Chapter 1 of 4

حضرت طلحہ بن عبیداللہ التَیمی رضی اللہ عنہ

رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدرصحابی حضرت طلحہ بن عبیداللہ التیمی رضی اللہ عنہ کاتعلق مکہ شہر میں قبیلۂ قریش کے خاندان ’’بنوتَیم‘‘سے تھا(۱)مکہ شہرمیں ان کی ولادت رسول اللہ ﷺ کی ولادت باسعادت کے تقریباًپچیس سال بعدہوئی۔ ٭حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ ’’السابقین الأولین‘‘یعنی بھلائی میں سبھی لوگوں پرسبقت لے جانے والوں میں سے تھے،یعنی وہ عظیم ترین افرادجنہوں نے بالکل ابتدائی دورمیں دینِ اسلام قبول کیا کہ جب مسلمانوں کیلئے بہت ہی مظلومیت اوربے بسی وبے چارگی کازمانہ چل رہاتھا…یہی وجہ ہے کہ ان حضرات کابڑامقام ومرتبہ ہے ،ان کیلئے عظیم خوشخبریاں ہیں ٗ اورانہیں قرآن کریم میں ’’السابقین الأولین‘‘کے نام سے یادکیاگیاہے۔ ٭مزیدیہ کہ حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ ’’عشرہ مبشرہ‘‘یعنی ان دس خوش نصیب ترین افرادمیں سے تھے جنہیں اس دنیاکی زندگی میں ہی رسول اللہ ﷺ نے جنت کی خوشخبری سے شادکام فرمایاتھا۔ اُس دورمیں قبیلۂ قریش کے دیگرمعززوبااثرافرادکی طرح طلحہ بن عبیداللہ کاذریعۂ معاش بھی تجارت تھا،چنانچہ تجارتی قافلوں کے ہمراہ مکہ سے ملکِ شام کی جانب آمدورفت کا سلسلہ جاری رہتاتھا۔ ایسے ہی ایک تجارتی سفرکے دوران جب طلحہ بن عبیداللہ ملکِ شام کے شہربُصریٰ کے ایک پُررونق بازارمیں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ موجودتھے، اُس وقت بازارمیں تجارت خوب زوروں پرتھی،خریدوفروخت کاسلسلہ عروج پرتھا،ان کے ساتھی بڑی دلچسپی کے ساتھ خوب بڑھ چڑھ کربولیاں لگارہے تھے…بے پناہ رش اورتاجروں کے اس شورکی وجہ سے کان پڑی آوازسنائی نہیں دے رہی تھی…(۱) اسی دوران اچانک طلحہ بن عبیداللہ کی سماعت سے ایک ایسی آوازٹکرائی جس میں محض ان کیلئے ہی نہیں …بلکہ تمام دنیائے انسانیت کیلئے بڑی خوشگوارتبدیلی کاپیغام تھا… ہوایہ کہ ملکِ شام کے اُس بازارمیں خریدوفروخت کے اس سلسلے کے دوران انہوں نے دیکھاکہ ایک ضعیف ونحیف اورعمررسیدہ راہب (پادری) ہرآنے جانے والے کوروک روک کراس سے یہ پوچھ رہاہے کہ ’’ارے کوئی مجھے بتائے کہ تاجروں کی اس بھیڑمیں کیاکوئی ایساتاجربھی ہے جس کاتعلق مکہ کی سرزمین سے ہو؟‘‘ بوڑھے راہب کی زبانی یہ سوال سن کرطلحہ بن عبیداللہ چونک اٹھے…اوراس کے قریب جا کر کہاکہ’’جی ہاں …میں مکہ کاباشندہ ہوں ‘‘ تب اس بوڑھے راہب نے ان سے دریافت کیا’’کیاتمہارے شہرمکہ میں ’’احمد‘‘ کا ظہور ہو چکا ہے؟‘‘ انہوں نے جواب میں اس سے پوچھا’’کون احمد؟