہ ﷺ )کی بھی تھی۔ ٭…صبح وشام کایہ سفرجاری رہا…اس دوران ان دونوں میاں بیوی (محمدبن عبداللہ اورخدیجہ بنت خویلد)کی بڑی بیٹی ’’زینب‘‘کھیلتے کودتے بڑی ہوگئی… ’’زینب‘‘تمام مکہ شہرمیں اعلیٰ ترین خاندان کی چشم وچراغ تھی،مزیدیہ کہ شرافت ونجابت ٗ ادب وسلیقہ ٗ اخلاق وحیاء ٗ عفت وعصمت ٗ یہ وہ تمام خوبیاں تھیں جن کی وجہ سے ’’زینب‘‘اپنی مثال آپ تھی،یہی وجہ تھی کہ اُن دنوں مکہ کے بڑے نامی گرامی شرفاء اورانتہائی معززاوراعلیٰ حسب نسب رکھنے والے بہت سے نوجوان اس بات کی تمناکرنے لگے تھے کہ کاش ’’زینب‘‘ ان کے گھرکی زینت بن سکے… لیکن ان سبھی کواس بات کابخوبی اندازہ تھاکہ ان کی یہ حسرت توبس ’’حسرتِ ناتمام ‘‘ہی رہ جائیگی…کیونکہ زینب کی والدہ خدیجہ کاوہ جولاڈلااورنورِنظربھانجاہے …یعنی وہ نوجوان ’’ابوالعاص بن الربیع‘‘اس کے ہوتے ہوئے یہ خوش نصیبی کسی اورکے حصے میں آنے والی نہیں … اورپھرایساہی ہوا…خدیجہ نے اپنے شوہرنامدارمحمدبن عبداللہ(رسول اللہ ﷺ ) کے مشورے اوراجازت سے اپنی پیاری بیٹی کانکاح اپنے بھانجے کے ساتھ کردیا،اپنی لختِ جگر ’’زینب‘‘کاہاتھ اپنے لاڈلے بھانجے’’ابوالعاص بن الربیع‘‘کے ہاتھ میں تھمادیا… اور یوں یہ دونوں ہمیشہ کیلئے شریکِ حیات اوردکھ سکھ کے ساتھی بن گئے۔ ٭…ابھی ان دونوں (زینب اورابوالعاص بن الربیع)کی شادی کوکچھ وقت ہی گذراتھا کہ مکہ کی وادی ’’نورِنبوت‘‘سے جگمگانے لگی،خالقِ ارض وسماء کی جانب سے محمدبن عبداللہ (رسول اللہ ﷺ )کوتمام دنیائے انسانیت کیلئے رہبرورہنمابناکرمبعوث فرمایاگیا۔ رسول اللہ ﷺ کی اس بعثتِ مبارکہ کے فوری بعدآپؐ کی دعوتِ حق پرلبیک کہتے ہوئے سب سے پہلے آپؐ کے افرادِخانہ نے دینِ برحق قبول کیا،یعنی آپؐ کی زوجۂ مطہرہ اُم المؤمنین حضرت خدیجہ بنت خویلدرضی اللہ عنہا ٗنیزآپؐ کی صاحبزادیاں ،زینب ٗ رُقیہ ٗاُمِ کلثوم ٗاورفاطمہ رضوان اللہ علیہن(حضرت فاطمہؓ اس وقت کافی کمسن تھیں )۔ رسول اللہ ﷺ کی حقانیت وصداقت ٗنیزآپؐ کے پاکیزہ وبے داغ اخلاق وکردارکایہ بہت بڑاثبوت تھاکہ سب سے پہلے انہی لوگوں نے آپؐ کی تصدیق کی جوآپؐ کے نہایت قریبی تھے،جن سے آپؐ کی زندگی کاکوئی گوشہ مخفی نہیں تھا۔ ٭…رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہاتودینِ اسلام قبول کرچکیں ،لیکن ان کاشوہرابوالعاص بن الربیع اپنی شریکۂ حیات سے تمامترمحبت ومودت کے باوجوداپنے آباؤاجدادکے دین سے جدائی پرآمادہ نہوسکا۔ مُرورِزمانہ کے ساتھ جب رسول اللہ ﷺ اورمشرکینِ مکہ کے مابین تلخیاں بڑھتی گئیں اورحق وباطل کے درمیان یہ تنازعہ شدت اختیارکرگیاتب سردارانِ قریش آپس میں یوں کہنے لگے ’’محمد ہمیں اورہمارے آباؤاجدادکوگمراہ قراردیتے ہیں ،ہمارے بتوں کوباطل اورغلط سمجھتے ہیں ،اورہم ہیں کہ ان کی بیٹیوں کوبہوبناکرہم نے اپنے گھروں میں آبادکررکھاہے، اور محمدبے غم ہیں کہ ان کی بیٹیاں تواپنے گھروں میں آبادہیں …اوریوں بے غم اوربے فکرہوکرہماری مخالفت پرخوب کمربستہ ہیں …لہٰذاہمیں چاہئے کہ ان کی بیٹیوں کوطلاق دلواکران کے گھربھجوادیں ،تاکہ محمدبس اسی غم میں مبتلارہیں اوریوں ہمارے خلاف بولنا چھوڑدیں ‘‘۔ چنانچہ سردارانِ قریش کی طرف سے اس فیصلے پرعملدرآمدکے طورپرابولہب کے بیٹوں عتبہ اورعتیبہ نے اپنی اپنی بیویوں یعنی رقیہ اورام کلثوم کوطلاق دے کران کے والد(یعنی رسول اللہ ﷺ )کے گھربھیج دیا(۱) اورپھریہ سردارانِ قریش ابوالعاص بن الربیع کے پاس پہنچے ،اوراس سے شدیدمطالبہ کیاکہ وہ بھی اس فیصلے کی پابندی کرتے ہوئے اپنی بیوی زینب کواولین فرصت میں طلاق دے کراس کے والدکے گھرچلتاکرے…تب ابوالعاص نے ان کایہ مطالبہ تسلیم کرنے سے صاف انکارکردیا،جس پرسردارانِ قریش نے اسے یہ پیشکش کی کہ اگروہ زینب کوطلاق دیدے تووہ اس کے بدلے تمام ملکِ عرب میں سب سے زیادہ حسین وجمیل لڑکی سے اس کی شادی کرادیں گے…اس پرابوالعاص نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا’’تمام ملکِ عرب توکیا…تم اگرتمام دنیاکی سب سے زیادہ حسین وجمیل لڑکی کے ساتھ شادی کی مجھے پیشکش کرو … تب بھی میں اپنی بیوی زینب کوطلاق نہیں دوں گا‘‘۔ رسول اللہ ﷺ کوایک باپ کی حیثیت سے اپنی دونوں بیٹیوں رقیہؓ وام کلثومؓ کی طلاق کاغم توضرورتھا،البتہ ساتھ ہی یہ اطمینان بھی تھاکہ چلویہ نامناسب اوربے جوڑرشتہ خودہی ختم ہوگیا،اوریوں نجات نصیب ہوگئی… البتہ بڑی بیٹی زینب ؓکامعاملہ آپؐ کیلئے پریشان کن تھا…کہ ابوالعاص اس سے بہت زیادہ محبت کرتاتھا،اس کی انتہائی عزت بھی کرتاتھا،کسی صورت اسے طلاق دینے پرآمادہ نہیں تھا، لیکن دینِ اسلام قبول کرنے کیلئے بھی تیارنہیں تھا… ایسے میں آپؐ نہ تواسے دینِ اسلام قبول کرنے پرمجبورکرسکتے تھے …کیونکہ عقیدہ وایمان کاتعلق توانسان کی سوچ اوردل ودماغ سے ہواکرتاہے…لہٰذازوراورزبردستی سے تویہ کام ممکن ہی نہیں … نہ ہی آپؐ کے پاس اتنی طاقت یااورکوئی ایساذریعہ تھاکہ جسے بروئے کارلاتے ہوئے آپؐ ابوالعاص کومجبورکرتے کہ وہ زینب کوطلاق دیدے۔ اورپھریہ کہ اُس وقت تک مشرک کے ساتھ نکاح کی حرمت کاشرعی حکم بھی نازل نہیں ہواتھا،لہٰذاآپؐ نے اس معاملے کوبس اللہ کے حوالے کردیا۔ اس دوران حضرت زینب رضی اللہ عنہامسلسل ابوالعاص بن الربیع کودینِ اسلام قبول کرلینے کامشورہ دیتی رہیں اورخوب اصراربھی کرتی رہیں ،لیکن ابوالعاص کی طرف سے ہمیشہ یہی جواب ملتاکہ’’میں دل کی گہرائیوں سے اس حقیقت کوجانتاہوں کہ رسول اللہ ﷺ سچے نبی اوررسول ہیں ،جس دین کی طرف وہ دعوت دیتے ہیں وہی دینِ برحق ہے،ان کی ہربات حق اورسچ ہے…لیکن میرے لئے بڑی مشکل یہ ہے کہ اتفاقاًمیں ان کادامادہوں ، اگرہمارے درمیان یہ رشتہ نہوتاتومیں ضروردینِ اسلام قبول کرلیتا،جبکہ موجودہ صورتِ حال میں اگرمیں مسلمان ہوجاؤں تویہ تمام بڑے بڑے سردارانِ قریش یہ طعنہ دینگے کہ ’’ابوالعاص کودیکھو،محض اپنی ’’بیوی‘‘کی خاطراس نے آباؤاجدادکے دین کوچھوڑدیا،اپنے باپ داداکے دین سے غداری کرڈالی محض بیوی کی خاطر…یعنی بیوی کے سامنے جھک گیا… ہتھیارڈال دئیے‘‘۔ ظاہرہے کہ اُس معاشرے میں یہ بہت بڑاطعنہ تھا… انہی حالات میں وہاں مکہ میں وقت گذرتارہا…حتیٰ کہ نبوت کے تیرہویں سال کے آخری دنوں میں جب ہجرت کاحکم نازل ہواتورسول اللہ ﷺ ودیگرتمام مسلمان رفتہ رفتہ مکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت کرگئے،البتہ حضرت زینب رضی اللہ عنہااپنے شوہرابوالعاص کے مجبورکرنے پرمکہ میں ہی رہ گئیں ۔ ٭…ہجرتِ مدینہ کے بعدمحض اگلے ہی سال یعنی ۲ھ؁میں مسلمانوں کونیست ونابود کردینے کی غرض سے مشرکینِ مکہ اپنے لشکرِجرار کے ہمراہ اپنے مذموم عزائم لئے ہوئے مدینہ جاپہنچے،جہاں مدینہ شہرسے باہرکچھ فاصلے پر’’بدر‘‘کے مقام پرحق وباطل کے درمیان یہ اولین اورانتہائی تاریخی اوریادگارمعرکہ پیش آیا۔ جن دنوں مشرکینِ مکہ مسلمانوں کے خلاف اس لشکرکشی کی غرض سے مدینہ کی جانب سفرکی تیاریوں میں مشغول تھے …اُس موقع پرابوالعاص بن الربیع رسول اللہ ﷺ کے خلاف یاکسی بھی مسلمان کے خلاف کسی قسم کی جارحیت میں شرکت پرکسی طورآمادہ نہیں تھا…اسے کوئی ایساشوق نہیں تھا،نہ ہی اس کے ایسے رجحانات تھے،وہ کہاکرتاتھاکہ’’ میری توکوئی دشمنی ہی نہیں ہے …نہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ …اورنہ ہی مسلمانوں میں سے کسی ایک بھی فردکے ساتھ…لہٰذامیں اس جنگ میں کیوں شرکت کروں ؟