Chapter 3 of 4
عجزوانکسار
کوفہ میں قیام کے دوران حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ اپنے دینی مقام ومرتبے ٗ نیزسرکاری حیثیت کے باوجودانتہائی سادہ زندگی بسرکیاکرتے تھے،تواضع اورسادگی کایہ عالم تھاکہ راہ چلتے ہوئے ہمیشہ تنہاہی چلناپسندکرتے،تاکہ سادگی وعاجزی برقراررہے ، اورکسی شان وشوکت کااظہارنہو۔
چنانچہ ایک بارجب کسی راستے میں چلے جارہے تھے،تب کچھ لوگ احتراماًان کے ہمراہ ہولئے،جس پر انہوں نے ان کی جانب متوجہ ہوتے ہوئے ان سے استفسارکیا’’کیاآپ حضرات کومجھ سے کوئی کام ہے؟‘‘
ان لوگوں نے عرض کیاکہ’’نہیں !کام توکچھ نہیں ہے…البتہ بس ہماراجی چاہاکہ ہم آپ کے ہمراہ چلیں ‘‘
اس پرحضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ نے فرمایا’’آپ لوگ واپس لوٹ جائیے، کیونکہ اس میں (یعنی بلاضرورت کسی کے ہمراہ ٗ یاپیچھے پیچھے چلنے میں ) ’’تابع‘‘یعنی پیچھے آنے والے کیلئے ذلت ہے،جبکہ ’’متبوع‘‘یعنی جس کے پیچھے چلے آرہے ہیں ٗ کیلئے ’’فتنہ‘‘ہے۔(۱)
یعنی جوپیچھے چلاآرہاہے ،گویاوہ بلاوجہ خودکوکمتربنارہاہے…جبکہ جس کے پیچھے چلاآرہا ہے ٗ ہوسکتاہے اس کے دل میں خودپسندی ٗ غروراورتکبرکے جذبات پیداہونے لگیں … یاوہ خودکوبزرگ اورپارساسمجھنے لگے… لہٰذاچونکہ یہ چیزتابع ومتبوع دونوں ہی کیلئے مضر ہے ٗ اس لئے اس سے گریزضروری ہے۔
اسی طرح عام زندگی میں اورروزمرہ کے معاملات میں چھوٹوں بڑوں سبھی کے ساتھ میل جول کے موقع پرانتہائی تواضع اورعجزوانکسارسے پیش آیاکرتے تھے،کبھی کوئی ایسی بات نہیں کہتے تھے جس سے کسی کی دل شکنی ہو،یاجس میں کسی کی بے عزتی ورسوائی کااندیشہ ہو، اکثریوں کہاکرتے تھے : لَوسَخِرْتُ مِن کَلبٍ لَخَشِیتُ أن أُحَوَّلَ کَلباً… یعنی’’میں تواس خوف سے کبھی کسی کتے کامذاق بھی نہیں اُڑاتا ٗ کہ کہیں اس کی پاداش میں خودمجھے بھی کتاہی نہ بنادیاجائے…‘‘(۱)
مقصدیہ کہ کتاخوداپنی مرضی سے توکتانہیں بنا…لہٰذااگرمیں اس کامذاق اڑاؤں ،اوراسے طعنہ دوں …توکہیں اللہ کی طرف سے ایسانہوکہ بطورِسزامجھے بھی کتابنادیاجائے۔