‘‘ راہب نے کہا’’عبداللہ بن عبدالمطلب کابیٹا‘‘ اورپھراپنی گفتگوجاری رکھتے ہوئے مزیدکہا’’آجکل یہ وہی زمانہ چل رہاہے جس میں ان کا ظہور طے ہے،وہ آخری نبی ہیں ، ان کاظہورتمہارے شہرمیں ہوگا،اورپھروہ ایک ایسی سرزمین کی طرف ہجرت کرجائیں گے جہاں بکثرت کھجوروں کے باغ ہوں گے‘‘۔ اس بوڑھے راہب کی یہ بات طلحہ بن عبیداللہ کے دل میں پیوست ہوگئی…اوروہ اپنے ساتھیوں کی واپسی کاانتظارکئے بغیران سے پہلے ہی اکیلے ملکِ شام سے مکہ کی طرف روانہ ہوگئے،اوریہ طویل ترین مسافت تنہاطے کرتے ہوئے مکہ آپہنچے… مکہ شہرمیں آمدکے بعداپنے گھرپہنچتے ہی گھروالوں سے دریافت کیا ’’کیامیری غیر موجودگی میں یہاں مکہ شہرمیں کوئی خاص واقعہ رونماہواہے؟‘‘ گھروالوں نے جواب دیاکہ’’ہاں !آپ کی غیرموجودگی میں محمدبن عبداللہ نے نبوت کا دعویٰ کیاہے…اوراس معاملے میں ابوبکران کے ہمنوابن گئے ہیں ‘‘ طلحہ بن عبیداللہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے کہ محمدبن عبداللہ( ﷺ )انتہائی راست باز اوردیانت دارانسان ہیں …لہٰذاوہ سوچنے لگے کہ جس شخص(یعنی محمدبن عبداللہ ﷺ ) نے آج تک کبھی زندگی میں جھوٹ نہیں بولا…وہ اب کس طرح جھوٹ بول سکتاہے؟ طلحہ بن عبیداللہ رسول اللہ ﷺ کی امانت ودیانت اورراست بازی کے علاوہ ابوبکر(رضی اللہ عنہ) کے حسنِ اخلاق اورشریفانہ طورطریقوں سے بھی خوب واقف اوربہت متأثرتھے ، لہٰذااپنے گھروالوں کی زبانی جب یہ بات سنی کہ ابوبکرنے محمدبن عبداللہ کادین اپنا لیا ہے تومزیدمتأثرہوئے …اوردل ہی دل میں سوچنے لگے کہ تمام شہرمکہ کے یہ دونوں انتہائی سچے اورشریف ترین انسان بیک وقت کسی غلط بات پرمتفق ہوجائیں …یہ نہیں ہوسکتا‘‘۔ انہی خیالات میں گم طلحہ بن عبیداللہ اولین فرصت میں حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے،اُن سے پیغمبرِاسلام اوردینِ اسلام کے بارے میں معلومات حاصل کیں ،تب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے بارے میں انہیں مطلع کیا… حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی زبانی آپؐ کی بعثت کے بارے میں جاننے کے بعدطلحہ بن عبیداللہ نے ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کووہ تمام باتیں بتائیں جواسی بارے میں انہوں نے وہاں مکہ سے بہت دورملکِ شام میں …بوڑھے راہب سے سنی تھیں …تب ابوبکررضی اللہ عنہ خوشگوارحیرت میں مبتلاہوگئے… اورپھرفوراًہی حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ اپنے دوست طلحہ بن عبیداللہ کوہمراہ لئے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچے…جہاں آپ ﷺ نے طلحہ کے سامنے اللہ کے کلام کی چندآیات پڑھ کرسنائیں ،اورپھردین ودنیامیں خیروخوبی کی بشارت دیتے ہوئے انہیں دینِ برحق قبول کرنے کی دعوت دی…آپؐ کی یہ مبارک گفتگوسن کرطلحہ کادل ایمان کے نورسے جگمگانے لگا،اورتب انہوں نے آپؐ کے سامنے اپنے قبولِ اسلام کا اقرار و اظہار کرتے ہوئے یہ کلمات کہے’’ اشہدأن لاالٰہ الااللہ، واشہدأنک عبداللہ ورسولہ‘‘یعنی ’’میں گواہی دیتاہوں کہ اللہ کے سواکوئی عبادت کے لائق نہیں ، اورمیں گواہی دیتاہوں کہ آپؐ اللہ کے بندے اوراس کے رسول ہیں ‘‘۔ دینِ اسلام کاوہ بالکل ابتدائی دورتھا…کہ جب دینِ اسلام قبول کرناموت کودعوت دینے کے مترادف تھا…مشرکینِ مکہ کی طرف سے ایذاء رسانیوں اوربدسلوکیوں کے وہ لامتناہی سلسلے … طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کوبھی ان تمامترجان لیوا…صبرآزما…انتہائی مشکل ترین اورتکلیف دہ مراحل سے گذرناپڑا…مگران کے پائے استقامت میں کوئی لغزش نہ آئی ، راہِ حق میں تمام آزمائشوں اورہرقسم کی تکلیفوں کاخندہ پیشانی کے ساتھ سامناکرتے رہے …حتیٰ کہ اسی کیفیت میں تیرہ سالہ مکی دورگذرگیا…ہجرتِ مدینہ کاحکم نازل ہونے پردیگرمسلمانوں کی طرح حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے بھی اللہ اوراس کے رسول ﷺ کے حکم کے سامنے سرِتسلیم خم کرتے ہوئے اپنے آبائی شہرمکہ کوخیربادکہا،اورسب کچھ چھوڑچھاڑکرخالی ہاتھ نئی منزل…یعنی مدینہ جاپہنچے…جہاں مہاجرین وانصارکوباہم ’’رشتۂ مؤاخاۃ‘‘میں پروتے وقت رسول اللہ ﷺ نے انہیں انصارِمدینہ میں سے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کابھائی بنایا۔ (۱) ٭ہجرتِ مدینہ کے فوری بعدمحض اگلے سال ہی جب مشرکینِ مکہ کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف جنگیں مسلط کرنے کاسلسلہ شروع ہوا…جس کے نتیجے میں حق وباطل کے درمیان پیش آنے والے اولین معرکہ یعنی غزوۂ بدرسے چندروزقبل رسول اللہ ﷺ نے حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کو مشرکینِ مکہ کے لشکرکی نقل وحرکت پر نظر رکھنے کی غرض سے مدینہ شہرسے باہرکہیں بھیج رکھاتھا…اوراسی دوران غزوۂ بدرکااہم ترین واقعہ پیش آگیا…لہٰذاحضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ غزوۂ بدرمیں شرکت نہیں کرسکے تھے … البتہ اس کے باوجودآپؐ نے انہیں اجروثواب کی خوشخبری سے شادکام فرمایاتھا۔ غزوۂ بدرکے بعدرسول اللہ ﷺ کی حیاتِ طیبہ کے دوران جتنے بھی غزوات پیش آئے ٗ ہرغزوے کے موقع پرحضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی زیرِقیادت حاضراورشریک رہے اوراللہ کے دین کی سربلندی کی خاطرہمیشہ بے مثال شجاعت وبہادری کامظاہرہ کرتے رہے… بالخصوص غزوۂ بدرکے بعدمحض اگلے ہی سال یعنی سن تین ہجری میں غزوۂ اُحدکے موقع پران کاکرداریقیناتاریخِ اسلام کے ایک ناقابلِ فراموش باب کی حیثیت رکھتاہے… غزوۂ اُحدکے موقع پرکیفیت یہ ہوئی کہ ابتداء میں مسلمان یہ جنگ تقریباًجیت ہی چکے تھے، لیکن پھراپنی ہی ایک غلطی