لفظ اقرآء کی شرعی تعریف و حکم
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ بَكْرٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ الَّتِي كَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَأَنَّهَا اسْتُحِيضَتْ لَا تَطْهُرْ، فَذُكِرَ شَأْنُهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّهَا لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، وَلَكِنَّهَا رَكْضَةٌ مِنَ الرَّحِمِ، فَلْتَنْظُرْ قَدْرَ قَرْئِهَا الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ لَهَا فَلْتَتْرُكِ الصَّلَاةَ، ثُمَّ تَنْظُرْ مَا بَعْدَ ذَلِكَ فَلْتَغْتَسِلْ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ.
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ام حبیبہ بنت جحش ؓ کو جو عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کے عقد میں تھیں استحاضہ ہوگیا (جس سے) وہ پاک ہی نہیں رہ پاتی تھیں، تو رسول اللہ ﷺ سے ان کا معاملہ ذکر کیا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ حیض کا خون نہیں ہے، بلکہ وہ رحم میں (شیطان کی طرف سے) ایک ایڑ ہے ١ ؎ تو وہ اپنے حیض کی مقدار کو جس میں اسے حیض آتا تھا یاد رکھے، پھر اسی کے بقدر نماز چھوڑ دے، پھر اس کے بعد جو دیکھے تو ہر نماز کے وقت غسل کرے ۔
It was narrated from Aishah (RA) that Umm Habibah bint Jahsh who was married to ‘Abdur-Rahman bin ‘Awl suffered from Istihadah (non menstrual vaginal bleeding) and did not become pure. Her situation was mentioned to the Messenger of Allah ﷺ and he said: ‘That is not menstruation, rather it is a kick in the womb, so let her work out the length of the menses that she used to have, and stop praying (for that period of time), then after that let her perform Ghusl for every prayer.” (Sahih)