Chapter 2 of 2

حضرت عماربن یاسررضی اللہ عنہ عہدِنبوی کے بعد

حضرت عماربن یاسررضی اللہ عنہ کورسول اللہ ﷺ کے مبارک دورمیں جوقدرومنزلت حاصل تھی ٗ حضرات خلفائے راشدین کے دورمیں بھی ان کی وہی حیثیت اورقدرومنزلت اس معاشرے میں برقراررہی۔ نیزیہ کہ جس طرح یہ رسول اللہ ﷺ کے مبارک دورمیں ہمیشہ ہرغزوے کے موقع پرپیش پیش رہے ٗ اسی طرح خلفائے راشدین کے دورمیں بھی اعلائے کلمۃ اللہ کی خاطران کایہی جذبہ برقراررہا،بالخصوص خلیفۂ اول حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت میں مرتدین ٗ مانعینِ زکوٰۃ ٗ اوراسی طرح جھوٹے مدعیانِ نبوت کے خلاف بہت سی جنگوں کی جونوبت آئی تھی ،ان میں سے بعض جنگیں انتہائی خطرناک اوراعصاب شکن قسم کی تھیں (مثلاً جنگِ یمامہ) ایسی تمام جنگوں کے موقع پرحضرت عماربن یاسررضی اللہ عنہ انتہائی جوش وجذبے کے ساتھ پیش پیش رہے اوربے مثال شجاعت وبسالت کے نمونے دکھاتے رہے…نیزخلیفۂ دوم حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کے دورِخلافت میں فارس وروم کے خلاف لڑی جانے والی بڑی بڑی تاریخی جنگوں کے موقع پر بھی شریک رہے۔ خلیفۂ دوم حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کے دورِخلافت میں چہارسواسلامی فتوحات کاسلسلہ بہت زیادہ وسعت اختیارکرچکاتھا،تب حضرت عمرؓ نے سپہ سالارِاعلیٰ حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کومفتوحہ علاقوں میں نئے شہرآبادکرنے کاحکم دیا،چنانچہ انہی دنوں ( ۱۷ھ؁میں ) حضرت سعدؓ نے دریائے فرات کے کنارے ایک نیاشہربسایاجوکہ کوفہ کے نام سے معروف ہوا،اورپھرآئندہ چل کریہ شہرعلمی ٗ ادبی ٗ عسکری ٗ سیاسی ٗ وثقافتی ٗ غرضیکہ ہرلحاظ سے بہت زیادہ اہمیت اختیارکرگیا۔ حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کے مزاج میں یہ بات شامل تھی کہ وہ خداداد بصیرت ٗ فراست ٗ اوردوراندیشی کی وجہ سے اہم اورحساس قسم کے مناصب کیلئے ذمہ دارافرادکی تعیین وتقرری کے معاملہ میں ہمیشہ بہت زیادہ احتیاط اورباریک بینی سے کام لیاکرتے تھے، چنانچہ جب یہ نیاشہر(یعنی کوفہ)بسایاگیاتواس کے والی (گورنر ٗیافرمانروا)کے تقررکیلئے ان کی نظرِانتخاب حضرت عماربن یاسررضی اللہ عنہ پرپڑی،اورتب انہوں نے اس نئے آباد کردہ شہر(کوفہ)کے اولین فرمانرواکی حیثیت سے حضرت عماربن یاسررضی اللہ عنہ کی تقرری کی۔ نیزاسی موقع پرہی حضرت عمرؓنے اہالیانِ کوفہ کی دینی تعلیم وتربیت اوررہنمائی کی غرض سے حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ کومقررفرمایا،ساتھ ہی انہیں یہ تاکیدبھی کی کہ وہ تعلیم وتربیت کے ساتھ ساتھ بوقتِ ضرورت انتظامی امورمیں حضرت عماربن یاسررضی اللہ عنہ کے ساتھ تعاون بھی کرتے رہیں ،مشاورت کے فرائض انجام دیتے رہیں …اورپھر ان دونوں انتہائی جلیل القدرشخصیات کو کوفہ پہنچنے کی تاکیدفرمائی۔ اس موقع پرحضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے اہالیانِ کوفہ کے نام ایک خط بھی تحریرفرمایا، جس کامضمون یہ تھا: اِنِّي أبْعَثُ اِلیکُم عَمّار بن یَاسِر أمِیراً ، و عَبدَاللّہ بن مَسعُود مُعَلِّماً وَ وَزِیراً ، وَاِنّھُمَا مِنَ النُّجَبَائِ ، مِن أصحَابِ الرّسُولِ ﷺ وَمِن أصْحَابِ بَدر ۔ یعنی’’میں تم لوگوں کی طرف عماربن یاسرکوتمہارے فرمانرواکی حیثیت سے ٗ جبکہ عبداللہ بن مسعودکوتمہارے لئے معلم ومربی ٗ نیزعماربن یاسرکیلئے وزیر ومددگارکی حیثیت سے بھیج رہاہوں ،یہ دونوں حضرات انتہائی شریف ونجیب قسم کے انسان ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے صحابۂ کرام میں سے ہیں ٗ نیزیہ دونوں ’’غزوہ ٔبدر‘‘میں شرکت کرنے والے خوش نصیبوں میں سے ہیں ‘‘۔ ٭حضرت عماربن یاسررضی اللہ عنہ کوفہ میں طویل عرصہ تک ’’فرمانروا‘‘کی حیثیت سے مقیم رہے،اس دوران ان کے طرزِزندگی اوربودوباش میں کوئی فرق نہیں آیا،وہی انتہائی سادہ طورطریقے ،اورعجزوانکسارسے بھرپورزندگی…گھرکیلئے سودااورسامان وغیرہ لینے کیلئے خودہی بازارجاتے،عام لوگوں کی طرح وہاں گھومتے پھرتے،ضرورت کی اشیاء خریدتے،اورپھرخودہی اپناسامان اٹھائے ہوئے گھرکی طرف چل دیتے ، حتیٰ کہ اناج کی بوری بھی خودہی اپنی کمرپرلادکرلاتے،کوئی شان وشوکت نہیں تھی،کوئی ’’ہوشیار ٗخبردار‘‘کی صدائیں بلندنہیں ہوتی تھیں ، کوئی ’’ہٹو …بچو‘‘کی آوازیں نہیں آتی تھیں ۔ انہی دنوں بازارمیں انہوں نے ایک شخص کوکسی بات پرکچھ تنبیہ کی،جس پروہ کہنے لگا : یَا أجْدَعَ الأذُن…یعنی’’اے کن کٹے آدمی…‘‘مقصدیہ کہ وہ ان کی بات سننے اوران کی تنبیہ کوقبول کرنے کی بجائے اُلٹا یوں تمسخرکرنے لگااوران الفاظ میں انہیں طعنہ دیا۔ لیکن حضرت عماربن یاسررضی اللہ عنہ نے اس شہر(کوفہ) کافرمانرواہونے کے باوجوداپنی رعیت کے اس عام انسان کی طرف سے یہ طعنہ سننے کے بعدکسی غیظ وغضب یاناگواری کا کوئی اظہارنہیں کیا…بلکہ جواب میں اسے مخاطب کرتے ہوئے یوں فرمایا’’یہ توبہت ہی مبارک کان ہے،کیونکہ یہ تو اللہ کی راہ میں کٹاہے‘‘۔ دراصل رسول اللہ ﷺ کی اس جہانِ فانی سے رحلت کے فوری بعداندرونی وبیرونی دشمنوں کی طرف سے بہت سے فتنے بیک وقت اُٹھ کھڑے ہوئے تھے ،رسول اللہ ﷺ کے اولین جانشین کی حیثیت سے ان تمام فتنوں کی سرکوبی کی ذمہ داری خلیفۂ اول حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے کندھوں پرآپڑی تھی ،جسے انہوں نے مکمل عزیمت واستقامت اوربے مثال بہادری وشجاعت کے ساتھ نبھایاتھا،چنانچہ انہی دنوں مشہورومعروف ’’جنگِ یمامہ‘‘ کی نوبت آئی تھی جوکہ بہت ہی خونریزاوراعصاب شکن قسم کی جنگ تھی،ایک ہزارسے زائدصحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس جنگ کے موقع پرشہیدہوگئے تھے جن میں سترحُفاظِ قرآن بھی شامل تھے۔