Sunan At-Tirmidhi 3184

قرآن کی تفسیر کا بیان

3184Sunan At-Tirmidhi

تفسیر سورت شعرائ

حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ: وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا صَفِيَّةُ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، إِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهَكَذَا رَوَى وَكِيعٌ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، نَحْوَ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيِّ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عَائِشَةَ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ عَلِيٍّ، وَابْنِ عَبَّاسٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب یہ آیت «وأنذر عشيرتک الأقربين» اے نبی! اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ (الشعراء: ٢١٤) ، نازل ہوئی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے صفیہ بنت عبدالمطلب، اے فاطمہ بنت محمد، اے بنی عبدالمطلب: سن لو میں اللہ سے متعلق معاملات میں تمہاری کچھ بھی حمایت، مدد و سفارش نہیں کرسکتا، ہاں (اس دنیا میں) میرے مال میں سے جو چاہو مانگ سکتے ہو ۔

Sayyidah Ayshah reported that when the verse: "And warn your clan, the nearest kind (26 : 214) was revealed, Allah’s Messenger ﷺ said, “O Safiyah bint Abdul Muttalib, O Fatimah bint Muhammad, O children of Abdul Muttalib, I have no say whatsoever with Allah for you. You may ask me for my wealth whatever you like.” [Ahmed 25592, Muslim 205, Nisai 3647]

صحيح وهو مکرر الحديث (2412)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3184
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اسی طرح روایت کی ہے وکیع اور کئی راویوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے اور عروہ نے عائشہ سے محمد بن عبدالرحمٰن طفاوی کی حدیث کی مانند، ٣- اور بعض راویوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ عروہ سے اور عروہ نے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کی ہے اور اس سند میں عائشہ ؓ کا ذکر نہیں کیا، ٤- اس باب میں علی اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٢٣١٠ (صحیح)