اس اختلاف کا تذکرہ جو راویوں نے طاس کی روایت میں بیان کیا
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ يَهَبُ هِبَةً ثُمَّ يَعُودُ فِيهَا إِلَّا الْوَالِدَ، قَالَ طَاوُسٌ: كُنْتُ أَسْمَعُ الصِّبْيَانَ يَقُولُونَ: يَا عَائِدًا فِي قَيْئِهِ، وَلَمْ أَشْعُرْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ ذَلِكَ مَثَلًا حَتَّى بَلَغَنَا أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: مَثَلُ الَّذِي يَهَبُ الْهِبَةَ ثُمَّ يَعُودُ فِيهَا وَذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَأْكُلُ قَيْئَهُ.
تابعی طاؤس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی کو کوئی چیز ہبہ کرے پھر اسے واپس لے لے سوائے باپ کے ۔ طاؤس کہتے ہیں کہ میں بچوں کو کہتے ہوئے سنتا تھا يا عائدا في قيئه ! اے اپنی قے کے چاٹنے والے، اور نہیں جانتا تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی مثال دی ہے یہاں تک کہ مجھے یہ حدیث پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے: اس شخص کی مثال جو ہبہ دے کر واپس لے لیتا ہے ، اور راوی نے کچھ ایسی بات ذکر کی جس کے معنی یہ تھے کہ اس کی مثال کتے کی ہے جو اپنے قے کو کھا لیتا ہے۔
It was narrated from Ibn Juraij, from Al-Hasan bin Muslim, from Tawus that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "It is not permissible for anyone to give a gift then take it back, except a father." Tawus said: "I used to hear the boys say: O you who goes back to his vomit! But I did not realize that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) had said this as a parable, until we heard that he used to say: The likeness of the one who gives a gift then takes it back, is that of the dog which eats its vomit.