Chapter 7 of 10

خوشحالی کے بعدبھی تقویٰ

تنگدستی اورفقروفاقے کی بجائے اب خوشحالی وفراوانی کے دورمیں بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا تقویٰ ٗ پرہیزگاری ٗ خشیتِ الٰہیہ ٗ اورفکرِآخرت کاوہی جذبہ اوروہی معیارمسلسل برقرار رہا،خوشحالی اورخیروخوبی کایہ سفرمسلسل جاری رہا،حتیٰ کہ ایک وقت ایسابھی آیا (کافی بعدمیں ٗمروان کے زمانے میں )جب یہ والیِٔ مدینہ(یعنی مدینہ اوراس سے ملحقہ علاقوں کے علاقوں کے گورنر) مقررہوئے۔ اس کے باوجودان کامعمول یہ تھاکہ ہمیشہ نصف شب کے فوری بعدیہ خودنمازِتہجد ٗ عبادت ٗ اورتلاوتِ قرآن وغیرہ کااہتمام کرتے، پھراپنی اہلیہ کوبیدارکرتے ، وہ بھی اسی طرح تہجدوغیرہ پڑھاکرتیں ،اورپھران کی اہلیہ رات کے بالکل آخری حصے میں بیٹی کو جگایاکرتیں ، تب وہ اسی طرح تہجدوغیرہ کااہتمام کیاکرتی تھی تھیں ۔ الغرض نصف شب کے بعدسے اذانِ فجرتک ان کے گھرمیں کوئی وقت ایسانہیں گذرتا تھا کہ جب وہاں اللہ عزوجل کی عبادت نہ ہورہی ہو،ہمہ وقت عبادت کایہ مبارک سلسلہ جاری رہتاتھا ،اوربلاناغہ ہررات جاری رہتاتھا…حالانکہ یہ اُس وقت مدینہ کے فرمانروا تھے ۔ نیزفقروفاقہ کے بعداب یہ خوشحالی کادورآیاتو ان کی کیفیت یہ ہوئی کہ نہایت سخاوت وفیاضی کے ساتھ ضرورتمندوں اورمحتاجوں کی مددواعانت کیاکرتے تھے ،ہمہ وقت ان کی خبرگیری کیاکرتے،اوران کیلئے ضروریاتِ زندگی کی فراہمی سے متعلق انتظام وانصرام میں مشغول ومنہمک رہاکرتے تھے۔