(۱) اسی جنگ کے موقع پرحضرت عماربن یاسررضی اللہ عنہ کے سرپرکسی کافرنے تلوارکا بھرپور وارکیاتھا،لیکن نشانہ خطاگیا،تلوارایک زناٹے کے ساتھ ان کے سرکوچھوتی ہوئی گذرگئی تھی…یوں ان کاسرتوبچ گیاتھا…لیکن ایک کان کٹ کردور جاپڑا تھا، اور پھر وہیں کہیں یمامہ کے میدان میں رہ گیاتھا۔ اوراب سالہاسال کے بعدیہاں کوفہ میں جب اس شخص نے انہیں ’’کن کٹے‘‘کاطعنہ دیا ٗ تب انہوں نے فرمانرواہونے کے باوجوداس کی سرزنش کی بجائے نہایت اعلیٰ اخلاق اور وسعتِ ظرف کا ثبوت دیتے ہوئے اسے بس اس حقیقت کی طرف متوجہ کیاکہ ’’یہ توبہت مبارک کان ہے ، کیونکہ یہ تواللہ کی راہ میں کٹاہے‘‘۔ ٭شب وروزاورآتے جاتے موسموں کاسفرجاری رہا…حتیٰ کہ اسی کیفیت میں خلیفۂ دوم حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کادس سالہ زمانۂ خلافت گذرگیا۔ اس کے بعدخلیفۂ سوم حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے منصبِ خلافت سنبھالا،جن کازمانۂ خلافت بارہ سال تک جاری رہا۔ حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کی شہادت کے کچھ عرصے بعدحضرت عماربن یاسررضی اللہ عنہ نے ’’والیِٔ کوفہ‘‘کی حیثیت سے اپنے اس منصب سے علیحدگی اختیارکرلی اورگمنامی کی زندگی بسرکرنے لگے۔ ٭… ۳۵؁ھ میں مدینہ میں باغیوں اورشرپسندوں کے ہاتھوں خلیفۂ سوم حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شہادت کاانتہائی دردناک واقعہ پیش آیاتھا،اورپھرعرصۂ درازتک اس افسوسناک واقعے کے بھیانک نتائج واثرات مختلف فتنوں کی شکل میں مسلسل ظاہر ہوتے چلے گئے تھے… ۳۷ھ؁میں عراق اورشام کے مابین سرحدی علاقے میں واقع ’’صِفِیّن‘‘نامی مقام پرپیش آنے والے ایسے ہی ایک انتہائی افسوسناک فتنے (جوکہ اسی مقام کی نسبت سے تاریخ میں ’’جنگِ صِفِّین‘‘کے نام سے معروف ہوگیا) کے موقع پرحضرت عماربن یاسررضی اللہ عنہ جب خلیفۂ وقت حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے لشکرمیں شامل تھے،تب اس جنگ کے دوران ۹۳سال کی عمرمیں یہ اس دنیائے فانی سے کوچ کرتے ہوئے اپنے اللہ سے جاملے۔تجہیزوتکفین کے موقع پرحضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ خودپیش پیش رہے اور نمازِ جنازہ بھی انہوں نے ہی پڑھائی۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلندفرمائیں ۔