Sunan At-Tirmidhi 3243

قرآن کی تفسیر کا بیان

3243Sunan At-Tirmidhi

سورہ زمر کی تفسیر

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ أَنْعَمُ وَقَدِ الْتَقَمَ صَاحِبُ الْقَرْنِ الْقَرْنَ وَحَنَى جَبْهَتَهُ وَأَصْغَى سَمْعَهُ يَنْتَظِرُ أَنْ يُؤْمَرَ أَنْ يَنْفُخَ فَيَنْفُخَ ، قَالَ الْمُسْلِمُونَ: فَكَيْفَ نَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: قُولُوا: حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، تَوَكَّلْنَا عَلَى اللَّهِ رَبِّنَا، ، وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ: عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رَوَاهُ الْأَعْمَشُ أَيْضًا عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں کیسے چین سے رہ سکتا ہوں جب کہ صور پھونکنے والا صور کو منہ سے لگائے ہوئے اپنا رخ اسی کی طرف کئے ہوئے ہے، اسی کی طرف کان لگائے ہوئے ہے، انتظار میں ہے کہ اسے صور پھونکنے کا حکم دیا جائے تو وہ فوراً صور پھونک دے، مسلمانوں نے کہا: ہم (ایسے موقعوں پر) کیا کہیں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: کہو: «حسبنا اللہ ونعم الوکيل توکلنا علی اللہ ربنا وربما» ہمیں اللہ کافی ہے اور کیا ہی اچھا کارساز ہے، ہم نے اپنے رب اللہ پر بھروسہ کر رکھا ہے راوی کہتے ہیں: کبھی کبھی سفیان نے «توکلنا علی اللہ ربنا» کے بجائے «علی اللہ توکلنا» روایت کیا ہے۔ (اس کے معنی بھی وہی ہیں) ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا ہے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “How may I rest when the blower of the horn (trumpet) has already placed it in his mouth, He has lowered his forehead and pricked up his ears awaiting the command to blow that he may blow the trumpet”? The Muslims submitted, "O Messenger of Allah! ﷺ What should we say”? He said, “Say Allah suffices us. He is the best of the Guardians. We place trust in Him, our Lord.” perhaps he (Sufyan) said, "In Allah do we trust. [Ahmed 11039] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، الصحيحة (1078 - 1079)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3243
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اعمش نے بھی اسے عطیہ سے اور عطیہ نے ابو سعید خدری سے روایت کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مولف نے یہ حدیث ارشاد باری تعالیٰ: «ونفخ في الصور فصعق من في السماوات ومن في الأرض» (الزمر: 68) کی تفسیر میں ذکر کی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٤٢٤٤) (صحیح) (سند میں عطیہ ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)