کی وجہ سے ان کی یہ فتح شکست میں تبدیل ہوگئی…تب مسلمان اپنی صفوں میں نظم وضبط برقرار نہ رکھ سکے…باہم رابطہ بھی منقطع ہوگیا…لشکرمیں ہر طرف بدنظمی اورافراتفری پھیل گئی…اوریوں مسلمانوں کوبڑی ہی پریشان کن صورتِ حال سے دوچارہوناپڑا… اس افراتفری کے ماحول میں کہ جب سبھی بکھرچکے تھے…سراسیمگی وانتشارکی کیفیت طاری تھی…ایسے میں مٹھی بھرچندافرادجوبدستوررسول اللہ ﷺ کے گردگھیراڈالے ہوئے بڑی ہی بے جگری کے ساتھ دشمنوں کامقابلہ کررہے تھے…ان میں حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے…اس دوران ایک موقع ایسابھی آیاتھاجب رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ محض تنہارہ گئے تھے،مشرکین اس دوران آپؐ کونشانہ بنانے کی سرتوڑکوشش کرتے رہے،بالخصوص اُن کی طرف سے تیراندازی کا سلسلہ بہت زوروں پرتھا…ایسے میں حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ مسلسل رسول اللہ ﷺ کے سامنے ڈھال بنے رہے،نیزاس نازک ترین موقع پر،تیروں کی اس بوچھاڑکے درمیان…نوبت یہاں تک جاپہنچی کہ اس طرف آتے ہوئے بہت سے تیروں کوانہیں اپنے ہاتھوں پرروکناپڑا،جس کانتیجہ یہ ہوا کہ ان کاایک بازوہمیشہ کیلئے مفلوج ہوگیا۔ نیزاس نازک ترین صورتِ حال میں ایک موقع ایساآیاکہ حفاظتی اقدام کے طورپررسول اللہ ﷺ نسبۃً ایک محفوظ مقام کی جانب منتقل ہوناچاہتے تھے،وہ مقام کچھ بلندی پر تھا، وہاں تک پہنچنے کیلئے ایک بڑی چٹان کے اوپرسے گذرناضروری تھا…آپ ﷺ اُس وقت لہولہان تھے،سرسے خون بہہ رہاتھا،رُخِ انورپربھی کاری زخم آیاتھا،نقاہت بہت زیادہ تھی…لہٰذاآپؐ کواس چٹان پرچڑھنے میں بڑی دشواری پیش آرہی تھی،،تب حضر ت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کواپنی پشت پراٹھالیا…اورساتھ ہی مستقل طور پرکبھی دشمنوں کی طرف سے آنے والے کسی تیرکوروکتے…کبھی تعاقب میں آنے والے کسی مشرک کورفع دفع کرتے…حالانکہ اس وقت وہ خود زخموں سے چوراوربہت زیادہ نڈھال تھے…ایک ہاتھ بالکل شل ہوچکاتھا…لیکن ان تمامترمشکلات کے باوجود اُس وقت انہوں نے آپؐ کومسلسل اپنی پشت پراٹھائے رکھا…حتیٰ کہ اسی کیفیت میں انتہائی دشوارگذارپہاڑی راستے پرچلتے ہوئے اُس بلندچٹان پرچڑھے اورآپؐ کواس محفوظ مقام تک پہنچایاجہاں آپؐ پہنچناچاہتے تھے…اورتب آپؐ نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے یہ ارشادفرمایاتھا: أوجَبَ طَلحَۃ یعنی’’طلحہ کیلئے توجنت لازمی ہوچکی‘‘(۱) رسول اللہ ﷺ کواپنی پشت پراٹھائے محفوظ مقام پرپہنچانے کے بعدحضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ زخموں سے چوراورلہولہان ہونے کی وجہ سے خودکوسنبھال نہ سکے اورفوراًہی نڈھال ہوکرگرگئے…چونکہ وہ مقام نسبۃًبلندی پرواقع تھا ٗلہٰذاجب یہ گرے توبیہوشی کی کیفیت میں لڑھکتے ہوئے نیچے کسی گڑھے میں جاپڑے… حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ’’اُحدکے دن جب ہرطرف افراتفری پھیلی، تب کسی کوکچھ پتہ نہ چل سکاکہ وہ کہاں ہے اورکیاہورہاہے؟