Sunan At-Tirmidhi 3241

قرآن کی تفسیر کا بیان

3241Sunan At-Tirmidhi

سورہ زمر کی تفسیر

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَتَدْرِي مَا سَعَةُ جَهَنَّمَ ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: أَجَلْ وَاللَّهِ مَا تَدْرِي، حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ، أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِهِ: وَالأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سورة الزمر آية 67، قَالَتْ: قُلْتُ: فَأَيْنَ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ ، وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

مجاہد کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس ؓ نے کہا: کیا تمہیں معلوم ہے جہنم کتنی بڑی ہے؟ میں نے کہا: نہیں، انہوں نے کہا: بیشک، قسم اللہ کی! مجھے بھی معلوم نہ تھا، (مگر) عائشہ ؓ نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے آیت «والأرض جميعا قبضته يوم القيامة والسموات مطويات بيمينه» ساری زمین قیامت کے دن رب کی ایک مٹھی میں ہوگی اور سارے آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے (الزمر: ٦٧) ، کے تعلق سے پوچھا: رسول اللہ! پھر اس دن لوگ کہاں ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: جہنم کے پل پر، (اس سے مجھے معلوم ہوگیا کہ جہنم بہت لمبی چوڑی ہوگی) اس حدیث کے سلسلے میں پوری ایک کہانی ہے۔

Mujahid reported that Sayyidina lbn Abbas .m asked, “Do you know how large Hell is”? He said, “No.” He said, “By Allah, you do not know. Ayshah narrated to me that she asked Allah’s Messenger. ﷺ about Allah’s Words: "And the whole earth will be His handful on the Day of Resurrection, and the heavens will be rolled up in His right hand." (30: 67) She asked, “Where would the people be on that day, O Messenger of Allah”? He said. “On the bridge over Hell.” (There is an account in this hadith.) [Ahmed 24910] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3241
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف: ١٦٢٢٨) (صحیح الإسناد)