Chapter 3 of 4
دوسراپہلو: بے مثال سخاوت وفیاضی
گذشتہ سطورمیں رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدرصحابی حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کی شخصیت اورابتدائے اسلام سے خلفائے راشدین کے دورتک ان کی سیرت اورحالاتِ زندگی کا ٗ اوربالخصوص دینِ برحق کی رفعت وسربلندی کی خاطران کی بے مثال جرأت وشجاعت ٗراہِ حق میں پیش آنے والے آلام ومصائب پرصبروتحمل اوربھرپورعزیمت واستقامت کاتذکرہ کیاگیا۔
جبکہ ان کی مبارک شخصیت کاایک اورپہلوبھی قابلِ ذکرہے ،اوروہ ہے ان کی سخاوت وفیاضی …
حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ اپنی زندگی کے بالکل ابتدائی دورسے ہی تجارت پیشہ تھے، رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے بالکل ابتدائی دنوں میں یہ ایک تجارتی سفرکے موقع پرہی ملکِ شام گئے ہوئے تھے جب وہاں انہوں نے ایک بوڑھے راہب کی زبانی یہ عجیب وغریب بات سنی تھی کہ آخری نبیؐ کی بعثت کاوقت آچکاہے،اوریہ کہ ان کی بعثت مکہ شہرمیں ہوگی…بوڑھے راہب کی یہی بات ان کے قبولِ اسلام کاسبب بنی تھی۔
الغرض اپنے وسیع کاروباری وتجارتی سلسلے کی وجہ سے طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کافی مالداراورخوشحال تھے،لہٰذاہمیشہ ہی دینِ اسلام کی سربلندی ٗنیزاللہ کے بندوں کی خیروخوبی اورفلاح وبہبودکیلئے خوب دریادلی اورفیاضی کے ساتھ اپنامال خرچ کیاکرتے تھے،فقراء ومساکین کی خوب دل کھول کرمددواعانت کیاکرتے تھے۔ان کی اسی انسان دوستی ٗجذبۂ ہمدردی ٗ انفاق فی سبیل اللہ ٗاورسخاوت وفیاضی کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے انہیں ’’طلحۃ الخیر‘‘ (یعنی بہت زیادہ خیروالے طلحہ)نیزایک موقع پر’’طلحہ الفیاض‘‘(یعنی انتہائی سخی طلحہ)کے لقب سے یادفرمایاتھا۔
ایک بارانہیں ملکِ یمن میں اپنے کسی تجارتی سلسلے سے سات لاکھ درہم نقدموصول ہوئے ، اتنی بڑی رقم موصول ہونے کے بعدرات بھربے چین رہے…ان کی اہلیہ ام کلثوم نے اس پریشانی اوربے چینی کی وجہ دریافت کی،تب انہوں نے جواب دیاکہ’’میرے گھرمیں سات لاکھ درہم نقدرکھے ہوئے ہیں …مجھے یہ فکرکھائے جارہی ہے کہ کہیں یہ مال ودولت مجھے میرے اللہ سے دورنہ کردے‘‘
طلحہ ؓکی یہ بات سن کراہلیہ نے کہا’’کیامیں آپ کوایک ترکیب بتاؤں …جس کی بدولت یہ مال آپ کواللہ سے دورکرنے کی بجائے مزیدقریب کردے گا؟‘‘
طلحہؓ نے کہا:’’ضروربتاؤ‘‘
تب اہلیہ بولیں ’’یہ تمام مال آپ فقراء ومساکین میں تقسیم کردیجئے‘‘
اپنی اہلیہ محترمہ کی زبانی یہ بات سن کرطلحہؓ بیساختہ بولے’’عظیم باپ کی عظیم بیٹی نے کس قدر عظیم مشورہ دیاہے‘‘۔ (۱)
اورپھرصبح کاسورج طلوع ہوتے ہی حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے اس نیک بخت خاتون ٗ یعنی اپنی اہلیہ محترمہ کے اس مشورے پرعمل کرتے ہوئے مدینہ شہرمیں موجودفقراء ومساکین میں اس رقم کی تقسیم کامبارک کام شروع کیا…حتیٰ کہ یہ تمام رقم (سات لاکھ درہم) اس ایک دن میں ہی ان فقراء میں تقسیم کردی گئی۔