Sunan An Nasai 3578

طلاق سے متعلقہ احادیث

3578Sunan An Nasai

تین طلاقوں والی خاتون کے واسطے عدت کے درمیان مکان سے نکلنے کی اجازت کے متعلق

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مَاهَانَ بَصْرِيٌّ، عَنْ هُشَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَيَّارٌ، وَحُصَيْنٌ، وَمُغِيرَةُ، وَدَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، وإسماعيل بن أبي خالد، وَذَكَرَ آخَرِينَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَسَأَلْتُهَا عَنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: طَلَّقَهَا زَوْجُهَا الْبَتَّةَ، فَخَاصَمَتْهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّكْنَى، وَالنَّفَقَةِ، قَالَتْ: فَلَمْ يَجْعَلْ لِي سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً، وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ.

شعبی کہتے ہیں کہ میں فاطمہ بنت قیس ؓ کے پاس آیا اور ان سے ان کے معاملہ میں رسول اللہ ﷺ کا فیصلہ پوچھا؟ انہوں نے کہا: میرے شوہر نے مجھے طلاق بتہ (تین طلاق قطعی) دی تو میں ان سے نفقہ و سکنیٰ حاصل کرنے کا اپنا مقدمہ لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس گئی تو آپ نے مجھے نفقہ و سکنیٰ پانے کا حقدار نہ ٹھہرایا اور مجھے حکم دیا کہ میں اب ابن ام مکتوم کے گھر میں عدت کے دن گزاروں۔

It was narrated that Ash-Shabi said: "I came to Fatimah bint Qais and asked her about the ruling of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) concerning her. She said that her husband divorced her irrevocably, and she referred her dispute with him, concerning accommodation and maintenance, to the Messenger of Allah. She said: He did not give me (the right to) accommodation and maintenance, and he told me to observe my Iddah in the house of Ibn Umm Maktum.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3548
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٤٣٢ (صحیح )