Sunan An Nasai 3717

عطیہ اور بخشش سے متعلق احادیث مبارکہ

3717Sunan An Nasai

نعمان بن بشیر کی حدیث میں راویوں کے اختلاف کا بیان

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ حَاجِبِ بْنِ الْمُفَضَّلِ بْنِ الْمُهَلَّبِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَخْطُبُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اعْدِلُوا بَيْنَ أَبْنَائِكُمُ اعْدِلُوا بَيْنَ أَبْنَائِكُمْ.

نعمان بن بشیر رضی الله عنہما نے خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: (لوگو! ) اپنے بیٹوں کے درمیان انصاف کرو، اپنے بیٹوں کے درمیان انصاف کرو ١ ؎۔

An-Numan bin Bashir delivered a Khutbah and said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Treat your children fairly, treat your children fairly.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3687
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ اولاد کے درمیان مساوات کا خاص خیال رکھنا چاہیئے گا، مذکورہ احادیث کی روشنی میں علماء اسے واجب قرار دیتے ہیں، حتیٰ کہ بعض علماء کا کہنا ہے کہ زندگی میں عطیہ یا ہبہ اور بخشش کے سلسلے میں لڑکا اور لڑکی کے درمیان کوئی فرق و امتیاز نہیں ہے، اور لڑکی کے دوگنا لڑکے کو دینے کا مسئلہ موت کے بعد وراثت کی تقسیم میں ہے۔ ( واللہ اعلم )
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٨٥ (٣٥٤٤)، (تحفة الأشراف: ١١٦٤٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الہبة ١٣ (٢٥٨٧)، صحیح مسلم/الہبات ٣ (١٦٢٣)، مسند احمد (٤/٢٧٨) (صحیح )