Chapter 3 of 4

حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ عہدِنبوی کے بعد

رسول اللہ ﷺ کی اس جہانِ فانی سے رحلت کاجاں گدازواقعہ جب پیش آیا…تب ہرطرف رنج والم کی کیفیت طاری تھی…فضاء انتہائی سوگوارتھی…ہرکوئی غم کے سمندرمیں ڈوباہواتھا…ہوش وحواس جواب دے رہے تھے… اس نازک ترین صورتِ حال میں مزید ایک اوربہت ہی نازک اورحساس ترین معاملہ جودرپیش تھا…وہ یہ کہ رسول اللہ ﷺ کے بعداب آپؐ کا جانشین کون ہوگا…؟ اسی بارے میں گفت وشنید کی غرض سے مسلمان بڑی تعدادمیں ’’سقیفۂ بنی ساعدہ‘‘نامی مقام پرجمع تھے…تبادلۂ خیال کاسلسلہ جاری تھا۔ اسی دوران حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ نے لوگوں کومخاطب کرتے ہوئے اس نازک موقع پر ’’فتنہ وافتراق‘‘سے بچنے ٗ اوراتفاق واتحادکوبہرصورت قائم رکھنے کی اہمیت وضرورت کے بارے میں مختصرگفتگوکی ، اس کے بعدحضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ ٗنیزحضرت ابوعبیدہ عامربن الجراح رضی اللہ عنہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایاکہ ’’یقینایہی دوحضرات رسول اللہ ﷺ کی جانشینی کے قابل ہیں …لہٰذا میرامشورہ یہ ہے کہ ان میں سے کسی ایک کے ہاتھ پرجلدازجلدبیعت کر لی جائے‘‘۔ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی یہ بات سُن کرحضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ہم میں سے کس کادل اس بات کوگواراکرے گاکہ وہ شخص (یعنی حضرت ابوبکر صدیقؓ) جسے خودرسول اللہ ﷺ نے ہماری امامت کیلئے منتخب فرمایاتھا…اس کے ہوتے ہوئے کسی اورکواس منصب کیلئے منتخب کیاجائے…؟ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ بات سنتے ہی حضرت عمررضی اللہ عنہ نے … اورپھرحضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پربیعت کی…اورپھررفتہ رفتہ دیگرتمام مسلمانوں نے بھی بیعت کی۔ اس واقعے سے جہاں حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کاتواضع وانکسار ٗ اخلاص ٗزہدوتقویٰ ٗ اورایثارظاہرہوتاہے…وہیں یہ بات بھی خوب واضح وثابت ہوجاتی ہے کہ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدرانسان کی نظرمیں ان کی کتنی بڑی اہمیت اورقدرومنزلت تھی…یعنی حضرت ابوبکرؓ کی نظرمیں حضرت عمرؓ کی طرح حضرت ابوعبیدہؓبھی رسول اللہ ﷺ کے اولین جانشین اورخلیفۃ المسلمین کے عظیم ترین منصب کیلئے نہایت مناسب اورموزون ترین شخصیت تھے۔ ٭خلیفہ ٔ اول حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے دورِخلافت میں حضرت ابوعبیدہ عامربن الجراح رضی اللہ عنہ کوہمیشہ ممتازومنفردمقام ومرتبہ حاصل رہا…انہیں ہمیشہ حضرت ابوبکرؓ کے قریبی ترین ساتھی اورمشیرِخاص کی حیثیت سے دیکھاجاتارہا…(۱) ٭اُس دورمیں روئے زمین کی عظیم ترین قوت یعنی سلطنتِ روم کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف وقتاًفوقتاًجارحیت اوراشتعال انگیزی کاسلسلہ خودرسول اللہ ﷺ کے زمانے سے ہی چلاآرہاتھا…جس کے نتیجے میں ’’غزوۂ مؤتہ‘‘اورپھرتاریخی اوریادگار’’غزوۂ تبوک‘‘ کی نوبت آئی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی حیاتِ طیبہ کے آخری دنوں میں حضرت اُسامہ بن زیدرضی اللہ عنہما (جواس وقت بالکل نوعمرتھے) کی زیرِقیادت ایک لشکرسلطنتِ روم کے ایک علاقے (موجودہ اُردن) کی جانب روانہ فرمایاتھا…لیکن ابھی یہ لشکرمدینہ شہرکے مضافات میں ہی تھاکہ آپؐ کی طبیعت کی ناسازی کی اطلاع ملنے پریہ لشکراسی جگہ رک گیا اوراس کی روانگی کوملتوی کردیاگیا…اورپھراسی دوران آپؐ کی رحلت کاجاں گدازواقعہ پیش آگیا۔ رسول اللہ ﷺ کی اس جہانِ فانی سے رحلت کے فوری بعدحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے جب اولین جانشین اورخلیفۃ المسلمین کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں تونازک ترین صورتِ حال…اورہرطرف سے اُمڈتے ہوئے اندرونی وبیرونی خطرات کے باوجود… اس لشکرکوملکِ شام کی جانب روانہ فرمایا۔ اس کے بعدسن بارہ اورپھرسن تیرہ ہجری میں حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے مختلف اوقات میں مختلف افراد(۱)کی زیرِقیادت متعددلشکرسلطنتِ روم کی جانب روانہ کئے،اسی دوران ایک لشکرحضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کی زیرِقیادت بھی روانہ کیاگیا۔ یہ تمام لشکرسلطنتِ روم(موجودہ ملکِ شام ٗ اردن ٗ فلسطین ٗ اورلبنان وغیرہ)کے مختلف علاقوں میں مختلف اطراف سے نہایت برق رفتاری کے ساتھ پیش قدمی کرتے ہوئے آخرباہم جاملے،تب حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے حکم پران تمام لشکروں کوحضرت خالدبن ولیدرضی اللہ عنہ کی سپہ سالاری میں یکجاکردیاگیا…تاکہ اب روئے زمین کی عظیم ترین قوت یعنی’’ سلطنتِ روم‘‘ کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جاسکے۔ چنانچہ اس کے بعدحضرت خالدبن ولیدرضی اللہ عنہ کی زیرِقیادت مسلمانوں نے رومیوں کے خلاف بڑی یادگارجنگیں لڑیں …جن میں سب سے زیادہ تاریخی اورفیصلہ کن قسم کی جنگ’’یرموک‘‘تھی …جوسن تیرہ ہجری میں لڑی گئی،اورجومسلمانوں کے ہاتھوں سلطنتِ روم کے ہمیشہ کیلئے زوال کاپیش خیمہ ثابت ہوئی،جس سے ہمیشہ کیلئے دنیاکانقشہ ہی بدل گیا… اس تاریخی جنگ کے موقع پراسلامی لشکرچوبیس ہزار…جبکہ رومیوں کالشکرایک لاکھ بیس ہزارسپاہیوں پرمشتمل تھا…مسلمان اپنے وطن سے دور…جبکہ دشمن اپنے ہی وطن میں اوراپنی ہی سرزمین پرتھا۔ انہی دنوں جنگِ یرموک سے کچھ قبل اُدھرمدینہ میں خلیفۂ اول حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کاانتقال ہوگیا،جس پران کی وصیت کے مطابق خلافت کی ذمہ داریاں حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے سنبھال لیں …جوکہ خودرسول اللہ ﷺ اورپھرخلیفۂ اول کے دورمیں بھی مشاورت کے فرائض انجام دیتے چلے آرہے تھے،یہی وجہ تھی کہ تمام معاملات پران کی گہری نگاہ رہتی تھی اورنہایت باریک بینی سے تمام امورکاجائزہ لیاکرتے تھے۔ چنانچہ خلافت کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعدملکی نظم ونسق سے متعلق متعدد امورمیں انہوں نے کچھ تبدیلیاں کیں …اسی ضمن میں ایک بڑی تبدیلی یہ کی کہ ملکِ شام میں رومیوں کے خلاف برسرِپیکاراسلامی لشکرکے سپہ سالارحضرت خالدبن ولیدرضی اللہ عنہ کوان کے اس منصب سے معزول کرکے ان کی جگہ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کوسپہ سالارمقررکرنے کافیصلہ کیا۔ چنانچہ اس سلسلے میں حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے نام خط تحریرکیا ٗجس میں انہیں حضرت خالدبن ولیدرضی اللہ عنہ کی جگہ بطورِسپہ سالار ذمہداریاں سنبھالنے کی تاکیدکی۔ جن دنوں حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف سے یہ خط حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کوموصول ہوا…اُن دنوں مسلمان نہایت زوروشورکے ساتھ حضرت خالدؓ کی سپہ سالاری میں سلطنتِ روم کے خلاف انتہائی نازک اورفیصلہ کن جنگ’’یرموک‘‘کیلئے تیاریوں میں مشغول تھے… تیاری آخری مراحل میں تھی اورجذبات عروج پرتھے…لہٰذا خلیفۂ وقت حضرت عمرؓ کی طرف سے یہ مکتوب ملنے کے بعدحضرت ابوعبیدہؓ بڑی کشمکش میں مبتلا ہوگئے… کیونکہ ایسے نازک موقع پرسپہ سالارِاعلیٰ کی تبدیلی سے متعلق اس حکم کی تعمیل … یہ اتنابڑااقدام… لشکرمیں اتنی بڑی تبدیلی…یہ چیزفی الحال کسی طرح مناسب نہیں تھی، کیونکہ اس طرح اسلامی لشکرمیں باہم اختلاف وافتراق اوررنجش و تلخی پیداہوسکتی تھی اور اس نازک موقع پریہ معاملہ مسلمان سپاہیوں کیلئے حوصلہ شکنی اورپست ہمتی کاسبب بن سکتاتھا۔ چنانچہ اس صورتِ حال کومدِنظررکھتے ہوئے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے خلیفۂ وقت حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف سے موصول شدہ اس مکتوب اوراس کے مضمون کے بارے میں مکمل خاموشی اختیارکی …اوراس معاملے کواس جنگِ یرموک کے بعدتک ملتوی کرنے کافیصلہ فرمایا۔ چنانچہ جنگِ یرموک کاجب اختتام ہوا اوریہ نازک ترین مرحلہ بخیروخوبی طے کرلیاگیا، تب ایک روزحضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں نہایت ادب اورمحبت کے ساتھ حضرت خالدبن ولیدرضی اللہ عنہ کواطلاع دی…اس پرحضرت خالدؓ نے جواب میں نہایت عزت واحترام کے ساتھ انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا: یَرحَمُکَ اللّہُ یَا أبَا عُبَیدَۃ ، مَا مَنَعَکَ أن تُخْبِرَنِي حِینَ جَائَ کَ ھٰذَا الکِتَابُ؟ یعنی ’’ابوعبیدہ! اللہ آپ پررحم فرمائے…آپ کوجب یہ خط موصول ہواتھا اُسی وقت آپ نے مجھے اس بارے میں مطلع کیوں نہیں فرمادیا؟‘‘ جواب میں ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اِنِّي کَرِھْتُ أن أَکسِرَ عَلَیکَ حَربَکَ… یعنی’’مجھے یہ بات گوارانہیں تھی کہ میں آپ کواس بارے میں مطلع کرکے آپ کی جنگی تیاریوں کی راہ میں کسی پریشانی کاسبب بنوں ‘‘ اور پھرمزیدفرمایا: وَمَا سُلْطَانَ الدُّنیَا نُرِید ، وَلَا لِلدُّنیَا نَعْمَل ، وَکُلُّنَا فِي اللّہِ اِخْوَۃ… یعنی’’ہمیں کسی دنیاوی شان وشوکت کاکوئی لالچ نہیں ہے،اورنہ ہی یہ دنیاہمارامطلوب ومقصودہے…ہم سب توبس اللہ کی راہ میں بھائی بھائی ہیں ‘‘۔ تب حضرت خالدبن ولیدرضی اللہ عنہ نے تمام لشکرکومطلع کیاکہ ’’دیکھواب یہ ابوعبیدہ ہمارے نئے سپہ سالارہیں ‘‘۔ نیزاس موقع پرابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ اپنی عقیدت ومحبت اوروفاداری کے اظہارکے طورپرمزیدیہ الفاظ بھی کہے : اِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللّہِ ﷺ یَقُول : أَمِینُ ھٰذِہِ الأُمَّۃِ أبُوعُبَیْدَۃ ۔ یعنی’’میں نے رسول اللہ ﷺ کویہ ارشادفرماتے ہوئے سناہے کہ’’اس اُمت کے خاص امین ابوعبیدہ ہیں ‘‘۔ اس پرحضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ یوں گویاہوئے: وَاِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللّہِ ﷺ یَقُول: خَالِدُ بنُ الوَلِیدِ سَیفٌ مِن سُیوفِ اللّہِ ۔(۱) یعنی’’میں نے رسول اللہ ﷺ کویوں ارشادفرماتے ہوئے سناہے کہ ’’خالدبن ولیدتواللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوارہیں ‘‘ اوریوں اس اہم موقع پران دونوں جلیل القدرشخصیات نے تمام لشکرکے سامنے ایک دوسرے کیلئے خیرسگالی ٗ عقیدت ومحبت ٗ اورادب واحترام کے جذبات کااظہارکیا۔ اس کے بعدنئے سپہ سالاریعنی حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی زیرِقیادت سلطنتِ روم کے خلاف مسلسل پیش قدمی اورفتوحات کایہ سلسلہ جاری رہا…حتیٰ کہ سن پندرہ ہجری میں انہی کی سپہ سالاری میں ’’دمشق‘‘فتح ہوا،اورپھر’’فتحِ بیت المقدس‘‘کاانتہائی یادگاراورعظیم الشان واقعہ پیش آیا۔ اس یادگاراورتاریخی موقع پرجب رومیوں کے ساتھ ایک معاہدے کے نتیجے میں رومیوں کی طرف سے بیت المقدس کی چابی اب مسلمانوں کے حوالے کی جانی تھی، تب خلیفۂ دوم حضرت عمرؓ نے مدینہ میں حضرت علی ؓ کواپنانائب مقررفرمایاتھا اورخودمدینہ سے طویل سفرطے کرتے ہوئے بیت المقدس پہنچے تھے۔ اُس وقت حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ تمام اسلامی لشکرکے سپہ سالارِاعلیٰ تھے…بلکہ اُن دنوں انہیں ’’اَمیرالاُمراء‘‘کے لقب سے بھی یادکیاجاتاتھا…کیونکہ مختلف علاقوں میں بڑی تعدادمیں موجوداسلامی لشکروں کے سپہ سالارانہی کی زیرِنگرانی فرائض انجام دے رہے تھے، نیزیہ کہ سلطنتِ روم کے اس قدروسیع وعریض مفتوحہ علاقوں میں (۱) انہی کاحکم چل رہاتھا…رومیوں کے چھوڑے ہوئے تمام خزانے انہی کے قدموں میں تھے۔ لیکن اس کے باوجودخلیفۂ وقت امیرالمؤمنین حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ جب مدینہ منورہ سے بیت المقدس تشریف لائے اوروہاں انہوں نے اپنی طرف سے مقررفرمودہ سپہ سالارِاعلیٰ حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کااس قدرسیدھاسادھاطرزِزندگی دیکھا، توبہت زیادہ متأثرہوئے…اورانہیں مخاطب کرتے ہوئے بیساختہ یہ الفاظ کہے : غَیَّرتْنَا الدُّنیَا کُلَّنَا … غَیرَکَ یَا أبَا عُبَیدَۃ… یعنی‘‘اے ابوعبیدہ ! اس دنیاوی خوشحالی وفراوانی نے ہم سب ہی کوبدل کررکھ دیاہے… سوائے آپ کے…‘‘ خلیفۂ دوم امیرالمؤمنین حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ توپہلے ہی اپنے پرانے ساتھی ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی شخصیت سے بہت زیادہ متأثرتھے، اب بیت المقدس سے واپسی کے بعد مزیدمتأثرہوگئے،چنانچہ اب وہ مدینہ میں بسااوقات ان کاذکرِخیرکیاکرتے تھے۔(۱)