پھرجب صورتِ حال قدرے بہترہوئی تومیں رسول اللہ ﷺ کی تلاش میں نکل کھڑاہوا…اسی دوران مجھے ابوعبیدہ بن الجراح (رضی اللہ عنہ) مل گئے ،وہ بھی آپؐ کوہی تلاش کررہے تھے،اورپھرہم دونوں مل کر آپؐ کوتلاش کرتے رہے…آخرایک بلندجگہ پرآپؐ ہمیں نظرآئے،ہم دونوں وہاں پہنچے، آپؐ کی کیفیت یہ تھی کہ جبینِ اقدس پرزخم تھا،روئے مبارک لہولہان تھا،زرہ کی چندکڑیاں رخسارمبارک میں پیوست تھیں …لیکن اس کیفیت کے باوجودآپؐ نے نیچے ایک گڑھے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایاکہ ’’پہلے ذرہ اپنے اس ساتھی کی خبرلے لو‘‘تب ہم نے دیکھااُس گڑھے میں طلحہ بیہوش پڑے تھے،ایک ہاتھ تیروں سے بری طرح چھلنی تھا اور بالکل مفلوج ہوچکاتھا،تمام جسم لہولہان تھا،تب ہم نے طلحہ کووہاں سے اٹھاکرنسبۃً مناسب مقام کی طرف جب منتقل کیاتواس وقت ہمیں ان کے جسم پرمختلف مقامات پرچھوٹے بڑے ستر سے زائدزخم نظرآئے…‘‘ غزوہ ٔاُحدکے اس تاریخی موقع پرحضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے جس طرح جاں فشانی وسرفروشی کامظاہرہ کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی طرف سے مدافعت وحمایت کامبارک ترین فریضہ سرانجام دیاتھا…یقینااسی کانتیجہ تھاکہ آپؐ نے ایک باران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ ارشادفرمایاتھا: مَن سَرَّہٗ أن یَنْظُرَ اِلَیٰ شَھِیدٍ یَمْشِي عَلَیٰ وَجہِ الأرضِ فَلیَنْظُر اِلَیٰ طَلحَۃَ بنِ عُبَیدِ اللّہ ۔ (۱) یعنی’’جس کسی کی یہ خواہش ہوکہ وہ کسی ایسے شہیدکودیکھے جو[زندہ سلامت]زمین پرچل پھررہاہو ٗ تووہ طلحہ بن عبیداللہ کودیکھ لے‘‘۔ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے سامنے جب بھی غزوۂ اُحدکاتذکرہ ہوتاتوآپؓ بیساختہ فرمایاکرتے تھیـ: ذلِکَ کُلُّہُ کَانَ یَومُ طَلحَۃ ۔ یعنی’’وہ تمام دن توبس طلحہ ہی کا دن تھا‘‘۔ مقصدیہ کہ اُس روزطلحہ نے جس طرح سرفروشی وجاں نثاری کامظاہرہ کیاتھا اُس کی وجہ سے گویاغزوۂ اُحداورطلحہ بس ہمیشہ کیلئے لازم وملزوم ہوکررہ گئے ہیں ۔ شب وروزاورآتے جاتے موسموں کایہ سفرجاری رہا…حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضری ٗ کسبِ فیض ٗاستفادہ ٗ نیزآپؐ کی خدمت وپاسبانی کایہ سلسلہ اسی طرح چلتارہا…آپؐ کی طرف سے بھی طلحہؓکیلئے محبتوں اورشفقتوں کے مبارک سلسلے مسلسل جاری رہے…حتیٰ کہ اسی کیفیت میں آپؐ کامبارک دور گذرگیا…آپؐ تادمِ آخران سے انتہائی خوش اورمسرورومطمئن رہے۔