Chapter 1 of 3

حضرت زبیربن العوّام رضی اللہ عنہ

رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدرصحابی حضرت زبیربن العوام رضی اللہ عنہ کاتعلق مکہ میں قبیلۂ قریش کے خاندان ’’بنواسد‘‘سے تھا،ان کی والدہ صفیہ بنت عبدالمطلب رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی تھیں ،یعنی آپؓ رسول اللہ ﷺ کے پھوپھی زادبھائی تھے۔ نیزحضرت زبیربن العوام رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی حضرت اسماء رضی اللہ عنہاکے شوہرتھے۔ حضرت زبیربن العوام رضی اللہ عنہ کی ولادت مکہ شہرمیں ہوئی ،حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے ’’محمد‘‘اکثریوں کہاکرتے تھے کہ’’میرے والدطلحہ ٗ نیززبیربن العوام ٗ علی بن ابی طالب ٗ اورسعدبن ابی وقاص(رضی اللہ عنہم اجمعین) کی ولادت مکہ شہرمیں ایک ہی سال ہوئی تھی‘‘یعنی ولادت کے لحاظ سے یہ تمام حضرات ہم عمرتھے ۔ ٭حضرت زبیربن العوام رضی اللہ عنہ ’’السابقین الأولین‘‘یعنی بھلائی میں سبھی لوگوں پرسبقت لے جانے والوں میں سے تھے،یعنی وہ عظیم ترین افرادجنہوں نے بالکل ابتدائی دورمیں دینِ اسلام قبول کیا کہ جب مسلمانوں کیلئے بہت ہی مظلومیت اوربے بسی وبے چارگی کازمانہ چل رہاتھا…یہی وجہ ہے کہ ان حضرات کابڑامقام ومرتبہ ہے ،ان کیلئے عظیم خوشخبریاں ہیں ٗ اورانہیں قرآن کریم میں ’’السابقین الأولین‘‘کے نام سے یادکیاگیاہے۔ ٭مزیدیہ کہ حضرت زبیربن العوام رضی اللہ عنہ ’’عشرہ مبشرہ‘‘یعنی ان دس خوش نصیب ترین افرادمیں سے تھے جنہیں اس دنیاکی زندگی میں ہی رسول اللہ ﷺ نے جنت کی خوشخبری سے شادکام فرمایاتھا۔ ٭ظہورِاسلام سے قبل ہی حضرت زبیربن العوام رضی اللہ عنہ اورحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے مابین خاص قریبی تعلقات اورگہرے مراسم تھے،لہٰذااسی دوستی کی وجہ سے حضرت ابوبکرؓ نے دینِ اسلام کے بالکل ابتدائی دنوں میں انہیں رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے بارے میں آگاہ کیا،اورانہیں دینِ برحق قبول کرنے کی دعوت دی ،جس کے نتیجے میں حضرت زبیررضی اللہ عنہ اس دعوتِ حق پرلبیک کہتے ہوئے مشرف باسلام ہوگئے۔ ٭حضرت زبیربن العوام رضی اللہ عنہ کویہ شرف حاصل تھا کہ انہوں نے دینِ اسلام کی رفعت وسربلندی ٗنیزپیغمبرِاسلام کی حمایت ونصرت کی خاطرسب سے پہلے اپنی تلواربلندکی، مکہ شہرمیں رسول اللہ ﷺ کی بعثت مبارکہ کے بعدبالکل ابتدائی دن جب چل رہے تھے، تب ایک روزیہ صورتِ حال پیش آئی کہ مشرکینِ مکہ میں سے کسی نے یہ افواہ اُڑادی کہ (نعوذباللہ) محمد( ﷺ ) قتل کردئیے گئے ہیں …اُس وقت زبیربا لکل ہی نوعمرتھے،لیکن اس کے باوجودجب انہوں نے یہ خبرسنی ٗتوان سے رہانہ گیا…اور اپنی کم سنی کے باوجود ننگی تلوارلہراتے ہوئے …رسول اللہ ﷺ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے،آخرایک جگہ جب آپؐ سے ملاقات ہوئی اورآپؐ کوزندہ سلامت اوربخیروعافیت دیکھا… تب یہ مطمئن ہوگئے۔ البتہ رسول اللہ ﷺ نے جب ان کی یہ کیفیت دیکھی (ہاتھ میں برہنہ تلوارلہراتے ہوئے) تو آپؐ نے وجہ دریافت فرمائی…تب نوعمرزبیرؓنے وجہ بیان کرتے ہوئے اُس افواہ کے بارے میں بتایا…نیزآپؐ کی خیریت وعافیت اورسلامتی سے متعلق اپنی فکراورتشویش سے آگاہ کیا … جس پرآپؐ نے انہیں دعائے خیردی۔ ٭دینِ اسلام کے اسی ابتدائی دورمیں جب مشرکینِ مکہ کی طرف سے ایذاء رسانیوں کا سلسلہ عروج پرتھا…تب نبوت کے پانچویں سال رسول اللہ ﷺ کے مشورے پر بہت سے مسلمان مکہ سے ملکِ حبشہ کی جانب ہجرت کرگئے تھے،انہی مہاجرینِ حبشہ میں حضرت زبیربن العوام رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے…اورپھرنبوت کے تیرہویں سال جب ہجرتِ مدینہ کاحکم نازل ہوا، تب دیگرتمام مسلمانوں کی طرح حضرت زبیربن العوام رضی اللہ عنہ بھی مدینہ منورہ آپہنچے… ٭ہجرتِ مدینہ کے موقع پررسول اللہ ﷺ ودیگرمسلمانوں کی مکہ سے مدینہ تشریف آوری کے فوری بعدایک تکلیف دہ صورتِ حال یہ پیش آئی کہ کافی عرصے تک ان مہاجرین حضرات کے ہاں کسی بچے کی ولادت نہیں ہوئی…مدینہ شہرمیں چونکہ مقامی عرب آبادی کے علاوہ یہودی بھی بڑی تعدادمیں آبادتھے ،جوکہ صدیوں سے نسل درنسل وہیں مستقل طورپرمقیم تھے،اورجوکہ رسول اللہ ﷺ نیزآپؐ کے ساتھی مسلمانوں کی مدینہ آمدپرسخت نالاں تھے…اوراتفاق یہ کہ جادوٹونے میں انہیں بڑی مہارت حاصل تھی ، یہی ان کا پسندیدہ ترین مشغلہ تھا، اوراس حوالے سے انہیں بڑی شہرت بھی حاصل تھی(۱) چنانچہ جب کافی عرصہ اسی کیفیت میں گذرگیاکہ مکہ سے ہجرت کرکے آنے والے کسی مسلمان گھرانے میں کسی بچے کی ولادت نہیں ہوئی…تب ان یہودِمدینہ نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ افواہ پھیلادی کہ ’’ہم نے ان مسلمانوں پرجادو کردیا ہے ، اور یوں ہم نے جادوکے ذریعے ان کی مستقل نسل بندی کردی ہے،لہٰذااب آئندہ ان کے ہاں کوئی اولادنہیں ہوگی،اوریوں رفتہ رفتہ ان کاخودبخودخاتمہ ہوجائے گا‘‘۔ مسلمان چونکہ راسخ العقیدہ تھے…لہٰذااس افواہ پرانہوں نے کا ن نہیں دھرے، لیکن بہرحال وہ بھی انسان ہی تھے، طبعی طورپرانہیں بھی اولادکی خواہش تھی…لہٰذاجوں جوں وقت گذرتاگیا،یہودکی طرف سے یہ افواہ تقویت پکڑتی گئی ،اورمسلمانوں کیلئے یہ چیز تشویش کاباعث بنتی چلی گئی۔ آخرکافی عرصہ گذرجانے کے بعدحضرت زبیربن العوام اوران کی اہلیہ محترمہ حضرت اسماء بنت ابی بکرالصدیق (رضی اللہ عنہم اجمعین) کواللہ نے بیٹے سے نوازا،جس کانام عبداللہ رکھاگیا،چونکہ تمام مہاجرین حضرات کی مدینہ آمدکے بعد…اورپھریہ کہ عرصۂ دراز اور طویل انتظاراوربے چینی کے بعد…مزیدیہ کہ یہودیوں کی طرف سے مسلمانوں کی بذریعۂ جادو نسل بندی کی افواہ اُڑائے جانے کے بعدیہ پہلانومولودتھا،لہٰذااس کی ولادت رسول اللہ ﷺ کیلئے ٗ اس بچے کے والدین کیلئے ٗ نیزتمام مسلمانوں کیلئے انتہائی مسرت و شادمانی کا سبب بنی،اس روزمسلمان دن بھرخوشی کااظہارکرتے رہے ،ایک دوسرے کو مبارکباددیتے رہے،اوراس روزمدینہ کے گلی کوچے اللہ اکبرکی صداؤں سے گونجتے رہے… (۱) ٭ہجرتِ مدینہ کے بعدجلدہی جب غزوات کی نوبت آئی تورسول اللہ ﷺ کی حیاتِ طیبہ کے دوران جتنے بھی غزوات پیش آئے ، ہرغزوے کے موقع پرحضرت زبیرؓرسول اللہ ﷺ کی زیرِِقیادت شریک رہے،بلکہ پیش پیش رہے،اورشجاعت وبہادری کے خوب جوہر دکھاتے رہے۔ ٭غزوۂ اُحدکے موقع پرجب مسلمان اپنی ہی ایک غلطی کی وجہ سے جیتی ہوئی جنگ ہارگئے تھے،اورہرطرف افراتفری پھیل گئی تھی،مسلمانوں کوبہت زیادہ پریشانی کاسامناکرناپڑاتھا، اوروہ سب شدیدصدمے کی کیفیت سے دوچارتھے… ایسے میں جنگ کے خاتمے کے فوری بعدمسلمانوں کویہ تشویش لاحق ہوئی کہ ہماری اس کیفیت اورشکست وریخت کومحسوس کرتے ہوئے ایسانہوکہ مشرکینِ مکہ اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی خاطردوبارہ ہم پرحملہ آورہوجائیں …لہٰذااس چیزکے سدِباب کی غرض سے رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب سے مشاورت اورغوروفکرکے بعدیہ فیصلہ فرمایاکہ مسلمانوں کاایک دستہ مشرکینِ مکہ کے تعاقب میں روانہ کردیاجائے تاکہ ان پرخوف طاری ہو جائے… ظاہرہے کہ اس وقت مسلمان جس جسمانی ونفسیاتی کیفیت سے دوچارتھے ،اورجس طرح انہیں شکست وریخت کاسامناتھا…وہ سبھی زخموں سے چورتھے…ایسے میں اب دوبارہ اسی دشمن کے تعاقب میں نکل کھڑے ہونا…یہ بہت دل گردے کا…اورانتہائی جان جوکھوں کاکام تھا… لیکن بہرحال جب رسول اللہ ﷺ نے اس چیزکافیصلہ فرماہی لیا…تواب سترمسلمانوں کاایک دستہ فوری طورپرتیارکیاگیااوراس کی قیادت کیلئے آپؐ نے حضرت زبیربن العوام رضی اللہ عنہ کومنتخب فرمایا،چنانچہ یہ دستہ اُحدکے میدان سے ہی فوری طورپرمشرکینِ مکہ کے تعاقب میں روانہ ہوگیا… مکہ کی طرف پلٹتے ہوئے مشرکین نے جب مسلمانوں کے اس دستے کواپنے تعاقب میں آتادیکھا…تووہ مسلمانوں کی ہمت وشجاعت ٗ بلندحوصلہ ٗ اورعزیمت واستقامت دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے…ان میں سے کچھ لوگ یوں کہنے لگے کہ اتنی بڑی شکست کے بعد مسلمان کبھی ہمارے تعاقب کی جرأت نہیں کرسکتے،لہٰذاضرورانہیں کہیں سے کوئی بڑی بھرپورمددملی ہے ،لہٰذایہ کوئی تازہ دم دستہ ہمارے تعاقب میں چلے آرہاہے… اور عین ممکن ہے کہ اس کے پیچھے مزیددستے بھی چلے آرہے ہوں … الغرض مسلمانوں کے اس بروقت اقدام کی وجہ سے مشرکینِ مکہ پرمسلمانوں کی طرف سے خوف اوررعب طاری ہوگیا،جس کی وجہ سے انہوں نے یہ طے کیاکہ ہمیں راستے میں کہیں رکے بغیرجلدازجلدواپس مکہ پہنچناچاہئے…چنانچہ اب انہوں نے اپنی واپسی کی رفتار مزیدتیزکردی اورسیدھے مکہ پہنچ کرہی دم لیا…اوریوں مسلمان ان کے دوبارہ حملہ آور ہوجانے کے اندیشے سے محفوظ ومطمئن ہوگئے۔ ٭غزوۂ احزاب (خندق)کے موقع پرجب مشرکینِ مکہ ٗنیزدیگربہت سے عرب قبائل مسلمانوں پرحملہ آورہونے کی غرض سے بہت بڑی تعدادمیں مدینہ آپہنچے تھے،کیفیت یہ تھی کہ جدھرنگاہ اٹھتی تھی بس چہارسودشمن کی فوج ہی نظرآتی تھی…اس بیرونی دشمن کی طرف سے لاحق خطرے کے علاوہ مزیدیہ کہ اندرونی خفیہ دشمنوں ٗبالخصوص یہودِمدینہ کے طاقتورقبیلے ’’بنوقُریظہ‘‘کی طرف سے مسلمانوں کوبہت زیادہ تشویش لاحق تھی،ایسی اطلاعات بھی مل رہی تھیں کہ اس قبیلے نے مشرکینِ مکہ کے ساتھ خفیہ معاہدہ کررکھاہے، اور یہ منصوبہ تیارکیاگیاہے کہ جب مشرکینِ مکہ کی طرف سے مسلمانوں پربھرپورحملہ کیاجا ئے گا، اورہرطرف خوب افراتفری ہوگی…تب موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مدینہ شہرکے اندر یہ یہودی فتنہ برپاکریں گے،مسلمانوں کے گھروں پرحملے کریں گے ،ان کی املاک کولوٹیں گے ، نیزان کی عورتوں اوربچوں کوقتل کرڈالیں گے… یہودِمدینہ کے ان ناپاک عزائم سے رسول اللہ ﷺ ودیگرتمام مسلمان بخوبی آگاہ ہوچکے تھے، لہٰذااب یہ بہت نازک صورتِ حال تھی،ایک طرف خندق کے اُس پارصف آرا بیرونی دشمن کی طرف سے کسی بھی وقت بڑاحملہ متوقع تھا،دوسری طرف خودمدینہ شہرکے اندراِن خفیہ دشمنوں کی طرف سے اچانک بڑی جارحیت کااندیشہ تھا …ایسے میں مسلمانوں کو اپنے بیوی بچوں کے بارے میں بڑی تشویش لاحق تھی… اسی صورتِ حال کے درمیان ایک رات رسول اللہ ﷺ نے اپنے ساتھیوں کومخاطب کرتے ہوئے ارشادفرمایا: مَن یَأتِینِي بِخَبَرِ بَنِي قُرَیظَۃ؟ یعنی’’ہے کوئی جومجھے بنوقریظہ کے بارے میں خبرلاکردے؟‘‘اس پرحضرت زبیرؓ نے عرض کیا’’اے اللہ کے رسول!میں حاضرہوں ‘‘ چونکہ یہ کام بہت زیادہ خطرناک تھا،تنہاخفیہ طورپربنوقریظہ کے محلے میں جانا،وہاں صورتِ حال کاجائزہ لینا،کسی بھی طرح ان کے عزائم اورخفیہ منصوبوں کاکھوج لگانا،اورپھراسی طرح چھپتے چھپاتے وہاں سے واپس آنا…مزیداتفاق یہ کہ وہ رات بھی انتہائی بھیانک تھی، اندھیرا بہت زیادہ تھا،ہرطرف تیزطوفانی ہواؤں کے جھکڑچل رہے تھے،سردی انتہائی عروج پر تھی… یہی وجہ تھی کہ ایسے میں یہ کام انجام دینابہت جان جوکھوں کاکام تھا…لہٰذارسول اللہ ﷺ کے استفسارپرجب حضرت زبیرؓنے آمادگی ظاہرکرتے ہوئے خودکواس کام کیلئے پیش کیا، تواس کے باوجودآپؐ نے اپنایہی سوال دہرایا…دوسری باربھی وہاں موجودتمام افرادمیں سے حضرت زبیرؓنے ہی جواب دیاکہ ’’میں حاضرہوں ‘‘۔اورپھرآپؐ نے تیسری باریہی سوال دہرایا،تب تیسری باربھی حضرت زبیرؓ نے ہی جواب دیاکہ ’’میں حاضرہوں ‘‘ تب رسول اللہ ﷺ نے حضرت زبیربن العوام رضی اللہ عنہ کوضروری ہدایات دے کر بنوقریظہ کی جانب روانہ فرمایا،اوراس موقع پرآپؐ نے یہ یادگارترین الفاظ ارشادفرمائے: لِکُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ وَحَوَارِیِّي الزُبَیر (۱) یعنی’’ہرنبی کاایک حواری ہواکرتاہے،اورمیرے حواری زبیرہیں ‘‘۔(۲) وقت کایہ سفرجاری رہا…حضرت زبیربن العوام رضی اللہ عنہ کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضری ٗ کسبِ فیض ٗاستفادہ ٗ نیزآپؐ کی خدمت وپاسبانی کایہ سلسلہ اسی طرح چلتارہا…آپؐ کی طرف سے بھی زبیرؓکیلئے محبتوں اورشفقتوں کے مبارک سلسلے مسلسل جاری رہے…حتیٰ کہ اسی کیفیت میں آپؐ کامبارک دورگذرگیا…آپؐ تادمِ آخر ان سے انتہائی خوش اورمسرورومطمئن رہے۔