Sunan An Nasai 4084

جنگ کے متعلق احادیث مبارکہ

4084Sunan An Nasai

جادو گر سے متعلق حکم

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَيْسَرَةَ الْمَنْقَرِيُّ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ عَقَدَ عُقْدَةً ثُمَّ نَفَثَ فِيهَا فَقَدْ سَحَرَ، وَمَنْ سَحَرَ فَقَدْ أَشْرَكَ، وَمَنْ تَعَلَّقَ شَيْئًا وُكِلَ إِلَيْهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کوئی گرہ لگائی پھر اس میں پھونک ماری تو اس نے جادو کیا اور جس نے جادو کیا، اس نے شرک کیا ١ ؎ اور جس نے گلے میں کچھ لٹکایا، وہ اسی کے حوالے کردیا گیا ٢ ؎۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever ties a know and blows on it, he has practiced magic; and whoever practices magic, he has committed Shirk; and whoever hangs up something (as an amulet) will be entrusted to it.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4079
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مشرکین کا عمل اپنایا، یہ شرک اس صورت میں ہے جب وہ اس میں حقیقی تأثیر کا اعتقاد رکھے، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ پر توکل و اعتماد ترک کردینے کے سبب وہ شرک خفی کا مرتکب ہوگا۔ اور مؤلف کا استدلال اسی جملہ سے ہے، یعنی جادو کرنے والا شرک کا مرتکب ہوا تو مرتد ہوگیا۔ ٢ ؎: یعنی اللہ کی نصرت و تائید اسے حاصل نہیں ہوگی۔ تعویذ کے سلسلہ میں راجح قول یہ ہے کہ اس کا ترک کرنا ہر حال میں افضل ہے، بالخصوص جب اس میں شرکیہ کلمات ہوں یا اس کے مفید یا مضر ہونے کا اعتقاد رکھے۔ تو اس سے دور رہنا واجب و فرض ہے، ایسے تعویذ جو قرآنی آیات پر مشتمل ہوں اس کی بابت علماء کا اختلاف ہے، کچھ لوگ اس کے جواز کے قائل ہیں اور ممانعت کی حدیث کو اس صورت پر محمول کرتے ہیں جب اس میں شرکیہ کلمات ہوں، جب کہ دوسرے لوگ جیسے عبداللہ بن مسعود ؓ، نیز دیگر صحابہ ارشاد نبوی من تعلق شیأ وکل إلیہ کے عموم سے استدلال کرتے ہوئے، نیز آیات و احادیث کی بیحرمتی کے سبب حرام قرار دیتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٢٢٥٥) (ضعیف) (اس کے راوی ” عباد بن میسرہ “ ضعیف ہیں، لیکن اس کا جملہ ” من تعلق ۔۔۔ الخ دیگر روایات سے صحیح ہے )