Chapter 1 of 4

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ

مکہ شہرمیں جب نورِنبوت چمکا اورخاتم الأنبیاء والمرسلین ﷺ کی بعثت ہوئی تب عبداللہ بن مسعودبالکل نوجوان تھے،دن بھرشہرسے باہرسردارانِ قریش میں سے ایک معروف شخص عُقبہ بن مُعیط کی بکریا ں چرایاکرتے تھے۔ انہی دنوں لوگوں کی زبانی انہیں بھی رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے بارے میں علم ہوا،مختلف لوگوں سے انہوں نے یہ خبرسنی،لیکن اس طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی،کیونکہ بالکل نوعمری اورلااُبالی کادورتھا،نیزیہ کہ دن بھرتویہ مکہ شہرسے باہرآبادی سے دوربکریاں چراتے تھے، اورپھررات کے وقت تھکے ہارے جب واپس مکہ پہنچتے تونیندکاغلبہ ہوتاتھا،لہٰذاآتے ہی سوجاتے۔ ایک روزجب یہ حسبِ معمول مکہ شہرسے باہربکریاں چرارہے تھے،تب انہوں نے وہاں ویرانے میں خلافِ معمول دوادھیڑ عمرافرادکو اپنی جانب آتے دیکھاجن کی شخصیت میں بہت زیادہ وقارجھلک رہاتھا،جب وہ کچھ قریب آئے توعبداللہ بن مسعودنے محسوس کیاکہ یہ دونوں بہت زیادہ تھکے ہوئے ہیں ،پیاس کی شدت کی وجہ سے ان کے ہونٹ خشک ہوئے جارہے تھے… ان میں سے ایک شخص نے عبداللہ بن مسعودکومخاطب کرتے ہوئے کہا:’’اے نوجوان! ہمیں کچھ دودھ توپلاؤ…تاکہ ہم اپنی پیاس بجھاسکیں ‘‘ نوجوان عبداللہ بن مسعودنے معذرت کرتے ہوئے جواب دیا’’میں ایسانہیں کرسکتا،کیونکہ یہ بکریاں میرے پاس کسی کی امانت ہیں ‘‘ نوجوان کی طرف سے یہ انکارسن کران دونوں نوواردافرادنے کسی ناگواری کااظہارنہیں کیا،البتہ ان میں سے ایک نے کہا’’کیاتمہاری ان بکریوں میں کوئی ایسی بکری بھی ہے جوابھی چھوٹی ہو ٗ دودھ نہ دیتی ہو؟تب عبداللہ بن مسعودبکریوں کے درمیان گھوم پھرکرایک چھوٹی بکری لے آئے،تب اس نوواردشخص نے ’’بسم اللہ ‘‘کہتے ہوئے اس بکری کے تھن کو چھوا،جس پردیکھتے ہی دیکھتے بکری کاتھن دودھ سے بھرگیا…پھروہاں موجودایک برتن میں نوواردنے دودھ دوہناشروع کیا…نوجوان عبداللہ بن مسعودیہ منظردیکھ کرانتہائی حیرت زدہ رہ گئے،انہیں اپنی آنکھوں پریقین ہی نہیں آرہاتھا…اورتب ان دونوں نووارد اجنبی افرادنے خوب سیرہوکردودھ پیا،اورعبداللہ بن مسعودکوبھی پیش کیا…اورپھروہ دونوں وہاں سے روانہ ہوگئے…اورنوجوان عبداللہ بن مسعودبس سوچتے ہی رہ گئے کہ ’’یہ کیا ماجراتھا،جومیری آنکھوں نے دیکھا…اوریہ دونوں اجنبی کون تھے…؟‘‘ اس کے بعدکئی روزتک نوجوان عبداللہ بن مسعوداسی حیرت میں ڈوبے رہے اور آخر اِدھراُدھرمختلف لوگوں کے سامنے اس چیزکاتذکرہ کیا…اورتب جاکرمعلوم ہواکہ ان دونوں باوقاراجنبی افرادمیں سے ایک رسول اللہ ﷺ تھے،اوردوسرے ان کے خاص ساتھی حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ تھے۔ دراصل ان دنوں مشرکینِ مکہ کی طرف سے ایذاء رسانیوں کاسلسلہ بہت عروج پرتھا،اوراُس روزبھی مشرکین نے ان دونوں کوبہت ستایاتھا،اورتب یہ دونوں حضرات (یعنی رسول اللہ ﷺ اورحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ) ان مشرکین سے جان چھڑانے کیلئے بچتے بچاتے مکہ شہرسے باہربہت دورنکل آئے تھے،مسلسل پیدل چلنے کی وجہ سے اُس وقت انہیں بہت زیادہ تھکاوٹ اورپیاس محسوس ہورہی تھی…اورتب انہوں نے اپنی پیاس بجھانے کی خاطراس نوجوان سے بکری کادودھ مانگاتھا… نوجوان عبداللہ بن مسعودکوجب ان دونوں برگزیدہ ترین شخصیات کے بارے میں علم ہواتوان کے دل میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضری کاشوق پیداہونے لگا،رسول اللہ ﷺ کے دستِ مبارک سے ’’معجزہ‘‘تووہ پہلے ہی خوداپنی جیتی جاگتی آنکھوں سے دیکھ چکے تھے،لہٰذااب کسی طرح جلدازجلددینِ برحق قبول کرنے کیلئے وہ ہمہ وقت بیتاب رہنے لگے۔ آخرایک روزموقع پاکررسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضرہوئے، کلمۂ حق ’’ اشہدأن لاالٰہ الااللہ،واشہدأن محمداًرسول اللہ‘‘پڑھتے ہوئے ٗ دینِ اسلام قبول کیا،اوررسول اللہ ﷺ کے دستِ مبارک پربیعت کی۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی اس نوجوان (عبداللہ بن مسعود)کوفوراًہی پہچان لیا،اوراُس روز اس نوجوان نے جس امانت ودیانت کامظاہرہ کیاتھا(یعنی بکریوں کادودھ پیش کرنے سے معذرت کرلی تھی ٗ یوں کہتے ہوئے کہ یہ بکریاں تومیرے پاس کسی کی امانت ہیں ) اس پر آپؐ نے مسرت کااظہاربھی فرمایا۔ قبولِ اسلام کے فوری بعدحضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ نے گذارش کرتے ہوئے کہا کہ ’’اے اللہ کے رسول! میں اب اپنی تمام زندگی آپ کی خدمت میں بسرکرناچاہتاہوں ، لہٰذاآپ مجھے اجازت مرحمت فرمائیے‘‘اس پرآپؐ نے رضامندی کااظہارفرماتے ہوئے انہیں اس بات کی اجازت دے دی،اورتب حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ ہمیشہ کیلئے رسول اللہ ﷺ کے خادم بن کررہ گئے،زندگی بھرسائے کی طرح آپ ﷺ کی صحبت ومعیت میں ہی رہے،اورخدمت کے فرائض انجام دیتے رہے،خواہ آپ ﷺ مقیم ہوں ، یاحالتِ سفرمیں ہوں ،نیزہمیشہ آپؐ کی مسواک کی حفاظت ٗ آپؐ کے جوتوں کی حفاظت ٗ آپؐ کے عصاکی حفاظت ٗ آپؐ کیلئے وضوء کے پانی کاانتظام ٗ لوٹے کاانتظام ٗ غرضیکہ سفرہو یاحضر ٗ ہمیشہ ہروقت اورہروقت موقع پرآپؐ کی خدمت کیلئے حاضرومستعدرہاکرتے تھے۔ اس نوعمری سے ہی مسلسل رسول اللہ ﷺ کی صحبت ومعیت اورکسبِ فیض کاہی یہ اثرتھاکہ تمام دینی علوم میں انہیں غیرمعمولی مہارت اوردسترس حاصل تھی،بالخصوص قرآن کریم کی تلاوت ٗنیز قرآن کریم سے متعلق جتنے بھی علوم ہیں ٗان میں انہیں خاص مقام ومرتبہ حاصل تھا۔ قرآن کریم کے ساتھ شغف اورمحبت اوراس کی تلاوت کے شوق کایہ عالم تھاکہ اکثراٹھتے بیٹھتے ٗچلتے پھرتے ٗ تلاوت میں ہی مشغول رہاکرتے تھے،قرآن کریم کے ساتھ یہ والہانہ تعلق قبولِ اسلام کے فوری بعدروزِاول سے ہی ان کے دل میں اسی طرح پوری آب وتاب کے ساتھ موجزن تھا… یہی وجہ تھی کہ اُس ابتدائی دورمیں کہ جب وہاں مکہ شہرمیں مسلمان چھپ چھپ کرتلاوتِ قرآن کیاکرتے تھے،کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ کھلم کھلاعلیٰ الاعلان ان طواغیت کے سامنے قرآن کریم کی تلاوت کرسکے…ایسی صورتِ حال میں ایک بارایساہواکہ کسی جگہ بڑے سردارانِ قریش کی محفل جمی ہوئی تھی،لہوولعب اورفضولیات کے سلسلے عروج پرتھے، تب اتفاقاًدورسے کچھ مسلمانوں نے یہ منظردیکھا،اورپھروہ آپس میں یوں کہنے لگے ’’ہے کسی میں اتنی ہمت کہ ان کی اس محفل میں جاکران کے سامنے قرآن پڑھے…؟‘‘ اس پرعبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ نے کہا’’میں یہ کام کروں گا‘‘ تب ان کے ساتھی کچھ تشویش کاشکارہوگئے،اورانہیں مخاطب کرکے یوں کہنے لگے’’اس کام کیلئے کوئی ایساشخص ہوناچاہئے جس کاتعلق اسی شہرمکہ سے ہو، یہاں اس کاطاقتور خاندان ہو،اس کی کوئی حیثیت ہو،جبکہ تم تومکہ کے باشندے نہیں ہو،یہاں تمہاراخاندان نہیں ہے،کوئی تمہیں بچانے والااورتمہاری حفاظت کرنے والانہیں ہے،اس لئے تم مت جاؤ…‘‘ تب حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ نے جواب دیا’’اللہ میراحامی وناصرہے…‘‘ اورپھریہ اُن سردارانِ قریش کی اس محفل میں جاپہنچے،اُس وقت وہاں لہوولعب کے ساتھ شعر وسخن کاسلسلہ بھی زوروں پرتھا،ہرکوئی اپناکلام سنارہاتھا…ایسے میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ وہاں پہنچے اورکلام پیش کرنے کی اجازت چاہی…جس پران سب نے کہاکہ ’’ضرور سناؤ‘‘ تب انہوں نے بآوازِبلندقرآن کریم کی تلاوت شروع کردی {اَلرَحمٰن عَلَّمَ القُرآنَ خَلَقَ الاِنسَانَ عَلَّمَہُُ البَیَانَ الشَّمسُ وَالقَمَرُ بِحُسْبَانٍ وَالنَّجمُ وَ الشَّجَرُ یَسْجُدَان…} (۱) ترجمہ:(رحمن نے قرآن سکھایا،اسی نے انسان کوپیداکیا،اوراسے بولناسکھایا،آفتاب اورماہتاب مقررہ حساب سے ہیں ،اورستارے اوردرخت [اسی کو]سجدہ کرتے ہیں …) ابتداء میں تووہ سردارانِ قریش خاموشی کے ساتھ یہ کلام سنتے رہے… اوراس کلام کی بے مثال حلاوت سے اورشیرینی سے بہت ہی متأثرہوتے رہے…لیکن پھرجلدہی ان میں سے کسی کویہ اندازہ ہونے لگاکہ یہ تووہی کلام پڑھ رہاہے جوکہ محمد( ﷺ )پڑھاکرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ کلام من جانب اللہ ان کی طرف نازل شدہ ہے…تب اس شخص نے دوسرے لوگوں کوبھی اس طرف متوجہ کیااورعبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ کے خلاف ورغلایا، تب وہ سبھی بگڑگئے…اپنی اصلیت پرآگئے…اورعبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ کوخوب جی بھرکرزدوکوب کرتے رہے ،اورناحق ظلم وتشددکانشانہ بناتے رہے… آخرعبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ اپنی یہ حالت لئے ہوئے وہاں سے واپس روانہ ہوئے اوراپنے انہی مسلمان ساتھیوں کے پاس پہنچے …انہوں نے جب ان کی یہ کیفیت دیکھی کہ جگہ جگہ سے خون بہہ رہاہے…تب وہ برجستہ بولے کہ ’’ہمیں اسی چیزکااندیشہ تھا،اوراسی لئے ہم نے تمہیں منع بھی کیاتھا…‘‘ اس پرعبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ نے جواب دیا’’میری یہ جوبھی حالت ہے…اس کے باوجودمیں اس بات پربہت خوش ہوں کہ آج میں ان لوگوں کے سامنے اللہ کاکلام پڑھ کرآیاہوں ‘‘ اسی کیفیت میں مکہ میں وقت گذرتارہا…اورپھرنبوت کے تیرہویں سال ہجرتِ مدینہ کاحکم نازل ہونے پردیگرتمام مسلمانوں کی طرح حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ بھی ہجرت کرکے مدینہ چلے آئے۔ دینِ اسلام کے بالکل ابتدائی دورسے ہی قرآن کریم کے ساتھ ان کاجوبہت گہرا اور والہانہ تعلق تھا…اب یہاں مدینہ میں بھی …بلکہ اس کے بعدبھی ہمیشہ ہی ان کی یہی کیفیت ٗاورقرآن کریم کے ساتھ یہی جذباتی لگاؤاسی طرح برقراررہا… حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک بارابوبکرصدیق ر ضی اللہ عنہ کے ساتھ کسی اہم اورنازک معاملے میں گفت وشنیداورمشاورت میں مشغول تھے، اتفاق سے قریب ہی میں بھی موجودتھا،پھرآپؐ وہاں سے اٹھ کرمسجدکی طرف روانہ ہوگئے، ہم دونوں بھی ساتھ ہی چل دئیے،مسجدمیں پہنچنے کے بعدہم نے وہاں ایک شخص کودیکھا،جو نمازمیں مشغول تھا،اس کی تلاوتِ قرآن کی آوازہماری سماعت سے ٹکرارہی تھی،لیکن ہم ٹھیک طرح اسے پہچان نہیں سکے(۱)رسول اللہ ﷺ اس شخص کے قریب جاکرکھڑے ہوگئے، اوربڑے ہی انہماک کے ساتھ کچھ دیروہیں کھڑے ہوئے اس شخص کی تلاوت سنتے رہے، پھرہماری طرف متوجہ ہوتے ہوئے آپؐ نے ارشادفرمایا: (مَن سَرَّہٗ أن یَقرَأ القُرآنَ رَطْباً کَمَا نَزَلَ ، فَلیَقرَأہُ عَلَیٰ قِرَائَ ۃِ ابنِ أمِّ عَبْد) (۲) یعنی’’جس کسی کی یہ خواہش ہوکہ وہ قرآن کواس طرح پڑھے جس طرح وہ تازہ تازہ نازل ہوا…(۳) اسے چاہئے کہ وہ ابن اُم عبد[یعنی عبداللہ بن مسعودؓ]کی طرح پڑھے‘‘۔ مقصدیہ کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے اس شخص(حضرت عبداللہ بن مسعودؓ) کیلئے یہ بہت بڑی گواہی اورتصدیق تھی کہ ان کی تلاوتِ قرآن بہت ہی درست ترین ہے۔ اس کے بعدحضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ’’نمازسے فراغت کے بعد عبداللہ بن مسعوداسی جگہ بیٹھے ہوئے دیرتک دعاء میں مشغول رہے،جبکہ اس دوران رسول اللہ ﷺ انتہائی شفقت بھرے اندازمیں مسلسل ان کی جانب دیکھتے رہے ،اوراپنی زبانِ مبارک سے یوں کہتے رہے : سَلْ تُعْطَہ… سَلْ تُعْطَہ یعنی’’مانگتے جاؤ،تمہیں عطاء کیاجائے گا…مانگتے جاؤ،تمہیں عطاء کیاجائے گا‘‘۔ حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ’’میں نے دل میں سوچاکہ جب صبح ہوگی تومیں عبداللہ بن مسعودکے پاس جاؤں گا،اورانہیں یہ سب تفصیل بتاؤں گاکہ گذشتہ رات جب آپ مسجدمیں نمازمیں مشغول تھے ،تب رسول اللہ ﷺ نے آپ کی تلاوت سنی،اورپھر کس طرح آپ کی تلاوت کی تعریف کی …اورپھرجب آپ دعاء میں مشغول تھے،تب آپؐ نے کیابات ارشادفرمائی تھی…‘‘ چنانچہ جب صبح ہوئی توحضرت عمررضی اللہ عنہ ٗحضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ کے گھر پہنچے ٗ یہی سب کچھ بتانے کیلئے،تاکہ وہ خوش ہوجائیں …،لیکن جب یہ وہاں پہنچے تو دیکھاکہ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ان سے پہلے وہاں موجودتھے،اورحضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ کے سامنے گذشتہ رات کاتمام ماجرابیان کرچکے تھے…تب حضرت عمر ؓ سوچنے لگے کہ’’ ابوبکرتوہمیشہ ہی ہرخیرمیں سبھی پر سبقت لے جاتے ہیں ‘‘ اس کے بعدان دونوں حضرات (یعنی حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ٗ نیزحضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ )نے حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا’’ہمیں یہ توبتادیجئے کہ اُس وقت آپ کیادعاء مانگ رہے تھے؟‘‘جواب میں انہوں نے کہا: ’’میں اُس وقت اس دعاء میں مشغول تھا: اَللّھُمّ اِنِّي أسألُکَ اِیمَاناً لَا یَرتَدّ، وَنَعِیماً لَا یَنفَد، وَمُرَافَقَۃَ نَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ ﷺ فِي أعلَیٰ جَنَّۃِ الخُلد (۱) یعنی’’اے اللہ میں تجھ سے مانگتاہوں ایساایمان جوواپس [کفرکی طرف]نہ پھرے،اورایسی نعمتیں کہ جوختم نہوں ، اوررفاقت تیرے نبی محمد ﷺ کی جنت کے اعلیٰ ترین مقام ٗ یعنی جنت الخُلدمیں ‘‘۔ اسی کیفیت میں مدینہ میں وقت گذرتارہا…ابتدائے اسلام سے ہی حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ پہلے مکی زندگی میں اورپھرمدنی زندگی میں چونکہ ہمیشہ سائے کی طرح رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضررہاکرتے تھے،لہٰذاہمہ وقت کی اس مسلسل حاضری ٗ خدمت ٗ صحبت ٗ علمی استفادہ ٗ اورکسبِ فیض کایہ نتیجہ تھاکہ تمام دینی علوم بالخصوص قرآنی علوم میں انہیں غیرمعمولی دسترس حاصل تھی ،نیزقرآن کریم کی تلاوت بھی نہایت ہی مؤثراوردل نشیں اندازمیں کیاکرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ بعض اوقات رسول اللہ ﷺ خودان سے فرمائش کرکے ان کی تلاوت سنا کرتے تھے۔ چنانچہ عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : قَالَ لِي رَسُولُ اللّہِ ﷺ : اِقرَأ عَلَيَّ القُرآن ، قُلتُ: یَا رَسُولَ اللّہ! أقْرَأ عَلَیکَ وَعَلَیکَ أُنزِلَ؟ قَالَ: اِنِّي أشْتَھِي أن أسْمَعَہٗ مِن غَیرِي ، فَقَرأتُ عَلَیہِ سُورَۃَ النِّسَاء ، حَتّیٰ بَلَغتُ ((فَکَیفَ اِذَا جِئْنَا مِن کُلِّ أُمَّۃٍ بِشَھِیْدٍ وَجِئنَا بِکَ عَلَیٰ ھٰؤلَآئِ شَھِیْداً)) فَقَالَ: حَسْبُکَ ، فَالتَفَتُّ اِلَیہِ ، فَاِذَا عَینَاہُ تَذْرِفَانِ ۔(۱) یعنی:(ایک باررسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا’’مجھے قرآن پڑھ کرسناؤ‘‘ میں نے عرض کیا’’اے اللہ کے رسول!میں آپ کے سامنے قرآن پڑھوں ؟ حالانکہ یہ قرآن توآپ ہی پرنازل کیاگیاہے؟(یعنی میری اتنی مجال کہاں ؟) آپؐ نے فرمایا’’مجھے قرآن کسی دوسرے سے سننااچھالگتاہے‘‘تب میں نے آپؐ کے سامنے سورۃ نساء کی تلاوت شروع کی، یہانتک کہ جب میں اس آیت پرپہنچا: (فَکَیفَ اِذَا جِئنَا مِن کُلِّ أُمَّۃٍ بِشَھِیْدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلَیٰ ھٰؤلَآئِ شَھِیْداً) (۲)یعنی(اس وقت [ان کا]کیاحال ہوگاجب ہم ہرامت میں سے ایک گواہ لے کرآئیں گے،اور[اے نبیؐ]ہم آپ کوان لوگوں کے خلاف گواہ کے طورپرپیش کریں گے) تب آپؐ فرمانے لگے’’بس کرو‘‘تب میں نے آپؐ کی جانب مڑکردیکھا…تواس وقت آپؐ کی آنکھیں آنسؤوں سے لبریزتھیں )(۱) ٭حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ جسمانی طورپرکافی نحیف اوردبلے پتلے تھے،ایک روزجب خوب ہواچل رہی تھی،جس کی وجہ سے کپڑے اُڑے جارہے تھے،تب ان کی پنڈلی سے کپڑاکچھ ہٹ گیا…اتفاقاًکچھ لوگوں کی نظران کی دبلی پتلی پنڈلی پرپڑی توبے اختیاران کی ہنسی نکل گئی…تب رسول اللہ ﷺ نے ان سے دریافت فرمایا’’تم لوگ کیوں ہنس رہے ہو؟‘‘انہوں نے جواب دیا’’اے اللہ کے رسول!بس ان کی دبلی پتلی پنڈلی پر نظرپڑی توبے اختیارہماری ہنسی نکل گئی‘‘اس پرآپؐ نے فرمایا: وَالَّذِي نَفسِي بِیَدِہٖ ، لَھُمَا أثقَلُ فِي المِیزَانِ مِن جَبَلِ أُحُد ۔ (۲) یعنی’’قسم اس اللہ کی جس کے قبضے میں میری جان ہے ،ان کی یہ پنڈلیاں ’’میزان‘‘میں اُحُدپہاڑسے زیادہ وزنی ہیں ‘‘ مقصدیہ کہ عبداللہ بن مسعود(رضی اللہ عنہ)کی یہ دبلی پتلی پنڈلیاں دیکھ کریہاں دنیامیں تم لوگوں کی ہنسی نہیں رُک رہی…لیکن یادرکھوکہ اللہ کے نزدیک ان کااس قدربلندترین مقام ومرتبہ ہے کہ قیامت کے روزمیزان(یعنی انسانوں کے اعمال کاوزن کرنے والے ترازو)میں ان پنڈلیوں کاوزن اُحدپہاڑسے بھی زیادہ ہوگا‘‘(یعنی اپنے اسی دبلے پتلے جسم سے یہ جو اس قدراللہ کی عبادت کیاکرتے ہیں ،خوب اعمالِ صالحہ انجام دیا کرتے ہیں ، ان کا وزن اُحدپہاڑ سے زیادہ ہے)۔