Sunan An Nasai 3722

ہبہ سے متعلق احادیث مبارکہ

3722Sunan An Nasai

اگر والد اپنے لڑکے کو ہبہ کرنے کے بعد ہبہ واپس لے لے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْطَاوُسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَهَبَ هِبَةً ثُمَّ يَرْجِعَ فِيهَا إِلَّا مِنْ وَلَدِهِ، قَالَ طَاوُسٌ: كُنْتُ أَسْمَعُ وَأَنَا صَغِيرٌعَائِدٌ فِي قَيْئِهِ فَلَمْ نَدْرِ أَنَّهُ ضَرَبَ لَهُ مَثَلًا، قَالَ: فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَأْكُلُ، ثُمَّ يَقِيءُ، ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ.

تابعی طاؤس کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ کسی کوئی ہبہ دے پھر اسے واپس لے، سوائے باپ کے کہ وہ اپنے بیٹے کو دے کر اس سے واپس لے سکتا ہے ۔ طاؤس کہتے ہیں: قے کر کے اسے چاٹنے کی بات میں سنتا تھا اور (اس وقت) میں چھوٹا تھا۔ میں یہ نہیں جان سکا تھا کہ آپ نے اسے بطور مثال بیان کیا ہے، (تو اب سنو) جو شخص ایسا کرے اس کی مثال کتے کی ہے جو قے کرتا ہے، پھر اسے چاٹتا ہے۔

It was narrated that Tawus said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: It is not permissible for anyone to give a gift then take it back, except from ones son." Tawus said: "When I was young I used to hear (the phrase), The one who goes back to his vomit, but we did not realize that this was a similitude." He said: "The likeness of the one who does that is that of a dog which eats then vomits, then goes back to its vomit.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3692
Takhrij · تخریج
تفردبہ النسائي (تحفة الأشراف: ٥٧٥٥، ١٥٥٩٧) (صحیح) (یہ مرسل ہے، مگر سابقہ سند میں مرفوع ہے )