‘‘ لہٰذاابوالعاص بن الربیع اُن دنوں بس اسی فکرمیں مگن رہاکرتاتھاکہ’’ کوئی ایسی ترکیب کی جائے …یاکوئی ایسامعقول بہانہ بنایاجائے…جس کی بدولت میں اس جنگ سے دوررہوں ‘‘ لیکن یہ اس کی خام خیالی تھی،کیونکہ ایک تویہ مشرکینِ مکہ اورمسلمانوں کے مابین اولین معرکہ تھا…دوم یہ کہ اُس معاشرے میں چونکہ اس کی بڑی حیثیت اورخوب شہرت تھی ٗلہٰذااس قدراہم معاملے سے الگ تھلگ رہناٗیاروپوش ہوجانااس کیلئے کسی صورت ممکن نہیں تھا، لہٰذابادلِ ناخواستہ اسے بھی مشرکینِ مکہ کے اس لشکرکے ہمراہ نکلناہی پڑا۔ ٭…ہجرت کے دوسرے سال مسلمانوں اورمشرکینِ مکہ کے مابین ’’بدر‘‘کے مقام پریہ پہلامعرکہ جب پیش آیاتواس کے نتائج کچھ یوں ظاہرہوئے کہ مسلمانوں کوتواللہ کی طرف سے غلبہ اورفتح ونصرت سے نوازاگیا،جبکہ مشرکینِ مکہ کوشکست ورسوائی کاسامناکرناپڑا،ان کے بڑے بڑے نامی گرامی سرداروں سمیت سترافرادمارے گئے،سترہی قیدی بنائے گئے،جبکہ باقی جان بچاکربھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگئے…ابوالعاص بن الربیع کے نصیب نے اسے ان لوگوں میں لاکھڑاکیاجنہیں قیدی بنایاگیاتھا… رسول اللہ ﷺ نے ان قیدیوں کے انجام کے بارے میں غوروفکراورمشاورت کے بعد ’’فدیہ‘‘ کافیصلہ فرمایا،یعنی ہرقیدی فدیہ اداکرے اوراس کے عوض اس قیدسے رہائی حاصل کرکے چلتابنے۔ تب مکہ اورمدینہ کے درمیان بڑے پیمانے پرقاصدوں اورکارندوں کی بھاگ دوڑ اور آمدورفت شروع ہوگئی،ہرقیدی کاکوئی نہ کوئی رشتے دارمکہ سے کچھ مال لے کرآتا،تاکہ بطورِ فدیہ یہ مال اداکرکے اپنے رشتے دارقیدی کوچھڑالے جائے۔ تب حضرت زینب رضی اللہ عنہانے اپنے شوہرابوالعاص بن الربیع کی رہائی کیلئے بطورِفدیہ ایک ہاربھجوایا،جوکہ ان کی والدہ ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہانے ابوالعاص کے ساتھ ان کی شادی کے موقع پرانہیں پہنایاتھا،ابوالعاص بن الربیع کابھائی عمرو بن الربیع یہ ہارلئے ہوئے مکہ سے مدینہ پہنچا۔ رسول اللہ ﷺ کی نظرجب اس ہارپرپڑی توآپؐ نے اسے پہچان لیا…پرانی یادیں تازہ ہوگئیں …وفاء شعارشریکۂ حیات خدیجہ بنت خویلدکی یاد…نیزاپنی پیاری بیٹی لختِ جگراورنورِنظرزینب کی یاد…تب آپؐ بہت زیادہ افسردہ ورنجیدہ ہوگئے…آپؐ کی آنکھیں آنسؤوں سے لبریزہوگئیں …تب آپؐ نے بہت ہی جذباتی اندازمیں اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے فرمایا’’زینب نے اپنے قیدی کی رہائی کی غرض سے یہ ہاربھجوایاہے…اگرآپ لوگ مناسب سمجھیں تواس کے قیدی کویہ ’’فدیہ‘‘لئے بغیرہی رہاکردیاجائے ،اورزینب کایہ ہاربھی اسے لوٹادیاجائے…‘‘اس پرسبھی نے بیک زبان عرض کیا’’اے اللہ کے رسول!آپ کی بات ہمارے لئے سرآنکھوں پر‘‘۔ یوں ابوالعاص بن الربیع کی رہائی بغیرفدیہ لئے طے پاگئی…البتہ اس کی رہائی سے قبل رسول اللہ ﷺ نے یہ شرط رکھی کہ وہ رہائی کے بعدواپس مکہ پہنچتے ہی زینب ؓکوبچوں سمیت بحفاظت مکہ سے مدینہ کی جانب روانہ کردے گا۔ چنانچہ رہائی کے بعدمکہ پہنچتے ہی ابوالعاص بن الربیع نے زینب کوسفرکی تیاری کی تاکیدکی، اس دوران رسول اللہ ﷺ نے حضرت زیدبن حارثہ رضی اللہ عنہ(۱)نیزانصارِمدینہ میں سے ایک شخص کومدینہ سے مکہ کی جانب روانہ فرمایا،تاکہ وہ مکہ شہرسے باہرکسی مناسب مقام پررک کرزینب کاانتظارکرسکیں ،اورپھرانہیں اپنی تحویل میں لئے ہوئے بحفاظت مدینہ تک لاسکیں ،ابوالعاص کوبھی کسی مناسب ذریعے سے اس چیزکی اطلاع دے دی گئی تھی۔ ان تمامترانتظامات نیزاپنی طرف سے مکمل تسلی واطمینان کرلینے کے بعدابوالعاص بن الربیع نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کیاہوااپناوہ وعدہ وفاء کرتے ہوئے ایک روز اپنے چھوٹے بھائی کِنانہ بن الربیع کی معیت میں اپنی بیوی زینب(رضی اللہ عنہا)کومکہ سے روانہ کیا۔ کِنانہ بن الربیع بہت ہی نڈراوربہادرقسم کانوجوان تھا،اس نے زینبؓ کوبچوں سمیت ’’ہودج‘‘میں بٹھایا(۱)اپنی تلوارسنبھالی،مزیدیہ کہ تیرکمان سے مسلح ہوکردن کی روشنی میں سردارانِ قریش اورتمام مشرکینِ مکہ کی نگاہوں کے سامنے مکہ شہرسے روانہ ہوگیا۔ مشرکینِ مکہ نے جب یہ منظردیکھاتوخوب بڑبڑانے لگے،اورباہم یوں کہنے لگے کہ ’’ہمارے اتنے بڑے دشمن(یعنی رسول اللہ ﷺ )کی بیٹی کویہ شخص یوں آرام سے اوراس قدر بے خوف وخطرہماری نگاہوں کے سامنے اس کے باپ کے حوالے کرنے کی غرض سے لئے جارہاہے …؟‘‘اورتب وہ اس سواری کاتعاقب کرنے لگے،مسلسل بڑبڑاتے ہوئے اس اونٹ کے پیچھے پیچھے چلتے رہے…یوں رفتہ رفتہ مجمع بڑھتاگیا،اوران کے لب ولہجے میں شدت وتلخی آتی گئی،اس دوران کچھ لوگوں نے اس قدرزورسے اس ’’ہودج‘‘ کو دھکا دیا کہ حضرت زینب رضی اللہ عنہاتوازن برقرارنہ رکھ سکیں اوراونٹ سے نیچے آگریں ،سخت پتھریلی زمین پرگرنے کی وجہ سے انہیں کافی چوٹیں آئیں ،نیزچونکہ ان دنوں وہ امیدسے تھیں ٗ لہٰذاان چوٹوں کی وجہ سے موقع پرہی وہ حمل بھی ضائع ہوگیا،یہ چیزان کیلئے جسمانی چوٹوں کے علاوہ بڑے ذہنی ونفسیاتی صدمے کاسبب بھی بنی،اوریوں ان کی طبیعت کافی ناساز ہوگئی۔ نوجوان اورجوشیلاکنانہ بن الربیع جوکہ ابتک ڈٹاہواتھا،اوراکیلاہی اس اتنے بڑے ہجوم کا سامناکرنے پرمُصرتھا…لیکن اب اس نے جب حضرت زینب ؓ کی یہ نازک صورتِ حال دیکھی تووہ سوچ میں پڑگیا۔ اُدھرسردارانِ قریش میں سے ابوسفیان(جواس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے)نے جب اس تازہ صورتِ حال کی وجہ سے کنانہ بن الربیع کوقدرے متردداورگومگوکی کیفیت میں دیکھاتوانہوں نے موقع غنیمت جانتے ہوئے اس کے قریب جاکرمحبت بھرے انداز میں سرگوشی کرتے ہوئے یوں کہا’’بھتیجے!یہ اپناتیرکمان ذرہ نیچے کرو،اورٹھنڈے دل کے ساتھ میری بات غورسے سنو‘‘ کِنانہ نے کہا’’بولئے‘‘اس پرابوسفیان نے کہا’’ابھی چندروزہی قبل ہی محمد( ﷺ )اوران کے ساتھیوں کے ہاتھوں بدرکے میدان میں ہمیں کس قدر ذلت آمیزشکست وہزیمت کاسامناکرناپڑاہے،تمام عرب قبائل میں ہم بے عزت ہوکررہ گئے ہیں ،اورتم ہوکہ ہمارے اتنے بڑے دشمن کی اس بیٹی کویوں دن دہاڑے ہم سب کی نگاہوں کے سامنے لئے جارہے ہو،تاکہ اسے بحفاظت اس کے باپ تک پہنچادو،اورہم بے بس ولاچارکھڑے ہوئے بس منہ تکتے رہیں ؟‘‘ پھرقدرے توقف کے بعدمزیدکہا’’اگرتم اس طرح زینب کوہماری نگاہوں کے سامنے مکہ سے نکال کرلے گئے توتمام عرب قبائل ہمیں مزیدبزدلی کاطعنہ دیں گے،اورہم کسی کومنہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے،لہٰذابھتیجے میری نصیحت قبول کرلو،اسے فی الحال واپس گھرلے جاؤ…تاکہ ہم بے عزتی سے بچ جائیں …اورپھرچندروزبعدمناسب موقع دیکھ کرکبھی رات کے اندھیرے میں اسے لئے ہوئے مکہ سے نکل جانا‘‘۔ تب حضرت زینب رضی اللہ عنہاکی نازک صورتِ حال کے پیشِ نظرکِنانہ بن الربیع ابوسفیان کی اس نصیحت کوقبول کرتے ہوئے حضرت زینبؓ کوہمراہ لئے ہوئے واپس گھرلوٹ آیا،اورپھرچندروزگذرجانے کے بعدجب معاملہ کچھ ٹھنڈاہوگیا،تب ابوسفیان کے مشورے پرعمل کرتے ہوئے ایک رات جب ہرطرف اندھیراچھایاہواتھا،تب وہ حضرت زینبؓ اوران کے بچوں کوہمراہ لئے ہوئے خاموشی کے ساتھ مکہ سے روانہ ہوگیا،اورمکہ شہرسے باہرپیشگی منصوبے کے مطابق طے شدہ مقام پرجہاں حضرت زیدبن حارثہ رضی اللہ عنہ اپنے انصاری ساتھی سمیت ان کے منتظرتھے…وہاں پہنچ کرکِنانہ بن الربیع نے یہ امانت ان کے حوالے کردی،اوریوں رسول اللہ ﷺ کی یہ صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہااپنے دونوں کمسن بچوں (بیٹی اُمامہ ،اوربیٹاعلی)سمیت بخیروعافیت مدینہ آ پہنچیں اوراپنے عظیم والدیعنی رسول اللہ ﷺ سے آملیں ، تب رسول اللہ ﷺ انتہائی مسروروشاداں ہوگئے،نیزاس موقع پرآپؐ ابوالعاص بن الربیع کی بھی تعریف کرتے رہے کہ ’’واقعی اس نے وعدہ وفاء کردکھایا‘‘۔ ٭…حضرت زینب رضی اللہ عنہاکی مدینہ آمدغزوۂ بدرکے فوری بعدیعنی ۲ھ؁میں ہوئی تھی، اس کے بعدوقت کاسفرجاری رہا،تقریباًپانچ سال کاطویل عرصہ بیت گیا،اس دوران حضرت زینبؓ کیلئے کتنے ہی رشتے آئے،بہت ہی اچھے ٗاعلیٰ خاندانی ٗاور انتہائی شریف النفس قسم کے لوگ مسلسل رشتے بھیجتے رہے…مگرحضرت زینب رضی اللہ عنہامسلسل معذرت ہی کرتی رہیں …محض اس امیدپرکہ کاش…شایدکبھی ابوالعاص بن الربیع مسلمان ہوجائے اورمکہ سے مدینہ چلاآئے…اوریوں ماہ وسال گذرتے چلے گئے۔ ٭…اورپھر ۷ھ؁میں یہ واقعہ پیش آیاکہ ایک بارابوالعاص بن الربیع ایک سواونٹوں ٗ نیز ایک سوسترملازمین پرمشتمل اپنے تجارتی قافلے سمیت ملکِ شام سے واپس مکہ کی طرف محوِسفرتھا،راستے میں یہ قافلہ جب مدینہ کے قریب سے گذررہاتھاتب مسلمانوں کے ایک دستے نے اس قافلے کوروکا،مال اپنے قبضے میں لے لیا،اورتمام افرادکوقیدی بنالیا…البتہ ابوالعاص بن الربیع بچ نکلنے میں کامیاب ہوگیا(۱) اس کے بعدابوالعاص بن الربیع کچھ عرصہ خفیہ طورپرمدینہ کے آس پاس اِدھراُدھر گھومتا رہا، آخرایک رات تاریکی کافائدہ اٹھاتے ہوئے وہ خفیہ طورپرمدینہ شہرمیں داخل ہوا،اورکسی نہ کسی طرح…انجان بن کر…بھیس بدل کر…لوگوں سے پوچھتاہوا…حضرت زینب رضی اللہ عنہاکے گھرتک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا،اس کی یوں بالکل اچانک آمدپرحضرت زینبؓ انتہائی حیرت زدہ رہ گئیں …تب اس موقع پراس نے حضرت زینبؓ سے اپنے لئے پناہ طلب کی ، جس پرانہوں نے اسے پناہ دے دی۔ اورپھرجب صبح کی روشنی پھیلنے لگی ،مدینہ شہرمیں مسجدِنبوی کے مینارسے بلندہونے والی اذان کی صداگونجنے لگی…رسول اللہ ﷺ ودیگرمسلمان نمازِفجرکی ادائیگی کیلئے مسجدپہنچے، نمازسے فراغت کے فوری بعداچانک وہاں عورتوں کیلئے مخصوص حصے میں سے حضرت زینبؓ کی آوازبلندہوئی جویوں کہہ رہی تھیں ’’لوگو!میں زینب بنت محمدہوں ،میں آج ابوالعاص کواپنے گھرمیں پناہ دے چکی ہوں ،لہٰذاتم سب بھی اسے پناہ دے دو‘‘(یعنی میں نے اسے جوپناہ دی ہے سب لوگ اس چیزکالحاظ کریں اورکوئی شخص ابوالعاص کو پریشان نہ کرے)۔ حضرت زینبؓ کی یہ آوازاوران کی طرف سے یہ بالکل ہی غیرمتوقع اورعجیب وغریب اعلان سننے کے بعدلوگ حیرت کی وجہ سے اِدھراُدھردیکھنے لگے،خودرسول اللہ ﷺ کوبھی انتہائی تعجب ہوا،اورآپؐ نے نمازیوں کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے دریافت فرمایا’’جوکچھ میں سن رہاہوں کیاتم نے بھی یہی کچھ سناہے؟‘‘ سب نے عرض کیا’’جی!اے اللہ کے رسول…ہم بھی یہی سن رہے ہیں ‘‘ اس پرآپؐ نے فرمایا’’اللہ کی قسم !مجھے تواس بارے میں کچھ علم ہی نہیں ہے،بس جس طرح تم لوگ ابھی پہلی باریہ سب کچھ سن رہے ہو…بعینہٖ اسی طرح میں بھی پہلی بارہی سن رہاہوں ‘‘۔ اورپھرآپؐ اپنی بیٹی زینبؓ کے گھرتشریف لے گئے،اورانہیں ابوالعاص بن الربیع کے ساتھ حسنِ سلوک کی تاکیدفرمائی،البتہ اس موقع پرآپؐ نے انہیں یہ تنبیہ بھی فرمادی کہ اب تم دونوں کے درمیان رشتۂ زوجیت برقرارنہیں ہے …تاوقتیکہ وہ دینِ اسلام قبول کرلے۔ اس کے بعدرسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کے اس دستے سے تعلق رکھنے والے افرادکوبلوایا جنہوں نے ابوالعاص کے اس قافلے کوروکاتھا،اورمال واسباب قبضے میں لے لیاتھا، آپؐ نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا’’ابوالعاص کاہم سے جوتعلق ہے وہ تم سبھی کے علم میں ہے، تم لوگوں نے اس کے مال پریہ جوقبضہ کرلیاہے…تم لوگ اگراحسان اوربھلائی کے طورپراس کامال اسے لوٹادوتویہ اچھی بات ہوگی…اوراگرتم ایسانہ کرو…تب بھی کوئی حرج نہیں ،کیونکہ یہ اللہ کی طرف سے تمہارے لئے مالِ غنیمت ہے اورتم ہی اس کے زیادہ حقدارہو‘‘۔ غورطلب بات ہے کہ یہ وہ دورچل رہاتھاجب مسلمان تنگدستی ومفلسی کاشکارتھے،فتوحات کا اورپھربڑے پیمانے پرمالِ غنیمت کی آمدکاکوئی سلسلہ اُس وقت تک شروع نہیں ہوا تھا…لیکن اس کے باوجودرسول اللہ ﷺ کی زبانِ مبارک سے یہ گفتگوسنتے ہی ان سب نے بلاتردداوربیک زبان فوری جواب دیا’’اے اللہ کے رسول!ابوالعاص کامال ہم اسے واپس لوٹادیتے ہیں ‘‘۔ اس کے بعدجب ابوالعاص بن الربیع اپنامال واسباب وصول کرنے کی غرض سے وہاں پہنچا اوران مسلمانوں کے ساتھ کچھ تعارف ہوااورگفتگووغیرہ ہوئی …تب ان مسلمانوں نے محسوس کیاکہ یہ توبہت ہی شریف النفس اورانتہائی بااخلاق قسم کاانسان ہے،اورتب وہ آپس میں سرگوشیاں کرتے ہوئے یوں کہنے لگے’’اس قدرشریف اوربااخلاق انسان… یہ ابوالعاص…کاش یہ مسلمان ہوجاتا‘‘۔ اورپھروہ سب اس کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے بولے: ’’اے ابوالعاص!آپ کس قدرشریف انسان ہیں ،مکہ میں بھی آپ کاتعلق توبہت ہی اعلیٰ اورشریف خاندان سے ہے،مزیدیہ کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آپ کاکس قدرقریبی رشتہ ہے…لہٰذاہمارامشورہ یہ ہے کہ آپ مسلمان ہوجائیے…اس سے آپ کو جودینی فائدہ ہوگاوہ یقینااپنی جگہ… لیکن مزیدیہ کہ اس طرح آپ آرام سے اپنی باقی زندگی یہاں مدینہ میں اپنے اہل وعیال کے ساتھ بسرکرسکیں گے…اس کے علاوہ مزیدیہ کہ آپ کے اس قافلے میں بڑی مقدارمیں دیگر مشرکینِ مکہ کاجوسامانِ تجارت ہے …وہ (مالِ غنیمت کے طورپر) آپ کی ملکیت میں آجائے گا‘‘۔ اس پرابوالعاص بن الربیع نے انہیں جواب دیتے ہوئے کہا’’یہ توبہت ہی بری بات ہوگی کہ میں اپنے نئے دین کی ابتداء ہی ’’خیانت‘‘سے کروں ‘‘(۱)(۲) اس کے بعدابوالعاص بن الربیع اپنے قافلے اورتمام اموال واسباب سمیت مدینہ سے مکہ کی جانب روانہ ہوگیا۔ مکہ پہنچتے ہی اس نے ہرحقدارکواس کاحق اداکیا،اورپھران سبھی کوبآوازِبلندمخاطب کرتے ہوئے ان سے دریافت کیا’’اے جماعتِ قریش!کیامیرے ذمے تم میں سے کسی کاکوئی مال باقی رہ گیاہے؟‘‘ اس پروہ سب بیک زبان بولے’’نہیں اے ابوالعاص!ہم سب اپناحق وصول کرچکے ہیں ، اورہم نے تمہیں ہمیشہ ہی وفاداراورسچاانسان پایاہے‘‘۔ تب ابوالعاص بولا’’تم سب اقرارکررہے ہوکہ میں تم سب کاحق مکمل طورپرادا کر چکا ہوں اوریہ کہ اب میرے ذمے تم میں سے کسی کاکوئی حق باقی نہیں بچاہے…تواب سن لو…میں تم سب کے سامنے یہ گواہی دیتاہوں کہ اللہ کے سواکوئی عبادت کے لائق نہیں ، اوریہ کہ محمد( ﷺ )اللہ کے بندے اوراس کے رسول ہیں ‘‘۔ اس کے بعدابوالعاص نے مزیدکہا’’میری تویہ دلی خواہش تھی کہ میں مدینہ میں ہی اپنے قبولِ اسلام کااعلان کردیتا…لیکن مجھے اندیشہ تھاکہ کہیں تم لوگ یہ گمان نہ کرنے لگوکہ میں محض تمہارامال ہتھیانے کیلئے مسلمان ہوگیاہوں …لہٰذااس بدگمانی سے بچنے کی خاطر میں نے اس معاملے کو مؤخرکیا،اوراب جبکہ میں تم سب کاحق مکمل اداکرچکاہوں تومیں مکمل بے فکری اوراطمینان کے ساتھ اپنے قبولِ اسلام کااعلان کررہاہوں ‘‘۔ ٭…یوں ابوالعاص اب رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدرصحابی حضرت ابوالعاص بن الربیع رضی اللہ عنہ بن گئے…اورپھروہ اولین فرصت میں مکہ سے دوبارہ مدینہ کی جانب محوِ سفر ہوگئے…وہاں پہنچتے ہی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضری دی اورعرض کیا’’گذشتہ بارمیں پناہ کی طلب میں یہاں آیاتھا…لیکن اس بارمیں مسلمان بن کریہاں آیاہوں … تاکہ آپ کے سامنے اللہ کی وحدانیت کا ٗاورآپ کی رسالت کااقرارکرسکوں ‘‘۔ اورپھررسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں انہوں نے بآوازِبلندکلمۂ حق پڑھا’’أشہدأن لاالٰہ الااللہ،وأشہدأن محمداًرسول اللہ‘‘۔ اس پررسول اللہ ﷺ نے بہت زیادہ مسرت واطمینان کااظہارفرمایا،اورپھراپنی بیٹی زینبؓ کی مرضی معلوم کرنے کے بعدان دونوں کودوبارہ (اکثراہلِ علم کے بقول پرانے نکاح پرہی) میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسرکرنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ اوریوں سالہاسال کی اس طویل جدائی کے بعداب یہ دونوں میاں بیوی اپنے دونوں بچوں اُمامہ اورعلی سمیت دوبار ہ ہنسی خوشی زندگی بسرکرنے لگے اورزندگی دوبارہ رواں دواں ہوگئی… یوں ان کی اس نئی زندگی پررسول اللہ ﷺ بھی بہت زیادہ مسرت کااظہارفرمایاکرتے ٗ نیزان کے ساتھ انتہائی شفقت ومحبت کامعاملہ فرمایاکرتے تھے،ان دنوں آپؐ اکثر ابوالعاص بن الربیع رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ تعریفی کلمات ارشادفرمایاکرتے تھے: حَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي ، وَوَعَدَنِي فَوَفَّیٰ لِي… یعنی’’ابوالعاص نے میرے ساتھ ایک بات طے کی تھی ،اورپھراپنی اس بات کوسچ کردکھایا،مجھ سے ایک وعدہ کیاتھا،اور پھراپناوہ وعدہ وفاء کردکھایا‘‘۔ یعنی غزوۂ بدرکے موقع پرجب ابوالعاص مسلمانوں کے ہاتھوں قیدی بن گئے تھے،تب آپؐ نے انہیں اس شرط پررہاکیاتھاکہ’’ مکہ واپس پہنچتے ہی زینبؓ کومکہ سے مدینہ روانہ کردینا‘‘تب ابوالعاصؓ نے وعدہ کیاتھاکہ وہ ضرورایساہی کریں گے…اورپھرواقعی انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اپنے اس قول وقرارکامکمل لحاظ رکھتے ہوئے اپنے اس وعدے کوپوراکیاتھا،اورزینبؓ کوباعزت اوربخیروعافیت مدینہ روانہ کردیاتھا(جیساکہ گذشتہ صفحات میں اس چیزکامفصل تذکرہ ہوچکاہے)۔ اورپھرمدینہ میں یوں ہنسی خوشی وقت گذرتارہا… ٭…لیکن وقت ہمیشہ ایک جیسانہیں رہتا…انسان کی زندگی نشیب وفرازکانام ہے، کبھی خوشی اورکبھی غم،کبھی دھوپ اورکبھی چھاؤں ،کبھی مسکراہٹیں اورکبھی آنسو،یہی قانونِ قدرت ہے،اوریہ قانون سبھی کیلئے ہے…خواہ کوئی امیرہویافقیر،خوشحال ہویاتنگدست، چھوٹا ہویابڑا…کسی کیلئے اس قانونِ قدرت سے فرارممکن نہیں ہے… چنانچہ حضرت ابوالعاص بن الربیع رضی اللہ عنہ اوران کی زوجہ محترمہ حضرت زینب بنت الرسول ﷺ کے ساتھ بھی کچھ ایساہی معاملہ پیش آیا… ہوایہ کہ ۲ھ؁میں غزوۂ بدرکے فوری بعدمکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت کے موقع پر حضرت زینب رضی اللہ عنہاکومشرکینِ مکہ کی طرف سے جن اذیتوں کاسامناکرناپڑاتھا،جس کے نتیجے میں یہ کافی زخمی بھی ہوگئی تھیں ،سالہاسال گذرجانے کے باوجودانہی زخموں کی تکلیف مسلسل چلی آرہی تھی،اس دوران ہرقسم کاعلاج کروایاتھا،لیکن کوئی افاقہ نہیں ہوسکاتھا، آخروہ خودکواللہ کے حوالے کرتے ہوئے مستقل صاحبِ فراش ہوگئی تھیں …بس بسترسے ہی لگ کررہ گئی تھیں ،اوراب مرورِزمانہ کے ساتھ طبیعت مزیدبگڑنے لگی تھی۔ ۲ھ؁میں ان دونوں میاں بیوی میں دوری ہوئی تھی…سالہاسال کی طویل جدائی اور انتظار کے بعدآخر ۷ھ؁ میں دوبارہ یہ دونوں یکجاہوئے تھے…لیکن اس کے بعدابھی محض چندمہینے ہی گذرے تھے کہ ۸ھ؁کے بالکل ابتدائی دنوں میں زینبؓ اس جہانِ فانی سے منہ موڑگئیں …جب ان کی عمرمحض تیس سال تھی…یوں عین جوانی کی عمرمیں سب کوافسردہ ورنجیدہ چھوڑکرچلتی بنیں … زینبؓ کی وفات ظاہرہے کہ ابوالعاصؓ کیلئے …بلکہ خودرسول اللہ ﷺ کیلئے بہت ہی بڑا صدمہ تھا(۱) اسی افسردگی کے ماحول میں اورانتہائی سوگوارفضاء میں حضرت زینب رضی اللہ عنہاکی تجہیز وتکفین کے مراحل سے گذرنے کے بعدجب تدفین کامرحلہ آیا…تواس موقع پرآپ ؐ خود قبرمیں اترے،تدفین کے اس عمل کے دوران آپؐ پررقت طاری ہوگئی،تب آپؐ انتہائی خشوع وخضوع کے ساتھ اپنے رب سے دعاء ومناجات میں مشغول ہوگئے،اس موقع پرآپؐ کی زبان پربارباریہ الفاظ آتے:’’اے اللہ!توجانتاہے کہ میری بیٹی زینب بہت ہی کمزوروناتواں ہے…اس لئے اے اللہ تواس کے ساتھ رحمت ومہربانی کامعاملہ فرمانا‘‘۔ اپنی پیاری بیٹی زینبؓکی وفات پرجس طرح رسول اللہ ﷺ بہت زیادہ افسردہ تھے …اسی طرح یہ صدمہ ابوالعاص بن الربیع رضی اللہ عنہ کیلئے بھی ناقابلِ برداشت تھا…چنانچہ ان دنوں وہ اکثردنیاومافیہاسے بے خبر…اداس اورپریشان نظرآیاکرتے تھے،حتیٰ کہ اٹھتے بیٹھتے ٗگھومتے پھرتے ٗ ہروقت آنکھوں سے بے اختیارآنسوبہتے رہتے تھے…ان دنوں بعض اوقات لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کوانتہائی شفقت ومحبت کے ساتھ خو د اپنے دستِ مبارک سے ابوالعاصؓکی آنکھوں سے آنسوصاف کرتے ہوئے بھی دیکھا… رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ان سبھی کے ساتھ بہت زیادہ محبت وشفقت کامعاملہ توپہلے سے ہی چلاآرہاتھا،حتیٰ کہ آپؐ اکثراُمامہ کوگودمیں اٹھائے ہوئے ہی نمازبھی پڑھ لیاکرتے تھے… البتہ اب ان بچوں کی ماں یعنی حضرت زینب ؓ کی وفات کے بعداس محبت وشفقت اور خبرگیری کے جذبے میں مزیداضافہ ہوگیاتھا،حتیٰ کہ ۸ھ؁میں فتحِ مکہ کے انتہائی یادگار اور تاریخی موقع پرجب کسی جشن یاشان وشوکت کے مظاہرے کی بجائے آپؐ انتہائی عاجزی وانکساری کے ساتھ ،بہت ہی خشوع وخضوع کامظاہرہ کرتے ہوئے ٗ اپنے رب کے سامنے گردن جھکائے ہوئے ٗ اس کی تسبیح اورحمدوثناء بیان کرتے ہوئے مکہ شہرمیں داخل ہورہے تھے … تب اس تاریخی موقع پرآپؐ نے زینبؓ کے اسی کمسن بیٹے ’’علی‘‘کواپنے ہمراہ اونٹ پربٹھارکھاتھا… آپؐ کی پیاری بیٹی ٗابوالعاص بن الربیع رضی اللہ عنہ کی زوجۂ محترمہ حضرت زینب رضی اللہ عنہاکی وفات کے بعدمدینہ میں ابھی محض چندماہ ہی گذرے تھے… کہ ایک اورانتہائی افسوسناک واقعہ یہ پیش آیاکہ ابوالعاص ؓ کایہ کمسن بیٹاعلی بیمارپڑگیا،اورچنددن کے اس بخار کے بعد اچانک ہی داغِ مفارقت دے گیا(۱)یہ واقعہ رسول اللہ ﷺ کیلئے ٗ نیز ابوالعاصؓ کیلئے مزیدبہت بڑے رنج والم کاباعث بنا…جس کانتیجہ یہ ہواکہ ابوالعاصؓ اب خود کو سنبھال نہ سکے…مسلسل بسترِعلالت پرہی اب ان کے شب وروزبسرہونے لگے۔ ۸ھ؁کے ابتدائی دنوں میں رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی (ابوالعاص بن الربیع رضی اللہ عنہ کی زوجۂ محترمہ) حضرت زینب رضی اللہ عنہاکاانتقال ہواتھا،اورپھراسی سال کے اواخرمیں ان کے کمسن بیٹے علی کی وفات ہوئی،اس کے بعد ۱۱ھ؁کے ابتدائی مہینوں میں (۱۲/ربیع الاول )رسول اللہ ﷺ کی رحلت کاسانحہ پیش آیا،اوربالآخراس کے اگلے ہی سال یعنی ۱۲ھ؁میں حضرت ابوالعاص بن الربیع رضی اللہ عنہ بھی اس جہانِ فانی سے کوچ کرتے ہوئے اپنے رب سے جاملے،اللہ تعالیٰ جنت الفردوس میں ان کے درجات بلند فرمائیں ۔