Sunan At-Tirmidhi 3186

قرآن کی تفسیر کا بیان

3186Sunan At-Tirmidhi

تفسیر سورت شعرائ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ قَسَامَةَ بْنِ زُهَيْرٍ، حَدَّثَنَا الْأَشْعَرِيُّ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ فَرَفَعَ مِنْ صَوْتِهِ، فَقَالَ: يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ يَا صَبَاحَاهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي مُوسَى، وَقَدْ رَوَاهُ بَعْضُهُمْ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ قَسَامَةَ بْنِ زُهَيْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِي مُوسَى، وَهُوَ أَصَحُّ ذَاكَرْتُ بِهِ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل فَلَمْ يَعْرِفْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي مُوسَى.

ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ جب آیت: «وأنذر عشيرتک الأقربين» نازل ہوئی تو نبی اکرم ﷺ نے اپنی انگلیاں کانوں میں (اذان کی طرح) ڈال کر بلند آواز سے پکار کہا: یا بنی عبد مناف! یا صباحاہ! اے عبد مناف کے لوگو! جمع ہوجاؤ (اور سنو اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچانے کی کوشش کرو) ۔

Sayyidina Ash’ari (RA) reported that when this verse (26 : 214): was revealed, Allah’s Messenger put his fingers in his ears, raised his voice and said, “O Banu Abd Manaf, O sabahah (fear Allah).”

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3186
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ٢- بعض نے اس حدیث کو عوف سے، اور عوف نے قسامہ بن زہیر کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کیا ہے اور انہوں نے اس میں ابوموسیٰ (اشعری) سے روایت کا ذکر نہیں کیا اور یہی زیادہ صحیح ہے، ٣- میں نے اس کے بارے میں محمد بن اسماعیل بخاری سے مذاکرہ کیا تو انہوں نے ابوموسیٰ اشعری کے واسطہ سے اس حدیث کی معرفت سے اپنی لاعلمی ظاہر کی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٩٠٢٦) (حسن صحیح)